ڈیرہ غازی خان،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر جواد اکبر سے)چوک چورہٹہ ،تعلیمی بورڈ روڈمرمت وتوسیع ،کرپشن کی بھینٹ چڑھنے لگا
تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازی خان کا اہم ترین چوک چورہٹہ ہے یہاں سے بین الصوبائی روڈ کا جنکشن ہے اور انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے یہ روڈ ہمیشہ ہی بد ترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہاہے،جبکہ دوسری جانب پورے شہر کے روڈز کی مرمت اور نئےتعمیر کئے گئے،چورہٹہ ملتان روڈ کو نظرانداز کیاجاتا رہاہے ،کچھ ماہ قبل اس روڈ کو دو رویہ بنانے کی نوید سنائی گئی تھی ،اب اس روڈ پر سست روی سے کام کیا جارہا ہے اس روڈ پر ناقص میٹریل ڈال کر روڈ کے اوپر دوبارا دوڈ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اب مزید اس کو کرپشن درد کرپشن کی بھینٹ چڑھایاگیا ہے۔کمشنر ڈیرہ غازی خان ،ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے اس روڈ کی تعمیر میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر انکوائری کرائی جاۓ اور ٹیکنیکل ٹیم کے ہمراہ موقع پع وزٹ کیاجائے تو کرپشن عیاں ہوجائے گی.
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
-

ڈی جی خان : چوک چورہٹہ ،تعلیمی بورڈ روڈمرمت وتوسیع ،کرپشن کی بھینٹ چڑھنے لگا
-

خضدار:بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباء کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری
خضدار،باغی ٹی وی(حبیب خان بلوچ کی رپورٹ )بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباء کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری
تفصیل کے مطابق خضدارمیں بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار میں طلباء وطالبات کا آج تیسرےروز بھی یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں یونیورسٹی کی جانب سے ہمیشہ ہراساں کیا جاتا ہے، کھبی امتحانات میں تو کھبی ایڈمنسٹریشن کے جانب سے تو کھبی باہر کے سورسز کے جانب سیکورٹی فورسز کے دھمکیاں ایسے جیسے ہم کوئی مجرم ہیں، جب تک ہمارے مطالبات پورا نہیں ہونگے۔ ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔ ہمارے مطالبات سارے جائز اور لیگل ہے۔
یہ بھی پڑھیں
خضدار:بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طلباء کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری -

ڈی آئی خان : ٹی ٹی پی کے حملوں کاخطرہ ،ضلعی پولیس کی جانب سے تھریٹ الرٹ جاری
ڈیرہ اسماعیل خان،باغی ٹی وی (نامہ نگار)ضلعی پولیس کی جانب سے تھریٹ الرٹ جاری کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ قابل اعتماد ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ ٹی ٹی پی نے اقبال عرف بالی کھیارہ کے قتل کا بدلہ لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سیکورٹی اداروں بالخصوص پولیس اورمختلف عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اورشدت پسندٹارگٹ کی جانب روانہ کیے جا چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عوامی اجتماعات اور حساس مقامات پر حفاظت کی غرض سے تعینات پولیس دہشت گردوں کا بڑا ہدف بن سکتے ہیں۔ٹارگٹ کلنگ موٹرسائیکل پر کی جاسکتی ہے تاکہ تیزی سے فرار کو یقینی بنایا جا سکے۔اس سلسلے میں ضلعی پولیس کی جانب سے عوام کو اپنے اردگرد نظررکھنے اورکسی بھی مشکوک شخص یاکسی مشکوک چیز کی نشاندہی پر فوری طورپر پولیس سے رابطہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
-

چونیاں:ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کا دورہ
چونیاں،باغی ٹی وی (نامہ نگار)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کا احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کا دورہ،بچوں میں تحائف تقسیم کئیے اور مریض بچوں کے سر پر دست شفقت رکھا،تھلیسیمیا کے مریض بچے ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں،قصور پولیس تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کے لئیے بلڈ کیمپ اور علاج معالجہ کے لئیے ہر ممکن کوشش کرے گی،ڈی پی او قصور طارق عزیز تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر طارق عزیز سندھو نے آلہ آباد کے نواح اپنی مدد آپ کے تحت بنائے احمد تھیلسیمیا ہسپتال کا دورہ کیا تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کو تحائف پیش کئیے اور ان کے سر پر دست شفقت رکھا انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قصور پولیس جلد بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کرے گی اور بچوں کے علاج معالجہ میں بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی انہوں نے تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے پر انتظامیہ کے اقدامات کو بھی سراہا اس موقع پر دیگر ملازمین اور تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کی انتظامیہ بھی موجود تھی۔
-

اوکاڑہ: دیپالپور کے نواحی علاقے سے جواں سالہ گونگی بہری لڑکی اغواء، پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکاری
اوکاڑہ (باغی ٹی وی نامہ نگار ملک ظفر)دیپالپور کے نواحی علاقے سے جواں سالہ گونگی بہری لڑکی اغواء
دیپالپور کے نواحی علاقے کند وال سرائے میں جواں سال گونگی بہری لڑکی اغوا۔ مقامی پولیس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار۔والدہ کی آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے قانونی مدد کی اپیل۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب دیپالپور کے نواحی علاقہ کند وال سرائے سے سے رات 08 بجے گونگی بہری لڑکی کو اغوا کرکے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اغوا کرنے میں کامیاب ۔ والدہ کا کہنا ہے کہ ہم گزشتہ رات اپنے بیٹے کے گھر انکو ملنے گئے میں اپنے بیٹے سے کام کے سلسلہ میں میں وہیں ٹھہر گئی اور میری بیٹی گھر کو روانہ ہوگئی جب میں تھوڑی دیر کے بعد اپنے گھر واپس لوٹی تو اپنی بیٹی کو گھر نہ پا کر میں نے اپنے دیگر رشتہ داروں کے گھروں میں تلاش شروع کردی لیکن وہ کہیں نہ ملی ۔خدشہ ہے کہ میری بیٹی کو رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نا معلوم اغوا کار نے میری بیٹی کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر لے جانے میں کامیاب ہوگئے میں اور میرے دیگر عزیزو اقارب جب مقامی پولیس اسٹیشن میں اغوا کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست گزاری لیکن پولیس آفیسران نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔میری آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور سے نامعلوم اغوا کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے میری بیٹی کو اغوا کاروں سے بازیاب کرایا جائے۔ -

ڈی آئی خان: میڈیاپر خبریں،عوامی شکایات،ڈپٹی کمشنرنے ایمرجنسی آفیسرکو طلب کرلیا،سرزنش
ڈیرہ اسماعیل خان،باغی ٹی وی(نامہ نگار)مختلف میڈیا پراورعوامی شکایات کے بعد ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو1122اویس بابر کی ڈپٹی کمشنر ڈیرہ منصورارشدکے آفس میں طلبی ، بروقت رسپانس نہ کرنے اورعوام کوایمرجنسی کی صورت میں طبی سہولیات فراہم نہ کرنے پر ڈی سی ڈیرہ کی ڈی ای او ریسکیو1122کو سرزنش ، انسانی جان کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے آئندہ فرائض میں کوتاہی یاغفلت برداشت نہیں کی جائے گی ،ڈپٹی کمشنر ڈیرہ منصورارشد ۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرریسکیو1122اویس بابر کی غفلت اوربے حسی سے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کی زندگیاں دائوپر لگ گئیں ۔ اس حوالے سے مختلف میڈیا پرنشاندہی پرعوام میں کافی بے چینی پائی جارہی تھی جس کے باعث ڈپٹی کمشنر ڈیرہ آفس میں ڈپٹی کمشنر ڈیرہ منصورارشد نے ڈی ای اوریسکیو1122سے جواب طلبی کی۔ انہوں نے واضح احکامات دیتے ہوئے ڈی ای اوریسکیو1122کو فرائض منصبی احسن اندازمیں سرانجام دینے کے احکامات جاری کیے ۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ منصور ارشد نے واضح کیاکہ آئندہ کسی قسم کی کوئی غفلت یالاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ انسانی جان بچانا ایک عظیم فریضہ ہے ۔ ریسکیو1122سے عوام نے کافی امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں مگرچند کالی بھیڑیں اس ادارے کو بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ -

ڈی آئی خان: تھانہ یونیورسٹی کی حدود سے دوافراد کی تشدد زدہ نعشیں برآمد
ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگاراحمدنوازمغل)تھانہ یونیورسٹی کی حدود غفارے والی ٹی سے دوافراد کی تشددزدہ نعشیں برآمد،دونوں افراد کو نامعلوم ملزمان نے اسلحہ آتشیں سے فائرنگ کرکے قتل کیا،یونیورسٹی پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ یونیورسٹی کی حدود غفارے والی ٹی سے دو افراد کی نعشیں برآمدہوئیں جن کی شناخت شعیب اوراورنگزیب کے نام سے ہوئی ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں کورات کے وقت نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کیااورموقع سے فرارہوگئے ۔تھانہ یونیورسٹی پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ -

کوئٹہ :نواکلی میں 30 بستروں کے ہسپتال کی تعمیر اورزمین کی خریداری کیلئے فنڈز منظور
کوئٹہ،باغی ٹی وی (نامہ نگار زبیرآکاخیل)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی نواکلی کوئٹہ میں 30 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر اور مذکورہ ہسپتال کے لئے حصول اراضی کی منظوری،وزیراعلیٰ نے یہ منظوری محکمہ صحت کی جانب سے ارسال کی جانے والی ایک سمری پر دی ،یہ اسکیم نوا کلی میں زمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیر التواء تھی،شہر کی بڑھتی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید 30 بستروں پر مشتمل ہسپتال کی شہری آبادی کی اشد ضرورت ہے ،ترقیاتی اسکیم کو 2023-24 کی پی ایس ڈی پی میں 500.00 ملین روپے (سول ورکس کے لیے 400 ملین روپے اور اراضی کی خریداری کے لیے 100 ملین روپے) کی لاگت سے شامل کیا جائے گا
یہ منصوبہ نواکلی کی مقامی آبادی کی صحت کی سہولیات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگا -

سیالکوٹ :تھانہ نیکا پورہ کا علاقہ ڈکیتوں، چوروں اور منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا
سیالکوٹ،باغی ٹی وی(سٹی رپورٹر شاہد ریاض )تھانہ نیکا پورہ کا علاقہ ڈکیتوں، چوروں اور منشیات فروشوں کی محفوظ پناہ گاہ بن گیا
تفصیل کے مطابق تھانہ نیکا پورہ کا علاقہ ڈکیتوں چوروں اور منشیات فروشوں کی تحفظ گاہ بن گیا۔ ڈی پی او حسن اقبال کی تعنیاتی میں دن دیہاڑے قتل وغارت چوری ڈکیتی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے ،تھانہ نیکا پورہ کے علاقہ بڈھی بازار میں جیولری کی دوکان میں نااہل SHO افضال کی وجہ سے ڈکیتی ۔2نامعلوم ڈکیت تقریبا 2کروڑ روپے مالیت کا سونا اور نقدی چھین کر فرارہوگئے۔تاجر برادری عدم تحفظ کا شکار،
بڈھی بازار میں الرفیق جیولرز کی دکان میں دن دیہاڑے 2نامعلوم ڈکیت موٹرسائیکل 125میں آگئےاسلحہ کے زور پر دکاندار محمد شفیق گوندل اور ٹھیکدارمبشراقبال کو اسلحہ کے زور پریرغمال بنا لیا ان سے تمام نقدی اور ایک سیف الماری بمعہ سونا 90/95تولہ چھین کر لے گئے ۔ڈکیت باآسانی موٹر سائیکل پر سیف الماری رکھ کر فرار ھوگئے۔تاجر برادری اس ڈکیتی کی واردات پر عدم تحفظ کا شکار ھے۔ تھانہ نیکا پورہ پولیس صرف مقدمہ درج کر کے مصروف تفتیش ہے ۔واردات کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج بھی مل گئی ہے- -

شیخ زیدہسپتال میں علاج نہ ہونے سے غریب کا بچہ جاں بحق،موت کاذمہ دار کون؟
میرپورساکرو:شیخ زیدہسپتال میں علاج نہ ہونے سے غریب کا بیٹاجاں بحق،بچے کی موت کاذمہ دار کون؟
میرپورساکروباغی ٹی وی (نامہ نگارقادرنوازکلوئی)گذشتہ رات میرپورساکروکے شیخ زید ہسپتال جسے ایک این جی او” مرف ” چلارہی ہے جہاںایک غریب شہری ناظم ملاح اپنے12سالہ بیٹے اصغرملاح کوعلاج کیلئے ہسپتال لایا،ہمیشہ کی طرح شیخ زیدہسپتال میں علاج کرنے کی بجائے اس معصوم بچے کے والدکو دوسرے ہسپتال کیلئے ریفرچٹ تھما دی اورکہا کہ بچے کو علاج کیلئے کراچی لے جائیں،غریب شہری ناظم ملاح نے بچے کو علاج کیلئے کراچی لے جانے کیلئے ریسکیو1122کو ایمبولینس کیلئے کال کی تو ریسکیو 1122سے جواب ملا کہ تمام ایمبولینس گاڑیاں مصروف ہیں ،آپ انتظارکریں جونہی کوئی گاڑی آتی ہے تو بھیجتے ہیں،اگرآپ کوزیادہ ایمرجنسی ہے تو پرائیویٹ گاڑی کرلیں۔اس غریب آدمی کے پاس پیسے نہیں تھے وہ اپنے لاڈلے کوبازوئوں میں اٹھائے لوگوں سے پیسے مانگتا رہا اور ساتھ میں ریسکیو1122کی ایمبولینس کاانتظارکرتا رہا ،تین گھنٹے تک ریسکیو1122کی ایمبولینس نہ آئی ،اس غریب والد کی درددل رکھنے والے افرادنے کچھ مددکی تو ناظم ملاح نے کرائے پر پرائیویٹ گاڑی کی اور اپنے لخت جگرکوبانہوں میں سمیٹے کراچی کیلئے روانہ ہوگیا ،لیکن 12سالہ معصوم لڑکا اصغرملاح کراچی ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں دم توڑ گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس موت کاذمہ دار 12سالہ لڑکا اصغرملاح خود ہے یاشیخ زیدہسپتال جسے ایک این جی او مرف چلارہی ہے ،یاریسکیو 1122جنہوں نے ایک غریب باپ کے معصوم بچے کیلئے تین گھنٹے تک ایمبولینس نہ بھیجی یاپھرمقامی صحافی جوان کرپٹ عناصرکی کرپشن پر پردہ ڈالے ہوئے ہیںیا مقامی سیاسی خاندان اور وڈیرے جو اپنی سیاست کیلئے ان غریبوں سے ووٹ لیکر پھرغائب ہوجاتے ہیں،یا پھر ہماری عدالت عظمیٰ اس بچے کی موت کی ذمہ دار ہے ،سپریم کورٹ آف پاکستان میں سیاسی معاملات پرتوسوموٹوایکشن لے جاتا ہے ،لیکن ایک عام غریب شہری کابچہ علاج نہ ہونے سے مرجائے ،اس پر ہماری معززعدالت نے بھی سوموٹوایکشن نہیں لینا کیونکہ مرنے والابچہ ایک غریب کالاڈلہ تھایہی تواس 12سالہ بچے کاجرم تھا کہ وہ ایک غریب کے گھر میں کیوں پیدا ہوا؟