قصور
تحصیل قصور کے سب سے قریبی اور سب سے بڑے گاؤں کھارا کی بجلی رات 12 بجے سے معطل،ایس ڈی او ،ایکسیئین سٹی اور لائن میں صارفین کے فون سننے کے بھی رودار نہیں
تفصیلات کے مطابق قصور تحصیل کے سب سے قریبی گاؤں کھارا جس کی آبادی تقریبآ 28 ہزار ہے اور فاصلہ قصور بائی پاس سے محض ڈیڑھ کلومیٹر ہے،کی بجلی رات 12 بجے سے معطل ہے اس بابت جب سب ڈویژن بہادر پورہ اور ایکسیئین کا نمبر ملایا تو بار بار صارفین کے ملانے کے باوجود کسی نے فون سننے کی زحمت نہیں کی اور بجلی کے بارے معلوم کرنے پر دفتر جا کر ہی معلوم کیا جا سکتا ہے کیونکہ سب ڈویژن بہادر پورہ کے افسران کا فون نا سننے کا ریکارڈ پہلے بھی قائم ہے
رات گئے سے لوگ عزیت میں مبتلا ہیں جب کہ واپڈا حکام صارفین کو بجلی کے تعطل کی وجہ بتانے سے بھی گریزاں ہیں اس پر اہل دیہہ نے ڈی سی قصور،ایس ای لیسکو قصور سے استدعا کی ہے کہ ان افسران کی انکوائری کرکے اہل دیہہ کو بتایا جائے کہ فون سننا ان کو کیوں نا گوار ہے اور بجلی کی فراہم کو یقینی بنایا جائے
Author: غنی محمود قصوری
-

28 ہزار افراد کی رات سے بجلی معطل واپڈا افسران فون سننے سے انکاری
-

بل نا آنے پر سوئی گیس صارفین پریشان
قصور
تحصیل چونیاں میں سوئی گیس ملازمین کی من مانیاں تحصیل بھر میں سوئی گیس کے بل صارفین کو نہ مل سکے آخری تاریخ قریب صارفین کو میٹر کٹنے اور کروڑوں روپے لیٹ فیس کی مد میں کروڑوں کے نقصان کا خدشہ
تفصیلات کے مطابق چونیاں تحصیل کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں ہزاروں صارفین سوئی گیس کے بل آج تک بھی نہ مل سکے ہیں
ہر ماہ کی19 تاریخ بل جمع کروانے کی آخری ہوتی ہے مگر بل جمع کروانے کی تاریخ قریب پہنچنے کے باوجود بل ڈسٹری بیوٹر نے بل تقسیم نہیں کئے جبکہ محکمہ سوئی گیس صارفین کو بل لیٹ ادا کرنے پر کروڑوں روپے جرمانہ کی مد میں ڈال دے گا
سوئی گیس صارفین کے مطابق ان کو بلاوجہ لیٹ فیس کی مد میں جرمانہ ادا کرنا پڑے گا اور اپنے میٹر کٹنے کی بھی پریشانی لاحق ہو گئی ذرائع کے مطابق لاہور ڈویژن کے بل ڈسٹری بیوشن کا ٹھیکہ کسی نئی فرم کو ملنا بتایا جا رہا ہے
گیس بل ڈسٹری بیوشن کی نئی کمپنی کے پاس بل تقسیم کرنے کے لئے ابھی تک عملہ ہی نہیں ہے سوئی گیس اور نئی ڈسٹری بیوٹر کمپنی کی غفلت کی وجہ سے گیس صارفین کو کروڑوں کا ٹیکہ لگایا جائے گا عوام پہلے ہی مہنگائی کے عذاب سے پریشان ہے اور اب محکمہ سوئی گیس نے پریشان کر رکھا ہے -

پولیس چور پکڑنے میں ناکام
قصور
ڈی پی او کے حکم کے باوجود 10 دن گزرنے کے باوجود تھانہ اے ڈویزن قصور ایف آئی آر پر ملزم گرفتار کرنے سے قاصر
تفصیلات کے مطابق 10 دن قبل مقامی تاجر اور فلاحی،سماجی کارکن چوہدری خاور مسعود کا ڈگری کالج گراونڈ قصور میں نماز جنازہ پڑھتے ہوئے نامعلوم چور جیب سے موبائل لے اڑا جس پر تاجر اندراج مقدمہ کیلئے تھانہ اے ڈویژن گیا تو مقامی ایس ایچ او کو موجود نہ پاتے ہوئے محرر کے دفتر میں چلا گیا تو آگے منشی محرر دفتر ٹائم مین حقہ کے کش لگانے میں مصروف تھا اور ایس ایچ او کے بارئے لاعلمی کا اظہار کر رہا تھا جس پر تاجر نے قصور ڈی پی او کے دفتر پیش ہوکر آپنا موقف بیان کیا تو ڈی پی او نے ذاتی طور پر مقامی پولیس کو ایف آی آر اندراج کا حکم دیا جو جلد ہی درج تو ہوگئی مگر آج تک مقامی پولیس کی موبائل ریکوری اور ملزم کی گرفتاری میں بے بس نظر آرہی ہے جس پر مقامی سماجی، فلاحی افراد، ووکلا نے حکام بالا سے ملزم کی گرفتاری اور موبائل ریکوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے -

ن لیگی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے
قصور
ن لیگ کے ملک گیر جلسے سے ڈرے حکمران کارکنوں کو گھروں میں ہراساں کرنے لگے ہارون اسماعیل
تفصیلات کے مطابق قصور مسلم لیگ ن کے راہنما ہارون اسماعیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے گجرانوالہ میں ملک گیر جلسے سے حکومت گھبرا کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے اور حکومت گوجرانوالہ جلسہ سے خائف
ن لیگی راہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں
یوتھ ونگ پی پی 176 کے صدر ہارون اسماعیل کے گھر پولیس کا چھاپہ اور ن لیگی رہنماؤں سے زبردستی فارم فل کروائے جا رہے ہیں فارم میں ن لیگ سے لا تعلقی کا حلف مانگا جا رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سے حکومت کی بوکھلاہٹ کا اندازہ ہو رہا ہے مگر جلسہ ہر صورت ہو گا حکومت جو کر سکتی ہے کرلے ہم تیار ہیں -

ون وے کی خلاف ورزی کے باعث حادثات
قصور
لوگ دیپال پور روڈ پر سرعام ون وے کی خلاف ورزی کرنے لگے جس سے روزانہ کئی حادثات رونما ہوتے ہیں مگر انتظامیہ بلکل خاموش تماشائی،لوگوں میں تشویش
تفصیلات کے مطابق قصور دیپالپور روڑ پر ون وے کی خلاف ورزی کے باعث حادثات ہونا معمول بن گیا اور روزانہ کئے حادثات ہوتے ہیں مقامی انتظامیہ ون وے اور اوور لوڈنگ ، تیز رفتاری کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے جس پر اہل علاقہ سخت پریشان ہیں کیونکہ اس سے ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں
اہل علاقہ کی ڈپٹی کمشنر قصور،سٹی ٹریفک پولیس قصور اور پیٹرولنگ پولیس سے استدعا ہے کہ ون وے کی خلاف ورزی کو روکا جائے تاکہ لوگ حادثات سے بچ سکیں -

قصور میں غیر قانونی سٹاپس پر پک اینڈ ڈراپ ممنوع
قصور
اندرون شہر گاڑیوں میں سواری اتارنے سوار کرنے پر جرمانہ ہوگا
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر قصور ،چیئرمین ڈی آر ٹی اے قصور نے سیکرٹری ڈی آر ٹی اے قصور کو ہدایت جاری کی ھِے کہ اندرون شہر سے جو بھی کسی قسم کی ٹرانسپورٹ مختلف غیر قانونی سٹاپ سے پک اینڈ ڈراپ کرتی ھیں مثلا نور محل ‘سینما چوک ‘پرانا لاری اڈہ’ قتل گڑھی چوک’ سٹیل باغ چوک’ریلوے پھاٹک’کوٹ بلوچاں سے جو گاڑیاں چلتی ہیں جو کہ شہر کی ٹریفک میں خلل ڈالتی ہیں انکے خلاف کاروائی کی جائے کیونکہ قانونا موٹروہیکل ایکٹ کے تحت کوئی بھی گاڑی شہری حدود میں داخل نہیں ھوسکتی اس سلسلے میں سیکرٹری ڈی آر ٹی اے قصور کل آج 14 اکتوبر 2020 سے کاروائی کا آغاز کر رہے ہیں -

ہسپتال میں زنانہ سٹاف کو ہراساں کرنے پر پرچہ
قصور
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں نجی سیکیورٹی کمپنی کے ملازمین کے خلاف فی میل نرسز کو ہراساں کرنے پر تھانہ میں ایف آئی آر درج
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں فی میل نرسز و دیگر زمانہ ملازمین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا اسکینڈل سامنے آ گیا جس میں درجنوں زنانہ ملازمین نے ایم ایس ڈی ایچ کیو قصور کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے خلاف درخواست دے دی ہے درخواست میں شفاقت نامی شخص کی طرف سے زنانہ سٹاف کو ہراساں کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں نجی سیکورٹی کا سپروائز شفاقت علی فی میل نرسز و دیگر زنانہ سٹاف کو ہراساں کرتا ہے درخواست گزار خواتین نے موقف اختیار کیا ہے کہ سپتال کے زنانہ عملہ کو فحش گوئی اور اشاروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ سخت پریشان ہیں
نیز کہ ایک نجی کمپنی کے سپروائز کا کیا کام کہ وہ زنانہ ملازمین کے کمروں میں آئے لہذہ اس کے خلاف کاروائی کرکے اس سزا دلوائی جائے تاکہ زنانہ سٹاف امن و سکون سے اپنا کام کر سکے -

قصور جیل کا قیدی وفات پا گیا
قصور جیل میں قیدی وفات پا گیا
تفصیلات کے مطابق وارث علی عمر تقریباً 48/50 سال ولد محمد شریف رہائشی صابر بستی قصور ڈسٹرکٹ جیل قصور میں چل بسا
وارث علی پر منشیات کا کیس تھا اور وہ مقدمہ نمبر 189/20 بجرم (C)/-9 تھانہ سٹی بی ڈویژن کے تحت قید کاٹ رہا تھا
مرحوم ہیپاٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا تھا اور لاہور جنرل ہسپتال میں زیر علاج تھا اور وہیں پر آج دوران علاج جان کی بازی ہار گیا
مقامی پولیس مصروف کاروائی ہے -

تم قانون نہیں بناتے، انصاف نہیں کرتے تو لوگ پھر خود ہی انصاف کریں گے !!! از قلم : غنی محمود قصوری
یہ ملک اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے خواب اور حضرت محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں سے قرآن و حدیث کے مطابق نظام رائج کرنے کیلئے بنایا گیا تھا جس کا اقرار کئی بار مرحوم قائد اعظم اپنی تقاریر میں کر چکے تھے یہی بات کافر کو ازل سے ناگوار ہے اور پاکستان میں شرع اللہ کا نفاذ بھی کفار کیلئے قابل قبول نہیں اسی لئے کفار نے اس نظام کو ختم کرنے کیلئے اسی ملک کے اندر سے ہی کچھ دین فروش لوگوں کو خریدا ان کو پڑھایا لکھایا اور اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز کروایا تاکہ وہ منافقین اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے شرع اللہ کے نفاذ میں رکاوٹوں کا جال بچھائے رکھیں اور عوامی مطالبات کو کچلتے رہیں حالانکہ ہماری اسمبلیاں اور سینٹ عوامی مطالبات پر قانون سازی کرنے کے دعویدار ہیں جبکہ صدر پاکستان اپنا ذاتی اختیار استعمال کرتے ہوئے قانون سازی کر سکتا ہے
ہمارا المیہ ہے کہ ہم پر مسلط سابقہ و موجودہ حکمران طبقہ ووٹ تو ہم سے لیتا ہے جبکہ نظام کفار کا چلا رہا ہے حالانکہ قیام پاکستان کے اوائل دنوں میں قائد اعظم کی قیادت میں ارض پاک پاکستان کتاب اللہ اور شریعت محمدیہ کی جانب گامزن تھا مگر اللہ کو ہمارا مذید امتحان درکار تھا سو اللہ نے قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ کو اس دار فانی سے اپنے پاس بلا لیا جس کے بعد حالات کچھ غلط سمت چل نکلے تاہم مرحوم جنرل ضیاء الحق شہید نے عملی طور پر حدود اللہ کا کچھ نفاذ کرکے اس ملک پاکستان کو اس کی اصلی منزل کی طرف گامزن کیا مگر ازل سے شرع اللہ کے دشمن اس نظام سے گھبرا گئے تاکہ یہ شرع پر قائم پاکستان پوری دنیا پر چھا کر سپر پاور بن جائے گا کیونکہ مسلمان کی بقاء و سلامتی شرع اللہ ہی میں ہے سو انہوں نے جنرل ضیا الحق کو شہید کروا دیا
دیکھا جائے اسلام سے دوری کمزور عدالتی نظام اور شرع اللہ سے بغاوت کے باعث آج موجودہ پاکستان میں ہر برائی ملے گی مگر حالیہ چند سالوں سے زنا کی وارداتیں انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہیں ایک اندازے کے مطابق ملک پاکستان میں سالانہ 3 ہزار سے اوپر زنا بالجبر کے مقدمات درج ہوتے ہیں جن میں چھوٹی معصوم بچیوں اور بچوں تک سے زنا کیا گیا ہوتا ہے مگر افسوس صد افسوس کے ہمارے کمزور عدالتی نظام،وڈیرہ شاہی اور رشوت ستانی کے باعث صرف 3 فیصد لوگوں کو ہی سزا ہوتی ہے وہ بھی واجبی سی باقی لوگ مکمل رہا ہو جاتے ہیں جو کہ ہمارے عدالتی نظام کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں حالانکہ ریپ کیسز بہت زیادہ ہیں مگر یہاں صرف رجسٹرڈ کیسز کی بات کی گئی ہے
جیسے جیسے ملک میں ریپ کیسز کی وارداتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی لوگوں کی طرف سے مجرمان کو سرعام پھانسی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے مگر افسوس کہ ارباب اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں مجرمان کو سرعام پھانسی دینے میں کیا قباحت ہے؟
حالانکہ تین دھائیاں قبل جنرل ضیاء الحق نے ریپ کیس کے مجرمان کو جرم ثابت ہونے پر سر عام پھانسی پر لٹکایا تھا جس کے باعث پوری ایک دھائی کوئی ریپ کیس نا ہوا تھا
بڑھتے ہوئے ریپ کیسز اور پھر ملزمان کا رہا ہو جانا لوگوں کو مایوس کر رہا ہے جس پر رنجیدہ لوگوں نے ریپ کیسز کے مجرمان کو خود ہی سزا دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تناظر میں رواں برس ملک میں ایسے کئی ملزمان کو لوگوں نے خود موت کے گھاٹ اتارا مگر ان میں سے ایک حالیہ کیس قصور کا ایسا بھی ہے جس کے باعث لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہی کہ مجرمان کو سزا عدالت نہیں دیتی تو پھر ہم خود ہی سزا دینگے
23 ستمبر کو قصور کے تھانہ کھڈیاں کے علاقے ویرم ہتھاڑ میں اسلم عرف ملنگی نامی درندے نے ایک دس سالہ بچی سے زنا بالجبر کی کوشش کی تھی ملزم کے خلاف بچی کے ورثاء نے تھانہ کھڈیاں خاص قصور میں مقدمہ نمبر 548/20 بجرم 376/511 درج کروایا مگر ملزم نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی اور بچی کے ورثاء کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا جس پر رنجیدہ اور عدالتی نظام سے بیزار ورثاء نے خود ہی ملزم ملنگی کو وکیل کے چیمبر میں قتل کر دیا
سوچنے کی بات ہے ایک جگہ اکھٹے رہتے ہوئے آخر کیا وجہ تھی کہ بچی کے ورثاء نے ملزم کو کچہری میں قتل کیا حالانکہ وہ ملزم کو اس کے گھر یا علاقے میں جہاں کہ دونوں فریقین رہتے تھے، وہاں پر ہی قتل کر سکتے تھے مگر درحقیقت بچی کے ورثاء نے اپنے قریب ترین ہوئے ریپ کیسز زینب مرڈر کیس،سانحہ چونیاں قصور اور کھڈیاں ہی میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں جنسی زیادتی پر آمادہ نا ہونے پر حافظ قرآن کو قتل کرنے والے ملزم کا پروٹوکول دیکھا اور وہ ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری اور ملزم کی طرف سے کھلے عام دھمکیوں پر سخت رنجیدہ تھے سو انہوں نے کچہری میں ملزم کو اس لئے قتل کیا کہ یہ ایک پیغام عدلیہ،انتظامیہ،مقننہ کے نام ہو جائے کہ اگر تم انصاف کے نام لیوا اور دعوے دار ہو کر انصاف نا کر سکو گے تو پھر ہم تو اپنی عزت کی خاطر ایسا کرینگے ہی
#قصوریات -

سرکاری ڈاکٹر ڈاکو بن کر لوٹنے لگا
قصو
ڈی ایچ کیو ہسپتال کے شبعہ آرتھو پیڈک کے سرجن ڈاکٹر خالد شیفع وحشی درندہ بن کر غریب مریضیوں کا خون چوسنے لگا
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوراٹر ہسپتال قصور میں تعینات ڈاکٹر خالد شیفع آرتھو پیڈک سرجن وحشی درندہ بن کر غریب مریضوں کا خون چوسنے لگا ہے ضلع قصور کے نواحی قصبہ کھڈیاں خاص کے رہاٸشی آصف نامی شہری نے دروان لڑاٸی جھگڑا مضروب ہونے پر انگلی فریکچر ہونے کی غرص سے علاج و معالجہ کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کی آرتھو پیڈک وارڈ میں داخلہ لے کر علاج معالجہ کے سلسلہ میں وہاں پر تعنیات آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر خالد شیفع سے علاج و معالجہ کی غرض سے درخواست کی تو ڈاکٹر نے اس کے علاج معالجہ کے عوض ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ہی پانچ ہزار روپے بطور رشوت وصول کر کے علاج معالجہ شروع کیا بعد میں ملزم ڈاکٹر نے مریض کو اپنے پراٸیوٹ کلینک اقبال پولی کلینک پر لے جا کر تقربیا پندرہ ہزار سے زاٸد رقم وصول کی اور ناقص آپریشن کر دیا جس پر مریض سے براۓ چیک اپ کے بہانے مذید رقم وصول کرتا رہا مریض نے تمام حالات و واقعات بذریغہ درخواست وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار صاحب اور ڈاٸریکٹر اینٹی کرپشن ریجن بی لاہور اور ڈپٹی کمشنر قصور منظر جاوید علی کو ارسال کر دیئے ہیں