Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • تحصیل انتظامیہ اینٹی سموگ مہم میں پیش پیش

    تحصیل انتظامیہ اینٹی سموگ مہم میں پیش پیش

    قصور
    تحصیل انتظامیہ چونیاں اینٹی سموگ مہم میں پیش پیش
    تفصیلات کے مطابق تحصیل چونیاں انتظامیہ نے اینٹی سموگ مہم کا آغاز کر دیا ہے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر چونیاں میں اینٹی سموگ مہم پر اہم اجلاس منعقد اجلاس میں فیلڈ آفیسر ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ اور سموگ پالیسی نمائندگان کی شرکت
    اجلاس میں اینٹی سموگ کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال اور اہم فیصلے بھی کئے گئے ہیں جبکہ اینٹی سموگ کے حوالے سے تمام متعلقہ محکموں کو اہم ٹاسک سونپ دئیے گئے ہیں
    مذید فیصلہ کیا گیا ہے کہ سموگ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر بہترین لائحہ عمل طے کیا جائے اور تمام متعلقہ محکمے تجویز کردہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں گے بھٹوں سے نکلنے والا دھواں دھند کی شکل میں سموگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے سموگ کی شکل اختیار کرنے سے موسمی تاثرات تبدیل ہوتے ہیں ممکنہ سموگ کے تدارک اور اس کے نقصانات سے بچنے کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے دھان کی کٹائی کے بعد پرالی کو آگ ہرگز نہ لگائی جائے کاشتکاروں کو آگاہ کیا جائے سموگ کے تدارک کے لئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہے تاکہ کسی قسم کا نقصان نہ ہو

  • نوکری تعلیم کی کام قبضہ گروپ کا

    نوکری تعلیم کی کام قبضہ گروپ کا

    قصور
    نوکری محکمہ ایجوکیشن کی کام قبضہ مافیا کا
    تفصیلات کے مطابق محکمہ ایجوکیشن کا کلرک حاجی محمد لیاقت بھی قبضہ مافیا نکلا موضع حاجی گگہ میں آتشیں اسلح سے لیس ہو کر ساتھیوں کے ساتھ ملکر دو دکانوں اور احاطے پر قبضہ کر لیا،پولیس پہنچی تو ساتھیوں سمیت موقع سے فرار ہوگیا، تھانہ بی ڈویژن قصور نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے تھانہ بی ڈویژن قصور میں درج کرائے گئے مقدمہ نمبر 689/20 میں مدعی زین العابدین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ چوہدری محمد نواز سینئر ایڈووکیٹ کے ڈیرہ واقع حاجی گگہ روڈ بالمقابل محصول چونگی کا منتظم اور مینیجر ہے چوہدری نواز ایڈووکیٹ نے ڈیرہ سے ملحقہ دو دوکانات اور ایک احاطہ اللہ رکھا ولد خوشی محمد نے ثالثان 2012ء میں محکمہ ریلوے سے لیز پر حاصل کیا ہوا ہے جبکہ چوہدری محمد نواز ایڈووکیٹ نے یہ دکانات اور احاطہ اللہ رکھا سے خرید ہوا ہے ملزمان محمد لیاقت محکمہ ایجوکیشن ساکن موضع کیلوں اور ندیم سکنہ کیسڑ گڑھ مسلح آتشیں اسلحہ لے کر آئے اور اسلحہ کے زور پر دو دوکانات اور احاطہ پرقبضہ کر لیا اور 2/3 درخت کیکر، جنگلی مالیت 29 ہزار روپے چوری کرکے لے گئے ملزم لیاقت نے مجھ پر پستول تان کر کہا کہ ہم نے اس جگہ پر قبضہ کر لیا ہے اگر تم نے شور مچایا تو جان سے مار دیں گے چوہدری مدثر ایڈووکیٹ، امجد کلرک اور چوہدری محمد نواز ایڈووکیٹ نے جب 15نمبر پر پولیس کااطلاع دی اور پولیس موقع پر پہنچی تو ملزمان حاجی گگہ کی طرف بھاگ گئے اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ ہمارا قبضہ مافیا سے تعلق ہے ملزمان تحصیل قصور کا قبضہ گروپ جنہوں نے کئی جگہ پر ناجائز قبضہ کرکے اراضی اور لوگوں کی جائیدادیں فروخت کر رہے ہیں اور شیوا بدنام قبضہ گروپ ہے۔ملزما ن کے خلاف تھانہ بی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کر دی ہے۔

  • ٹرانسفارمر چور گینگ سرگرم ،پولیس بے بس

    ٹرانسفارمر چور گینگ سرگرم ،پولیس بے بس

    قصور کے نواحی قصبے کھڈیاں خاص میں ٹرانسفارمر چور سرگرم،پولیس چوریاں رکوانے میں مکمل ناکام لوگوں کا ڈی پی او قصور سے نوٹس کا مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق کھڈیاں خاص قصور میں ٹرانسفارمر چور مافیا سر گرم ہو گیا ہے
    بیرون کھڈیاں میں ایک ہی رات میں لاکھوں روپے مالیت کے تین ٹرانسفرامر چوری کر لیے گئے چوری شدہ ٹرانسفارمر نہری کوٹھی، ڈوگراں والا کوٹ سے چوری کئے گئے ہیں
    ٹرانسفرامر چوری ہونے سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے
    جبکہ پولیس چور پکڑنے میں ناکام ہو گئی ہے لوگوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے ڈی پی او قصور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے[advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″]

  • رینجرز کی قصور میں کاروائی دو اسمگلر ہلاک

    رینجرز کی قصور میں کاروائی دو اسمگلر ہلاک

    قصور
    پاکستان رینجرز کی قصور منڈی عثمان والا میں بڑی کاروائی ،انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنے والے ملزمان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو اسمگلر مارے گئے لاکھوں کی انڈین شراب برآمد
    تفصیلات کے مطابق پاکستان رینجرز نے انٹرنیشنل بارڈر منڈی عثمان والا ضلع قصور میں انڈین کی طرف سے پاکستان منڈی عثمان والا میں داخل ہونے والے اسمگلروں کو روکنا چاہا تو اسمگلروں نے فائرنگ شروع کر دی جس پر پاکستان رینجرز کے جوانوں سب انسپیکٹر غلام حسین اور سب انسپیکٹر شاہد حسین اور ان کی ٹیم نے جوابی فائرنگ کی جس کی بدولت دو اسمگلر مارے گئے جن کے قبضے سے لاکھوں روپیہ کی انڈین شراب کی 25 بوتلیں برآمد ہوئیں جو کہ وہ انڈیا سے لے کر پاکستان میں داخل ہو رہے تھے
    پاکستان رینجرز نے کاروائی کے بعد متعلقہ تھانے کو اسمگلروں کی لاشیں دے دی ہیں جس پر پولیس مصروف کاروائی ہے

  • ضلعی انتظامیہ قصور کی دوغلی پالیسی

    ضلعی انتظامیہ قصور کی دوغلی پالیسی

    قصور میونسپل کارپوریشن، ضلعی انتظامیہ کی سموگ اور فضائی آلودگی کی روک تھام بری طرح ناکام ہو گئی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے دوہری پالیسی اپنائی گئی، ایک طرف انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ تشہیری مہم کے ذریعے عوام کو آگاہی دے رہے ہیں تو دوسری طرف شہر بھر میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کو جا بجا آگ لگا کر فضائی آلودگی پھیلائی جارہی ہے ضلعی حکومت کی اس دوہری پالیسی پرشہری سخت حیران و پریشان ہیں اور متاثرین عوام کا پنجاب حکومت سے قصور شہر میں سموگ اور فضائی آلودگی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے
    حکومت کی طرف سے اقدامات کی بجائے مسائل کو تشہیر، میٹنگز اور فوٹو سیشن کے ذریعے حل کرنے والی میونسپل کارپوریشن اور ضلعی حکومت کی سموگ اور فضائی آلودگی کی روک تھام پر دوہری پالیسی سامنے آئی ہے ایک طرف انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ تشہیری مہم کے ذریعے سموگ اور فضائی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے شہریوں میں آگاہی کیلئے پمفلٹ تقسیم کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف اس حوالے سے میٹنگز، فوٹو سیشن اور سرکاری ہینڈ آؤٹ بھی جاری کیے جارہے ہیں مگر عملی اقدامات اس کے برعکس ہیں شہر بھر میں صفائی کے نظام کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کو اٹھانے کی بجائے ان کو وہیں پر آگ لگا کر خطرناک قسم کی سموگ اور فضائی آلودگی پھیلائی جارہی ہے کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے اٹھنے والا خطرناک دھواں عوام میں سانس، دمہ، پھپڑوں سمیت دیگر موذی امراض پھیلانے کا سبب بن رہا ہے جس پر محکمہ ماحولیات اور ضلعی انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں شہریوں کا کہناہے کہ اگر سموگ اور فضائی آلودگی اسی طرح پھیلانی ہے تو پھر تشہیری مہم پر حکومتی خزانے سے لاکھوں روپے ضائع کیوں کیے جارہے ہیں قصور میں تعینات ہونیوالے افسران اپنے کمروں اور میٹنگز ہال سے باہر نکل کر شہر کو دیکھنے کی زحمت بھی گواراہ نہیں کرتے اور دفتروں میں بیٹھے ہی ”سب اچھا“ کی رپورٹ دے دیتے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ضلعی انتظامیہ فوٹو سیشن کے ذریعے کارکردگی دکھانے کی بجائے کمیٹی روم سے نکل کر زمینی حقائق کو دیکھے اور شہر کے مسائل حل کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے شہر کی سیاسی، سماجی، فلاحی اور شہری تنظیموں اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے وزیر اعلی پنجاب، گورنر پنجاب، چیف سیکرٹری، کمشنر لاہور، صوبائی وزیر صحت، دیگر حکام بالا سے سموگ اور فضائی آلودگی کی روک تھام میں غفلت برتنے والی ضلعی انتظامیہ،محکمہ ماحولیات اور میونسپل کارپوریشن کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے عملی طور پر سموگ اور فضائی آلودگی کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں

  • بجلی وولٹیج زیادہ نقصان کا خدشہ

    بجلی وولٹیج زیادہ نقصان کا خدشہ

    قصور
    لیسکو سب ڈویژن بہادر پورہ کے علاقے میں بجلی تیزی رفتاری نے عوام کو ذلیل کر دیا ،الیکٹرونکس اشیاء خراب ہونے کا خدشہ
    تفصیلات کے مطابق قصور لیسکو کی سب ڈویژن بہادر پورہ کے علاقے کھارا میں مین بازار کے 200 کے وی ٹرانسفارمر سے 240 وولٹ کی بجائے 315 وولٹ آنا شروع ہو گئے ہیں جس سے لوگوں کے بلب وغیرہ جل گئے فریج اے سی آٹو میٹک وولٹیج کنٹرول ہونے کی بدولت نہیں چل رہے ٹرپ کر جاتے ہیں تاہم ان کے نقصان کا خدشہ ہے
    ایل محلہ نے لائن مین،ایس ڈی او ،اور ایکسیئن سے استدعا کی ہے کہ اس خرابی کو فوری دور کیا جائے تاکہ ان کی قیمتی الیکٹرونکس اشیاء خراب ہونے سے بچ جائیں
    مذید ایل محلہ کا کہنا ہے کہ لیسکو ذمہ داران فون سننا گوارا ہی نہیں کرتے جب بھی فون ملایا جائے یا تو بزی جاتا ہے اگر بزی نا جا رہا ہو تو بارہا کال کرنے کے کوئی بھی ریسیو نہیں کرتا

  • افغانوں کی فتح کا خاص راز!!! ازقلم غنی محمود قصوری

    افغانوں کی فتح کا خاص راز!!! ازقلم غنی محمود قصوری

    غلامی ایک بہت بڑی لعنت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلامی کو ناپسند کیا ہے اس کئے میرے نبی نے غلبہ اسلام کے لئے غزوات کئے اور صحابہ و امت محمدیہ کو جنگ کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا
    آج ہم بات کرتے ہیں اپنے ہمسائے اور اسلامی دوست ملک افغانستان کی یہ ملک مختلف ادوار میں مختلف سپر پاروں کے قبضے میں رہا مگر ہر بار شکشت سپر پاوروں کا مقدر ٹھہری پچھلی صدی کی فرعون صفت سپر پاور برطانیہ نے 1919 میں افغانستان پر قبضہ کیا تو افغانی اپنے لیڈر شاہ امان اللہ خان کی قیادت میں اٹھ کھڑے ہوئے اور وقت کی سپر پاور کا ستیا ناس کر دیا
    اس کے بعد دنیا کی بہت بڑی سپر پاور جسے دنیا سرخ ریچھ کے نام سے پکارتی تھی افغانستان پر قابض ہو گئی مگر 1979 سے 1989 تک اس دس سالہ جنگ میں افغانیوں نے اس سرخ ریچھ کو ایسے مارا کہ دنیا آج بھی اس کے ہوئے ٹکڑے دیکھ کر ششدرہ رہ جاتی ہے اس جنگ میں پاک آرمی نے افغانستان کا بھرپور ساتھ دیا تھا یو افغانستان میں ایک اور سپر پاور کی قبر کا اضافہ ہو گیا اس کے بعد افغانیوں کی آپسی لڑائی سے خانہ جنگی شروع ہو گئی اور آخر افغان طالبان اسلامی نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے جو موجودہ وقت کی سپر پاور امریکہ کو ایک آنکھ نا بھاتا تھا اور اسی دوران 2001/9/11 کو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملہ ہوا جس کا الزام امریکہ نے اسامہ بن لادن پر لگایا جو اس وقت افغانستان میں تھے اور اسی کو جواز بنا کر امریکہ افغانستان پر 7 اکتوبر 2001 کو افغانستان پر حملہ کر دیا
    امریکہ کا خیال تھا ساری دنیا اس کے تابع ہے اور جلد افغانی بھی زیر ہو جائینگے اور یوں اسے پاکستاں پر قبضہ کرنے میں آسانی ہو گی مگر وہ بھول گیا کہ اس کی پنجہ آزمائی افغانستان اور پاکستان سے ہے گو کہ پاکستان ڈبل گیم کھیل رہا تھا مگر اصل کردار پاکستان کا ہی ہے خیر وقت کا فرعون امریکہ آج 19 سال بعد بھی افغانستان میں خاک چاٹ رہا ہے جبکہ افغان طالبان نے 80 فیصد علاقے پر دوبارہ کنٹرول کر لیا ہے اب امریکہ پاکستان سمیت افغانیوں اور دیگر ممالک کی منت سماجت کر رہا ہے کہ مجھے جانے دو مگر افغانی کہتے ہیں جو لینے آئے تھے ابھی وہ تو لیتے جاؤ یعنی ٹکڑے ٹکڑے ہونا جیسا کہ برطانیہ و روس ہو چکا اس لئے امریکہ بار بار امن معائدے کر رہا ہے انہی طالبان سے جنہیں وہ کہتا تھا کہ یہ جانوروں سے بھی بدتر لوگ ہیں میں ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دونگا مگر آج 19 سال بعد بھی افغانی اسی آن بان شان سے لڑ رہے ہیں جبکہ امریکی فوجیوں سمیت امریکہ عوام سڑکوں پر نکل رہی ہے کہ افغانستان جنگ کو ختم کیا جائے مگر ان شاءاللہ پاکستان اور افغان طالبان امریکی ریاستوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے تک ہر صورت اس جنگ کو جاری رکھیں گے چاہے امریکہ اس وقت سپر پاور نہیں بھی رہا مگر مقصد اسے توڑنا ہے جو کہ ان شاءاللہ پورا ہونے ہی والا ہے
    سوچنے کی بات ہے بھوک افلاس کے مارے افغانی جن کی معیشت انتہائی کمزور ہے وہ اس قدر غالب کیوں ہو رہے ہیں اس کے لئے ہم پہلے دیکھتے ہیں رب کا فرمان کہ افغانی اس پر کس قدر عمل پیرا ہیں
    اللہ تعالی فرماتے ہیں تمام مسلم ممالک ،حکمرانوں اور لوگوں کیلئے
    اور ان کافروں کے لئے جس قدر تم سے ہو سکے قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان جمع رکھو اور اس کے ذریعہ سے تم ان پر رعب جمائے رکھو ،ان پر جو کہ کفر کی بدولت اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے ان کو اللہ ہی جانتا ہے۔اور اللہ کی راہ میں جو چیز بھی خرچ کرو گے وہ تم کو پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارے لئے کچھ کمی نا ہو گی۔ الانفال 60
    اس سورت میں اللہ تعالی تمام مسلمانوں ،حکمرانوں کو غالب رہنے کا طریقہ بتا رہے ہیں کہ جن کافروں اللہ کے دین کے باغیوں کو تم جانتے ہو ان کیلئے قوت جمع رکھو اور اس قوت سے ان پر رعب طاری رکھو قوت سے مراد فی زمانہ اسلحہ ہے جیسے کبھی تلواروں تیروں کا دور تھا آج ویسے ہی کلاشن کوف و دیگر اسلحہ قوت ہے خود میرے نبی کی اسلحہ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو گھر میں چراغ جلانے کو تیل نا تھا مگر رب کے فرمان اور ان کافروں کیلئے قوت تیار رکھو، پر عمل کرتے ہوئے نو تلواریں موجود تھیں آج افغانی بھی رب کے فرمان اور محمد ذیشان کے حکم پر ہتھیار بطور قوت لازمی رکھتے ہیں ان کا بچہ بوڑھا اور جوان تو دور عورتیں بھی اسلحہ چلانے میں ماہر ہوتی ہیں بلکل جیسے دور نبوی میں تمام اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقٹ جنگ کے سپاہی بن کر رہتے تھے آج بلکل اسی کی مانند افغانی بھی ہر وقت جنگ کیلئے تیار رہتے ہیں
    ان کی جنگی تیاریوں کا ایک حقیقی قصہ آپ کو سناتا ہوں
    یہ 2001 کی بات ہے کراچی کا ایک تاجر تھا جو کہ اکثر و بیشتر بسلسلہ کاروبار کابل جایا کرتا تھا چونکہ اس وقت بارڈر کھلا تھا اس لئے آنے جانے میں دقت نا تھی وہ کہتا ہے کہ ایک دن میں اپنے چار دوستوں کے ہمراہ کابل گیا وہاں میرا ایک حاجی قدرات اللہ نامی تاجر بڑا اچھا دوست بنا ہوا تھا جو کہ کراچی میرے پاس آتا رہتا تھا اس کا گاڑیوں کا بہت بڑا شو روم تھا
    مجھے خریداری کرتے ہوئے دیر ہو گئی تو میں سلام دعا کیلئے قدرت اللہ کے پاس چلا گیا جس نے اپنی طرز کی خصوصی مہمان نوازی کی تو میں نے جانے کی اجازت مانگی تو کہنے لگا بھائی رات ہو گئی ہے آج رات میرے پاس ہی رک جاؤ تاجر کہتا ہے میں نے اس کی بات مان لی اور اس کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھ گیا جبکہ میرے ساتھی میری گاڑی میں پیچھے ہو لئے نصف گھنٹے کے سفر کے بعد ایک بہت بڑا دروازہ آ گیا جس کے کھلنے پر گاڑی اندر داخل ہو گئی تو مجھے افغانی دوست نے ایک کمرے میں بیٹھنے کو کہا جو کہ مٹی کا بنا ہوا تھا بلکہ مین گیٹ سے سارا گھر ہی مٹی سے تیار کیا گیا تھا کہتا میں سوچنے لگا یہ 5 سو سے اوپر گاڑیوں کے شو روم کا مالک ہے اس کا تو گھر بہت شاندار ہو گا شاید یہ اس کا کوئی فارم ہاؤس ہو خیر اتنے میں حاجی قدرت اللہ داخل ہوا اور ہم کھانا کھانے لگے میرے دوسرے دوست اور حاجی قدرت اللہ کا منشی بھی ساتھ تھا کہتا مجھ سے رہا نا گیا اور میں نے پوچھ لیا کہ حاجی صاحب آپ کا گھر کہا ہے تو اس پر حاجی صاحب مسکرا کر بولا یہی تو گھر ہے جہاں ہم بیٹھے ہیں کہتا مجھے شدید جھٹکا لگا کہ کڑوروں کا مالک اور کچہ گھر کہتا ہے میں حاجی صاحب سے کہنا لگا کہ حاجی صاحب آپ ماشاءاللہ صاحب حیثیت ہیں بہت بڑا کاروبار ہے آپ کا تو پھر یہ کچہ گھر کیوں؟ جبکہ ہمارے پاکستان میں تو رواج ہے اگر کسی کے پاس ایک کروڑ روپیہ آ جائے تو وہ نصف کروڑ سود وغیرہ پر ادھار پکڑ کر اعلیٰ ترین مکان بناتا ہے تاکہ لوگ داد دے سکیں اور سٹیٹس اونچا رہے اور لوگ کہیں کہ یہ بنگلہ فلاں صاحب کا ہے
    اس پر حاجی صاحب کہنے لگے بھائی صاحب یہ دنیا فانی ہے گھر سنگ مر مر کا ہو یا مٹی کا اس میں تو وقتی گزارہ ہی کرنا ہے آپ تو جانتے ہیں کہ ابھی روس سے لڑے تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے اب اوپر سے امریکہ دھمکیاں دے رہا ہے کیا پتہ کب یہ گھر چھوڑنا پر جائے اور مجھے اپنی کلاشن اٹھا کر پھر سے ملا عمر کیساتھ جہاد میں نکلنا پڑے سوچو اگر میرا بہت قیمتی گھر ہو گا تو مجھے اسے چھوڑنا مشکل ہو گا اب یہ گھر میرے لئے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا آپ تو جانتے ہیں کل روس آ گیا تھا اس کے خلاف لڑے تھے اب امریکہ آنکھیں دکھا رہا ہے اب اس کے خلاف لڑنا فرض ہے اس لئے بھائی صاحب میرے لئے گھر زیادہ ضروری نہیں ملکی دفاع ضروری ہے
    تاجر کہتا ہے میں اس کی باتیں سن کر ششدرہ رہ گیا اور واپس کراچی آ گیا ٹھیک چار ماہ بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا اس کے بعد میرا حاجی قدرت اللہ سے رابطہ نا ہوا تقریبا 16 ماہ بعد حاجی قدرت اللہ کا منشی میرے پاس کام کے سلسلے آیا تو میں نے اس سے پوچھا حاجی صاحب اور اس کے خاندان کی بتاؤ کیسے ہیں تو منشی کہنے لگا جب امریکہ نے دھمکیاں دینا زیادہ کر دیں تو حاجی صاحب کو اندازہ ہو گیا تھا اب امریکہ جنگ کے بغیر نہیں رہے گا سو اسی دن حاجی صاحب نے اپنے بال بچے پشاور پاکستان بھیج دیئے اور خود واپس آ کر مجھے گاڑیوں کی اصل قیمت کی لسٹ بنا کر دے دی پوری 480 گاڑیاں تھیں سب کی اصل قیمت خرید ساتھ لکھی تھی اور یہ بھی لکھا تھا کہ میں امریکہ کے خلاف امیر المومنین ملا عمر کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے لگا ہوں سو میں یہ کاروبار ختم کر رہا ہوں یہ گاڑیوں کی اصل قیمت ہے اگر ہو سکے تو ان کی اصل قیمت کے علاوہ کچھ نفع دے دیں ورنہ اصل قیمت ہی دے دیجئے کیونکہ مجھے معرکہ حق و باطل میں اسلام کا دفاع کرنا ہے منشی کہتا ہے کہ میں وہ لسٹ اور گاڑیاں لے کر دوسرے تاجروں کے پاس گیا جن کا حاجی صاحب سے لین دین تھا کسی نے نفع دیا تو کسی نے نا دیا میں ساری رقم لے کر حاجی صاحب کے پاس واپس آ گیا جو اب اپنی کلاشن کوف پکڑے ہوئے تھے انہوں نے مجھے میری رقم دی اور باقی رقم سے کچھ پشاور گھر پہنچا دی اور کچھ کا اسلحہ خرید لائے اب اللہ جانے کہاں ہیں کس حال میں ہیں مگر ان کا خاندان پشاور میں رہ رہا ہے
    تاجر کہتا ہے یہ سنتے ہی میں کافی دیر سوچ میں ڈوبا رہا کہ ان افغانوں کی اصل کامیابی کا راز کتاب اللہ اور سنت محمد پر عمل کرتے ہوئے کفار کیلئے قوت تیار رکھنا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کا پیدا ہونے والا بچہ چلنے بولنے کیساتھ ہتھیار چلانا بھی سیکھ جاتا ہے ان کے گھر تو کچے ہوتے ہیں مگر ان کا اسلحہ اور ان کی گاڑیاں جدید اور طاقتور ہوتی ہیں اور ان کے ایمان انتہائی مضبوط
    قارئین اللہ رب العزت کوشش مانگتا ہے نتیجہ نہیں آج افغانیوں کی کوشش کو 19 سال ہو گئے جس کی بدولت اپنے ساتھ سپر پاور لکھنے والا فرعون صفت امریکہ سپر پاور کا لفظ ہی بھول گیا ہے اور اب قطر میں تو کبھی کسی ملک میں افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا نظر آتا ہے اور وہ افغانی اپنے تانے ہوئے سینوں سے امریکہ کے دلوں پر رعب طاری کئے ہوئے ہیں
    افغانی سپر پاوروں سے زیر اس لئے نہیں ہوتے کیونکہ ان کے دلوں میں وہن نہیں وہ حکم ربی کی بدولت جہاد و قتال کے لئے تیار رہتے ہیں
    اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسلام و پاکستان کیلئے کافروں کے دلوں میں رعب طاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

  • پولیس نے رقم اصل ورثا تک پہنچا دی

    پولیس نے رقم اصل ورثا تک پہنچا دی

    قصور
    تھانہ کنگن پور کی کاروائی گرفتار ملزمان سے ریکوری کرکے اصل ورثاء تک پہنچا دی گئی
    لوگوں کا پولیس کو خراج تحسین
    تفصیلات کے مطابق SHO نصراللہ بھٹی کے زیر نگرانی Si افتخار بخاری نے
    سرقہ بالجبر کے مقدمہ نمبر217/20 میں ملوث ملزمان سے ایک لاکھ روپے کی ریکوری کی جو کہ حاصل ہونے کے بعد اصل مالکان کے حوالے کی گئی پولیس کی اس کاوش پر انجمن تاجران کنگن پور اور الہ آباد نے ایس ایچ او نصراللہ بھٹی کو خراج تحسین کیا اور کہا کہ پولیس کا ایس رویہ ایک مثال ہے

  • خود ہی سموگ پر آگاہی خود ہی آگ جلا کر تیاری

    خود ہی سموگ پر آگاہی خود ہی آگ جلا کر تیاری

    قصور
    خود ہی آگاہی خود ہی خود ہی شور اور خود ہی چور ، چور مچائے شور
    تفصیلات کے مطابق قصور ضلعی انتظامیہ نے ایک طرف تو سموگ کی روک تھام کیلئے تشہیری مہم کا آغاز کر رکھا ہے تو دوسری جانب خود ہی اس تشہیری مہم کی دھجیاں بکھیر رہی ہے قصور شہر بھر میں کوڑے کے ڈھیروں کو اٹھانے کی بجائے ان کو آگ لگا کر سموگ کا موجب بنارہے ہیں سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج میں صاف دیکھا جاسکتا ہے مین فیروز پور روڈ ،ڈیرہ مقصود صابر انصاری ،کالی پل، شہباز خان روڈ و دیگر علاقوں میں کوڑے کے ڈھیروں کو آگ لگا کر شہر میں زہریلا دھواں اور سموگ پھیلا کر شہریوں کو بیماری کی جانب دھکیلا جارہا ہے جو کہ ضلعی انتظامیہ کی نااہلی اور غفلت کا نتیجہ ہے شہر قصور کے باسیوں کی وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لیکر ڈی سی قصور کو فوٹو سیشن سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرنے اور شہر کو صاف ستھرا رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے

  • اپنوں پہ کرم غیروں پہ ستم،سی ای او ہیلتھ کا بیٹا سرگرم

    اپنوں پہ کرم غیروں پہ ستم،سی ای او ہیلتھ کا بیٹا سرگرم

    قصور
    اپنوں کے کرم غیروں پہ ستم ،باپ کے اختیار کا ناجائز استعمال بیٹے نے شروع کر دیا من پسند لوگوں کو بچانا اور منتھلیںاں نا دینے والے افراد کو پھنسانا شروع کر دیا
    تفصیلات کے مطابق طاقت کے نشے میں سی ای او ہیلتھ قصور ڈاکٹر جاوید اقبال کے بیٹے عامر اقبال نے محکمہ ہیلتھ کئیر کمیشن سے منظور شدہ پرائیویٹ لیبارٹریز ، میڈیکل سٹورز اور پرائیوٹ کلینکس کو تنگ کرنا شروع کر دیا کیونکہ موصوف کے ہیلتھ کیئر کمیشن سے بڑے اچھے تعلقات ہیں اس بابت تحصیل چونیاں کے گردونواح نواح اور خصوصی الہ آباد میں عامر اقبال کی ہاں میں ہاں ملانے والے مزے کر رہے ہیں جبکہ اس کو ناں کہنے والے آئے روز ہیلتھ کیئر کمیشن کے زیر عتاب رہتے ہیں
    متاثرہ میڈیکل سٹور، کلینکس و لیب مالکان نے وزیر صحت،وزیر اعلی پنجاب اور ڈی سی قصور سے نوٹس لے کر کاروائی کا مطالبہ کیا ہے