Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • ایسے ملی تھی آزادی!!!  از قلم: غنی محمود قصوری

    ایسے ملی تھی آزادی!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    پچھلے سال 14 اگست کو میں ایک دوست کے پاس گیا اس کے 86 سالہ دادا جی حیات ہیں
    مجھے دیکھ کر کہنے لگا پتر کتھے چلے او ؟ یعنی کہا جا رہے ہو میں نے جواب دیا بابا جی واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھنے جانا ہیں تو وہ بزرگ آہ بھر کے کہنا لگا سلنسر کڈ کے گون گا کے منانا اے آزادی ؟ پتہ وی او کینج لئی سے اساں آزادی؟ یعنی کہ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر اور ناچ گا کر آزادی مناتے ہو پتہ بھی ہے تمہیں کیسے ملی تھی آزادی ؟ میں نے کہا نہیں بابا جی آپ بتا دیجئے تو وہ بتانے لگا کہ
    اس کا دادا گاؤں کا چوہدری تھا ان کا گاؤں کھیم کرن کے پاس تھا اور وہ 4 مربع زمین کے مالک تھے اس کے دو چچا اور پانچ پھوپھیاں تھیں جو کہ سب شادی شدہ ہی تھے وہ خود دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا اور آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا اسے قائد اعظم بڑے اچھے لگتے تھے اس کی کہانی سنتے ہیں اسی کی زبانی
    میرا نام کرم دین ہے اور میں اپنے دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا میری دادی اماں میری پیدائش سے چھ ماہ پہلے وفات پا گئی تھیں میرے دادا جی چوہدری تھے ہمارے گاؤں میں سکھ اور ہندوں سبھی ان کی بہت عزت کرتے تھے خود میرے ساتھ سکول میں سکھ و ہندو لڑکے مل کر کھانا کھاتے تھے مگر پھر بھی میرا کھانا کھانے کے باوجود وہ مجھ سے کھینچے کھینچے سے رہتے تھے اور ہر وقت او مسلے او مسلے پکارتے تھے جو کہ مجھے بڑا ناگوار گزرتا تھا
    یہ جنوری 1947 کی بات کے حالات معمول سے ہٹ کر خراب ہو رہے تھے سکول میں بھی ہندو و سکھ لڑکوں کا رویہ مجھ سے عجیب سا ہو گیا تھا حالانکہ میں نے کبھی یہ نعرہ نا لگایا تھا کہ، بٹ کے رہے گا ہندوستان ،بن کے رہے گا پاکستان مگر پھر بھی نا جانے کیوں وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے تھے حالانکہ ہمارے نذر بیگ ماسٹر صاحب سب بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور کسی کو بھی ہندو ،سکھ اور مسلمان ہونے پر جدا نا سمجھتے تھے خیر وقت گزرتا گیا اور جولائی کا مہینہ شروع ہو گیا ہر طرف بٹ کے رہے گا ہندوستان،بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے گونجتے تھے میں نے دادا جی سے پوچھا لالہ جی ( دادا جی کو کہتا تھا) یہ کیا چکر ہے بٹوراہ کیوں ہوگا تو لالہ جی کہنے لگے بیٹا دیکھ میرے تین بیٹے ہیں تیرا باب اور دو تیرے چچا تو جیسے جیسے شادیاں ہوتی گئیں بٹوارہ ہوتا گیا اب تمہاری ماں الگ سے روٹی پکاتی ہے تمہاری چچیاں الگ سے پکاتی ہیں میرا دل جہاں سے کرتا ہے میں وہاں سے کھا لیتا ہوں اسے کہتے ہیں بٹوارہ تو ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے ہمیں تو رہنا ہی ہے نا رہ لینگے پر میں نے کہا لالہ جی میں نہیں جاؤنگا اپنا گاؤں اپنے دوست چھوڑ کر لالہ جی نے سینے سے لگا لیا
    مجھے یاد ہے جس دن میری لالہ جی سے یہ بات چیت ہوئی اسی دن میرے ابو جسے میں ابا جی کہتا تھا اپنے ساتھ اپنے ماموں زاد بھائی شمشیر کو لے کر
    تایا شمشیر میرے ابو سے بڑے تھے میں انہیں تاؤ کہتا تھا
    تاؤ لالہ جی کے پاس بیٹھ گئے اور کہنے لگے بابا جی ( لالہ جی کو سب بابا جی کہتے تھے) حالات بہت خراب ہیں کچھ کرنا پڑے گا ہمیں یہ علاقہ چھوڑ کر پاکستان جانا پڑے گا
    لالہ جی کہنے لگے اوئے جلے میں چوہدری ہوں سکھ ہندو میری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اپنا گاؤں چھوڑ کر بھاگنے کی
    تو تاؤ کہنے لگے آپ کو علم ہی نہیں حالات کس قدر خراب ہیں کوئی کسی کا نہیں بن رہا لہذہ عزت بچا کر نکلنے میں ہی فائدہ ہے پورے ہند کے قصے آپ نے سن لئے ہیں تو دیر نا کیجئے کافی تو تکار کے بعد لالہ جی روتے ہوئے ہامی بھر بیٹھے طے ہوا پرسوں 31 جولائی کی رات کو نکلا جائے گا تب تک قریبی دیہات سے پھوپھیاں اور خاندان سے دیگر افراد بھی آ جائیں گے کیونکہ لالہ جی کا اثرورسوخ کافی تھا دوسرا ہمارے گھر میں اناج وافر تھا لالہ جیں کے پاس ایک نالی بندوق اور میرے والد کے پاس ریوالور بھی تھا
    31 جولائی کو شام تک سب پہنچ گئے سوائے گاؤں موضع سری ساون کی رہائشی پھوپھو حاجراں اور ان کے سسرال کے علاوہ
    سو مجبوری کے طور پر ہم نے دو بیل گاڑیاں تیار کیں اناج لادا گھروں کو تالے لگائے اور نکل کھڑے ہوئے ابھی گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ راموں جو ہمارے گھر کا خاص ملازم تھا گالیاں بکنے لگا او مسلے ڈر کر بھاگنے لگے ابھی مزا چکھاتا ہوں
    لالہ جی نے کہا راموں تو بھول گیا میرے احسان تیری بہن کی شادی میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جیب سے کی تھی تو راموں کہنے لگا او مسلے ہند ہمارا ہے تونے کونسا احسان کیا ہے اتنا کہتے ہی راموں چلانے لگا اور کھڑے سیاں (کھڑک سنکھ ) اور فلاں اوئے فلاں مسلے بھاگ رہے ہیں
    لالہ جی اور ابا جی نے گھر کے کل 41 افراد بمعہ بچے بوڑھے جوان کو دلاسہ دیا مردوں اور عورتوں کو بیل گاڑیوں پر بٹھایا اور اپنی بندوق تان کر بیل گاڑی کے آگے جبکہ میرے والد ریوالور لے کر بیل گاڑیوں کے پیچھے پیچھے چل دیئے رات کی تاریکی تھی ابھی ہم چار منٹ ہی چلے ہونگے کہ شور سنائی دیا جے سری رام،ست سری اکال کی بلند و بالا آوازیں آنے لگیں لالہ جی نے کہا گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے آوازیں قریب تر ہوتی گئیں آخر لالہ جی نے نعرہ تکبیر لگایا اور فائر کر دیا اسی اثناء میں ابو جی نے بھی دو فائر کئے شور رک گیا بڑھتی ہوئی آوازیں تھم گئیں سب سہم گئے تھے لالہ جی نے سب کو دلاسہ دیا اور میرے جیتے جی کسے کا بال بھی بانکا نہیں ہو گا ابو جی سے لالہ جی نے کہا کہ اب فائر نا کرنا میرے پاس بھی کارتوس کم ہیں اور تمہارے پاس گولیاں کم ہیں اور ہمیں سفر لمبا کرنا ہے
    رات کی تاریکی تھی سب ڈرے ہوئے تھے پھوپھی سکینہ کا اکلوتا بیٹا بیمار تھا اور بار بار رو رہا تھا تایا شمشیر بھی اپنے بچوں کیساتھ تلوار پکڑے چل رہا تھا خیر ہم چلتے گئے اور دن کا اجالا ہونا شروع میں کچھ ہی دیر رہ گئی آگے ایک سڑک آئی تو میں ج جو کہ لالہ کیساتھ ساتھ چل رہا تھا کسی چیز سے ٹکڑا کر گر پڑا میرے منہ سے آہ نہیں اور قافلہ رک گیا جب دیکھا تو وہ ایک نوجوان عورت کی برہنہ لاش تھی جا کی چھاتی کاٹی ہوئی تھی اور تن ہر کپڑوں کے چیتھڑوں کے کچھ بھی نا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی چن دہی گھنٹے ہوئے ہیں اسے شہید کئے یہ منظر دیکھ کر سب دہل گئے
    لالہ جی نے کہا میں اس گاؤں ماڑی کامبوکی سے واقف ہوں یہاں سکھ اور ہندو زیادہ ہیں اور دن کو سفر کرنا خطرناک ہے لہذہ کہیں چھپتے ہیں کچھ فاصلے پر دیسی کماد کی فصل نظر آئی قافلہ اس سمت چل پڑا کماد کی فصل کو اندر سے کاٹا گیا جو کہ کئی ایکڑ پر محیط تھی اور قافلہ عین وسط میں لیجا کر روک دیا گیا گرے کماد کو لالہ جی اور ابو جی نے بڑی مہارت سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جو بڑی حد تک کامیاب بھی رہی سب نے تیمم کرکے نماز پڑھی اور ساتھ رکھا کھانا کھانے لگے مگر بے سود شمشیر تایا جو چار پانچ دیسی گھی کی روٹیاں کھا جاتے تھے آدھی سے بھی کم کھا کر کہنے لگے بس سیر ہو گیا ہوں سب کی یہی حالت تھی
    رفتہ رفتہ دن کا اجالا تیز ہونے کیساتھ سورج کی تپش بھی تیز ہوتی گئی اور سکینہ خالہ کے بیٹے نے رونا شروع کر دیا سب کہنے لگے اسے چپ کرواؤ مروا دے گا ہمیں بھی
    سکھوں ہندؤوں کی آوازیں اور ساتھ کچھ چیخیں بھی آ رہی تھیں سب ڈر بھی رہے تھے اور ذکر خدا بھی کر رہے تھے خیر شام ہو گئی قافلہ نکلا اور سفر شروع کر دیا ابھی چار کوس ہی گئے ہونگے کہ اچانک پچاس ساتھ بلوائیوں کا قافلہ نکلا لالہ جی نے فائر کیا مگر آگے سے چھ سات اکھٹے فائر ہوئے ایک فائر میرے چچا اقبال کو لگا اور ایک فائر تایا شمشیر کی کھوپڑی میں لگا ادھر سے ابو جی نے چار فائر کئے جس سے تین دلدوز چیخیں فضاء میں ابھریں جو کہ بلوائیوں کی تھیں میں بھی جوش میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا اور اپنی لاٹھی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اچانک شور مذید بڑھا اور ہماری سمت آیا ایک گولی لالہ جی کی ران پر لگی اور وہ بھی گر پڑے میں اور دونوں چچا،دو پھوپھے سراج اور اللہ دتہ لاٹھیاں سنبھالے کھڑے تھے بچے اور عورتیں چیخ چلا رہے تھے ایک سکھ میرے قریب آیا میں نے لاٹھی اس کے سینے پر ماری مگر ضرب کاری نا تھی الٹا اس نے کرپان میری طرف ماری جو کہ میری بائیں بازو پر لگی ابا جی نے پھر فائر کئے مگر افسوس ایک سکھ نے ان کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہم بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں سمیت 41 تھے جبکہ کرپانوں،بندوقوں اور چھڑیوں سے لیس بلوائی پچاس سے اوپر تھے میرے لالہ جی،ابو جی،تاؤ شمشیر پھوپھی تڑپ رہے تھے باقی میں بچوں میں سب سے بڑا تھا باقی دو چچا اور دو پھوپھا تھے ہم نے مقابلہ شروع کیا اتنے میں پھوپھی سکینہ کی آواز آئی میرا لال علی شیر دے دو ایک ظالم نے شیر خوار علی شیر کو نیزے پر رکھا اور دو ٹکڑے کر دیا جبکہ میری پھپھو سکینہ کو پکڑنے لگے تو پھوپھا جی نے اپنا سینہ آگے کر دیا ایک گولی آئی اور پھوپھا کے سینے میں لگی اور وہ گر پڑے چچا جی آگے بڑھے کرپان ان کے پیٹ کے پاڑ ہو گئی اتنے میں ایک اور شور ہمارے قریب آیا اور نعرہ تقریب بلند ہوا چند جوان جن کے پاس آٹومیٹک رائفلیں تھیں انہوں نے دو بلوائیوں کو نشانہ بنایا باقی بلوائی بھاگ نکلے انہوں نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا اور بولے پریشان نا ہو ہر سمت یہی صورتحال ہے ہم آپ کو واہگہ پہنچائینگے
    زخمیوں میں سے صرف میں اور چھوٹے چچا اور بڑا پھوپا جی ںچے باقی پھوپھو سکینہ پھوپا جی کو گولتی لگتے ہی دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں کل 41 میں سے میں دو چچا ایک چچی دو ننھے بچے اور ایک مجھ سے دو سال چھوٹی تاؤ شمشیر کی بیٹی بچی باقی سب انتہائی گہرے زخموں کی بدولت جان ہار بیٹھے تھے چچاؤں نے لالہ جی کی بندوق اور ابو جی کا پستول اٹھایا جبکہ میں نے تاؤ شمشیر کی چھری
    شہداء پر نظر ڈال کر قافلہ چل پڑا دو کے بجائے ایک بیل گاڑی ہو گئی اور واہگہ بھی انتہائی کم رہ گیا تھا سو اگلی صبح تک واہگہ مہاجر کیمپ پہنچے راستے میں ہر طرف خون ہی خون تھا اور کٹی پھٹی لاشیں خاص کر شیر خوار بچوں اور عورتوں کی جا بجا لاشیں پڑیں تھیں
    اتنا سنانے کے بعد بابا جی کرم دین جن کے اب دانت بھی سلامت نہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کنے لگے
    پتر کی منہ وکھاؤ گے قائد ت اقبال نو ؟
    یعنی بیٹے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو جشن آزادی کے نام پر ہلڑ بازی پر کیا منہ دکھاؤ گے
    میں یہ سن کہ ہلکا سا رونے لگا اور اپنے دوست امان اللہ کا انتظار کئے بنا نکل آیا اور گھر جا کر سوچنے لگا یہ تو جشن آزادی نہیں ،یہ تو قائد و اقبال اور ان کے رفقاء کا طریقہ نہیں

  • سابقہ رنجش پر تین افراد قتل

    سابقہ رنجش پر تین افراد قتل

    قصور
    تین افراد سابقہ رنجش پر قبرستان موضع ملاں تکنہ سلامت پورہ کے قریب قتل ،مخالفین نے فائرنگ کرکے اقبال گجر ایڈووکیٹ سمیت تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تفصیلات کے موضع ملا تکنہ نزد سلامت پورہ تھانہ بی ڈویژن کی حدود میں تین افراد کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا محمد اقبال گجر اور عمران وغیرہ کے مابین سابقہ رنجش کافی عرصہ سے چلی آ رہی تھی
    اقبال گجر اپنے ڈرائیور کاشف اور بھانجے اسد کے ہمراہ کار پر اپنے گھر کوٹ سلامت پورہ آ رہے تھے کہ جب وہ ملاں تکنہ قبرستان کے قریب پہنچے تو پہلے سے گھات لگائے مخالفین عمران وغیرہ نے یکے بعد دیگرے گولیوں کے برسٹ مارکر ڈرائیورکو موقع پر ہلاک کر دیا جبکہ اقبال گجر اور اس کا بھانجا اسد شدید زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے
    واقعہ کی اطلاع پا کر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئے پولیس نے کوٹ سلامت پورا سمیت اردگرد کے علاقے کو سیل کر دیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سپیشل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں
    اس واقعہ کے بعد لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے

  • انٹرنیشنل یوتھ ڈے پر قصور یوتھ الائنس کا پیغام

    انٹرنیشنل یوتھ ڈے پر قصور یوتھ الائنس کا پیغام

    قصور
    یوتھ ڈے کے موقع پر قصور یوتھ الائنس کے تحت یوتھ ڈے کا انعقاد ، جس میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے اورانکو اعتماد دینے کے لیے  دنیا بھر میں 12 اگست کو انٹرنیشنل یوتھ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے
    اس موقع پر قصور یوتھ الائنس کی طرف سے یوتھ ڈے کے حوالے سے قومی و بین الاقوامی سطح پر متحرک این جی اوز اور دیگر گروپس کی طرح سیمینارز , تقریبات اور دیگر ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں تاکہ ملک و ملت کا نام روشن کرنے والے نوجوانوں کو دیگر نوجوانوں کے لیے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے
    تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تاریخ میں نوجوان نسل کا کردار نہ صرف مثالی ہوتا ہے بلکہ ملکوں کی ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہی نوجوان اپنے عزم، جوش اور ولولے سے ملکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں قصور یوتھ الائنس کی پوری قیادت اور کارکنان انٹرنیشنل یوتھ ڈے کے موقع پر حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح اب نوجوانوں کو مذید مایوس نا کیا جائے اور نوجوانوں کے تمام تر مسائل حل کرکے انہیں ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں نیز نوجوانوں کو بے روزگاری سے نکالنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ وہ خودکشیاں کرنے کی بجائے ملک وقوم کی خدمت کر سکیں اور ہمارے معاشرے کے معزز شہری بن سکیں

  • خالی ڈرم ڈینگی کی پیداوار کرنے لگے

    خالی ڈرم ڈینگی کی پیداوار کرنے لگے

    قصور
    چونیاں الہ آباد محکمہ ہائی وے کے پڑے تارکول کے خالی ڈرم ڈینگی اور ملیریا مچھر کو دعوت دینے لگے عوام کا جینا محال اعلی احکام سے نوٹس کی اپیل
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد دیپالپور روڈ پر محکمہ ہائی وے نے عرصہ دراز سے سینکڑوں کی تعداد میں خالی ڈرم ذخیرہ کر رکھے ہیں اب برسات کا موسم ہے اور بارشوں کا پانی ڈرموں کے اندر جمع ہونے کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے علاقہ کے لوگوں نے بتایا کہ مچھر ہم کو رات سونے نہیں دیتے
    بلکہ دن کو بھی چین نہیں لینے دیتے ہمارے گھروں میں ہمارے پیارے روزانہ کی بنیاد پر بخار میں مبتلا ہو رہے ہیں اور انتظامیہ ہماری بات کو سنی ان سنی کر رہے ہیں میونسپل کمیٹی نے سب پتہ ہونے کے باوجود چپ سادھ رکھی ہے ایک طرف تو حکومت نے ڈینگی اور ملیریا مکاؤ مہم چلا رکھی ہے مگر محکمہ ہائی وے چراغ تلے اندھیرا ہے سرکاری محکمہ ہی اس پر عمل نہیں کر رہا میونسپل کمیٹی اور محکمہ ہائی وے کا عملہ لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلم کھلا کھلواڑ کر رہے ہیں نا تو خالی ڈرم کسی محفوظ مقام پر پہنچا رہے ہیں اور نا مچھر مار اسپرے کر رہے خدانخواستہ اگر ان ڈرموں کے اندر کہی ڈینگی کا خطر ناک مچھر ہوا تو لوگوں کی زندگیاں ختم ہونے میں کوئی دیر نا لگے گی اہل محلہ کے لوگوں کی ڈی سی قصور اسسٹنٹ کمشنر چونیاں جناب عدنان بدر سے اپیل ہے کہ از خود نوٹس لیتے ہوے سینکڑوں کی تعداد میں پڑے خالی ڈرموں کو اٹھانے کے احکامات جاری کریں اور مچھر مار اسپرے کروا کر لوگوں کی زندگی اجیرن ہونے سے بچائی جائے

  • ایک اور بچے سے جنسی زیادتی

    ایک اور بچے سے جنسی زیادتی

    قصور
    چونیاں میں ایک اور 7 سالہ بچے کے ساتھ اوباش کی جنسی زیادتی

    تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی گاوں میاں والہ گھاٹ کے رہائشی 7 سالہ حذیفہ شبیر کے ساتھ اوباش نے بدفعلی کر ڈالی
    متاثرہ بچہ ٹیوشن پڑھنے کے بعد گھر جارہا تھا ملزم طیب ورغلہ کر بچے کو قریبی کھیت میں لے گیا
    ملزم بچے کے ساتھ زیادتی کرنے لگا بچہ شور مچاتا تو ملزم تشدد کرتا اور زیادتی کرتا رہا
    متاثرہ بچے کی چیخ وپکار اور شور مچانے پر ملزم موقع سے فرار ہو گیا جبکہ
    مقامی لوگوں نے بچے کو گھر پہنچایا بچے نے سارا ماجرا اپنے نانا کو سنایا
    پولیس نے نانا کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ میڈیکل میں بھی زیادتی ثابت ہو گئی ہے
    لوگوں نے ڈی پی او قصور سے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اسپیشل ٹیم تشکیل دے کر ملزم کی گرفتاری کو جلد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے

  • الٹی گنگا غلط کام سے انکار باعث معطلی

    الٹی گنگا غلط کام سے انکار باعث معطلی

    قصور
    تحصیلدار آفس ، سب رجسٹرار جمال ناصر بھٹہ دوران ڈیوٹی میرٹ پر آپنی ڈیوٹی احسن طریقے سرانجام دیتا رہا،افسران نے موقف سنے بغیر معطل کیا مقامی سوشل سوسائیٹیز ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ووکلا کا حکام بالا سے فوری بحال کرنے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق تحصیلدار ، سب رجسٹرار جمال ناصر بھٹہ دوران ڈیوٹی میرٹ پر آپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے سر انجام دیتا راہ اس کی معطلی کا جرم یہ بنا کہ کچھ غیر قانونی رجسٹریاں کرانے والے افرار کو انکار کر بیٹھا جس پر افسران نے بالا نے اس کا بغیر موقف سنے معطل کردیا جبکہ چند دن پہلے ڈپٹی کمشنر قصور نے مذکورہ سب رجسٹرار کے کام کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تمام رجسٹریاں دونوں پارٹیوں کو آمنے سامنے گواہان سمیت ایس او پیز کے تحت بائیومیٹرک کرکے اور تصویری پراسیس مکمل کیا جاتا رہا اس دوران کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا گیا جب متعلقہ تحصیلدار ، سب رجسٹرار جمال ناصر بھٹہ سے معطلی کے بارے موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چند افراد عدالتی حکم امتناعی کے دوران رجسٹریاں پاس کروانا چاہتے تھے انکاری پر میرے خلاف جھوٹی درخواستیں دی گئیں اور مجھے صفائی کا کوئی موقع نہیں دیا گیا بلکہ سنے بغیر معطل کر دیا گیا مقامی سوشل سوسائیٹیز کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کی متعلقہ آفیسر کو فوری آپنی سیٹ پر بحال کیا جائے اور غیر قانونی رجسٹریاں کروانے والے کے خلاف قانونی کاروائی کروائی جائے

  • 14 ہزار پودے لگائے گئے

    14 ہزار پودے لگائے گئے

    قصور
    چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا جس میں 14ہزار پودے مختلف قسم کے لگائے گئے
    تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر بہبود آبادی کرنل (ر) ہاشم ڈوگر، ضلعی کوارڈنیٹر ٹائیگر فورس ندیم ہارون اور ڈپٹی کمشنر منظر جاوید علی کی چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہ درخت کسی بھی ملک کا قابل قدر اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو معاشی اور ماحولیاتی حالت کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘مون سون شجرکاری مہم ہمارے ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور آنیوالی نئی نسلوں کو سر سبز و صاف ستھرا ماحول میسر آئے گا پودے ہماری آنیوالی نسلوں کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں،ملک بھر میں ٹائیگر فورس کے تعاون سے شجر کاری مہم کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنایا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈےکے موقع پر پودا لگانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قصور منظر جاوید علی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عابد حسین بھٹی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد کاشف ڈوگر، اسسٹنٹ کمشنرز قصور انعم زید، پتوکی آصف علی ڈوگر، کوٹ رادھاکشن نازیہ موہل،ضلعی کوارڈینیٹر ٹائیگر فورس قصور محمد ندیم ہارون، کوارڈینیٹر زٹائیگر فورس تحصیل قصور مہر محمد شبیر، چونیاں وقاص باقر، پتوکی محمد شکر باری، کوٹ رادھا کشن سید ظہیر الحسن شمسی، چیئر مین ڈسٹرکٹ اوورسیز پاکستانی کمیٹی چوہدری مختار احمد، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر چوہدری اسرار احمد انجم،ڈی او فارسٹ چھانگا مانگا رانا شاہد تبسم، ٹائیگر فورس کے جوانوں، سرکاری محکموں کے افسران اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ضلعی کوارڈینیٹر ٹائیگر فورس محمد ندیم ہارون نے ٹائیگر فورس کے جوانوں کا شکریہ ادا کیا ٹائیگر فورس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ان ملازمین کا شکریہ ادا کیا جاتا جن ملازمین نے دن رات محنت کر کے پودے لگائے کیونکہ ٹائیگر فورس نے کوئی ایک پودا نہیں لگایااور کریڈٹ ٹائیگر فورس کودیا گیا ہے۔ٹائیگر فورس کے جوانوں نےٹائیگر فورس کی جیکٹ پہن کر انہوں نے تو ہر پودے کے ساتھ کھڑے ہو کر سلفی بنائی اور سلفیاں بناتے رہے۔ بلکہ اسے سلفی فورس کہا جانا چاہیے۔ تمام تر پودے محکمہ جنگلات کے ملازمین نے لگائے ہیں۔ ہم ڈی ایف او فارسٹ اور ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اتنی محنت کی

  • سردار شریف سوہڈل پر جھوٹا مقدمہ ختم کیا جائے

    سردار شریف سوہڈل پر جھوٹا مقدمہ ختم کیا جائے

    قصور
    پریس کلب چونیاں کا اجلاس ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کےصدرںسردار شریف سوہڈل کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنےکی شدید الفاظ میں مذمت جھوٹے مقدمے کے اخراج اور واقعےکی تحقیقات کا مطالبہ اجلاس میں صدر ملک شرافت علی گوہر چیرمین رانا خالد محمود وائس چیرمین سیدعامرتقوی بابر علی بشارت طارق لودھی رانا کامران اشرف محمدمنشاء بھٹی اور پریس کلب چونیاں ملک شرافت گروپ کے تمام ممبران نےشرکت کی ملک شرافت علی گوہر گروپ کے ممبران نے ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے صدر سردار شریف سوہڈل کے خلاف جھوٹےمقدمےکے اندراج پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اس افسوسناک واقعہ پرنیشینل یونین آف جرنلسٹ کے نائب صدر پنجاب محمد منشاءبھٹی اور پریس کلب چونیاں ملک شرفت علی گوہر گروپ نےڈی پی او قصور زاہد نواز مروت آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے درخواست کرتے ھوۓ کہا جھوٹےمقدمےکو فوری خارج کیا جاۓ اور خود ساختہ کہانی بنا کر جھوٹا مقدمہ درج کروا کر سردار شریف سوہڈل کی عزت نفس کو مجروح کرنے والوں کو جلد از جلدگرفتار کیا جاۓواقعہ کی درست اور حقائق پر مبنی تفتیش نہ ھونے پر ملک بھر کی صحافتی احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ھیں ھم سب صحافی برادری سردار شریف سوہڈل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ھیں اور انکی عزت پر آنچ نہیں آنے دیں گے

  • قصور میں توہین قرآن کا واقعہ

    قصور میں توہین قرآن کا واقعہ

    قصور
    گزشتہ رات توہین قرآن کا واقعہ عینی شاہدین کی نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو ،مدعی مقدمہ اور امام مسجد گھر نا ملے
    تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات قصور شہر میں بھٹہ چوک کالج روڈ پر واقع جامع مسجد حضوری میں ایک شحض کی طرف سے توہین قرآن کا واقع پیش آیا جس پر آج صبح 7 بجے نمائندہ باغی ٹی وی بھٹہ چوک پہنچا تو مسجد کو تالا لگا ہوا تھا مسجد کے ساتھ والی گلی میں امام صاحب اور مدعی مقدمہ کا گھر ہے پوچھنے پر پتہ چلا کہ امام صاحب گھر پر نہیں اور موبائل وہ پاس نہیں رکھتے گزشتہ رات واقع پر عینی شاہدین نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل مسجد کا مائیک اور سپیکر چوری ہوا تھا جس کی بابت مسجد انتظامیہ اور امام مسجد سخت پریشان تھے اور چور کی کھوج میں تھے بعد نماز مغرب امام مسجد اور کچھ دیگر نمازی مسجد میں موجود تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک شحض مسجد میں بیٹھا ہوا ہے جسے ہم نے چور سمجھ کر دبوچا تو پتہ چلا کہ اس نے اپنے جسم کے ساتھ قرآن مجید کے نسخے باندھ رکھے ہیں اس پر موقع پر
    موجود لوگوں نے اس شحض کو مارنا شروع کر دیا شور کی آواز سن کر اہلیان علاقہ اکھٹے ہو گئے لوگوں نے گستاخ قرآن کو مارنا شروع کر دیا گستاخ قرآن سے جب پوچھا گیا کہ تم کون ہو تو اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا اور اپنا پتہ کھڈیاں کے کسی گاؤں کا بتایا اور خود کو مجنون ظاہر کیا
    چند نوجوانوں نے اسے جان سے مارنے کی کوشش بھی کی جسے امام مسجد و دیگر لوگوں نے بچا لیا اس کی اطلاع لوگوں نے پولیس کو دی جس پر فوری ایس ایچ او تھانہ صدر اور ایس پی ڈاکٹر عبدالحنان موقع پر پہنچے جنہیں لوگوں نے آگے نا جانے دیا اور بھٹہ چوک کو بند کر دیا مذید کچھ دیر بعد بائی پاس کو بھی بند کر دیا گیا اس بابت انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان مذاکرات رات ڈیڑھ بجے طے پائے جس پر بلاک روڈ کھول دیئے گئے
    لوگوں کا کہنا ہے کہ گستاخ قرآن کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اس کا پتہ چلایا جائے کہ وہ مجنون ہے یاں پھر مکر کر رہا ہے اور اسے کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ آگے سے کوئی ایسی جسارت نا کر پائے

  • 73 سالہ ظلم کی برسی اور بالی ووڈ کی سازشیں !!! از قلم: غنی محمود قصوری

    73 سالہ ظلم کی برسی اور بالی ووڈ کی سازشیں !!! از قلم: غنی محمود قصوری

    کشمیر کا نام آتے ذہن میں ظلم و ستم کی فلم چلنے لگ جاتی ہے وہ ظلم جو ہندو مشرک نے پچھلے 73 سالوں سے کشمیریوں پر کیا ہے مگر داد شجاعت ہے اس کشمیری قوم کو کہ جو 73 سالوں سے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے
    پچھلے سال 5 اگست کو انڈین گورنمنٹ نے کشمیری باشندوں کی آزادی و خودمختاری پر شب و خون مارتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا جس سے پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی کیونکہ یہ آرٹیکل کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دیتے ہیں جس کی بدولت ریاست جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والا باشندہ ہی کشمیری کہلوا سکتا ہے ،وادی میں جگہ خرید کر سکونت اختیار کر سکتا ہے اور کشمیری عورت سے شادی کر سکتا ہے یہی آرٹیکل ہندو کیلئے وبال جان تھے سو اس نے اسے ختم کر دیا مگر وہ بھول گیا آرٹیکل کاغذ پر نہیں دلوں میں رقم ہوتے ہیں
    اپنی اس سلب آزادی پر کشمیریوں نے احتجاج کیا اور ہندو پر نعرے بازی کیساتھ سنگ بازی بھی کی جسے دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی انڈین گورنمنٹ نے وادی میں کرفیو نافذ کرنے کیساتھ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی اور یوں کشمیری قوم پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئی
    مذید عالمی وباء کووڈ 19 نے دنیا بھر کی دنیا مقبوضہ وادی میں بھی پنجے جمانے شروع کئے تو بہانے کے متلاشی انڈیا نے 21 اپریل کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا جس سے کشمیری مکمل طور پر گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے اس بہانے غاصب انڈین فوج کو کریک ڈاؤن کے بہانے کشمیریوں کی نسل کشی کا خوب موقع ملا اور وہ ظالم درندے ظلم کی نئی داستان رقم کرتے گئے
    چونکہ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند رہی اس لئے اس ایک سال کی کل شہادتوں کی تعداد کا تعین مشکل ہے مگر اس ایک سال میں ہندو درندہ صفت فوج نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا،ہزاروں کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کیں اور کروڑوں روپیہ کی املاک نذر آتش کیں
    ساتھ ہی موقع پرست چالاک و عیار بنیئے نے انڈیا سے پنڈتوں اور انڈین مذہبی انتہاہ پسند تنظیموں کے کارندے بھی کشمیر میں لا کر بسانا شروع کر دیئے تاکہ دنیا کے سامنے کشمیر کو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ علاقہ ثابت کیا جا سکے
    فوج کے ساتھ ان ہندو جنونیوں نے کشمیری عورتوں کی آبرو ریزی کیساتھ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام بھی شروع کر دیا جس پر کشمیریوں کیساتھ عالمی دنیا میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی
    ظاہری بات ہے اس ساری صورتحال پر کشمیری مجاھدین اور لوگ خاموش تو نہیں رہ سکتے تھے سو سویلین و مجاھدین کشمیر نے اپنی طاقت کے مطابق انڈین فوج کیساتھ ہندو پنڈتوں اور دہشت پسند مسلح ہندو کارندوں کا کریا کرم کرنا شروع کیا جس سے انڈین فوج کیساتھ بہت زیادہ تعداد میں ہندو پنڈت مارے گئے اور جو بچے وہ وادی سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے اس ساری صورتحال سے پریشان ہندو مشرک نے بھاگتے پنڈتوں کو دوبارہ لاکر بسانے اور اپنی فوج کا مورال بلند کرنے کیلئے ایک بار پھر اپنی فلم انڈسٹری کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا اور اسی ناکام و بدنام
    فلمی ہیروؤں نے پھر سے ایک بار فلموں کے ذریعے کشمیر کو فتح کرنے کیساتھ مجاھدین کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنی کی ٹھانی اور ایک نئی فلم ،سرینگر،بنانے کا آغاز کر دیا
    ابھی اس فلم کا ایک ٹریلر ہی جاری کیا گیا ہے جس میں کشمیری مجاھدین کو عورتوں کا رسیا اور ہندوؤں پر ظلم کرنے والا دکھایا گیا ہے اور اسی کلپ میں جرآت و بہادری کی مثال خلیفتہ المسلیمین جناب حضرت عمر فاروق کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے خود ساختہ یہ بات کہی گئی ہے کہ بقول حضرت عمر مسلمانوں کیلئے کفار کی عورتیں جائز ہیں اسی لئے مجاھدین کشمیر ہندو عورتوں کو کشمیر سے اٹھاتے ہیں اور ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
    ہندو مشرک پلید یہ بھول گیا کہ اس سے قبل بھی وہ سینکڑوں فلمیں آزادی کشمیر کی تحریک کو کچلنے اور اپنی پلید بزدل فوج کو ہیرو ثابت کرنے کے لئے بنا چکا ہے مگر نتیجہ ہر بار بے سود ہی رہا ہے جیسے جیسے انڈیا نے فلموں میں اپنی فوج کو بہادر دکھلایا ویسے ہی انڈین فوج میں خودکشیوں کی شرح بڑھ گئی اور مسلح تحریک کو مذید تقویت ملی
    دنیا کی ہر بزدلی چاہے وہ دوران معرکہ پتلون میں پیشاب نکلنا ہو یا خود کشی اپنے افسر کو قتل کرنا ہو یا فوج سے بھاگ کر دشمن سے جا ملنا ، اسی ہندو مشرک پلید فوج میں ملے گی
    حالات و واقعات گواہ ہیں اس وقت لائن آف کنٹرول پر انڈیا کا کڑا پہرہ ہے اور ہر وقت شدید دو طرفہ بمباری جاری ہے جس سے لائن آف کنٹرول کے آر پار جانا ناممکن ہے مگر پھر بھی کشمیری مجاھدین تحریک آزادی کو اپنی مدد آپ سے زندہ رکھے ہوئے ہیں جو کہ عالمی دنیا کو ایک پیغام ہے کہ جو مرضی ہو جائے یہ تحریک آزادی پایہ تکمیل تک پہنچے گی کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے کہ جس نے ایک اذان کو مکمل کرنے کی خاطر 21 جانوں کا نذرانہ دے کر اذان مکمل کی کشمیری ماؤں نے ایک بیٹے کی شہادت کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے بیٹے کو خود بندوق پکڑا کر اندین فوج کے خلاف میدان میں نکالا
    یہ تو پھر آزادی کی تحریک ہے کہ جس میں اللہ خود حکم دے رہا قرآن میں کہ
    اورتمہیں کیاہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اوران بے بس مردوں اور عورتوں اوربچوں کے لیے نہیں لڑتے جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنادے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگاربنا دے۔ النساء
    یہ ہندو مشرک تحریک آزادی کو اپنے کرنلوں،جرنلوں کے ذریعے کچلنا چاہیں تب بھی ناکام اور اپنے کنجر کنجریوں کے ذریعے فلمیں بنا کر کچلنا چاہیں تب بھی ناکام کیونکہ اللہ تعالی نے ناکامی مسلمانوں کے لئے رکھی ہی نہیں ناکامی تو اس ہندو کا مقدر ہے جو پچھلے 73 سالوں سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی ذلیل و رسوا ہو گیا اور اب اپنی فوج کا مورال اپ کرنے کیلئے فلموں کا سہارا لینے لگا مگر وہ بھول گیا جہاں گولی کام نہیں آئی وہاں ان کی فلموں پر کشمیری قوم لعنت ڈالتی ہے
    یہ بنا لیں جتنی بنا سکتے ہیں ان شاءاللہ فتح حق کی ہی ہو گی باطل فنا ہو گا ان شاءاللہ