Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • واپڈا قصور نے جشن آزادی پر 47 کی تاریخ دہرا دی

    واپڈا قصور نے جشن آزادی پر 47 کی تاریخ دہرا دی

    قصور
    جشن آزادی پاکستان کے موقع پر لیسکو واپڈا قصور نے 1947 کی یاد تازہ کر دی ضلع بھر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جس کی بدولت واٹر سپلائی و واٹر فلٹریشن پلانٹ غیر فعال ہو کر رہ گئے لوگ پنکھوں کی ہوا کیساتھ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    تفصیلات کے مطابق لیسکو واپڈا قصور نے جشن آزادی کے پر مسرت موقع پر 14 اگست 1947 کی یاد تازہ کر دی پورا قصور شہر کوفہ کا منظر پیش کرتا رہا بجلی کی عدم دستیابی کے باعث جشن آزادی کی سرگرمیاں محدود رہیں
    جبکہ ضلع بھر کی مسجدوں میں بجلی و پانی کی عدم دستیابی کے باعث نماز جمعہ پڑھنے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کیونکہ پانی نا گھر میں نا مسجد میں موجود
    جبکہ واٹر سپلائی اور واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی بند رہے
    غیر اعلانیہ لوڈشیدنگ سے دل، ہائی بلڈ پریشر، شوگر سنسٹروک اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں بجلی و پانی کی بندش کے دوران مریضوں کو لوڈشیڈنگ کے باعث سخت گرمی میں حالت بگڑنے پر طبی امداد کیلئے ایمرجنسی کے باعث ہسپتالوں میں منتقل کرنا پڑ رہا ہے جہاں سے اکثر یہی حکم ملتا ہے مریض کو لاہور لے جائیںں
    غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے لیسکو واپڈا قصور کے افسران کے پاس کوئی واضح مؤقف موجود نہیں ہے اور وہ اس حوالے سے مختلف حیلے بہانے بنا رہے ہیں پورے ضلع کے دیہاتی اور شہری علاقوں میں 06 سے 10 گھنٹے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جاری ہے ورک پرمٹ اور فالٹ کے دوران کی جانیوالی لوڈشیڈنگ اس کے علاوہ ہے شہریوں اور مریضوں کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کرکے ہماری مشکلات بڑھائی جارہی ہیں اور مریضوں کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہوتے جا رہے ہیں
    عوامی، سیاسی، سماجی، فلاحی، سول سوسائٹیز تنظیموں، ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلا، نے وزیراعظم پاکستان ،چئیرمین واپڈ اور وفاقی وزیر پانی و بجلی سے فوری نوٹس لیکر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • 25 افراد کا دکان پر دھاوا

    25 افراد کا دکان پر دھاوا

    قصور
    پتوکی میں تھانہ سٹی پتوکی کے علاقہ میں ملتان روڈ پھول منڈی کے قریب لڑائی جھگڑا
    تفصیلات کے مطابق پتوکی میں ملتان روڈ پھول منڈی میں جھگڑا ہوا جس میں پتوکی چک نمبر 7 کے 25 افراد نے انفارمیشن سیکرٹری انصاف ویلفیئر ونگ امین بھٹہ کی دوکان پر دهاوا بول دیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جس میں امین بھٹہ کا بھتیجا شدید زخمی ہو گیا واقعہ دیکھ کر لوگ جمع ہو گئے جنہوں نے واقعہ کی اطلاع 15 پر پولیس کو اطلاع کردی
    پولیس کے آنے سے قبل ہی ملزمان بھاگ گئے زخمی کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

  • پریڈ منسوخ عوام مایوس

    پریڈ منسوخ عوام مایوس

    قصور
    55 سال بعد پہلی بار گنڈا سنگھ والا انٹرنیشنل بارڈر پر جوائنٹ چیک پوسٹ پر پریڈ نہیں ہو گی
    تفصیلات کے مطابق آج یوم آزادی کے موقع پر 55 سال قبل شروع ہونے والی دونوں ممالک کے مابین پریڈ نہیں ہو گی
    کورونا کے باعث شہری 14 اگست کی پریڈ نہیں دیکھ سکیں گے جبکہ ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کیلئے ستلج رینجر نے بی آر بی نہر سے ہی بارڈر کو جانے والے راستے بند کر دئیے ہیں
    واضع رہے گنڈا سنگھ بارڈر پر دونوں طرف سے آمنے سامنے کی پریڈ دیکھنے دور دور سے لوگ آتے ہیں
    اس بار بارڈر پر سادگی سے صرف پرچم کشائی کی تقریب ہوگئی جس میں عام عوام کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی

  • قصوریوں کا جشن آزادی کشمیریوں کے نام

    قصوریوں کا جشن آزادی کشمیریوں کے نام

    قصور
    قصوریوں کا جشن آزادی کشمیریوں کے نام، ڈی سی قصور کی جانب سے پورے شہر میں کشمیریوں کے مظالم دنیا کے دکھانے کیلئے بینرز،فلیکس لگوا دیئے گئے،سرکاری و نجی عمارتوں کیساتھ پاکستان کے جھنڈے کیساتھ کشمیر کا جھنڈا بھی لازم
    تفصیلات کے مطابق قصوریوں نے جشن آزادی پاکستان کشمیریوں کے نام کیا ہے جس کی خصوصی کاوش ڈی سی قصور منظر علی جاوید نے کی ہے ان کی طرف سے وادی کشمیر پر جاری مظالم پر مبنی بینرز و فلیکس چھپوا کر پورے شہر میں لگا دیئے گئے تاکہ دنیا تک مظلوم کشمیریوں کی آواز پہنچ سکے نیز ضلع بھر میں تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر پاکستانی پرچم کیساتھ کشمیر کا پرچم بھی لہرایا جا رہا ہے تاکہ دنیا کو پیغام دیا جا سکے کہ پاکستانی قوم اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی آزادی کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے

  • ایسے ملی تھی آزادی!!!  از قلم: غنی محمود قصوری

    ایسے ملی تھی آزادی!!! از قلم: غنی محمود قصوری

    پچھلے سال 14 اگست کو میں ایک دوست کے پاس گیا اس کے 86 سالہ دادا جی حیات ہیں
    مجھے دیکھ کر کہنے لگا پتر کتھے چلے او ؟ یعنی کہا جا رہے ہو میں نے جواب دیا بابا جی واہگہ بارڈر پر پریڈ دیکھنے جانا ہیں تو وہ بزرگ آہ بھر کے کہنا لگا سلنسر کڈ کے گون گا کے منانا اے آزادی ؟ پتہ وی او کینج لئی سے اساں آزادی؟ یعنی کہ موٹر سائیکل کا سائلنسر نکال کر اور ناچ گا کر آزادی مناتے ہو پتہ بھی ہے تمہیں کیسے ملی تھی آزادی ؟ میں نے کہا نہیں بابا جی آپ بتا دیجئے تو وہ بتانے لگا کہ
    اس کا دادا گاؤں کا چوہدری تھا ان کا گاؤں کھیم کرن کے پاس تھا اور وہ 4 مربع زمین کے مالک تھے اس کے دو چچا اور پانچ پھوپھیاں تھیں جو کہ سب شادی شدہ ہی تھے وہ خود دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا اور آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا اسے قائد اعظم بڑے اچھے لگتے تھے اس کی کہانی سنتے ہیں اسی کی زبانی
    میرا نام کرم دین ہے اور میں اپنے دادا کی اولاد میں سب سے بڑا تھا میری دادی اماں میری پیدائش سے چھ ماہ پہلے وفات پا گئی تھیں میرے دادا جی چوہدری تھے ہمارے گاؤں میں سکھ اور ہندوں سبھی ان کی بہت عزت کرتے تھے خود میرے ساتھ سکول میں سکھ و ہندو لڑکے مل کر کھانا کھاتے تھے مگر پھر بھی میرا کھانا کھانے کے باوجود وہ مجھ سے کھینچے کھینچے سے رہتے تھے اور ہر وقت او مسلے او مسلے پکارتے تھے جو کہ مجھے بڑا ناگوار گزرتا تھا
    یہ جنوری 1947 کی بات کے حالات معمول سے ہٹ کر خراب ہو رہے تھے سکول میں بھی ہندو و سکھ لڑکوں کا رویہ مجھ سے عجیب سا ہو گیا تھا حالانکہ میں نے کبھی یہ نعرہ نا لگایا تھا کہ، بٹ کے رہے گا ہندوستان ،بن کے رہے گا پاکستان مگر پھر بھی نا جانے کیوں وہ مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے تھے حالانکہ ہمارے نذر بیگ ماسٹر صاحب سب بچوں سے بہت پیار کرتے تھے اور کسی کو بھی ہندو ،سکھ اور مسلمان ہونے پر جدا نا سمجھتے تھے خیر وقت گزرتا گیا اور جولائی کا مہینہ شروع ہو گیا ہر طرف بٹ کے رہے گا ہندوستان،بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے گونجتے تھے میں نے دادا جی سے پوچھا لالہ جی ( دادا جی کو کہتا تھا) یہ کیا چکر ہے بٹوراہ کیوں ہوگا تو لالہ جی کہنے لگے بیٹا دیکھ میرے تین بیٹے ہیں تیرا باب اور دو تیرے چچا تو جیسے جیسے شادیاں ہوتی گئیں بٹوارہ ہوتا گیا اب تمہاری ماں الگ سے روٹی پکاتی ہے تمہاری چچیاں الگ سے پکاتی ہیں میرا دل جہاں سے کرتا ہے میں وہاں سے کھا لیتا ہوں اسے کہتے ہیں بٹوارہ تو ہو جائے کیا فرق پڑتا ہے ہمیں تو رہنا ہی ہے نا رہ لینگے پر میں نے کہا لالہ جی میں نہیں جاؤنگا اپنا گاؤں اپنے دوست چھوڑ کر لالہ جی نے سینے سے لگا لیا
    مجھے یاد ہے جس دن میری لالہ جی سے یہ بات چیت ہوئی اسی دن میرے ابو جسے میں ابا جی کہتا تھا اپنے ساتھ اپنے ماموں زاد بھائی شمشیر کو لے کر
    تایا شمشیر میرے ابو سے بڑے تھے میں انہیں تاؤ کہتا تھا
    تاؤ لالہ جی کے پاس بیٹھ گئے اور کہنے لگے بابا جی ( لالہ جی کو سب بابا جی کہتے تھے) حالات بہت خراب ہیں کچھ کرنا پڑے گا ہمیں یہ علاقہ چھوڑ کر پاکستان جانا پڑے گا
    لالہ جی کہنے لگے اوئے جلے میں چوہدری ہوں سکھ ہندو میری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں مجھے کیا ضرورت پڑی ہے اپنا گاؤں چھوڑ کر بھاگنے کی
    تو تاؤ کہنے لگے آپ کو علم ہی نہیں حالات کس قدر خراب ہیں کوئی کسی کا نہیں بن رہا لہذہ عزت بچا کر نکلنے میں ہی فائدہ ہے پورے ہند کے قصے آپ نے سن لئے ہیں تو دیر نا کیجئے کافی تو تکار کے بعد لالہ جی روتے ہوئے ہامی بھر بیٹھے طے ہوا پرسوں 31 جولائی کی رات کو نکلا جائے گا تب تک قریبی دیہات سے پھوپھیاں اور خاندان سے دیگر افراد بھی آ جائیں گے کیونکہ لالہ جی کا اثرورسوخ کافی تھا دوسرا ہمارے گھر میں اناج وافر تھا لالہ جیں کے پاس ایک نالی بندوق اور میرے والد کے پاس ریوالور بھی تھا
    31 جولائی کو شام تک سب پہنچ گئے سوائے گاؤں موضع سری ساون کی رہائشی پھوپھو حاجراں اور ان کے سسرال کے علاوہ
    سو مجبوری کے طور پر ہم نے دو بیل گاڑیاں تیار کیں اناج لادا گھروں کو تالے لگائے اور نکل کھڑے ہوئے ابھی گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ راموں جو ہمارے گھر کا خاص ملازم تھا گالیاں بکنے لگا او مسلے ڈر کر بھاگنے لگے ابھی مزا چکھاتا ہوں
    لالہ جی نے کہا راموں تو بھول گیا میرے احسان تیری بہن کی شادی میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی جیب سے کی تھی تو راموں کہنے لگا او مسلے ہند ہمارا ہے تونے کونسا احسان کیا ہے اتنا کہتے ہی راموں چلانے لگا اور کھڑے سیاں (کھڑک سنکھ ) اور فلاں اوئے فلاں مسلے بھاگ رہے ہیں
    لالہ جی اور ابا جی نے گھر کے کل 41 افراد بمعہ بچے بوڑھے جوان کو دلاسہ دیا مردوں اور عورتوں کو بیل گاڑیوں پر بٹھایا اور اپنی بندوق تان کر بیل گاڑی کے آگے جبکہ میرے والد ریوالور لے کر بیل گاڑیوں کے پیچھے پیچھے چل دیئے رات کی تاریکی تھی ابھی ہم چار منٹ ہی چلے ہونگے کہ شور سنائی دیا جے سری رام،ست سری اکال کی بلند و بالا آوازیں آنے لگیں لالہ جی نے کہا گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے آوازیں قریب تر ہوتی گئیں آخر لالہ جی نے نعرہ تکبیر لگایا اور فائر کر دیا اسی اثناء میں ابو جی نے بھی دو فائر کئے شور رک گیا بڑھتی ہوئی آوازیں تھم گئیں سب سہم گئے تھے لالہ جی نے سب کو دلاسہ دیا اور میرے جیتے جی کسے کا بال بھی بانکا نہیں ہو گا ابو جی سے لالہ جی نے کہا کہ اب فائر نا کرنا میرے پاس بھی کارتوس کم ہیں اور تمہارے پاس گولیاں کم ہیں اور ہمیں سفر لمبا کرنا ہے
    رات کی تاریکی تھی سب ڈرے ہوئے تھے پھوپھی سکینہ کا اکلوتا بیٹا بیمار تھا اور بار بار رو رہا تھا تایا شمشیر بھی اپنے بچوں کیساتھ تلوار پکڑے چل رہا تھا خیر ہم چلتے گئے اور دن کا اجالا ہونا شروع میں کچھ ہی دیر رہ گئی آگے ایک سڑک آئی تو میں ج جو کہ لالہ کیساتھ ساتھ چل رہا تھا کسی چیز سے ٹکڑا کر گر پڑا میرے منہ سے آہ نہیں اور قافلہ رک گیا جب دیکھا تو وہ ایک نوجوان عورت کی برہنہ لاش تھی جا کی چھاتی کاٹی ہوئی تھی اور تن ہر کپڑوں کے چیتھڑوں کے کچھ بھی نا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ابھی چن دہی گھنٹے ہوئے ہیں اسے شہید کئے یہ منظر دیکھ کر سب دہل گئے
    لالہ جی نے کہا میں اس گاؤں ماڑی کامبوکی سے واقف ہوں یہاں سکھ اور ہندو زیادہ ہیں اور دن کو سفر کرنا خطرناک ہے لہذہ کہیں چھپتے ہیں کچھ فاصلے پر دیسی کماد کی فصل نظر آئی قافلہ اس سمت چل پڑا کماد کی فصل کو اندر سے کاٹا گیا جو کہ کئی ایکڑ پر محیط تھی اور قافلہ عین وسط میں لیجا کر روک دیا گیا گرے کماد کو لالہ جی اور ابو جی نے بڑی مہارت سے کھڑا کرنے کی کوشش کی جو بڑی حد تک کامیاب بھی رہی سب نے تیمم کرکے نماز پڑھی اور ساتھ رکھا کھانا کھانے لگے مگر بے سود شمشیر تایا جو چار پانچ دیسی گھی کی روٹیاں کھا جاتے تھے آدھی سے بھی کم کھا کر کہنے لگے بس سیر ہو گیا ہوں سب کی یہی حالت تھی
    رفتہ رفتہ دن کا اجالا تیز ہونے کیساتھ سورج کی تپش بھی تیز ہوتی گئی اور سکینہ خالہ کے بیٹے نے رونا شروع کر دیا سب کہنے لگے اسے چپ کرواؤ مروا دے گا ہمیں بھی
    سکھوں ہندؤوں کی آوازیں اور ساتھ کچھ چیخیں بھی آ رہی تھیں سب ڈر بھی رہے تھے اور ذکر خدا بھی کر رہے تھے خیر شام ہو گئی قافلہ نکلا اور سفر شروع کر دیا ابھی چار کوس ہی گئے ہونگے کہ اچانک پچاس ساتھ بلوائیوں کا قافلہ نکلا لالہ جی نے فائر کیا مگر آگے سے چھ سات اکھٹے فائر ہوئے ایک فائر میرے چچا اقبال کو لگا اور ایک فائر تایا شمشیر کی کھوپڑی میں لگا ادھر سے ابو جی نے چار فائر کئے جس سے تین دلدوز چیخیں فضاء میں ابھریں جو کہ بلوائیوں کی تھیں میں بھی جوش میں اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا اور اپنی لاٹھی مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا اچانک شور مذید بڑھا اور ہماری سمت آیا ایک گولی لالہ جی کی ران پر لگی اور وہ بھی گر پڑے میں اور دونوں چچا،دو پھوپھے سراج اور اللہ دتہ لاٹھیاں سنبھالے کھڑے تھے بچے اور عورتیں چیخ چلا رہے تھے ایک سکھ میرے قریب آیا میں نے لاٹھی اس کے سینے پر ماری مگر ضرب کاری نا تھی الٹا اس نے کرپان میری طرف ماری جو کہ میری بائیں بازو پر لگی ابا جی نے پھر فائر کئے مگر افسوس ایک سکھ نے ان کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہم بچوں ،عورتوں اور بوڑھوں سمیت 41 تھے جبکہ کرپانوں،بندوقوں اور چھڑیوں سے لیس بلوائی پچاس سے اوپر تھے میرے لالہ جی،ابو جی،تاؤ شمشیر پھوپھی تڑپ رہے تھے باقی میں بچوں میں سب سے بڑا تھا باقی دو چچا اور دو پھوپھا تھے ہم نے مقابلہ شروع کیا اتنے میں پھوپھی سکینہ کی آواز آئی میرا لال علی شیر دے دو ایک ظالم نے شیر خوار علی شیر کو نیزے پر رکھا اور دو ٹکڑے کر دیا جبکہ میری پھپھو سکینہ کو پکڑنے لگے تو پھوپھا جی نے اپنا سینہ آگے کر دیا ایک گولی آئی اور پھوپھا کے سینے میں لگی اور وہ گر پڑے چچا جی آگے بڑھے کرپان ان کے پیٹ کے پاڑ ہو گئی اتنے میں ایک اور شور ہمارے قریب آیا اور نعرہ تقریب بلند ہوا چند جوان جن کے پاس آٹومیٹک رائفلیں تھیں انہوں نے دو بلوائیوں کو نشانہ بنایا باقی بلوائی بھاگ نکلے انہوں نے ہمیں اپنے حصار میں لے لیا اور بولے پریشان نا ہو ہر سمت یہی صورتحال ہے ہم آپ کو واہگہ پہنچائینگے
    زخمیوں میں سے صرف میں اور چھوٹے چچا اور بڑا پھوپا جی ںچے باقی پھوپھو سکینہ پھوپا جی کو گولتی لگتے ہی دار فانی سے کوچ کر گئیں تھیں کل 41 میں سے میں دو چچا ایک چچی دو ننھے بچے اور ایک مجھ سے دو سال چھوٹی تاؤ شمشیر کی بیٹی بچی باقی سب انتہائی گہرے زخموں کی بدولت جان ہار بیٹھے تھے چچاؤں نے لالہ جی کی بندوق اور ابو جی کا پستول اٹھایا جبکہ میں نے تاؤ شمشیر کی چھری
    شہداء پر نظر ڈال کر قافلہ چل پڑا دو کے بجائے ایک بیل گاڑی ہو گئی اور واہگہ بھی انتہائی کم رہ گیا تھا سو اگلی صبح تک واہگہ مہاجر کیمپ پہنچے راستے میں ہر طرف خون ہی خون تھا اور کٹی پھٹی لاشیں خاص کر شیر خوار بچوں اور عورتوں کی جا بجا لاشیں پڑیں تھیں
    اتنا سنانے کے بعد بابا جی کرم دین جن کے اب دانت بھی سلامت نہیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کنے لگے
    پتر کی منہ وکھاؤ گے قائد ت اقبال نو ؟
    یعنی بیٹے قائد اعظم اور علامہ اقبال کو جشن آزادی کے نام پر ہلڑ بازی پر کیا منہ دکھاؤ گے
    میں یہ سن کہ ہلکا سا رونے لگا اور اپنے دوست امان اللہ کا انتظار کئے بنا نکل آیا اور گھر جا کر سوچنے لگا یہ تو جشن آزادی نہیں ،یہ تو قائد و اقبال اور ان کے رفقاء کا طریقہ نہیں

  • سابقہ رنجش پر تین افراد قتل

    سابقہ رنجش پر تین افراد قتل

    قصور
    تین افراد سابقہ رنجش پر قبرستان موضع ملاں تکنہ سلامت پورہ کے قریب قتل ،مخالفین نے فائرنگ کرکے اقبال گجر ایڈووکیٹ سمیت تین افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تفصیلات کے موضع ملا تکنہ نزد سلامت پورہ تھانہ بی ڈویژن کی حدود میں تین افراد کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا محمد اقبال گجر اور عمران وغیرہ کے مابین سابقہ رنجش کافی عرصہ سے چلی آ رہی تھی
    اقبال گجر اپنے ڈرائیور کاشف اور بھانجے اسد کے ہمراہ کار پر اپنے گھر کوٹ سلامت پورہ آ رہے تھے کہ جب وہ ملاں تکنہ قبرستان کے قریب پہنچے تو پہلے سے گھات لگائے مخالفین عمران وغیرہ نے یکے بعد دیگرے گولیوں کے برسٹ مارکر ڈرائیورکو موقع پر ہلاک کر دیا جبکہ اقبال گجر اور اس کا بھانجا اسد شدید زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے
    واقعہ کی اطلاع پا کر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئے پولیس نے کوٹ سلامت پورا سمیت اردگرد کے علاقے کو سیل کر دیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سپیشل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں
    اس واقعہ کے بعد لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے

  • انٹرنیشنل یوتھ ڈے پر قصور یوتھ الائنس کا پیغام

    انٹرنیشنل یوتھ ڈے پر قصور یوتھ الائنس کا پیغام

    قصور
    یوتھ ڈے کے موقع پر قصور یوتھ الائنس کے تحت یوتھ ڈے کا انعقاد ، جس میں نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کو اجاگر کرنے اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے اورانکو اعتماد دینے کے لیے  دنیا بھر میں 12 اگست کو انٹرنیشنل یوتھ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے
    اس موقع پر قصور یوتھ الائنس کی طرف سے یوتھ ڈے کے حوالے سے قومی و بین الاقوامی سطح پر متحرک این جی اوز اور دیگر گروپس کی طرح سیمینارز , تقریبات اور دیگر ایونٹس منعقد کئے جاتے ہیں تاکہ ملک و ملت کا نام روشن کرنے والے نوجوانوں کو دیگر نوجوانوں کے لیے رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکے
    تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تاریخ میں نوجوان نسل کا کردار نہ صرف مثالی ہوتا ہے بلکہ ملکوں کی ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہی نوجوان اپنے عزم، جوش اور ولولے سے ملکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں قصور یوتھ الائنس کی پوری قیادت اور کارکنان انٹرنیشنل یوتھ ڈے کے موقع پر حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح اب نوجوانوں کو مذید مایوس نا کیا جائے اور نوجوانوں کے تمام تر مسائل حل کرکے انہیں ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کئے جائیں نیز نوجوانوں کو بے روزگاری سے نکالنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ وہ خودکشیاں کرنے کی بجائے ملک وقوم کی خدمت کر سکیں اور ہمارے معاشرے کے معزز شہری بن سکیں

  • خالی ڈرم ڈینگی کی پیداوار کرنے لگے

    خالی ڈرم ڈینگی کی پیداوار کرنے لگے

    قصور
    چونیاں الہ آباد محکمہ ہائی وے کے پڑے تارکول کے خالی ڈرم ڈینگی اور ملیریا مچھر کو دعوت دینے لگے عوام کا جینا محال اعلی احکام سے نوٹس کی اپیل
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد دیپالپور روڈ پر محکمہ ہائی وے نے عرصہ دراز سے سینکڑوں کی تعداد میں خالی ڈرم ذخیرہ کر رکھے ہیں اب برسات کا موسم ہے اور بارشوں کا پانی ڈرموں کے اندر جمع ہونے کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں مچھروں کی افزائش ہو رہی ہے علاقہ کے لوگوں نے بتایا کہ مچھر ہم کو رات سونے نہیں دیتے
    بلکہ دن کو بھی چین نہیں لینے دیتے ہمارے گھروں میں ہمارے پیارے روزانہ کی بنیاد پر بخار میں مبتلا ہو رہے ہیں اور انتظامیہ ہماری بات کو سنی ان سنی کر رہے ہیں میونسپل کمیٹی نے سب پتہ ہونے کے باوجود چپ سادھ رکھی ہے ایک طرف تو حکومت نے ڈینگی اور ملیریا مکاؤ مہم چلا رکھی ہے مگر محکمہ ہائی وے چراغ تلے اندھیرا ہے سرکاری محکمہ ہی اس پر عمل نہیں کر رہا میونسپل کمیٹی اور محکمہ ہائی وے کا عملہ لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلم کھلا کھلواڑ کر رہے ہیں نا تو خالی ڈرم کسی محفوظ مقام پر پہنچا رہے ہیں اور نا مچھر مار اسپرے کر رہے خدانخواستہ اگر ان ڈرموں کے اندر کہی ڈینگی کا خطر ناک مچھر ہوا تو لوگوں کی زندگیاں ختم ہونے میں کوئی دیر نا لگے گی اہل محلہ کے لوگوں کی ڈی سی قصور اسسٹنٹ کمشنر چونیاں جناب عدنان بدر سے اپیل ہے کہ از خود نوٹس لیتے ہوے سینکڑوں کی تعداد میں پڑے خالی ڈرموں کو اٹھانے کے احکامات جاری کریں اور مچھر مار اسپرے کروا کر لوگوں کی زندگی اجیرن ہونے سے بچائی جائے

  • ایک اور بچے سے جنسی زیادتی

    ایک اور بچے سے جنسی زیادتی

    قصور
    چونیاں میں ایک اور 7 سالہ بچے کے ساتھ اوباش کی جنسی زیادتی

    تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی گاوں میاں والہ گھاٹ کے رہائشی 7 سالہ حذیفہ شبیر کے ساتھ اوباش نے بدفعلی کر ڈالی
    متاثرہ بچہ ٹیوشن پڑھنے کے بعد گھر جارہا تھا ملزم طیب ورغلہ کر بچے کو قریبی کھیت میں لے گیا
    ملزم بچے کے ساتھ زیادتی کرنے لگا بچہ شور مچاتا تو ملزم تشدد کرتا اور زیادتی کرتا رہا
    متاثرہ بچے کی چیخ وپکار اور شور مچانے پر ملزم موقع سے فرار ہو گیا جبکہ
    مقامی لوگوں نے بچے کو گھر پہنچایا بچے نے سارا ماجرا اپنے نانا کو سنایا
    پولیس نے نانا کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ میڈیکل میں بھی زیادتی ثابت ہو گئی ہے
    لوگوں نے ڈی پی او قصور سے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ایک اسپیشل ٹیم تشکیل دے کر ملزم کی گرفتاری کو جلد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے

  • الٹی گنگا غلط کام سے انکار باعث معطلی

    الٹی گنگا غلط کام سے انکار باعث معطلی

    قصور
    تحصیلدار آفس ، سب رجسٹرار جمال ناصر بھٹہ دوران ڈیوٹی میرٹ پر آپنی ڈیوٹی احسن طریقے سرانجام دیتا رہا،افسران نے موقف سنے بغیر معطل کیا مقامی سوشل سوسائیٹیز ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ووکلا کا حکام بالا سے فوری بحال کرنے کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق تحصیلدار ، سب رجسٹرار جمال ناصر بھٹہ دوران ڈیوٹی میرٹ پر آپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے سر انجام دیتا راہ اس کی معطلی کا جرم یہ بنا کہ کچھ غیر قانونی رجسٹریاں کرانے والے افرار کو انکار کر بیٹھا جس پر افسران نے بالا نے اس کا بغیر موقف سنے معطل کردیا جبکہ چند دن پہلے ڈپٹی کمشنر قصور نے مذکورہ سب رجسٹرار کے کام کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تمام رجسٹریاں دونوں پارٹیوں کو آمنے سامنے گواہان سمیت ایس او پیز کے تحت بائیومیٹرک کرکے اور تصویری پراسیس مکمل کیا جاتا رہا اس دوران کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا گیا جب متعلقہ تحصیلدار ، سب رجسٹرار جمال ناصر بھٹہ سے معطلی کے بارے موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چند افراد عدالتی حکم امتناعی کے دوران رجسٹریاں پاس کروانا چاہتے تھے انکاری پر میرے خلاف جھوٹی درخواستیں دی گئیں اور مجھے صفائی کا کوئی موقع نہیں دیا گیا بلکہ سنے بغیر معطل کر دیا گیا مقامی سوشل سوسائیٹیز کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کی متعلقہ آفیسر کو فوری آپنی سیٹ پر بحال کیا جائے اور غیر قانونی رجسٹریاں کروانے والے کے خلاف قانونی کاروائی کروائی جائے