قصور
چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈے بھرپور طریقے سے منایا گیا جس میں 14ہزار پودے مختلف قسم کے لگائے گئے
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر بہبود آبادی کرنل (ر) ہاشم ڈوگر، ضلعی کوارڈنیٹر ٹائیگر فورس ندیم ہارون اور ڈپٹی کمشنر منظر جاوید علی کی چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہ درخت کسی بھی ملک کا قابل قدر اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو معاشی اور ماحولیاتی حالت کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں‘مون سون شجرکاری مہم ہمارے ماحول کو آلودگی سے پاک کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور آنیوالی نئی نسلوں کو سر سبز و صاف ستھرا ماحول میسر آئے گا پودے ہماری آنیوالی نسلوں کیلئے قیمتی اثاثہ ہیں،ملک بھر میں ٹائیگر فورس کے تعاون سے شجر کاری مہم کو بھرپور طریقے سے کامیاب بنایا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز چھانگا مانگا جنگل میں ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈےکے موقع پر پودا لگانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر قصور منظر جاوید علی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عابد حسین بھٹی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد کاشف ڈوگر، اسسٹنٹ کمشنرز قصور انعم زید، پتوکی آصف علی ڈوگر، کوٹ رادھاکشن نازیہ موہل،ضلعی کوارڈینیٹر ٹائیگر فورس قصور محمد ندیم ہارون، کوارڈینیٹر زٹائیگر فورس تحصیل قصور مہر محمد شبیر، چونیاں وقاص باقر، پتوکی محمد شکر باری، کوٹ رادھا کشن سید ظہیر الحسن شمسی، چیئر مین ڈسٹرکٹ اوورسیز پاکستانی کمیٹی چوہدری مختار احمد، ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر چوہدری اسرار احمد انجم،ڈی او فارسٹ چھانگا مانگا رانا شاہد تبسم، ٹائیگر فورس کے جوانوں، سرکاری محکموں کے افسران اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ضلعی کوارڈینیٹر ٹائیگر فورس محمد ندیم ہارون نے ٹائیگر فورس کے جوانوں کا شکریہ ادا کیا ٹائیگر فورس کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ان ملازمین کا شکریہ ادا کیا جاتا جن ملازمین نے دن رات محنت کر کے پودے لگائے کیونکہ ٹائیگر فورس نے کوئی ایک پودا نہیں لگایااور کریڈٹ ٹائیگر فورس کودیا گیا ہے۔ٹائیگر فورس کے جوانوں نےٹائیگر فورس کی جیکٹ پہن کر انہوں نے تو ہر پودے کے ساتھ کھڑے ہو کر سلفی بنائی اور سلفیاں بناتے رہے۔ بلکہ اسے سلفی فورس کہا جانا چاہیے۔ تمام تر پودے محکمہ جنگلات کے ملازمین نے لگائے ہیں۔ ہم ڈی ایف او فارسٹ اور ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اتنی محنت کی
Author: غنی محمود قصوری
-

14 ہزار پودے لگائے گئے
-

سردار شریف سوہڈل پر جھوٹا مقدمہ ختم کیا جائے
قصور
پریس کلب چونیاں کا اجلاس ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کےصدرںسردار شریف سوہڈل کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کرنےکی شدید الفاظ میں مذمت جھوٹے مقدمے کے اخراج اور واقعےکی تحقیقات کا مطالبہ اجلاس میں صدر ملک شرافت علی گوہر چیرمین رانا خالد محمود وائس چیرمین سیدعامرتقوی بابر علی بشارت طارق لودھی رانا کامران اشرف محمدمنشاء بھٹی اور پریس کلب چونیاں ملک شرافت گروپ کے تمام ممبران نےشرکت کی ملک شرافت علی گوہر گروپ کے ممبران نے ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے صدر سردار شریف سوہڈل کے خلاف جھوٹےمقدمےکے اندراج پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اس افسوسناک واقعہ پرنیشینل یونین آف جرنلسٹ کے نائب صدر پنجاب محمد منشاءبھٹی اور پریس کلب چونیاں ملک شرفت علی گوہر گروپ نےڈی پی او قصور زاہد نواز مروت آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے درخواست کرتے ھوۓ کہا جھوٹےمقدمےکو فوری خارج کیا جاۓ اور خود ساختہ کہانی بنا کر جھوٹا مقدمہ درج کروا کر سردار شریف سوہڈل کی عزت نفس کو مجروح کرنے والوں کو جلد از جلدگرفتار کیا جاۓواقعہ کی درست اور حقائق پر مبنی تفتیش نہ ھونے پر ملک بھر کی صحافتی احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ھیں ھم سب صحافی برادری سردار شریف سوہڈل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ھیں اور انکی عزت پر آنچ نہیں آنے دیں گے -

قصور میں توہین قرآن کا واقعہ
قصور
گزشتہ رات توہین قرآن کا واقعہ عینی شاہدین کی نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو ،مدعی مقدمہ اور امام مسجد گھر نا ملے
تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات قصور شہر میں بھٹہ چوک کالج روڈ پر واقع جامع مسجد حضوری میں ایک شحض کی طرف سے توہین قرآن کا واقع پیش آیا جس پر آج صبح 7 بجے نمائندہ باغی ٹی وی بھٹہ چوک پہنچا تو مسجد کو تالا لگا ہوا تھا مسجد کے ساتھ والی گلی میں امام صاحب اور مدعی مقدمہ کا گھر ہے پوچھنے پر پتہ چلا کہ امام صاحب گھر پر نہیں اور موبائل وہ پاس نہیں رکھتے گزشتہ رات واقع پر عینی شاہدین نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل مسجد کا مائیک اور سپیکر چوری ہوا تھا جس کی بابت مسجد انتظامیہ اور امام مسجد سخت پریشان تھے اور چور کی کھوج میں تھے بعد نماز مغرب امام مسجد اور کچھ دیگر نمازی مسجد میں موجود تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک شحض مسجد میں بیٹھا ہوا ہے جسے ہم نے چور سمجھ کر دبوچا تو پتہ چلا کہ اس نے اپنے جسم کے ساتھ قرآن مجید کے نسخے باندھ رکھے ہیں اس پر موقع پر
موجود لوگوں نے اس شحض کو مارنا شروع کر دیا شور کی آواز سن کر اہلیان علاقہ اکھٹے ہو گئے لوگوں نے گستاخ قرآن کو مارنا شروع کر دیا گستاخ قرآن سے جب پوچھا گیا کہ تم کون ہو تو اس نے خود کو مسلمان ظاہر کیا اور اپنا پتہ کھڈیاں کے کسی گاؤں کا بتایا اور خود کو مجنون ظاہر کیا
چند نوجوانوں نے اسے جان سے مارنے کی کوشش بھی کی جسے امام مسجد و دیگر لوگوں نے بچا لیا اس کی اطلاع لوگوں نے پولیس کو دی جس پر فوری ایس ایچ او تھانہ صدر اور ایس پی ڈاکٹر عبدالحنان موقع پر پہنچے جنہیں لوگوں نے آگے نا جانے دیا اور بھٹہ چوک کو بند کر دیا مذید کچھ دیر بعد بائی پاس کو بھی بند کر دیا گیا اس بابت انتظامیہ اور شہریوں کے درمیان مذاکرات رات ڈیڑھ بجے طے پائے جس پر بلاک روڈ کھول دیئے گئے
لوگوں کا کہنا ہے کہ گستاخ قرآن کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور اس کا پتہ چلایا جائے کہ وہ مجنون ہے یاں پھر مکر کر رہا ہے اور اسے کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ آگے سے کوئی ایسی جسارت نا کر پائے -

73 سالہ ظلم کی برسی اور بالی ووڈ کی سازشیں !!! از قلم: غنی محمود قصوری
کشمیر کا نام آتے ذہن میں ظلم و ستم کی فلم چلنے لگ جاتی ہے وہ ظلم جو ہندو مشرک نے پچھلے 73 سالوں سے کشمیریوں پر کیا ہے مگر داد شجاعت ہے اس کشمیری قوم کو کہ جو 73 سالوں سے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے
پچھلے سال 5 اگست کو انڈین گورنمنٹ نے کشمیری باشندوں کی آزادی و خودمختاری پر شب و خون مارتے ہوئے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا جس سے پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی کیونکہ یہ آرٹیکل کشمیریوں کو خصوصی حیثیت دیتے ہیں جس کی بدولت ریاست جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والا باشندہ ہی کشمیری کہلوا سکتا ہے ،وادی میں جگہ خرید کر سکونت اختیار کر سکتا ہے اور کشمیری عورت سے شادی کر سکتا ہے یہی آرٹیکل ہندو کیلئے وبال جان تھے سو اس نے اسے ختم کر دیا مگر وہ بھول گیا آرٹیکل کاغذ پر نہیں دلوں میں رقم ہوتے ہیں
اپنی اس سلب آزادی پر کشمیریوں نے احتجاج کیا اور ہندو پر نعرے بازی کیساتھ سنگ بازی بھی کی جسے دیکھتے ہوئے پہلے سے ہی انڈین گورنمنٹ نے وادی میں کرفیو نافذ کرنے کیساتھ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند کر دی اور یوں کشمیری قوم پوری دنیا سے کٹ کر رہ گئی
مذید عالمی وباء کووڈ 19 نے دنیا بھر کی دنیا مقبوضہ وادی میں بھی پنجے جمانے شروع کئے تو بہانے کے متلاشی انڈیا نے 21 اپریل کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا جس سے کشمیری مکمل طور پر گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے اس بہانے غاصب انڈین فوج کو کریک ڈاؤن کے بہانے کشمیریوں کی نسل کشی کا خوب موقع ملا اور وہ ظالم درندے ظلم کی نئی داستان رقم کرتے گئے
چونکہ موبائل و انٹرنیٹ سروس بند رہی اس لئے اس ایک سال کی کل شہادتوں کی تعداد کا تعین مشکل ہے مگر اس ایک سال میں ہندو درندہ صفت فوج نے ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا،ہزاروں کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال کیں اور کروڑوں روپیہ کی املاک نذر آتش کیں
ساتھ ہی موقع پرست چالاک و عیار بنیئے نے انڈیا سے پنڈتوں اور انڈین مذہبی انتہاہ پسند تنظیموں کے کارندے بھی کشمیر میں لا کر بسانا شروع کر دیئے تاکہ دنیا کے سامنے کشمیر کو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ علاقہ ثابت کیا جا سکے
فوج کے ساتھ ان ہندو جنونیوں نے کشمیری عورتوں کی آبرو ریزی کیساتھ کشمیری مسلمانوں کا قتل عام بھی شروع کر دیا جس پر کشمیریوں کیساتھ عالمی دنیا میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی
ظاہری بات ہے اس ساری صورتحال پر کشمیری مجاھدین اور لوگ خاموش تو نہیں رہ سکتے تھے سو سویلین و مجاھدین کشمیر نے اپنی طاقت کے مطابق انڈین فوج کیساتھ ہندو پنڈتوں اور دہشت پسند مسلح ہندو کارندوں کا کریا کرم کرنا شروع کیا جس سے انڈین فوج کیساتھ بہت زیادہ تعداد میں ہندو پنڈت مارے گئے اور جو بچے وہ وادی سے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے اس ساری صورتحال سے پریشان ہندو مشرک نے بھاگتے پنڈتوں کو دوبارہ لاکر بسانے اور اپنی فوج کا مورال بلند کرنے کیلئے ایک بار پھر اپنی فلم انڈسٹری کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا اور اسی ناکام و بدنام
فلمی ہیروؤں نے پھر سے ایک بار فلموں کے ذریعے کشمیر کو فتح کرنے کیساتھ مجاھدین کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنی کی ٹھانی اور ایک نئی فلم ،سرینگر،بنانے کا آغاز کر دیا
ابھی اس فلم کا ایک ٹریلر ہی جاری کیا گیا ہے جس میں کشمیری مجاھدین کو عورتوں کا رسیا اور ہندوؤں پر ظلم کرنے والا دکھایا گیا ہے اور اسی کلپ میں جرآت و بہادری کی مثال خلیفتہ المسلیمین جناب حضرت عمر فاروق کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے خود ساختہ یہ بات کہی گئی ہے کہ بقول حضرت عمر مسلمانوں کیلئے کفار کی عورتیں جائز ہیں اسی لئے مجاھدین کشمیر ہندو عورتوں کو کشمیر سے اٹھاتے ہیں اور ہوس کا نشانہ بناتے ہیں
ہندو مشرک پلید یہ بھول گیا کہ اس سے قبل بھی وہ سینکڑوں فلمیں آزادی کشمیر کی تحریک کو کچلنے اور اپنی پلید بزدل فوج کو ہیرو ثابت کرنے کے لئے بنا چکا ہے مگر نتیجہ ہر بار بے سود ہی رہا ہے جیسے جیسے انڈیا نے فلموں میں اپنی فوج کو بہادر دکھلایا ویسے ہی انڈین فوج میں خودکشیوں کی شرح بڑھ گئی اور مسلح تحریک کو مذید تقویت ملی
دنیا کی ہر بزدلی چاہے وہ دوران معرکہ پتلون میں پیشاب نکلنا ہو یا خود کشی اپنے افسر کو قتل کرنا ہو یا فوج سے بھاگ کر دشمن سے جا ملنا ، اسی ہندو مشرک پلید فوج میں ملے گی
حالات و واقعات گواہ ہیں اس وقت لائن آف کنٹرول پر انڈیا کا کڑا پہرہ ہے اور ہر وقت شدید دو طرفہ بمباری جاری ہے جس سے لائن آف کنٹرول کے آر پار جانا ناممکن ہے مگر پھر بھی کشمیری مجاھدین تحریک آزادی کو اپنی مدد آپ سے زندہ رکھے ہوئے ہیں جو کہ عالمی دنیا کو ایک پیغام ہے کہ جو مرضی ہو جائے یہ تحریک آزادی پایہ تکمیل تک پہنچے گی کیونکہ کشمیری وہ قوم ہے کہ جس نے ایک اذان کو مکمل کرنے کی خاطر 21 جانوں کا نذرانہ دے کر اذان مکمل کی کشمیری ماؤں نے ایک بیٹے کی شہادت کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے بیٹے کو خود بندوق پکڑا کر اندین فوج کے خلاف میدان میں نکالا
یہ تو پھر آزادی کی تحریک ہے کہ جس میں اللہ خود حکم دے رہا قرآن میں کہ
اورتمہیں کیاہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں اوران بے بس مردوں اور عورتوں اوربچوں کے لیے نہیں لڑتے جو کہتے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنادے اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی مددگاربنا دے۔ النساء
یہ ہندو مشرک تحریک آزادی کو اپنے کرنلوں،جرنلوں کے ذریعے کچلنا چاہیں تب بھی ناکام اور اپنے کنجر کنجریوں کے ذریعے فلمیں بنا کر کچلنا چاہیں تب بھی ناکام کیونکہ اللہ تعالی نے ناکامی مسلمانوں کے لئے رکھی ہی نہیں ناکامی تو اس ہندو کا مقدر ہے جو پچھلے 73 سالوں سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی ذلیل و رسوا ہو گیا اور اب اپنی فوج کا مورال اپ کرنے کیلئے فلموں کا سہارا لینے لگا مگر وہ بھول گیا جہاں گولی کام نہیں آئی وہاں ان کی فلموں پر کشمیری قوم لعنت ڈالتی ہے
یہ بنا لیں جتنی بنا سکتے ہیں ان شاءاللہ فتح حق کی ہی ہو گی باطل فنا ہو گا ان شاءاللہ -

طلاقیں دے کر شادیاں کرنے والا درندہ
قصور
بیٹیاں ہوتی ہیں پرائی لیکن بیٹیوں کے نصیب سے ڈر لگتا ہے یہ کہاوت کسی نے ایسے ہی نہیں کہہ دی ظالم شوہر نے چوتھی شادی کے چکر میں بیوی کو مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا
قصور کے نواحی گاؤں کھارا میں ظالم شوہر کی دستان ظلم رقم ہو گئیتفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں کھارا کے رہائشی آصف نے چوتھی شادی کے چکر میں تیسری بیوی کو بھی طلاق دے دی اور مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا اور سامان گھرسے باہر پھینک دیا جبکہ ظالم شوہر آصف نے اپنی بیوی کو بجلی کی تاریں لگائیں آئے روز اپنی بیوی کو گھر سے نکال دیتا معصوم بچے کو اٹھا اٹھا کر زمین پر پھینکتا رہتا تھا
جبکہ معصوم لڑکی کی ورثاء آصف کو دھائیاں دے دے کر روتے رہے مگر ظالم نے ایک نا سنی
ظالم آصف کے ستائے اپنے ہی بیوی بچے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں
لڑکی کے ورثاء کا کہنا ہے کہ ایسے ظالم شخص سے ہمیں کوئی رشتہ نہیں رکھنا پتہ نہیں اب یہ ظالم شخص کس کا گھر اجاڑے گا لہذہ ہیومن رائیٹس نوٹس لیتے ہوئے اس کو کیفر کردار تک پہنچائے کیونکہ اسلام نے چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے مگر بیویوں کیساتھ درندگی کی اجازت نہیں دی -

واپڈا لوڈ پینل میں آتشزدگی پورا شہر اندھیرے میں
قصور
گزشتہ رات کوٹ رادھاکشن گرڈ سٹیشن کے کنٹرول روم میں آگ لگ گئی جس سے شہر بھر کی بجلی بند ہو گئی تاہم خوش قسمتی سے عملہ محفوظ
تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات کوٹ رادھاکشن شہر کے گرڈ اسٹیشن میں اچانک آگ لگ گئی جو کہ اچانک شدت اختیار کر گئی اور بڑھتی ہوئی پورے گرڈ اسٹیشن کی تاروں میں پھیل گئی جس سے مین سپلائی بند ہو گئی آگ اس قدر شدید تھی کہ آسمان پر کالے بادل چھا گئے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا
واپڈا اہلکاران کے مطابق لوڈ پینلز کے آپس میں ملنے سے یہ واقع پیش آیا تاہم اللہ کے فضل سے عملہ محفوظ رہا اور کوئی جانی نقصان نا ہوا اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائیوں میں مصروف ہو گئیں اور آگ پر قابو پا لیا گیا
تاہم آج شام تک بجلی کی بحالی ممکن نہیں کیونکہ لوڈ پینل میں کافی نقصان ہوا ہے جسے درست کیا جا رہا ہے -

گاڑی کھڑی کرنا باعث موت
قصور
پھول نگر میں گاڑی کھڑی کرنا موت کا سبب بن گیا ،4 بچوں کا باپ قتل دوسرا ساتھی زخمی
تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو (پھول نگر) میں ایک شحض کو گھر کے باہر گاڑی کھڑے کرنے پر قتل کر دیا بااثر افراد کی فائرنگ سے نوجوان شبیر موقع پر ہی جانبحق جبکہ دوسرا دوست زخمی ہو گیا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے
جھگڑے کی وجہ یہ بنی کہ 4 بچوں کا باپ متقول شبیر گاڑی کھڑی کررہا تھا کہ ملزم مرزا عمیر نے گاڑی آگے کرنے کا کہا جس پر مقتول نے کہا کہ ابھی کرتا ہوں مگر اسے تاخیر ہو گئی جس پر عمیر نے فائرنگ کردی اور
فائر سیدھا شبیر کے سینے پر لگا جس پر شبیر جانبر نہ ھوسکا اور موقع پر ہی جاں بحق ھوگیا
دوسرے زخمی لقمان کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے
پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے -

دن دیہاڑے واردات
قصور میں واردات کا سلسلہ نا رک سکا
کل تھانہ بی ڈویژن کے علاقے شفیع والا چوک میں موبائل شاپ پر دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات ہو گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں جاری وارداتوں کا سلسلہ نا رک سکا جس پر لوگوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے کل دوپہر کے وقت قصور تھانہ بی ڈویژن کی حدود میں مسلح ڈاکو موبائل شاپ میں داخل ہوئے اور اسلحہ تان کر لوٹنے کی کوشش کی دوکان دار کی مزاحمت اور شور پر ڈاکو ہوائی فائرنگ کرتے ھوئے فرار ھوگئے جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس کو فراہم کر دی گئی ہے -

جھوٹے مقدمات پر وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ
قصور میں وکلاء پر پرچوں کے خلاف آج ضلع بھر کے وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے وکلاء کا ڈی پی او سے پرچے ختم کروانے کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق کل بار ایسوسی ایشن پتوکی میں وکلاء کا متفقہ فیصلہ ہوا کہ آج مورخہ 8/ 8/ 20 کو مکمل ہڑتال ہوگی اور وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے
بار ایسوسی ایشن پتوکی کا اجلاس بار روم پتوکی میں منعقد ہوا جس میں ڈی پی او قصور سے مطالبہ کیا گیا کہ وکلاء پر ناجائز کاٹے گئے پرچے ختم کئے جائیں بصورت دیگر پرچے خارج ہونے تک عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائیگا
اجلاس میں وكلا پر ہونے والی ایف آئی آر پر گفتگو ہوئی اور کہا گیا کہ پورے قصور کی وکلاء برادری متحد ہے اور اپنے مطالبات پورے ہونے تک ہڑتال جاری رکھے گی -

تاریخ ساز گرمی ،حبس و لوڈشیڈنگ
قصور
تاریخی گرمی و حبس لوگوں میں گیسٹرو کی بیماری بڑھ گئی ادویات مہنگی سرکاری ہسپتال میں سہولیات کا فقدان پاکستانی تاریخ کی ںدترین لوڈشیڈنگ، لوگ حکمرانوں کو بد دعائیں دینے لگے
تفصیلات کے مطابق اس سال پاکستانی تاریخ کی سب سے زیادہ گرمی و حبس ریکارڈ کی گئی ہے محکمہ موسمیات کے مطابق آج قصور کا درجہ حرارت کم سے کم 32 اور زیادہ سے زیادہ 44 ہے
عید کے دوسرے دن سے ہر گزرتے دن کیساتھ حبس و گرمی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے لوگوں میں گیسٹرو کی وباء پھیلنے لگی ہے
سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے جس سے لوگ مجبور ہو کر پرائیویٹ ہسپتالوں و کلینکس کا رخ کر رہے ہیں ادویات مہنگی ہونے کے باعث لوگوں کو علاج کروانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اوپر سے تاریخ ساز لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے خاص کر دیہی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کی انتہاہ کر دی گئی ہے جس سے مہنگائی و غربت کے مارے لوگ موجودہ حکمرانوں کو سرعام بد دعائیں دے رہے ہیں