یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون میڈیا ہوتا ہے جبکہ سوشل میڈیا اس کی شاخیں ستون جتنا زیادہ اچھا اور مضبوط ہوگا عمارت اتنی کی مضبوط ہو گی بصورت دیگر وہ گرنے لگے گی
دنیا کے ہر میڈیا کا اندازہ اس کی آزادی سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کتنا جانبدار اور سچا ہے اگر میڈیا آزاد ہوگا تو وہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہے گا اگر دنیا کے تمام میڈیا کا مشاہدہ کیا جائے تو صف اول کا بکاؤ اور بے غیرت میڈیا انڈیا کا ہے کہ جس کا کام انڈین را اور اسرائیلی موساد کے علاوہ دیگر اینٹی پاکستان حکومتوں سے پیسے لے کر کتے کی طرح پاکستان پر بھونکنا ہے مگر جب پروف مانگا جائے تو اس کی حالت اس کتے کی سی ہوتی ہے کہ جسے کوئی آنکھے دکھائے تو وہ دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور تھوڑا آگے جاکر کر پھر بھونکنا شروع ہو جاتا ہے
انڈیا کے چینلز کا کام ہی اینٹی پاکستان ہے پاکستان میں اگر کوئی ذاتی دشمنی کی بناء پر ایک دوسرے کو قتل کر دے تو یہ شور مچانا شروع ہو جاتے ہیں کہ پاکستان میں شورش عروج پر پہنچ چکی اب پاکستان نہیں بچے گا ٹوٹ جائیگا گا
اگر دیکھا جائے تو میڈیا کا کام اپنے باشندوں کی ضروریات کو اجاگر کرنا بھی ہوتا ہے مگر افسوس اس ذلیل انڈین میڈیا پر کہ اس سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار کے باشندے لیٹرین جیسی اس سہولت سے محروم ہیں کہ جو پاکستان میں خانہ بدوشوں کو بھی حاصل ہے ان کی بے شرمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چند دن قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی کہ جس میں ایک انڈین فوجی آفیسر اپنے جوانوں کو لیٹرین بنانے اور پھر اس لیٹرین کے استعمال کا طریقہ سمجھا رہا ہے
ہندو اور اس کے میڈیا کا کام صرف پاکستان کے اندرونی معاملات پر نظر رکھنا ہے رواں 2 جولائی کو کراچی میں ایک مذہبی جماعت کے کارکن و عالم دین مجیب ادریس المعروف شیخ مجیب الرحمٰن زامرانی کو شرپسندوں نے ان کو ان کے ڈرائیور کے ہمراہ گولیاں مار کر قتل کر دیا اس پر انڈین بکاؤ میڈیا نے شور کرنا شروع کر دیا کہ زامرانی کا تعلق جماعت الدعوہ سے تھا اور وہ حافظ سعید کا دست راست ہونے کیساتھ بلوچستان میں دہشتگردوں کی ٹریننگ کا ذمہ دار بھی تھا نیز وہ داعش کیساتھ مل کر معصوم بلوچیوں کو قتل کرتا تھا اگر دیکھا جائے تو انڈین سرکار کی طرح انڈین میڈیا کی بھی زبان کتے والی ہے
آج دن تک انڈین میڈیا شور ڈالتا رہا کہ ذکی الرحمان لکھوی حافظ سعید کا دست راست ہے اور اس کی گورنمنٹ نے ایف اے ٹی ایف کو جماعت الدعوہ کے تمام مرکزی راہنماؤں کے نام بھی دیئے جس پر پاکستانی گورنمنٹ کی طرف سے ان افراد پر مقدمات درج کئے گئے اور حافظ سعید سمیت ان کے دیگر راہنماء سزائیں کاٹ رہے ہیں جبکہ جماعت الدعوہ کے تمام مراکز گورنمنٹ کی تحویل میں ہیں تو ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ بلوچستان میں جماعت الدعوہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور پوری دنیا جماعت الدعوہ کے قائدین سے واقف ہے جبکہ ایک عدم ثبوتوں کی بناء پر انڈین میڈیا نے واویلا شروع کر دیا کہ زامرانی جماعت کا بڑا اہم ہے اور وہ ممبئی حملوں کا ذمہ دار ہے کوئی بھی ذی شعور بندہ انڈیا کی باتوں کو نہیں مانے گا کیونکہ آج دن تک ممبئی حملوں میں زامرانی کا نام نہیں لیا گیا اب اچانک پھر سے ان کو پاگلوں کی طرح خواب آنا شروع ہو گئے
جو باتیں زامرانی کے متعلق سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زامرانی سعودی عرب سے پڑھ کر وطن واپس آ کر اپنے علاقے میں انڈین پے رول پر کام کرنی والی دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے خلاف کام کر رہے تھے وہ امن جرگہ کے اہم رکن تھے اور لوگوں کو بی ایل اے کی اوقات سے آشکار کرکے لوگوں کو وطن کی محبت میں رنگ رہے تھے اسی بدولت بی ایل اے کے درندوں نے ان کو انڈین را کے کہنے پر شہید کیا تاکہ ان کو آسانی ہو مگر وہ یہ بھول گئے کہ یہ نا تو 1971 ہے اور نا ہی بنگلہ دیش آج کا جوان سمجھ چکا ہے کہ وہ اسلام و پاکستان سے وفاداری کرکے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور اپنے وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانا جرآت نہیں بزدلی ہے اسی لئے انڈین گورنمنٹ اپنی را کے ذریعے محب وطن پاکستانیوں کی ٹارگٹ کلنگ کروا رہی ہے
اگر انڈین میڈیا میں غیرت نام کی کوئی چیز ہوتی تو وہ بلوچستان کے مسئلے کو اچھالنے کی بجائے اپنے ملک کے اندر 4 درجن کے قریب علیحدگی کی تحریکوں کو دنیا کے سامنے لاتا جن میں سے سب سے مضبوط تحریک خالصتان اور مظلوم کشمیریوں کی تحریک آزادی ہے مگر یہ خنزیر بکاؤ دلال انڈین میڈیا پیسوں کی خاطر حق اور سچ کو چھپا رہا ہے حالانکہ انڈین سوشل میڈیا پر آئے روز ویڈیو وائرل ہوتی ہیں جن میں مسلمان،سکھ اور عیسائیوں کے علاوہ ہندو ہی اپنے اچھوت ذات ہندوؤں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں مگر افسوس پیسے کے پجاری بکاؤ میڈیا کو پاکستان پر ہی بھونکنا آتا ہے
Author: غنی محمود قصوری
-

دنیا کی سب بڑی جمہوریت اور اس کا بکاؤ میڈیا تحریر :غنی محمود قصوری
-

بی آئی ایس پی سے غریبوں کو کھانے والی
قصور
ضلع قصور میں بھی سرکاری ملازمین کا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد حاصل کرنےانکشاف
تفصیلات کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے سرکاری ملازمین کی مالی امداد حاصل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس پر
ایف آئی اے نے بطور ڈیٹا کلکٹر فارم پر دستخط کرنے والے افسران کو طلب کر لیا ہے
چونیاں کی رہائشی افسر خالدہ حفیظ کو ملنے والا نوٹس میڈیا کے سامنے آ گیا جس میں طلبی نوٹس میں خالدہ حفیظ کو ایف آئی اے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت
کی گئی ہے -

ڈی پی او نے پولیس کی تفتیش کر دی
قصور
فرائض میں غفلت،ناقص تفتیش،کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر 4 پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاستگی جبکہ 26 کو مختلف محکمانہ سزائیں
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور نے خود احتسابی پر عملی کاروائی کرتے ہوئے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ پولیس لائن قصور میں اردل روم کے دوران شوکاز نوٹسز کے فیصلے سناتے ہوئے افسران و اہلکاروں کو مختلف سزائیں دیں انہوں نے کرپشن، فرائض میں غفلت برتنے اورمسلسل غیر حاضری پر دو سب انسپکٹر دوکانسٹیبل کو نوکری سے برخاست کردیا، ناقص تفتیش،کرپشن اور فرائض میں غفلت برتنے پر تین انسپکٹراورچارسب انسپکٹر کو رینک کی ریورشن اور تنخواہ کی کٹوتی کی سزائیں دیں، اسی طرح فرائض میں غفلت برتنے،موثر گشت نہ کرنے،ناقص کارکردگی،ڈیوٹی سے غیر حاضری اور ناقص تفتیش مقدمہ کرنے پر19اہلکاروں کو سروس کی ضبطگی،جرمانوں اورانکریمنٹ سٹاپ سمیت مختلف سزائیں دیں۔ڈی پی اوقصور نے کہا کہ پولیس میں بددیانت، نا اہل اور کام چور اہلکاروں کی کوئی گنجائش نہیں اور جس کسی نے بھی اختیارات سے تجاوز کیایا کوئی خلاف قانون کا م کیا وہ خود کو کسی رعایت کا مستحق نہ سمجھے جبکہ اچھی کارکردگی پر پولیس افسران واہلکاروں کو انعامات سے بھی نوازا جائے گا۔ -

کروڑوں کی لاگت ،عوام پھر بھی محروم
قصور
پتوکی ہلہ بائی پاس پر اوور ہیڈ برج بنے سال گزر گیا مگر کروڑوں روپیہ کی لاگت سے تعمیر ہونے والا پل تاحال لوگوں کے لئے بے سود ،پل کو دونوں جانب سے کانٹے اور جھاڑیاں لگا کر بند کر رکھا ہے
تفصیلات کے مطابق جی ٹی روڈ پتوکی ہلہ بائی پاس پر آئے روز حادثات پیش آتے تھے جنہیں دور کرنے کیلئے گورنمنٹ نے لوگوں کی سہولت کے پیش نطر کروڑوں روپیہ سے پل بنا دیا مگر پل بننے کے باوجود عوام کو سہولت دینے سے قاصر ہے حالانکہ ایک سال سے زائد عرصہ پل بنے بیت گیا مگر پل مکمل ہونے کے باوجود ٹریفک کیلئے کھولا نا جا سکا پل مکمل ہونے کے باوجود دونوں طرف سے جھاڑیاں اور کانٹے لگا کر بند کر دیا گیا ہے جس سے لوگوں کو جی ٹی روڈ سے ہی گزرنا پڑتا ہے اور اب تک اسی بائی پاس پر لوگوں کے پیدل گزرنے سے کئی حادثات واقع ہو چکے ہیں
لوگوں نے حکام بالا سے نوٹس لے کر اس پل کو جلد سے جلد عوامی گزر گاہ کیلئے کارگر بنانے کی درخواست کی ہے -

قربانی کے جانور چیر پھاڑ دیئے
قصور
آوارہ کتوں نے لاکھوں روپے قربابی کے درجنوں بکرے چیر پھاڑ دیئے تمام بکرے ہلاک علاقہ بھر میں شدید خوف و ہراس اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر سے سدباب کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق تلونڈی کے معروف زمیندار محسن تہاڑیہ اور وحید تہاڑیہ نے قربانے کے بکرے پال رکھے تھے جنہیں رات کی تاریکی میں آوارہ کتوں نے چیر پھاڑ ڈالا اور تمام بکرے ہلاک ہو گئے یاد رہے آوارہ کتوں کی تلفی کے اختیارات یونین کونسلز و میونسپل کمیٹیز سطح پر منتقل ہو چکے ہیں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ اگر آوارہ کتے تلف کرتی تو یہ دلخراش واقع پیش نہ آتا علاقہ بھر میں اس واقع کے بعد شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر سے کتوں کے سدباب کا مطالبہ کیا ہے -

جعلی مشروب بنانے والی نے انتہاہ کر دی
قصور
سپیشل برانچ کی نشاندہی پر انتظامیہ کی بڑی کاروائی جعلی بوتلیں بنانے والی فیکٹری پکڑی گئی
تفصیلات کے مطابق کل سپیشل برانچ مصطفیٰ آباد للیانی کی نشاندہی پر انتظامیہ نے جعلی بوتلیں بنانے والے کارخانے پر چھاپہ اور بھاری تعداد میں جعلی مشروب کی بوتلیں اور مشینری قبضہ میں لے لی
نیواں تھہ کے رہائشی محمد حیات نے بوتل بنانے کا غیرقانونی کارخانہ لگا رکھا تھا اور بوتلوں پر مختلف کمپنیوں کے جعلی لیبل لگا کر مشروب تیار کیا جاتا اور یہ مضر صحت مشروب قصور شہر سمیت دیگر علاقوں میں فروخت کیا جا رہا تھا
سپیشل برانچ کی نشاندھی پر نائب تحصیلدار نے ملازمین کے ہمراہ کاروائی کرکے کارخانہ سیل کر دیا اور کام کرنے والوں کو گرفتار کر لیا -

تیز آندھی،شدید برسات
قصور
گزشتہ رات تیز بارش و آندھی سے درخت اکھڑ گئے شام سے ہی بجلی غائب ،شہری پریشان
تفصیلات کے مطابق کل سے مون سون برسات کے آغاز سے ہی قصور میں شام کے وقت تیز آندھی چلی اور ساتھ شدید ترین برسات بھی تھی جس سے کئی مقامات پر درخت گر گئے جس سے راستے بلاک ہو گئے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت راستے صاف کئے جبکہ رات سے ہی بجی تاحال غائب ہے جس سے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں تیز بارش سے شہر کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرتی رہیں جبکہ گاؤں دیہات میں سڑکیں اب بھی جوہڑوں کا منظر پیش کر رہی ہیں سب سے زیادہ ابتر حالت رائیونڈ قصور روڈ کی ہے جہاں سڑک پر بڑے بڑے گڑھوں کی بدولت پانی کھڑا ہے اور لوگوں کی گاڑیاں پانی سے گزرتے ہوئے بند ہو رہی ہیں -

بھارت کی پھر آبی دہشت گردی
قصور
مون سون بارشوں کے باعث بھارت کی آبی جارحیت بھی بڑھنا شروع ہو گئی جس سے دریائے ستلج میں سیلاب کا خدشہ
تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج گنڈہ سنگھ بارڈد قصور میں قبل از وقت پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی ہے جس سے سیلاب آنے کا خدشہ ہے
چندا سنگھ کے قریب دریائے ستلج کا کٹاؤ خطرناک صورتحال اختیار کرگیا اور ایسا انڈیا کی طرف سے پانی چھوڑے جانے پر ہو رہا ہے مسلسل اضافے سے سیلاب کا خدشہ بڑھ گیا ہے جس سے لوگوں کی ہزاروں ایکڑ فصلیں زیر آب آ جائینگی اور اربوں روپیہ کا نقصان ہو گا
تاہم علاقہ مکینوں کی طرف سے ابھی تک کوئی نقل مکانی دیکھنے میں نہیں آئی -

اہم سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار
قصور
کوٹ رادھا کشن سے چھانگا مانگا سڑک کی ابتر حالت لوگوں کا نام نہاد عوامی نمائندوں سے سڑک نئی تعمیر کروانے کی اپیل
تفصیلات کے مطابق کوٹ رادھا کشن سے چھانگا مانگا جانے کے لئے سڑک شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے اور اس مین سڑک پر روزانہ ہزاروں کی تعداد میں چھوٹی بڑی گاڑیاں گزرتی ہیں کیونکہ رائے ونڈ اور لاہور جانے کے لیے بھی عوام کو یہی سڑک میسر ہے جس کی بدولت ہزاروں کی تعداد میں روزانہ سفر کرنے والے مسافروں کو اس مین سڑک سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے
لوگوں نے ڈی سی قصور سے نوٹس لے کر اس سڑک کو جلد سے جلد تعمیر کروانے کا مطالبہ کیا ہے -

دوران جمعہ لوڈشیڈنگ نا کرنے کی اپیل
قصور
جمعہ کے روز 12 سے 3 بجے تک لوڈشیڈنگ نا کی جائے لوگوں کو نماز جمعہ سکون سے پڑھنے دے کر سچے مسلمان حکمران ہونے کا ثبوت دیا جائے
تفصیلات کے مطابق قصور کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سخت گرمی کا موسم ہے جس کے باعث اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث جمعہ کے روز بھی لوڈشیڈنگ رہتی ہے جس سے جمعہ پڑھنے والوں کو سخت پریشانی ہوتی ہے لہذہ گورنمنٹ سہی مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جمعہ کے روز 12 بجے سے دوپہر 3 بجے تک لوڈشیڈنگ نا کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ سخت گرمی میں لوگ آرام سے نماز جمعہ ادا کر سکیں تاہم باقی وقت لوڈشیڈنگ کی جائے کیونکہ نماز جمعہ کا ٹائم دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک ہے