قصور
این ایس ای آر گھر گھر قومی خوشحالی سروے کا آغاز ٹیمیں یونین کونسل کی سطح پر کام کرینگیں
تفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں این ایس ای آر کے تحت گھر گھر جا کر قومی خوشحالی سروے کا آغاز کر دیا گیا ہے ٹیمیں یونین کونسل کی سطح پر گھر گھر جا کر سروے کرینگیں اور گھر کے سربراہ کے کوائف کے علاوہ دیگر افراد کے کوائف جمع کرینگیں جس کا مقصد لوگوں کی ضروریات زندگی کا اعدادوشمار اکھٹا کرنا ہے تاکہ سرکاری منصوبہ جات بناتے وقت معاونت حاصل ہوسکے
Author: غنی محمود قصوری
-

گھر گھر سروے کا آغاز
-

ملتان روڈ پر خطرناک حادثہ
قصور
مانگا منڈی سے بھائی پھیرو جاتے ہوئے کار کو سردار مل مین ملتان روڈ پر حادثہ کار مکمل تباہ تاہم کار سوار بڑے نقصان سے بچ گئے
تفصیلات کے مطابق آج صبح جی ٹی روڈ پر انتہائی شدید حادثہ پیش آیا جس میں کار مکمل تباہ ہو گئی جبکہ کار سوار چاروں شحض جانی نقصان سے بچ گئے ایک بندے کی ہڈی فریکچر ہوئی حادثہ مانگا منڈی سے بھائی پھیرو پھول نگر جاتے ہوئے پیش آیا کار اوور سپیڈ ہونے کے باعث بے قابو ہو کر سڑک سے نیچے کھمبے سے جا ٹکرائی جس سے کھمبا ٹوٹ گیا اور کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی تاہم چاروں کار سواروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور ایک شحض کی ہڈی فریکچر ہوئی چاروں افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے -

ڈی پی او نےعوامی شکایت پر ایک اور اہلکار کو معطل کردیا
قصور
ڈی پی او قصور کا پھولنگر کی پولیس کے حوالے سے دل جیتنے والے قدم لوگوں میں خوشی کی لہر تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت نے لوگوں کے دل جیت لئے جیسے سابقہ ایس ایچ او پھولنگر لطیف گجر کومعطل کر کے چارج شیٹ کیا تھا اسی طرح اب محمد اسلم کو معطل کر کے انکوائری لگوا دی ہے محمد اسلم پر لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور رشوت خوری کے الزامات ہیں
لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے محمکہ پولیس پر عوام کا اعتماد بڑھے گا -

کم۔پیمانے،مرضی کے ریٹ
قصور
تحصیل انتظامیہ چونیاں نے پٹرول پمپوں کی چیکنگ کی
تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر نے پیٹرول کی مصنوعی قلت اور فی لیٹر کم پیمانہ ہونے پر کاروائی کی جس میں مجموعی طور پر 30 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کئے گئے جبکہ 20 پٹرول پمپوں کی چیکنگ کو یقینی بنایا جس میں سے ایک پیٹرول پمپ پر پیٹرول فروخت نہیں کیا جا رہا تھا اس پر اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر نے فوری کاروائی کرتے ہوئے پیٹرول کی سپلائی کو بحال کروایا اور ساتھ 10 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا
ایک اور پمپ کو فی لیٹر کم پیمانہ ہونے اور پیٹرول کو 81 روپے میں فروخت کرنے پر سیل کر کے مینجر کوگرفتار کروایا کر
20 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا
اے سی چونیاں کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی مصنوعی قلت پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی ہم ڈپٹی کمشنر قصو منظر علی جاوید کی ہدایت پر کاروائی کر رہے ہیں -

انگریزی سے یاری،اردو سے بیزاری
قصور
محمکہ تعلیم کا انگریزی سے یارانہ بچوں کو مہنگا پڑ گیا چھٹی کلاس کی ریاضی و سائنس انگلش میں پرنٹ کر دی بچوں کے پوچھنے پر کہا اردص میڈیم خود بازار سے خریدیں
تفصیلات کے مطابق قصور کے سرکاری سکولوں میں کم و بیش فروری میں آئی کتب بچوں میں تین چار دن سے اب تقسیم کی جا رہی ہیں اس میں بھی محکمہ تعلیم نے انگریز سے یاری کا ثبوت دیا چھٹی کلاس کی سائنس و ریاضی انگلش میڈیم کر دیں جبکہ باقی کتب اردو میڈیم ہی ہیں اس بابت بچوں نے جب اساتذہ سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو اردو میڈیم ریاضی و سائنس بازار سے خود خریدنی پڑے گی
جبکہ والدین مہنگائی،مسلسل لاک ڈاؤن اور کاروبار کی بدولت پہلے ہی سخت پریشان ہیں اوپر سے بچوں کی کتابیں خریدنے کا مسئلہ مگر اس کے علاوہ جو کتابیں انگلش میڈیم چھپ کر آ چکی ہیں وہ بچوں کو کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گی کیونکہ سکولوں میں اردو میڈیم نغاب پڑھایا جاتا ہے ان کتب کی مد میں گورنمنٹ کا کروڑوں روپیہ بیکار گیا اس کا نوٹس کون لے گا؟
والدین نے وزیراعظم،وزیراعلی پنجاب اور وزیر تعلیم سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے -

آٹا اور پیٹرول نایاب شہری سخت پریشان
قصور
پھول نگر میں آٹا اور پیٹرول نایاب ہو گیا شہری پریشانتفصیلات کے مطابق پھول نگر شہر اور قرب وجوار میں پٹرول پمپس پر پٹرول کی قلت تاحال برقرار ہے چند پٹرول پمپ صارف کی مرضی کے مطابق پٹرول مہیا کررہے ہیں جبکہ بیشتر پٹرول پمپس موٹرسائیکل سواروں کو فی کس 80 سے 100 روپے اور کار سواروں کو 500 سے 1000 روپے فی گاڑی پٹرول مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ مقررہ حکومتی نرخوں سے زائد رقم بھی وصول کررہے ہیں اسی طرح آٹا بھی تاحال مارکیٹ سے غائب ہے دوکانداروں نے انتظامیہ کے چھاپوں جرمانوں اور مقدمات کے اندراج کے خوف سے آٹا بیچنا ہی چھوڑ دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ساڑھے نو سو روپے تھیلا خرید کر 820 روپے میں کیونکر بیچا جا سکتا ہے جبکہ فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز 1800روپے فی من میں بھی گندم دستیاب نہیں تھی اس بھاو گندم خرید کر پراسیس کرنے کے بعد حکومتی نرخوں پر مارکیٹ میں فراہم کرنا کسی صورت ممکن ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ بیشتر ملیں نقصان کی وجہ سے بند پڑی ہیں دوکاندار بیچاروں کا تو کوئی قصور ہی نہیں گندم کے موجودہ نرخون پر دوکاندار کسی صورت 1000 روپے سے کم 20 کلو کا تھیلہ فروخت نہیں کرسکتا جبکہ حکومت کی طرف سے 20 کلو تھیلے کی قیمت 820 روپے مقرر کی گئی ہے انتظامی اہلکار دوکانداروں کو سرکاری نرخوں پر آٹا بیچنے پر مجبور کرتے ہیں حکم عدولی پر انھیں بھاری جرمانوں سمیت مقدمات اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس بناء پر دوکانداروں کی اکثریٹ آٹا ہی نہیں منگوا رہی جس پر لوگ چکیوں سے چکی مالکان کے من مانے نرخوں پر آٹا خریدنے پر مجبور ہیں
-

دن کے آغاز پر واردات
قصور
پتوکی میں بڑھتی کوئی وارداتوں سے عوام کا جینا محال ہو گیا جبکہ انتظامیہ اور پولیس بے بس
تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی پتوکی کے علاقہ میں صبح پانچ بجے نجی چینل کے نمائندہ سرائے مغل رانا وسیم احمد کے بھائی ماسٹر کلیم کو کالونی گلشن دوست محمد کے پاس تین ڈاکوئوں نے گن پوائنٹ پر اس وقت لوٹ لیا جب وہ نعمت چوک سے ضروری کام کے لئے پتوکی بازار آرہا تھا ڈاکو تیس ہزار روپیہ ،موبائل فون اور موٹر سائیکل 125 نمبری LEA3049A2017 رنگ کالا چھین کر فرار ہوگئے روز بروز کی بڑھتی وارتوں نے اہلیان علاقہ کا جینا محال کر دیا ہے ایس ایچ او سٹی پتوکی نصراللہ بھٹی کے لیے ڈاکوئوں کی جانب سے کھلا چیلنج ہے کہ سورج نمودار ہوتے ہی واردات کا آغاز کر دیا گیا ہے روک سکو تو روک لو -

اکیلی جنت ہی نہیں دروازے کا بھی راضی ہونا لازم ہے!!! تحریر :غنی محمود قصوری
اللہ رب العزت نے یہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت بنائی جس میں ان گنت مخلوق تخلیق کی اور اس ساری مخلوق میں سے اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بنایا
انسان کا دنیا میں آنے کا مقصد ایک اللہ کی بندگی ہے اور اس خالق مالک رازق نے جو حکم دے دیئے وہ ماننا ہم پر فرض ہیں
اللہ تعالی نے ہمیں ایک مرد اور ایک عورت سے دنیا میں پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے علاوہ پرندوں،چرندوں،درندوں غرضیکہ ہر مخلوق کے جوڑے بنائے اور ہمارے دنیا میں آنے کا سبب بھی یہی جوڑے یعنی ہمارے ماں باپ ہیں
اللہ تعالی نے ایک خاص نظام کے تحت ایک نطفے سے ماہ کے رحم میں بچے کی پرورش کی اور اس نطفے کا ذریعہ والد کو بنایا اس کے بعد بچے کی ماہ کے پیٹ میں پرورش ہوئی اور پھر نو ماہ بعد دنیا میں آنے کے بعد اس کے کھانے کا انتظام بھی اسی ماں کی چھاتی سے کیا اور اسی ماں کی چھاتی کو بچے کی پرورش کرنے کیلئے دودھ کا ذریعہ بنایا اور اس ماں کے کھانے کا اہتمام والد کے ذمے لگایا یوں ماں اور باپ دونوں بچے کی پرورش میں برابر کے شراکت دار ہیں اسی لئے اللہ رب العزت نے جہاں اپنی بندگی ،عبادت کا حکم دیا وہیں والدین کیساتھ حسن و سلوک کا بھی حکم دیا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں وصیت کی کہ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو سال ہے ،کہ تو میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کر اور تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔۔سورہ لقمان آیت 34
یہ آیت ہم پر واضع کرتی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کا حکم دیا تو وہی والدین کے دکھ درد کا احساس دلاتے ہوئے ان کی شکر گزاری کا بھی حکم دیا اور کہا کہ ان پر احسان کرو کیونکہ تیری ماں نے دوران حمل ہزار ہا تکلیفیں برداشت کیں تیرے والد نے تیری والدہ کیلئے روٹی کپڑے کے علاوہ ادویات کا بندوست کیا تاکہ ماں کے پیٹ میں تو خوراک حاصل کر سکے اور دوران حمل لاکھ پرہیز کرکے تجھے تیری ماں نے جنم دیا اور دنیا میں آتے ہی تجھے ماں کی چھاتی سے دودھ کی صورت میں خوراک پہنچائی اور اس خوراک پہنچانے والی ماں کو تیرے والد نے روٹی کھلائی اچھے سے اچھا پھل کھلایا تاکہ وہ یہ چیزیں کھائے اور اپنے دودھ سے ان چیزوں کی طاقت تیرے جسم میں منتقل کرسکے
اور اب تو بڑا ہونا شروع ہو گیا تیرے والد نے تیری فرمائشیں پوری کرنا شروع کر دیں تجھے پڑھایا لکھایا بڑا آدمی بنایا اور تیری شادی کر دی اور پھر تجھ سے بنی نوع انسان کی پرورش کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اب وقت آ گیا کہ تجھے احساس ہونے لگا کہ تیری بیوی جسطرح دوران حمل تکلیف سے رہی اسی طرح تیری ماں بھی تکلیف سے تھی جسطرح تو اپنی بیوی کو ڈاکٹر کے پاس چیک کروانے لیجاتا ہے کہ تیرا بچہ مادر شکم میں تندرست رہے بلکل اسی طرح تیرا والد بھی تیری والدہ کو ڈاکٹر سے چیک کرواتا رہا اسے دوائی کیساتھ دودھ ،پھل لاکر دیتا رہا کہ میرے بچے کی پرورش اچھی ہو اس کیلئے جیسے تو محنت مزدوری کرتا ہے ویسے ہی تیرا والد تیری خاطر بغیر دن رات کی تمیز کئے محنت کرتا رہا اور تجھے اس قابل بنایا
یقیناً بچے کی پرورش ماں اور باپ دونوں پر فرض ہے اسی لئے
ماں کی گود کو بچے کی پہلے درسگاہ اور جنت ماں کے قدموں تلے بتائی گئی اور اس جنت کا دروازہ باپ کو قرار دیا گیا ہے
سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ
وہ تمہارے پاس بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نا کہو اور نا انہیں جھڑکو بلکہ ان کے ساتھ عزت سے بات کرو اور عجز و نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو
اللہ تعالیٰ نے والدین کی خدمت کا خاص حکم دیا تاکہ جیسے بچپن میں انہوں نے تمہاری پرورش کی اسی طرح تم بھی بڑھاپے میں ان کو سکون و راحت پہنچاؤ
ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟آپ کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو وہ والدین اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہیں اور جو بھلائی تم کرتے ہو یقیناً اللہ تعالی اس کو خوب جاننے والا ہے ۔۔سورہ البقرہ آیت 215
اس آیت میں ہم غور کریں تو اللہ تعالی نے ہمیں مال کو بھلائی کی خاطر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس حکم میں سب سے پہلے نام والدین کا لیا ہے اس کے بعد پھر رشتہ دار مساکین و یتیم وغیرہ ہیں یعنی بھلائی کرنے میں بھی سب سے پہلے حقدار والدین ہی ٹھہرے ہیں باقی سب بعد میں
مذید احادیث رسول کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ اگر والدین تمہاری ساری دولت یک مشت لے لیں تو یہ ان کا حق ہے تم ان کو برا بھلا نہیں کہہ سکتے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کے حقوق پر بہت زور دیا اپنے والدین تو اپنے کسی کے والدین کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے
رسول اللہ فرماتے ہیں یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شحض اپنے والدین پر لعنت بیجھے اس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ کوئی اپنے والدین پہ لعنت کیسے بیجھے گا؟ تو نبی ذیشان نے فرمایا وہ شحض دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا ۔۔صحیح بخاری 5973
یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی کسی کے ماں باپ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا کیونکہ اپنے ماں باپ کے بدلے وہ اس کہنے والے کے ماں باپ کو برا بھلا کہا گے اور کسی کے والدین کو برا بھلا کہنے والے کو اپنے والدین کو برا بھلا کہنے کے مترادف قرار دیا ہے
آخرت میں جنت حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالی کے ماں باپ کا بھی راضی ہونا لازمی ہے کیونکہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے اور باپ اس جنت کا دروازہ اب جنت میں جانے کیلئے جنت والے یعنی ماں کا راضی ہونا لازمی ہے اور جب جنت یعنی ماں راضی ہو گئی تو پھر اس داخلے کیلئے دروازے کا کھلنا لازمی ہے اور جنت کا دروازہ باپ ہے اور دروازہ تبھی کھلتا ہے جب آنے والے پر کوئی ناراضی نا ہو
تو اگر جنت حاصل کرنی ہے تو اللہ رب العزت کو راضی کرنے کے بعد بندوں میں سے سب سے پہلے ماں باپ کا راضی ہونا لازم ہے پھر اس کے بعد دوسروں کے معاملات ہیں
اللہ تعالی ہمیں اپنی جنت اور اس کے دروازے کی خدمت کرکے انہیں راضی کرنے کی توفیق عطا فرمائے جنہوں نے لاکھوں دکھ درد سہتے ہوئے ہمیں اللہ تعالی کے بعد پالا پوسا پڑھایا لکھایا اور اس قابل کر دیا کہ ہم دنیا میں عیش و عشرت حاصل کر سکیں
جن کے ماں باپ حیات ہیں اللہ تعالی ان کی اولادوں کو انکی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا دے اور جن کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو چکے ان کی مغفرت فرمائے کیونکہ اسلام و توحید کے بعد یہ سب سے قیمتی اثاثہ ہیں
آمین -

قصور کا فوجی جوان وطن پر قربان
قصور چونیاں کے نواحی گاؤں کندووال کا رہائشی عبد الرسول آج بارڈر پر بھارتی فوج سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید
تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے نواحی گاؤں کندووال کا رہائشی فوجی جوان عبد الرسول آج رات دشمن سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا
ضلع قصور کے فوجی جوانوں و افسران کی دشمن سے لڑتے ہوئے کل تعداد 89 ہو گئی اس سے قبل ضلع قصور سے تعلق رکھنے والے 88 جوان و افسران اپنی جانوں کا نذرانہ ارض پاک پاکستان کی حفاظت کرتے ہوئے پیش کر چکے ہیں
کندووال میں شہید کے گھر لوگوں کی آمد
شہید کا جسد خاکی پورے فوجی اعزاز کیساتھ ان کے آبائی گاؤں کندووال چونیاں لایا جائے گا اور نمازہ جنازہ کے بعد فوجی اعزاز کیساتھ تدفین کی جائے گی -

دن دیہاڑے واردات
قصور میں وارداتیں زور پکڑ گئیں پولیس بے بس لوگ پریشان
تفصیلات کے مطابق قصور کے معروف صحافی خالد محمود گجر کے بھاٸی پاک فوڈذ کمپنی لاہور ڈسٹری بیوٹر طارق محمود کیساتھ شیخ عماد گاٶں سے براستہ سولنگ ٹولو والا گاٶں پر سہ پہر 3 بجے کل جا رہے تھے کہ ان کیساتھ ڈکیتی کی واردات ہو گئی جس میں 6 نامعلوم نقاب پوش ڈاکو جو کہ دو بغیر نمبری موٹر ساٸیکلوں ہنڈا 125 اور موٹر سائیکل 70 سی سی پر سوار تھے انہوں نے بیچ راستے دن دیہاڑے گن پواٸنٹ پر مبلغ 38000 ہزار روپے اور دو عدد موباٸل چھین لئے اور اسلحہ لہراتے ہوٸے فرار ہو گٸے 15 پر کال کرنے پر تھانہ روشن بھیلہ ایس ایچ او آصف خاں بمعہ ملازمین نے موقعہ واردات پر پہنچ کر نامعلوم ڈاکوٶں کے خلاف کے خلاف مقدمہ درج کر لیا
تاہم عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ قصور کی سیاسی سماجی صحافتی اور تاجر برادری کا شہر و گرد و نواح میں بڑھتی ہوٸی ڈکیتی کی وارداتوں پر ڈی پی او قصور و آر پی او شیخوپورہ ریجن سے سخت نوٹس لینے کا مطالبہ ہے