قصور
ڈی ایچ کیو ہسپتال پر قبضہ مافیا کا راج ،ایاے لگتا ہے جیسے ہسپتال ٹھیکے پر دے دیا گیا ہو درجہ چہارم کا ملازم ایم ایس سے بھی اوپر
تفصیلات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کی ڈائلیسز واڑد درجہ چہارم کے ملازم عبدالقدیر عرف گڈو وارڈ سرونٹ کے رحم و کرم پر ہے گڈو نامی وارڈ سرونٹ مریضوں کے ڈائیلیسز کرتا ہے جسے اکثر لوگوں نے بہت واضح ہے جبکہ ڈاکٹر اور نرسیں ڈیوٹی پر ہی نہیں آتے گڈو جب سے بھرتی ہوا ہے اس کی ڈیوٹی بھی اسی وارڈ میں ہے لوگوں نے متعدد مرتبہ شکایات بھی کی ہیں مگر گڈو اوباش خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے افسران کو ڈرا دھمکا دیتا ہے جس سے لوگوں کا کافی نقصان ہو رہا ہے
لوگوں نے وزیر صحت اور سی او ہیلتھ قصور سے نوٹس لے کر کاروائی کی اپیل کی ہے
Author: غنی محمود قصوری
-

ہسپتال ٹھیکے پر،لوگوں کی جان پر بن گئی
-

سستا ہونے پر غائب،مہنگا ہونے پر وافر
قصور
پیٹرول پمپوں سے پیٹرول غائب ہوئے تین دن ہو گئے شہری پریشان پیٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ سپلائی نہیں مل رہی لوگوں کے مطابق پیٹرول سستا ہونے پر ہر ماہ ایسا ہی ہوتا ہے
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں آج تین دنوں سے پیٹرول نہیں مل رہا پورے قصور شہر میں چند ایک پیٹرول پمپوں سے پیٹرول مل رہا ہے باقی پر دستیاب نہیں اس بابت پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی سپلائی نہیں مل رہی جبکہ دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ جب پندراں پندراں روپیہ فی لیٹر پیٹرول مہنگا ہونا ہوتا تھا تب یہ لوگ ہزاروں لیٹر پہلے سے خرید کر جمع کر لیتے تھے اب جب سے پیٹرول سستا ہونا شروع ہوا ہے تب سے پیٹرول غائب ہونا شروع ہو گیا ہے جو کہ سراسر پیٹرول پمپ مالکان کی بے ایمانی اور خوف الہٰی کا نا ہونا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ پمپ مالکان نے جان بوجھ کر پہلے پیٹرول نہیں منگوایا تھا کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ قیمتیں کم ہونی ہیں مگر جب پیٹرول کی قیمتیں زیادہ ہونی ہوتی تھیں تب یہ لوگ لاکھوں لیٹر پہلے سے لے کر ذخیرہ کر لیتے تھے لہذہ اوگرا اور وزیراعظم ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس کینسل کرے اور ساتھ جرمانے بھی -

ریجنل پولیس آفیسر کا اچانک دورہ قصور ڈی پی او سے میٹنگ
قصور
آر پی او شیخوپورہ ریجن شاہد جاوید نے ضلع قصور کا دورہ کیا اور ڈی پی او کیساتھ میٹنگ بھی کی اس کے علاوہ
آر پی او کا تھانہ سٹی پتوکی اور صدر پتوکی کا اچانک دورہ
کرائم امن و امان اور پولیس لائن، برانچز کےتمام دفاتر کے ریکارڈ کا جائزہ لیا
قصور ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ شاہدجاوید نے ضلع قصور کا دورہ کیا آر پی او شیخوپورہ ریجن شاہد جاوید نے ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت سے میٹنگ کی کرائم کے حوالے سے اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور میٹنگ میں کئی اہم مقدمات کو زیر بحث لایا گیا علاوہ ازیں آر پی او شیخوپورہ ریجن شاہد جاوید نے ڈی پی او آفس قصور پولیس لائن قصور اور دفاتر کی تمام برانچز کے ریکارڈ کا جائزہ لیا تمام برانچز کے انچارجز نے آر پی او شیخوپورہ ریجن کو اپنے اپنے ریکارڈ کے متعلق بریف کیاجبکہ ستائیس تاریخ کو ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ شاہدجاوید نےتھانہ سٹی پتوکی اور صدر پتوکی کا اچانک دورہ کیا ایس ڈی پی او اور ایس ایچ اوز سے کرائم میٹنگ کی مجرمان اشتہاری کی گرفتاری اور سگنین نوعیت کے زیر تفتیش مقدمات کو حقائق کی روشنی میں یکسو کرنے کی ہدایت کی -

تھانہ محرر کی بدمعاشی بزرگ کو بھی نا بخشا
قصور
تھانہ سٹی پتوکی کا محرر جلاد بن گیا سٹی تھانہ پتوکی کے محرر عباس نے دیگر ملازمین کے ساتھ بوڑھے زمیندار پر تشدد کر کے لہو لہان کر دیا
تفصیلات کے مطابق راجوال ضلع اوکاڑہ کے رہائشی معروف زمیندار چوہدری محمد انور کے ہاں وقار اور دیگر ملازمین کام کرتے تھے وقار کی بہن کو ندیم، انور اور سفیان وغیرہ اغواء کر کے لے گئے تھے اور زمیندار چوہدری انور کا دو لاکھ روپے بھی قرض دینے تھے چوہدری انور مدعی مقدمہ کو لے کر ملزمان کی تلاش میں پتوکی پہنچے ملزمان سے مغویہ اور دو لاکھ روپے کا تقاضا کیا جس پر ملزمان تھانہ سٹی پتوکی کے محرر عباس سے ساز باز ہو کر زمیندار چوہدری انور اور مغویہ کے مدعی مقدمہ وقار کو سٹی تھانہ پتوکی میں بند کروا دیا راشی محرر عباس نے دیگر ملازمین کے ہمراہ بوڑھے زمیندار پر شدید تشدد کیا جس پر زمیندار کے چہرے اور جسم کے دیگر حصوں پر چوٹیں آئیں اور وہ لہو لہان ہو گیا زمیندار چوہدری انور اس ٹائم تھانہ سٹی پتوکی کی حوالات میں زخمی حالت بند ہے چوہدری انور نے وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے -

واپڈا ملازم بینک کا کام کرنے لگا
قصور
واپڈا ملازم خود بینک بن کرلوگوں سے پیسے اکٹھے کر کے ہڑپ کرنے لگے لوگ ذلیل و خوار تفصیلات کے مطابق قصور سب ڈویژن بہادر پورہ کا وقاص نامی اہلکار لوگوں سے پیسے بٹورنے میں مصروف ہے لوگوں اور محکمہ کو ٹیکہ لگا کر جیبیں بھر رہا ہے لوگوں کو بلیک میل کر کے ان سے بل کی رقم وصول کر لیتا ہے اور بعد میں کم رقم بنک میں جمع کروا کر لوگوں کو چکما دینے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح گاؤں نظام پورہ کا رہائشی محمد نواز بھی اس کا شکار ہوا ہے جس سے اس نے میٹر کاٹنے کی دھمکی دے موقع پر بل وصول کر لیا اور کہا کہ میں اس کو بنک میں جمع کروا دو گا اگر تم میری بات نہیں مانو گے تو میں میٹر اتار کے لے جاؤ گا جس پر نواز نے اس کو مجبور ہوکر 14500 بل کی رقم دے دی جس کے بعد اگلے ماہ 4500 روپے ساتھ لگ کر آ گئے اور بل ہیسٹری میں بھی 10000 روپے جمع ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں جبکہ 4500 روپے وقاص نامی اہلکار نے اپنی جیب میں ڈال لیے ہیں جب اس کے نمبر 03004651528 پر رابطہ کر کے اس بارے میں پوچھا تو وہ آگ بگولا ہو گیا اور دھمکیاں دینے لگا متاثرہ شخص نے وزیر پانی و بجلی سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لے کر انصاف فراہم کیا جائے اور اس اہلکار کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے -

سانحات قصور کا اصل قصور وار کون؟ خصوصی رپورٹ
قصور لاہور سے 55 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے اس کا رقبہ 3995 کلومیٹر اور آبادی تقریبا 32 لاکھ ہے 2015 سے پہلے تک قصور پاکستان کا ایک انتہائی پر امن ترین شہر تھا
ضلع قصور کے قبرستانوں میں سینکڑوں شہداء پاک آرمی و شہداء پولیس کی قبریں موجود ہیں جو کہ اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ یہاں کے باشندے ار ض وطن اور اسلام کی خاطر جان دینے سے نہیں ڈرتے پاکستان کے نامور اور جید علماء کرام کی بہت بڑی تعداد بھی قصور سے ہی ہے اس کے باسیوں کو شرف حاصل ہے کہ پاک انڈیا جنگوں میں پاک آرمی کیساتھ مل کر انڈیا کے کھیم کرن شہر سے مال غنیمت حاصل کیا اور تحریک آزادی کے مجاھد شاہ اسماعیل شہید کی معاونت کیلئے قصور کے مجاھدین کا دستہ بھی ان کیساتھ محاذ حق و باطل پر ڈٹا ہوا تھا
اس شہر میں آج دن تک کوئی بم و خودکش دھماکہ اور تخریب کاری نہیں ہوئی جس کا سہرا قصور پولیس،ستلج رینجرز،پاک آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سر ہے حالانکہ یہ شہر دشمن مُلک انڈیا کے بارڈر کے بلکل قریب واقع ہے مگر پھر بفضل تعالی اور اور ان اداروں کی محنت سے امن و امان قائم ہے
مشہور صوفی بزرگ بلہے شاہ کی نگری میں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں جو کہ دربار پر حاضری کے بعد گنڈہ سنگھ بارڈر قصور پر پریڈ بھی دیکھتے ہیں اس پرامن شہر کو اچانک 12 اگست 2015 میں ایک دم پوری دنیا میں شدید بدنامی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سانحہ حسین خانوالا بنا جس میں 17 ملزمان کی طرف سے 200 سے زائد کم سن بچوں کیساتھ جنسی بدفعلی کے بعد ان کی پورن گرافی بنا کر اربوں روپیہ کمایا گیا اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئے اور ملزمان کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کیا مگر بد قسمتی سے چند پولیس و با اثر افراد کی جانب سے بیشتر بچوں کے والدین کو ڈرا دھمکا کر کیس واپس لینے پر مجبور کر دیا گیا جس سے کیس کمزور ہو گیا جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے 10 ملزمان بری ہوئے پھر مذید 4 اب صرف 3 ملزمان عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں
4 جنوری 2018 کو قصور شہر سے سات سالہ ننھی زینب گم ہوئی جس کے والدین ادائیگی عمرہ کیلئے گئے ہوئے تھے 9 جنوری کو معصوم زینب کی لاش اس کے گھر کے قریب کچرے کے ڈھیر سے ملی پولیس کی ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا کہ زینب کیساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے جس پر پورے پاکستان اور خاص طور پر قصور میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے ڈی پی او کو تبدیل کرکے زاہد نواز مروت کو ڈی پی او قصور تعینات کیا گیا اور تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیا گیا جس میں 22 جنوری کو زینب کے محلے دار عمران نقشبندی کو تحویل میں لیا گیا جس کا ڈی این اے میچ کر گیا ملزم نے زینب کے قتل کیساتھ مذید 8 بچوں سے یہی قبیح حرکت کا اقرار کیا جس پر پورے ملک سے لوگوں اور ورثاء نے سرعام ملزم کی پھانسی کا مطالبہ کیا 12 فروری کو ملزم پر فرد جرم عائد کر دی گئی اور 15 فروری کو سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کر لیا گیا اسی سال 12 جون کو عدالت نے ملزم کو سزائے موت سنائی مگر سزائے موت عوامی مطالبے کے مطابق نا تھی
جون 2019 میں قصور کی تحصیل چونیاں میں 4 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں جنسی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا جس پر ایک بار پھر لوگوں میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا اور اس شہر کی ایک بار پھر دنیا میں بدنامی ہوئی
مختصراً ملزم سہیل کو گرفتار کر لیا گیا جس نے چاروں بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور انکشاف کیا کے اس کیساتھ بھی بچپن میں جنسی زیادتی ہوتی رہی ہے اس سے قبل یہی ملزم 2011 میں بچے سے جنسی زیادتی کرتے پکڑا گیا تھا جس پر اسے عدالت نے 5 سال کی سزا سنائی تھی مگر وہ ڈیڑھ سال بعد ہی رہا ہو گیا تھا
چند دن قبل عید الفطر کے روز قصور کے نواحی قصبے کھڈیاں خاص میں ایک حاصر سروس پولیس اہلکار نے 18 سالہ حافظ قرآن نوجوان کو اس کے باپ اور بھائی کے سامنے اس لئے گولی مار کر قتل کر دیا کہ متوفی حافظ قرآن سمیع الرحمن ملزم معصوم علی کی جانب سے بدفعلی کرنے پر راضی نا تھا مگر ملزم بدفعلی کرنے پر بضد تھا اس پر ایک بار پھر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا جس پر قصور پولیس نے چند گھنٹوں بعد ہی ملزم معصوم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا
ان سارے واقعات کے تناظر میں دیکھتے ہیں کہ اصل قصور وار کون ہے کہ جس کی بدولت ایک ملزم پکڑا جاتا ہے تو دوسرا ملزم اسی بد عمل کی جرات کرتا ہے
ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں روزانہ 11 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان میں سے 31 فیصد کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے
انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ابتک پاکستان میں 112 جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزا ملی ہے جن میں سے صرف 25 کو سزائے موت،11 کو عمر قید جبکہ باقی دیگر ملزمان کو انتہائی کم سزائیں ہوئی ہیں
پاکستان کی دفعہ 376 اور 377 کے تحت بچوں سے جنسی زیادتی کی کم سے کم سزا 10 سال اور زیادہ سے زیادہ عمر قید ہے سزائے موت جنسی زیادتی کیساتھ موت کی صورت میں ہو گی بصورت دیگر 10 سے 25 سال قید ہی ہے جس کی بدولت مجرم جرآت پاتے ہیں اور اس گھناؤنے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں
پاکستان میں بچوں سے بڑھتی ہوئی جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات میں ہماری عدلیہ بھی قصور وار ہے جو اپنی عدالت کی توہین پر تو فوری ایکشن لیتے ہوئے ملزم کو فوری سزا دیتی ہے جبکہ ویڈیو ثبوت پیش کئے جانے کے باوجود بھی کیس کی سماعت مہینوں بعض مرتبہ سالوں تک چلتی ہے جس سے غریب مدعی بدظن ہو کر پیروی چھوڑ دیتے ہیں
حالانکہ قتل شد بندہ ایک دفعہ مرتا ہے مگر جنسی زیادتی کا شکار ہونے والا بچہ اور اس کے لواحقین پل پل مرتے ہیں مگر پھر بھی مجرم دو چار سالوں میں رہا ہو کر آجاتے ہیں دوسرا کردار پولیس و با اثر افراد کا ہے جو والدین کو ڈرا دھمکا کر کیس واپس لینے پر مجبور کرتے ہیں جس سے جنسی درندگی کے پجاریوں کو مذید ہمت ملتی ہے اس کے علاوہ چائلڈ پورن گرافی مافیا بھی ہے جو کروڑوں روپیہ اس بد عمل سے کما کر لاکھوں بطور رشوت دے کر بچ جاتا ہے
اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں انصاف پیسوں کے علاوہ کم ہی ملتا ہے
ہم مسلمان ہیں اور ہماری بقاء و سلامتی اسلامی نظام میں ہی ہے اسلام میں زانی کی سزا سنگسار اور رجم مقرر گئی ہے جبکہ قتل کے بدلے قتل کی سزا ہے اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی چائلڈ پورن گرافی اور بعد از جنسی زیادتی قتل کو روکا جائے تو ہمیں اللہ کی نافذ کردہ حدود پر عمل کرنا ہوگا اپنے بنائے گئے 10 سالہ سزا کے قانون کو بدلنا ہوگا نیز جاگیرداری نظام کے سامنے ڈٹنا ہو گا کیونکہ یہی ان بے قصوروں کے اصل قصور وار ہیں
اس کے علاوہ سرحد پار سے اس پرامن شہر کے امن کو برباد کروانے کیلئے اندر سے کچھ بے ضمیروں کو خرید کر بچوں سے جنسی زیادتی کروا کر اس شہر کے امن کو برباد کروانے کا امکان بھی ہو سکتا ہے -

روڈ لوگوں کیلئے عذاب
قصور
چونیاں روڈ بائی پاس گہلن روڈ عرصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ شکار
جو کہ انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے تفصیلات کے مطابق چونیاں روڈ بائی پاس گہلن عتصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کے باعث مقامی لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہونے لگا
بارش کی بدولت پانی سڑک پر کھڑا رہتا ہے جس کی وجہ سے روڈ ٹوٹ پھوٹ شکار ہے
علاقہ مکینوں نے اے سی چونیاں عدنان بدر اور ڈی سی قصور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے -

سیمنٹ کا بحران,من مانے ریٹ
قصور
قصور شہر اور گردونواح میں سیمنٹ نایاب لوگ پریشان ڈیلروں کیمطابق سپلائی نہیں ملی
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں سیمنٹ نایاب ہو گیا ہے چھوٹے دکانداروں کے پاس سیمنٹ بلکل بھی نہیں جبکہ بڑے دکاندار اپنی مرضی کے نرخوں پر فروخت کر رہے ہیں اس بابت جب دکانداروں سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کلر کہار سیمنٹ فیکٹری سے سپلائی نہیں ملی جس کے باعث سیمنٹ کم پڑ گیا ہے ایک دو روز میں سپلائی مل جائے گی کیونکہ فیکٹری ہر ضلع کو کوٹہ کے لحاظ سے سپلائی فراہم کرتی ہے ضلع قصور میں لاک ڈاؤن میں نرمی سے اچانک کنسٹرکشن کا کام تیز ہو گیا ہے جس کے باعث سیمنٹ کا عارضی بحران بن گیا ہے
جبکہ دوسری جانب گاہکوں کا کہنا ہے سیمنٹ بجری سریا کے ریٹ دکانداروں کی مرضی کے ہیں ان کے پاس کوئی ریٹ لسٹ نہیں ہوتی پوچھنے پر کہتے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے ہمیں کوئی ریٹ لسٹ مہیا نہیں کی جاتی اس لئے ہر کوئی اپنی مرضی پر اپنی چیزیں فروخت کرتا ہے سیمنٹ کی بوری کی قیمت 510 سے 550 اور سریا 115 سے 130 روپیہ فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے لہذہ عام ضروریات زندگی کی اشیاء کی طرح سیمنٹ ،سریا اور بجری کے ریٹ بھی مقرر کرکے انہیں ریٹ لسٹیں لگانے کا پابند بنایا جائے تاکہ لوگ اصل قیمت پر چیزیں حاصل کر سکیں
شہریوں نے اسسٹنٹ کمشنر قصور انعم زید اور ڈی سی قصور منظر علی سے اپیل کی ہے کہ نوٹس لے کر سیمنٹ سریا کے دکانداروں کو ریٹ لسٹ مہیا کرکے ان کیمطابق فروخت کرنے کا پابند بنایا جائے -

تاجروں میں خوف کی فضا
قصور
نیابازار مقامی تاجر کی شاپ پر فائرنگ پولیس تاحال ملزم گرفتار نہ کرسکی جس عام شہریوں سمیت تاجر خوف کا شکار ہیں
ملزم کی گرفتاری کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں ایس ایچ او،وحید عارف
تفصیلات کے مطابق سرور نامی تاجر کی نیا بازار قصور میں جوتے فروخت کرنے کی دکان ہے فائرنگ کا یہ واقعہ عید کے دوسرے دن صبح فجر کے وقت ٹائم تقریبا چار بج کر کچھ منٹ پر پیش آیا ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نامعلوم شخص منہ پر نقاب کئے ہوئے پہلے دکان کے سامنے آتا ہے پھر پیچھے جاتا ہے اور پھر سامنے آکر چھ فائر کرتا ہے جس وجہ سے دکان کی ڈسپلے ونڈو اور مین گیٹ کے ہزاروں مالیت کے شیشے ٹوٹ گئے دکان کے عملے اور مالک کے مطابق ہماری کسی سے نہ کوئی دشمنی ہے نہ رنجش نہ تلخ کلامی کسی گاہک سے ہوئی ہے بازار کے تاجروں کا کہنا تھا حاجی سرور صاحب انتہائی شریف آدمی ہیں اور اس فائرنگ سے ہمارے پورے بازار کے تاجر بھائی ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں تاجر تنظیموں کا کہنا تھا ضلعی انتظامیہ شہریوں کے جان ومال کو تحفظ دینے میں اسوقت ناکام ہےمیں یہاں بتاتا چلوں پچھلے کچھ ہفتوں سے چوری ڈکیتی راہزنی فائرنگ کے واقعات میں بہت اضافہ ہوا ہےقصور پولیس تھانہ اے ڈویژن تاحال ملزم گرفتار نہ کرسکی،تاجروں میں خوف کی فضا قائم جبکہ پولیس کا کہنا ہے ملزم کی گرفتاری کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کررہے ییں جلد گرفتار کرلیں گے ایس ایچ اوتھانہ اے ڈویژن قصور وحید عارف تاجر برادری نے وزیر اعلی پنجاب ڈی پی او قصور آئی جی پنجاب سے تحفظ کی اپیل کی ہے خدارہ ہماری جان و مال کا تحفظ کیا جائے اور شر پسند عناصر سے شہریوں کو محفوظ رکھا جائے -

شراب کی کھیپ پکڑی گئی
قصور۔
ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت کی خصوصی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر سرکل سید اشفاق حسین کاظمی کی زیر نگرانی تھانہ صدر قصور کے ایس ایچ او آصف جاوید خان کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کریک ڈاون جاری شراب برآمد
تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر قصور کے ایس ایچ او آصف جاوید خان نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم سرفراز مسیح سے 50 لیٹر دیسی جبکہ 10 بوتلیں ولائیتی شراب برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا
ایس ایچ او آصف جاوید کا کہنا تھا کہ تھانہ سے سفارش اور رشوت کے کلچر کو ختم کر دیا گیا ہے اور علاقے کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنا ہماری اولین ترجیح ہے
تھانے کے دروازے ہر کسی کے لئے کھلے ہیں