قصور
کرونا کا عذاب آیا لوگ ڈر گئے رشوت و جرائم سے توبہ کرنے لگے مگر لیسکو قصور سرعام رشوت لینے لگی ڈی سی قصور و ایس ایس لیسکو قصور بے خبر
تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کے سب سے بڑے اور سب سے قریبی گاؤں کھارا میں دو روز سے محلہ ملکاں والا میں ٹرانسفارمر خراب تھا جس پر لوگوں نے لیسکو سب ڈویژن بہادر پورہ قصور کا آگاہ کیا تو بجائے ٹرانسفارمر ٹھیک کرنے کے ایس ڈی او و لائن مین نے ہیلے بہانے شروع کر دیئے اور دو دن بعد آج لوگوں کی جانب سے پیسے
اکٹھے کرکے دینے پر ٹرانسفارمر کی مرمت کا کام شروع کیا گیا ہے لوگوں نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سارے گاؤں میں جب بھی کوئی ٹرانسفارمر خراب ہوتا ہے یاں کوئی اور مسئلہ بنتا ہے تو ایس ڈی او سب ڈویژن بہادر پورہ اور لائن مین بغیر پیسوں کے کام نہیں کرتے لہذہ اس راشی ایس ڈی او اور لائن مین کو فوری نوکری سے فارغ کیا جائے جو مشکل کی اس گھڑی میں بھی رشوت لینے سے باز نہیں آئے جبکہ لوگ لاک ڈاؤن کی بدولت اپنے روزگار سے محروم ہو چکے ہیں شاید ان افسران کو اللہ کا خوف نہیں
Author: غنی محمود قصوری

کرونا کا عذاب تو آیا مگر واپڈا قصور کا دل پھر بھی نا گھبرایا

احساس پروگرام کے اہل افراد پریشان
قصور
احساس پروگرام کے تحت لوگوں میں رقم کی تقسیم کیلئے ایس ایم ایس آنا شروع ہو گئے مگر لوگوں کو پیسے ملینگے کہاں سے یہ نا بتایا
تفصیلات کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث گورنمنٹ کی طرف سے دیہاڑی دار مزدور طبقے کیلئے احساس پروگرام کے تحت مبلغ 12000 روپیہ دینے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے حصول کیلئے لوگوں نے ایس ایم ایس کئے کچھ لوگوں کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد جوابی ایس ایم ایس آ چکے ہیں مگر ان کو پتہ ہی نہیں کہ انہوں نے جانا کس مرکز پر ہے اور ان کے نزدیک ترین احساس مرکز کونسا ہے کی بدولت لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی دن ہو چکے لاک ڈاؤن ہوئے ہمارے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں لہذہ جلد سے جلد ہمیں پیسے دے تاکہ ہم اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کیلئے سامان خرید سکیں نیز چھوٹے گاؤں دیہات میں بھی احساس پروگرام مراکز بنائے جائیں تاکہ لوگوں کو رقم لینے میں دشواری کا سامنا نا کرنا پڑے کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے اور ہر غریب کے پاس موٹر سائیکل بھی نہیں
16 سالہ نوجوان لڑکا لاپتہ
قصور
پتوکی میں 16 سالہ بچہ عدیل گھر سے لاپتہ بچے کے والد نے تھانہ میں درخواست دے دی اغواء کا خدشہ
تفصیلات کے مطابق پتوکی ہلہ روڈ بکر منڈی کے رہائشی تاجر محمد عارف کا 16 سالہ بیٹا گھر کے باہر نکلا جو واپس گھر نہیں آیا جس پر پریشان والدین کو تشویش ہوئی تو انہوں نے مقدمہ اندراج کیلئے تھانہ سٹی پتوکی میں درخواست دے دی
پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم ابھی تک بچے کا کوئی سراغ نہ مل سکا خدشہ ہے کہ بچے کو اغواء کیا گیا ہے
ٹرانسفارمر خراب واپڈا کو نذرانے کا انتظار
قصور
الہ آباد کے علاقے میں دو دن سے بجلی غائب لوگ پریشان
تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں کوٹ سردار سلیم حیدر کےقریب آلو سے لوڈ مزدا کھمبے سے ٹکرانے پر دو کھمبے موقع پر ٹوٹ گئے تھے اور ٹرانسفارمر کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا مگر 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی بجلی ٹھیک نہ ہوسکی ہے لوگوں کیلئے پانی نایاب ہو کر رہ گیا ہے جبکہ گرمی سے بچے بلبلا اٹھے، لوگوں کے جانور بھی پیاسے مرنے لگے، اعلی حکام فوری نوٹس لیں اور لوگوں کا مسئلہ حل کروائیں
دوسری طرف واپڈا والوں نے ڈالہ کے مالک سے بھی ہزاروں روپے بٹورے تھے، واپڈا والوں نے اپنے ذاتی فون نمبرز بھی بند کرلئے
اہل علاقہ کے مطابق واپڈا ملازمین کسی نذرانے کےمنتظر ہیں
ناجائز منافع خور فساد فی الارض کے ذمہ دار بھی اور سماج کے دشمن بھی!!! تحریر: غنی محمود قصوری
اس وقت دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کووڈ 19 یعنی کرونا وائرس کا خوب زور ہے جس سے بچاؤ کے لئے گورنمنٹ نے ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن کر رکھا ہے جس کی بدولت لوگوں کے کافی زیادہ کاروبار بند ہیں مگر جن کے چل رہے ہیں وہ بھی ٹائمنگ کم ہونے اور لوگوں کے پاس پیسے کی قلت کی بدولت متاثر ہو کر رہ گئے ہیں لاک ڈاؤن کرنا کرونا سے بچاؤ کیلئے انتہائی ضروری تھا اگر لاک ڈاؤن نا کیا جاتا تو خدانخواستہ ملکی صورت حال کافی بگڑ سکتی تھی یہی وقت ہے جس میں اسلام و پاکستان سے مخلص افراد کی پہچان ہو رہی ہے
زندہ رہنے کیلئے کھانا پینا انتہائی ضروری ہے ہمارا پیٹ یہ نہیں دیکھتا کہ اس وقت لاک ڈاؤن ہے یاں پھر ہمارے پاس خریدنے کیلئے پیسے نہیں اس وقت کاروبار معطل ہیں لہذہ اس جسم و جان کا رابطہ برقرار رکھنے کیلئے کھانے کی طلب تو ہوتی ہی ہے اور یہ طلب ہم دکانوں ،منڈیوں اور لوگوں سے ضروری اشیاء خرید کر پوری کرتے ہیں مگر اس مشکل وقت میں بھی وہی منافع خور متحرک ہو چکے ہیں جو کل بھی پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے تھے یہ ایسے بدبخت لوگ ہیں جو مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی پیسے جمع کرنے کی ہوس پوری کرتے ہیں ان درندہ صفت لوگوں نے حالات کا فائدہ اٹھا کر مارکیٹ سے بہت سی اشیاء غائب کرکے اپنے گوداموں اور گھروں میں سٹاک کر لی ہیں تاکہ وہ ان اشیاء کو اپنی مرضی کی قیمتوں پر فروخت کر سکیں حالانکہ آئین پاکستان میں ان منافع خور و بلیک مارکیٹنگ لوگوں کیلئے منافع خوری ایکٹ 1977 اور فوڈ سٹف کنٹرول ایکٹ 1958 کے تحت کاروائی کرکے سزائیں دینے کا اختیار موجود ہے مگر افسوس کہ آج دن تک شاید ہی کسی منافع خور کو قرار واقعی سزا ملی ہو کیونکہ بلیک مارکیٹنگ وہی لوگ کرتے ہیں جو با اثر اور مالی طاقتور ہوتے ہیں مگر ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کو ہاتھ کم ہی ڈالا جاتا ہے باقی کاغذی کاروائی پوری کرنے کیلئے چھوٹے چھوٹے غریب دکانداروں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے اور اپنی کاروائی کرنے کا ثبوت پیش کیا جاتا ہے
ایسے منافع خور ملک و ملت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور یہ لوگ کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ان لوگوں کیلئے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ
اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر،اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ لینا نا بھول اور تو احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں فساد انگیزی تلاش نا کر ،بیشک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا (سورہ القصص)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف واضح کر دیا کہ اپنا نفع لینا نا بھول اور دنیا کے ساتھ ساتھ اخروی زندگی کا بھی خیال کیا جائے اور ناجائز منافع خوری کرکے فساد بپا نا کیا جائے کیونکہ ناجائز منافع خوری سے فساد بڑھتا ہے مہنگائی بڑھ جاتی ہے اشیاء لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے اور وہ مجبور ہوکر چوری ڈکیتی اور بعض مرتبہ خود سوزی تک کرتے ہیں جس سے ملک کا امن خراب ہوکر فساد بڑھتا ہے اور فسادی کو اللہ رب العزت سخت ناپسند کرتے ہیں اور روز قیامت ایسے لوگ ڈبل سزا کے مستحق ہونگے اول چیزوں کا بحران پیدا کرکے منافع خوری کے اور دوم فساد برپا کروانے کے
ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ،آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نا کھاؤ،لین دین ہونا چاہئیے آپس کی رضا مندی سے اور اپنے آپ کو قتل نا کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے (سورہ النساء)
اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے وضع کر دیا کہ اپنے بھائیوں کا مال ناجائز طریقے سے نا کھاؤ لین دین ضرور کرو مگر دو طرفہ رضا مندی سے مگر یہاں یہ سوچنا ہوگا کہ منافع خور تو اپنے نفع پر راضی ہے جبکہ خریدار مجبور ہو کر چیز خرید رہا ہے اور وہ اپنے دل میں کہے گا کہ اس نے زیادہ منافع لے کر زیادتی کی ہے یہ چیز اتنے کی نہیں میں مجبور ہو کر خرید رہا ہوں تو اس صورت فروخت کنندہ نے مجبور کرکے چیز فروخت کی اور صارف چیز خرید تو رہا ہے مگر وہ مطمئن نہیں بلکہ مجبور ہے ایسی صورت میں باہمی رضا مندی نہیں بلکہ یک طرفہ منافع خور کی ہی رضا مندی ہے لہذہ منافع خور زیادتی کر رہا ہے اور ایک مجبور صارف کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے
اس موجودہ دور میں گورنمنٹ کی طرف سے ہر چیز کے نرخ مقرر کئے گئے ہیں جن کے مطابق چیزیں بیچنا دکاندار و کاروباری افراد پر لازم ہے اگر وہ اس طے کردہ قیمت سے زائد لے گا تو وہ ناجائز منافع خوری اور فساد فی الارض کا مرتکب ہوگا
کچھ دکاندار بڑے دکانداروں سے مجبور ہوکر اصل قیمت سے زائد پر مال خریدتے ہیں اور آگے معقول نفع لے کر بیچتے ہیں ایسی صورت میں گناہگار اور فساد فی الارض کا مرتکب وہی بڑا کاروباری ہوگا جس نے خود اپنی مرضی سے نفع ناجائز لیا ہے چھوٹا دکاندار مجبور ہوکر اپنی دکان و کاروبار چلانے کیلئے اس سے خرید کر معقول نفع پر بیچ رہا ہے لہذہ وہ مجبور ہیں ناجائز منافع خوری کے مرتکب نہیں
بلیک مارکیٹنگ اور ناجائز منافع خوری کل بھی حرام تھی اور آج بھی لہذہ اپنا اصل نفع لے کر دنیا کیساتھ آخرت بھی سنواریں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہونے سے بچیں کیونکہ یہ وقت لوگوں سے ہمدردی و ایثار کرنے کا ہے اور اسی ہمدردی و ایثار کے عیوض اللہ رب العزت خوش ہو کر ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب کرینگے
قصور شہر کی وسطی آبادی بیماریوں کی آماجگاہ
قصور
شہر کی وسطی آبادی شیر شاہ کوٹ قتل گڑھی میں گدھوں کے اسطبل ، بھینسوں کے باڑے اور مردہ جانوروں کی غلاظت بھری پوچھلوں کے گودام کیوجہ سے ڈینگی مچھروں کی افزائش سے علاقہ مکین پریشان نیزکرونا وائرس کا بھی شدید خطرہ لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے محکمہ صحت، محکمہ ماحولیات، میونسپل کارپوریشن، مقامی انتظامیہ خاموش تماشائیتفصیلات کے مطابق شہر کے وسط میں آبادی شیر شاہ کوٹ قتل گڑھی نزد تنویر آئس فیکٹری گلی میں کچھ لوگوں نے گدھوں کے اسطبل ، بھینسوں کے باڑہے اور مردہ جانوروں کی غلاظت بھری پوچھلوں کے گودام بنا رکھے ہیں نکاسی آب کا بھی کوئی انتظام نہیں گدہوں، بھینسوں، غلاظت بھری پوچھلوں کی ویسٹ منتقل کا کوئی بندوبست بھی نہیں بلکہ ساری گندگی گلی میں ہی پھینکی جارہی ہے جسکی وجہ سے تعفن پھیل رہا ہے پورا علاقہ ڈینگی مچھروں کے افزائش کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور کرونا وائرس کا بھی شدید خطرہ منڈلانے لگا ہے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں محکمہ صحت،محکمہ ماحولیات، میونسپل کارپوریشن، مقامی انتظامیہ خاموش تماشائی کاروائی کرنے سے قاصر مقامی آبادی کے مکینوں، عوامی، سماجی، فلاحی تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر ووکلا نے وزیر اعلی پنجاب، وزیر بلدیات، وزیر صحت، وزیر ماحولیات و ارباب اختیار، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، میونسپل کارپوریشن اور مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ان جگہوں کو سیل کیا جائے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی مقدمہ عمل میں لاتے ہوئے بھاری جرمانے عائد کئے جائیں جائیں[advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″]

احساس کفالت فراڈ پر گینگ گرفتار
قصور
احساس کفالت پروگرام میں تحصیل چونیاں کے سادہ لوح لوگوں کے ساتھ نوسر بازی کرنے پر ضلعی انتظامیہ قصور کا سخت ایکشن
اے سی چونیاں عدنان بدر کی کاروائی احساس کفالت پروگرام میں لوٹ مار کرنے والا گینگ کو گرفتار
تفصیلات کے مطابق سادہ لوح خواتین سے احساس کفالت پروگرام کی رقم دلوانے کے لئے انگوٹھا سکیننگ کروائی جا رہی تھی لیکن بتایا جا رہا تھا کہ رقم نہیں ہے اس
فراڈ کرنے والے دو گروپوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے ایک گروپ مافیا الہ آباد امدادی سنٹر اور دوسرے گروہ کو ایچ بی ایل اے ٹی ایم الہ آباد سے گرفتار کیا گیا دونوں گروپ مافیا سے مجموعی طور پر 1 لاکھ 29 ہزار روپے برآمد کر لئے گئے ہیں
اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر نے برآمد کی گئی رقم کو خواتین میں واپس لوٹا دیا گیا ہے جس پر خواتین نے اے سی چونیاں کو ڈھیروں دعائیں دیں
تمام افراد قرنطینہ سے گھر منتقل
قصور
ڈسٹرکٹ پبلک سکول میں قائم قرنطینہ سنٹر میں موجود 126 افراد کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا
تفصیلات کے مطابق قصور ڈی پی ایس سکول آفیسر کالونی میں بنے قرنطینہ سنٹر میں تمام افراد کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ھے جبکہ صرف 3 افراد کو مزید چار دن کے لئے قرنطینہ میں رکھا جائے گا چود اور وہ 14 دن مکمل ھونے کے بعد و ان کو بھی گھر جانے کی اجازتِ ہو گی
بائی پاس پر گندگی کا راج
قصور بائی پاس پر گندگی کے ڈھیر میونسپل کارپوریشن ویسٹ بائی پاس پر جمع کرنے لگا پورے علاقے میں تعفن اور بدبو کا راج گزرنے والے بھی سخت پریشان
تفصیلات کے مطابق میونسپل کارپوریشن قصور نے قصور بائی پاس پر بھسر پورہ جانے والے راستے پر خالی جگہ میں ویسٹ جمع کرنا شروع کر دی ہے جس سے کچرے کے پہاڑ لگ گئے ہیں کافی عرصے سے اس کچرے کو اٹھایا بھی نہیں گیا جس کی بدولت تعفن اور بدبو دور دور تک پھیل گئی ہے بائی پاس سے گزرنے والوں کو بھی بدبو کی بدولت سخت کوفت اٹھانا پڑتی ہے حالانکہ کرونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کیلئے ساری دنیا میں گندگی کو ختم کرکے صفائی کی جا رہی ہے مگر قصور انتظامیہ مذید گندگی کو جمع کر رہی ہے اس گندگی سے علاقہ مکین تو پریشان ہیں ہی مگر اس سے ڈینگی،گلے و سانس کی بیماریوں کے بڑھنے کا بھی خدشہ ہے
ڈی سی قصور نوٹس لیتے ہوئے اس گندگی کے ڈھیر کو ٹھکانے لگوائیں تاکہ لوگ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں
144 کے ناجائز پرچے اور پولیس کے خرچے
قصور
کنگن پور کے تاجر کی ڈی پی او سے انصاف کی اپیل
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر قصور سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کنگن پور کے شریف شہری و مقامی تاجر حاجی چوہدری کاشف علی نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جناب زاہد نواز مروت سے اپیل کی ہے کہ گزشتہ روز پولیس تھانہ کنگن پور کے ملازمین نے دفعہ 144 کے تحت ناجائز مقدمہ درج کر دیا انہوں نے کہا کہ جن دکانداروں کو پولیس نے پکڑا تھا پیسے لیکر چھوڑ دیا ہماری بند دکانیں اور گھر میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی ایف آئی آر درج کردی گئی ہے کیونکہ ہم۔نے رشوت نہیں دی اس لئے ہمیں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زاہد نواز مروت صاحب انصاف دلوائیں اور ہم پر ناجائز جھوٹا مقدمہ فوری طور پر خارج کیا جائے









