قصور
حکومتی حکم کی سرعام کھلم کھلا خلاف ورزی شب برات کے موقع پر حلوایئوں کی دوکانوں پر بے تحاشہ رش مضر صحت ناقص گھی میں حلوہ پوریاں لاغر گوشت سے تیار ٹکیاں اور کتلمہ بکتے رہے پورا شہر خلاف قانون پٹاخوں سے گونجتا رہا پولیس کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام بے بس رہی نقص امن کے خطرات منڈلاتے رہے
تفصیلات کے مطابق تھانہ اے ڈویژن، تھانہ بی ڈویزن اور تھانہ صدر قصور کے علاقوں اور شہر بھر میں حلوائی مضر صحت ناقص گھی سے حلوہ پوریاں اور لاغر گوشت سے ٹکیاں و کتلمہ بنا کر عوام کو سرعام لوٹتے رہے حلوائیوں کی دوکانوں پر بے تحاشہ رش رہا حکومتی پابندی کی خوب خلاف ورزی ہوتی رہی پورا شہر خلاف قانون پٹاخوں کی آوازوں سے گونجتا رہا مقامی پولیس، اے سی قصور یا اسپیشل مجسٹریٹس نے بھی شہر کا کوئی دورہ نہیں کیا کرونا وائرس کے خطرات کا شدید اندیشہ بھی رہا تا ہم پولیس خاموش تماشائی کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام اور بے بس رہی عوامی، فلاحی ،تنظیموں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے حلوائیوں کے خلاف کاروائی کی جائے
Author: غنی محمود قصوری

144 کے باوجود پٹاخے والوں اور حلوائیوں کی خلاف ورزی انتظامیہ ناکام

لوگوں کا جذبہ ایثار جاری
قصور
کوٹ رادھاکشن خدمت میں عظمت ہے جس نے ایک شخص کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی
تفصیلات کے مطابق پوری دنیا بھر کی طرح کوٹ رادھا کشن میں بھی لاک ڈاون جاری ہے جسکی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ اور سفید پوش طبقہ جن کی گزر اوقات چند دن کی جمع پونجی خرچ کرنے کے بعد فاقہ کشی کا شکار ہو رہے ہیں ایسے میں اسلامی اقدار اخوت اور سخاوت کو سامنے رکھتے ہوئے شہر میں متعدد سیاسی سماجی مخیر حضرات آگے آ رہے ہیں جن میں الخدمت فاونڈیشن کے ملک شاھد منصور چوہدری ایواب خاورپروفیسر ذوالفقار و جمیلہ بیگم ٹرسٹ کے چوہدری ذکا الہی عوام دوست اتحاد کے چوہدری عثمان محمد اصغرمحمد ارسلان صادق مسلم لیگ (ن) کے روف نواب چوہدری داود شریف سہوترا کامران سجاد چوہدری محمد الیاس بھمبہ پی ٹی آئی کے چوہدری رضوان عزیز چوہدری عزیز الرحمان نیاز ڈوگر مہر محمد کاشف بسمہ اللہ سوسائٹی کے ملک محمد ارشاد شیخ محمد خالد اور دیگر جن کا نام تحریر میں نہ لا سکا انسانی بقاء کا وہ ابدی منشور لے کر کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی آگے بڑھتے ہوئے اور عزت نفس کو مجروح کیے بغیر خدمت خلق کے جذبہ کو پروان چڑھاتے ہوئے بغیر کسی مذہبی سماجی سیاسی لسانی تفریق کے ان دیہاڑی دار اور سفید پوش افراد کی خوراک کی ضروریات کے لیے مخیر حضرات سے مل کر خدمات بہم پہنچا رہے ہیں جو کہ قابل قدر اور قابل تحسین اقدام ہے اسکے ساتھ اب حکومتی سطح پر بھی پاک آرمی کے جوان ایسے سفید پوش خاندانوں کو جو ہاتھ پھیلانے سے مرنے کو ترجیح دیتے ہیں راشن وغیرہ مہیا کر رہے ہیں
باپ نے ظلم کی انتہا کر دی
قصور
چونیاں میں ظلم کی انتہا ہو گئی
سنگدل نشئی والد نے چھ سالہ معصوم بچی کی زندگی چھین لی باپ بیٹی کو قتل کر کے مساجد میں گمشدگی کے اعلان کرواتا رہا
تفصیلات کے مطابق چونیاں تھانہ سٹی کی حدود
میں نواحیی گاؤں ہرچوکی کے رہائشی سنگدل نشئی والد مصطفی نے ظلم کی انتہا کر دی اپنی ہی سگی چھ سالہ سگی بیٹی فاطمہ کو گلا دبا کر قتل کر دیا اور لاش کو فصلوں میں پھینک دیا ،اہل علاقہ کے مطابق سفاک ملزم بچی کو قتل کرنے کے بعد مساجد میں بچی کی گمشدگی کے اعلانات بھی کرواتا رہا مقامی لوگوں کی اطلاع پر پولیس نے بچی کی لاش کو فصلوں سے برآمد کر لیا ہے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ سٹی،ڈی پی او قصور،اے سی چونیاں،ڈی ایس پی چونیاں کرائم سین ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے ڈی پی او قصور کے مطابق ملزم موقع سے فرار ہے جسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا جبکہ اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گے
پرائیویٹ کلینکس بند
قصور
نامور و پرانے اور سالوں سے ہزاروں روپیہ فیسیں لینے والے پرائیوٹ ڈاکٹرز نے اپنے کلینک عوام کیلئے بند کر دیئے جس کی بدولت ڈی ایچ کیو ہسپتال میں شدید رش
تفصیلات کے مطابق قصور شہر میں کئی نامور اور مشہور ڈاکٹروں نے اپنے کلینک عوام کے لئے بند کر دئیے ہیں کل تک یہی ڈاکٹر فون پر ٹائم دے کر ہزاروں روپیہ لوگوں سے چیک کروائی کے نام پر فیسیں لے رہے تھے مگر مشکل کی گھڑی آتے ہی انہوں نے لوگوں کیلئے اپنے کلینک بند کر لئے جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے تب سے قصور شہر میں بیشتر سپیشلسٹ ڈاکٹرز کے کلینک بند ہیں اور لوگ پریشان ہو کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصور کا رخ کر رہے ہیں جس سے ہسپتال کے عملے کو سخت پریشانی کا سامنا کر پڑ رہا ہے ل
مشکل کی اس گھڑی میں ایسے ڈاکٹروں کو لوگوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کروڑوں روپیہ جمع ہے اس لئے وہ سالوں بھی اپنے کلینک نا کھولیں تب بھی ان کو فرق نہیں پڑے گا تاہم وہ یہ ثابت ہو گیا کہ وہ پیسے کے وفادار تھے کہ انسانوں کے
بینک عملہ کی بدولت دفعہ 144 کی خلاف ورزی
قصور
پتوکی کے علاقے ھلہ منیس میں بینک کے باہر دفعہ 144 کی خلاف ورزی جاری
تفصیلات کے مطابق بینک کے باہر بل ادا کرنے والے لوگوں کا ہجوم کی شکل اختیار کرنے پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی
ایک طرف دفعہ 144 نافذ ہے تو دوسری طرف دفعہ 144 کی خلاف ورزی بھی کھلے عام ہ ورہی ہے جس پہ ایکشن لینے والا کوئی نہیں
سرائے مغل کے نواحی گاؤں ھلہ منیس میں ایم سی بی بنک کے باہر بجلی کے بل جمع کروانے والے مزدوروں اور خواتین کا ہجوم بنا ہوا ہے جبکہ بینک میں کام کرنے والا عملہ اپنی مرضی سے کام کر رہا ہے
بینک انتظامیہ بھی اپنے فرائض پوری طرح ادا نہیں کر رہی
بینک مینجر سسٹم کام نہیں کر رہا کا بہانا بنا کر مزید پریشان کر رہا ہے جس پر شہری قطار میں کھڑے شہریوں نے فوری ایکشن لینے کی اپیل کی ہے
کرونا سپرے کا چھڑکاؤ
قصور
ریسکیو 1122 کی طرف سے کرونا سے بچاؤ کی سپرے
تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122 کی خصوصی ہدایت پر کرونا وائرس کی وباء سے بچنے کے لئے ریسکیو 1122 کی جانب سے ضلع بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کلورین ملے پانی سے سپرے کیا جا رہا ہے تاکہ کرونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے
اس موقع پر موجود عوام کی بڑی تعداد نے ریسکیو 1122 کی اس کاوش کو خوب سراہا
اور عوام کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ریسکیو کے جوانوں کا حوصلہ اور کام قابل ستائش ہے
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سلطان محمود کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے ادراک کے لئے آئندہ بھی میونسپل کارپوریشن کے تعاون سے کلورین ملے پانی کا سپرے جاری رہے گا
لاک ڈاؤن کا تیسرا ہفتہ لوگ حکومتی امداد کے منتظر
قصور
لاک ڈاؤن کا 15 واں دن لوگ ابھی تک حکومتی امداد سے محروم صرف مخیر حضرات کی کی طرف تھوڑی بہت امداد مل سکی انصاف امداد کا ڈیٹا جمع کئے ہفتہ گزر گیا مگر کسی کو کچھ نا ملا
تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح قصور میں بھی 24 مارچ سے لاک ڈاؤن ہے جس سے کاروبار زندگی معطل ہے مزدور و فیکٹری ملازمین گھروں پر فارغ ہیں اور 15 دنوں سے حکومتی امداد کے منتظر ہیں کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر دیہاڑی لگانے والے مزدور اور ڈیلی ویجز فیکٹری ملازمین ہر قسم کی آمدن سے محروم ہو کر رہ گئے ہیں اور حکومت کی طرف سے حسب وعدہ امداد کے منتظر ہیں لوگوں نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں ابتک مخیر حضرات کی طرف سے تھوڑی بہت امداد ملی ہے جبکہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک روپیہ بھی نہیں ملا حالانکہ انصاف امداد پروگرام میں ہمیں ایس ایم ایس کئے ہفتہ ہو چکا جس کا ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا مگر اس ایس ایم ایس کرنے کی مد میں کمپنی نے ڈھائی روپیہ فوری کاٹ لئے لہذہ گورنمنٹ خوف الہٰی کرتے ہوئے ہماری کچھ امداد کرے ورنہ ہمارے بچے یوں بھوکے مر جائینگے
کیا پاکستان موجودہ حالات میں فرقہ واریت کا متحمل ہوسکتا ہے !!! تحریر: غنی محمود قصوری
اس وقت پوری دنیا اور عالم اسلام کرونا وائرس (کووڈ 19) کی لپٹ میں ہے اس وبائی مرض کی بدولت ہر انسان پریشان ہے تمام انسان خصوصاً مسلمان ایک دوسرے کے غم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ میرے نبی کریم کی حدیث ہے کہ
سب مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کی آنکھ دکھے تو اس کا سارا جسم دکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں درد ہو تو سارا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے (صحیح مسلم)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے اور آج پوری دنیا کی طرح پاکستانی مسلمان بھی اس کرونا نامی مرض کا شکار ہیں اور ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کر رہے ہیں مگر افسوس کہ اس مشکل وقت میں بھی چند بے ضمیر مفاد پرست لوگ اللہ سے ڈرنے کی بجائے فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں
چونکہ بیماری کا لگ جانا کسی کے بس کی بات نہیں لہذہ کسی کو بیماری لگنا پھر اس سے کسی دوسرے کو بیماری لگ جانا بھی کسی انسان کے بس کی بات نہیں اور نا ہی کوئی شحض چاہتا ہے کہ وہ خود بیمار ہو اور اس کے ذریعے دوسرے لوگ بھی اس بیماری کے شکنجے میں آئیں
چین کے شہر ووہان سے دسمبر 2019 میں کرونا وائرس کی شروعات ہوئی اور آج اس وقت یہ وبا 200 ممالک تک پہنچ چکی ہے مگر پاکستان میں یہ مرض فروری کے آخر میں شروع ہوئی اور سب سے پہلے یہ مرض بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں سے نمودار ہوئی اب تک ہزاروں لوگ ادائیگی عمرہ کرکے اور دیگر ممالک سے واپس آئے ہیں مگر افسوس کہ آج صرف تین طبقوں کو ہی کرونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے نمبر ایک ایرانی زائرین نمبر دو تبلیغ جماعت اور نمبر تین ادائیگی عمرہ کرکے آنے والے مسلمان
یہ بات سچ ہے کہ ابتک سینکڑوں ایرانی زائرین وطن واپس آ چکے ہیں جن کی بدولت کافی لوگوں کو کرونا وائرس کی بیماری کا سامنا کرنا پڑا مگر اس میں قصور ان آنے والے زائرین کا نہیں بلکہ ہمارے ہمسائے ملک ایران اور گورنمنٹ پاکستان کا ہے کیونکہ مرض وبا کی صورت اختیار کر چکی تھی اس لئے چائنہ کی طرح ایران کو بھی چاہئیے تھا کہ پاکستانی زائرین کو اپنے ہاں قرنطینہ سنٹرز بنا کر صحت یاب ہونے تک روکے رکھتی دوسری طرف جبری ایران سے نکالے گئے زائرین کو بارڈر پر قرنطینہ سنٹرز میں نا رکھ کر وبا کو وسعت دینے میں گورنمنٹ کی سستی بھی شامل ہے اسی طرح تبلیغی مرکز رائیونڈ سے بھی کافی زیادہ تبلیغ جماعت کے لوگوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس پر کچھ لوگ سارا ملبہ تبلیغ جماعت پر ڈال رہے ہیں جیسے ایرانی زائرین کو واپس اپنے ملک پاکستان آنے کا حق حاصل ہے بلکل ویسے ہی تبلیغ جماعت کے کارکنان کو بھی مملکت پاکستان میں دعوت و تبلیغ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے
چونکہ ایرانی زائرین کے پاکستان میں داخلے پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی اور تبلیغ جماعت کو بھی روکا نہیں گیا تھا اس لئے ان میں سے کسی کو بھی وبا پھیلانے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ہاں اب جبکہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے اور تمام سیاسی ،گھریلوں و مذہبی اجتماعات پر پابندی لگ چکی ہے اب اگر کوئی اس پابندی کو توڑتے ہوئے اجتماعات کرے تو اسے مورو الزام ٹھہرایا جائیگا ناکہ بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں ،ایرانی زائرین، تبلیغ جماعت اور عمرہ ادائیگی کرکے آنے والوں کو البتہ اگر کوئی ذاتی عداوت کی بناء پر کسی دوسرے فرقے کو قصور وار ٹھہرائے تو ایسے افراد فرقہ واریت کے پجاری ہیں اور ایک جسم کے مانند ہونے کی نبوی حدیث کے منکر بھی لہذہ اس مشکل وقت میں نبوی فرمان کے مطابق ایک جسم بن کر جسم کے دوسرے حصے کا دکھ درد محسوس کرکے سچے مسلمان اور پاکستانی ہونے کا ثبوت دیجئے نا کہ شیطان کو راضی کرتے ہوئے فرقہ واریت کا پرچار کیجئے لہذہ فرقہ واریت نا پھیلائیں کیونکہ نا تو یہ ملک پہلے فرقہ واریت کا متحمل تھا اور نا ہی اب بس جاری کردہ احتیاطی تدابیر اور بتائے گئے نبوی اذکار کیساتھ اپنے گھروں میں رہ کر خود بھی بچیں اور اس ارض پاک کی سلامتی کیلئے دوسروں کو بھی بچنے دیجئے
رپورٹر کی فیملی پر قاتلانہ حملہ
قصور
پتوکی میں نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر کی ہمشیرہ اور بھانجے پر ملزم کی گھر میں گھس کر فائرنگ رپورٹر کی بہن اور بھانجا زخمی ہسپتال منتقل
فائرنگ کے نتیجہ میں ثریا بی بی بیوہ جسکے تین بیٹے اور بیٹیاں ہے کا ایک پاؤں ضائع ہوگیا اور دوسرا فائر پنڈلی میں لگا اور اس کا بیٹا شدید زخمی جن کو طبی امداد کیلئے لاھور ہسپتال ریفر کردیا گیا
یہ واقع محلہ چراغ پارک میگا روڈ پر کل شام کو پیش آیا
ملزم علی شیر اندھا دھند فائرنگ کرکے موقع سے فرار ہوگیا
اطلاع ملتے ہی تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے
سرکاری آٹا چکی آٹا میں ملا کر 2400 من
قصور
الہ آباد چکی آٹا مالکان بے لگام 2400 روپے فی من آٹا کی فروخت جاری انتظامیہ خاموش تماشائی یا کورونا وائرس کی روک تھام میں مصروف مقامی شہریوں کی اے سی چونیاں اور ڈی سی قصور سے نوٹس لینے کی اپیل
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والا لاک ڈاؤن کا ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی طرح چکی آٹا مالکان نے بھی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے بارہ سو روپے فی من گندم خرید کر سٹاک کر کے چوبیس سو روپے تک فی من آٹا فروخت کر رہے ہیں چکی آٹا مالکان نے لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غربت کے ہاتھوں مجبور خواتین کو سو روپے فی تھیلا کا لالچ دے کر رکھا ہے اور ایسی خواتین سارا دن آٹے کے سرکاری ڈپو کے چکر لگاتی رہتی ہیں اور سرکاری ریٹ پر آٹا خرید کر چکی مالکان کو دے دیتیں ہیں جو بازار کے ناقص آٹا کو خالص آٹا میں ملا کر انتہائی مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں انجمن اہلیانِ الہ آباد کے صدر چوہدری محمد اقبال کمبوہ اور دیگر شہریوں نے اے سی چونیاں اور ڈی سی قصور سے اپیل کی ہے کہ آٹا چکی مالکان کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے اور ان کو بھاری جرمانوں کے علاوہ جیل کی ہوا بھی کھلائی جائے









