Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    حقوق نسواں کے جعلی دعوے داروں اور اصل افراد کے کردار!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    8 مارچ کو عالمی یوم خواتین سے پہلے ہی پوری دنیا کیساتھ پاکستان بھی کرونا کی لپٹ میں تھا چائیے تو یہ تھا کہ دنیا بھر کی طرح احتیاط کی جاتی اور لوگوں کو اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی دی جاتی مگر ہوس و شہرت کے پجاری اس وقت بھی باز نا آئے اور پورے ملک میں ان نام نہاد خود ساختہ حقوق نسواں کے دعوے داروں نے سینکڑوں مجبور و بے سہارا غریب عورتوں کو پیسے کا لالچ دے کر اکھٹا کیا جو کہ بعد میں میڈیا پر وائرل بھی ہو گیا گندے بے ہودہ نعروں پر مبنی پوسٹرز اور پلے کارڈز پر ان کی طرف سے ریاست پاکستان و اسلام کے خلاف نعرے درج تھے اور دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ معاذاللہ اسلام عورتوں کے حقوق کا غاصب ہے ویسے تو ان دین بے زاروں کے کئی نعرے ہیں مگر سب سے مشہور ان کا نعرہ میرا جسم میری مرضی ہے جس کے تحت یہ اللہ کی جاری کردہ حدوں کو پامال کرتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں 8 مارچ یوم خواتین کو جب ملک کے ہر شہر سے خصوصاً کراچی کے فریئر ہال اور لاہور وہ اسلام آباد کے پریس کلبوں سے انہوں نے عورت مارچ کا آغاز کیا عین اس وقت پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں تھی کشمیر و فلسطین،شام و افغانستان اور ہندوستان کے مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی ہے مگر افسوس کے ان لوگوں نے صرف اسلام و پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نا دیا حالانکہ اگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کے اصل پشتی بان ہوتے تو کرونا سے متاثرہ عورتوں کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے کشمیر میں محصور عورتوں کیلئے چیختے چلاتے ان کیلئے صدائیں بلند کرتے مگر ان کو تو صرف عورت کی آزادانہ بوس و کنار کی فکر ہے ان کو تو عورتوں کے بوائے فرینڈز کے روٹھ جانے کی فکر ہے اور ان کو صرف آزاد بے لگام معاشرے کے قیام کا ٹاسک ملا ہوا ہے
    یہ لوگ نا صرف دین اسلام سے بیزار ہیں بلکہ یہ لوگ تو انسانیت سے بھی بیزار ہیں اس ساری نام نہاد حقوق نسواں کی ٹیم کے کارکنان جیسا کہ ماروی سرمد،اداکارہ ریشم،منصور علی خان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور گستاخ احمد وقاص گورائیہ اور دیگر لوگ سب کے سب چیخ رہے تھے میرا جسم میری مرضی اور عورت پر ظلم بند کرو ان کو ان کے حقوق دو مگر اب کرونا سے متاثرہ عورتیں ان کی خاموشی پر حیران ہیں کہ تمہارے دعوے تو صرف بے شرمی اور بے حیائی پھیلانے تک ہی تھے اب ہم پوری دنیا و پاکستان کی کرونا سے متاثرہ عورتیں کسی سہارے کی منتظر ہیں کوئی ہمارا دکھ سمجھے کوئی ہمارے ساتھ بیٹھے ہمارے علاج کے حقوق کی صدائیں بلند کرے ہمارے لئے اعلی خوراک کا انتظام کرے تا کہ ہم اپنا جسمانی مدافعتی نظام طاقتور کرکے اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکیں مگر افسوس جعلی اور نام نہاد دعوے دار اب چپ کرکے مشکل کی اس گھڑی میں بیٹھ گئے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کے خلاف کرونا وائرس نا چمٹ جائے ہمارا جسم ہماری مرضی کا دعوے دار ٹولہ جان چکا ہے کہ جسم بھی اللہ کا اور مرضی بھی اللہ کی مگر اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
    ایسے لوگوں کو میرے رب نے اپنے فرمان میں منافق اور بدکردار کہا ہے اور یہ لوگ فسادی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے میں سے ہیں وہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں ،وہ بھول گئے اللہ تعالیٰ کو ،تو اس نے بھی بھلا دیا یقیناً منافق ہی نافرمان ہیں سورہ التوبہ آیت 67
    حالانکہ اب عورتوں کو ان کے پہلے حق صحت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ میرے رب کا فرمان ہے جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے ساری انسانیت کو بچایا سورہ المائدہ آیت 32
    مگر ان کھوکھلے نعرے لگانے والوں کی کرتوت کھل کر سامنے آ گئی ہے یہ صرف عورتوں کو بوس کنار اور سیکس ایجوکیشن کی طرف لے جانا چاہتے ہیں مگر اس پاک دھرتی کے غم خوار بیٹے جو کہ اپنے نبی کریم اور اپنے رب کے فرامین کے مطابق عورتوں ،بچوں،بوڑھوں اور مریضوں کے حقوق سے واقف ہیں وہ غم خوار انسانیت کے مددگار بے سروسامانی کیساتھ بھی ان عورتوں بچوں اور مردوں کی صحت کے حقوق کیلئے ڈٹ گئے ہیں اور دن رات ایک کرکے اس موذی مرض سے متاثرہ مریض عورتوں کا علاج شروع کر دیا اور ثابت کر دیا کہ ہم اصل دعوے دار ہیں حقوق نسواں کے ہم مان ہیں ان ماؤں ،بہنوں اور بیٹیوں کا اور پھر پورا ملک ایک جان ہو گیا فوج و پولیس کے جوان ملک کی سلامتی و بقاء کی خاطر گلیوں چوراہوں میں آ گئے پیرا میڈیکل سٹاف ڈاکٹروں کے شانہ بشانہ جڑ گیا،صحافی لوگوں کو باخبر رکھنے کیلئے دن رات ایک کئے باہر آ گئے ریسکیو 1122 کے جوان بھی بغیر نیند کی پرواہ کئے جت گئے محکمہ ڈاک نے بزرگ پینشروں تنخواہ دار عورتوں کے حقوق کی خاطر اس لاک ڈاؤن میں ان کی رقوم ان تک پہنچانے ان کے گھروں کی دہلیز تک پہنچے محکمہ بجلی نے لوگوں کی پریشانی جانتے ہوئے دن رات ایک کرکے لاک ڈاؤن میں بیٹھی عورتوں اور بچوں کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈال کا بجلی کی ترسیل کا کام بغیر رکاوٹ جاری رکھا سول گورنمنٹ کے اہلکاران و افسران نے ساری آسائشیں چھوڑیں اور قرنطینہ سنٹرز و ہسپتالوں میں زیر علاج عورتوں اور مریضوں کی ضروریات کیلئے دن رات ایک کرکے ان تک ہر چیز پہنچائی نیز پاکستان کا ہر محکمہ ہر پاکستانی تعصب اور گروہ بندی سے ہٹ کر ان عورتوں،بچوں بوڑھوں ،جوانوں اور مریضوں کے حقوق کی خاطر اپنی جان کی پرواہ کئے بنا کام کر رہا ہے مگر یہ نام نہاد حقوق نسواں کا جعلی ٹولہ کسی بل میں چوہے کی طرح چھپ کر بیٹھ گیا اور ڈر رہا ہے کہ ہمارے جسم کو ہماری مرضی کی سزا نا مل جائے مگر یہ لوگ جان جائیں اللہ کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں تو اے ظالموں اپنے رب سے ڈر جاؤ اور لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف

  • قصور میں ہوٹل مالک کی طرف سے مفت کھانا

    قصور میں ہوٹل مالک کی طرف سے مفت کھانا

    قصور
    غریب اور بےروزگار طبقے کے گھرانوں کی کفالت کا کام فرض سمجھ کر ہونے لگا
    بلھے شاہ ریسٹورنٹ پر پانچ دن سے چودہ سو سے پندرہ سو افراد کے کھانے کی تقسیم جاری اللہ کی رضا اور اپنا فرض سمجھ کر سب کچھ کر رہے ہیں اس کام کی تشہیر نہیں چاہتے ہوٹل مالک مہر بلال کا کہنا ہے کہ
    جو لوگ اپنے بچوں کا کھانا خود نہیں لے جاسکتے ان کے گھروں میں کھانا پہنچایا جارہا ہے
    جبکہ مستحق شہریوں نے بتایا کہ ہمیں تمام گھر کے افراد کے لیے کھانا فری مل رہا ہے

  • منافع خور رب کے عذاب سے بے خوف

    منافع خور رب کے عذاب سے بے خوف

    قصور
    بلیک مارکیٹنگ اور منافع خور وبائی مرض سے بھی نا ڈرے سپرٹ کلوروکین اور ماسک نایاب مرضی کی قیمتوں پر فروخت جاری
    تفصیلات کے مطابق قصور میں منافع خوروں اور بلیک مارکیٹنگ افراد کو وبائی مرض سے متاثرہ افراد کی پریشانی سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا 100 ایم ایل سپرٹ کی شیشی کی قیمت جو کہ چند دن قبل 20 روپیہ کی تھی وہ اب 30 سے 40 روپیہ میں مل رہی ہے اسی طرح کلوروکین نامی دوا اور سرجیکل ماسک تو بلکل ہی نایاب ہو کر رہ گئے ہیں ضلع بھر کے کسی بھی سٹور پر کلوروکین گولی اور سرجیکل ماسک بلکل بھی دستیاب نہیں لوگ مجبور ہوکر سرجیکل ماسک کے متبادل کپڑے کا ماسک استعمال کر رہے ہیں جو کہ 50 روپیہ میں فروخت ہو رہو ہے
    گورنمنٹ نوٹس لیتے ہوئے منافع خوروں کے خلاف کاروائی کرے اور ضرورت کی اشیاء کی فراہمی یقینی بنائے

  • جیل کا دورہ کوئی کیس مثبت نہیں

    جیل کا دورہ کوئی کیس مثبت نہیں

    قصور ڈپٹی کمیشنر قصور حنا ارشد کا ڈسڑکٹ جیل کا دورہ
    تفصیلات کے مطابق ڈی سی قصور حنا ارشد نے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے ڈسٹرکٹ جیل قصور میں حفاظتی اقدامات چیک کیے اور
    دوران وزٹ سپرٹنڈنٹ جیل غلام سرور سمرا ،ملک سرفراز ،حق نواز بھی ان کے ہمراہ تھے
    جیل ہذا میں کرونا کا کوئی بھی کیس مثبت نہیں ہے غلام سرور سمرا نے ڈی سی قصور کو بری

  • پتوکی کے لوگوں کی صدا

    پتوکی کے لوگوں کی صدا

    قصور
    پتوکی کے لوگوں کی صدا
    مرکزی انجمن تاجران پتوکی کے صدر رانا ممتاز علی خان سرپرست اعلیٰ حاجی محمد ارشد گولڈن ،حاجی عباس علی ،حاجی محمد اسلم ،فاروق علی سندھو ،حاجی عبدالغفور بھٹی ،شیخ محمد نعیم ،میاں سرفراز احمد ،ملک حافظ عابد اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں ڈی پی او قصور ،زاہد نواز مروت اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پتوکی میں فوری طور پر دوبارہ ایڈیشنل ایس پی قصور کو پتوکی میںتعینات کیا جائے تاکہ شہریوں کو 90 کلومیٹر دور قصور کے سفر سے نجات مل سکے انہوں نے کہا کہ پہلے بھی پتوکی میں ایڈیشنل ایس پی قصور کا دفتر قائم کیا گیا تھا اور ان کے تبادلہ کے بعد یہ سیٹ خالی ہے اور اب جب کہ نئے ایڈیشنل ایس پی قصور تعینات ہوچکے ہیں لہذا انہیں پتوکی دفتر میں بھجوایا جائے تاکہ وہ پتوکی دفتر میں ہی عوام کے مسائل سن کر انہیں موقع پر ہی حل کر سکیں

  • ایم ایس ذاتی کلینک چلانے لگا

    ایم ایس ذاتی کلینک چلانے لگا

    قصور کرونا الرٹ کی سنگین خلاف ورزی ایم ایس صاحب ہسپتال چھوڑ کر نجی کلینک چلانے لگے
    ایم ایس DHQ ہسپتال قصور ڈاکٹر لئیق نے پنجاب حکومت کے 24 گھنٹے ایمرجنسی کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ہسپتال چھوڑ کر اپنا پرائیویٹ کلینک 6 گھنٹے روزانہ چلا رہا ہے جبکہ ملک میں کورونا وائرس کےپیش نظر ایمرجنسی لاک ڈاؤن ہے۔
    وریز اعلی پنجاب عثمان بزدار صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسیمن صاحبہ اور ڈی سی قصور محترمہ حنا ارشد صاحبہ فوری نوٹس لے کر ہسپتال میں ایمرجنسی کو یقینی بنائیں اور ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے

  • احتیاط اور اذکار ایک ساتھ

    احتیاط اور اذکار ایک ساتھ

    قصور علماء کرام و لوکل کمیٹیوں کی اذکار مسنونہ پر مبنی اذکار کے لٹریچر کی تقسیم لوگ احتیاط اور اذکار کیساتھ کرونا کا مقابلہ کریں
    تفصیلات کے مطابق قصور شہر اور گردونواح کے علاقوں میں مقامی علماء و رہائشیوں پر بنی کمیٹیوں نے اذکار مسنونہ پر مبنی لٹریچر چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کئے جن پر وبائی امراض سے بچاؤ کی دعاؤں کیساتھ کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی رقم ہیں اور یہ ساری رقم کی گئی احتیاطی تدابیر حکومت کی طرف سے جاری کردہ ہی درج کی گئی ہیں اس کیساتھ حدیث کی رو سے شہد ،کلونجی و عجوہ کجھور کی افادیت بھی تحریر کی ہے لٹریچر تقسیم کرنے والوں نے لوگوں کو حکومتی جاری کردہ احتیاط کیساتھ اذکار مسنونہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور استدعا کی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں اپنے رب سے تعلق مضبوط کر لیجئے

  • لوگ باز نا آئے سختی کی ضرورت

    لوگ باز نا آئے سختی کی ضرورت

    قصور کی تحصیل چونیاں کے گلی محلوں اور مین بازاروں میں لوگ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے نظر آتے ہیں وہ بھی بغیر ماسک پہنے اور حفاظتی تدابیر کے بغیر اسسٹنٹ کمشنر چونیاں .ایس ایچ او تھانہ سٹی اور دیگر ذمہ داران سےاپیل ہے کہ شہر میں دن میں ایک دو بار ضرور گشت کریں تاکہ عوام گھروں میں رہیں اور اس وبائی کورونا کی وباء سے محفوظ رہ سکے ریاست اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کر رہی ہے مگر عوام اس انتہائی نازک معاملے کو مذاق کے طور پر دیکھ رہی ہے
    شہریوں کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی سختی سے اگر بڑے سانحے سے محفوظ رہ سکتے ہیں تو ہمیں یہ سختی کرنی چاہیے

  • آٹا دالوں اور چینی کا بحران

    آٹا دالوں اور چینی کا بحران

    قصور الہ آباد میں اشیاء خوردونوش کی قلت
    حکومت کی ناقص حکمت عملی آٹا، چینی اور دالوں کا بحران شدت اختیار کر گیا یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی آٹا، چینی اور دالوں کی مطلوبہ مقدار کے مطابق سپلائی نہیں دی جا رہی عوام شدید پریشان سپلائی کے لئے ٹرانسپورٹ کا نظام فوری طور پر ٹھیک کیا جائے
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد، تلونڈی، ارزانی پور ، کنگن پور اور چونیاں کے گردونواح کے سینکڑوں دیہات میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے آٹا، چینی اور دالوں کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے عوام سارا دن آٹا ، چینی اور دالیں ڈھونڈتے نظر آ رہے ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پہلے ہی مزدور اور محنت کش طبقہ شدید پریشان ہے لیکن حکومت کی ناقص حکمت عملی کی بدولت بڑے شہروں سے ٹرانسپورٹ مکمل بند ہونے سے مطلوبہ اشیاء کی سپلائی لائن معطل ہو چکی ہے حکومت نے فوری طور پر اگر نوٹس نہ لیا تو آٹا، چینی اور دالوں کا بحران مذید شدت اختیار کر سکتا ہے یوٹیلیٹی اسٹورز جن کی تعداد ضلع بھر میں تقریباً ایک درجن کے قریب ہے وہاں پر بھی عوام کا رش بڑھنے سے تمام اشیاء کی قلت پیدا ہو چکی ہے یوٹیلیٹی اسٹورز کو ڈیمانڈ کے مطابق چینی، آٹا اور دالیں مہیا نہیں کی جا رہیں مقامی شہریوں نے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے نظام کو فوری طور پر بہتر کیا جائے اور کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے بصورت دیگر موجودہ بحران شدت اختیار کر جائے گا

  • قصور میں دفعہ 144 کی سنگین خلاف ورزی

    قصور میں دفعہ 144 کی سنگین خلاف ورزی

    قصور دفعہ 144 کی شدید خلاف ورزی جاری لوگ بلا ضرورت گھروں سے نکلنے سے باز نا آئے
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں دفعہ 144 اور کرونا الرٹ کی شدید خلاف ورزی جاری ہے تاہم قصور شہر میں ابھی تک کرونا پازیٹو کیس کوئی بھی نہیں مگر اسی طرح سے لوگوں کی بدنظمی کی بدولت نقصان ہو سکتا ہے شہر کے اندر گلیوں محلوں اور قرب و جوار کے دیہات میں لوگ نا صرف بلا ضرورت گھروں سے نکل کر چل پھر رہیں بلکہ موٹر سائیکلوں پر دو سے تین تین افرد سوار ہو کر گھوم پھر بھی رہے ہیں جس سے کرونا الرٹ اور دفعہ 144 کا عمل غیر یقینی ہو کر رہ گیا ہے لہذہ انتظامیہ نوٹس لیتے ہوئے لوگوں کو خلاف ورزی کرنے سے روکے