Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • پولیس کی جانب سے رشوت وصولی

    پولیس کی جانب سے رشوت وصولی

    قصور
    تحصیل چونیاں پولیس نے کرونا وائرس لاک ڈاؤن کمائی کا ذریعہ بنا لیا
    پولیس کی سرپرستی میں کئی ہوٹل کھلے عام کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے میں مصروف شہریوں میں تشویش کی لہر،اعلیٰ احکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق چونیاں میں پولیس نے کرونا وائرس لاک ڈاؤن کمائی کا ذریعہ بنالیا حکومت پنجاب کی جانب سے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشات کی پیش نظر جزوی لاک ڈاؤن تحصیل چونیاں کے تمام پولیس تھانوں میں کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے تحصیل چونیاں کے مختلف شہروں الٰہ آباد،،کنگنپور،چونیاں،چھانگا مانگا،تلونڈی ودیگر علاقوں میں پولیس کی سرپرستی میں کھلے عام ہوٹلز مالکان چائے ودیگر کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں رشوت نہ دینے والے دکان داروں سمیت ریڑھی بانوں کو گرفتار کر کے ان سے رہائی کے لیے مبینہ طور پر بھاری رشوت طلب کرنے کی بھی شکایات کی جارہی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کے واضح احکامات کے باوجود کریانہ سٹور،بیکری، سمیت دیگر ا شیاء و خوردو نوش کا سامان فروخت کرنے والے دکان داروں کو پریشان کررہی ہے تحصیل چونیاں میں پولیس کی جانب سے کرونا وائرس کے سے نمٹنے کی بجائے شہریوں اور دکان داروں کو تنگ کرنے سمیت سرپرستی میں چلنے والے ہوٹلز پر شہروں حلقوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑرہی ہے عوامی وسماجی حلقوں نے مرکزی تحصیل پریس کلب چونیاں کے صحافیوں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ احکام پولیس کی رشوت وصولی سرگرمیوں کا نوٹس لے کر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاکر شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے

  • لاک ڈاؤن میں تیزی

    لاک ڈاؤن میں تیزی

    قصور
    منڈی عثمان والا میں پولیس نے کورونا کے حوالے سے لاک ڈاؤن کے لئے آپریشن تیز کر دیا
    تاجروں کا خیر مقدم شہریوں نے دکانیں بند کر دی پولیس کی طرف سے لمحہ با لمحہ لاک ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لئے گشت جاری عوام الناس کوکورونا کےحوالے سے حفاظتی انتظامات کے متعلق آگاہی بھی دی جارہی ہیں مارکیٹس شاپنگ سنٹرز اور کھیلوں کی جگہ کو بند کر دیا گیا اور لوگوں کو گھر میں رہنے، ڈبل سواری اور غیر ضروری سفر سے پرہیز کے لئے بھی سختی سے اقدامات کو ممکن بنایا جا رہا ہے

  • گھر گھر سکریننگ کا عمل جاری تاہم کوئی کیس نہیں

    گھر گھر سکریننگ کا عمل جاری تاہم کوئی کیس نہیں

    قصور اور گردونواح میں چند دن قبل عمرہ کرکے آنے والوں کی ان کے گھروں میں جا کر سکریننگ کا عمل جاری قرنطینہ ہاؤس قرار
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے محکمہ صحت اور پولیس کی مشترکہ ٹیمیں چند دن قبل عمرہ کرکے آنے والوں کے گھروں میں جا کر ان افراد کی سکریننگ کر رہی ہیں اور سکریننگ کرنے کے بعد اس گھر کے باہر ایک ہدایتی سلپ بھی لگا رہی ہیں جس میں لوگوں کو چند دن کیلئے اس گھر سے زیادہ میل نا رکھیں کی ہدایت کی گئی ہے اور عمرہ کرکے آنے والے افراد کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ بلا ضرورت گھروں سے مت نکلیں تاہم عمرہ کرکے آنے والے افراد میں سے کسی بھی فرد میں کرونا کے تاثرات نہیں پائے گئے

  • تالے توڑ گینگ سر گرم

    تالے توڑ گینگ سر گرم

    قصور
    چونیاں ڈکیتی چوری کا سلسلہ تھم نہ سکا، تالا توڑ گینگ سرگرم
    بلمقابل اسلامیہ سکول کینٹ والی گلی میں سرکاری ٹیچر کے گھر چوری کی واردات
    نامعلوم چور تالے توڑ کر نقدی، زیوارات اور دیگر قیمتی سامان لے گئے

    چونیاں سرکل بھر میں چوریوں، ڈکیتیوں، نوسر بازی اور راہزنی کی وارداتوں کا سلسلہ عروج پر ہے جس سے شہری سخت پریشان ہیں

  • پینشنرز اور تنخواہ داروں کیلئے خوشخبری

    پینشنرز اور تنخواہ داروں کیلئے خوشخبری

    قصور
    پینشنرز اور تنخواہ دار سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری
    تفصیلات کے مطابق کرونا واٸرس کی وبا کی وجہ سے اس مشکل گھڑی میں پنشنرز اور سرکاری ملازمین تنخواہوں اور پنشن کی وجہ سے بالکل پریشان نہ ہوںبروقت اداٸیگی کے لیے ڈسٹرکٹ اکاٶنٹس آفس قصور مکمل طور پر فنکشنل ہے
    اکاؤنٹس آفیسر قصور نے گورنمنٹ کی طرف سے لوگوں کے نام پیغام جاری کر دیا ہے کہ آفیسرز و اسٹاف ڈسٹرکٹ اکاٶنٹس آفس اور محکمہ ڈاک لوگوں کو ان کے گھروں تک رقم پہنچائے گا

  • لاک ڈاؤن جاری سول گورنمنٹ کیساتھ فوج تعینات

    لاک ڈاؤن جاری سول گورنمنٹ کیساتھ فوج تعینات

    قصور میں لاک ڈاؤن جاری ہسپتال،کلینکس،پیٹرول پمپ و کھانے پینے کی دکانیں کھلی
    تفصیلات کے مطابق قصور میں لاک ڈاؤن جاری ہے سول گورنمنٹ کیساتھ فوج و رینجر بھی معاونت کر رہی ہے شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر پولیس کے ساتھ فوج کے جوان بھی تعینات ہیں جو کہ غیر ضروری سفر کرنے والے شہریوں کو واپس گھروں میں بھیج رہے ہیں جبکہ سبزی،فروٹ،کریانہ و دودھ فروشوں کو پوچھ گچھ کے بعد شہر میں داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے پورے شہر میں کریانے،سبزی و پھل ،دودھ دہی اور بیکریاں کھلی ہیں جبکہ دیگر دکانیں بند ہیں ضلعی انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری گھروں سے مت نکلیں اور سودا سلف لینے نکلتے وقت ماسک کا ستعمال کریں

  • لاک ڈاؤن بارے اعلامیہ

    لاک ڈاؤن بارے اعلامیہ

    قصور
    چونیاں میں اے سی کی طرف ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹرانسپورٹ چھوٹی یا بڑی شہریابیرونشہر چلانے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔
    کوئی بھی شخص ایک
    شہر یا گاؤں سے دوسرے شہر یا گاؤں غیر ضروری سفر نہیں کر سکے گا ۔موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
    بہت ہی ضروری یا خریداری کی صورت میں بمعہ شناختی کارڈ شہر کے اندر موومنٹ کی جا سکے گی اور وہ بھی ماسک کے ساتھ
    فروٹ شاپس ۔کریانہ ۔گراسری شاپ ۔ ریڑھی۔پر ایک وقت میں ایک گاہک ہو سکے گا۔ رش کی یا چار سے زائد کی اجازت نہیں ہو گی۔لیکن دکاندار اور گاہک کو ماسک وغیرہ لگانا لازمی ہوگا
    ایمرجنسی کی صورت میں ڈاکٹر کے پاس موٹر سائیکل یا گاڑی وغیرہ پر ایک خاتون یا فرد کو بٹھا کر لیجایا جا سکتا ہے۔
    شہر کے محلے میں ایک تندور برائے روٹیاں لگانے کی اجازت ہوگی وہاں پر بھی ایک سے زائد لوگ نہیں کھڑے ہو سکیں گے۔ دکاندار اور گاہک کو ماسک لازمی پہننا ہوگا

    ڈاکٹر کے پاس کسی ایمرجنسی کی صورت میں اپنی سواری پر دو افراد جا سکیں گےوہ بھی قریب ترین جگہ پر بمعہ ماسک۔

    میڈیا کے ورکنگ جرنلسٹس جن کے پاس اپنا ادارے کا کارڈ ہوگا بمعہ کیمرہ مین اپنی حدود شہر میں رپورٹنگ کر سکے گا ۔
    دوسرے شہر میں رپورٹنگ یا سفر کی اجازت نہیں ہوگی
    جنازے کی صورت میں کم سے کم گیدرنگ ہوگی ۔اور ایک آدمی دوسرے آدمی سے تین فٹ دوری پر ہو گا اور کم سے کم وقت دیا جائے گا
    پٹرول پمپس کھلے ہونگے رش نہیں کوئی دکان نہیں۔ ماسک اور تمام حفاظتی اقدامات اور ایس او پی کے ساتھ
    بنک کھلے رہینگے ۔لیکن رش نہیں۔ چار سے زائد افراد اندر یا باہر اکٹھے نہیں ہو سکتے

    یہ جزوی لاک ڈاؤن 24 مارچ سے 7 اپریل کی رات 12بجے تک ہو گا

    کھاد ڈیلر ۔زرعی ادویات آن لائن ۔ اپنی گاڑی پر جا کر سروس مہیاء کی جا سکے گی ۔پبلک کو نمبر شئیر کر دئیے جائیں گے۔ایس او پی کے مطابق۔

    آٹا شاپس کھلی رہیں گی ۔ کسی بھی دکان پر رش نہیں کر سکتے دکاندار اور گاہک کا ماسک پہننا ضروری ہوگا۔

    خدانخواستہ کسی ایمر جنسی کی صورت میں کسی بڑے شہر میں مریض کو ڈاکٹر کی ہدایت پر شفٹ کیا جا سکے گا۔

    کوئی بھی غیر ضروری موومنٹ شہر یا بیرون شہر کی اجازت نہیں ہو گی خلاف ورزی میں گرفتار کر لیا جائے گا۔

    اس لاک ڈاؤن کو کافی سارے ادارے مانیٹر کریں گے ۔بلاوجہ گیدرنگ ۔موومنٹ سے گریز کریں صرف اور صرف گھر کے اندر رہیں ۔

  • قصور شہر میں 80 جبکہ دیہات میں 10 فیصد لاک ڈاؤن

    قصور شہر میں 80 جبکہ دیہات میں 10 فیصد لاک ڈاؤن

    قصور شہر میں 80 فیصد لاک ڈاؤن جبکہ دیہات میں سرعام خلاف ورزی
    تفصیلات کے مطابق قصور شہر میں آج صبح 9 بجے کے بعد تقریبا 80 فیصد لاک ڈاؤن ہے جبکہ گردونواح کے دیہات لاک ڈاؤن محض 10 فیصد ہے لوگ کاسمیٹکس،کپڑے،موباہل شاپس کھول کر بیٹھے ہیں جبکہ دفعہ 144 کے تحت 4 سے زائد افراد کا اکھٹے ہونا ممنوع ہے مگر پھر بھی لوگ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور موٹر سائیکلوں کا بھی گاؤں دیہات میں خوب زور شور ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے لوگ گھروں میں بیٹھنے کے گلی محلوں میں گھوم پھر رہے ہیں چونکہ پولیس کی جانب سے ابھی دیہی علاقوں میں فلیگ مارچ نہیں کیا گیا اور دکانیں بھی بند نہیں کروائی گئیں اس لئے لوگ سوچ رہے ہیں شاید دیہات میں کوئی لاک ڈاؤن نہیں لہذہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس دیہاتوں میں بھی لاک ڈاؤن یقینی بنائے تاکہ حکومتی منشور کو پورا کیا جا سکے

  • بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار  تحریر: غنی محمود قصوری

    بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال 23 مارچ کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے سرکاری طور پر فوج کی جانب سے پریڈ کی جاتی ہے اور اس دن ہم یوم پاکستان مناتے ہیں مگر اس سال عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے یہ سارا کچھ کیوں ہے اس کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا
    یوں تو دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی بنیاد اسی دن ہی پڑ گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر راجہ داہر کے ظلم کے خلاف حملہ کیا تھا اور پھر اس کے بعد ہر آنے والے مسلمان جرنیل نے ہندو کی ٹھکائی کرکے دو قومی نظرئیے کو تقویت دی
    قیام پاکستان کا منصوبہ 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل کو پہنچا مگر اس پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے کامیاب بنانے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں
    انگریز و ہندو سے تنگ مسلمان نے مسلم لیگ اور اپنے مسلمان قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کیلئے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا
    علامہ علیہ رحمہ نے 1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انہیں مخاطب کرکے لکھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے
    اس پیغام کو جناب محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لئے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور ان کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزرا ممکن نہیں اور ہندو کیساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے اس لئے قیام پاکستان کیلئے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں
    مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22،اور 23 مارچ 1940 کو طے تھا جسے رکوانے کیلئے انگریز انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان اس جلسے کو نا کر سکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا سو 19 مارچ کو جزبہ آزادی سے سرشار مسلمانوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم تھے 21 مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا قائد اعطم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کیساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نا تھی قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظرئیے کو اجاگر کرنا تھا اس لئے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہذہ یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لئے الگ ملک پاکستان بنائینگے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کیساتھ زندگی بسر کر سکیں گے قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق بنگالی،چویدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا
    اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں ،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نا ہوا تھا مسلمانوں نے قائد اعظم زندہ باد،سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائینگے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں انگریز و ہندو کے سامنے سینہ سپر ہو گے اور اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر 14 اگست 1947 کو پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے
    آج ہمیں بھی پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے علامہ محمد اقبال،قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے کارکنان جیسا عزم چاہئیے تاکہ دو قومی نظرئیے اور پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا پر واضح ہو سکے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو

  • قصور  میں 3 مشتبہ مریض داخل حتمی بات ٹیسٹوں کے بعد

    قصور میں 3 مشتبہ مریض داخل حتمی بات ٹیسٹوں کے بعد

    قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں نور پور کے رہائشی کرونا وائرس سے مشتبہ شخص اور ایک فیمیل ٹیچر کیساتھ قادر آباد قصور کے رہائشی کو آئیسولیشن وارڈ میں داخل کرلیا گیا
    تفصیلات کے مطابق علی احمد نور پور کا رہائشی اور پیشے سے ڈرائیو ہے جبکہ خاتون فیمیل ٹیچر اور ایک اور مشتبہ شحص قادر آباد قصور کا رہائشی ہے کو آئیسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے جن کے ٹیسٹ آنے پر پتہ چلے گا کہ ان کے ٹیسٹ پازیٹیو ہیں یاں نیگیٹو
    پتہ چلا ہے کہ نور پور قصور کے رہائشی علی احمد کا دوست چائنا سے آیا تھا اور علی احمد اس کے ساتھ تین دن مانسہرہ رہا ہے
    ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے شک پر ان کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں رپورٹ آنے پر کنفرم ہوگا
    مشتبہ کورونا وائرس مریضوں کے ٹیسٹٹ کے نمونہ جات کو لاہور بجھوا دیا گیا ہے