Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • کیا پاکستان موجودہ حالات میں فرقہ واریت کا متحمل ہوسکتا ہے !!! تحریر: غنی محمود قصوری

    کیا پاکستان موجودہ حالات میں فرقہ واریت کا متحمل ہوسکتا ہے !!! تحریر: غنی محمود قصوری

     

    اس وقت پوری دنیا اور عالم اسلام کرونا وائرس (کووڈ 19) کی لپٹ میں ہے اس وبائی مرض کی بدولت ہر انسان پریشان ہے تمام انسان خصوصاً مسلمان ایک دوسرے کے غم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ میرے نبی کریم کی حدیث ہے کہ
    سب مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں اگر اس کی آنکھ دکھے تو اس کا سارا جسم دکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں درد ہو تو سارا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے (صحیح مسلم)
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیا ہے اور آج پوری دنیا کی طرح پاکستانی مسلمان بھی اس کرونا نامی مرض کا شکار ہیں اور ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کر رہے ہیں مگر افسوس کہ اس مشکل وقت میں بھی چند بے ضمیر مفاد پرست لوگ اللہ سے ڈرنے کی بجائے فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں
    چونکہ بیماری کا لگ جانا کسی کے بس کی بات نہیں لہذہ کسی کو بیماری لگنا پھر اس سے کسی دوسرے کو بیماری لگ جانا بھی کسی انسان کے بس کی بات نہیں اور نا ہی کوئی شحض چاہتا ہے کہ وہ خود بیمار ہو اور اس کے ذریعے دوسرے لوگ بھی اس بیماری کے شکنجے میں آئیں
    چین کے شہر ووہان سے دسمبر 2019 میں کرونا وائرس کی شروعات ہوئی اور آج اس وقت یہ وبا 200 ممالک تک پہنچ چکی ہے مگر پاکستان میں یہ مرض فروری کے آخر میں شروع ہوئی اور سب سے پہلے یہ مرض بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں سے نمودار ہوئی اب تک ہزاروں لوگ ادائیگی عمرہ کرکے اور دیگر ممالک سے واپس آئے ہیں مگر افسوس کہ آج صرف تین طبقوں کو ہی کرونا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے نمبر ایک ایرانی زائرین نمبر دو تبلیغ جماعت اور نمبر تین ادائیگی عمرہ کرکے آنے والے مسلمان
    یہ بات سچ ہے کہ ابتک سینکڑوں ایرانی زائرین وطن واپس آ چکے ہیں جن کی بدولت کافی لوگوں کو کرونا وائرس کی بیماری کا سامنا کرنا پڑا مگر اس میں قصور ان آنے والے زائرین کا نہیں بلکہ ہمارے ہمسائے ملک ایران اور گورنمنٹ پاکستان کا ہے کیونکہ مرض وبا کی صورت اختیار کر چکی تھی اس لئے چائنہ کی طرح ایران کو بھی چاہئیے تھا کہ پاکستانی زائرین کو اپنے ہاں قرنطینہ سنٹرز بنا کر صحت یاب ہونے تک روکے رکھتی دوسری طرف جبری ایران سے نکالے گئے زائرین کو بارڈر پر قرنطینہ سنٹرز میں نا رکھ کر وبا کو وسعت دینے میں گورنمنٹ کی سستی بھی شامل ہے اسی طرح تبلیغی مرکز رائیونڈ سے بھی کافی زیادہ تبلیغ جماعت کے لوگوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس پر کچھ لوگ سارا ملبہ تبلیغ جماعت پر ڈال رہے ہیں جیسے ایرانی زائرین کو واپس اپنے ملک پاکستان آنے کا حق حاصل ہے بلکل ویسے ہی تبلیغ جماعت کے کارکنان کو بھی مملکت پاکستان میں دعوت و تبلیغ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے
    چونکہ ایرانی زائرین کے پاکستان میں داخلے پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی اور تبلیغ جماعت کو بھی روکا نہیں گیا تھا اس لئے ان میں سے کسی کو بھی وبا پھیلانے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا ہاں اب جبکہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے اور تمام سیاسی ،گھریلوں و مذہبی اجتماعات پر پابندی لگ چکی ہے اب اگر کوئی اس پابندی کو توڑتے ہوئے اجتماعات کرے تو اسے مورو الزام ٹھہرایا جائیگا ناکہ بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں ،ایرانی زائرین، تبلیغ جماعت اور عمرہ ادائیگی کرکے آنے والوں کو البتہ اگر کوئی ذاتی عداوت کی بناء پر کسی دوسرے فرقے کو قصور وار ٹھہرائے تو ایسے افراد فرقہ واریت کے پجاری ہیں اور ایک جسم کے مانند ہونے کی نبوی حدیث کے منکر بھی لہذہ اس مشکل وقت میں نبوی فرمان کے مطابق ایک جسم بن کر جسم کے دوسرے حصے کا دکھ درد محسوس کرکے سچے مسلمان اور پاکستانی ہونے کا ثبوت دیجئے نا کہ شیطان کو راضی کرتے ہوئے فرقہ واریت کا پرچار کیجئے لہذہ فرقہ واریت نا پھیلائیں کیونکہ نا تو یہ ملک پہلے فرقہ واریت کا متحمل تھا اور نا ہی اب بس جاری کردہ احتیاطی تدابیر اور بتائے گئے نبوی اذکار کیساتھ اپنے گھروں میں رہ کر خود بھی بچیں اور اس ارض پاک کی سلامتی کیلئے دوسروں کو بھی بچنے دیجئے

  • رپورٹر کی فیملی پر قاتلانہ حملہ

    رپورٹر کی فیملی پر قاتلانہ حملہ

    قصور
    پتوکی میں نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر کی ہمشیرہ اور بھانجے پر ملزم کی گھر میں گھس کر فائرنگ رپورٹر کی بہن اور بھانجا زخمی ہسپتال منتقل
    فائرنگ کے نتیجہ میں ثریا بی بی بیوہ جسکے تین بیٹے اور بیٹیاں ہے کا ایک پاؤں ضائع ہوگیا اور دوسرا فائر پنڈلی میں لگا اور اس کا بیٹا شدید زخمی جن کو طبی امداد کیلئے لاھور ہسپتال ریفر کردیا گیا
    یہ واقع محلہ چراغ پارک میگا روڈ پر کل شام کو پیش آیا
    ملزم علی شیر اندھا دھند فائرنگ کرکے موقع سے فرار ہوگیا
    اطلاع ملتے ہی تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے

  • سرکاری آٹا چکی آٹا میں ملا کر 2400 من

    سرکاری آٹا چکی آٹا میں ملا کر 2400 من

    قصور
    الہ آباد چکی آٹا مالکان بے لگام 2400 روپے فی من آٹا کی فروخت جاری انتظامیہ خاموش تماشائی یا کورونا وائرس کی روک تھام میں مصروف مقامی شہریوں کی اے سی چونیاں اور ڈی سی قصور سے نوٹس لینے کی اپیل
    تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والا لاک ڈاؤن کا ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کی طرح چکی آٹا مالکان نے بھی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے بارہ سو روپے فی من گندم خرید کر سٹاک کر کے چوبیس سو روپے تک فی من آٹا فروخت کر رہے ہیں چکی آٹا مالکان نے لاک ڈاؤن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غربت کے ہاتھوں مجبور خواتین کو سو روپے فی تھیلا کا لالچ دے کر رکھا ہے اور ایسی خواتین سارا دن آٹے کے سرکاری ڈپو کے چکر لگاتی رہتی ہیں اور سرکاری ریٹ پر آٹا خرید کر چکی مالکان کو دے دیتیں ہیں جو بازار کے ناقص آٹا کو خالص آٹا میں ملا کر انتہائی مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں انجمن اہلیانِ الہ آباد کے صدر چوہدری محمد اقبال کمبوہ اور دیگر شہریوں نے اے سی چونیاں اور ڈی سی قصور سے اپیل کی ہے کہ آٹا چکی مالکان کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے اور ان کو بھاری جرمانوں کے علاوہ جیل کی ہوا بھی کھلائی جائے

  • قمار بازی رقم سمیت گرفتار

    قمار بازی رقم سمیت گرفتار

    قصور
    الہ آباد پولیس کی کاروائی تین قمار باز گرفتار مقدمہ درج تفتیش شروع
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد پولیس نے گزشتہ روز ڈی ایس پی چونیاں خالد اسلم کی خصوصی ہدایت پر کاروائی کرتے ہوئے تین قمار بازوں کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے ملزمان سے ہزاروں روپے کی رقم بھی برآمد ہوئی ہے معززین علاقہ صدر انجمن شہریان الہ آباد چوہدری محمد اقبال کمبوہ اور ایکس وائس چیئرمین میونسپل کمیٹی الہ آباد سردار فیصل عطا ڈوگر وغیرہ نے ایس ایچ او الہ آباد سردار رمضان ڈوگر کو جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے ایس ایچ او الہ آباد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں

  • کلینکس فارمیسی سیل

    کلینکس فارمیسی سیل

    قصور
    میڈیکل سٹور سیل کر دیا گیا وجہ حفاظتی اقدامات نا کرنا

    تفصیلات کے مطابق کلینکس فارمیسی کی برانچ اے سی انعم زاہد نے سیل کردی
    سٹاف کے فیس ماسک نا پہننے ،سرجیکل گلوز نا پہننے ۔ کسٹمرز کو ہینڈ سینی ٹائزر نا لگانے اور کسٹمرز کے درمیان مناسب فاصلہ نا رکھنے کی وجہ سے سیل کیا گیا
    بتایا گیا ہے کہ سٹور عملے کو پہلے بھی وارننگ دی گئی تھی مگر اس پر عمل درآمد نا کرنے پر سیل کیا گیا ہے

  • قصور میں آٹے کی قلت شدت پکڑ گئی

    قصور میں آٹے کی قلت شدت پکڑ گئی

    قصور میں آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا انتظامیہ بے بس لوگ سخت پریشان
    تفصیلات کے مطابق قصور میں آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کر دی گئی ہے جو کہ شدید ہو چکی ہے شہری آٹا لینے کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں مگر کسی بھی سٹور و دکان پر آٹا دستیاب نہیں دکانداروں کا کہنا ہے کہ مل مالکان ہمیں آٹا نہیں دے رہیں نیز آٹا چکیوں پر بھی شہریوں کو آٹا نہیں مل رہا جس سے شہری سخت پریشان ہیں ضلعی انتظامیہ آٹا کی مصنوعی قلت کو رکوانے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے شہریوں نے وزیراعلی پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • یونیورسٹی کے طالب علم سخت پریشان

    یونیورسٹی کے طالب علم سخت پریشان

    لاہور
    یونیورسٹی آف لاہور کے طالب علم آن لائن لیکچر سے پریشان سمسٹر شفٹ کرنے کا مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی آف لاہور میں ڈاکٹر آف میڈیکل لیب سائنس اور دیگر شعبہ جات کے طلبہ و طالبات یونیورسٹی انتظامیہ کے آن لائن لیکچرز سے پریشان ہیں ان کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے آئے مختلف شہروں و دیہاتوں میں رہنے والے طلبہ کو انٹرنیٹ کی دشواری کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ اگر مقررہ وقت پر آن لائن نہ ہوں تو ان کی غیر حاضری لگا دی جاتی ہے جو کہ سرا سر نا انصافی ہے اور انٹرنیٹ کی صورتِ حال بھی کچھ خاص نہیں بلکہ یونیورسٹی کا سسٹم اور ویب سائٹ بھی اکثر کریش کر جاتی ہے ان کا مذید کہنا کہ ہماری آن لائن کلاسز میڈیکل لیب میں پریکٹیکل کے بغیر کسی کام کی نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے لاکھ روپے سے زائد فیس اساتذہ سے پریکٹیکل کے ذریعے سیکھنے کیلئے ادا کی ہے تاکہ ہم پریکٹیکل ورک کر سکیں مذید یہ کہ یونیورسٹی انتظامیہ سے متعدد بار سمسٹر کو سمر میں شفٹ کرنے کی درخواست کرنے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ نے تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا حالانکہ ایسا قبلِ عمل ہے طالب علموں نے وزیر تعلیم، وزیر اعلیٰ پنجاب و اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • ریسکیو 1122 کی زبردست خدمات

    ریسکیو 1122 کی زبردست خدمات

    قصو ر
    ریسکیو 1122 نے مارچ کے مہینے میں 1827ریسکیوآپریشن انجام دئیے انچارج ریسکیو قصور انجینئرسلطان محمود
    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمر جنسی آفیسر ریسکیو 1122قصور انجینئر سلطان محمود کی زیر صدارت ماہانہ اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں گزشتہ ماہ کے دوران ریسکیو سروس کی کارگردگی کا جائزہ لیا گیا ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئرسلطان محمود نے گذشتہ ماہ کی اہم سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ صحت کے ساتھ مل کر ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنزاور ریسکیو ڈرائیورز کو مخصوص ذاتی حفاظتی آلات کے ساتھ مشتبہ کرونا مریضوں تک رسائی اور ان کو ایمبولینس کے ذریعے متعلقہ ہسپتال میں منتقلی،بعداز منتقلی لباس کو تلف کرنے ایمبولینس کو جراثیم کش ادویات سے پاک کرنا اور دیگر ضروری اقدامات کے بارے میں تربیت فراہم کی گئی ہے جبکہ شہر کے اہم شاہراؤں اور چوراہوں پر جراثیم کش سپرے بھی کیا گیا ہے موجودہ ملکی صورتحال کے پیشِ نظر تمام ریسکیورز کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں ہیں اور تمام اہلکاروں کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کرونا کی وبا سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹاجا سکے۔ہمیشہ کی طرح اس صورتحال میں بھی ریسکیورز نے فرنٹ لائن ورکرزکے طورپر اپنی خدمات جاری رکھیں ہوئیں ہیں جس کے تحت مشتبہ کرونا مریضوں کو مکمل حفاظتی اقدامات کے ساتھ ہسپتالوں اور قرنطینہ سینٹرز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ریسکیو ٹیمیں اب تک 24 مشتبہ کرونامریضوں کو اسپتال منتقل کر چکی ہیں جن میں سے بیشتر کے ٹیسٹ نیگیٹو آ چکے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کی عوام کو اس کو مشکل وقت میں گبھرانا نہیں چاہیے ہم سب مل کر کرونا وائرس کا مقابلہ کریں گے اور اس کو شکست دیں گے اجلاس کے اختتام پر ماہانہ کارگردگی رپورٹ جاری کی گئی۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 قصورنے مارچ کے مہینے میں 1827 ریسکیو آپریشنز انجام دیے ان آپریشنزمیں 1946ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیوکیاجن میں سے 184افراد کو موقع پرطبی امداد دی گئی46 افراد مختلف حادثات میں جاں بحق ہو ئے اس کے علاوہ 1716افراد کو طبی امداد دیتے ہوئے ہسپتال منتقل کیا لڑائی جھگڑے اور فائرنگ کے,48روڈ ٹریفک ایکسیڈنٹ 609میڈیکل 971 3 عمارتیں گرنے کے بھی 6واقعات رپورٹ ہوئے اس دوران سروس نے سات منٹ سے کم اوسط ریسپانس ٹائم بھی برقرار رکھا جبکہ روزانہ اوسط ایمرجنسی کی تعداد59رہی مارچ کے مہینے میں قصورمیں آگ لگنے کے18حادثات میں بروقت اور جدید طرز پر فائر فائٹنگ کرتے ہوئے حادثات کو سانحات بننے سے بچا یا گیا جس سے شہریوں کو احساس تحفظ فراہم ہوا۔اس کے علا وہ عو ا م ا لنا س کو بہتر میڈیکل سہولیات ا و ر مفت ایمبو لینس سروس کے تحت ضلع قصور میں ریسکیو 1122 نے کل431 مریضوں کو لا ہور کے مختلف ہسپتا لوں میں منتقل کیا جس سے مریضوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات میسر ہوئیں

  • اتائی متحرک ہو گئے

    اتائی متحرک ہو گئے

    قصور
    پتوکی کے علاقے سرائے مغل کے نواحی علاقوں ہنجرائے کلاں ۔شیخم ۔ہلہ بہڑول کلاں ۔میگہ۔بلوکی ۔سندھو کلاں اور دیگر علاقے میں کرونا وئرس کی آڑ میں پرائمری مڈل اور میٹرک پاس عطائی ڈاکٹروں نے اپنا دھند عروج پر کر دیا انسانی جانوں سے سرے عام کھلاوڑ ڈرگ انسپکٹر پتوکی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پتوکی اور انتظامیہ عطائی ڈاکٹروں کے آگے بے بس۔ ڈرگ انسپکٹر سے جب مواقف لیا گیا تو ڈرگ انسپکٹر نے کہا کہ یہ کون سا پیدا ہوتے کام کر رہے ہیں انھوں نے کچھ نہ کچھ سیکھا ہوا ہے ۔ڈرگ انسپکٹر پتوکی نے ایک شوکت نامی پرائیویٹ بندہ رکھا ہوا ہے جو ماہانہ کی بنیاد پر منتھلی وصول کرتا ہے اور وصولی کی رقم اکھٹی کر کے ڈرگ انسپکٹر کو دیتا ہے عوام جو پہلے ہی کرونا وئرس سے پریشان ہے ڈرگ انسپکٹر کی منتھلی کی وجہ سے کھبی بھی جانی نقصان ہو سکتا ہے عوام کا اہل احکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ

  • دودھ کی قیمتیں نصف

    دودھ کی قیمتیں نصف

    قصور
    شہر اور گردونواح میں دودھ کی مانگ میں کمی کیساتھ ہی قیمتیں نصف کم ہو گئیں لوگ گھر گھر جا کر 50 روپیہ فی لیٹر بیچنے پر مجبور
    تفصیلات کے مطابق لاک ڈاؤن کی بدولت قصور شہر میں دودھ کی مانگ میں نمایا کمی واقع ہوئی ہے لاک ڈاؤن کی بدولت لوگوں کے روزگار بند ہیں جس سے ان کے پاس دودھ خریدنے کے لئے پیسے نہیں اس پیش نظر دکانوں پر دودھ کی فروخت انتہائی کم ہو کر رہ گئی ہے دکاندار گوالوں سے کم دودھ خرید رہے ہیں جس کی بابت گوالے بچے ہوئے دودھ کو قرب و جوار کے گلی محلوں و دیہات میں 50 روپیہ فی لیٹر فروخت کر رہے ہیں یہی دودھ چند دن قبل تک کوئی بھی دکاندار و گوالا 100 روپیہ سے کم فروخت کرنے کو تیار نا تھا مگر اب مجبوری کی بدولت 50 روپیہ فی لیٹر فروخت کرکے دودھ کو مکمل ضائع ہونے سے بچایا جا رہا ہے کیونکہ گائیں بھینسیں تو دودھ دینے سے ناغہ نہیں کرتیں اور نا ہی چارہ کھانے سے کرتیں ہیں