قصور بھر اور گردونواح میں آوارہ کتوں کی بہتات
کئی لوگ کتوں کے شکار ہو گئے ضلعی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف
تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ قصور اور ٹی ایم اے کی نااہلی کی وجہ سے شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات ہو گئی ہے جس سے آئے روز آوارہ کتے لوگوں کو کاٹ رہے ہیں صرف رواں ماہ میں کتا کاٹنے کے مریضوں میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے
اب تک ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں 301 رجسٹرڈ مریضوں کو کتا کاٹنے کی ویکسین دی گئی ہے جبکہ پرائیویٹ ویکسین بہت مہنگی ہے جو کہ ہر بندہ نہیں لگوا سکتا اس لئے گورنمنٹ کی طرف سے مریضوں کو مفت ویکسین لگائی جاتی ہے
Author: غنی محمود قصوری

آوارہ کتوں کی بہتات اب تک 301 لوگوں کو کاٹ لیا

پرائیویٹ سکول بچوں کی فیسوں اور صحت کے دشمن
قصور
پرائیویٹ سکول و کالجز مالکان نے پنجاب گورنمنٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے بچوں کو چھٹیاں نہیں دیں بلکہ بچوں کو بغیر یونیفارم کے سکول آنے کا پابند کر دیا
تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ کی طرف سے 20 دسمبر سے 5 جنوری 2020 تک بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہیں جس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرکے تمام سرکاری و نجی سکولوں کو پابند کیا گیا مگر قصور اور گردونواح میں قائم چند ایک نجی سکول و کالجز نے گورنمنٹ کے حکم کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے اور مذید ظلم کی انتہا کہ کچھ پرائیویٹ سکول تو بچوں کے باقاعدہ سالانہ امتحانات بھی لے رہے ہیں قانونی اور کاروائی سے بچنے کیلئے سکول و کالجز مالکان نے بچوں کو سخت احکامات دیئے ہیں کہ سکول و کالجز لازمی آئیں مگر بغیر یونیفارم کے آئیں تاکہ کسی بھی قسم کے چھاپے کی صورت میں ٹیوشن کا بہانہ بنا کر قانونی کاروائی سے بچا جا سکے
گورنمنٹ نے سخت سردی و دھند کی بدولت چھٹیاں دی ہیں تاکہ بچے موسمی اثرات سے بچ سکیں اور ان کی صحت پر برے اثرات نا پڑیں مگر ہوس اور رینکنگ کے مارے پرائیوٹ سکول و کالجز نے بچوں کی جسمانی و دماغی صحت کو داءو پر لگا رکھا ہے
بچوں کے والدین نے ایسے سکول و کالجز مالکان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ہم بچے پڑھنے نہیں بیجھتے تو ہمیں دھمکی دی جاتی ہے کہ آپ کے بچوں کو سکول و کالجز سے نکال دیا جائے گا
لہذہ وزیر تعلیم و وزیر اعلی پنجاب نوٹس لے کر ڈی سی و تحصیلوں کے اے سی صاحبان کو حکم دیں کے ایسے لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے
10 لاکھ لوٹ کر فرار
قصور
کھڈیاں خاص میں چوری ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا
تفصیلات کے مطابق محلہ راجپوتاں محمد عرفان کے گھر الصبح ڈکیتی کی واردات ہو گئی 4 ڈاکو خاتون خانہ کو باندھ کر پر مبلغ 10 لاکھ کے قریب نقدی اور 10 تولہ طلائی زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے
اے ایس پی قصور مقامی پولیس اور کرائم سین عملہ موقع پر پہنچ گئے اور شواھد اکھٹے کرنے میں مصروف
بتایا گیا ہے کہ کھڈیاں محلہ راجپوتاں کے رھائشی محمد عرفان کے گھر سے دکان پر گیا ہوا تھا اور اسکی بیوی ناصرہ بی بی گھر میں اکیلی موجود تھی کہ چار نامعلوم ڈاکو گھر داخل ہوئے اور ناصرہ بی بی کو یرغمال بنا کر باندھ دیا
واردات سے اہل علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے
100 دیہات کی مشترکہ مشکل
قصور
کوٹ رادھاکشن روڈ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑک پر گڑھے مورچوں کا منظر پیش کرنے لگے لوگ سخت پریشان
تفصیلات کے مطابق کوٹ رادھاکشن شہر سے قصور کو جانے والا روڈ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے یہ روڈ 100 دیہات اور قصبوں کو قصور سے ملانے کا واحد راستہ ہے
اس روڈ پر کیچڑ، گوبر اور گندگی کا شدید راج ہے اور اس روڈ پر جا بجا گڑھوں سے حادثات معمول بن چکے ہیں جس سے گاڑیوں کا گزرنا محال ہو کر رہ گیا ہے ٹریفک نا ہونے سے لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہو گئے ہیں
شہریوں کا متعلقہ ایم پی اے، ایم این اے کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار
عوام کی ڈی سی قصور، اے سی کوٹ رادھا کشن اور محکمہ ہائی وے سے مدد کی اپیل ہے تاکہ ان کی مشکل حل ہو سکے
شدید ترین دھند کار مکمل تباہ
قصور
شدید دھند کا سلسلہ جاری حادثات میں اضافہ
تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے قصور اور گردونواح میں دھند کا سلسلہ جاری ہے جو کہ پچھلے 3 دن سے شدت اختیار کر گیا ہے جس سے ہر روز کئی حادثات رونما ہو رہے ہیں گزشتہ رات رائیونڈ سے قصور آتی ہوئی گاڑی ڈرین راءو خان والا پر دھند کے باعث سڑک سے نیچے درختوں سے ٹکرا گئی اور مکمل تباہ ہو گئی جس میں سوار اکیلا نوجوان معمولی زخمی ہوا جسے ریسکیو ٹیم نے ہسپتال منتقل کر دیا تھا عینی شاہدین کے مطابق دھند شدید ترین تھی اور گاڑی کی رفتار بھی بہت تیز تھی اور آگے سڑک پر کھڈے بھی تھے جس سے کار سوار سے گاڑی بے قابو ہو کر درختوں سے جا ٹکرائی مگر قابل تشویش بات یہ ہے کہ گاڑی کی دونوں نمبر پلیٹیں گاڑی کیساتھ نہیں ہیں لوگوں نے گاڑی اٹھا کر نزدیکی پیٹرول پمپ پر پہنچا دی ہے
ٹھیکری پہرے داری نظام بنایا جائے
قصور چونیاں
ٹھیکڑی پہرے داری نظام بھی تعینات کریں تا کہ چوری و ڈکیتی کی وارداتوں پر قابو پانے میں مدد ملے
شہری و دیہاتی ٹھیکری پہرے داری نظام کو نافذ کریں ان خیالات کا اظہار ڈی ایس پی چونیاں شمس الحق درانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ہر کیس کی میرٹ کی بنیاد پر تفتیش کی جا رہی ہے میرے دفتر کے دروازے سائلین کیلئے دن رات کھلے ہیں رشوت خوری سے سخت نفرت ہے مجھے اور کرپٹ ملازمین کیلئے تحصیل بھر میں کوئی گنجائش نہیں ہر کیس کے تمام پہلوؤں کا خود جائزہ لیتا ہوں اسکے باوجود کسی شہری کو کوئی شکایت ہے تو مجھے خود آگاہ کرے تاکہ اس کی شکایت کا بروقت ازالہ کرکے انصاف ہو کیا جا سکے
اسلام آبادی ڈکیت گینگ گرفتار
قصور سے خطرناک ڈکیت گینگ 3 ارکان سمیت گرفتار
تھانہ اے ڈویژن پولیس کی کاروائی شہر قصور میں ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث گینگ گرفتار
ایس ایچ اور تھانہ سٹی اے ڈویژن قصور نے کاروائی کرتے ہوئی خطرناک ڈکیٹ گینگ کو سرغنہ سمیت گرفتار کر لیا
ناصر عرف عرف ناصری ڈکیت گینگ کے 3 ارکان بھی گرفتار ہوئے ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپیہ نقدی اور جدید ترین اسلحہ بھی برآمد ہوا گینگ کے سرغنہ ناصر عرف ناصری کا تعلق اسلام آباد کھنہ پل سے ہے ملزمان پولیس کو عرصہ دراز سے قتل اقدام قتل اور ڈکیتی کی وارداتوں میں مطلوب تھے
ملزمان سے مذید تفتیش جاری ہے
صارف 78000 روپیہ اضافے بل دینے پر مجبور ہوا
قصور
لیسکو قصور لوگوں کو چونا لگانے میں مصروف صارف کو 78000 روپیہ اضافی ڈال دیا بجائے بل ٹھیک کرنے کے بل کی اقساط کر دیں
تفصیلات کے مطابق آٹا چکی کے مالک محمد شہباز ولد شیر محمد نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ کہ میں لیسکو قصور سب ڈویژن راجہ جنگ کا صارف ہوں میرا میٹر آئی نمبری 46117531326100R ہے جس پر آیا گیا بل میں ہر ماہ باقاعدگی سے ادا کرتا ہوں اس مرتبہ ماہ دسمبر کا بل مجھے 16 دسمبر کو موصول ہوا جس کی تاریخ ادائیگی 18 دسمبر 2019 ہے مجھے ٹوٹل بل 133855 روپیہ آیا ہے جس میں موجودہ بل 56353 روپیہ ہے باقی 78000 روپیہ بل ایڈجسٹ انسٹالمنٹ کے نام پر ڈالے گئے ہیں حالانکہ میرے ذمے کوئی بقایا جات بھی نہیں میں نے 16 تاریخ سے لیسکو دفتر واپڈا سب ڈویژن جانا شروع کیا اور کل 20 تاریخ کو ایس ڈی او صاحب دفتر ملے ورنہ پہلے جب بھی جاتا یہی معلوم پڑتا کہ ایس ڈی او صاحب دفتر نہیں آئے
میں نے بل ایس ڈی او صاحب کو دکھلایا تو انہوں نے میرے ذمے پرانا حساب کتاب دیکھا اور کہا کہ آپ کے ذمے بقایا جات تو بلکل بھی نہیں مگر اس بل ایڈجسٹ انسٹالمنٹ کا مجھے بھی علم نہیں لحاظہ میں بل کی اقساط کر سکتا ہوں اس سے زیادہ کچھ نہیں سو میں مجبور ہو کر میں نے 56000 روپیہ کی قسط کروا کر بل ادا کر دیا اب اگلے مہینے پھر وہی باقی رقم مجھے ادا،کرنی پڑے گی میں ایک غریب آدمی ہوں اور 78000 روپیہ کی رقم مجھ پر اضافی ڈالی گئی ہے لحاظہ ایس ای قصور اور چیئرمین واپڈا مجھے انصاف دلوائیں میں لاکھوں روپیہ بجلی کے بل کی مد میں ادا کرتا ہوں
پی ایچ پی کا قابل فخر کارنامہ
قصور
الہ آباد میں حادثات کی روک تھام کے لئے پٹرولنگ پولیس کوڑے سیال کی خصوصی آگاہی مہم شروع عوام دھند اور سموگ کے باعث حادثات سے بچنے کے لئے حفاظتی انتظامات کریں ان خیالات کا اظہار پٹرولنگ پولیس کوڑے سیال کے انچارج اہتشام الحق اور شفٹ انچارج اے ایس آئی ملک لیاقت و دیگر عملہ نے میڈیا نمائندگان و عوام سے کیا
انہوں نے کہا کہ دھند اور سموگ کے باعث حادثات کی روک تھام کے لئے آگاہی مہم شروع کر دی گئ ہے بس اسٹاپ اڈوں، عوامی جگہوں ، سکول اور کالجز کے طلباء، طالبات میں آگاہی پمفلٹ کی تقسیم اور سیمینارز کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے پٹرولنگ پولیس کوڑے سیال کے شفٹ انچارج اے ایس آئی ملک لیاقت نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حادثات کی شرح کم کر کے قیمتی جانوں اور املاک کو بچایا جا سکتا ہے والدین اپنے بچوں کو بھی شعور دیں تاکہ وہ بھی ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کریں انہوں نے مزید کہا کہ پٹرولنگ پولیس عوام کو حادثات سے بچانے کے لئے دن رات بھرپور محنت کر رہی ہے
بچوں کے اغواء کا ڈراپ سین
قصور
کوٹ رادہاکشن پولیس کی بڑی کاروائی 2 بچوں کے اغواء کا ڈراپ سین بچے سوتیلی ماں کے تشدد سے ڈر کر گھر سے بھاگے تھے
تفصلات کے مطابق بچوں کے ڈراپ سین کو پولیس نے بے نقاب کر دیا
گزشتہ دنوں سوتیلی ماں کے تشدد اور ڈانٹ ڈپٹ سے تنگ دونوں بچے گھر سے بھاگ کر اپنی سگی ماں کے پاس لاہور پہنچ گئے تھے
دونوں بچے عبدالرحمان اور فرید نے والدین کو چھوڑنے کی کوشش کی مگر بے سود
بچوں کی گمشدگی کی اطلاع بچوں کے والد نے 15 پر کال کی تھی جس پر ڈی پی او قصور نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کوٹرادہاکشن رائے ناصر عباس اور سٹی چوکی انچارج کامران شہزاد کو ٹاسک دیا کہ جلد سے جلد بچوں کو ڈھونڈیں
پولیس نے موبائل فون سے بچوں کی لوکیشن ٹریس کر کے ڈھونڈ نکالا
ڈی پی او قصور اور ڈی ایس پی صدر سرکل نے کوٹرادہاکشن پولیس کو شاباش دی اور کوٹرادہاکشن کی عوام نے پولیس کو خوب داد دی









