اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے
Author: غنی محمود قصوری
-

"تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض” تحریر: غنی محمود قصوری
-

محمدیہ تھیلیسمیا فاءونڈیش مدد کی منتظر
قصور
کنگن پور و گردونواح کے تھیلیسمیا میں مبتلا 23 معصوم بچے حکومتی توجہ کے منتظر مقامی این جی او محمدیہ تھیلیسمیا فاؤنڈیشن کنگن پور بچوں کی زندگیوں کی سانسیں جاری رکھنے کیلئے پرعزم
تھیلیسمیا ایک خطرناک بیماری ہے جس کا مریض بچہ دوسرے لوگوں کے خون کا منتظر رہتا ہے ایسے مریض کو کم سے کم ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ سلسلہ تاحیات جاری رہتا ہے زیادہ تر ان مریض بچوں کی عمریں 20 سے 25 سال تک ہی ہوتی ہیں پھر یہ افراد خالق حقیقی کے پاس چلے جاتے ہیں یوں تو قصور میں تھیلیسمیا کے مریضوں کی کافی تعداد ہے مگر قصور کے شہر کنگن پور میں مقامی لوگوں پر مشتمل تنظیم محمدیہ تھیلیسمیا فاؤنڈیشن اپنی مدد آپ کے تحت ایسے بچوں کو بغیر رنگ و نسل و مذہب کے خون پہنچا رہی ہے ان بچوں کو ہر ہفتے کنگن پور سے لاہور لیجایا جاتا ہے اس تنظیم کی ذاتی گاڑی نہیں پھر بھی یہ تنظیم بچوں کو گاڑی کرایہ پر حاصل کرکے لاہور لے کر جاتی ہے اور باقاعدہ خود سے ان بچوں کیلئے خون کا انتظام بھی کرتی ہے مگر افسوس کہ حکومتی سطح پر ان بچوں کیلئے قصور میں کچھ خاص نہیں تنظیم کے کارکن احسن جمال نے نمائندہ باغی ٹی وی کو بتایا کہ عرصہ 4 سال سے ہم یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ہمارے ساتھ مقامی لوگ تعاون کرتے ہیں پھر ہم ان غریب بچوں کو ہر ہفتے قصور سے لاہور لے کر جاتے ہیں اور ان کو خون لگواتے ہیں تنظیم کو مالی مدد کے علاوہ خون عطیہ کرنے والے افراد کی سخت ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کی سانسیں بحال رہ سکیں تنظیم نے مخیر حضرات سے تعاون کی بھی اپیل کی ہے -

سپیشل برانچ قصور کی بڑی کاروائی
قصور
سپیشل برانچ قصور کی بڑی کاروائی کرپشن میں ملوث اہلکار معطلتفصیلات کے مطابق قصوراسپشل برانچ کی رپورٹ پر کرپشن میں ملوث سیکورٹی انچارج معطل سب انسپیکٹر محمد فیاض کو معطل کر دیا گیا
ایس آئی محمد فیاض کئی سالوں سے سیکورٹی برانچ کی اہم پوسٹ پرتعینات تھا اور کرپشن کر رہا تھا
فیاض کی کرپشن بارے اسپشل برانچ قصور نے بڑی جستجو اور لگن سے تحقیق کی پھر آر پی او کو رپورٹ بھیجی جس پر آر پی او شیخوپورہ ریجن نے فیاض کو معطل کر کے پولیس لائن بھیج دیا -

ناجائز قابضین کے خلاف آپریشن
قصور
چونیاں میں سرکاری زمین کو واگزار کروانے کے لئے آپریشن جاریتفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر چونیاں قبضہ مافیا کے خلاف سرگرم ہو گئے ہیں سرکاری زمین پر با اثر افراد کا قبضہ تھا جسے واگزار کروانے کیلئے آپریشن کیا جا رہا ہے
470 کنال سرکاری زمین کو واگزار کروا لیا گیا ہے
کاروائی تحصیل چونیاں موضع مانک میں کی گئی ہے
زمین کی کل مالیت 11 کروڑ 75 لاکھ روپے ہے
21 ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کروا دیا گیا ہے -

اشتہاری ملزمان گرفتار شہری پر سکون
قصور
تھانہ صدر چونیاں پولیس کی کاروائی، تین مجرمان اشتہاری گرفتار
تفصیلات کے مطابق ملزمان چوری ڈکیتی و قتل کی وارداتوں میں ملوث تھے جن سے تفتیش جاری ہے عرصہ دراز سے پولیس کے لئے سر درد بنے ان ملزمان کی گرفتاری پر لوگوں نے سکون کا اظہار کیا ہے ملزمان پولیس کو کئی سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے مگر ہر بار چکمہ دے کر نکلنے میں کامیاب ہو جاتے تھے ڈی ایس پی چونیاں شمش الحق درانی اور ڈی پی او قصور زاہد نواز مروت نے پولیس ٹیم کو خطرناک اشتہاری ملزمان پکڑنے پر شاباش دی ہے -

صحافیوں کا مشترکہ اعلامیہ
قصور
صحافیوں کے خلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے صحافیوں کے حقوق کی آواز بلند کرتے رہیں گے ،مہر حمید انورہمارے صحافی ایک خاندان کی مانند ہیں صحافیوں کے خلاف کسی پروپیگنڈہ کو ہم کامیاب نہیں ہونے دیں گے پاکستان میڈیا کونسل (رجسٹرڈ ) سمیت دیگر پریس کلبوں کے لوگ بھی ہمارے بھائی ہیں ضلع قصور میں جو صحافیوں کے خلاف ایک نام نہاد فیک رپورٹ سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی اس میں کوئی سچائی نہ ہے محکمہ پولیس کے ضلعی افسران سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے صحافی بھائیوں کے خلاف فیک رپورٹس وائرل کی گئی ہیں اس پر ہم شدید مذمت کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار پاکستان میڈیا کونسل کے مرکزی صدر مہر حمید انور نے الہ آباد میں نیشنل پریس کلب قصوری میڈیا گروپ کے نومنتخب عہدیدران کو مبارکباد دیتے ہوئے کیا مزید انھوں نے کہا کہ ضلعی پولیس کمانڈر اور آئی پنجاب کو اس پر ایکشن لینا ہوگا جو عناصر اس اقدام میں ملوث ہیں ان کو محکمہ سے فارغ کیا جائے اور بلاوجہ صحافیوں کی پگڑیاں اچھالنے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ ایسے لوگ ایسا قدم نہ اٹھائیں مزید انھوں نے نومنتخب عہدیدران و ممبران کو مبارکباد دی ان کا کہنا تھا کہ صحافی برادری ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہے ہمارے تمام صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مقدس پیشے میں رہتے ہوئے نیک نیتی اور ایمانداری کے ساتھ مظلوم بے سہارا پاکستانیوں کی آواز بنتے رہیں صحافت ایک اعلی پیشہ ہے اس پر ہمیں خلوص نیت سے کام کرنا ہوگا اس موقع پر بانی و گرپ لیڈر مہر داود احمد قصوری سمیت نومنتخب صدر محمد ظفر اقبال ، سیکریڑی جنرل مہر خبیب جتالہ ،چیئر مین چوہدری مشتاق احمد ، سر پرست اعلیٰ سردار عبدالقیوم خاں ، سنیئرصدر میاں زبیر ندیم چوہدری ، نائب صدر محمد آصف ، نائب صدر میاں لطیف حیات ، مہر طارق بھٹہ ، مہر عزیر جتالہ ، تنویر احمد ، جمیل احمد بھٹہ ،غلام رسول سلہر ی ، حکیم عبداللہ ، محمد آصف نورانی ، سیٹھ شوکت رحمانی موجود تھے
-

100 گھر اپنے گھروں کا پانی سڑک پر چھوڑنے پر مجبور
قصور
20 سال پرانی 100 گھروں پر مشتمل پل جبومیل سٹاپ نالیوں اور سیوریج کے نظام سے محروم لوگ سڑک پر گھروں کا پانی چھوڑنے پر مجبور
تفصیلات کے مطابق 20 سال قبل سردار شریف ڈوگر نے پل جبومیل سٹاپ پر رہائش کی پھر رفتہ رفتہ آس پاس گھروں کی تعداد بڑھتی گئی اور اب تقریبا 100 کے قریب گھر اور 50 کے نزدیک دکانیں بن چکی ہیں جن کی نکاسی آب کیلئے آج دن تک کسی گورنمنٹ نے کوئی کام نہیں کیا مقامی رہائشیوں ،عبدالستار، عبدالغفار گجر،نزیر رحمانی اور بھولا گجر نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری رہائشوں کے پیچھے کھیت ہیں جن کے مالکان ہمیں نکاسی کا پانی اپنے کھیتوں میں نہیں ڈالنے دیتے مجبور ہو کر ہم اپنے گھروں کا پانی سڑک پر چھوڑ رہے ہیں حالانکہ ہم سے گورنمنٹ نے رجسٹری کی مد میں لاکھوں روپیہ وصول کئے ہیں مگر پھر بھی ہمیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ہر ایم پی اے ،ایم این اے ہم سے نکاسی آب کا وعدہ تو کرتا ہے مگر عملدرآمد نہیں حالانکہ آبادی سے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر راءو خان والا ڈرین ہے لہذہ ہماری نکاسی آب کا مسئلہ حل کیا جائے کیونکہ ہم بھی پاکستانی شہری ہیں لہذہ ڈی سی قصور نوٹس لے کر ہمارہ مسئلہ حل کروائیں -

اے سی کا دورہ منڈی نیلامی کا جائزہ
قصور
چونیاں میں پنجاب حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ قصور ن سبزی منڈی میں سرکاری نرخوں پر عملدرآمد کیلئے کوشاںاسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کا علی الصبح ڈی ایس پی چونیاں کے ہمراہ سبزی منڈی چونیاں میں مشترکہ دورہ
اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر نے منڈی میں ملازمین کی حاضری، اشیاء خوردنوش کی فراہمی، ذخیرہ اندوزی، شکایات رجسٹر ، گراں فروشی ، منافع خوری اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا
اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر نے گاجر، مٹر اور آلوؤں کی نیلامی کے عمل کو چیک کیا اورنیلامی شیٹس کا جائزہ بھی لیا گیا، خریداری پر آئے ہوئے صارفین سے گفتگو بھی کی، منڈی کی صورت حال اور گراں فروشی سے متعلق دریافت کیا گیاانسپکٹر مارکیٹ کمیٹی بذات خود نیلامی شیٹس کی چیکنگ کو یقینی بنائیں، اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کی خصوصی ہدایت
منڈیوں میں گراں فروشی پر سخت کریک ڈاؤن کریں، اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کی مارکیٹ کمیٹی کو ہدایات
سبزی و فروٹ منڈیوں میں نیلامی کے عمل میں اور گراں فروشی ہرگز قابل قبول نہ ہے
-

ڈرگ انسپیکٹر تبدیل
قصور
ڈرگ انسپیکٹر قصور رانا عبدالمتین کو تبدیل کر دیا گیا
تفصیلات کے مطابق قصور کے ڈرگ انسپیکٹر رانا عبدالمتین کی تبدیلی کا نوٹیفیکیشن ان کو آج موصول ہوگیا نوٹیفیکیشن کل پرائمری ہیلتھ کی جانب سے کل جاری کیا گیا جو کہ آج ان تک پہنچ گیا رانا عبدالمتین کافی عرصے سے ڈرگ انسپیکٹر قصور تعینات تھے تاہم ان کی تبدیل کئے جانے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی
اپنی تعیناتی کے دوران ڈرگ انسپیکٹر قصور رانا عبدالمتین نے کافی میڈیکل سٹور سیل کئے اور کئی ہسپتالوں کی چیکنگ بھی کی -

دھند کا سلسلہ برقرار حد نگاہ انتہائی کم
قصور
شدید دھند کا سلسلہ جاری حد نگاہ انتہائی کم رہ گئی
تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں انتہائی زیادہ کا سلسلہ آج بھی برقرار ہے جس سے حد نگاہ انتہائی کم ہو گئی ہے دھند کے باعث لوگوں کو سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کئی مقامات پر دھند کے باعث حادثات بھی پیش آئے سٹی ٹریفک پولیس قصور نے شہریوں سے فوگ لائٹس کے استعمال کی ہدایت کی ہے
امید ظاہر کی جارہی ہے کہ دو چار دن تک دھند کا سلسلہ ختم ہو جائے گا