Baaghi TV

Author: غنی محمود قصوری

  • قصور،ٹرانسفارمر خراب،واپڈا اہلکار "بھکاری” بن گئے،پیسے دو تو ٹھیک ہو گا

    قصور،ٹرانسفارمر خراب،واپڈا اہلکار "بھکاری” بن گئے،پیسے دو تو ٹھیک ہو گا

    قصور،مین سٹی روڈ کوٹ محلہ دربار بابا بھرپور شاہ کا ٹرانسفارمر خراب ہونے پر اہلیان علاقہ نے واپڈا سے مایوس ہو کر خود سے پیسے اکٹھے کر کے ٹرانسفارمر ٹھیک کروانے کیلئے دیئے واپڈا اہلکاروں نے مزید کی ڈیمانڈ کر دی،شہریوں میں سخت تشویش

    تفصیلات کے مطابق قصور سٹی کے مین علاقے روڈ کوٹ کے محلے دربار بابا بھرپور شاہ میں بجلی کا ٹرانسفارمر تین دن قبل آندھی و بارش کے باعث جل گیا تھا جس پر اہلیان علاقہ نے واپڈا حکام کو بارہا بتایا جنہوں نے کہا کہ اس کی کوائل جل چکی ہے جو کہ پیسے دے کر ٹھیک کروانی پڑے گی اس پر شہریوں نے واپڈا اہلکاروں کو کہا کہ آپ کا کام ہے آپ کروا کر دیں تاہم کوئی بات نہیں بنی تو مایوس ہو کر اہلیان علاقہ نے لگ بھگ 35 ہزار روپیہ اکھٹا کرکے واپڈا حکام کو ٹرانسفارمر کی مرمت کیلئے دیا تاہم واپڈا حکام نے مذید کی ڈیمانڈ کر دی .

    شہری اس معاملے میں بتاتے ہیں کہ پچھلے سال بھی ٹرانسفارمر جل جانے پر پیسے اکھٹے کرکے دیئے جاتے رہے ہیں اور اب آغاز گرمی سے ہی ایک بار پھر سے واپڈا حکام نے بجائے ٹرانسفارمر مرمت کرنے کے پیسے مانگنے شروع کر دیئے ہیں اور مذید کی ڈیمانڈ کی ہے جبکہ ہم پہلے ہی بجلی کے بلوں کی مد میں کئی ٹیکسز ادا کر رہے ہیں اوپر سے ہر کام کے پیسے بھی دینے پڑتے ہیں جو کہ واپڈا کا فرض ہے،شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور اور ایس ای لیسکو واپڈا قصور سے نوٹس لے کر فرائض میں غفلت برتنے والے واپڈا اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • زیر تعمیر نالے کی دیواریں گر گئی،کئی حادثات رونما ہو گئے،نوٹس کی اپیل

    قصور
    مین فیروز پور روڈ نزد کالی پل جو کہ ضلع قصور کا سب سے بڑا اور مصروف ترین روڈ ہے، پر بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے شروع کیا جانے والا نالہ عرصہ چھ ماہ سے پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا آج تک یہ نالہ جس کی گہرائی تقریبا 8 فٹ اور چوڑائی 6 فٹ ہے ،اوپر سے کھلا چھوڑا ہوا ہے جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے
    گزشتہ دن ہلکی سی بارش کی وجہ سے نالہ کی دیواریں گر گئیں جس کے بعد نالہ مذید خطرناک ہو گیا ہے
    نیز اس کھلے نالے میں متعدد حادثات ہو چکے ہیں
    دیواریں گرنے سے راہگیر مذید خوف کا شکار ہو گئے ہیں
    اہلیان علاقہ نے حکام سے نوٹس کی اپیل کی ہے کہ نالے کی صفائی کروائی جائے اور نالہ کی دوبارہ مرمت کروا کے اس کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاہم لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نالے سے گزرنے کیلئے عارضی پل بنائے ہوئے ہیں جو کہ خستہ حالی کی وجہ سے کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں
    ڈی سی قصور اور انتظامیہ سے اپیل ہے کہ اس کا جلد سے جلد حل نکالا جائے تاکہ مچھر اور گندے پانی سے بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی آسکے اور لوگ ٹریفک حادثات سے بچ سکیں

  • پولیس نے کم سن لڑکی کے اغواء کا ملزم گرفتار کرکے فوری چھوڑ دیا،ڈی پی او سے اپیل

    قصور
    کم سن لڑکی کو اغواء کرنے والا ملزم پولیس نے گرفتار کرکے چھوڑ دیا،ورثاء میں سخت تشویش،ڈی پی او قصور سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق شہری علی اصغر ولد محمد صفدر نے تھانہ صدر قصور میں مدثر ولد نا معلوم کے خلاف درخواست دی کہ میری ہمشیرہ شریف ٹاؤن نزد کھارا چونگی رہائش پذیر ہے جس کا خاوند فوت ہو چکا ہے اس کی بیٹی اور میری بھانجی سویر نعیم بعمر 14/15 سال مورخہ 7 اپریل بوقت 8 بجے دن گھر سے علامہ اقبال سکول پڑھنے کے لئے گئی جو چھٹی ہونے کے بعد گھر واپس نہ آئی تو میری ہمشیرہ نے مجھے بذریعہ فون اطلاع دی کہ سوپر سکول سے گھر واپس نہ آئی ہے جس پر میں نے محمد اعظم ، محمد صفدر کے ہمراہ سویرا کی تلاش شروع کر دی تو ہمیں لوگوں نے بتایا کہ مدثر میری بھانجی کو زبر دستی اغواء کرکے لے گیا ہے اور انہوں نے از خود دیکھا ہے اور اسے روکنے کی کوشش بھی کی تھی اور بذریعہ CCTV کیمرہ جات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مدثر ولد نا معلوم میری بھانجی سویرا کو ڈرا دھمکا کر اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بٹھاتے ہوئے نظر آیا ہے
    10 سے 12 گھنٹوں بعد میری بھانجی اس کے چنگل سے بھاگ کر واپس آگئی
    پولیس تھانہ صدر نے ایف آئی آر درج کرکے ملزم کو گرفتار کیا اور اگلے دن ہی چھوڑ دیا جبکہ گواہان اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس کو بطور ثبوت دی گئی ہے
    ملزم کو چھوڑنے پر ورثاء میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے اور ورثاء نے ڈی پی او قصور سے از خود نوٹس لے کر انصاف کی اپیل کی ہے

  • صحافی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں،ڈی پی او و وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیل

    قصور
    قصور چونیاں کے معروف اور حق گو صحافی کو دھمکیاں،صحافی برادری میں تشویش،ڈی پی او قصور اور وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق ضلع قصور کی تحصیل چونیاں کے معروف قصبے الہ آباد کے نڈر اور حق گو صحافی چوہدری مقصود سرور کیفی کو کچھ عناصر کی طرف سے دھمکیاں لگائی جا رہی ہیں جس پر بات کرتے ہوئے چوہدری مقصود سرور کیفی نے کہا کہیہ جو مُجھے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں انکی اور انکے ابووں کی گیڈر دھمکیوں سے میں ڈرنے والا نہیں بندہ ناچیز حق سچ پر کھڑا تھا کھڑا ہے اور ان شاء اللہ کھڑا رہے گا میں چاپلوسی اور حقائق مسخ کرکے جینے سے مرنا پسند کرونگا میری صحافت عملی نمونہ ہے میں نے ہمشہ طاقتور کو للکارا ہے غریب کا ساتھ دیا ہے غلط کو کھل کر غلط کہا ہے اگر میں کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لو
    ہاں میں ہاں ملانا چاپلوسوں کا کام ہوتا ہے سچے اور انوگیٹشن صحافیوں کا نہیں، اسلئے جو آواز اٹھاتا ہوں پہلے اس کو مکمل انوسٹیگٹ کرتا ہوں تاکہ آپ لوگوں تک ایک شفاف آواز پہنچے میں کسی کی مرضی سے چلنے والا کھلونا نہیں حقیقت کو سینہ ٹھوک کر لکھتا ہوں یہ کرپٹ ادارے اور انکے ٹاؤٹ یہ بات ذہن میں اچھی طرح ڈال لیں کہ جب تک زندہ ہوں منشیات فروشی سے لیکر چوری ڈکیتی اور ناحق قتل پر میں آواز اٹھاتا رہونگا ان شاء اللہ
    چوہدری مقصود سرور کیفی کو مسلسل دھمکیوں کے باعث صحافی برادری میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے اور صحافی برادری کی طرف سے آزادی اظہار رائے اور جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ کو یقینی بنانے کیلئے ڈی پی او قصور اور وزیر اعظم پنجاب سے نوٹس لے کر ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

  • دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    دنیا کی اوپن ائر جیلیں،تحریر:غنی محمود قصوری

    جیل کا لفظ سنتے ہی ذہن میں سب سے پہلے بہت بڑی اور اونچی چار دیواری کے پیچھے بند انسانوں کا تصور آتا ہے جنہیں کسی نا کسی جرم کرنے پر سزا کے طور پر قید کیا جاتا ہے اور ان پر مسلح لوگ نگران بنے ان کی رکھوالی کرتے ہیں اور ان سے جبری مشقت کے طور پر کام بھی لیا جاتا ہے،تاہم اس وقت کرہ ارض پر دو اوپن ائر جیلیں بھی ہیں جن کا نام فلسطین اور کشمیر ہے اور دونوں مسلمان ریاستیں ہیں،عام طور پر جرم کرنے والے شحض کو سزا دی جاتی ہے تاہم یہ جیلیں اس لئے معرض وجود میں آئیں کہ ان کے باشندے مسلمان ہیں اور اپنی آزادی کی آواز بلند کرنے پر بطور سزا بغیر بڑی بڑی دیواروں کے کھلے آسمان تلے بنی جیلوں میں قید ہیں

    ان کو اوپن ائر جیل اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں ان مملکتوں کے باشندوں کو انہی کی ریاستوں میں قید کرکے رکھا گیا ہے جس کی کوئی چار دیواری تو نہیں مگر چار دیواری کی جگہ سرحدیں ہیں اور یہ لوگ آسمان تلے ہوا کے دوش پر قائم جیلوں میں قیدیوں کی سی زندگیاں بسر کر رہے ہیں جہاں قابض ریاستوں کی فوجیں ان پر نگران بن کر ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں
    ان دونوں ریاستوں کی غلامی کا عرصہ تقریباً ایک جتنا ہی ہے
    ان ریاستوں میں سے ایک پر یہود کا قبضہ ہے تو دوسرے پر ہنود یعنی ہندو کا
    پہلے بات کرتے ہیں کشمیر کی
    تقسیم ہند کے فارمولے کے خلاف انگریز نے الکفر ملت واحدہ کا عملی ثبوت پیش کرتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقہ کشمیر کو ہندوستان کو سونپ دیا جس میں بہت بڑا کردار اس وقت کے راجہ نے بھی ادا کیا،غیور کشمیری قوم نے اس پر احتجاج کیا اور الحاق پاکستان کیلئے صدائیں بلند کیں تاہم ظلم و جبر سے اسے کچل دیا گیا اور بھارتی فوجوں نے کشمیریوں کی آواز کو دبانا شروع کر دیا

    اپنی شہہ رگ کو چھڑوانے اپنے بھائیوں کو اس جیل سے چھڑوانے کی خاطر نومولود پاکستان کے غیور قبائلیوں اور پاکستان کی نومولود فوج نے کشمیر پر یلغار کی اور طاقت کے زور سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور دنیا کی واحد ہندو ریاست سے مقبوضہ کشمیر کا بہت بڑا علاقہ چھین لیا اور اسے ایک الگ مملکت آزاد جموں و کشمیر کے نام سے دنیا کے سامنے رکھا جہاں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا الگ صدر و وزیراعظم اور سپریم کورٹ ہے جبکہ اس کے برعکس ہندو نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا جبری قبضہ رکھنے کی غرض سے اسے ہندوستان کا ایک صوبہ قرار دیا اور بجائے کشمیری پرچم کے وہاں ہندوستانی پرچم لہرایا اور کشمیری پرچم کو ختم کر دیا گیا ،اگر آپ آزاد کشمیر میں جائیں تو آپکو سب سے پہلے آزاد کشمیر کا پرچم نظر آئے گا اور ساتھ پاکستان کا بھی نظر آئے گا جبکہ اس کے برعکس مقبوضہ کشمیر میں محض ہندوستانی پرچم ہی نظر آئے گا،کشمیر کا پرچم مقبوضہ وادی کشمیر میں لہرانے نہیں دیا جاتا

    پاکستان نے وادی کشمیر کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی خصوصی حیثیت یعنی آرٹیکل 370 اے اور 35 اے کو بحال رکھا جس کے تحت کشمیر کے باشندوں کو خودمختاری کی خاص حیثیت حاصل ہے جبکہ بھارت نے اس حیثیت کو ختم کیا اور ہندوستان بھر سے ہزاروں ہندوؤں کو مقبوضہ کشمیر میں لا کر بسانے کا سلسلہ شروع کیا تاکہ مقبوضہ کشمیر کو ہندو اکثریتی علاقہ ظاہر کرکے اس پر جبری قبضے کو قانونی حیثیت دی جائے اور اس کام میں ہندو سرکار کے ایجنڈے کیلئے مقبوضہ وادی کشمیر میں 10 لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے

    دوسری طرف بات کرتے ہیں دنیا کی دوسری اوپن ائر جیل فلسطین کی جس پر دنیا کی واحد ناجائز یہودی ریاست نے قبضہ کیا ہوا ہے اور دنیا کی 15 ویں بڑی اسرائیلی 1 لاکھ 70 ہزار ریگولر اور 4 لاکھ 65 ہزار ریزرو فوج نہتے مظلوم فلسطینی عوام کو قید کئے ہوئے ہیں اور اسے امریکہ،برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر کئی ممالک کی سرپرستی حاصل ہے
    امریکہ کی سرکاری خارجہ امور کے متلعق دستاویزات میں ایک بات آج بھی لکھی ہوئی ہے جس کا بطور پروف میں آپکو یہ لنک دیتا ہوں

    https://history.state.gov/historicaldocuments/frus1945v08/d660

    اس پر کلک کرکے آپ پڑھیں گے کہ 1945 میں امریکی صدر روز ویلٹ نے سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز سے ملاقات کی اور اس بات کا مطالبہ کیا کہ اگر یہودی سٹیٹ اسرائیل بنتی ہے تو سعودی عرب اس پر حملہ نہیں کرے گا تاہم شاہ عبدالعزیز نے اس مطالبے پر ٹھوکر ماری اور سرعام کہا کہ میں فلسطین کیلئے میدان جہاد میں لڑ کر شہید ہونا پسند کرونگا مگر تمہاری یہ بات نہیں مانوں گا،اور پھر 1948 کو جب فلسطین کے اندر اسرائیل نامی ناجائز ریاست دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کے آشیر باد سے قائم ہو گئی تو شاہ عبدالعزیز نے عرب فوج کو اسرائیل پر حملے کا حکم دیا اور سعودی عرب کے حملے بعد امریکی،فرانسیسی اور برطانوی فوجوں نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دنیا اور سعودیہ کی فوج کی فلسطین میں اینٹ سے اینٹ بجا دی

    اس وقت پاکستان اپنی نومولود اور کشمیر جنگ کے باعث پھنسا ہوا تھا تاہم دنیا کے کسی ملک نے سعودی عرب کی خاص مدد نا کی جس کی وجہ سے سعودیہ یہ جنگ ہار گیا اور اس کے سینکڑوں فوجی شہید ہوئے جن کی قبریں آج بھی فلسطین میں موجود ہیں،پہلی سعودی اسرائیل جنگ 1948 میں ہوئی پھر اس کے بعد دوسری جنگ 1956 اور تیسری جنگ 1967 میں لڑی گئی جس میں سعودی عرب کیساتھ شام،اردن،لبنان،عراق،کویت اور سوڈان و پاکستان نے بھی فلسطینی قوم کی آزادی کیلئے سعودیہ کا ساتھ دیا جبکہ دوسری جانب ناجائز یہودی ریاست اسرائیل کیلئے تعاون کرنے والے ممالک کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی اور آج دن تک یہ صورتحال برقرار ہے

    اللہ رب العزت نے تمام انسانوں،جماعتوں اور ملکوں کو آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا
    انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ”
    نکل کھڑے ہو، خواہ ہلکے ہو یا بھاری، اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہـاد کرو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ۔۔سورہ توبہ

    کاش جسطرح کافر ممالک ایسے دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں ناجائز ریاستوں کے قیام کیلئے بلکل اسی طرح تمام جماعتیں اور تمام ممالک بھی درج بالا حکم ربی کے تحت جہاد کی تیاری کرتے اور مظلوم ریاستوں کیلئے ایک جماعت بن کر یلغار کرکے کفار کے تسلط سے غلام ریاستوں کو آزاد کرواتے،جہاں جہاد ملکوں اور جماعتوں پر فرض ہے وہیں عام و خاص انسانوں پر بھی فرض ہے ،کاش آج کا مسلمان ایک دوسرے کو طعنے مارنے کی بجائے افرادی طور پر تیاری کرکے اجتماعی قوت بن کر کافروں پر جھپٹ پڑے

  • پارکنگ سٹینڈ پر اوور چارجنگ،مقدمہ درج،ایک شحض گرفتار

    قصور
    عیدالفطر کے موقع پر بابا بلھے شاہ پارکنگ مافیا کی اوور چارجنگ پر ڈپٹی کمشنر عمران علی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مقدمہ درج کروا کر ایک شحض کو گرفتار کروا دیا

    تفصیلات کے مطابق عید کے موقع پر شہری کی شکایت پر ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قصور عمران علی نے ہسپتال میں پارکنگ مافیا کی اوور چارجنگ کرنے پر موقع پر موجود شخص کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کروا دیا
    بابا بلھے شاہ ہسپتال میں پارکنگ مافیا عرصہ دراز سے اوور چارجنگ کر رہا تھا اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا
    ڈپٹی کمشنر نے چند روز قبل پارکنگ سٹینڈ پر 10 روپے فیس مقرر کی تھی تاہم پارک انتطامیہ اپنی مرضی کے پیسے وصول کر رہی تھی
    شکایت وصول ہوتے ہی ڈپٹی کمشنر نے ایکشن لیا اور کہا کہ
    شہر میں کسی بھی قسم کی آوور جارجنگ برداشت نہیں کی جائے گی اور ضلعی انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے

  • کرپشن ثابت ہونے پر اسے سی نے پٹواری کو نوکری سے فارغ کر دیا

    قصور
    أسسٹنٹ کمشنر تحصیل کوٹرادھاکشن نے راشی نوید پٹواری کو کرپشن ثابت ہونے پر نوکری سے فارغ کر دیا،اہلیان علاقہ کا اظہار تشکر،مذید راشی اور کرپٹ لوگوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے اسسٹنٹ کمشنر سہیل ریاض چیمہ نے راشی پٹواری نوید کی کرپشن ثابت ہونے پر اسے نوکری سے فارغ کر دیا ہے
    عالم بی بی زوجہ محمد اسماعیل سکنہ افضل آباد تحصیل کوٹ رادھا کشن ضلع قصور نے ایک درخواست گزاری تھی جس کی تحقیقات میں نوید پٹواری رشوت،فرائض میں غفلت اور عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب قرار پایا جسے نوکری سے فارغ کر دیا گیا

    اہلیان علاقہ نے ضلعی انتظامیہ قصور اور خاص کر اسسٹنٹ کمشنر تحصیل کوٹرادھاکشن کا راشی پٹواری کے خلاف کاروائی پر شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا کہ مذید کرپٹ اور راشی لوگوں کو بھی نوکریوں سے فارغ کیا جائے

  • منشیات فروش معہ ڈیڑھ کلو چرس و چوری کی موٹر سائیکل گرفتار

    قصور
    منشیات فروش معہ ڈیڑھ کلو چرس اور چوری کی موٹر سائیکل سمیت گرفتار

    تفصیلات کے مطابق بدنام زمانہ منشیات فروش کو ایس ایچ او الہ آباد ڈاکٹر ذوالفقار کی ہدایت پر گرفتار کر لیا گیا
    کوٹ بسم اللہ کنگن پور کا رہائشی منشیات فروش زوہیب اختر عرصہ دراز سے الہ باد،کنگن پور و ملحقہ علاقوں میں منشیات فروشی کا دھندہ کر رہا تھا جس کے قبضہ سے ڈیڑھ کلوگرام سے زائد چرس برآمد ہوئی ہے نیز ملزم منشیات فروشی کیساتھ ساتھ موٹر سائیکل چوری کی وارداتوں میں بھی ملوث نکلا اور ملزم سے چوری شدہ ایک موٹر سائیکل بھی برآمد ہوئی ہے
    ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کی جا رہی ہے

  • پولیس نوٹس کے باوجود سرعام پرچی جواء جاری،نوٹس کی اپیل

    قصور کی عوام جواریوں کے ہاتھوں لٹنے پر مجبور ہے، سرعام جوا پرچی جاری ہے
    دن ہو یا رات قصور کی چیمبر مارکیٹ میں عرصہ دراز سے جواء پرچی مقامی پولیس کے نوٹس میں ہونے کے باوجود جاری ہے
    اسلام عرف سلامو درزی عرصہ دراز سے قصور شہر میں سرعام عام جواء کروانے میں مصروف ہے
    ریکارڈ یافتہ اسلام درزی کا یوں سرعام جواء کروانا پولیس کے لیے لمحہ فکر اور لوگوں کے لئے سخت مشکل کا باعث ہے

    شہریوں کا کہنا ہے سلامو درزی کے کئی دوست پولیس ملازمین کا روزانہ کی بنیادوں پر جوے کے اڈے پر آنا کیا سلاموں کی پشت پناہی اور کمیشن وصول کرنا ہے؟ اور پولیس کے اعلی افسران کی نظروں سے یہ سب اوجھل کیوں ہے؟
    شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب، آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ ہے

  • پیشہ ور بھکاریوں کی آمد،اصل حقدار اپنے حق سے محروم

    قصور
    عید کے قریب آتے ہی پیشہ ور بھکاریوں کی بھرمار،لوگوں کو مجبور کرکے صدقہ،خیرات اور فطرانہ لینے لگے،اصل حقدار محروم،انتظامیہ سے کاروائی کا مطالبہ

    تفصیلات کے قصور ضلع بھر میں عید کے دن قریب آتے ہی پیشہ ور بھکاریوں نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے
    لوگوں کو طرح طرح کے واسطے ڈال کر ان کو مجبور کرکے صدقہ خیرات اور فطرانہ کی رقم مانگ رہے ہیں جس کے باعث اصل اور اولین حقدار قریبی رشتہ دار،محلے دار،مدارس و دیگر کی حق تلفی ہو رہی ہے کیونکہ ہر بندہ مہنگائی کے اس دور میں اس قابل نہیں کہ ان پیشہ ور بھکاریوں کو خیرات و صدقات دینے کے بعد دوسروں کو بھی دے سکے
    ان پیشہ ور بھکاریوں کے پاس مانگنے اور لوگوں کو مجبور کرنے کے طرح طرح کے ڈھنگ ہیں اور باوجود منع کرنے کے بھی یہ لوگوں سے اس وقت تک مانگتے رہتے ہیں جب تک ان کو کچھ نا کچھ دے نا دیا جائے

    ان پیشہ ور بھکاریوں کے باعث لوگ سخت مشکل کا شکار ہیں اور اصل حقدار اپنے حق سے محروم ہو رہے ہیں
    سینئیر صحافیوں کے تجزیے کے مطابق پاکستان میں پیشہ ور بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت 4 کروڑ کے قریب پیشہ ور بھکاری روزانہ 38 ارب روپے سے زائد بھیک مانگتے ہیں اور اصل حقداروں کو ان کے حق سے محروم کرتے ہیں لہٰذہ گورنمنٹ سے اپیل ہے کہ ان کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ صدقہ خیرات اور فطرانہ اصل مصارف تک پہنچ سکے