Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • یو ٹیوب اسٹار زید علی نے مداحوں سے اپنے ہونے والے بچے کے نام کیلئے مشورہ مانگ لیا

    یو ٹیوب اسٹار زید علی نے مداحوں سے اپنے ہونے والے بچے کے نام کیلئے مشورہ مانگ لیا

    پاکستانی نژاد کینیڈین سوشل میڈیا اسٹار زید علی اور ان کی اہلیہ یمنیٰ کے ہاں جلد پہلے بچے کی پیدائش ہونی والی ہے تاہم زید علی نے اپنے ہونے والے بچے کے نام کے لیے مداحوں سے مشورہ مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی : بہت جلد ننھے مہمان کے والد بننے والے زید علی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور اس کا اندازہ اُن کی حالیہ انسٹاگرام پوسٹ سے لگایا جاسکتا ہے۔

    زید علی نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اہلیہ یمنیٰ کے ہمراہ نئی تصویر شیئر کی ہے جس میں جوڑی بےحد خوش نظر آرہی ہے۔

    زید علی نے تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ ہم بہت جلد والدین بننے والے ہیں۔

    اُنہوں نے مداحوں سے مشورہ مانگتے ہوئے لکھا کہ کیا آپ لوگ ہمیں ہمارے ہونے والے بچے کے لیے کوئی نام تجویز کریں گے؟‘

    زید علی کے مشورے پر انسٹاگرام صارفین کی بڑی تعداد اُنہیں لڑکے اور لڑکی کے خوبصورت نام تجویز کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ زید علی نے گزشتہ دنوں ہی اپنی انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے اس بات کی اطلاع دی تھی کہ وہ اور یمنیٰ جلد ہی والدین بننے جا رہے ہیں۔

    اُنہوں نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اللہ کی رضا سے ہم والدین بننے جارہے ہیں ہمارے ہاں بچے کی پیدائش ہوگی، آج کا دن میری زندگی کا پرمسرت ترین دن ہے۔

    زید علی کی اس پوسٹ پرجہاں دُنیا بھر میں موجود اُن کے چاہنے والوں کی جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا وہیں معروف یوٹیوبر شاہ ویر جعفری نے زید علی کی پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے اُن سے ایک سوال پوچھا کہ ’اگر آپ کا بیٹا ہوا تو کیا آپ اس کا نام شاہ ویر رکھ سکتے ہیں؟-

    خیال رہے کہ زید علی نے 2017 میں اپنی قریبی دوست یمنیٰ سے شادی کی تھی، جس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر بہت سے ویڈیو لاگز جاری کیے۔

    سوشل میڈیا سے شہرت پانے والے پاکستانی نژاد زید علی کینیڈا میں مقیم ہیں تاہم بیرونِ ملک پیدائش اور پرورش کے باوجود زید نے اپنا طرز زندگی روایتی پاکستانیوں جیسا رکھا ہوا ہے۔

    یوٹیوب پر ان کے چینیل کے سبسکرائبرز کی تعداد 29 لاکھ سے زیادہ ہےاسی طرح فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر ان کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ان کی مزاحیہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہیں۔

    یوٹیوب اسٹار زید علی کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع

  • شان شاہد کا مرحومہ والدہ کے لئے جذباتی پیغام

    شان شاہد کا مرحومہ والدہ کے لئے جذباتی پیغام

    پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار شان شاہد نے سوشل میڈیا پر اپنی مرحومہ والدہ نیلو فر کے لیے جذباتی پیغام جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر شان شاہد نے اپنی مرحومہ والدہ کے ہمراہ ماضی کی اپنی یادگار تصویر شیئر کی۔

    ٹوئٹر پر تصویر شیئر کرتے ہوئے شان شاہد نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا لکھوں، میرے پاس الفاظ ختم ہوگئے ہیں۔


    شان شاہد نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ والدہ کے بغیر تو یہ دُنیا بےمعنی سی لگ رہی ہے کیونکہ میری کامیابی اور ناکامی دونوں کو میری والدہ کی شدید ضرورت ہے۔

    اداکار نے کہا کہ بس یہ اُمید ہے کہ میں ایک دن اور اُن سے ملاقات کرسکتا ہوں۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ میں ہمیشہ والدہ سے محبت کرتا رہوں گا۔

    اداکارہ نیلو بیگم کے انتقال کی خبر ان کے بیٹے اداکار شان نے اپنے ٹوئٹ کے ذریعے دی تھی۔


    واضح رہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں نیلو کے نام سے شہرت پانے والی عابدہ ریاض کا پیدائشی نام سنتھیا الیگزینڈر فرنینڈس تھا۔ اور وہ 30 جون 1940 کو بہرہ، سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ 16 برس کی عمر میں انہوں نے لاہور میں فلمائی گئی ہالی ووڈ فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ سے فنی زندگی کا آغاز کیا۔نیلو نے کئی یادگارفلمیں دیں۔ فلم سات لاکھ میں جلوہ گرہوئیں تو گانا”آئے موسم رنگیلے سہانے“اُن کی پہچان بن گیا لیکن انہوں نے شہرت پاکستانی فلموں میں آئٹم سانگ سے پائی۔

    شاہ ایران کے سامنے رقص کے لئے مجبور کرنے پر نیلو نے خواب آور گولیاں کھا لیں جس پر نامور شاعر حبیب جالب نے نظم لکھی۔نیلو نے معروف ہدایتکار ریاض شاہد سے شادی کی اور اپنا نام عابدہ رکھا۔آج کا سپر اسٹار شان اُن کا صاحبزادہ ہے۔

    پاکستان فلم انڈسٹری میں نیلو کے نام سے شہرت پانے والی عابدہ ریاض کا پیدائشی نام سنتھیا الیگزینڈر فرنینڈس تھا۔ اور وہ 30 جون 1940 کو بہرہ، سرگودھا میں پیدا ہوئیں اور اپنے فنی کیریئر میں دوشیزہ،عذرا،زرقا،بیٹی،ڈاچی،جی دار جیسی یادگار فلموں میں کام کیا۔

    اداکار شان کے گھر صفِ ماتم بچھ گئی:شان کی والدہ محترمہ اداکارہ نیلوبیگم وفات پاگئیں‌

    شان شاہد کی والدہ کی وفات پر وزیراعظم عمران خان کا اظہار افسوس

  • شان شاہد کی والدہ کی وفات پر وزیراعظم عمران خان کا اظہار افسوس

    شان شاہد کی والدہ کی وفات پر وزیراعظم عمران خان کا اظہار افسوس

    لالی وڈ کے معروف اداکار شان شاہد کی والدہ اداکارہ نیلو کے انتقال پر وزیراعظم عمران خان نے اظہار تعزیت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :پاکستان شوبز انڈسٹری کی ماضی کی سپراسٹار ہیروئن نیلو گزشتہ روز علالت کے باعث 81 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ اداکارہ نیلو کے انتقال پر جہاں پوری پاکستان شوبز انڈسٹری نے غم کا اظہار کیا، وہیں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی اظہار تعزیت کیا ہے۔


    وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ والدہ کی رحلت پر میری دعائیں اور ہمدردیاں شان شاہد کے ساتھ ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

    واضح رہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں نیلو کے نام سے شہرت پانے والی عابدہ ریاض کا پیدائشی نام سنتھیا الیگزینڈر فرنینڈس تھا۔ اور وہ 30 جون 1940 کو بہرہ، سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ 16 برس کی عمر میں انہوں نے لاہور میں فلمائی گئی ہالی ووڈ فلم ’’بھوانی جنکشن‘‘ سے فنی زندگی کا آغاز کیا۔نیلو نے کئی یادگارفلمیں دیں۔ فلم سات لاکھ میں جلوہ گرہوئیں تو گانا”آئے موسم رنگیلے سہانے“اُن کی پہچان بن گیا لیکن انہوں نے شہرت پاکستانی فلموں میں آئٹم سانگ سے پائی۔

    شاہ ایران کے سامنے رقص کے لئے مجبور کرنے پر نیلو نے خواب آور گولیاں کھا لیں جس پر نامور شاعر حبیب جالب نے نظم لکھی۔نیلو نے معروف ہدایتکار ریاض شاہد سے شادی کی اور اپنا نام عابدہ رکھا۔آج کا سپر اسٹار شان اُن کا صاحبزادہ ہے۔

    پاکستان فلم انڈسٹری میں نیلو کے نام سے شہرت پانے والی عابدہ ریاض کا پیدائشی نام سنتھیا الیگزینڈر فرنینڈس تھا۔ اور وہ 30 جون 1940 کو بہرہ، سرگودھا میں پیدا ہوئیں اور اپنے فنی کیریئر میں دوشیزہ،عذرا،زرقا،بیٹی،ڈاچی،جی دار جیسی یادگار فلموں میں کام کیا۔

  • ڈراموں کی کہانیاں ایسی ہونی چاہیئں کہ دیکھنے والے اس سے سبق سیکھیں   اقرا عزیز

    ڈراموں کی کہانیاں ایسی ہونی چاہیئں کہ دیکھنے والے اس سے سبق سیکھیں اقرا عزیز

    پاکستان ٹی وی انڈسٹری کی معروف اداکارہ اقرا عزیز کا فلموں میں کا م کرنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ ٹی وی پر اتنی پذیرائی ملی ہے کہ انہیں فلموں میں کام کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں غیر ملکی ویب سائٹ ’اردو نیوز‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں اقرا عزیز نے کہا کہ ان کی سوچ کے مطابق ٹی وی ایک بہت بڑا میڈیم ہے ایسے دوردراز علاقے جہاں کیبل یا سینما نہیں ہوتے، وہاں ٹی وی ہوتا ہے۔ لوگ اس کے ذریعے اپنے پسندیدہ فنکاروں کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، چھوٹی اسکرین پر اتنی پذیرائی ملی ہے کہ انہیں فلموں میں کام کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی۔

    مداحوں کی جانب سے تنقید پر اقرا عزیز کا کہنا تھا کہ جو لوگ ہمیں پسند کرتے ہیں وہ ہمارے کام کو سراہتے ہیں اور اگر انہیں ہمارا کام کبھی پسند نہ آئے تو وہ تنقید بھی کر سکتے ہیں، اس میں برا منانے والی کوئی بات نہیں لیکن تنقید کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے، میں نے ہمیشہ مثبت تنقید کو سراہا ہے۔

    ڈراموں کی کہانیوں میں یکسانیت سے متعلق اقرا عزیز نے کہا کہ دنیا بہت بدل چکی ہے اب لوگ بہت آگے جا چکے ہیں وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روش بدلیں، جو لوگ بھی ڈرامے بنا رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مختلف موضوعات پر ڈرامے بنا ئیں ہمارے ڈراموں کی کہانیاں ایسی ہونی چاہیئں جو اگر ہماری زندگی کے ساتھ نہیں بھی جڑی ہوئیں لیکن دیکھنے والے اس سے سبق سیکھ سکیں۔

    اپنی حالیہ سیریز ’رقیب سے‘ میں اپنے سینیئر ساتھی اداکاروں کی تعریف کرتے ہوئے اقرا نے کہا کہ بعض اوقات بڑے سٹارز کے ساتھ کام کرنے سے پہلے آرٹسٹ ڈرا سہما ہوتا ہے میرا بھی یہی حال تھا لیکن ثانیہ سعید ،حدیقہ کیانی اور نعمان اعجاز کے ساتھ کام کرکے بہت مزا آیا اور بہت کچھ سیکھا-

    اقرا نے کہا کہ نعمان اعجاز بہت بڑے اداکار ہیں انہوں نے ان لوگوں کے ساتھ کام کیا ہوا ہے جن کا نئی نسل کو شاید پتہ بھی نہ ہو-

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں اور اپنے سے جونیئرز کی بہت مدد کرتے ہیں ڈرامے کہ شوٹنگ کے دوران میرے ساتھ بار بار ریہرسل کیا کرتے تھے تاکہ اس میں فلمایا گیا منظر حقیقت سے قریب ہو۔

    اداکار بننے کیلئےاب ایکٹنگ آنی ضروری نہیں بس سوشل میڈیا پر فالوورز کی تعداد زیادہ…

    نادیہ خان نے بپی لہری اور مہیش بھٹ کی فلم میں کام کرنے سے کیوں انکار کیا؟

  • کپل شرما کا پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار

    کپل شرما کا پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار

    بھارت کے معروف مزاحیہ اداکار کپل شرما نے پاکستان آنے کی خواش کا اظہار کردیا۔

    باغی ٹی وی : کپل شرما نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے فالوورز کے لیے ایک سیشن رکھا جس میں انہوں نے مداحوں کے مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے۔

    ایک صارف نے کپل شرما سے دریافت کیا کہ پاکستان آنے کی کوئی امید ہے؟،پاکستانی مداحوں کے لیے کوئی ایک لفظ کہہ دیں‘۔


    اس ٹویٹ کے جواب میں کپل نے لکھا کہ میں شری کرتار پور صاحب کا دورہ کرنا چاہتا ہوں مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ خواہش کب پوری ہوتی ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب کے ضلع نارروال کے علاقے شکر گڑھ میں سکھ برداری کا مقدس ترین مقام موجود ہے، جہاں ہر سال لاکھوں بھارتی سکھ زیارت کے لیے آتے ہیں۔

    حکومت پاکستان نے 2019 میں کرتار پور راہداری منصوبے کا آغاز کیا جس کے تحت سکھ یاتری کرتار پور آتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے اس اقدام کو دنیا بھر میں سراہا گیا تھا۔

    کرتاپور راہداری کھلنے کے بعد اب تک بھارت سے ہزاروں کی تعداد میں سکھ زیارت کے لیے کرتار پور آچکے ہیں، جن میں معروف اداکار اور شخصیات بھی شامل ہیں۔

  • ایسی سرگرمیوں میں شامل ہوں جو واقعی آپ کو خوش کردیں   ہانیہ عامر

    ایسی سرگرمیوں میں شامل ہوں جو واقعی آپ کو خوش کردیں ہانیہ عامر

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ ہانیہ عامر کا کہنا ہے کہ کسی سے مدد جب مانگیں جب ضرورت ہو اس میں شرم کی کوئی بات نہیں۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک رہنے والی اور اکثر بیشتر تنقید کی زد میں رہنے والی پاکستان کی خوبصورت اداکارہ ہانیہ عامر اپنی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کی جس کو مداحوں کو خوب پسند کیا جا رہا ہے-

    ہانیہ عامر نے اپنی تصویر کے ساتھ کیپشن میں مداحوں کے لئے پیغام میں لکھا کہ خود کی دیکھ بھال اور قدر ضروری ہے۔ کسی سے مدد جب مانگیں جب ضرورت ہو۔ اس میں شرم کی کوئی بات نہیں۔

    ہانیہ عامر نے مزید لکھا کہ اپنے ساتھ اچھا وقت گزاریں، ایسی سرگرمیوں میں شامل ہوں جو واقعی آپ کو خوش کردیں۔ اپنا خیال رکھیں کیونکہ یہ دنیا پر خوبصورت اور مثبت اثر کا باعث بنے گا۔

  • امریکی معروف گلوکارہ کا سلمان خان سے اظہار محبت؟

    امریکی معروف گلوکارہ کا سلمان خان سے اظہار محبت؟

    معروف امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کی ایک ‘جف’ ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ان کے ہونٹوں کی جنبش دیکھ کر صارفین دلچسپ جملے تجویز کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف کی جانب سے ٹیلر سوئفٹ کے ایک گانے کی ‘جف’ویڈیو پوسٹ کی گئی اور چیلنج کیا گیا کہ بتائیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں۔


    اس پر صارفین کی جانب سے مختلف جملے لکھے گئے تاہم ایک جملہ سب سے زیادہ وائرل ہوا جسے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بڑی تعداد میں پسند اور ری ٹوئٹ کیا جارہا ہے۔
    https://twitter.com/lvnkhao/status/1354517632767172617?s=20
    ایک صارف نے جف ویڈیو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ ٹیلر سوئفٹ اس میں ‘ آئی لو یو سلمان خان’ کہہ رہی ہیں۔

    صارف کے اس کمنٹ کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا اورمداحوں کی جانب سے دلچسپ تبصرے کئے جا رہے ہیں-

  • کانز ریڈ کارپٹ پر جانے سے قبل پریانکا چوپڑا کو شرمندگی کا سامنا

    کانز ریڈ کارپٹ پر جانے سے قبل پریانکا چوپڑا کو شرمندگی کا سامنا

    بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا نے اپنی سوانح حیات مکمل کرلی ہے اور جلد ہی وہ شائع ہو کر مارکیٹ میں آجائے گی۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ نے اپنی کتاب کی تشہیر بھی شروع کردی ہے اور ایک انسٹاگرام پوسٹ میں انہوں نے بتایا ہےکہ ان کی کتاب میں قارئین کو کیا کیا پڑھنے کو مل سکتا ہے۔

    پریانکا نے اپنی پوسٹ میں کانز فلم فیسٹیول 2019کا ایک دلچسپ واقعہ بتایا ہے جس میں وہ پہلی بار شریک ہوئی تھیں۔

    بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کو کانزریڈ کارپٹ پر جانے سے قبل اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے لباس کی زپ ٹوٹ گئی۔

    بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کانز فلم فیسٹول میں شرکت کے موقع پر اس وقت ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے لباس کی زپ ٹوٹ گئی اور کچھ ہی دیر بعد انہیں ریڈ کارپٹ کے لیے جانا تھا جس نے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا۔

    پریانکا نے انسٹاگرام پر پورے واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کانز فلم فیسٹول میں شرکت کے موقع پر باہر سے تو میں بہت خوش اور زبردست لگ رہی تھی تاہم اندر سے حواس باختہ تھی کیوں کہ ریڈ کارپٹ پر انٹری سے کچھ دیر قبل ان کے خوبصورت لباس کی زپ بند کرنے کے دوران ٹوٹ گئی تھی۔

    بالی وڈ اداکارہ نے کہا کہ انہیں 5 منٹ بعد ریڈ کارپٹ کے لیے جانا تھا اور وہ اس ساری صورتحال میں انتہائی پریشان تھیں تاہم ان کی ٹیم نے مسئلے کا زبردست حل نکالا اور گاڑی میں ہی ان کے لباس کی سلائی کردی گئی۔

    پریانکا چوپڑا نے کہا کہ اس طرح کے بے شمار واقعات شوٹنگ کے دوران رونما ہوچکے ہیں تاہم مداح مزید آف اسکرین واقعات جاننے کے لیے سوانح حیات unfinished کا انتظار کریں۔

    معروف بھارتی ٹی وی کا ’کپل شرما شو‘ کو بند کرنے کا فیصلہ

    جیکولین فرنینڈس بھی ہالی وڈ فلم میں جلوہ گر ہوں گی

  • پاکستان میں نظام تعلیم کو درپیش مسائل  تحریر:انجینئر محمد ابرار

    پاکستان میں نظام تعلیم کو درپیش مسائل تحریر:انجینئر محمد ابرار

    عنوان: پاکستان میں نظام تعلیم کو درپیش مسائل

    تحریر:انجینئر محمد ابرار

    غربت کسی بھی ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے.پاکستانی میں جہاں اشرافیہ مقیم ہے وہیں آدھے سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں. ان حالات میں بہت سے کم عمر بچے غربت کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں UNICEF کی ایک رپورٹ کے مطابق17.6% پاکستانی بچے اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لئے تعلیم کی قربانی دیتے ہیں.ایسے حالات میں حکومت کا کردار اور تعاون ناگزیر ہے-

    پاکستان میں سیاست و حکومت جاگیرداروں کے زیر اثر نظر آتی ہے.جاگیردارانہ نظام خواندگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے.اسی نظام کی بدولت یہ وڈیرے سالہاسال سے مختلف علاقوں میں حکومت کرتے نظر آتے ہیں. مزاری، لغاری اور کئی خاندانوں کے سپوت بیروں ملک تعلیم میں مصروف ہیں جن کو ملک واپسی پر اس قوم کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کا کام سونپ دیا جاتا ہے-

    جنوبی پنجاب کا ذاتی طور پر جائزہ لینے کے بعد کئی حقائق سامنے آئے ہیں جن میں سے ایک چونکا دینے والی چیز وڈیروں کا غریب عوام کو دومی سائل بنوانے سے روکنا اور اس کام میں ہر ممکن روڑے اٹکانا قابل ذکر ہے.اس کو کردینے پر معلوم ہوا کہ اعلی تعلیم کے خواہان افراد کو اس بیڑی سے جکڑا جاتا ہے تا کہ بعدازاں جاگیردار کے سامنے کھڑا ہونے کی جسارت نہ کر سکے۔ پاکستان ان 12 ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جہاں GDP کا% 2 سے بھی کم حصہ تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے-

    تعلیم نسواں پاکستان میں ایک سنگین صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے. تعلیم نسواں کی طرف عدم توجہ کی وجہ لڑکیوں کی کم عمر میں شادی، والدین کی ناخواندگی، مالی وسائل کی عدم دستیابی اور معاشرے میں جنسی ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے کیسز میں اضافہ شامل ہے. یہ ستم فقط صنفِ نازک پر ہی نہیں کیا جا رہا بلکہ لڑکے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں-

    بہت سے والدین کو جب میٹرک کے بعد لڑکوں کو تعلیم سے روکنے کی وجہ معلوم کی تو بیشتر نے مالی حالات کو عذر پیش کیا.جبکہ لڑکیوں میں میٹرک کے بعد تعلیم حاصل کرنے کے رججان میں کمی کی ایک وجہ والدین کا کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ماحول کو قبول نہ کرنا ہے. کیا پاکستان جیسا ترقی پزیر ملک اس بے راہ روی اور ناخواندگی کا متحمل ہو سکتا ہے؟ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے مسلمانوں کا اقوام عالم سے پیچھے رہ جانا اور مغرب کا تسلط، مسلمانوں کی دین سے دوری اسکا سبب ہے-

    پاکستان میں بہت سے ادارے اپنی مدد آپ کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دینے میں مصروف ہیں تاکہ وہاں سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات اپنے دینی امور احسن انداز میں سرانجام دینے کے علاوہ دنیاوی کامون میں بھی حصہ ملاتے ہوئے فعال شہری بن سکیں. دینی و عصری تعلیم کو ایک ہی ادارے سے منسلک کرنے سے معاشرے کے مختلف حلقوں میں پائی جانے والی حجان کی صورت حاصل پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور پڑھے لکھے نوجوان دوران ملازمت اپنی فرائض سر انجام دیتے ہوئے اس کے دینی پہلو کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں گے-

    جہاں ہر شعبے میں کرپشن کا ناسور موجود ہے وہی تعلیمی نظام میں بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو بغیر پڑھے ڈگریاں ڈپلومے الاٹ کرتے ہیں تعلیمی نظام میں کرپشن کا خاتمہ بے حد ضروری ہے تا کہ میرٹ کی بنیاد پر صرف قابلیت رکھنے والے افراد کو آگے لایا جائے. جب یہ لوگ ملک کی باگ دوڑ سنبھالیں گے تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا-

    ضرورت اس امر ہی ہے کہ نظامِ تعلیم میں اصلاحات لاتے ہوئے یکساں نظام تعلیم قائم کیا جائے تا کہ امیر غریب کے فرق کے بغیر تعلیم کا حصول ممکن ہو اس سے شرح خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ہم ایک نئی پڑھی لکھی نسل تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو تحقیق و تالیف کے شعبوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہوئے پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرے گی پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرے گا ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا جس سے زرمبادلہ حاصل ہوگا اور مجموعی طور پر عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولیات کا حصول ممکن ہوگا۔

  • ثروت گیلانی کے ’فیمنزم‘ سے متعلق دیئے گئے بیان پر سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز

    ثروت گیلانی کے ’فیمنزم‘ سے متعلق دیئے گئے بیان پر سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز

    سوشل میڈیا پر اداکارہ ثروت گیلانی کے ’فیمنزم‘ سے متعلق دیئے گئے بیان پر بحث کا آغاز ہو گیا صارفین کا کہنا تھا کہ کیا فیمنزم کا مطلب مردوں سے نفرت کرنا ہے؟

    باغی ٹی وی :ویب سیریز چڑیل سمیت کئی ڈراموں اور فلموں سے شہرت پانے والی پاکستانی اداکارہ ثروت گیلانی نے میزبان اور اداکارہ میرا سیٹھی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بہت سی متنازعہ باتوں کے بیچ یہ بھی کہا کہ وہ ’فیمنسٹ‘ نہیں ہیں لیکن وہ مرد اور عورت کی برابری پر یقین رکھتی ہیں۔

    میزبان میرا سیٹھی اس کلپ میں انھیں یہی سمجھاتی نظر آئیں کہ یہی تو ’فیمنزم‘ ہے۔

    لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی معروف فنکار نے کسی انٹرویو میں اس لفظ سے دامن چھڑایا ہو، گو بات مرد اور عورت کی برابری کی ہی کہی ہو لیکن یہ ماننے سے انکار ہی کیا کہ وہ ’فیمنسٹ‘ ہیں یا شاید اس لفظ سے وہ آشنائی اور واقفیت نہیں پیدا ہو سکی کہ بلا تکلف اس کا نام لیں۔

    ٹوئٹر پر سعدیہ نامی صارف نے پوچھس کہ پاکستانی مشہور شخصیات فیمنسٹ کہلانے سے اتنے خوف زدہ کیوں ہیں؟
    https://twitter.com/sethimirajee/status/1354465791920504838?s=20
    صارف کی اس ٹوئٹ پراداکارہ میرا سیٹھی نے کہا کہ وہ اپنی بہت سی خواتین ساتھیوں سے کیمرا پر اس بارے میں سوال پوچھ چکی ہیں۔

    انھوں نے کہا ’وجہ شاید خوف ہے، اپنے مداحوں کو کھو دینے کا خوف لیکن ان کی ایک بڑی تعداد نے اس لفظ سے جڑی منفی تشریح کو اپنا لیا ہے۔‘

    اس ضمن میں انھوں نے عروہ حسین، عائشہ عمر اور عثمان خالد بٹ کی تعریف بھی کی کہ انھوں نے فیمنزم کا جم کر دفاع کیا۔

    لیکن جب ثروت گیلانی میزبان میرا سیٹھی کی بات نہیں سمجھیں تو یہ ذمہ داری سوشل میڈیا صارفین نے اٹھا لی اور ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا-

    ٹوئٹر پر پیسٹری نامی ایک اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ وجوہات بہت سی ہیں مگر ایک بڑی وجہ اس بارے میں درست معلومات نہ ہونا ہے، لوگوں کو علم ہی نہیں کہ اس کا مطلب اسلام دشمن، بے راہ روی کی حامی، مردوں پر حکومت کرنے والی، رشتوں سے بیزار خاتون نہیں ہوتا، یہ کچھ اور ہے۔‘

    ایک اور صارف نے لکھا کہ مسئلہ اس معاشرے میں زندہ رہنا ہے جہاں فیمنسٹ، لبرل یا سیکولر کی تعریف کا مطلب کفر اور بے حیائی سے جوڑا جاتا ہے۔ اس لیے منافقت کرتے ہوئے اندر سے تو فیمنسٹ رہنا چاہتے ہیں لیکن کھل کر کہنے سے ڈرتے ہیں۔‘

    ثروت گیلانی نے اس انٹرویو کے متعلق ہی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خواتین کو طاقتور بنانے اور مردوں اور عورتوں کے لیے برابری کی بنیاد پر مواقعوں کی فراہمی کی حامی ہیں۔

    لیکن میں اس چلن کا حصہ نہیں بننا چاہتی جس کے تحت کہا جائے کہ چلو ہم بھی کہیں کہ ہمیں مردوں سے نفرت ہے اور ان کی برائی کرنے لگیں۔ میرا خیال ہے بہت سے مرد بھی خواتین کو مضبوط بنانے اور ان کی حوصلہ افزائی میں کردار ادا کرتے ہیں اور ہمیں ان کا کردار فراموش نہیں کرنا چاہیے۔


    محمد طلال نامی صارف نے لکھا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا فیمنزم کا دائرہ کیا تھا اور اسکو دنیا میں کس انداز میں پیش کیا جارہا ہے اگر یہ واقعی حقوق نسواں کی تحریک ہے تو پھر اسکے مظاہروں میں مرد کو گالی کیوں دی جاتی ہے یہ واقعی بہت اہم سوال ہے…!
    https://twitter.com/DanialKn2/status/1354844462732759045?s=20
    دانیال خان نامی صارف نے لکھا کہ Feminists اور Women Right Activists فرق ہےWomen Right Activ عورتوں کیلئے خاندان کی بہبود کی بات کرتے ہیں
    1. پاکستان میں جو اپنے ساتھ فیمنسٹ لکھتے ہیں وہ
    قدرت کے اصولوں کی نفی کرتے ہیں
    2. مرد سے نفرت, اپنے باپ سے بھی
    3. خوشال شادی شدہ عورتوں سے نفرت
    4. خود ذہنی مسائل کا شکار ہیں


    محمد اسماعیل بلوچ نامی صارف نے لکھا کہ برابری مرد عورت دونوں کا انسانی حق ہے عورت بھی مرد کے طرح سوچ سکتی ہے یہ حقیقت ہے عورت بہت زیادہ ظلم کا شکار ہے اس معاشرے حواس پرستی ختم ہو گا سوچ تبدیل ہو گا
    https://twitter.com/AamAdamiWala/status/1354467451203952649?s=20


    پیسٹری نامی ایک اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ نہیں ، فیمنزم کا مطلب مردوں کو “ خواتین “ ہونے کی وجہ سے عورتوں کو اچھوت سمجھ کر ، ان کو کمتر سمجھ کر ، ان سے نفرت سے روکنا ہے” تاکہ برابری کی بنیاد پر ایک بہتر ، صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکے-

    ‘ہرجگہ عورت عورت نہیں ہونا چاہیے،اللہ نےجومقام مردکودیا ہےملنا چاہیے:معروف…

    ‘ہرجگہ عورت عورت نہیں ہونا چاہیے،اللہ نےجومقام مردکودیا ہےملنا چاہیے:معروف…

    خواہش ہے کہ ایسی خواتین کے لیے کہانیاں بناؤں جن کی عمریں 30 سال سے بڑھ جاتی ہیں…