Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • کرونا فنڈ مانگنے والی اداکارہ میرا نے لاکھوں روپے انعام دینے کا اعلان کر دیا

    کرونا فنڈ مانگنے والی اداکارہ میرا نے لاکھوں روپے انعام دینے کا اعلان کر دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ کا آئی فون گم ہو گیا-

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آئے دن نت نئے مسائل میں گھر ی رہنے والی اسکینڈل گرل کے نام سے مشہور اداکارہ میرا آئے دن خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں اور خبروں میں ان کیسے رہنا ہے اداکارہ میراکو یہ فن خوب آتا ہے –

    تاہم بھی اداکارہ اپنے آئی فون گم ہو نے کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں-

    میرا کا حال ہی میں ائی فون گم ہوا ہے جس کو ڈھونڈنے کے لئے انہوں نے لاکھوں روپے کے انعام کا اعلان کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے-

    رپورٹس کے مطابق اداکارہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ان کا آئی فون ڈھونڈ کر لانے والے کو پانچ لاکھ انعام دیا جائے گا-

  • دشمن چاروں طرف سے یلغار کے لئے تیار مشکلات میں گھرا پاکستان کیسے بچ سکتا ہے؟ سنیئے مبشر لقمان کی زبانی

    دشمن چاروں طرف سے یلغار کے لئے تیار مشکلات میں گھرا پاکستان کیسے بچ سکتا ہے؟ سنیئے مبشر لقمان کی زبانی

    پاکستان کے سینئیر صحافی اور معروف و مقبول اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ ملک میں موجودہ حالات میں جو مسائل ہمیں بظاہر نظر آ رہے ہیں وہ تو دراصل کچھ بھی نہیں جو خطرات اس وقت پاکستان کی سالمیت کو لاحق ہیں۔

    باغی ٹی وی:مبشر لقمان کے آفیشل یوٹیوب چینل پر جاری کی گئی ویڈیو میں مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ میری آج کی ویڈیو انتہائی اہم ہے یہ ویڈیو دیکھ کر آ پ کو اندازہ ہو جائے گا کہ جو مسائل ہمیں بظاہر نظر آ رہے ہیں وہ تو دراصل کچھ بھی نہیں جو خطرات اس وقت پاکستان کی سالمیت کو لاحق ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک غلطی اسے مشکل میں ڈال سکتی ہے اور پاکستان کے پالیسی سازوں کو کس قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے امریکہ بہادر پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ کھرا ہے اور ہمارے جائز مطالبات پر بھی کان نہیں دھر رہا گلف ممالک ہم سے ناراض ہو چکے ہیں۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ دنیا کے خلاف جو بلاک پاکستان بنانے جا رہا تھا وہ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے پر بننے سے پہلے ٹوٹ گیا افغانستان میں معاملات ہماری مرضی کے مطابق نہیں چل رہے اور طالبان کے نئے چیف، ملا عمر کے بیٹے کا پاکستان کے ساتھ کوئی Background نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت آئے دن پاکستان کی سالمیت پر حملے کر رہا ہے اور امریکہ کی اسے اشیر باد حاصل ہے،
    پاکستان اندرونی طور پر شدید مسائل میں گھرا ہوا ہے چاہے دہشت گردی ہو یا Poor governanceمہنگائی، بے روزگاری،معیشت، وبا ۔۔۔ آپ جو اینٹ اٹھا کے دیکھیں ا سکے نیچے سے نیا بحران نکلے گا۔

    مودی جان لو اس بار حماقت کی تو یا آر ہوگا یا پار مبشر لقمان نے مودی سرکار کو خبردار کر دیا

    مبشر لقمان نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تو کیا ایسے حالات میں پاکستان اپنی سالمیت کو قائم رکھ سکتا ہے۔ ماضی میں پاکستان نے ایسی صورتحال سے فائدہ اٹھایا یا نقصان۔کیا پاکستان نے ماضی میں سب برا کیا یا کچھ ایسا بھی ہے جسے دنیا جان کر حیران رہ جاتی ہےوہ کون سی چیزیں ہین جو پاکستان کو اس بحران سے نکال سکتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خطہ میں اہم لوکیشن اورGeo-streategic standingجہاں اسے اہم بناتی ہے۔ وہاں ہمیشہ
    Foreign policyبنانے میں بڑے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، اسے کسی ایسے ملک کو ناراض نہیں کرنا جو بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ملٹری بیلنسUpsetکر سکتا ہے اور پاکستان کو ہر اس ملک کے ساتھ رہناہے جو پاکستان کو بھارت کے خلاف ملٹری بیلنس قائم رکھنے میں مدد کر سکتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آپ یہ سمجھ لیں یہ پاکستان کی Bottam line ہے اس لائن کو سعودی عرب بھی کراس کرتا ہے تو ہمارا کھڑاک ہو جاتا ہے لیکن کیا ہم اس وقت کسی کے ساتھ بھی کھڑاک کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔؟

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد پچاس سال تک بھارت اور روس کے خلاف امریکہ کی مدد کی اس کی پراکسی وار کا حصہ بننے کا مقصد بھی یہی تھا کہ کچھ لو اور کچھ دو کا سلسہ جاری رکھا جائے ، امریکی ضروریات پوری کرنے کے لیئے پاکستان امریکہ کی افغانستان میں مجبوری بنا اور آج تک بنا ہوا ہے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے کبھی بھی امریکی مطالبات پر آنکھیں بند کر کے عمل نہیں کیا اسی لیئے اس پر امریکہ کی اتنی مدد کرنے کے باوجود Double agent کا نہ صرف الزام لگا بلکہ مغربی میڈیا نے اس پر لمبی چوڑی documentaries بھی بنائی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ساری بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اپنے ملکی مفاد پر کسی بھی صورت Compromise
    نہیں کر سکتا اور الحمدللہ نہ اس نے کیا۔

    طیب اردگان کی منافقت یا قومی مفاد ،پاکستان کا وہ بلاک جو بننے سے پہلے ٹوٹ گیا، تہلکہ خیز انکشافات،مبشر لقمان کی زبانی

    سینئیر صحافی نے کہا کہ آپ قیام پاکستان سے لے کر آج تک اٹھا کر دیکھ لیں چاہے روس کے مقابلے میں امریکہ کا انتخاب تھا یا افغان جہاد نقصان تو ہم بڑے گنواتے ہیں کہ یہ ہوگیا وہ ہو گیا، لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ اس وقت پاکستان کے وجود اور سالمیت کو کیا خطرہ تھا اور ان فیصلوں کے بدلے پاکستا ن کو کیا ملا۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم تفصیل میں جائیں تو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ پاکستان نے ان تمام چیزوں کو کیسے اپنے فائدے کے لیئے استعمال کیا۔ کئی لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پاکستان کا جوہری پروگرام کے لیئے بے پناہ پیسہ یہیں سے آیا اور ہم نے گھاس کھائے بغیر اسے بنا لیا اور اس کے لیئے صرف پیسے کی ضرورت نہیں تھی۔ امریکہ جو آج ایران کو نیوکلیئر طاقت بننے سے روکنے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا چکا ہے نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اس وقت تک نظر انداز کیا جب تک اس نے پاکستان کی مدد سے روس کو توڑ نہیں دیا۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے روس کے انیس سو اکیانوے میں ٹوٹتے ہی امریکہ نے نہ صرف افغانستان اور طالبان کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیا بلکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرم کو بند کروانے کے لیئے پابندیوں کے پہاڑ توڑ دیئے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

    اینکر پرسن کے مطابق کیا پاکستان کے مفاد میں یہ تھا کہ امریکہ کی مدد نہ کر کے روس کی حوصلہ افزائی کرتا کہ وہ بھارت کو نہ صرف ایٹمی طاقت بنائے بلکہ اس کی مدد سے پاکستان سے گزرتا ہوا گرم پانیوں تک پہنچ جاتا جو اس کا صدیوں کا خواب تھا یاایک تیر سے کئی شکار کرتا۔ امریکی پیسے سے اپنا دفاع مضبوط کیا، بھارت کے خلاف بیلنس آف پاور کیا اور ساتھ میں ایٹمی طاقت بن گیا۔ اس طاقت کے لیئے کون سی ایسی قربانی ہے جو چھوٹی نہیں ہے۔ مرے بغیر تو جنت بھی نہیں ملتی، آپ کو کچھ لینے کے لیئے کچھ دینا بھی پڑتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے پاکستان کے بائیس کروڑ لوگوں کے دل کی آواز اٹھائی کہ پاکستان نیا بلاک بنانے جا رہا ہے۔ جس میں ترکی، ایران، چین اور پاکستان ہوں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں ایک سوچنے کی بات ہے-

    مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ اس وقت جتنا خوفناک بلاک ایران کے خلاف بن رہا ہے جس میں گلف ممالک، امریکہ اور اسرائیل شامل ہیں کیا وہ بلاک دوسرے بلاک کے صرف ایک ملک کو نشانہ بنائے گا یا پورے بلاک کو برباد کرنے کی کوشش کرے گا۔ جبکہ دوسری طرف اس بلاک میں امریکہ کا دشمن چین۔۔ چین کا دوست پاکستان امریکہ کا دوست بھارت اور بھارت کا دشمن پاکستان گلف ممالک سے ہمیں اپنی دوستی پر مان تھا انہوں نے ایک منٹ میں ہمیں اپنی اوقات یاد کروا دی۔

    انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی دفعہ بھارتی آرمی چیف کو بلا کر اپنےMilitary Academy, National Defense University and Command & Staff College کا دورہ کروا رہا ہے جو پاکستان کی افواج نے خود اپنے ہاتھوں سے بنائے لیکن انہوں نے بتا دیا ہے کہ یہ بھی ہو سکتا ہےچاہے انسان ہوں یا ملک اس کی غیرت کا امتحان اس چیز پر ہوتا ہے کہ اس کی طاقت کیا ہے وہ کتنی معاشی غلامی کا شکار ہے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ گھر میں کھانے کو روٹی نہ ہو، پہننے کو کپڑے نہ ہوں سر چھپانے کو چھت نہ ہو اور بنے چوہدری بنے یہ اصول نہ تو کسی محلہ میں چلتا ہے اور نہ دنیا کے سیاسی افق پروہ ملک جو اندرونی مسائل سے بھرا پڑا ہو، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہو،بے روزگاری کا بازار گرم ہو،معیشت گر رہی ہو، قرضوں میں گردن تک دھنسا ہوا ہو، سیاسی عدم استحکام عروج پر ہو، پاکستان کے تعلیمی نظام کے خلا کو گزشتہ پچیس سال سے مدرسے پر کر رہے ہیں، جہاںComputer scienc سمیت جدید تعلیمی نظام کو کوئیConcept ہی نہیں ہے۔

    سینئیر صحافی نے کہا کہ یہاں سوسائٹی کئی حصوں میں تقسیم ہے، پرائیوٹ سکولوں، سرکاری سکولوں اور مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کی ایک ہی ایشو پر سوچ میں زمین آ سمان کا فرق ہے۔ ایک قومی سوچ کا شدید بحران ہے اس کے لیئے اتنے مشکل خارجہ پالیسی چیلنجز جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اینکر پرسن نے کہا کہ اس وقت دنیا میں بڑی تیزی سے حالات بدل رہے ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست بن رہے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے لیئے بھی نئے چیلنجز آ کھڑے ہوئے ہیں پاکستان کے ایک طرف نیوکلیئر بھارت شرارت کرنے کے لیئے تیار کھڑا ہے تو دوسری طرف کمزور مگر مشتعل افغانستان۔ اور پاکستان ان حالات کے درمیان کھڑا ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق مودی نے پاکستان کے خلاف دشمنی کی انتہا کر دی ہے، نہ صرف وہ کشمیر کے اسٹیٹس کے ساتھ چھیر چھاڑ کر رہا ہے بلکہ منظم طور پر پوری دنیا میں پاکستان کے امیج کو برباد کرنے، اسے فیل اسٹیٹ ڈکلیئر کروانے، ایف ای ٹی ایف سے پابندیاں لگوانے،پاکستان میں آزادی کی تھریکوں کو چنگاری لگانے، اسے دہشت گرد ملک قرار دلوانے اس کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے سمیت کسی بھی مکروہ کام سے پیچھے نہیں ہٹ رہا۔

    مبشر لقمان کے مطابق اس وقت بد قسمتی سے صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے والے کم اور اس کی ٹانگیں کھینچنے والے زیادہ ہیں اور اس وقت پاکستان کی فارن پالیسی ہی ہے جس نے یہ تعین کرنا ہے کہ کون اس کا دشمن اور کون اس کا دوست ہے، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں درمیانی راستہ نکالتے ہوئے کیسے اپنے دشمن کم اور دوست زیادہ کرنے ہیں اسے ہی Streategic streangthکہا جاتا ہے۔آپ کی اسٹرٹیجی ہی آپ کی طاقت ہوتی ہے وہ ہی آپ کو مشکل وقت سے نکالتی ہے اور مشکل میں ڈالتی ہے۔

    انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے اور یہ مسائل اس کی غلطیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ دنیا کے بدلتے حالات کی وجہ سے ہیں یہ مشکل حالات کہیں دشمن ملک کی طرف سے آ رہے ہیں تو کہیں سعودی عرب جیسے دوست ممالک کی طرف سے تو کہیں امریکہ جیسی سپر پاور کی طرف سے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ اس گلوبل ویلج میں ہم نے صرف چین کے سہارے پر رہنا ہے یا پوری دنیا کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا ہے، ہمیں دونوں کام کرنے ہیں اور دشمن کم اور دوست بڑھانے ہیں۔ یہ سب باتیں کہنا بہت آسان ہے لیکن جب کرنے نکلتے ہیں تو ہر چورائے پر رکاوٹیں ہی رکاوٹیں ہیں۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ بچے گا وہی جوSurvival of the fittest کے اصول پر کاربند ہو گا۔ اور اللہ ہی اس مشکل وقت سے پاکستان کو نکالنے میں مدد کر سکتا ہے کیونکہ انسان کا کام قدم بڑھانا ہے، سبب اللہ ہی بناتا ہے اور یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ پاکستان زندہ باد

  • مودی جان لو اس بار حماقت کی تو یا آر ہوگا یا پار  مبشر لقمان نے مودی سرکار کو خبردار کر دیا

    مودی جان لو اس بار حماقت کی تو یا آر ہوگا یا پار مبشر لقمان نے مودی سرکار کو خبردار کر دیا

    پاکستان کے سینئیراینکر پرسن اور صحافی مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ بھارت کو درحقیقت اس وقت پاکستانی معاونت سے کامیاب ہونیوالے افغان امن عمل پر اور اِسی طرح پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے سی پیک کی کامیابی کی تکمیل پر مروڑ اُٹھ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : مبشر لقمان کا اپنے آفیشل یو ٹیوب چینل پر جاری کی گئی ویڈیو پر کہنا ہے کہ بھارت نے تقسیم ہند سے لیکر آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور اس کی سلامتی کیخلاف نت نئی سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔

    مبشر لقمان کے مطابق بھارت کو درحقیقت اس وقت پاکستانی معاونت سے کامیاب ہونیوالے افغان امن عمل پر اور اِسی طرح پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے سی پیک کی کامیابی کی تکمیل پر مروڑ اُٹھ رہے ہیں۔بھارت کی طرف سے مسلسل پاکستان کے لیے نت نئے مسائل پیدا کرنے کی سازشیں جاری رہیں جس میں ہمارے کچھ سیاسی اور غیر سیاسی افراد مستقل حصے دار بن گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔

    سینئیر صحافی کا کہنا تھا کہ 1947/1948کی جنگی صورت حال ہو یا 65،71 یا پھر کارگل سانحہ تک ، نیز پاکستان کے داخلی اور خارجی ہر محاز کے پیچھے ہاتھ بھارت کا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں بھارت ہمارا وہ دشمن ہے جو پاکستان کو دولخت کر کے بھی اعلانیہ طور پر موجودہ پاکستان کو چار ملکوں تقسیم دیکھنا چاہتا ہےیہ بات کئی سال سے یورپ اور کئی ممالک میں بھارتی راءکے حوالہ سے کاروائیاں سامنے آرہی تھیں مگر نہ تو اقوام متحدہ اور نہ ہی انسانی حقوق کے علم بردار اہم ادارے اور یورپ سمیت امریکہ نے کیوں را کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا نہ ہمارے برسلز میں سفارت کاروں نے اور نہ ہی لندن اور دیگر ممالک میں سفارت خانوں نےبھارت کو ایکسپوز کرنے کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ ہمارے پاکستانی ادارے اور سفارت کار کشمیر سمیت مختلف موضوعات پر کمزور نظر آئے ہیں ۔وقت ہے اعلیٰ Independent Think Tank کا مختلف forums پر اہتمام کریں اور پاکستان اور پاکستان کی عوام کے تحفظ کو اور یقینی بنائیں کہ کیا ہم واقعہ fifth Generation Warsfare کے لیے تیار ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سےIndian Cronicals کے نام سے شائع دستاویز نے بے نقاب کردیا ہے کہ بھارت پاکستان کے تشخص کو متاثر کرنے کے لیے کیا کچھ کررہا تھا۔ بھارت کا مقصد پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا ہے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ پچھلے15برسوں سے Online & Offline ہندوستان پاکستان کے تشخص کو متاثر اور اپنی اچھائیوں اور سوچ کو جھوٹا ،سچا کرنے کے لیے کیا کر رہا تھا۔ اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر متاثر کرنے کے لیے جو اُن کا کردار تھا وہ بھی آپ سامنے ہے۔

    سینئیر اینکر پرسن بھارت کی طرف سے یہ جعلی حکمت عملی اپنےStretagic مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے کی جا رہی تھی مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف نے بھی بھارتیhybride war پر کہا کہ ہندوستان ،پاکستان کے خلاف ایک hybride war میں ملوث ہے اور پاکستان کئی سالوں سے اس کا موثر طریقے سے مقابلہ بھی کررہا ہے لیکن اب کیونکہ حقائق سامنے آئے ہیں توسیاسی و عسکری طورپر پاکستان کے لوگوں اور عالمی برادری کے ساتھ شیئر کیا جائے۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ یہ بات ذہن میں رہے کہ اندرونی سیکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کے حالات ٹھیک ہو چکے ہیں۔ پاکستان دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہا ہے اور آگے بھی ایسا ہی کرے گا ۔ پاکستان، افغانستان میں امن کیلئے سہولت کاری کر رہا ہے۔ بھارت ایسا تاثر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاری نہ آئے اور پاکستان میں ترقی نہ ہو سکے ۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ ایک لمحے کے لیے پاکستان دنیا کے سامنے رکھےdosier کو الگ رکھ کر بات کر لیں تو بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے قومی سلامتی کے مشیراجیت دیول کے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہیں جن میں وہ مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی جدوجہد کا بدلہ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں چکانے کے اعترافات کر چکے ہیں۔

    سینئیر صحافی نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کا پاکستان سے پکڑے جانا پاکستان میں بھارت کی طرف سے دہشتگردی کرانے سے بڑا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے سائبر قوانین کی خلاف ورزی جرم ہے اس لئے موجودہ بھارتی قیادت کو انٹروپول کے ذریعے عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں لے جانا چاہیے ۔ کیونکہ یورپی یونین کی سرزمین اور دیگر110 ممالک کو استعمال کرکے جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ یہ جرم جعل سازی کے ذریعہ کیے گئے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی اعانت جیسے جھوٹے الزامات سے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کرنے کے لئے منی لانڈرر کے طور پر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی تنظیموں اور پاکستان کے خلاف جعلی خبروں کے ذریعہ یورپی یونین کی پارلیمنٹ جیسے اداروں کو متاثر اور ناجائز استعمال کیا گیا۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ بھارت نے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈے کرکے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف ووٹ ڈالنے کے لئے دیگر ریاستوں کو راضی کرنے کے لئے عالمی سطح پر لابنگ کی ہے ۔
    فنڈز اور اسلحہ کی فراہمی کے ذریعہ تنخواہ دار ایجنٹ کا استعمال کرکے بلوچستان میں انتشار اور خوف و ہراس پھلایا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ durand line پر تنازعات پیدا کرنا اور کے پی میں نسلی اختلافات پیدا کرنا اور ملک کے دیگر حصوں میں نسلی اور فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کی بھی ناکام کوششوں میں بھارت ملوث ہے ۔

    مبشر لقمان کے مطابق اب تو مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں کتنی دفعہ یہ کہہ دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ بھارت پاکستان پر آج نہیں کل ۔۔۔ اور کل نہیں تو پرسوں حملہ لازمی کرے گا ۔ ہمیں اس حوالے سے تیار رہنا چاہیے ۔ اور میں مودی اور بھارت کو بتا دینا چاہتا ہوں ۔ کہ جب ہمارا، تمہارا ۔۔ہم سے ٹاکرا ہوا ۔۔ تو اس بار ۔۔آریا پار۔۔ ہوگا ۔۔۔ یاد رکھنا ۔۔۔

    طیب اردگان کی منافقت یا قومی مفاد ،پاکستان کا وہ بلاک جو بننے سے پہلے ٹوٹ گیا، تہلکہ خیز انکشافات،مبشر لقمان کی زبانی

    سچی خبروں،تجزیوں اورتبصروں کے ساتھ :مبشرلقمان،سلیم بخاری پیرسےبدھ :صرف:-24 ٹی وی…

  • متھن چکرورتی کی شوٹنگ کے دوران اچانک طبیعت بگڑ گئی

    متھن چکرورتی کی شوٹنگ کے دوران اچانک طبیعت بگڑ گئی

    بالی وڈ کے ماضی کے معروف اور لیجنڈری اداکار متھن چکرورتی کی شوٹنگ کے دوران اچانک طبیعت بگڑ گئی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کی شوٹنگ کے دوران متھن چکرورتی کی اچانک طبیعت بگڑ گئی جس کی وجہ سے فلم کی شوٹنگ بھی بھی روک دی گئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ وویک اگنی ہوتری کی نئی فلم ’دی کشمیر فائلز‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔

    میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کی بیماری کے بعد فلم کی شوٹنگ کو روک دیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق متھن کی کی طبیعت معدے میں انفیکشن کی وجہ سے خراب ہوئی۔

  • میں اتنی خوبصورت نہیں جتنی کیمرے میں نظر آتی ہوں   اقراعزیز

    میں اتنی خوبصورت نہیں جتنی کیمرے میں نظر آتی ہوں اقراعزیز

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی اداکارہ اقرا عزیز کا کہنا ہے کہ وہ اصل میں اتنی خوبصورت نہیں ہیں جتنی وہ کیمرے میں نظرآتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں بہت کم وقت میں اپنی بہترین اداکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی اداکارہ اقرا عزیز کی انسٹا گرام پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے-

    اقرا عزیز کی اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ڈرامے کی شوٹنگ کے سلسلے میں سیٹ پر موجود تیار بیٹھی ہیں اور اُن کا کوئی دوست ویڈیو بنا رہا ہے۔

    اقرا ءعزیز اس ویڈیو میں نہایت حسین نظر آ رہی ہیں، اقرا عزیز کا ویڈیو میں کہنا ہے کہ وہ کیمرے میں زیادہ خوبصورت نظر آ رہی ہیں جبکہ وہ اصل میں اتنی خوبصورت نہیں ہیں جس پر اقراعزیز کا دوست اُنہیں بتا رہا ہے کہ بالجکل صحیح جگہ پر ہے جو جیسا ہوتا ہے وہ کیمرے میں ویسا ہی نظر آ تا ہے۔

    عدنان صدیقی نے سال 2020 کو بہترین سال قرار دیا

    اقرا عزیز اپنی ہی ویڈیو سے کافی متاثر نظر آ رہی ہیں اور اپنے دوست سے کہہ رہی ہیں ہے کہ یہ سارے شاٹس وی لاگ میں آنے چاہیئے جب میں وی لاگ دیکھوں نا تو میں پیاری لگوں-

    اقرا عزیز کی یہ باتیں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب پسند کی رہی ہیں 22 گھنٹے قبل شئیر کی گئی وائرل ہوتی اس ویڈیو پر اب تک 94 ہزار سے زائد لائیکس اور کمنٹس آ چکے ہیں۔

    مسلسل 3 ایوارڈ :بیگم اقرا عزیز ایسی ہیٹ ٹرک تو لیجنڈری کرکٹر وسیم اکرم نے بھی نہیں…

  • محمد حفیظ کے ہوتے ہوئے نئے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے    فہد مصطفیٰ

    محمد حفیظ کے ہوتے ہوئے نئے کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے فہد مصطفیٰ

    شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ، میزبان اور پرویوڈیوسر فہد مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ حفیظ جیسے کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے نئے پلیئرز کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

    باغی ٹی وی :گزشتہ روز نیوزی لینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلے جینے والے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سینئر پلیئر محمد حفیظ نے ایک مرتبہ پھر اپنی عمدہ بیٹنگ کی صلاحیتوں کا ثبوت دے دیا اور بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اپنا سب سے بڑا انفرادی اسکور بنا ڈالامحمد حفیظ نے ہملٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے 98ویں میچ میں 99 رنز ناٹ آوٹ بنائے۔

    یاد رہے کہ دوسر ے ٹی 20 میچ میں‌ نیوزی لینڈ نے پاکستان کو شکست دے دی. کیویز نے پاکستان کو 9وکٹوں سے شکست دی. نیوزی لینڈ کے ٹم سیفرٹ84 رنز، کپتان کین ولیمسن 57 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے . نیوزی لینڈ کو 3 میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہو گئی۔

    قومی ٹیم کی جانب سے محمد حفیظ نے شاندار اننگز کھیلی لیکن وہ بھی کام نہ آسکی اور99 رنز بنا کر ناٹ آوٹ رہے۔20ویں اوور کی آخری گیند پر انہوں نےچھکا لگا کر ٹیم کا اسکور163 تک پہنچایا۔

    گراؤنڈ بدلی لیکن گرین شرٹس کی ادا نہ بدلی

    جہاں ایک طرف ٹوئٹر صارفین شدید غم و غصے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مصباح اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑانی چاہیئے انہوں نے ٹیم کا نقصان کر دیا ہے ہماری ٹیم نمبر ون ٹیم تھی ان کی وجہ سے ٹیم کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لگاتار دوسرے میچ میں ہار رہے ہیں ٹاپ ہولڈر فیل ہو رہا ہے دوسری جانب صارفین نے آج کے میچ کو ون مین شواور محمد حفیظ کو پروفیسر قرار دیا اوراس شاندار کارکردگی پر محمد حفیظ کو گزشتہ روز سے ہی سوشل میڈیا پر محبت بھرے پیغامات موصول ہورہے ہیں-

    مصباح الحق اور وقار یونس سے قومی ٹیم کی جان چھڑائیں، پاکستانی عوام کا مطالبہ

    اس ضمن میں معروف اداکار فہد مصطفیٰ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محمد حفیظ کے لیے خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔


    فہد مصطفیٰ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ جب ہمارے پاس حفیظ جیسے کھلاڑی موجود ہیں تو نئے کھلاڑیوں کی تلاش کیوں کریں۔

    اُنہوں نے محمد حفیظ کی بیٹنگ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ آپ نے بالکل ایک پروفیسر کی طرح شاندار اننگز کھیلی۔

    واضح رہے کہ محمد حفیظ بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دنیا کے تیسرے کھلاڑی ہیں جنھوں نے 99 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔

    آج پھر شکست سے کیوں دو چار ہونا پڑا شاداب خان نے بتا ہی دیا

    لوگوں کو ڈرامے کا مقصد سمجھنے کے لئے تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیئے فہد مصطفیٰ

  • زلفی بخاری سال 2020 کے ‘100 پاکستانی پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل

    زلفی بخاری سال 2020 کے ‘100 پاکستانی پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک پاکستانی زلفی بخاری ملک کے 100 پرکشش افراد میں شامل واحد سیاستدان ہیں۔

    باغی ٹی وی : زلفی بخاری کو ملٹی نیشنل پاکستانی فیشن میگزین ‘ہیلو‘ نے اپنی سالانہ ‘100 پرکشش افراد‘ کی فہرست میں شامل کیا ہے ہیلو میگزین سال کے اختتام پر فیشن، شوبز، ٹی وی، ماڈلنگ، سیاست اور دیگر شعبہ جات میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والے 100 بہترین افراد کو پرکشش افراد کی فہرست میں شامل کرتا ہے۔

    فیشن میگزین کی جانب سے سال 2020 کی جاری کردہ ‘100 پرکشش افراد‘ کی فہرست میں 40 سالہ زلفی بخاری واحد سیاستدان ہیں۔

    میگزین نے ‘100 پرکشش افراد‘ کے خصوصی شمارے کے سرورق پر زلفی بخاری کو زینت بنایا ہے۔


    میگزین کی جانب سے سرورق کی زینت بنائے جانے اور فہرست کا حصہ بنائے جانے پر زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر میگزین کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    2020 میں یو ٹیوب پر کمائی میں 9 سالہ بچہ سب سے آگے

    اس سال میگزین کی فہرست میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق اداکاری سے ہے اور مجموعی طور پر 100 سے 90 کے افراد کا تعلق اداکاری سے ہے۔

    اس سال پرکشش افراد کی فہرست میں واحد گلوکار عاطف اسلم بھی شامل ہیں جب کہ برطانوی نژاد پاکستانی میزبان تنویز وسیم المعروف تان فرانس بھی شامل ہیں۔

    ار طغرل غازی نے بھارت میں بھی نیا اعزاز اپنے نام کر لیا

    اس سال کی پرکشش افراد کی فہرست میں ترک اداکار انگین التان دوزیتان اور ایسرا بلجیک بھی شامل ہیں، جنہوں نے ترک ڈرامے ارطغرل غازی میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

    ماہرہ خان سمیت 3 پاکستانی فنکار ایشیا پیسیفک کے 100 بااثر ترین ڈیجیٹل اسٹارز کی…

    علاوہ ازیں اس سال کی فہرست میں عائزہ خان، حرا مانی، ہمایوں سعید، یمنیٰ زیدی، سجل علی، سونیا حسین، ثروت گیلانی، اقرا عزیز، ہانیہ عامر اور دیگر اداکار و اداکارائیں شامل ہیں۔

    جبکہ فیشن میگزین کی جانب سے رواں سال کی جاری کی گئی فہرست میں مہوش حیات، ماہرہ خان، عائشہ عمر، صبا قمر، حریم فاروق، سائرہ یوسف اور حمیمہ ملک جیسی اداکاراؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔

    ایمن خان کا فوربز ایشیا 2021 کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار

    2020 پاکستان کی کون سی شخصیات کو گوگل پر زیادہ سرچ کیا گیا گوگل نے فہرست جاری کر…

  • نہیا ککڑ کو گانے کی تشہیر کرنے کا منفرد انداز مہنگا پڑ گیا

    نہیا ککڑ کو گانے کی تشہیر کرنے کا منفرد انداز مہنگا پڑ گیا

    بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ کو اپنے نئے آنے والے گانے کی تشہیر کرنے کے لیے اپنی حاملہ تصویر شیئر کرنا مہنگا پڑگیا۔

    باغی ٹی وی :گلوکارہ نیہا ککڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک تصویرپوسٹ کی تھی جس میں انہیں بظاہر اُمید سے دیکھا جا سکتا ہےجبکہ تصویر میں نیہا ککڑ کے ساتھ ان کے شوہر روہن پریت سنگھ بھی مسکراتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

    نیہا کی جانب سے تصویر شیئر کیے جانے کے بعد ان کے شوہر روہن پریت سنگھ سمیت گلوکارہ کے بھائی گلوکار ٹونی ککڑ سمیت دیگر شوبز شخصیات نے بھی مبارک باد کے کمنٹس کیے تھے-

    گلوکارہ کی جانب سے مبہم تصویر شیئر کیے جانے پر بھارتی میڈیا نے اپنی خبروں میں بتایا کہ نیہا ککڑ حمل سے ہیں، کیوں کہ اہم شخصیات نے انہیں مبارک باد بھی دی ہے۔

    نہیا ککڑ کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع ہے؟

    تاہم بعد ازاں انسٹاگرام پر پر نیہا ککڑ نے اپنے آنے والے ایک گانے کی تشہیر کے لیے مداحوں کو پیغام دیا تھا اس پیغام کے ساتھ انھوں نے اپنے شوہر کے ہمراہ وہی تصویر شیئر کی جو انھوں نے اپنے حاملہ ہونے سے متعلق مداحوں کو بتانے کے لیے پہلے بھی شیئر کی تھی۔

    اس تصویر پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا اور ان کی تصویر کو ایک تشہیری اسٹنٹ قرار دے دیا۔

    صارفین نے تمسخر اڑاتے ہوئے نیہا ککڑ کے گانے کو اس کی مارکیٹنگ کے باعث بلاک بسٹر قرار دے دیا۔

    ایک صارف نے لکھا کہ ہر چیز پر گانا بنادو، تو دوسرے نے لکھ ڈالا کہ اب تمھارے گھر میں کچھ بھی ہو، سیدھا گانا ریلیز کر دینا۔

    ایک صارف نے لکھا کہ واہ، چونا پرو میکس ہے یہ تو۔

    ایک صارف نے لکھا کہ بس یہی رہ گیا تھا –

    ایک صارف نے لکھا کہ بھئی سب چیز کے لئے ان کے گانے تیار ہیں-

    ایک صارف نے پوچھا کہ گانے کے لئے بچہ کیا یا بچے کے لئے گانا-

    جبکہ ایک صارف نے پوچھا کہ یہ چائنہ سے کوئی نئی ٹیکنالوجی آئی ہے کیا-

    علاوہ ازیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو گانا ریلیز کی تشہیر دیکھ کر یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ان کا حاملہ ہونا بھی سچ ہے یا نہیں؟

    واضح رہے کہ دونوں کی شادی رواں برس اکتوبر میں ہوئی تھی، جبکہ اپنی اس شادی کے دو ماہ بعد انھوں نے ایک تصویر شیئر کی جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ حاملہ ہیں۔

    تیمور خان کی سالگرہ پر کرینہ کپور خان کا بیٹے کے لئے جذباتی پیغام

  • لوگوں کو ڈرامے کا مقصد سمجھنے کے لئے تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیئے  فہد مصطفیٰ

    لوگوں کو ڈرامے کا مقصد سمجھنے کے لئے تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیئے فہد مصطفیٰ

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ، میزبان اور پروڈیوسر فہد مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ڈرامے کا مقصد سمجھنے کے لئے تھوڑا صبر سے کام لینا چاہیئے ناظرین کو فیصلہ سنانا ہے تو کہانی ختم ہونے کے بعد سنائیں درمیان میں نہیں-

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کو دیئے گئے انٹر ویو میں اداکار فہد مصطفیٰ نے ڈرامہ انڈسٹری کے بارے میں کُھل کر بات کی اور کہا کہ دوسرے اداکاروں کی طرح ان کے اندر اتنی صلاحیت نہیں کہ فلموں، اشتہارات اور پروڈکشنز کے بعد ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے لیے وقت نکال سکیں ایک ڈرامے میں اداکاری کرنے لگا تو باقی سب کام متاثر ہوں گے ایسا نہیں کہ ٹی وی کرنے کا دل نہیں ہے، شاید وقت نہیں ہے، جب وقت ہو گا تو یہ بھی کر لیں گے۔

    فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ انہیں’بلا‘، ’چیخ‘، ‘نند‘ اور ’جلن‘ جیسے ڈرامے بنانے پر فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہر ڈرامے سے لوگوں کو سیکھا تو نہیں سکتے، لیکن جتنا کر سکتے ہیں، اس کی کوشش کرتے ہیں۔‘

    اداکار کا کہنا تھا کہ ٹی وی اب انٹرٹینمنٹ کے ساتھ ساتھ بزنس بھی ہے اور ہم لوگوں کو ہر وقت ترغیب نہیں دے سکتے کہ ایسا کرو اور ایسا نہیں، اسی لیے شاید ہم کہانی کے ذریعے انھیں صحیح اور غلط کا فرق سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    ٹی وی پر چلنے والے مقبول ڈرامہ ’’نند‘ کے نام پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس ڈرامے کا نام کچھ اور ہوتا تو شاید وہ بات نہ ہوتی، ہم ذرا سیدھے آجاتے ہیں اس لیے لوگوں کو پتہ چلتا ہے۔

    ارطغرل ہمارے لئے خطرہ نہیں بلکہ موقع ہے ، سینیٹر فیصل جاوید اینگن کی حمایت میں بول…

    میزبان و اداکار کا کہنا تھا کہ یہ سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، لوگ پاکٹ فلمز دیکھ رہے ہیں، اس لیے انھیں 26 سے 30 اقساط تک جڑے رکھنے کے لیے ڈائریکٹ آنا پڑتا ہے۔ آپ کو ڈرامہ اچھا نہیں لگے گا تو چینل بدل دیں گے،اسی لیے ان ڈراموں کے نام ایسے رکھے جاتے ہیں جس سے لوگوں میں تجسس پیدا ہو۔

    فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ لوگوں کو ڈرامے کا مقصد سمجھنے کے لیے تھوڑا صبر سے بھی کام لینا چاہیے۔ ناظرین کو فیصلہ سنانا ہے تو کہانی ختم ہونے کے بعد سنائیں، درمیان میں نہیں۔

    پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے بارے میں بات کرتے ہوئے فہد کا کہنا تھا کہ اچھا لگے یا برا، لوگ ڈرامے دیکھ تو رہے ہیں اور یہ صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر بھی دیکھا جا رہا ہے یہ ڈرامے نہ صرف ٹرینڈ پہ چلے جاتے ہیں، بلکہ لوگ انھیں انجوائے بھی کرتے ہیں۔

    اداکار کا کہنا تھا کہ ٹی وی آج سے نہیں، ہمیشہ سے ہی ایسا تھا، بولڈ اینڈ دی بیوٹی فل کے زمانے سے، لیکن اب چونکہ لوگوں کے پاس اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے مخلتف پلیٹ فارم موجود ہیں تو سب دیکھتے بھی ہیں، اس پر منفی یا مثبت انداز میں بات بھی کرتے ہیں۔

    فہد مصطفی نے کہا کہ ہمارے ڈرامے ’میری گڑیا‘، ’مقابل‘، ’رنگ لاگا‘، ’مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے‘، ایسے ڈرامے تھے جنھوں نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کیا۔ ’نند‘ اور ’جلن‘ پر شور اس لیے مچ رہا ہے کیونکہ ابھی آئے ہیں اور سب انھیں دیکھ بھی رہے ہیں مجھے ایک پروڈیوسر ہونے کے ناطے دونوں ڈرامے پسند بھی ہیں اور میں ان کو اون کرتا ہوں، خوشی کی بات یہ ہے کہ امیر ہو یا غریب، ’نند‘ پر سب بات کر رہے ہیں۔

    عمران عباس اور صبور علی نئے آنے والے پروجیکٹ میں ایک ساتھ نظر آئیں گے؟

    انہوں نے کہا ’میں ایک کہانی دکھاتا ہوں، اچھی لگی تو لوگ دیکھیں گے،نہیں لگی تو نہیں دیکھیں گے، جس ڈرامے کی بات نہیں ہوتی وہ لوگ نہیں دیکھ رہے ہوتے لوگ ‘نند’ اور ‘جلن ‘دونوں کی بات کر رہے ہیں۔

    فہد کے مطابق ہمارے ڈرامے لوگوں سے وہ سوالات کرتے ہیں جو شاید وہ سننا نہیں چاہتے، اور آپ ہمیشہ اس بات پر جھلملاتے ہیں یا چلاتے ہیں جس میں آپ خود غلط ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ڈراموں پر پابندی لگتی بھی ہے اور ہٹتی بھی۔ پیمرا حکام سے بھی ہماری بات ہوتی ہے، وہ اچھے لوگ ہیں، انہیں مصروف رکھنا ہمارا کام ہے۔

    اداکار کا کہنا تھا کہ پہلے تو کچھ بھی کہیں بھی چل جاتا تھا اور عشق ممنوع اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مرکزی خیال کہیں سے بھی آ سکتا ہے۔ میرے لحاظ سے اس ڈرامے میں کوئی غیر اخلاقی بات نہیں ہوئی جس کو برا لگا اس کا اپنا دماغی مسئلہ ہے۔

    نادیہ خان کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کون سی ہے؟

  • بھارتی فوج کے گولوں سے بننے والے مورچنگ کی موسیقی وادی نیلم کی ثقافت کا حصہ

    بھارتی فوج کے گولوں سے بننے والے مورچنگ کی موسیقی وادی نیلم کی ثقافت کا حصہ

    بھارتی فوج کے گولوں سے بننے والے مورچنگ کی موسیقی وادی نیلم کے علاقے کیل میں مورچنگ ثقافت کا حصہ مانا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی :انڈیپینڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں وادی نیلم کے علاقے کیل کے رہائشی اور مورچنگ بنانے والے محمد جاوید کا کہنا ہے کہ اب بھی مورچنگ بناتے ہیں تاہم آمدن نہ ہونے کے برابر ہے۔

    محمد جاوید کا کہنا تھا کہ کیل میں مورچنگ کو تنہائی کا ساتھی مانا جاتا تھا۔ یہاں کے زیادہ لوگ مال مویشی پالتے تھے جب خواتین ان مویشیوں کو چرانے جنگل جاتی تھی تو وقت گزارنے کے لیے یہ مورچنگ بجاتی تھی۔

    مورچنگ مرد و خواتین میں یکساں مقبول تھا۔ مورچنگ بجانے والا ہر کوئی اپنی لے میں بجاتا تھا۔ کوئی ذکر اللہ کے ساز پر بجاتا تھا تو کوئی پہاڑی گیت یا ٹپے کے ساز پر –

    کیل میں مورچنگ بنانے والے جاوید کا کہنا تھا کہ ہمارے خاندان میں مورچنگ بنانا ایک ہنر ہے۔ کیل میں مرد و خواتین مورچنگ بجاتے تھے لوگوں کی تنہائی کا ساتھی تھا مرد و خواتین اس کو بجا کر اپنا وقت گزارتے ہیں اس سے ہمارا روزگار چلتا تھا۔ جب سے موبائل آیا ہے۔ لوگوں کا رحجان مورچنگ کی طرف کم ہو گیا ہے۔

    عدنان صدیقی نے سال 2020 کو بہترین سال قرار دیا

    جاوید کا کہنا ہے کہ مال مویشی چرانے والی خواتین یہ بجاتی تھیں۔ مرد اکثر پیار کی نشانی کے طور پر اپنی محبوبہ کو تحفہ میں دیتے تھے۔ خواتین جنگل میں اکیلی ہوتیں تو مورچنگ بجا کر تنہائی دور کرتی تھیں اور اپنی محبت کو بھی یاد کر لیتی تھی۔

    جاوید نے ایک حیران کن بات بتائی کہ پہلے ہم لوہا اور پیتل خرید کر مورچنگ بناتے تھے لیکن اب انڈین آرمی کی طرف سے پھینکے گئے گولے کے پیتل سے بنا رہے ہیں۔ انڈیا والے جو گولہ مارتے ہیں ان میں پیتل ہوتا ہے جسے ہم جنگل یا جہاں گولہ گرتا ہے ہم وہاں سے اکٹھا کر کے لے آتے ہیں۔

    علی ظفر کا نئے ریپرز کے لئے آن لائن مقابلے کا اعلان

    ایک مورچنگ بنانے میں تین گھنٹے لگتے ہیں۔ پہلے دن میں دس سے زائد مورچنگ فروخت ہوتے تھے لیکن اب تین چار دنوں میں ایک کی ڈیمانڈ آتی ہے۔

    سن 2000 میں اس کی قیمت 50 روپے تھی اب 2020 میں اس کی قیمت 400 روپے ہے۔ لوہے والے مورچنگ کی قیمت 200 روپے اور پیتل والے کی قیمت 400 روپے ہے۔

    2020 میں یو ٹیوب پر کمائی میں 9 سالہ بچہ سب سے آگے