Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • بہروز سبز واری نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

    بہروز سبز واری نے کورونا وائرس کو شکست دے دی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئیر اداکار بہروز سبز واری نے کورونا کو شکست دے دی ہے-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا شکار ہونے والے شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار بہروز سبزواری اسپتال سے ڈسچارج ہوگئے ہیں جس کی اطلاع اُن کے صاحبزادے شہروز سبزواری نے سوشل میڈیا کے ذریعے دی ہے۔

    شہروز سبزواری نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پرخصوصی اسٹوری شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں پر اللہ تعالیٰ کے شُکر گزار ہیں کہ جس نے اپنی نبیﷺ کے صدقے ہم سب کی دُعاؤں کو قبول کرتے ہوئے میرے والد کو صحت و تندرستی عطا کی۔

    اداکار نے کہا کہ میرے والد صاحب اسپتال سے ڈسچارج ہوکر گھر آگئے ہیں اور اب وہ پہلے سے کافی تندرست اور خوش ہیں۔

    اُنہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری میں اُن تمام لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے بہروز سبزواری کے لیے دُعائیہ پیغامات جاری کیے تھے-

    اداکارہ نیلم منیر بھی کورونا وائرس کا شکار

    اداکار بہروز سبزواری بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

  • سبزہ زار میں تھیٹر مالک کی مبینہ فائرنگ سے اسٹیج اداکارہ زخمی

    سبزہ زار میں تھیٹر مالک کی مبینہ فائرنگ سے اسٹیج اداکارہ زخمی

    لاہور: سبزہ زار میں تھیٹر مالک کی مبینہ فائرنگ سے اسٹیج اداکارہ زخمی ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے سبزہ زار میں اقرا نامی اسٹیج اداکارہ موٹر سائیکل پر اپنے دیور کے ساتھ جارہی تھی کہ تھیٹر مالک نصیر نے اپنے 2 ساتھیوں کے ہمراہ اس پر فائرنگ کردی جس کے باعث اداکارہ زخمی ہوگئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ اداکارہ کی ٹانگ میں گولیاں لگی ہیں تاہم اسے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جب کہ ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری جانب سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ نے اسٹیج اداکارہ پر فائرنگ کا نوٹس لے لیا اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے ایس پی صدر آپریشنز سے رپورٹ طلب کرلی۔

    سی سی پی او لاہور نے کہا آرٹسٹوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔

  • 10 سال بعد احساس ہوا کہ زندگی سوشل میڈیا پر ختم نہیں ہو جاتی  ماورا حسین

    10 سال بعد احساس ہوا کہ زندگی سوشل میڈیا پر ختم نہیں ہو جاتی ماورا حسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماورا حسین کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر کی جانے والی بے جا تنقید سے تنگ آ کر ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور سڈنی چلی گئی تھیں۔

    باغی ٹی وی : ماورانے حال ہی میں میرا سیٹھی کو دیئے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ وہ ابتدا میں کس طرح سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید سے تنگ آ کر ڈپریشن میں چلی گئی تھیں اور اداکاری چھوڑنے کا فیصلہ کر کے سڈنی چلی گئیں تھیں-

    ماوراحسین کا کہنا تھا کہ آج کل سوشل میڈیا ہماری زندگیوں میں شامل ہوگیا ہے لیکن سوشل میڈیا اکیلا کچھ نہیں ہے بلکہ اگر میں آج کام کرنا چھوڑ دوں تو میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

    اداکارہ ماوراحسین نے کہا کہ تقریباً 10 سال تک سوشل میڈیا استعمال کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا ہے کہ زندگی سوشل میڈیا پر ختم نہیں ہوجاتی۔

    ماورا حسین نے سوشل میڈیا پر تنقید کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں یہ سب ہینڈل کرنا آگیا ہے لیکن شروع میں تنقید سننا بہت مشکل تھا ۔ مجھے آج سے 5 سال پہلے اس بات کا احساس ہوا کہ آپ کے منہ سے نکلی ہوئی کوئی غلط بات، غلط نہیں ہوتی بلکہ گناہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر رہتے ہوئے آپ غلطی نہیں کرسکتے کیونکہ آپ کی یہی بات پکڑ کر آپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔

    اداکارہ نے انکشاف کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید سے اتنی تنگ آگئی تھیں کہ انہوں نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرکے اور اداکاری چھوڑ کر باہر ملک جانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور سڈنی چلی گئی تھیں۔

    ماورا نے کہا کہ اب انہیں سمجھ آگیا ہے کہ سوشل میڈیا کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے کن باتوں پر ردعمل ظاہر کرنا ہے اور کن باتوں پر نہیں۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں اداکارہ ہانیہ عامر سوشل میڈیا کی وجہ سے پریشان اور رونے پر مجبور ہوگئیں تھیں ہانیہ عامر نے اپنی غمگین تصویر انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ کچھ کمنٹس پڑھ کر ان کو رونا آگیا انہوں نے مداحوں پر زور دیا کہ وہ صحیح اور دانشمندانہ الفاظ استعمال کیا کریں۔

    ہانیہ عامر نے تصویر کے ساتھ پیغام میں لکھا کہ لفظوں میں طاقت ہوتی ہے وہ بنا بھی سکتے ہیں اور تباہ بھی کرسکتے ہیں لفظوں کو کیوں لوگوں کو گرانے کے لئے استعمال کیا جائے جبکہ انہی لفظوں سے آپ ایک دوسرے کو اوپر اٹھا سکتے ہیں۔

    ہانیہ عامر نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا تھا کہ مطلبی ہونا آسان اور کمزوری ہے یہ آپ کے اپنے خوف اور عدم تحفظ کی تصویر ہوتا ہے جبکہ مہربان اور اچھا ہونا خوبصورت اور طاقت ہوتا ہے۔

    انہوں نے اپنے پیغام کے آخر میں لوگوں سے اپیل کی تھی کہ اپنے لفظوں کا سمجھداری سے انتخاب کریں۔

    ہانیہ عامر سوشل میڈیا کی وجہ سے پریشان

    روحانی سفر آسان نہیں استقامت کے ساتھ اس راستے پر چلتے رہنے کے لیے دعاؤں کی ضرورت…

  • اداکارہ نیلم منیر بھی کورونا وائرس کا شکار

    اداکارہ نیلم منیر بھی کورونا وائرس کا شکار

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ نیلم منیر بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی :اداکارہ نیلم منیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر ایک نوٹ شئیر کیا جس پر انہوں نے لکھا ہے کہ میں آپ سب کو کچھ ضروری باتیں بتانا چاہتی ہوں جن سے پچھلے چند روز سے میں گزر رہی تھی۔

    اداکارہ نے لکھا کہ میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہےجبکہ میرے تمام گھر والے بالکل صحت منداور محفوظ ہیں۔

    اداکارہ نیلم منیر نے لکھا کہ میرے اور میرے اہل خانہ کے لیےیہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے ہم سب اس وقت ایک مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں۔میں نے خود کو قرنطینہ کرلیا ہےاور الحمداللہ میں اب بہت بہتر محسوس کررہی ہوں۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ میں اپنے تمام چاہنے والوں سے ایپل کرتی ہوں کہ پلیز میری جلد صحتیابی کے لیے دعا کریں اس کے علاوہ میں آپ سب سے درخواست کرتی ہوں کہ کورونا وائرس سے بچاؤکی احتیاطی تدابیر کے تحت بنائی گئیں ایس او پیز پر لازمی عمل کریں اور کہیں بھی جائیں تو ماسک لازمی لگائیں۔

    نیلم منیر نےآخر میں مزید لکھا کہ اپنی قوت معدافعت کو مزید بہتر کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

    اداکارہ کی جانب سے شئیر کی گئی س پوسٹ پر صارفین کی جانب سے اُن کی جلد صحتیابی کے لیے دعائیں بھی کی جارہی ہیں۔

  • پی این ایس ہنگور کی کامیابی: موجو دہ دور کی جنگی تیاری کے لئے ایک سبق

    پی این ایس ہنگور کی کامیابی: موجو دہ دور کی جنگی تیاری کے لئے ایک سبق

    پی این ایس ہنگور کی کامیابی: موجو دہ دور کی جنگی تیاری کے لئے ایک سبق

    بقلم: نوید مشتاق

    جب 1971کی پاک بھارت جنگ نے زور پکڑا، تب پی این ایس ہنگور نے پاکستان کے بحری اثاثوں کی حفاظت کے لیے ایک مظبوط دفاعی دھاک بنائے رکھی۔ اس آبدوز کی جانب سے اپنے آپریشنل ایریا میں کیے گئے اقدامات اور کامیابیاں آج بھی پاکستان کا فخر ہیں۔ آبدوز ہنگور نے کامیابی کے ساتھ آپریشن کرتے ہوئے بھارتی بحری جہازآئی این ایس ککُری کو ڈبویا اور دوسرے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کریان کو تارپیڈو فائر کر کے نقصان پہنچایا۔

    آبدوز ہنگور نے کمانڈراحمد تسنیم کی سربراہی میں 22نومبر1971کو مختص کیے گئے سمندری علاقے میں گشت شروع کیا۔ اس دوران آبدوز نے بھارتی کاٹھیا وار ساحل کے قریب گشت کیا تاکہ دشمن کی بحری سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ آبدوز ہنگور نے 9دسمبر کو شمال کی جانب سے اپنے سنسرز پر دشمن کی ایک ریڈیو ٹرانسمیشن سنی اور اس طرف روانہ ہوئی۔ اس ٹرانسمیشن کی جانچ کے بعد یہ معلوم ہواکہ دوبھارتی بحری جہاز آئی این ایس کرپان اور آئی این ایس ککری آبدوز کے خلاف جنگ کرنے کی تیاری کے ساتھ سمندرمیں موجود ہیں۔

    آبدوز ہنگور کے کمانڈر ان جہازوں کی صلاحیت جانتے تھے پھر بھی انھوں نے دونوں جہازوں کو نشانہ بنانے کا نڈر فیصلہ کیا۔ آبدوز ہنگور نے آئی این ایس ککُری اور کرپان پر تار پیڈو فائر کیے جس کے نتیجے میں ککُری مکمل تباہ ہو کر ڈوب گیا جب کہ کریان کو شدید نقصان پہنچا۔ پاکستان کی آبدوز کے اس وار سے بھارتی بحریہ کے قیام سے تب تک سب سے بڑا نقصان پہنچا جس میں اُن کا دو قامت جہاز 18افسران اور 176 سیلرز کے ساتھ غرقِ آب ہوا۔ یہ جنگِ عظیم دوئم کے بعد کسی آبدوز کی جانب سے دشمن کے بحری جہاز کو تباہ کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔

    پاکستانی آبدوز ہنگور کے اس عمل سے کچھ آپریشنل اور اسٹریٹیجک سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا یہ کہ اپنے سے کئی گنا بڑے اور طاقتور دشمن بحری جہاز کو ڈبونے سے یہ ثابت ہو کہ انڈین اوشن ریجن (IOR) اوربحیرہءِ عرب کے علاقے میں آبدوزکا ہونا پاک بحریہ کے لیے بہت ضروری ہے۔دوسرا یہ کہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کواچانک وار کرکے حیران کردینا عددی لحاظ سے چھوٹے مخالف کے لیے ہمیشہ سے ایک بہتر جنگی چال رہی ہے۔

    آبدوز ہنگور کا آئی این ایس ککری پر کیا جانے والا حملہ بھی ایک بہترین جنگی چال تھی جس سے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو اپنی طاقت استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ انٹیلی جنس سرویلنس اینڈReconnaissance (ISR) کسی بھی فوج کے لیے مشکل آپریشنل صورتحال میں کام کرنے کے لیے ایک اہم جنگی چال ہے۔

    پی این ایس ایم ہنگور نے اس آپریشن میں کامیابی سے ISRآپریشن انجام دیا۔ ہندوستانی بحری جہازوں کی کھوج لگانے، پاک بحریہ کے ہیڈکوارٹرز تک یہ خبر پہنچانے اور پھر دشمن پر حملہ کرنے تک تمام جنگی ماحول میں کامیاب ISR شاملِ حال رہا۔ انتہائی پیچیدہ اور جنگی ماحول میں اپنے دفاعی احداف کے حصول کے دوران بھی مضبوط تنظیمی درجہ بندی کو برقرار رکھنا پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔ انتہائی پیچیدہ ماحول اور تکنیکی مشکلات میں بھی آ بدوز ہنگور کے کمانڈر نے تمام آپریشنل معاملات میں صبرواستقامت کا مظاہرہ کیا۔

    پی این ایس ایم ہنگور کی کامیابی کی داستان کا تجزیہ کریں تو اس کے چند جُزو پاک بحریہ کی جدید نیول آپریشنل سرگرمیوں میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ بھارت کے بڑھتے ہوئے مذموم مقاصد کے جواب میں پاک بحریہ ایک غیر مستقل میری ٹائم اسٹریٹیجی اپنا سکتی ہے جس میں ایک مظبوط آبدوز کی فورس دشمن کے لیے بالواسطہ جنگی حکمتِ عملی کا کام دے گی اور اپنی جدید ترین ISRصلاحیتوں کی بدولت دشمن اچانک وار کر سکے گی۔

    یہ سنسرز کا دور ہے جہاں ہر بحری فوج اپنے سطح سمندراور زیرِ آب ا ثاثوں کو سنسرز سے لیس کر کے اپنی ISR صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ اور یہ ایک اچھا موقع ہے کہ پاک بحریہ بھی اپنی آبدوزوں میں جدید ترین ISR صلاحیت نصب کروائے۔ بڑھتے ہوئے پاک چین میری ٹائم تعاون کی بدولت پاک بحریہ اپنی آپریشنل سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے بیجنگ سے بھی اپنی آبدوزوں کے لیے جدید سنسنرز لے سکتی ہے۔

    کسی بھی فوجی حکمتِ عملی میں اپنے حدف کا درستگی سے نشانہ لینا اور اُسے کاری ضرب لگانا ایک اہم حصّہ ہوتا ہے۔ پی این ایس ایم ہنگور کے اس آپریشن میں جس ایک تاروپیڈو حملے نے اپنے ہدف کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا اُس سے پاک بحریہ کو یہ سبق حاصل ہوا ہے کہ نشانے کی درستگی اور اُس کے مہلک ہونے سے مکمل آپریشنل سیکیورٹی حاصل کی جاسکتی ہے۔ معلومات کے اس دور میں، درست نشانہ بنانے کی صلاحیت اور Stealthٹیکنالوجی کا ہونا، بڑھتے ہوئے بحری ٹریفک اور پیچیدہ آپریشنل معاملات میں نہایت ضروری ہوگیا ہے۔ بحیثیت مجموعی، پی این ایس ایم ہنگور کی کامیابی پاک بحریہ کی آپریشنل اور دفاعی تیاری کے لیے ہمیشہ ایک اہم اور منطقی سبق رہے گا۔

  • ہنگور ڈے :  ایک شاندار یاد     بقلم:حسن زیب

    ہنگور ڈے : ایک شاندار یاد بقلم:حسن زیب

    ہنگور ڈے : ایک شاندار یاد

    بقلم: حسن زیب:

    آزادی حاصل کرنے کے بعد، پاکستان نے یہ سمجھ لیا تھا کہ آزادی کوبرقرار رکھنے کے لئے اپنے دشمن کے مذموم مقاصد کو رد کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔ پاکستان نے ا پنی زمینی اورفضائی حدود کے ساتھ ساتھ اپنے ساحلی دفاع کی اہمیت کو بخوبی جان لیاتھا۔ سمندر میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پاک بحریہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ تاریخی طور پر بحری افواج کے قیام کا بنیادی مقصد اپنے ساحلوں سے دور اثر و رسوخ قائم رکھناہوتاہے لیکن اس کے ساتھ ہی دفاع استحکام اور امن کی اضافی ذمہ داری بھی بحری افواج پر عائد ہوتی ہے۔ اپنی سمندری سرحدوں کے دفاع کے لئے چوکس رہنے کے ساتھ ساتھ پاکستان نیوی،ٹیکنا لوجی اور عالمگیریت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، باہمی تعاون کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لئے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہے۔

    سائز میں عددی طور پر کم ہونے کے باوجود پاکستان نیوی پیشہ ورانہ مہارت کے اعلی معیار کو برقرار رکھتی ہے۔ 1971کی جنگ میں، پاکستان نیوی نے کامیاب کاروائیاں کیں، جن کا مقصد اپنی دفاعی دھاک بٹھانا تھا اور اس نے پاکستان مخالف قوتوں کو منہ توڑ جواب دیناتھا، جس کی مماثلت بحری جنگ کے میدان میں نہیں ملتی۔ 9 دسمبر 1971کو پاکستانی سب میرین پی این ایس ایم ہنگورنے ہندوستانی اینٹی سب میرین فریگیٹ آئی این ایس ککری کو سمندر برد کیا تھا اور آئی این ایس کرپان کو بری طرح نقصان پہنچایاتھا۔ اس تصادم کی اہمیت اس وقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے جب اسے اس زاویئے سے دیکھا جاتا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلا موقع تھا کہ سمندر میں براہ راست لڑائی میں کسی روایتی آبدوز نے ایک بحری جہاز کو تباہ کیا تھا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ککری کاواقعہ راتوں رات نہیں ہوا تھا بلکہ1971 میں مشرقی پاکستان کی کشیدہ صورتحال ایسے واقعات کا باعث بن رہی تھی۔

    1965 کے تازہ زخموں کے ساتھ، ہندوستانی اپنے حریف پاکستان سے بدلہ لینے کے لئے تمام امکانات تلاش کر رہے تھے اورانھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ 1971 ہی ان کے لئے بہترین موقع تھا۔مشرقی پاکستان کی نازک صورتحال اور ہندوستانی میزائل کے خطرے کے باعث تقریباً غیرفعال بحری بیڑے کے باعث پاک بحریہ کی جارحانہ جنگی کاروائی کابوجھ اسکی نوزائیدہ آبدوز فورس پر تھا۔

    نتیجتاً پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور 22 نومبر 1971 کی شام کے اواخر میں ہندوستان کے کاٹھیاوار ساحل پر گشت کیلئے نکل پڑی۔ پی این ایس ایم ہنگور دشمن کی مسلسل فضائی سرگرمی سے بچتی ہوئی کامیابی کے ساتھ اپنے گشت کے علاقے میں پہنچی اور اپنا گشت شروع کیا۔ البتہ، 9 دسمبر 1971 کو جب آبدوز کاٹھیواڑ کے ساحل کے قریب تھی تو اسے ریڈار پر دو جہاز نظر آئے۔ ان کی شناخت اس کی سونار ٹرانسمیشن کے ذریعہ ہندوستانی جنگی جہاز وں کے طور پر ہوئی اور وہ 6 سے 8 میل کی دوری پر تھے۔ ان کی شناخت اینٹی سب میرین فریگیٹس (آئی این ایس ککری اور آئی این ایس کرپان) کے طور پر ہوئی جو کہ سرچ اینڈ اٹیک آپریشن میں مصروف تھے۔

    ہنگور اہداف کے ممکنہ راستے پر انکا انتظار کر رہی تھا اور "ایکشن اسٹیشن” کی کا ل دی جا چکی تھی یعنی” شارک” اپنے تیز دانتوں کے ساتھ شکار کے لئے تیار تھی۔ اگرچہ دشمن اپنا سونار چلارہا تھا، لیکن پھر بھی اسے ہنگور کی موجودگی کا پتہ نہیں چل سکا اور اس وجہ سے آبدوز ہنگور نے اُس کی حیرت کا لطف اٹھایا۔ سمندر کے اس علاقے کی گہرائی کم تھی (60-65 میٹر)جس کے باعث آبدوز سازگار آپریشن کے لئے حالات سازگار نہیں تھے اور سب میرین کی محدود آپریشنل صلاحیت کی وجہ سے دشمن کاسطحی بیڑے لئے حالات سازگار تھے۔

    اس کے باوجود ہنگور نے اپنے سفر کو جاری رکھا اور فائرنگ کا ایک اچھا موقع حاصل کرنے کے بعداس نے اس حملے کا آغاز آئی این ایس کرپان پر ایک ٹارپیڈو فائر کرکے کیا۔ٹارپیڈو ہندوستانی جنگی جہاز کے نیچے سے گزرا اور پھٹنے میں ناکام رہا۔ حیرت کا عنصر ختم ہو گیا اور دشمن کے جنگی جہاز کے عملے کو معلوم ہو گیا کہ ان پر حملہ ہوا ہے۔حالات اب مکمل طور پر دشمن کے حق میں ہو گئے تھے اور آئی این ایس ککری ٹارپیڈو لانچ پوزیشن کی جانب بڑھنے لگا۔

    ہنگور کے عملے نے اپنے حواس قابو میں رکھتے ہوئے اپنا ہدف ککری پر منتقل کیا، اور اس پر دوسرا ٹارپیڈو فائر کیا۔ یہ ایک فوری حملہ تھا جس کا مقصد ککری کے حملے کوناکام کرنا تھا۔ ٹارپیڈو سیدھے ہدف کی طرف گیا اور آئی این ایس ککری کی کیل کے نیچے جا کر پھٹ گیا۔ اس شاندار کارروائی میں، آئی این ایس ککری ٹارپیڈو لگنے کے بعد دو منٹ کے اندر اندر ڈوب گئی۔کمانڈنگ آفیسر سمیت 18 افسران اور 176 سیلرز اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ہندوستانی بحریہ کے لئے ایک کاری ضرب ثابت ہوئی، جس نے ایک ہی جھٹکے میں کراچی کے سا حل کے قریب موجود پاک نیوی کے جہازوں پر میزائل حملوں کی من گھڑت کہانیوں اور دعووں کو بھی غرق آب کر دیا۔

    ہنگورکی کارروائی کی اہمیت کے کئی پہلو تھے۔ اس نے نہ صرف پاک بحریہ کی جنگی حکمت عملی میں برتری کا ثبو ت دیا بلکہ اس کااسٹریٹجک اثر اس سے بھی زیادہ اہم تھا کیونکہ ہندوستانی بحریہ نے اس واقعہ کے بعد میزائل حملہ "آپریشن ٹرائنف” منسوخ کردیا، جسے 10 دسمبر کو شروع کیا جانا تھا۔تاہم، 9 دسمبر کوہرسال ہنگور ڈے منایا جاتا ہے تا کہ ان تمام بہادر غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جا ئے جنھوں نے 1971کی جنگ میں فریگیٹ آئی این ایس ککری کو ڈبو کر اور آئی این ایس کرپان کو شدید نقصان پہنچاکر دشمن کے دلوں پر اپنے خوف کی دھاک بٹھا دی۔

  • آبدوزہنگور :پاک بحریہ کی جنگی تاریخ کا سنہری باب

    آبدوزہنگور :پاک بحریہ کی جنگی تاریخ کا سنہری باب

    آبدوزہنگور۔پاک بحریہ کی جنگی تاریخ کا سنہری باب
    سید ایلیا حسن

    صدیوں سے انسان کی کوشش رہی ہے کہ وہ جنگی ہتھیاروں میں انقلاب لے آئے اور اس روئے فانی کا ہر ملک دوسرے ملک سے جنگی ہتھیاروں میں سبقت لے جانے کے در پے ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے روزانہ نت نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔ان تجربات میں زیرِ آب قوت ” آبدوز ” کا تجربہ کافی حیران کن ثابت ہوا۔ پہلی جنگ ِعظیم میں جرمن بحری قوت میں شامل آبدوزوں نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ جرمنی نے ان آبدوزوں کو U-Boatsکا نام دیا۔ جرمنی کے حریف ممالک کو اس ہتھیار کی وجہ سے بہت بڑے نقصان سے دو چار ہونا پڑا۔جرمنی کے کامیاب تجربے کے بعد ہر ملک نے اپنے طور پر اس ہتھیار کو بنانے یا حاصل کرنے کی کوشش شرو ع کی۔عالمی بحری افواج میں آبدوز کو ایک خاص مقام حاصل ہوا۔ اس ہتھیار کے حامل ممالک کوطاقتورترین ممالک کی فہرست میں گرداناجانے لگا۔ دوسری جنگِ عظیم میں بھی اس ہتھیار نے خوب تباہی مچائی۔

    آبدوز کو اس کی ساخت اور قابلیت کے اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے خاموشی سے نہ صرف دشمن پر نظر رکھی جا تی ہے بلکہ زمانہ جنگ میں اس کی تمام حربی چالوں کو پسپا کیا جاتا ہے۔ ان تمام خوبیوں اور صلاحیتوں کے پیشِ نظر پاکستان نے 1964میں پہلی آبدوز اپنے بحری بیڑے میں شامل کی جس نے بعد ازاں 1965 کی جنگ میں دشمن کی بحری فوج پر ایسا خوف طاری کیا کہ وہ اپنی بندر گاہوں میں دُبک کر رہ گئی۔ اس خوفناک ہتھیار کو ” غازی ” کا نام دیا گیا جس نے اپنے نام کی پوری لاج رکھی اور دشمن کو ایک بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

    1965 کی جنگ میں پاکستان نیوی آبدوز غازی کی مقبولیت کے بعد مزید آبدوزوں کی شمولیت کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت ہی قلیل عرصے میں مزید 3 آبدوزوں کو پاکستان کے بحری بیڑے میں شامل کیا گیا۔ ان کے نام شوشک، مانگرو اور ہنگور رکھے گئے۔

    پاکستان کی جنگی تاریخ میں جہاں آبدوزغازی کے کارنامے:
    سنہرے الفاظ سے رقم ہیں وہاں آبدوز ہنگورکے جنگی معرکے کا روشن باب بھی تاریخ کا حصہ ہے۔پاکستانی آبدوز ہنگور نے دشمن پر ایسی ضربِ کاری لگائی جس کا زخم کبھی مندمل نہیں ہو سکتا۔ دسمبر کی سرد راتوں کے وہ تاریخی دن کبھی بھلائے نہیں جا سکتے جب پاکستانی آبدوز ہنگور دشمن کے پانیوں میں مصروفِ گشت تھی۔ آبدوز کی کمان کمانڈر احمد تسنیم کر رہے تھے جو بعد ازاں وائس ایڈمرل کے عہدے سے ریٹائر ڈہوئے۔ 9 دسمبر کے دن جب سہ پہر کا وقت بیت چکا تھاتب آبدوز کے سینسر ز پر نقل و حرکت کو نوٹ کیا گیا۔ اس بات پر کامل یقین کے لیے آبدوز کو پیری سکوپ کی گہرائی تک لا کر ریڈار کا جائزہ لیا گیا۔ اس جائزہ سے یہ بات سامنے آئی کہ دشمن کے دو آبدوز شکن بحری جہاز ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں۔ یہ آبدوز شکن بحری جہاز آئی این ایس کُکری(Khukri) اور کِرپان(Kirpan) تھے۔ ان جہازوں کی خاصیت یہ تھی کہ کسی بھی آبدوز کو ڈھونڈ نکالنے اور تباہ کرنے کے تمام آلات سے لیس تھے۔ مگر جہاں حوصلے بلند ہوں اور اللہ کی مدد ساتھ ہو وہاں یہ باتیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔

    ان بحری بیڑوں کی موجودگی کا علم ہوتے ہی پاکستانی آبدوز ہنگور نے جلدہی ان کو غرق کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ دشمن کو خبر بھی نہ تھی کہ ان کے نیچے ہی ان کی موت کا سامان تیار کیاجا رہا ہے۔ سب سے پہلے آئی این ایس کِرپان کو نشانے پر رکھ کر ایک تار پیڈو داغا گیا۔ ایک ہولناک آواز کے ساتھ سمندر کی خاموشی کو چیرتا ہوا یہ ہومنگ تار پیڈو دشمن کو غرق کرنے نکل پڑا،مگر نشانہ چوک گیا۔ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکامی کے بعد پاکستانی آبزادوں کے حوصلے پست نہ ہوئے بلکہ دوسرے تار پیڈو کو ہدف کی طرف داغا۔ اس بار ہدف کُکری کو بنایا گیا۔ تار پیڈو نے سمندر میں اُترتے ہی ہلچل مچا دی۔ برق رفتاری سے اپنے تمام مراحل عبور کرتے ہوئے آئی این ایس کُکری کی جانب بڑھنے لگا۔ تار پیڈو نے کُکریکے عین نیچے پہنچ کر زور دار دھماکہ کیا۔ آئی این ایس کُکریکچھ ہی ساعتوں میں 18 آفیسرز اور 176 سیلرز کے ساتھ سمندربُرد ہو گیا۔ اپنی اس ناقابلِ فراموش کامیابی پر پاکستانی آبزادوں کے حوصلوں کو ایک نئی تقویت ملی اور ان کا اگلا ہدف کِرپان تھا۔

    ٓکُکری کی تباہی کا منظر ہر آنکھ نے دیکھا جو کِرپان پر موجود تھی۔ اب انہیں بھاگ نکلنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہ آیا۔ حملے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے کر کمانڈر احمد تسنیم نے کِرپان پر حملے کا حکم دیا۔ تار پیڈو نے اس بار کِرپان کودبوچ لیا۔ اور اس کے بیشتر حصے کو ناکارہ بنا کر واپس بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ آئی این ایس کِر پان دشمن کے لیے عبرت کا نشان بن کر واپس پہنچا۔ پورے ملک میں ہنگور کے کارناموں کی صدائیں گونجنے لگیں اور دشمن کو ایک ہولناک شکست سے دو چار کرنے والی پاکستانی آبدوز کے چرچے ہونے لگے۔
    دشمن کو ایک نا قابل فراموش شکست سے دو چار کرکے پاکستانی آبدوز ہنگور واپس اپنے پانیوں میں کامیابی سے پہنچ گئی۔ اس جانباز آبدوز نے پاکستان کی جنگی تاریخ میں ایک اور سنہرے باب کا اضافہ کیا جو کہ رہتی دنیا تک یاد رکھاجائے گا۔ پاکستانی آبدوز کے اس معرکے کو پوری دنیا میں پذیر ائی ملی اوردشمن کو پیغام ملا کہ اگر کسی نے بھی پاک وطن پر بری نگاہ ڈالی تو اسے سوائے رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

    پاکستان کا روایتی حریف آئے دن اپنی فوجی قوت کو بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے اس کی تمام تر کاوشیں بحر ہند میں اپنی دھاک بٹھانے پر مبذول نظر آتی ہیں ان تمام عزائم سے پاکستانی فوج بھی پوری طرح آگا ہ ہے۔ اپنی بحری قوت کو تقویت دینے کے لیے پاکستان نے چین سے جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس آٹھ آبدوزوں کے حصول کامعاہدہ کیا۔جدید ٹیکنالوجی سے لیس ان آبدوزوں سے ملک کی بحری سرحدوں کی حفاظت میں مزید مدد ملے گی۔ اللہ پاکستانی فوج بالخصوص پاک بحریہ کا حامی و ناصر ہو اور اسے ایسا مقام اور دبدبہ عطا فرمائے کہ دشمن اس کا نام سن کر لرزنے لگے۔

  • ایمن خان کا فوربز ایشیا 2021 کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار

    ایمن خان کا فوربز ایشیا 2021 کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور ادکارہ و ماڈل ایمن خان نے فوربز ایشیا 2021 کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز رکھنے والی اداکارہ نے اسے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے فوربز کی جانب سے ان کے بارے میں لکھی گئی اسٹیٹمنٹ موجود تھی۔

    ایمن خان نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ فوربز ایشیا کا حصہ بننے پر خوش ہیں اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتی ہیں۔

    انہوں نے فوربز ایشیا 2012 کا حصہ بننے والے دیگر دو فنکاروں اداکارہ ماہرہ خان اور گلوکار عاطف اسلم کو بھی اس کی مبارکباد پیش کی۔

    ایمن نے لکھا کہ میں اس سے زیادہ اور خوش نہیں ہوسکتی کہ میں اپنے پسندیدہ فنکاروں کے ساتھ اس کا حصہ ہوں۔

    دوسری جانب فوربز نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ ایمن خان 80 لاکھ سے زائد فالوورز کے ساتھ انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فینز رکھنے والی پاکستانی اداکارہ ہیں۔ ایمن اور ان کی جڑواں بہن منال خان انسٹاگرام پر اپنا کلودنگ برانڈ ایمن منال کلوزیٹ چلاتی ہیں۔ جس کے تقریباً 2 لاکھ 49 ہزار فالوورز ہیں۔ گزشتہ برس ایمن خان کو ڈراما سیریل ’باندی‘ اور ’عشق تماشا‘ میں بہترین اداکارہ کے لیے ہم ایوارڈز میں نامزد کیا گیا تھا۔


    منال کی اس پوسٹ پر ساتھی ادکاراؤں سمیت مداحوں کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے اور اداکارہ کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    واضح رہے کہ امریکی جریدے فوربز نے رواں سال ایشیا پیسیفک کے 100 بااثر ترین فنکاروں کی فہرست جاری کی ہے۔ جن کے سوشل میڈیا پر نہ صرف لاکھوں کی تعداد میں فالوورز ہیں ان کو ان کے کام، ان کی جانب سے انسانی حقوق پر واضح مؤقف، معاشرے میں بہتری لانے کی کاوشوں اور ان کے اقدامات کے معاشرے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے کر انہیں فہرست کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    100ڈیجیٹل اسٹارز کی ’فوربز‘ کی پہلی فہرست میں مجموعی طور پر ایشائی ممالک کی 100 شوبز، فیشن، ٹیکنالوجی، اسپورٹس و لگژری برانڈز کی ایسی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے جو سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹس سے سماج اور لوگوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

    با لی وڈ میگا اسٹار امیتابھ بچن، مادھوری ڈکشٹ، شاہ رخ خان، اکشے کمار، کترینہ کیف، انوشکا شرما، جیکولین فرنانڈس، شاہد کپور، عالیہ بھٹ، رنویر سنگھ، شریا گوشل، نیہا ککڑ اور ہریتھک روشن سمیت دیگر بھارتی شخصیات کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

    فہرست میں سب سے زیادہ چین کی شخصیات شامل ہیں جب کہ فہرست میں جنوبی کوریا، ہانگ کانگ، سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور ایران سمیت دیگر ممالک کی شخصیات کو بھی شامل کیا گیا ہےفہرست میں شامل کی گئی –

    نہ صرف شخصیات بلکہ برانڈز، گروپس اور بینڈز کو بھی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اور پہلے نمبر پر جنوبی کوریا کے خواتین کے میوزیکل بینڈ بلیک پنک کو رکھا گیا ہے، اسی فہرست میں جنوبی کورین بینڈ بی ٹی ایس کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    فہرست میں ہولی وڈ اداکارہ 40 سالہ ربل ولسن کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اصل میں آسٹریلوی ہیں، اسی فہرست میں آسٹریلوی نژاد ہولی وڈ ہیرو کرس ہیمس ورتھ کو بھی شامل کیا گیا ہے وہیں پاکستانی فنکاروں ماہرہ خان ایمن خان اور عاطف اسلم بھی اس فہرست میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو ئے ہیں-

    ماہرہ خان سمیت 3 پاکستانی فنکار ایشیا پیسیفک کے 100 بااثر ترین ڈیجیٹل اسٹارز کی فہرست میں شامل

  • فلم ’گھبرانا نہیں ہے‘ کی شوٹنگ کورونا کی دوسری لہر کے باوجود  سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ  جاری

    فلم ’گھبرانا نہیں ہے‘ کی شوٹنگ کورونا کی دوسری لہر کے باوجود سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ جاری

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے مشہور جملے ’گھبرانا نہیں ہے‘ پر بنائی جانے والی فلم کی شوٹنگ رواں برس مارچ کورونا وائرس کی وجہ سے روک دی گئی تھی تاہم اب فلم کی شوٹنگ کا دوبارہ آغاز کردیا گیا اور فلم کی ٹیم کو اُمید ہے کہ اسے آئندہ سال کے وسط یا اختتام تک ریلیز کردیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کے باوجود سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ فلم ’گھبرانا نہیں ہے‘ کی شوٹنگ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں جاری ہے۔

    فلم گھبرانا نہیں ہے‘ کی شوٹنگ اس وقت کراچی کے ضلع ملیر میں جاری ہے، جہاں پر فلم کے مرکزی اور اہم سین فلمائے جانے ہیں۔

    فلم کی شوٹنگ، کہانی، اداکاری اور فلم سے وابستہ توقعات سے متعلق بات کرتے ہوئے فلم پروڈیوسر جبران بیگ نے بتایا کہ مذکورہ فلم صرف کامیڈی پر مشتمل نہیں ہے بلکہ یہ ایک اہم سماجی مسئلے پر مبنی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ فلم کی کہانی خواتین کی خودمختاری اور خواتین کو طاقتور بنانے کے گرد گھومتی ہے اور فلم میں نہ صرف سماجی بلکہ سیاسی مسائل کو بھی منفرد اور ہلکے پھلکے انداز میں دکھایا گیا ہے فلم کی کہانی ایک بیٹی اور ان کے والد کے گرد گھومتی ہے اور ان کا خاندان جب مشکل میں پھنس جاتا ہے تو بیٹی والد کو کہتی ہیں کہ ’گھبرانا نہیں ہے‘ وہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے موجود ہیں۔

    فلم ’گھبرانا نہیں ہے‘ کی کاسٹ میں صبا قمر، سید جبران، زاہد احمد اور نیر اعجاز سمیت دیگر اداکار شامل ہیں جب کہ اس فلم کی ہدایات کے ذریعے ثاقب خان ڈائریکٹوریل ڈیبیو کریں گے۔

    جبکہ فلم’گھبرانا نہیں ہے‘ کو نیوپلیکس سینما کے مالک، صنعت کار جبران بیگ پروڈیوسر حسن ضیا کے ساتھ پروڈیوس کر رہے ہیں-

  • 79 سالہ باب ڈیلن نے اپنے تمام گیتوں کے مالکانہ حقوق ہالی وڈ میوزک پروڈکشن ہاؤس کو فروخت کردیئے

    79 سالہ باب ڈیلن نے اپنے تمام گیتوں کے مالکانہ حقوق ہالی وڈ میوزک پروڈکشن ہاؤس کو فروخت کردیئے

    امریکی گیت نگار و موسیقار 79 سالہ باب ڈیلن نے اپنے تمام 600 گیتوں کے مالکانہ حقوق ہالی وڈ میوزک پروڈکشن ہاؤس کو فروخت کردیئے۔

    باغی ٹی وی :خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ہالی وڈ کے میوزک و فلم پروڈکشن کمپنی یونیورسل میوزک نے 7 دسمبر کو تصدیق کی کہ اس نے باب ڈیلن کے گانوں کو خرید لیا۔

    میوزک کمپنی نے اگرچہ باب ڈیلن کے گانوں کے مالکانہ حقوق حاصل کیے جانے سے متعلق کوئی وضاحت جاری نہیں کی تاہم تصدیق کی گئی کہ اب گیت نگار و موسیقار کے 600 ہی گانے ان کی ملکیت بن گئے۔

    باب ڈیلن اور یونیورسل میوزک کے درمیان ہونے والے معاہدے کی رقم بھی نہیں بتائی گئی تاہم میوزک و فلم انڈسٹری کے کاروباری تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ معاہدہ 30 کروڑ سے 50 کروڑ ڈالر کے درمیان طے ہوا ہوگا۔

    امریکا کے اقتصادی جرائد و اخباروں نے بھی تجزیہ نگاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ باب ڈیلن اور یونیورسل میوزک کے درمیان معاہدہ 9 اعداد کی رقم میں ہوا ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ معاہدے کی رقم ایک ارب ڈالر سے کم ہے مگر معاہدہ بہت بھاری رقم میں طے ہوا ہوگا۔

    اگر باب ڈیلن اور یونیورسل میوزک کے درمیان مذکورہ معاہدہ 30 کروڑ ڈالر میں بھی ہوا ہے تو یہ رقم پاکستانی تقریبا 50 ارب روپے کے قریب بنتی ہے اور اگر یہ معاہد 50 کروڑ ڈالر میں ہوا ہے تو اس کی رقم لگ بھگ 80 ارب روپے بنے گی۔

    مائیکل جیکسن کے سنسنی خیز البم کی کتنی کاپیاں فروخت ہوئی ہیں؟ ناقابل یقین ورلڈ…

    معاہدے کے تحت اب یونیورسل میوزک کمپنی کو یہ حق حاصل ہوگیا کہ وہ گیت نگار کے گانوں کو فلموں، ڈراموں، ویب سیریز، گیمز اور ریئلٹی شوز سمیت اپنے فیسٹیولز میں بھی پیش کر سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ باب ڈیلن دنیا کے وہ واحد گیت نگار و موسیقار ہیں جنہیں 2016 میں ان کے شہرہ آفاق گیتوں کی وجہ سے ادب کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

    باب ڈیلن کو ادب کا نوبیل انعام دیے جانے پر نوبیل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا کیوں کہ کروڑوں لوگوں کا خیال ہے کہ گیت لکھنا یا گیتوں کو تیار کرنا ادب کا حصہ نہیں تاہم نوبیل کمیٹی نے باب ڈیلن کو ان کے شاندار گیتوں کے عوض نوبیل انعام دیا اس سے قبل بھی وہ میوزک کے متعدد ایوارڈز جیت چکے تھے۔

    باب ڈیلن نوبیل انعام جیتنے سے قبل ہی آسکر، گریمی، گولڈن گلوب اور صدارتی فریڈم میڈل جیتنے کے علاوہ متعدد ایوارڈز جیت چکے تھےباب ڈیلن کا گیت نگاری کا کیریئر نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط ہےانہیں ہر وقت کا دنیا کا عظیم گیت نگار بھی کہا جاتا ہے۔

    باب ڈیلن نے 1960 سے قبل ہی گیت نگاری میں شہرت حاصل کرلی تھی اور اس وقت ان کے گانے انسانی حقوق کی ریلیوں اور جلسوں میں ترانوں کی صورت میں گائے جاتے تھے۔

    باب ڈیلن کے 600 کے قریب گانوں کو دنیا بھر کے درجنوں آرٹسٹ نے تقریبا 6 ہزار مختلف اندازوں میں گایا ہے اور ان کے متعدد گانوں کو ہر دور کے بہترین گانوں کا اعزاز بھی حاصل ہے جبکہ باب ڈیلن کو مغربی موسیقی میں ایک ادارے کی حیثیت بھی حاصل ہے اور بڑے گلوکاروں و موسیقاروں کی خواہش رہتی ہے کہ وہ ان کے ساتھ کام کریں۔

    ہالی وڈ اسٹوڈیو وارنر برادرز نے فلم بینوں کی بڑی مشکل آسان کر دی