Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ارمینا خان کا شادی کی پیشکش کرنے والے ٹوئٹر صارف کو دلچسپ جواب

    ارمینا خان کا شادی کی پیشکش کرنے والے ٹوئٹر صارف کو دلچسپ جواب

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ارمینا خان نے شادی کی پیش کش کرنے والے شخص کو دلچسپ جواب دے کر صارفین کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ ارمینا خان ان دنوں ڈرامہ سیریل ’محبتیں چاہتیں‘ میں منفی کردار ادا کر رہی ہیں سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں یہاں تک کہ مداحوں کی جانب سے ان کی پوسٹ پر کیے گئے ہر کمنٹ کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہیں تاہم گزشتہ روز ایک صارف نے اداکارہ سے ایسا سوال کرلیا جس پر انہوں نے غصے اور طنز کا اظہار کرنے کی بجائے عاجزی کے ساتھ جواب دے کرمداحو ں کے دل جیت لئے-

    الطاف نامی صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ارمینا خان کو شادی کی آفر کرتے ہوئے لکھا کہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس پر ارمینا خان صارف کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے معذرت کی اور کہا کہ سرسوری ، میری شادی ہو چکی ہے۔


    ارمینا خان کا انداز جواب سوشل میڈیا صارفین کو ایسے بھایا کہ وہ اداکارہ کی عاجزی کی تعریفیں کئے بنا نہیں رہ سکے-

    واضح رہے کہ ارمینا خان پنے فنی کیریئر میں متعدد ڈراموں کے ساتھ ساتھ بن روئے، جانان، یلغار اور شیردل جیسی سپر ہٹ فلموں میں اداکاریہ کر چکی ہیں اوران دنوں ڈرامہ سیریل ’محبتیں چاہتیں‘ میں منفی کردار ادا کر رہی ہیں-

    منفی کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے ارمینا خان کا کہنا تھا کہ ’اچھی اور پیاری لڑکی کا کردار تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ میں نے منفی کردار اس لیے چُنا تاکہ لوگوں کی داد سمیٹ سکوں۔ اپنی طرف سے اس کردار میں میں جتنی برائی ڈال سکتی تھی، میں نے ڈالی ہے۔ آگے دیکھنے والوں پر منحصر ہے کہ ان کو میری کارکردگی کیسی لگتی ہے۔

    ارمینا خان کا کہنا تھا کہ ارمینا رانا خان کا کہنا ہے کہ تارا کے کردار میں اداکاری کا جو مارجن ہے وہ انھیں بہت کم کرداروں میں ملا ہے، اس سے انھیں یہ بھی پتا چلا کہ معاشرے میں اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر قیمت پر ہر چیز چاہتے ہیں۔

    ’اس کردار کو جب آپ کھولتے ہیں تو اس کی ہر تہہ کے نیچے ایک نئی کہانی، ایک نئی وجہ ملتی ہے جس سے شائقین کو پتہ چلے گا کہ تارا ایسی کیوں ہے۔ کوئی بھی انسان اچھا یا برا پیدا نہیں ہوتا، معاشرہ اسے ایسا بنا دیتا ہے۔ تارا کا کردار منفی ضرور ہے مگر اس کو ایسا بنایا گیا ہے، میں سمیرا فضل کو داد دیتی ہوں کہ انھوں نے اتنا مزے کا کردار میرے لیے لکھا۔

    ارمینا خان اس وقت سنیپ شاٹ‘ نامی فل میں کام کر رہی ہیں ان کی فلم یہ ترکی کے شہر استنبول میں شوٹ ہوئی ہے اس وقت تکمیل کے مراحل میں ہے۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’سنیپ شاٹ‘ بنانے کی سب سے بڑی وجہ اس کہانی کو سامنے لانا تھا جو پاکستان میں بننا تو چاہیے، لیکن بنتی نہیں۔ اس فلم کے ذریعے وہ اپنے مداحوں کو حیران کر دیں گی۔

    ترک اداکاروں کے ساتھ شارٹ فلم ’سنیپ شاٹ‘ سب کو حیران کر دے گی ارمینہ خان

  • کورونا کوئی مزاق نہیں بلکہ جان لیوا وبا ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں احتیاطی تدابیرکوسختی سے اپنانا ہوگا  شوبز فنکار

    کورونا کوئی مزاق نہیں بلکہ جان لیوا وبا ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں احتیاطی تدابیرکوسختی سے اپنانا ہوگا شوبز فنکار

    دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی کورونا کی دوسری شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تعادا میں مبینہ طور پر دن دہ دن اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤں کا فیصلہ کیا ہے اور تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کی ہدایات دی ہیں اورہرطرف ایک ہی پیغام عام ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستانی خبر رساں ادارے ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں کے معروف فنکاروں ماہرہ خان، مہوش حیات، عاطف اسلم اورہمایوں سعید کاکہنا تھاکہ جیسے ہی موسم سرما کے بعد بہار کا موسم آتا ہے تو پھر ثقافتی سرگرمیاں جس طرح پاکستان میں عروج پر ہوتی ہیں اسی طرح دنیا بھر میں موسم کی اس بدلتی رت کو خوش آمدید کہتے ہوئے رنگا رنگ پروگرام سجائے جاتے ہیں۔ میوزیکل پروگرام، فیشن شو، ڈانس ایونٹ ، فلموں کے پریمئر اور اس کے ساتھ ساتھ فلم فیسٹیولز، ایوارڈ شو اور دیگر تقاریب کو سجانے کا سلسلہ جاری عروج پررہتا ہے۔

    لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کورونا پرمکمل قابو پانا تو دور اس کی دوسری لہر نے دنیا کے بیشترممالک کوپھر سے اپنا نشانہ بنا لیا ہے۔ ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔ کورونا کوئی مزاق نہیں بلکہ جان لیوا وبا ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں احتیاطی تدابیرکوسختی سے اپنانا ہوگا۔

    اداکارجاوید شیخ،علی ظفر،عمران عباس اورنئیراعجاز نے کہاکہ کورونا وائرس نے جہاں عالمی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں وہیں اس نے دنیا کی سب سے بڑی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ہا لی وڈ سمیت پاکستان میں بھی شوبز انڈسٹری کو ویران کردیا ہے۔ اربوں ڈالرکے بجٹ سے بننے والی فلموں کی شوٹنگزجہاں بند ہوگئی ہیں وہیں سینما انڈسٹری کا بزنس بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ہالی وڈ سے وابستہ ہزاروں لوگ بے روزگارہوچکے ہیں اور اسی طرح کی صورتحال ہمارے ملک میں بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں جہاں فنکاروں سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد کواحتیاط کرنے کی ضرورت ہے، وہیں فنون لطیفہ کے فنکاروں کی مالی سپورٹ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اداکار معمر رانا، مہرین سید، سارا خان اور افتخار ٹھاکر نے کہا کہ رواں برس دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانز فلم فیسٹیول کو بھی دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے مہلک اورجان لیوا کورونا وائرس کے خوف کے باعث ملتوی کردیا گیا تھاہمارے ملک میں بھی سال بھرمیں مختلف پروگراموں کے انعقاد کیا جاتاہے مگرکورونا وائرس کے پیش نظر بہت سے ایونٹ منسوخ ہوئے اورفنکاروں سمیت ایونٹ آرگنائزر کوبھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مل کرآئندہ برس بڑے پروگرام منعقد کرنے کی کوشش میں لگے تھے مگرموجودہ صورتحال میں ایسا ممکن نہیں لگتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلی ترجیح کورونا سے بچاؤ کیلئے دی جانے والی احتیاطی تدابیر ہیں جن کواپنائے بغیرآگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ اس لئے ہماری اپیل اپنے ملک کے لوگوں سے ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں اوراس کوسنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

    ہدایتکار سید نور، پرویزکلیم، ندیم عباس لونے والا اوربہاربیگم نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کورونا سے شدید متاثرہوئے ہیں جبکہ ہمارے پاس توپہلے ہی وسائل کی بے پناہ کمی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ملک کے لوگ اس سے بچے ہیں تویہ اللہ تعالیٰ کی خاص کرم نوازی ہے۔ دوسری جانب ہمارے ملک کی اکثریت نے احتیاطی تدابیر کوبھی اپنایا تھا۔

    انہوںے نے کہا کہ ابھی ہمیں پھر سے احتیاط سے کام لینا ہے ماسک کے استعمال کویقینی بنانا ہے اور سینائٹائزر کے ساتھ صابن سے ہاتھ بھی دھونے ہیں۔ یہی تدابیر ہمیں اپنے فیملی ممبران کوبھی بتانی ہے حکومت کی جانب سے پہلے ہی بہت سا کام کیاجارہا ہے لیکن بطورزمہ دارشہری ہمیں بھی اپنے فرائض سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی نژاد برطانوی اوپیرا سنگر سائرہ پیٹر، سارہ رضاخان،شیبا بٹ اورنسیم وکی نے کہا کہ اگرہم بات کریں پاکستان کی تو یہاں بھی گزشتہ برسوں کی طرح مارچ میں بہت سی شوبز سرگرمیاں ترتیب دی گئی تھیں بلکہ پاکستانی گلوکار سازندے یوم پاکستان کی مناسبت سے ہونے والے پروگراموں میں پرفارمنس کیلئے دنیا کے بیشترممالک میں جایا کرتے تھے لیکن سب کچھ ملتوی ہوگیا اورفنکاربرادری گھروں تک رہنے پرمجبورہوگئی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے گھرپررہنے میں ہی فائدہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ خبر واقعی ہی پاکستانی فلم، سینما، میوزک، فیشن اور ایونٹ آرگنائزنگ انڈسٹری کیلئے بہت بری ثابت ہوئی تھی ملکی حالات کے پیش نظر پاکستانی گلوکاروں ، سازندوں اور اورگنائزرز کے لیے یہاں کام کرنا مشکل ہوچکا تھا اور ایسے میں اکثریت امریکا ، کینیڈا ، برطانیہ، یورپ اور مڈل ایسٹ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی مارکیٹ میں منافع بخش کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کے ساتھ جہاں میوزیشنز، ساؤنڈ انجینئرز کی بڑی ٹیم کو بہتر روزگار ملتا تھا ، وہیں ارگنائزرز کی بڑی تعداد بھی اس مد میں منافع بخش کاروبار کرنے میں کامیاب رہتی تھی۔

    اسی طرح اگرہم پاکستانی فلم اورسینما انڈسٹری کی بات کریں تو کورونا وائرس سے جہاں فلموںکی شوٹنگز متاثر ہوگئیں، وہیں سینما گھروں سے وابستہ سینکڑوں ملازمین بے روزگار ہو کر رہ گئے، کیونکہ سینماگھروں سے وابستہ اکثریت دیہاڑی دار افراد پر مشتمل تھی، لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظر سینما منتظمین کی جانب سے انہیں فارغ کردیا گیا اوروہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔

    اس صورتحال میں فنکاروں کو اپنی برادری کی سپورٹ کیلئے عملی طور پر اقدامات کرنا ہون گے کیونکہ یہی وہ موقع ہے جب ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اظہاریکجہتی کرنا ہوگا ہم اسی طرح سے اس قدرتی آفت کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ حکومت تواس سلسلہ میں کچھ اقدام ضرور کرے گی لیکن ہمیں بھی ایک دوسرے کی مدد کیلئے آگے آنا ہوگا۔

    کرونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پشاور انتظامیہ کے سخت اقدام

    معروف قوال سکندرمیانداد خاں، ہدایتکار شہزاد رفیق، مایا خان اورمیگھا نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران کورونا وائرس نے دنیا کے دو سے زائد ممالک کواپنی لپیٹ میں لیا تھا اور اسی لیے ان ممالک میں ہونے والے یوم پاکستان کے خصوصی پروگراموں کے ساتھ ساتھ دیگر میوزک کنسرٹس بھی منسوخ ہوئے ، منسوخ ہونے والے کنسرٹس میں جہاں پاکستانی گلوکاروں کے پروگرام شامل ہیں ، وہیں بھارت سمیت مغربی ممالک کے معروف گلوکاروں کے پروگرام بھی منسوخ کیے گئے ۔ اس کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ میں ہونے والے فلم ایوارڈز اور دیگر تقریبات کو بھی ملتوی کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ اس سلسلہ میں پاکستانی فنکاروں کو کروڑوں روپوں کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا اور دوسری جانب مغربی ممالک کے فنکاروں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ لیکن عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق احتیاط ہی کورونا وائرس کا واحد حل ہے کیونکہ یہ وائرس پھیلتا ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداددوبارہ سے بڑھ رہی ہے۔

    موجودہ صورتحال کے پیش جہاں دنیا کے بیشترممالک میں لوگوں کی سپورٹ کیلئے سپیشل پیکجز کا اعلان کیا گیا ہے اسی طرح پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک امدادی پیکج متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے اس پرتاحال کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

    قیادت ہوتو ایسی ہو:ڈاکٹرز،حکومت،دنیاکرونا سے بچانےکی کوشش میں: پی ڈی ایم کرونا سے مارنے…

    خاص طور پرفنون لطیفہ کا شعبہ جوکورونا کی وجہ سے بے حد متاثر ہوا ہے اوراس سے وابستہ افراد کی اکثریت دیہاڑی دار ہے، تو اس بارے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ جس طرح عوام نے انہیں ووٹ دے کر کامیاب کروایا ہے اسی طرح فنون لطیفہ کی اکثریت نے بھی اپنے ووٹ دینے کے ساتھ ان کی جیت کیلئے بہت کام کیا ہے ویسے بھی وہ تبدیلی کا نعرہ لے کراقتدار میں آئے تھے –

    یہی وہ شعبہ ہے جس سے وابستہ افراد لوگوں کو انٹرٹین کرتے ہیں جس طرح پاکستانی عوام کوفلموں، ڈراموں، میوزک ، فیشن اورڈانس کے ذریعے تفریح کے بہترین مواقع فراہم کئے جاتے ہیں،ا سی طرح پاکستانی فنکاردنیا بھرمیں پرفارم کرتے ہوئے ملک کانام روشن کرتے ہیں۔ اس لئے مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی شوبز انڈسٹری کیلئے خاص ریلیف کااعلان کیا جائے۔ جہاں شوبز انڈسٹری کے دیہاڑی دارطبقے کی مالی امداد کی جائے، وہیں انہیں راشن بھی فراہم کیا جائے، کیونکہ اس وقت ماہانہ تو دورروزانہ کے راشن کی خریداری بھی پہنچ سے باہرہوچکی ہے-

    دوسری جانب سٹورز پر کھانے پینے کی اشیا ء کی قیمتیں معمول سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ ایسے میں حکومت ہی ایک واحد سہارا ہے جوشوبز انڈسٹری سے وابستہ غریب اوردیہاڑی دار طبقے کوجانی اورمالی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ اس لئے ہماری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ پاکستان شوبز انڈسٹری کا خاص خیال رکھیں تاکہ حالات صحیح ہوتے ہی اس شعبے سے وابستہ افراد اپنی صلاحیتوں سے لوگوں کوبہترین تفریح فراہم کرسکیں۔

    عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو حکومت یہ کام بھی کرسکتی ہے ،ڈاکٹر یاسمین راشد نے وارننگ دے دی

  • 13 ویں عالمی اُردو کانفرنس‘ 3 تا 6 دسمبر 2020 آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوگی

    13 ویں عالمی اُردو کانفرنس‘ 3 تا 6 دسمبر 2020 آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوگی

    ہر سال کی طرح اس سال بھی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام 13 ویں عالمی اُردو کانفرنس‘ 3 تا 6 دسمبر 2020 آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوگی تاہم اس برس عالمی اردو کانفرنس ہر سال کی نسبت مختلف ہوگی کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اسے محدود کردیا گیا جبکہ کانفرنس زیادہ تر ڈیجیٹل ہوگی۔

    باغی ٹی وی : کورونا کی وبا کے پیش نظر’تیرہویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد محدود کردیاگیا ہے کانفرنس زیادہ تر آن لائن ڈیجیٹل ہوگی بیرون ممالک مقیم ادیب وڈیولنک کے ذریعے اردو کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

    صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے پریس کانفرنس میں تیرہویں عالمی اردو کانفرنس 3تا 6دسمبر تک جاری رہنے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث پوری دنیا کا ماحول تبدیل ہوچکا ہے ہم نہیں چاہتے کہ عوام کی صحت متاثر ہو اسی لیے سوچ بچار اور انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کانفرنس کا انعقاد کررہے ہیں۔

    صدر آرٹس کونسل کراچی نے کہا کہ کانفرنس میں پاکستان کی علاقائی زبانوں، سندھی، بلوچی، سرائیکی، پشتو اور پنجابی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پروگرام میں بیاد آصف فرخی کے علاوہ ممتاز شخصیات کے ساتھ سیشن بھی ہوں گے جس میں انور مقصود اور ضیا محی الدین سمیت اردو ادب کی ممتاز شخصیات اور معروف صحافی شامل ہیں۔

    اردو کانفرنس میں کتابوں کی رونمائی، نوجوانوں کا مشاعرہ، اردو نظم، سو برس کا قصہ،اردو ناول کی ایک صدی، نعتیہ اور رثائی ادب کی ایک صدی، سرائیکی زبان اور ادب، تاریخی جائزہ، بلوچی ز بان و ادب کے 100 برس،پاکستان میں فنون کی صورتحال، ہمایوں سعید سے ملاقات،محفلِ موسیقی،اردو افسانے کی ایک صدی،اردو غزل کا 100سالہ منظر نامہ، یاد رفتگاں، پشتو زبان و ادب کے 100 برس، پنجابی زبان و ادب کے سو سال،ہماری تعلیم کے 100برس،کلیات جوش،اور پھر یوں ہوا (مظہر عباس)، اردو صحافت کے 100 برس،اردو کا شاہکار مزاح(ضیا محی الدین)، عالمی مشاعرہ، اردو تنقید و تحقیق کے 100 برس،اردو میں ایک صدی کا نثری ادب،یارک شائر ادبی فورم،بچوں کا ادب، سندھی زبان و ادب کے سو برس،ہمارے ادب اور سماج میں خواتین کا کردار، کہانی زندگی سے پہلے سہیل احمد سے ملاقات اور انور مقصود پر سیشن منعقد ہوں گے۔

    کانفرنس میں مسعود قمر ( سویڈن)، فرحت پروین (امریکا)، طاہرہ کاظمی (مسقط)، غزل انصاری (یوکے) جبکہ زہرا نگاہ، ریاض مجید، نذیر لغاری،شیما کرمانی، انیس ہارون، غازی صلاح الدین، وسعت اللہ خان، وسیم بادامی، مسلم شمیم، سید مظہرجمیل، امداد حسینی، نورالہدیٰ شاہ، حسن منظر کے علاوہ مشہور و معروف شخصیات شرکت کریں گی۔

    پریس کانفرنس میں سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز احمد فاروقی، خازن قدسیہ اکبر اور منور سعید کے ہمراہ اراکین گورننگ باڈی کی بڑی تعداد موجود تھی-

  • صوبے کے نام پر بڑا دھوکہ ہوا جنوبی پنجاب کو اپنوں نے لوٹ لیا ہے  سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کے تہلکہ خیز انکشافات

    صوبے کے نام پر بڑا دھوکہ ہوا جنوبی پنجاب کو اپنوں نے لوٹ لیا ہے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کے تہلکہ خیز انکشافات

    سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب میں سیکرٹریٹ کے بنتے ہی پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے اس علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں پاکستان کے صف اول کے سینئیر صحافی مبشر لقمان نے سابقہ وفاقی وزیر محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی –

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پی ڈی اے جنوبی پنجاب میں بہت بڑا جلسہ کرنے جا رہی ہے معلوم کہ جلسے میں بات ہو گی یا نہیں کہ ساؤتھ پنجاب کوصوبہ بنانے کے لئے اپوزیشن پارٹیز نے کیا کیا ہے اور حکومت نے کیا کیا ہے کیونکہ بہر حال جب کہ منصوبہ بننا ہوگا یا بنے گا تو دونوں کو کوآپریٹ کرنا پڑے گا تب ہی ایک بڑی تعداد اسمبلی میں خاص طور پر صوبائی اسمبلی میں وہ اس کو ووٹ کرے گی عثمان بزدار نے جنوبی پبجاب میں جو سارا انتظام کیا ہے ان کے بقول اب وہاں پر بڑی آسانیاں ہو گئی ہیں-

    سئینئر اینکر پرسن نے کہا کہ آج سے وہ ایک سیریز شروع کر رہے ہیں جنوبی پنجاب کے مختلف ساتھیوں کو دوستوں کو دعوت دے کر کہ وہ آئیں اور ہمیں بتائیں کہ جنوبی پنجاب کے منصوبے کی حقیقت کیا ہے کیا ان کے معاملات آسان ہوئے ہیں-

    آج کی اس قسط میں مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے جنوبی پنجاب کے حوالے سے گفتگو کی مبشر لقمان نے محمد علی درانی سے سوال پوچھا کہ اب ان کا صوبہ کیسا لگ رہا ہے ؟

    جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبہ تو ابھی نہیں بنا میں تو بنیاد ی طور پر بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو صوبہ ماننے کے حق میں ہوں لیکن ابھی تک یہ ہوا ہے کہ وہاں پر ایک سیٹلائٹ سیکرٹریٹ بنا دیا گیا ہے کہ اس سیکرٹریٹ کے بنتے ہیں پورے جنوبی پنجاب کے لوگ دوسرے درجے کے شہری بننے پر مجبور ہو گئے-

    جس پر مبشر لقمان نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کا تو وزیراعظم ہے یہاں پر جنوبی پنجاب کا اور آپ کے تو بڑے وزرا ہیں وفاق میں تو آپ دوسرے درجے کے کیسے ہیں جس پر سابقہ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے مسئلے ہی یہی ہیں کہ ہمارے وزیراعلی بھی ہوتے ہیں اور وزرا بھی ہوتے ہیں –

    ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علاقے کے جتنے بھی وڈیرے جاگیردار اور سوکالڈ ایلیکٹیبل جو ہیں ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ اس علاقے کی محرومی کم نہ ہو تا کہ تخف لاہور پر وہ بیٹھ سکیں اور مرکز میں بڑے عہدے لے سکیں وزیراعظم بن سکیں لیکن عوام غریب کے غریب ہی رہیں محروم ہی رہیں –

    محمد علی درانی نے انکشاف کیا کہ جو کچھ سکرٹریٹ بنا ہے اس میں تخت لاہور کا کوئی کردار نہیں ہے اس کے سب ڈیزائن کو میں جانتا ہوں اس کو جنوبی پنجاب کے وڈیروں نے خود بنایا ہے اور خود ان کو لاگو کرایا ہے اس کا ان کو اس چیز کا ایک یہ فائدہ ہے کہ لوگ ان کے غلام ان کے غلام ہی رہیں گے اور وہاں نہ ترقی ہو گی نہ وہ ڈویلپمنٹ ہوگا بلکہ اس نئی ڈویلپمنٹ کی وجہ سے پورے پنجاب کی ڈویلپمنٹ متاثر ہو گی-

    سابق وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اس وقت پنجاب کا 82 فیصد بجٹ نان ڈویلپمنٹل ہے 82 فیصد بجٹ تنخواہوں اور مراعات وغیرہ میں چلا جاتا ہے ان مراعات کا ایک اور بنڈل پنجاب کے اوپر لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب کا بالفرض اگر 100 ارب کا بجٹ ہو تو اس میں سے ساٹھ سے 70 ارب روہے اس سیکرٹریٹ پر لگ جائیں گے مطلب مرے کو مارے جو غریب لوگ وہاں کے ان کے ڈویلپمنٹ کا بجٹ تھا وہ اور کم ہوگیا پہلے یہ تھا کہ جنوبی پنجاب کے شہری پنجاب کے شہریوں کے برابر تھے تو ان میں سے کوئی بھی آکر لاہور کے سیکرٹریٹ کے اندر بتا سکتا تھا تولیکن اس نئے سیکرٹریٹ کے بعد ان کو جانوروں کی طرح ایک جنوبی پنجاب کے پنجرے میں بند کر دیا گیا ہے –

    مبشر لقمان نے اس پر کہا کہ آپ کسی بھی حالات میں خوش نہیں ہوتے سیکٹریٹ مانگا آپ کو دیا اس پر بھی آپ خوش نہی ہوئے-

    اس پر سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ مجھے ایک عوام کا نمائندہ ایک عوام کا مطالبہ ایسا دے دیں جس نے سیکرٹریٹ مانگا اور ہم نے جو صوبہ مانگا تھا وہ گوانتاما جیل بن گیا ہے میں دلیل پر بات کرتا ہوں ویسے میں بات ہی نہیں کرتا وہاں پر بیٹھا آدمی مسائل کی وجہ سے لاہور آتا تھا تو اس کے دومسائل ہوتے تھے ایک خرچہ اور دوسرا فاصلہ اب اس کے 4 مسائل ہوگئے ہیں-

    کیونکہ اب وہ تب تک یہاں آ نہیں سکتا جب تک وہاں کا آڈیشنل آئی جی اسے پرمٹ نہیں دے گا وہ آئی جی کے پاس پرابلم نہیں لا سکتا وہاں کی آڈیشنل کی سیکرٹری اسے پرمیشن لیٹر نہیں دے گی آڈیشنل آئی جی کے پاس شہریوں کے مسائل حل کرنے کا بھی اختیار نہیں ہے اس نے جو ایکشن بھی لینا ہے آئی جی کی ہدایات پر لینا ہے یا آئی جی کی آگاہی پر لے گامطلب وہ با حکم آئی جی ہے وہاں پر کوئی بھی چیز چیف سیکرٹیری اور آئی جی کے انتظام کے بغیر نہیں ہو سکتی-

    محمد علی درانی نے کہا کہ اب اس کے اوپر ظلم پر ظلم یہ کہ آدھا سیکرٹریٹ ملتان میں اور آدھا بہاولپور میں ہے آپ بتائیں پنجاب میں آدھا سیکرٹریت لاہور میں رکھیں اور آدھا اسلام آباد میں بھیج دیں تو مطلب یہ ہے کہ نہ لاہور والوں کو کچھ ملے گا نہ راولپنڈی والوں کو کچھ ملے گا ایک سیکرٹری ادھر بیٹھا ہوگا آڈیشنل سیکرٹری ادھر بیٹھا ہو گا مطلب بہاولپور اور جنوبی پنجاب سے متعلق کوئی مسئلہ بھی جو ہے وہ 4 گُنا زیادہ گھمبیر ہو گیا ہے اس ڈویلپمنٹ کے باعث اس کے بعد آپ کو نوکریں ملیں گی لیکن نوکریوں کا کوئی نشان ہی نہیں ہے یہ ہمارے لئے صوبہ نہیں ہے جیل خانہ ہے-

    مبشر لقمان نے کہا کہ سولہ وزرا ہیں جنوبی پنجاب کے وفاق میں تو ابھی بھی آپ یہ سب کہہ رہے ہیں-

    جس پر محمد علی درانی نے کہا کہ اسی لئے تو جنوبی پنجاب میں یہ حالات ہیں سیکرٹریٹ بنا کر اپ نے ایک زنجیر باندھ دی ہے جنوبی پنجاب کے آگے اس کو کوئی جنوبی پنجاب کا شہری نہیں پار کر سکتا صوبے کی ڈیمانڈ وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے صوبے کی ضرورت وہیں کی وہیں کھڑی ہوئی ہے ڈویلپمنٹ کی ضرورت اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ نان ڈویلپمینٹل بجٹ کم ہو-

  • ترک اور پاکستانی  ڈرامہ و فلم ساز کمپنیوں کے درمیان مشترکہ طور پر کام کرنے کا معاہدہ طے پاگیا

    ترک اور پاکستانی ڈرامہ و فلم ساز کمپنیوں کے درمیان مشترکہ طور پر کام کرنے کا معاہدہ طے پاگیا

    پاکستان اور ترکی کی دو ڈراما و فلمساز پروڈکشن کمپنیوں کے درمیان مشترکہ طور پر کام کرنے کا معاہدہ طے پاگیا۔

    باغی ٹی وی : اداکار عدنان صدیقی نے پروڈیوسر کاشف انصاری کی ایک ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کی جس میں وہ ترکی کے شہر استبول میں وہاں کی پروڈکشن کمپنی تکدن فلمز کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کمال تکدن کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے دکھائی دیئے۔

    مختصر دوانیے کی ویڈیو میں اس حوالے سے پروڈیوسر کاشف انصاری نے بتایا کہ پاکستان کے انصاری فلمز اور ترکی کے تکدن فلمز پروڈکشن ہاؤسز کے درمیان مشترکہ منصوبے پر کام کرنے کا معاہدہ طے پا گیا۔

    ویڈیو میں کاشف انصاری کے علاوہ ترک پروڈکشن کمپنی کے سی ای او کمال تکدن نے بھی ترک زبان میں بتایا کہ دونوں ممالک کے پروڈکشن ہاؤسز کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا معاہدہ طے پاگیا۔

    ویڈیو میں انصاری فلمز کے کاشف انصاری نے بتایا کہ مذکورہ معاہدے اور منصوبے میں اور بھی شخصیات شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اداکار عدنان صدیقی اور ہمایوں سعید بھی مذکورہ مشترکہ منصوبے کا حصہ ہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ دونوں اداکار کس طرح منصوبے کا حصہ ہیں اور ان کا کردار کیا ہوگا؟تاہم اس حوالے سے کچھ بھی تصدیق طور پر نہیں کہا جاسکتا۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں مذکورہ معاہدے کی مزید تفصیلات سامنے آجائیں گی۔

    خیال رہے کہ پاکستانی پروڈکشن ہاؤس نے ترکی کے جس پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا معاہدہ کیا ہے اس پروڈکشن کمپنی نے معروف ترک ڈرامے ارطغرل غازی کو بھی بنایا ہے۔

    ترک اداکار جلال کے ہاں بچے کی پیدائش

    ارطغرل غازی نے پاکستان میں مقبولیت کا ایک اور ریکارڈ قائم کرلیا

  • کم معاوضہ ملنے پر سیمی راحیل کا پی ٹی وی پر برہمی کا اظہار

    کم معاوضہ ملنے پر سیمی راحیل کا پی ٹی وی پر برہمی کا اظہار

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی سینئراداکارہ سیمی راحیل نے پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے ایک پروگرام میں شرکت کا معاوضہ صرف 1400 روپے ادا کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے.

    باغی ٹی وی : سیمی راحیل نے یوم آزادی کی مناسبت سے پی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی تھی جس میں ان کے ساتھ سلمان شاہد بھی تھے اور یہ پروگرام پی ٹی وی ورلڈ سے نشر ہوا تھا۔

    سیمی راحیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر چیک کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ چیک اس چیز کا اعتراف ہے کہ ریاست اپنے فنکاروں کو کس قدر پیار کرتی ہے 4 دہائیوں کے بعد بھی یہ عمل کس قدر خوفناک ہے۔

    اسی سسلسلہ میں سیمی راحیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آپ پی ٹی وی پر کام کیوں نہیں کرتے؟ پی ٹی وی پرائیویٹ چینلزکے مقابلے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن وہاں سینئر فنکاروں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اس کا اندازہ یہ چیک دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی نے اچھا کیا مذاق ہے یہاں کسی فنکار کی کوئی عزت نہیں ہے۔یہ لوگ فنکاروں کو گاجرمولی کی طرح سمجھتے ہیں۔

    سیمی راحیل نے مزید کہا کہ جو ان کے من پسند لوگ ہوتے ہیں انہیں پیسے بھی ملتے ہیں اور ایوارڈ بھی ریما اور میرا کو تو لاکھوں روپے ملتے ہیں لیکن سینئر فنکاروں کے یہ سلوک ہورہا ہے۔

  • گوگل کا ادیبہ اورافسانہ نگار بانوقدسیہ کوخراج عقیدت

    گوگل کا ادیبہ اورافسانہ نگار بانوقدسیہ کوخراج عقیدت

    مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے ڈوڈل کے ذریعے معروف ادیبہ اورافسانہ نگار بانوقدسیہ کوان کی سالگرہ کے موقع پربہترین انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مرحوم ادیب اشفاق احمد کی اہلیہ اورمعروف مصنفہ بانوقدسیہ کوگوگل ڈوڈل کی جانب سے آج سالگرہ کے موقع پران کی خدمات کے پیش نظرخراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

    بانوقدسیہ 28 نومبر 1928 کو بھارت کے مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں، انہوں نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہوراور بی اے کنیئرڈ کالج سے کیا جب کہ 1949 میں گریجویشن کا امتحان پاس کیا –

    بانو قدسیہ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا اور یہیں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے اور دونوں نے دسمبر 1956 میں شادی کرلی۔

    مصنفہ بانو قدسیہ نے 27 ناول اور کہانیاں تحریر کی ہیں جس میں ’راجہ گدھ‘، ’امربیل‘، ’بازگشت‘، ’آدھی بات‘، ’دوسرا دروازہ‘ قابل ذکر ہیں جب کہ ان کے ناول ’راجہ گدھ‘اور ’آدھی بات‘ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بھی بہت سے ڈرامے لکھے ہیں۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں ’ستارہ امتیاز‘ اور 2010 میں ’ہلال امتیاز‘ سے نوازا گیا جب کہ اس کے علاوہ انہیں کئی قومی اوربین الااقوامی ایورڈ بھی دیئے گئے ہیں تاہم طویل علالت کے بعد 88 سال کی عمرمیں اس دار فانی کوچ کر گئیں-

  • شہریار منور کا تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب

    شہریار منور کا تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار شہریار منور نے اپنے فوٹو شوٹ پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کو کرارا جواب دے دیا-

    باغی ٹی وی : معروف اداکار شہریار منور ان دنوں اپنے فوٹو شوٹ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں حال ہی میں انہوں نے سائرہ یوسف کے ساتھ بھی فوٹو شوٹ کروایا تھا جس میں سائرہ کے بولڈ انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پرتنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم اب سائرہ کے بعد صارفین نے شہریار کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جو صارفین کو مہنگی پڑگئی۔

    اداکار شہریار منور نے حآل ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنے نئے فوٹو شوٹ کی تصاویر شئیر کیں ہیں جن پرایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ وہ غریبوں کے براڈلے کوپر لگ رہے ہیں –

    صارفین کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے اداکار نے لکھا کہ غریب ہونا معاشرتی عیب نہیں ہے لیکن میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں مجھے ایسے گروپ سے وابستہ کرنے کے لئے جوکہ اپنے لئے اور اپنی فیملی کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں جب کہ ایسے لوگ قابل احترام ہوتے ہیں۔

    ایک اور بھارتی صارف نے طنزیہ انداز کے ساتھ لکھا کہ نماز بھی پڑھ لو یہ نہ ہو کے اس سے قبل آپ کی نماز پڑھی جائے۔

    اس بھارتی صارف کو شہریار منور نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ الحمد اللہ میں پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور کبھی کبھار رب العزت کی مہربانی سے تہجد کی نماز بھی نصیب ہو جاتی ہے۔

    شہر منور نے یہ بھی لکھا کہ نماز میرے اور رب کے درمیان کا معاملہ ہے اور میرا کام بھی میرے لئے ایک عبادت ہے جب کہ رب حساب کرنے والا ہے لیکن تم لوگوں سے انسٹا گرام پر حساب لینا بند کرو کیوںکہ ایک دن تمھاری بھی نماز پڑھی جانی ہے۔

    سائرہ یوسف کو سوشل میڈیا پر وائرل حالیہ فوٹو شوٹ کی تصاویر پر تنقید کا سامنا

  • ترک اداکار جلال کے ہاں بچے کی پیدائش

    ترک اداکار جلال کے ہاں بچے کی پیدائش

    مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی مقبول ترین تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں عبدالرحمٰن غازی کا کردار ادا کرنے والے تُرک اداکار جلال کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر تُرک اداکار جلال نے ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں اُنہوں نے اپنے نومولود بچے کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔

    تُرک اداکار جلال نے اپنے مداحوں کو خوشخبری سُناتے ہوئے کیپشن میں تُرک زبان میں لکھا کہ الحمدللہ میرے رب نے مجھے جمعے کے مبارک دن باپ بنایا ہے جس کے لیے میں اپنے رب کا بہت شکر گزار ہوں۔

    جلال نے کہا کہ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جوڑے کو جمعے کے دن والدین بننے کی سعادت عطا کرے۔

    اس کے علاوہ اُنہوں نے بچے کی پیدائش میں بھرپور تعاون کے لیے ڈاکٹروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    آخر میں جلال نے اپنے بچے کی تاریخ پیدائش 27-11-2020 بھی لکھی ہے جبکہ اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے یا بیٹی کی-

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر سرکاری ٹی وی چینل پر اُردو زبان میں نشر کی جانے والی ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کو پاکستان میں خوب مقبولیت مل رہی ہے اورنہ صرف اس سیریز بلکہ اس کے کرداروں نے پاکستانیوں کو اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے-

  • اداکارہ رباب ہاشم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں

    اداکارہ رباب ہاشم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ رباب ہاشم رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئیں-

    باغی ٹی وی : خوبرو اداکارہ رباب ہاشم گزشتہ روز شعیب شمشاد کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئیں شادی کی تصویریں اُنہوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر شیئر کی ہیں۔

    رباب ہاشم نے انسٹاگرام پر اپنے نکاح کا ایک فوٹو کولاج شیئر کیا ہے جس میں اداکارہ اور اُن کے شوہر نکاح کے کاغذات پر دستخط کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    فوٹو کولاج پوسٹ کرتے ہوئے رباب ہاشم نے کیپشن میں دل والے ایموجی کے ساتھ ’نکاح‘ لکھا۔

    اداکارہ نے شادی کے موقع پر خوبصورت عروسی لباس زیب تن کیا جبکہ اُن کے شوہر نے بھی اداکارہ کے لباس کے رنگ سے ملتی جلتی شیروانی پہنی۔


    رباب ہاشم کی جانب سے شئیر کی جانے والی تصاویر میں اداکارہ کافی خوش اور دلکش دکھائی دے رہی ہیں مداحوں اور معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے اور دعاؤں نیک تمناؤں اور کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں رباب ہاشم کی اچانک شادی کی تقریبات نے مداحوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ رباب ہاشم نے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے کئی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز دس برس کی عمر میں جیو کے بچوں کے پروگرام سے کیا تھا۔

    اداکارہ رباب ہاشم کی شادی کی تقریبات کا آغاز ہو گیا