Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • خادم حسین  سچے عاشق رسول اورختم نبوتؐ کے عظیم پہریدار تھے

    خادم حسین سچے عاشق رسول اورختم نبوتؐ کے عظیم پہریدار تھے

    قصور: حضرت علامہ قاری محمد عامر سعیدی کا تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ خادم حسین رضویؒ سچے عاشق رسول اورختم نبوتؐ کے عظیم پہریدار تھے۔

    باغی ٹی وی : خادم حسین رضویؒ سچے عاشق رسول اورختم نبوتؐ کے عظیم پہریدار تھے۔ انہوں نے 104بخار ہونے کے باوجود اسلام آباد پہنچ کر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پرفرانس کیخلاف زبردست احتجاج کیا۔ ان خیالات کا اظہار حضرت علامہ قاری محمد عامر سعیدی نے نواحی گاؤں حویلی پاڈانیاں والی میں علامہ خادم حسین رضویؒ کے ساتویں کے ختم کے موقع پر خطاب کے دوران کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ناموس رسالتؐ کی خاطرخادم حسین رضویؒ نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی اور انہوں نے تحریک لبیک کے پرچم تلے اکٹھا کرکے ختم نبوتؐ پر پہرہ دیا اور حکومت کے ساتھ مذاکرات ان کی بہت بڑی کامیابی اور طرہ امتیاز ہے۔لاکھوں افراد کی ان کے جنازہ میں شرکت خادم حسین رضویؒ کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے خاص کرم ہے کیونکہ خوش قسمت لوگوں کے جنازے اتنے بڑا ہوا کرتے ہیں جن کی ڈرون کیمرے بھی کوریج نہ کر سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ اب ان شاء اللہ اس ملک میں اسلامی دستور آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ محبوب ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے۔ پیر مہر علی شاہ فرماتے ہیں کہ جو ختم نبوتؐ پر کام کرے گا نبی کریمؐ کا ہاتھ اس کی پشت پر ہوتا ہے۔

    علامہ حافظ غلام مرتضیٰ نے کہا کہ خادم حسین رضویؒ نے نبی پاکؐ کی ناموس کی خاطر دن رات ایک کرکے اپنا لوہا منوایا اور ثابت کیا کہ وہ نبی کریمؐ کے سچے عاشق ہیں اورآج مولانا خادم حسین رضویؒ کا پیغام گھر گھر پہنچ چکا ہے اور اب ہر مسلمان مولانا خادم حسین رضویؒ جیسا عاشق رسول بنے گا۔

    انہوں نے کہا کہ دشمنان اسلام جان لیں کہ عاشقان رسول اتنی تعداد میں موجو د ہیں کہ ناموس رسالتؐ پر کبھی آنچ نہیں آنے دینگے۔آج پورا پاکستان ختم نبوتؐ زندہ باد کے نعرے لگا رہا ہے اوراسلام کے دشمنوں کو یہ واضح پیغام ہے کہ عاشقان رسول ناموس رسالتؐ کی خاطر اپنی جان کی قربانیاں دینے سے بھی دریغ نہیں کرینگے۔

  • نکاح نامے کا ہر خانہ پر کرنا کیوں ضروری قرار دے دیا گیا

    نکاح نامے کا ہر خانہ پر کرنا کیوں ضروری قرار دے دیا گیا

    نکاح خواں عام طور پر کسی سے پوچھے بغیر خود ہی نکاح نامے کے کچھ خانے خالی چھوڑ دیتے ہیں یا ان میں کراس (x) لگادیتے ہیں.
    یہ وہ خانے ہیں جو ہماری بیٹی یا بہن کو مشکلات سے بچا سکتے ہیں.

    باغی ٹی وی : اگرچہ توقع اچھے ہی کی رکھنی چاہئیے لیکن سب کچھ توقعات اور خواہشات کے مطابق نہیں ہوتا. خاصی تعداد میں شادیاں چل نہیں پاتیں اور پھر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ تنگ کیا جاتا ہے.

    جب یہ صاف ہوجاتا ہے کہ میاں بیوی اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، شوہر طلاق دینے سے انکار کرتا ہے، اس کیلئے حق مہر، بچے چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے. مقدمات فیملی کورٹ سے ہائی کورٹ تک فیصلہ ہوتے ہوتے بیوی بوڑھی ہوجاتی ہے. وہ نئی زندگی شروع نہیں کرپاتی، شوہر اس دوران دوسری شادی کرچکا ہوتا ہے.اس سے بھی بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں.

    نکاح نامے کے خانہ نمبر 18 میں "ہاں ” لکھ کر اس مصیبت سے بچا جاسکتا ہے. اس میں پوچھا گیا ہے کہ آیا شوہرنے طلاق کا حق بیوی کو دے دیا ہے؟

    نکاح نامے کی شق نمبر 13 سے 22 انتہائی اہم ہیں. 13 سے 17 مہر سے متعلق ہیں۔

    مہر معجل نکاح کے وقت یا بیوی کے مطالبے پر فوری ادا کرنا ہوتا ہے جبکہ مہر مؤجل کسی معیّنہ تاریخ یا واقعے کے رونما ہونے پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ مہر مؤجل کی ادائیگی کی شرائط نکاح نامے میں درج کرنا ضروری ہے۔ اس پر بھی جھگڑے طول پکڑتے ہیں.

    حق ِطلاق دینا تو کیا اس پر بات کرنا بھی نامناسب اور بد شگونی سمجھا جاتا ہے۔

    اگر بیوی کے پاس حقِ طلاق نہ ہو تو اُس کے پاس خلع یا تنسیخ نکاح یعنی عدالت کے ذریعے شادی ختم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ جب لڑکی خلع کے لیے درخواست دیتی ہے تو وہ اپنے مہر کے حق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ اس طرح اسے ایک تو عدالت جانا پڑتا ہے اور دوسرا وہ اپنے مہر کی رقم سے محروم ہو جاتی ہے۔

    لڑکی کے پاس حقِ طلاق ہونے کی صورت میں یونین کونسل میں طلاق کے لیے رجسٹریشن کروائی جاتی ہے جس کے بعد عدالت جائے بغیر طلاق بھی ہو جاتی ہے اور لڑکی کو اس کا حق مہر بھی ملتا ہے۔

    نکاح نامے کی شق 19 کے مطابق بیوی شوہر کے حقِ طلاق پر شرائط عائد کرسکتی ہے مثلاً شوہر کے طلاق دینے کی صورت میں اُسے نان نفقہ یا دیگر اخراجات کے لیے معاوضہ دیا جائے گا۔

    نکاح نامے کا خانہ 20 مہر و نان نفقہ سے متعلق تیار کی گئی کسی دستاویز کی تفصیلات درج کرنے کیلئے ہے۔ مثلاً بیوی کہہ سکتی ہے کہ جائیداد اس کے نام کی جائے یا شوہر کی ماہانہ آمدنی کی ایک مقررہ شرح مخصوص مدّت تک بیوی کو ادا کی جائے۔

    اگر نکاح نامے میں لڑکی کو طلاق کا حق دیا گیا ہو تو ضروری نہیں کہ وہ اسے استعمال کرے مگر یہ حق اپنے پاس رکھے ضرور۔ پتہ نہیں مستقبل میں کیا ہو اور کب یہ حق استعمال کرنا پڑ جائے۔

    جیسا کہ پہلے ذکر کیا، نکاح خواں کئی خانوں کو خود ہی قلم زد کردیتے ہیں. جس کا انہیں کوئی حق ہے نہ اختیار لیکن اب پنجاب حکومت نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کہ ایسا کرنے پر پابندی لگادی ہے اور ہر خانہ پُر کرنا لازمی کردیا ہے.

  • ریپ ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کا فیصلہ مسئلے کا کوئی ٹھوس اور مستقل حل نہیں  عدنان صدیقی

    ریپ ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کا فیصلہ مسئلے کا کوئی ٹھوس اور مستقل حل نہیں عدنان صدیقی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ ہمیں مردوں کو صنفی ادب و احترم اور خواتین کو عزت دینے سے متعلق تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ریپ ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے فیصلے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نامور اداکار عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے انتہائی نڈر فیصلہ لیا ہے تاہم یہ مسئلے کا کوئی ٹھوس اور مستقل حل نہیں۔


    عدنان صدیقی نے کہا کہ ہمیں مردوں اور خواتین کو معاشرتی ذمہ داری کا احترام کرتے ہوئے صنفی حساسیت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    اداکار نے کہا کہ ہمیں مردوں کو صنف ادب و احترم کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ معاشرے میں خواتین اور مردوں کا برابری کا کردار ہے، معاشرے میں دونوں کو ایک ہی طرح کے مواقع میسر ہیں۔

     

  • معاشرے کی سوچ کو بدلنے کے لئے ڈراموں اور فلموں کی کہانیاں بدلنے کی ضرورت ہے  ماہرہ خان

    معاشرے کی سوچ کو بدلنے کے لئے ڈراموں اور فلموں کی کہانیاں بدلنے کی ضرورت ہے ماہرہ خان

    عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ ہم صرف یہ نہیں دکھا سکتے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے۔ اورپھرعورت کو اس ہی شخص سے محبت ہوجائے اوراسی شخص کوہم ہیرو بھی دکھاتے ہیں ہمیں ایسے پروگرامز بنانے چاہیئں جس سے بچوں کی تربیت ہو لیکن ہم اس کے بارے میں کھل کربات کرنے کے لیتے بھی تیارنہیں۔

    باغی ٹی وی :پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے بی بی سی کوانٹرویودیتے ہوئے جنسی تشدد سے متعلق کہا کہ اس تشدد کے خلاف بہت سی آوازیں بلند ہوتی ہیں لوگ سڑکوں پرآتے ہیں لیکن پھریہ سب بھلادیا جاتا ہے، اس کے بعد پھرکوئی خبرآتی ہے، پھریہ ہی سب ہوتا ہے لیکن ہم اپنی عوام کو تربیت دینے کے لیے تیارنہیں ہیں۔ ہمیں ایسے پروگرامز بنانے چاہیئں جس سے بچوں کی تربیت ہو لیکن ہم اس کے بارے میں کھل کربات کرنے کے لیتے بھی تیارنہیں۔

    اداکارہ نے کہا کہ ہمارے ٹی وی سیریزاورفلموں میں موجود کہانی بدلنی چاہیئے۔ ہم صرف یہ نہیں دکھا سکتے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے۔ اورپھرعورت کو اس ہی شخص سے محبت ہوجائے اوراسی شخص کوہم ہیرو بھی دکھاتے ہیں۔ تشدد کرنے والا شخص ہیرو نہیں ہوسکتا۔ ہمیں کہانی بدلنے کی ضرورت ہے اوریہاں میں بھی ذمہ داری لیتی ہوں کیونکہ میں بھی میڈیا کا حصہ ہوں۔

    فنکاروں اور دستکاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے صدر مملکت…

    اداکارہ نے مزید کہا کہ مجھ سے بہت سی رنگ گورا کرنے والی کریموں اورمصنوعات کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسے پراڈکٹ کا حصہ بن کر میں ایک ایسے خیال کی توثیق کررہی ہوں کہ گہرے رنگ کی لڑکی لڑکا یا کوئی بھی اتنا خوبصورت یا پرکشش نہیں ہوتا جتنا ایک گورے رنگ کا حامل شخص خوبصرت ہوتا ہے۔دراصل مجھے کبھی یہ بات سمجھ نہیں آتی۔

    چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے ثروت گیلانی

  • قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ

    قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ

    قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ اور 200 سے زیادہ ناولوں کے مصنف ایم اسلم نے اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا-

    باغی ٹی وی : میاں محمد اسلم 6 اگست 1885 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ساری عمر لاہور میں ہی رہے۔ 23 نومبر 1983 کو وفات پائی اور میانی صاحب میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    ایم اسلم نے اپنی مرضی کی زندگی گزاری۔ شہری جائیداد کی وجہ سے فکرِ معاش تھی نہیں۔ بس گراموفون سنتے تھے اور ناول لکھتے تھے۔ شلوار قمیص پہنتے تھے، اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھتے تھے۔ کہتے تھے یہ میرا شوق ہے۔

    مصنف ایم اسلم دوستوں کی خاطر تواضع بہت کرتے تھے لیکن دوست کھانے کے بعد ان سے ناول کا باب سننے سے خائف رہتے تھے۔ ایک بار شائد قتیل شفائی نے کہا ، میاں صاحب ، لوگ آپ کے بارے میں غلط بات کرتے ہیں،
    پوچھا ، کیا ؟
    قتیل نے کہا، کہ آپ زبردستی ناول سناتے ہیں، حالانکہ ایسی تو کوئی بات نہیں،
    میاں صاحب نے کہا ، ہاں ، ہاں
    اور یوں احباب اس روز ناول سننے سے محفوظ رہے !

    شلوار قمیض کے اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھنا ایم اسلم کا شوق تھا ،ناول نگار اور مصنف ایم اسلم کی یادگار تصویر

    ایک بار کسی کے سوال پر ایم اسلم نے بتایا کہ انہیں ناول لکھنے کے لئے زیادہ غوروفکر کی ضرورت نہیں پڑتی ، بس کوئی گراموفون ریکارڈ لگا کر سنتے ہیں اور ناول کا پلاٹ ان کے ذہن میں آجا تا ہے۔

    عظیم مصنف ایم اسلم کے والد میاں نظام دین علامہ اقبال کے دوست تھے۔ ایم اسلم پہلے شاعری کرتے تھے، علامہ اقبال کو دکھائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ نثر لکھا کریں ۔ انہوں نے یہ مشورہ قبول کرکے ناول افسانے لکھنا شروع کئے اور اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک ریکارڈ قائم کرڈالا !

    جن میں ناظمہ کی آپ بیتی،عروسِ غربت، معرکۂ بدر،جوئے خون، پاسبانِ حرم، شمشیرِستم، بنتِ حرم، فتحِ مکہ، صبحِ احد، ابو جہل، غزالۂ صحرا ،فتنۂ تاتار ،خونِ شہیداں ، رقصِ ابلیس ، مرزا جی، گناہ کی راتیں ،جہنم ،حسنِ سوگوار ، خار و گل ،رقصِ زندگی ، راوی کے رومان ، درِ توبہ اور شامِ غریباں ایم اسلم کے مشہور ناول ہیں۔

    معروف ناول نگار فاروق خالد بتاتے ہیں ایم اسلم، مشہور مصوّر اُستاد اللہ بخش کے دوست تھے اور ان سے ملنے اکثر پُرانا مسلم ٹاون جایا کرتے تھے۔ ان کے کئی ناولوں کے سرورق بھی استاد نے ڈیزائن کیے۔ مَیں اُستاد اللہ بخش کا باقاعدہ شاگرد تھا۔ ان پر مَیں نے بڑی محبت سے ایک خاکہ لکھا ہے جو ” سویرا” لاہور کی تازہ اشاعت میں شامل ہے اور اس میں میاں ایم اسلم کا ذکر بھی ہے۔

    میاں یوسف صلاح الدین کی جس حویلی کا آج کل بہت چرچا ہے، وہ میاں ایم اسلم کی ہی تھی۔ ان کی اولاد نہیں تھی، اس لئے ان کی حویلی پہلے ان کے کزن میاں امیر الدین کو ملی. ان سے ان کے بیٹے اور علامہ اقبال کے داماد میاں صلاح الدین ( میاں صلی، جو ایم این اے بھی بنے ) کے حصے میں آئی اور پھر ورثے میں میاں یوسف صلاح الدین کے۔

    محترم منیب اقبال کے مطابق علامہ اقبال کی صاحبزادی منیرہ کا نکاح میاں صلاح الدین سے ہوا تو خاندان کے بزرگ کی حیثیت کی سے میاں اسلم نے نکاح نامے پر گواہ کے طور پر دستخط کئے۔

    ڈاکٹر انور سدید مرحوم کے صاحبزادے مسعود انور ایک یادگار واقعہ بتاتے ہیں کہ1976 میں ڈینٹل کالج کے قریب انکی رہائش گاہ کے سامنے سے ابا جی کے ساتھہ گزر رہا تھا۔ ایم اسلم باہر کھڑے تھے۔ اباجی بولے جلدی سے نکل چلو ۔ مگر اسلم صاحب کی نظر پڑ گئی اور آواز دے کر بلا لیا۔ چائے بسکٹ کے ساتھہ دو باب ناول کے سنے۔ ابا جی نے بتایا کہ انہوں نے فائلیں بنائی ہوئی ہیں۔ بارش کا منظر 20 صفحات۔ پہلی ملاقات 15 صفحات وغیرہ۔ ناول میں جیسا مقام آتا ھے فائل کھول کر صفحات فٹ کر دیتے ھیں۔

    ارشد نعیم صاحب نے یاد دلایا ہے کہ شاہد احمد دہلوی نے ایم اسلم کا شاندار خاکہ لکھا تھاجس سے ان کی شخصی عظمت کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور ان کی عوامی مقبولیت کے راز کا بھی پتہ چلتا ہے.

  • حکومتی احکامات کے باوجود ملک کی معروف یونیورسٹی  طلباء کو یونیورسٹی بلانے پر مصر

    حکومتی احکامات کے باوجود ملک کی معروف یونیورسٹی طلباء کو یونیورسٹی بلانے پر مصر

    گورنمنٹ کی جانب سے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات جاری ہونے کے باوجود یو ایم ٹی( یونیورسٹی آف مینیجمنٹ ٹیکنالوجی لاہور) کی جانب سے طلباء کولیبز وغیرہ کے لیے کیمپس میں آنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی:گورنمنٹ کی طرف سے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کے احکامات آچکے ہیں. لیکن UMT نے احال ہی میں ایک ںوٹیفیکشن جاری کیا ہے جس میں یونیورسٹی تاحال طلباء کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ لیبز وغیرہ کے لیے کیمپس میں آئیں-

    نوٹیفیکشن میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء کو ہدایات دیں کہ تمام کلاسز کا انعقاد آن لائن کیا جائے گا تمام لیب سیشن شیڈول کے مطابق کیمپس میں ہوں گے-

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ ایم ایس ، ایک فل اور پی ایچ ڈی کی تحقیقی سرگرمیاں محکمہ کی صوابدید کے مطابق کیمپس میں جاری رکھی جا سکتی ہیں اسائنمنٹ کوئز اور دیگر سیشنل اسسمنٹ آن لائن ہوں گے –

    جبکہ مڈٹرم اور فائنل ٹرم امتحانات کیمپس میں متعلقہ محکمہ کی ڈیٹ شیٹ کے مطابق ہوں گے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام فیکلٹی ممبر کوویڈ 19 کی ایس او پر عمل درآمد یقینی بناتے ہوئےتعلیمی سرگرمیوں کے لئے کیمپس میں آئیں گے-

    یو ایم ٹی نے اپنے نوٹیفیکیشن میں کہا کہ دور دراز علاقوں کے شرکاء اور وہ لوگ جن کو انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے گھر پر آن لائن کلاسز کے لئے پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کیمپس کی کلاسوں میں شریک ہوسکتے ہیں۔

    ہاسٹل میں مقیم طلباء کو کوویڈ_19 کی ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے ہاسٹم میً رہنے کی اجازت ہوگی کورونا وائرس کی بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث احتیاطی تدابیر کے پیش نظر کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور سماجی فاصلے کو بھی اختیار کیا جائے –

    تاہم تما م قسم کی ثقافتی اور اسپورٹس سرگرمیاں مخصوص وقت تک ملتوی کی جائیں گی-

    دوسری جانب نوٹیفیکشن موصول ہونے کے بعد طلباء کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے شہروں کو جاچکے ہیں تو کیسے لیبز کے لیے آئیں. کرونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ہمیں بھی اپنی جان پیاری ہے ہم یونی نہیں آسکتے.


    https://twitter.com/Mrtallboy2/status/1332212016413544450?s=20


    https://twitter.com/farhanansari888/status/1331888143616913410?s=20


    جبکہ یونیورسٹی رجسٹرار نے نوٹیفیکشن پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جناب وزیر تعلیم کے اس واضح بیان کے بعد کہ وہ تمام کلاس آن لائن ہوں گے جبکہ اب یو ایم ٹی کی کل ایک ای میل موصول ہونے کے بعد طلباء لاہور سے چلے گئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ تمام کلاسز آن لائن ہونگی ۔

    اور یونیورسٹی نے بتایا کہ کیمپس میں صرف پی ایچ ڈی لیب لیبز کی اجازت ہے اور کوئی دوسرا رعایت نہیں ہے علاوہ ازیں ہاسٹلز نے طالب علم سے کہا کہ وہ جلد سے جلد وہاں سے چلے جائیں۔

    یونیورسٹی رجسٹرار نے کہا کہ اب میں سعودی عرب آیا ہوں اور دوسرے طلباء بھی اپنے شہروں جیسے کوئٹہ پشاور واپس چلے گئے ہیں۔ اور جناب ہفتے میں صرف ایک یا دو دن کے لئے کیمپس لیبز پر لاہور آنا ہم سب کے لئے بہت مشکل ہوگا۔

    یونیورسٹی رجسٹرار نے اپنی ٹویٹ میں اس معاملے پر نظر ثانی کرنے کی اپل کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

  • اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں

    اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی اُبھرتی ہوئی اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں ہیں-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے اداکارہ مریم نفیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی سیفلی پوسٹ کی ہے جو اُنہوں نے آئسولیشن کے دوران لی۔

    انسٹاگرام پر سیلفی پوسٹ کرتے ہوئے مریم نفیس نے کیپشن میں لکھا کہ میں آپ سب کو آئسولیشن سے سلام بھیج رہی ہوں کیونکہ بدقسمتی سے وہ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہوں۔

    مریم نفیس نے کہا کہ مجھے کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں جس کے بعد میں نے اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا اور اُس کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

    اداکارہ نے مداحوں سے دُعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میری جلد صحت یابی کے لیے دُعا کریں۔

    اُنہوں نے لوگوں کو کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ براہِ کرم ماسک پہنیں، سماجی فاصلے کا خیال رکھیں، خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی اس وائرس سے بچائیں۔

    مریم نفیس کی پوسٹ پر بڑی تعداد میں مداحوں کی جانب سے اُن کے لیے دُعائیہ پیغامات بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    عامر لیاقت حسین نے عالمی وبا کورونا وائرس کو شکست دے دی

    واضح رہے کہ اس سے قبل کئی فنکار کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں عامر لیاقت حسین اور ان کی اہلیہ طوبی عامر ،اداکار امیر گیلانی ،گلوکارجواد احمد ،عثمان مختار ، فروا علی کاظمی ،ماڈل صحیفہ جبار ، روبینہ اشرف ، اداکار یاسر نواز اور ان کی اہلیہ ندا یاسر ،واسع چوہدری اور دیگر شامل ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد آج 28 نومبر کی دوپہر تک 3 لاکھ 92 ہزار 3سو 56ہو چکی ہے جبکہ اس موذی وبا سے جاں بحق افراد کی کُل تعداد 7 ہزار 942 تک جا پہنچی ہے۔

    عامر لیاقت حسین کورونا وائرس کے باعث طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل

    ڈاکٹرعامر لیاقت اہلیہ طوبیٰ عامر سمیت کرونا وائرس کا شکار

    ایک اوراداکار امیر گیلانی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    جواد احمد عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    عثمان مختار کے بعد ماڈل فروا علی کاظمی بھی کورونا وائرس کا شکار

    عثمان مختار بھی عالگیر وبا کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے

    ماڈل صحیفہ جبار بھی کورونا وائرس کا شکار

  • چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے   ثروت گیلانی

    چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے ثروت گیلانی

    ٹی وی اداکارہ ثروت گیلانی کا کہنا ہے کہ ٹی وی ڈراموں میں بہوؤں پرتشدد دکھانے اور انہیں جلائے جانے پرتوتالیاں بجائی جاتی ہیں لیکن اگرمیاں بیوی محبت کا ظہارکررہے ہوں تویہ ہمارے عوام کے لیے ہضم کرنا مسئلہ ہے۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں ایک یوٹیوب چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ثروت گیلانی کا کہنا تھا کہ ساس بہو والے ڈراموں کی کہانیاں سب جھوٹ ہیں۔ جن لوگوں کی سوچ صحیح ہوتی ہے انہیں ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اوروہ لوگ مل کررہ سکتے ہیں۔

    ثروت گیلانی کا اپنے فنی کیرئیر کی شروعات کے حوالے سے کہنا تھا کہ شوبزمیں کام کے حوالے سے خاندان کو راضی کرنا بہت مشکل تھا، میں سوچتی تھی کہ اگراچھا کام کرتی رہی تو وہ ایک دن خود ہی مان جائیں اورایسا ہی ہوا۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو زیادتی، اغوا اور شہر کے بنیادی ڈھانچے جیسے کئی مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن حکومت چیزوں پرپابندیاں لگانے اور چھوٹے موٹے معاملات میں ہی مصروف ہے میں سمجھتی ہوں کہ حکومت کو گھمبیر معاملات پر زیادہ سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری صرف تین افراد کے سینگوں پر کھڑی ہے محمد احمد

    ٹی وی ڈراموں میں کم کام کی وجہ بتاتے ہوئے ثروت گیلانی نے کہا کہ میری ترجیحات تبدیل ہوگئی ہیں میری والدہ اوربچے میری پہلی ترجیح ہیں اس کے علاوہ اسپیشل اولپمکس کی سفیرہونے کی وجہ سے مجھ پر کئی ذمہ داریاں ہیں، میرا زیادہ تروقت ان 2 چیزوں میں چلا جاتا ہے۔

    ثروت گیلانی نے ویب سیریز ’چڑیلز‘ کی پابندی لگائے جانے پر بھی بات کی ان کا کہنا تھا کہ ویب سیریز ’چڑیلز‘ پرپابندی سے مجھے بہت دکھ ہوا اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا-

    پاکستانی ڈراموں میں ان کہانیوں کو ہی دکھایا جاتا ہے جو معاشرے میں موجود ہوتی ہیں…

    ثروت گیلانی نے کہا کہ اگر ہم سچائی سے بھاگتے رہے تو خود کو ٹھیک کیسے کریں گے ٹی وی ڈراموں میں بہوؤں پرتشدد دکھانے اور انہیں جلائے جانے پرتوتالیاں بجائی جاتی ہیں لیکن اگرمیاں بیوی محبت کا ظہارکررہے ہوں تویہ ہمارے عوام کے لیے ہضم کرنا مسئلہ ہے۔ امید ہے ایک وقت آئے گا کہ انہیں یہ پیارمحبت بھی ہضم کرنا آجائے گا۔

    جب ٹیلی ویژن نہیں تھا اداکارائیں ٹی وی پر نہیں آتی تھیں تو کیا ریپ نہیں ہوتے تھے؟

    پاکستان میں چڑیلز بین کئے جانے پر ہدایتکار عاصم عباسی اور شائقین برہم

    چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے، ہم نے سوچا تھا کہ ویب سیریز دیکھنے والوں میں سے 80 فیصد تنقید اور20 فیصد تعریف کریں گے لیکن معاملہ اس کے الٹ ہوا زیادہ تر لوگوں نے اس کی تعریف کی اس کا مطلب یہ ہے کہ ساس بہو جیسی کہانیاں پرانی ہوگئیں لوگوں کواب نیا چاہیے۔

    پاکستان میں بھارتی اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیوسمیت دیگر بھارتی مواد کی سبسکرپشن…

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ پر پاکستان میں عائد پابندی ختم

    ویب سیریز چڑیلز کو پاکستان میں بین کرنے پر شوبز شخصیات کا سخت رد عمل

  • علی ظفر کا سندھی گیت ’الے‘ ریلیز ہوتے ہی مقبول

    علی ظفر کا سندھی گیت ’الے‘ ریلیز ہوتے ہی مقبول

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار واداکار علی ظفر نے اپنا نیا گیت ’الے‘ ریلیز کردیا ہے جسے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : بلوچستان سے تعلق رکھنے والی کم عمر 13 سالہ گلوکارہ عروج فاطمہ نے گزشتہ سال علی ظفر کے ساتھ گلوکاری کی خواہش کا اظہار کیا تھا جس پر گلوکار نے مداح کی خواہش کا خیر مقدم کرتے ہوئے عروج کے ساتھ بلوچی گیت ’لیلا او لیلا‘ بنایا تھا۔

    علی ظفر اور عروج فاطمہ کے اس گیت کو شائقین کی جانب سے اتنا پسند کیا گیا کہ گیت نے مقبولیت کے ریکارڈ اپنے نام کرلئے یوٹیوب پر اب تک اس ویڈیو کو 2 کروڑ 73 لاکھ 59 ہزار 3سو سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے اسی مقبولیت کے پیش نظر گلوکار نے اپنی مداح کے ساتھ ایک اور گیت ’الے‘ ریلیز کردیا ہے جس میں سندھی ثقافت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    علی ظفر نے سندھی گیت کا پرومو جاری کر دیا

    علی ظفر کی جانب سے یوٹیوب پر ویڈیو کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا کہ میں یہ گیت سندھی بھائیوں اور بہنوں کے نام کرتا ہوں اور میرا یہ گیت اجرک بنانے والے اُن ہنر مندوں کا قرض بے باک کرنے کے لئے بھی ہے جنہوں نے سندھی تہذیب کو پوری دنیا میں روشناس کرایا۔

    ریلیز کردہ سندھی گیت میں فاطمہ کے ساتھ یڈیو میں ہپ ہاپ ریپر عابد بروہی نے بھی گلوکاری کے فن دکھائیں ہیں۔ ’الے‘ گیت کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 3 منٹ 50 سیکنڈ کی ویڈیو کو محض دو گھنٹے میں 41 ہزار 7 سوسے زائد بار دیکھا جا چکا ہے۔

    فنکاروں اور دستکاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے صدر مملکت…

  • اسکاٹ لینڈ خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیا مفت فراہم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

    اسکاٹ لینڈ خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی اشیا مفت فراہم کرنے والا پہلا ملک بن گیا

    برطانیہ میں واقع اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے ملک بھر کی خواتین کو مخصوص ایام میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی اشیا مفت فراہم کرنے کا بل منظور کرلیا اور وہ "غربت” کے خلاف ایسا قدم اٹھانے والی دنیا کی پہلی قوم بن گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کے پارلیمنٹ نے 24 نومبر کو ’دی پیرڈ پراڈکٹس اسکاٹ لینڈ بل‘ کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    پیرڈ پروڈکٹ (مفت فراہمی) اسکاٹ لینڈ بل متفقہ طور پر منظور ہوا ، اور اسکاٹ لینڈ کے پہلے وزیر نکولا اسٹارجن نے اسے "خواتین اور لڑکیوں کے لئے ایک اہم پالیسی” قرار دیا۔

    اس سے قبل رواں برس فروری میں بھی مذکورہ بل کو پارلیمنٹ میں قانون سازی کے لیے منظور کرلیا گیا تھا، جس کے بعد اس پر پارلیمنٹ میں بحث شروع ہوئی۔

    مذکورہ بل کو قانون میں تبدیل کرنے کے لیے اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ میں اس پر 4 مراحل میں بحث کی گئی اور آخری مرحلے کی بحث کا اختتام 24 نومبر کو بل کی منظوری کے ساتھ ہوا۔

    بل منظور ہوجانے کے بعد اب اسکاٹ لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا جہاں تمام عمر کی خواتین کو مخصوص ایام کے دوران ضرورت میں آنے والی تمام چیزیں مفت فراہم کی جائیں گی۔

    بحث کے دوران ، بل کے تجویز کنندہ ، سکاٹش لیبر کی رکن پارلیمنٹ مونیکا لینن ، نے کہا: "کسی کو بھی اس کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کا اگلا ٹیمپون ، پیڈ یا دوبارہ پریوست آ رہا ہے۔

    انہوں نے کہا ، "اسکاٹ لینڈ تاریخ میں غربت میں مبتلا ہونے والا آخری ملک نہیں ہوگا ، لیکن ہمارے پاس پہلی بار ہونے کا موقع ہے۔”

    خواتین کے حیض میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی چیزوں کی مفت فراہمی کے لیے حکومت سرکاری دفاتر، عمارتوں اور اہم اسٹورز پر ان کی مفت فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    تقریبا 55 لاکھ کی آبادی والا اسکاٹ لینڈ اس وقت دنیا کا وہ واحد ملک بھی ہے جہاں اسکول و کالجز کی طالبات کو حیض کے دوران استعمال ہونے والی تمام اشیا مفت فراہم کر رہا ہے۔

    2018 میں ، اسکاٹ لینڈ پہلا ملک بن گیا تھا جس نے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مفت سینیٹری کی مصنوعات فراہم کیں۔

    علاوہ ازیں اسکاٹ لینڈ میں نجی ریسٹورانٹس، ڈانس و نائٹ کلبز، بڑے شاپنگ مالز، اسپورٹس و فٹنیس کلبز سمیت کئی طرح کے ادارے اپنے دفاتر میں خواتین کی واش رومز میں حیض کے استعمال کی اشیا کی مفت فراہمی بھی کر رہے ہیں۔

    حکومتی اندازوں کے مطابق خواتین کو اشیا کی مفت فراہمی کے بعد حکومت پر سالانہ تقریبا 3 کروڑ 20 لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی تقریبا 4 ارب روپے تک کے اخراجات آئیں گے۔

    چھاتی کے کینسر سے آگاہی کے حوالہ سے اقدامات کی ضرورت ہے بیگم ثمینہ علوی

    نئے قانون کے مطابق خواتین ضرورت کے مطابق اپنے خصوصی ایام کے موقع پر اپنی من پسند چیز کو مفت حاصل کر سکیں گی اور خواتین کو ’پیڈز کے علاوہ ٹاول اور ٹیمپون‘ بھی مفت مل سکیں گے۔

    ٹیمپون ایک خاص طرح کا آلہ ہے جسے خواتین ’پیڈز‘ کے متبادل کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

    اسکاٹ لینڈ میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی بعض تنظیموں کے مطابق وہاں ہر خاتون حیض کی اشیا پر ماہانہ 13 پاؤنڈ یعنی پاکستانی تقریبا ڈھائی ہزار روپے خرچ کرتی ہے۔

    فلاحی تنظیموں کے مطابق بھاری اخراجات کے باعث اسکاٹ لینڈ کی کئی خواتین ایام خصوصی کے موقع پر استعمال ہونے والی اشیا نہیں خرید سکتیں، جس وجہ سے ان کی صحت متاثر ہوتی ہے۔

    برطانیہ میں سینیٹری پروڈکٹ پر 5٪ ٹیکس عائد کیا جاتا ہے ، جو عہدے داروں نے یورپی یونین (EU) کے قوانین پر الزام عائد کیا ہے جس سے بعض مصنوعات پر ٹیکس کی شرح مقرر کی جاتی ہے۔

    اب جب برطانیہ نے یورپی یونین چھوڑ دیا ہے ، برطانوی وزیر خزانہ رشی سنک نے کہا ہے کہ وہ جنوری 2021 میں "ٹیمپون ٹیکس” کو ختم کردیں گے۔

    جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے…