Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں تحریر :منہال زاہد سخی

    خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں تحریر :منہال زاہد سخی

    پڑھیں ! 5 6 منٹ دینے سے دنیا اپنی فطرت پر ہی قائم رہے گی اس کے برعکس آپ کی سوچ میں اضافہ ہوگا

    اعلان رقیبوں کی سماعتوں سے ٹکراتا ہے ۔ خبریں ہیڈ لائنز کی صورت میں اور اخبار میں چھپ کر بصارتوں کو دھندلا کرتی ہے ۔ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہپناٹائز ہو جاتی ہیں ۔ کہ فلاں فلاں اڈے سے اپنی منزل کی طرف محو سفر بس حادثہ کا شکار ہوکر کر متعدد جانوں کی حلاکتوں کا باعث بنی ہے ۔ لیکن ایک نوجوان حیات و موت کی دہلیز پر موجود ہے ۔

    بعد از اعلان سب پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے اور جن کے دوست احباب رشتہ دار قریبی اس اڈے سے اپنی منزل کو پانے کی جستجو میں روانہ ہوئے تھے ۔ سب پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے ۔ اور کوئی ان اوقات تک فیسبک پر پوسٹ نہیں کرتا ۔ واٹس ایپ سٹیٹس نہیں لگایا ۔ انسٹا پر سٹوری نہیں لگائی کیونکہ سب سے اک امید وابستہ تھی کہ وہ زندگی و موت کی دہلیز پر براجمان نوجوان میرا بھائی نہ ہو کزن نہ ہو بھتیجا نہ ہو بھانجا نہ ہو دوست نہ ہو چاچا نہ ہو ماما نہ ہو حتیٰ کہ رشتے کو مظبوط یاں کچے دھاگے میں پروئے جتنے بھی موتی تھے سب کو فکر لاحق تھی اندیشہ تھا کہ وہ نوجوان میرا دوست ہوگا اور ہر رشتہ دار ہاتھ پھیلائے دل سے آنکھوں میں اشکوں کو پروئے اپنے رب کے ہاں لگاؤ سے دعاگو ہے وہ میرا ہی رقیب ہو جاننے والا ہو میرا ہی شناسا ہو ۔ ایک نوجوان اور کڑوڑوں امیدیں ۔

    اگر ان میں سے کوئی بھی پوسٹ کردے میرا کزن بس حادثہ کے نذر ہوکر درا فانی سے کوچ کرگیا ہے ۔ اور بچ جانے والا نوجوان ہی کزن ہو تو پھر اک بنا تحقیق کے بے معنیٰ خبر گردش کرتی ہے ۔ اور اس مرنے والا نوجوان کے حلقہ احباب میں ایک کیفیت رنج و الم گردش کرتی ہے ۔ اور اس کے حلقہ احباب سب پوسٹس کرتے ہیں میرا جاننے والا فوت ہوگیا ہے ۔ سٹوری لگتی ہے سٹیٹس لگتے ہیں شیئر ہوتے ہیں ۔ اور بنا تحقیق کے ایک خبر گردش کرتی ہے اور پروپیگنڈا بن جاتی ہے ۔ حکومت نے روڈ صحیح نہیں بنائے ۔ بسوں میں سفر سے بہتر ہے بندہ سفر نہ کرے ۔ اور اس طرح کی کہیں پوسٹس اور پروپیگنڈا ۔

    اب ذرا حقائق کو اپنی بصارت سے پرکھیں ۔ کہ ہم کتنے ایسے پروپیگنڈوں کا شکار ہیں ۔ ہم کتنی بنا تحقیق خبریں پھیلا رہے ہیں ۔ اگر مجھے ایک بندہ بھی فالو کرتا ہے ۔ تو میں اسے گمراہ کر رہا ہوں ۔ اپنے دماغوں کو آنکھوں کے سامنے چھائی ہریالی کی قید سے آزاد کروائیں ۔ اور سوچیں ہم کتنوں کو گمراہ کر چکے ہیں ۔ اور کتنوں پروپیگنڈوں کو اپنے دست مبارک سے فروغ دے چکے ہیں ۔

    اگر یہ حقائق میں حلقہ احباب میں بیان کروں تو اکثر و بیشتر چور ہوں گے اور ان کی ڈارھی میں تنکا ہوگا ۔ تو خود کو اس گندگی کے چھینٹوں سے پاک رکھیں ۔ اور نیکی اور پوچھ پوچھ کو بھی تحقیق کی نذر کریں ۔ ہم ملوث ہیں کئی ایسے الف لیلیٰ کی کہانیوں سے مشابہت کرتی خبروں کو دنیا کے نذر کرنے میں ۔ اگر ہم تحقیق کرنا شروع کردیں ۔ اور معاشرے کی بی بی سی بننے پرہیز کریں ۔ تو کئی پروپیگنڈے سر اٹھانے سے قبل ہی زمین بوس ہو جائیں ۔ اور ہماری کاوشیں پروپیگنڈوں کو آئینے میں زبان چڑا رہی ہوں اور ہم انداز دھمکی میں اپنے اعصابی کمزوری کو بحال کر رہے ہوں ۔ اور معاشرے کی ترقی و بہبود میں اپنی حرکات پر قابو پاکر کلیدی کردار ادا کریں ۔ خود کو تحقیق کی عادت ڈالیں ۔ کیونکہ ہمیں آپ کی ضرورت ہے اور آپ کو ہماری اشد ضرورت ہے ۔ اور معاشرے کو ہماری ضرورت ہے ۔

    #قلمسخی #معاشرہزیر_تعمیر
    #SAKHI #PAKISTANI #SakhiWrites

  • کعبے کی رونق ،کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد  از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    کعبے کی رونق ،کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    کعبے کی رونق
    {کووڈ 19 کے سبب حج سے محروم رہ جانے والے حاجیوں کی فریاد}

    از قلم: عظمی ناصر (بنت ربانی)

    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے
    پھر اپنے گھر میں ہمیں تو بلا لے

    حاجیوں کے لئے کھول دے اپنے گھر کو
    سجدوں سے روشن کریں تیرے در کو

    توں حاجت روا ہے تو ہی مشکل کشا ہے
    دو عالم کا تو اکیلا ہی شہنشاہ ہے

    اس موذی مرض سے ہماری جاں تو چھڑا دے
    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    آہ،چھن گئیں کتنی نعمتیں ہم سے
    آہ،اٹھ گئیں کتنی برکتیں ہم سے

    نہ کعبے کی زیارت،نہ زم زم کا پینا
    حجر اسود کے بوسے سےگناہوں کا دھونا

    لے جا ہمیں وہاں اور سوئی قسمت جگا دے
    یا الہی،کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    غلاف کعبہ سے چمٹنے کو جی چاہتا ہے
    تیری بارگاہ میں غم ہلکانے کو جی چاہتا ہے

    کرے خوب حاجی عبادت اور نیکیاں کمالے
    الہی،کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

    ہم خطاکار ہیں،ہم گناہ گار ہیں
    مانا کہ بہت ہی سیاہ کار ہیں

    مگر تیرے نبی کے بھی پیروکار ہیں
    خدایا!تیری رحمت کے طلبگار ہیں

    اس عاصی کو مدینے کی گلیاں دکھا دے
    الہی! کعبے کی رونق ہمیں واپس لوٹا دے

  • راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ تحریر:جویریہ بتول

    راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ تحریر:جویریہ بتول

    راہِ علم کے مسافر،سائباں اور دودھ کا پیالہ…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    قبیلہ دوس میں پیدا ہونے والے ابو ہریرہ بکریاں چراتے اور تنگی میں گزر اوقات کرتے تھے،بلیوں سے محبّت کی وجہ ابو ہریرہ کہلائے،
    قبیلہ دوس کے شاعر طفیل دوسی اسلام کے ظہور کے بعد مکہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور اسلام قبول کر لیا۔
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے بھی جب یہ بات سنی تو وہ بھی بے تاب ہو گئے اور چاہا کہ کسی طرح رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں…
    مدینہ پہنچ کر 7ہجری میں تیس سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا اور صفہ کے تاریخ ساز اور عہد ساز چبوترے کے مکین بن گئے…کہ جن کے کردار پر تاریخ نازاں ہے اور پھر کبھی اس راہ سے جدا نہ ہوئے۔
    اصحابِ صفہ وہ لوگ تھے جو مسلمانوں کے مہمان تھے،
    ان کا گھر تھا نہ اسباب…
    مال و دولت تھی نہ دوست آشنا…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ کے پاس جو صدقہ کا مال آتا آپ وہ انہیں بھیج دیتے،
    کوئی تحفہ آتا تو خود بھی کھاتے،انہیں بھی کھلاتے…
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے کا شرف پایا جن کی تعداد 5375 ہے ،آپ نے جب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کم حافظے کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب بھ کوئی بات کروں تو تم اپنی چادر پھیلا دینا اور جب بات مکمل ہو جائے تو چادر اپنے گرد لپیٹ لینا…ابو ہریرہ کے بقول پھر کوئی حدیث وہ نہ بھولے…!!!
    ان کے پاس کمائی کا کوئی زریعہ نہیں تھا شدید فقر وفاقہ میں علم حاصل کیا…
    صحیح بخاری میں ہے کہ:
    ابو ہریرہ کہا کرتے تھے کہ قسم پروردگار کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں،
    میں بھوک کے مارے اپنا پیٹ زمین سے لگا دیتا تھا۔
    ایک دن ایسی ہی جگہ پر جہاں سے لوگ گزرتے ہیں لیٹا تھا کہ ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ گزرے میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت پوچھی،میری غرض یہ تھی کہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ میری بات سمجھ نہ سکے،
    پھر عمر رضی اللہ عنہ گزرے وہ بھی بات نہ سمجھ سکے…
    پھر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا گزر ہوا تو آپ میرا مدعا سمجھ گئے…مسکرا دیئےاور مجھے ساتھ چلنے کو کہا،
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اباہر…!!!
    میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ!
    میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے لگا…
    گھر پہنچ کر آپ اندر داخل ہوئے اور مجھے بھی داخلے کی اجازت دی…
    گھر والوں سے پوچھا گیا کہ کوئی چیز موجود ہے؟
    بتایا گیا کہ دودھ کا ایک پیالہ ہےجو آپ کے لیئے ہدیہ بھیجا گیا ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابا ہر…!!!
    جا سائبان(صفہ)والوں کو بلا لا…
    میں نے دل میں سوچا کہ ایک پیالہ دودھ اتنے لوگوں کو کیسے کفایت کرے گا؟
    اصحابِ صفہ کو بلایا گیا وہ آن کر بیٹھ گئے…
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ کو حکم دیا کہ سب کو دودھ پلاتے جاؤ…
    آپ پیالہ ایک ایک صحابی کو دیتے جاتے اور وہ سیر ہو کر پیتا جاتا اور پھر پیالہ واپس ابو ہریرہ کو پکڑا دیتا…
    جب سب لوگ جی بھر کر دودھ پی چکے تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے پیالہ ہاتھ میں لے کر ابو ہریرہ کو دیکھا اور مسکرائے…
    اور فرمایا:
    اقعد فاشرب…
    ابو ہریرہ بیٹھ جا اور دودھ پی لے…
    میں بیٹھ گیا اور دودھ پینے لگا…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے جاتے اور پی…
    میں پیتا رہا آپ پھر فرماتے:
    ابو ہریرہ اور پی لے…
    یہاں تک کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قسم اس پروردگار کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب میرے پیٹ میں جگہ نہیں رہی کہ اس دودھ کو اُتاروں…
    تب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اچھا ابو ہریرہ اب پیالہ مجھے دے دے…
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے شکر ادا کیا اور بسم اللہ پڑھ کر وہ بچا ہوا دودھ پی لیا…(صلی اللہ علیہ وسلم)۔
    وہ جو نبیوں میں رحمت لقب پانے والے…
    وہ جو اپنے پرائے کا غم کھانے والے…
    وہ جو مصیبت میں غیروں کے کام آنے والے…
    وہ جو ضعیفوں کے مددگار،یتیموں کے والی تھے…!!!
    زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ابو ہریرہ بھی ہمارے ساتھ تھے…سب نے اپنی دعا مانگی،
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ نے کہا:
    اے اللہ مجھے وہ بھی دے جو میرے ساتھیوں نے مانگا اور مجھے ایسا علم دے جو بھلایا نہ جا سکے…
    تو رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کہا آمین۔
    آپ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے اور احادیث جمع کرتے رہتے تھے۔
    آپ کے اس علم کے آگے ہر فن کی روشنی ماند ہے…
    ابو بکر صدیق اور عمر رضی اللّٰہ عنھما کے دور میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت نوازا مالی استحکام نصیب ہوا…
    لیکن یہ سچ ہے کہ بلندیوں پر جگمگانے کے لیئے خونِ جگر جلانا پڑتا ہے…
    راہ کی مشکلات اور کانٹے چننا پڑتے ہیں…
    سحر ہمیشہ گھپ اندھیرے سے پھوٹتی ہے…
    اور سچائی اور سیدھی راہیں قربانی مانگتی ہیں…
    بڑے منصب پر فائز ہونے کے لیئے شارٹ کٹ نہیں بلکہ جہدِ مسلسل اور تلخیوں کا سامنا لازم ہوتا ہے…
    آپ کی والدہ اسلام کی سخت دشمن تھیں آپ نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے روتے ہوئے دعا کی درخواست کی
    جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماں قبولِ اسلام کے لیئے بصد رضا تیار ہو گئیں…!!!
    (رضی اللہ عنہ)۔
    اللّٰہ ہمیں بھی حقیقی علم کی روشنی سے سینے منور کرنے اور اس روشنی کو ہر طرف پھیلانے اور ظلمتوں کو مٹانے کی توفیق نصیب فرمائے تاکہ انسانیت کا درد اور دفاع و احترام ہمارے معاشرے کی پہچان بن جائے،ہمدردی و غمگساری کے جذبات ہمارا شعار ہوں آمین ثم آمین۔
    =============================
    (جویریات ادبیات)۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ماضی کی چند بڑی مساجد جنہیں چرچوں اور مندروں میں تبدیل کر دیا گیا

    ماضی کی چند بڑی مساجد جنہیں چرچوں اور مندروں میں تبدیل کر دیا گیا

    دس جولائی کو ترکی کی سب سے اعلیٰ انتظامی عدالت کونسل آف اسٹیٹ نے چھٹی صدی میں تعمیر کی گئی عمارت آیا صوفیہ کو سلطان محمد فاتح فاؤنڈیشن کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے1934 کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اسے مسجد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

    باغی ٹی وی : تُرک صدر طیب اردگان کے آیا صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے پر روسی اہلکاروں اور کلیساؤں کے وفاق نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ استنبول میں واقع پرانے گرجا گھر اور یونیسکو کی جانب سے تاریخی ورثہ قرار دیے جانے والی عمارت آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے سے متعلق احتیاط برتے۔

    تُرک صدر کے صوفیا کو مسجد بنانے کے خلاف سب اکٹھے ہوگئے ، اس وقت جب آیا صوفیا کو مسجد بنانے کے خلاف عیسائی دنیا کی طرف سے سخت ردعمل آرہا ہے وہاں کچھ اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں-

    سوشل میڈیا پر آیآ صوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے کے خلاف آوازیں اٹھائی گئیں لیکن جب ماضی میں بڑی مسجد کو گرجا گھروں اور چرچوں میں تبدیل کیا گیا تو نہ تو کسی نے اس کے خلاف ایکشن لیا اور نہ ہی آواز بُلند کی-

    ماضی کی چند مساجد درج زیل ہیں جنہیں چرچوں اور گرجا گھروں میں تبدیل کر دیا گیا تھا-

    1:مسجد امیہ ، اموی مسجد (عربی: الجامع الأموي) دمشق کی عظیم مسجد کے نام سے بھی جانی جاتی ہے جو دمشق کے پرانے شہر میں واقع ہے ، دنیا کی سب سے بڑی اور قدیم مساجد میں سے ایک ہے

    اس مسجد کو چوتھی صدی کے آخرمیں 391 میں ، عیسائی شہنشاہ تھیوڈوسیس اول ( 379–395) نے گرجا کیتھڈرل میں تبدیل کیا گیا۔

    2:کرڈوبا کی مسجد ہسپانوی علاقے اندلس میں واقع ہے اسلامی عبادت گاہ کے طور پر اس کی حیثیت کی بناء پر ، یہ قرطبہ کی عظیم مسجد میزکیٹا کے نام سے بھی جانی جاتی ہے – اس ڈھانچے کو یورپی ماؤس کے ذریعہ تعمیر کردہ مورش فن تعمیر کی سب سے کامیاب یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔


    مسجد کرڈوبا کوبازیافت کے دوران 1236 میں عیسائی حکمران نے دوبارہ کیتھولک چرچ میں تبدیل کردیا گیا ، جس کا اختتام سولہویں صدی میں رینینسنس گرجا گھر سے ہوا۔

    3: سپین میں موجود گرجا گھر کسی زمانے میں مسجد کے زیر قبضہ تھا۔ جین مسجد کے کھنڈرات کے اوپر 1249 میں کیتھڈرل چرچ کی تعمیر کا آغاز ہوا۔



    یہ گرجا گھر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ سائٹس کی عارضی فہرست میں ہے۔

    4: ماضی میں ایک اور تاریخی مسجد سیویلا کو کیتھڈرل چرچ میں تبدیل کر دیا گیا تھا-سینٹ مریم آف دی دی کیتھیڈرل جسے سیویلا کیتیڈرل کے نام سے جانا جاتا ہے ، سپین کے شہر ، اندلس میں ایک رومن کیتھولک گرجا ہے۔

    اسے 1987 میں یونیسکو نے ملحقہ الیزار محل کمپلیکس اور انڈیز کے جنرل آرکائیو کے ساتھ مل کر عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر رجسٹر کیا تھا۔ یعنی بشپ کا کلیسیائی دائرہ اختیار ہے۔ یہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا چرچ ہے (اس کا سائز اب بھی بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے) نیز گوتھک کا سب سے بڑا چرچ ہے۔

    5: اسپین میں ایک اور مسجد مرسیا کو سینٹ میری کا کیتھیڈرل چرچ میں تبدیل کر دیا گیا تھا-

    مسیحی بادشاہ جیم اول فاتح نے 1264–66 کے مد جار بغاوت کے دوران یہ شہر فتح کیا۔ اس شہر کے مسلمانوں کے ساتھ ایک موجودہ معاہدے کے باوجود اس نے مساجد کو تباہ کر دیا تھا ، جیم اول نے عظیم مسجد یا الجامعہ کو ورجن مریم کے لئے مخصوص کرنے کے لئے لیا۔ کسی بھی بستی کو فتح کرنے پر اس نے اپنی مرضی کا رواج قائم کیا۔ تاہم ، یہ چودہویں صدی تک گرجا گھر کی تعمیر کا کام شروع ہوا۔ 1385 میں بنیادوں پر کام شروع ہوا اور 1388 میں پہلا پتھر رکھا گیا۔ مزید چھ سال گزر گئے جب تک کہ تعمیرات کا سلسلہ رُکا رہا گرجا گھر اکتوبر 1467 میں ختم ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، 18 ویں صدی تک گرجا گھر کا ارتقا جاری رہا-

    6:ٌ بوسینیا میں سلطان سلیمان کی مسجد کی جگہ سینٹ مریم چرچ بنایا گیا یہ بوسنیا اور ہرزیگوینا کی قومی یادگار ہے۔ عمارتیں قلعے کے دامن میں ، شہر جازے کے تاریخی مرکز میں واقع ہیں۔

    1459 میں عثمانیوں سے سربیا کے ہار جانے کے بعد ، کنگ تھامس کا بیٹا اسٹیفن اپنی بیوی ماریہ اور اپنے کنبہ کے ساتھ بوسنیا واپس آیا۔ ماریہ لیوک ایوینجلسٹ کو ساتھ لے کر آئیں ، اور ایک گھنٹی ٹاور چرچ کے قریب کھڑا کیا گیا تھا۔ 17 نومبر 1461 کو ، چرچ نے بادشاہ اسٹیفن کی تاجپوشی کی جگہ کا کام کیا۔ یہ بوسنیا میں آخری تاجپوشی تھی بوسنیا پر عثمانی فتح صدیوں سے جاری عثمانی حکومت کے آغاز سے دو سال بعد ہوئی۔ اس عمل میں شاہ اسٹیفن کو پھانسی دے دی گئی ، جبکہ ملکہ ماریہ بچوں کو لیکر جمہوریہ وینس کو واپس چلی گئیں-

    1582 میں ، سینٹ میری چرچ کو ایک مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کا نام عثمانی سلطان سلیمان کے نام سے موسوم تھا۔ عمارت متعدد مواقع پر جل گئی۔ سب سے زیادہ تباہ کن آگ 1658 میں لگی۔ آخری آگ ، 1832 میں ، دیواروں کے سوا کچھ نہیں بچا تھا ، اور اس وقت سے اس عمارت کا استعمال نہیں ہوا ہے۔

    7: پرتگال میں مارٹولا کی جامع مسجد جو بعد میں نوسا سینہورا دا کے چرچ میں تبدیل کردی گئی تھی .

    8: آٹھویں صدی میں مورش کے حملوں کے وقت تک ، لولی ایک متحرک تجارتی مرکز تھا ، اور اس نے ماؤس کے نیچے ترقی کی منازل طے کیا۔ .

    مذاہب شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی افراد تھے ، اور انہوں نے ایک مسجد بنائی ، جسے بعد میں پرتگال نے کیتھولک مذہب میں تبدیل ہونے پر ایگریجا ڈی ساؤ کلیمنٹے چرچ میں تبدیل کردیا۔

    9: تاویرا ایک پرتگالی شہر اور میونسپلٹی ہے ، کوسٹا ڈو ایکنٹیلاڈو کے دارالحکومت میں واقع ہے با لسا ایک بڑا شہر بن گیا ، حقیقت میں یہ تاویرا سے بہت بڑا تھا قیصر کے زمانے میں ، رومیوں نے ایک نئی بندرگاہ بنائی ، تاویرا سے 7 کلومیٹر (4 میل) دور ، جس کا نام بلسا تھا۔ بالسا ایک بڑا شہر بن گیا ، حقیقت میں یہ تاویرا سے بہت بڑا تھا ، جو رومی سلطنت کے متوازی طور پر ترقی ، خوشحالی اور زوال پذیر تھا۔ جب موریس نے آبیریہ کو فتح کیا تو ، آٹھویں صدی میں ، بالسا پہلے ہی بستی کے طور پر ناپید ہوگیا تھا۔

    پڑوسی ملک اسپین کے برعکس جہاں ان مساجد اور مذہبی ڈھانچے کی ایک قابل ذکر تعداد ابھی بھی کھڑی ہے ، وہ پورے ملک میں کم و بیش بکھر رہی ہے۔ پرتگال میں کوئی غیر ترمیم شدہ قدیم مسجد نہیں ہے ، جس کی سب سے بہترین محفوظ مثال مورٹولا کی نظر ثانی شدہ سابقہ ​​مسجد (12 ویں صدی میں سانتا ماریا کے گرجا گھر کاسٹیلو ، چرچ میں تبدیل ہوگئی) اور ملک کے جنوب میں کچھ اور ڈھانچے ہیں-

    10: تیرہویں صدی میں بنائی گئی اسرائیل تاریخی مسجد الاحمر کو نائٹ کلب، بار اور ایونٹس ہال میں تبدیل کر دیا گیا تھا-

    11: 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کا انہدام ایودھیا تنازعہ کے سلسلے میں وشوا ہندو پریشاد اور اس سے وابستہ تنظیموں کے کارکنوں کے ایک بڑے گروپ نے غیر قانونی طور پر کیا تھا۔ اترپردیش کے شہر ایودھیا میں 16 ویں صدی کی بابری مسجد کو ہندو قوم پرست تنظیموں کے ذریعہ منعقدہ ایک سیاسی ریلی کے پرتشدد واقع ہونے کے بعد نشانہ بنایا گیا۔

    ہندوؤں کی روایت میں ، ایودھیا شہر رام کی جائے پیدائش ہے۔ سولہویں صدی میں ایک مغل جرنیل ، میر باقی نے ایک ایسی مسجد تعمیر کی تھی ، جسے بابری مسجد کے نام سے جانا جاتا تھا ، جس کی شناخت کچھ ہندوؤں نے رام جنم بھومی ، یا رام کی جائے پیدائش کے نام سے کی تھی۔ ہندوستان کے آثار قدیمہ کے سروے میں کہا گیا ہے کہ یہ مسجد ایسی سرزمین پر تعمیر کی گئی تھی جہاں پہلے غیر اسلامی ڈھانچہ موجود تھا۔ 1980 کی دہائی میں ، وشوا ہندو پریشاد (وی ایچ پی) نے اس جگہ پر رام کے لئے وقف کردہ ایک ہیکل کی تعمیر کے لئے ایک مہم کا آغاز کیا ، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اس کی سیاسی آواز بنایا گیا تھا۔ اس تحریک کے ایک حصے کے طور پر متعدد ریلیاں اور مارچ ہوئے ، جن میں ایل کے اڈوانی کی سربراہی میں رام رتھ یاترا بھی شامل ہے۔

    12: بیوزڈ ورجن مریم کا ڈاون ٹاؤن کینڈلماس چرچ جو پہلے پاشا قاسم کی مسجد کے نام سے جانا جاتا تھا رومی کیتھک میں ایک رومی چرچ ہے۔ ہنگری ، جو عثمانی فتح کی وجہ سے 16۔17 ویں صدی میں ایک مسجد تھی۔ یہ شہر کی علامتوں میں سے ایک ہے ، جو مرکزی چوک (شہرچینی چوک) پر شہر کے وسط میں واقع ہے کو پاشا قاسم وکٹوریئس نے 1543 اور 1546 کے درمیان تعمیر کیا تھا۔

    ہیبس ہنگری کی فوج نے شہر پر قبضہ کرنے کے بعد ، 1702 میں ، مسجد کو چرچ میں تبدیل کردیا گیا تھا ہنگری میں عثمانی تعمیراتی کاموں میں سے ایک بڑی تعمیر ، مینار 1766 میں جیسوئٹ کے ذریعہ تباہ کردی گئی تھی ، اس عمارت میں اب بھی ترکی کی متعدد تعمیراتی خصوصیات برقرار ہیں-

    13: مسجد کا مینار کالے گرینائٹ سے بننے کے بعد اس مسجد کو اپنا زیادہ مشہور نام ، بلیک مسجد موصول ہوا۔ یہ مینار 19 ویں صدی میں ایک زلزلے کے دوران منہدم ہوگئی اور عثمانیوں نے 1878 میں بلغاریہ کی آزادی کے بعد فوجی گودام اور جیل کے طور پر استعمال ہونے کے بعد اس مسجد کو ترک کردیا تھا۔

    سویتی سیڈموچیسلنیتسی چرچ بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں واقع ایک بلغاریائی آرتھوڈوکس چرچ ہے۔ یہ 1901 سے 1902 کے درمیان ایک ترک شدہ عثمانی مسجد کی جگہ بنایاگیا تھا اور اس کا افتتاح 27 جولائی 1903 کو ہوا تھا۔ چرچ کا نام سیریل اور میتھوڈیس اور ان کے پانچ شاگردوں کے نام پر رکھا گیا ہے ، جو آرتھوڈوکس چرچ میں اجتماعی طور پر سیڈموچیسلنیتسی کے نام سے مشہور ہیں۔

    14: سینٹ نیکولوس کے چرچ کی عمارت 16 ویں صدی کے وسط میں ابراہیم پاشا مسجد کی جگہ تعمیر کی گئی تھی-

    15 : پاکستان بننے کے بعد جب مسلمان پاکستان ہجرت کر گئے تو ہریانہ میں موجود ہندوؤں نے 19 ویں صدی میں بنائی گئی جمعہ مسجد کی جگہ میں درگاہ مندر تعمیر کیا گیا-

    16:حصار میں ایک بار بڑی تعداد میں مسلمان آبادی تھی اس شہر میں متعدد اسلامی یادگاریں آباد ہیں جن میں سے کچھ قدیم تاریخیں فیروز شاہ تغلق (1351 سے 1388 ء) کی حکمرانی کی تھیں۔ جیسا کہ سنتوں کے مقبروں کا رواج ہے ، ان کی قبروں کے ساتھ ہی مساجد بھی تعمیر کی گئیں۔

    دانا شیر مسجد اس سے مختلف نہیں ہے کیونکہ یہ دانا شیر بہلول شاہ کے مقبرے کے ساتھ ہی تعمیر کی گئی تھی۔برصغیر کی تقسیم کے بعد اس مسجد کی جگہ بھی مندر بنا دیا گیا تھا-

    17: علاؤالدین خلجی کے بیٹے قطب الدین مبارک خلجی نے دولت آباد کے شاہی قلعے میں 14 ویں صدی کے اوائل میں ایک وسیع مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ اس کی سلطنت جنوب کی طرف بڑھتی گئی۔ یہ سائز میں اتنا بڑا تھا کہ یہ ایک بار خلجی سلطنت کی وسیع سلطنت کے دائروں میں واقع سب سے بڑی مساجد میں سے ایک تھی۔

    اس مسجد کی تعمیر کے بعد صدیوں تک اس کا استعمال جاری ہے۔ اس کے بارے میں ابھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ، لیکن مسجد کے محراب (نماز طاق) میں ایک بت نصب کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مقامی لوگوں نے وہاں پوجا شروع کی اور عظیم الشان مسجد کو ہندوستان ماتا مندر کہا جانے لگا۔

    18: ضلع گروگرام کے فرخ نگر قصبے کی بنیاد مغل گورنر فوجدار خان نے 1732 ء میں رکھی تھی۔ اس کا نام مغل بادشاہ فرخ سیار کے نام پر رکھا گیا تھا۔ قصبے کی بانی کے فورا. بعد ، فوجدار خان کو فرخ نگر کا نواب قرار دیا گیا اور شہر کی حدود میں اس کے ڈھانچے لگنے لگے۔

    ان ڈھانچوں میں سے ایک جامع مسجد تھی۔ یہ شہر کی مرکزی جمعہ مسجد تھی جہاں تمام مسلمان باشندے جمع ہوتے اور جمعہ کی نماز پڑھتے تھے۔ مورخ رانا صفوی لکھتے ہیں کہ پاکستان سے مہاجرین کی آمد کے بعد اس مسجد کو ایک ہیکل اور گرودوارہ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ مسجد کے میناروں میں سے ایک مینار آج بھی خراب حالت میں اونچی کھڑی ہے –

  • بھاری ٹیکسز کے باوجود موٹر وے پر ڈکیتی کی وارداتیں   تحریر : شکیل  اعوان

    بھاری ٹیکسز کے باوجود موٹر وے پر ڈکیتی کی وارداتیں تحریر : شکیل اعوان

    لاہور اسلام آباد موٹروے کے درمیان سفر کرنے والے احباب یقینا بھیرہ سروس ایریا سے واقف ہوں گے مسلسل اور کبھی کبھار تفریحی سفر کرنے والے اس مقام پر رکتے ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہاں پر کئی بڑی فوڈ چینز کا ہونا ہے چاہے آپ ضورت سے نکلے ہوں یا تفریح کی غرض سے بھوک لگے تو کوشش کرتے ہیں کہ بجائے دوسرے ریسٹ ایریازکے بھیرہ کو ترجیح دی جائے…میں خود مسلسل سفر میں رہتا ہوں…

    تین سال قبل فیملی کے ساتھ رات میں جانب لاہور گامزن تھا کے سب کی طرح ریفرشمنٹ لینے اور فریش ہونے کیلیے گاڑی مکڈونلڈ کے سامنے پارک کی اور سب اندر چلے گے…فارغ ہو کے جب باھر آے تو مجھے محسوس ہوا کے کار کے گرد موجود صفائی والے ایک کے بجاے تین موجود ہیں اور کن انکھیوں سے مجھے دیکھ رہے ہیں… ( میرے محسوسات ذرا کچھ زیادہ تیز ہیں)… بہرحال گاڑی میں بیٹھ کے اندازہ ہوا کہ گاڑی ڈس بیلنس ہے باہر نکل کے پیچھے کی جانب نظر دوڑائی تو ٹائر بالکل فلیٹ نظر آیا جو کہ گاڑی پارک کرتے ہیں بالکل صحیح حالت میں تھا …

    لیکن شومئی قسمت میں پانا بھول آیا تھا یا کسی میکینک نے صفائی سے نکال لیا تھا میں نے قریب ہی موجود وورکشاپ کی جانب بچے کو دوڑایا اور کہا کہ پنکچر والے کو بلا کے لے آے وہیل پانے کے ساتھ میرے پاس باقی سامان موجود ہے اس نے آکے کھولا اور ٹائرتبدیل کیا..میں نے سوچا کہ پکچر بھی احتیاطا یہیں سے لگا لیتے ہیں ہیں بہرحال قریبی موجود ورکشاپ پہ گیا اورٹائر بدلوایا اس دوران مجھے ٹائر بدلتے ہوئے موصوف نے کہا ذرا اسٹیئرنگ دوسری سائیڈ گھما لیں میں اگلے ٹائر میں ہوا چیک کر لوں ..میں نجانے کیوں نہ چاہتے ہوے بھی اسٹیئرنگ سائیڈ پے گیا اور گہمایا اس دوران واپس پلٹ کر گیا ہے تو موصوف نے کہا کہ آپکا یہ ٹائر بھی پنکچر ہے اور اس میں سے ہوا خارج ہو رہی ہے …یہ بتانا بھول گیا کہ اس پہلے جب پنکچر ٹائرکو چیک کیا تو اس میں پنکچر پلایی سائیڈ وال سے تھا جو کہ نۓ ٹائر میں کیا پرانے میں بھی کبھی کبھی ہوتا ہے…ورکشاپ والے نے کہا دوسرا ٹائر بھی سائیڈ وال سے پنکچر ہے…اور دونو ٹائر آپکے بیکارہوچکے ہیں جب میں نے جاننا چاہا کہ پرانے ٹائر دستیاب ہیں تو اس نے کہا کے نہیں چائنا کے ٹائرملیں گے دوسری سائیڈ پے موجود ورکشاپ پے اور وہ بھی آٹھ ہزار کا ایک.

    اس دوران مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے…میں شدید غصے سے اسے دو چار سنائی اور گاڑی میں بیٹھ کر جانے لگا تو…اس نے پیچھے سے انتہائی ڈھٹائی سے آواز ماری کے اس ٹائر کے ساتھ آپ 15 کلومیٹر سے زیادہ نہیں جا سکتے….میرا ایک ٹائر پہلے ہی بیکار ہو چکا تھا سٹیپنی لگ چکی تھی اور اگلے ٹائر کی پلائی میں بھی سوئی مار کر وہ تقریبا ہوا نکال چکا تھا جو کہ ہلکے ہلکے خارج ہو رہی تھی …میں واپس موٹروے پہ چل پڑا اگلا انٹرچینج پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا تھوڑی دور جا کر مجھے موٹروے پولیس دکھی میں نے جا کر جب شکایت کی تو انہوں نے محض خانہ پری کرنے کے لیے کچھ ڈیٹیل لی اور مجھے کہا کہ سروس ایریا ہماری عملداری میں نہیں آتا ….مور کمپنی کے پاس ٹھیکے پر موجود ہے آپ ان سے شکایت کریں یہ سب وینڈرز انہی کے بھرتی کیے ہوئے ہیں…میرے بہت تلملاتے ہوئے سوال پر کے اگر ریسٹ ایریا پر میرے ساتھ کوئی جعلسازی ہوتی ہے تو وہ پولیس کیس ہے یا اس کے لئے مور کمپنی کے آفس جاؤنگا؟؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا..اگلے انٹرچینج تک پہنچتے ہوئے میرا ٹائر بالکل فلیٹ ہو چکا تھا خوش قسمتی کہ انٹر ہوتے ہی پنکچر والے بیٹھے تھے جن میں سے ایک پنکچر والے سے میں نے نے پرانے دوٹائر چار چار ہزار روپے کے لئے جو کہ شاید نارمل حالات میں سات آٹھ سو کے مل جاتے…(اور جو دونو ٹائر میرے خراب ہوے تھے وہ بھی بلکل نۓ تہے) مجھے اس کا بھی اس نے احسان جتایا اور پورا واقعہ سن کر کہا کہ آپ اکیلے نہیں ہیں بہت سے لوگوں کے ساتھ یہ یہی کرتے ہیں…

    لاہور جاتے ہوئے میں نے کسی طرح سے علاقے کے کرنل صاحب کا نمبر لیا جو اس ایریا کو کور کرتے تھے قسمت اچھی تھی کہ انہوں نے پہلی ٹرائی پر ہی فون اٹھا لیا اور پوری بات سن کر کہا ایک میجر صاحب آپ کو فون کریں گے انہونے نے کہا کچھ واقعات پہلے بھی ایسے میرے علم میں آے ہیں ہم اس کو سنجیدگی سے دیکھیں گے..دس منٹ کے اندر ہی مجھے میجر صاحب کی کال موصول ہوئی اور پوچھا کے ” آپ اس وقت کہاں ہے میں نے کہا لاہور کے قریب ہوں تو انہونے کہا کہ جس وقت بھی آپ کی جس دن واپسی ہو مجھے کال کر لیجئے گا میں فورا بھیرہ پہنچ جاؤں گا”…. میری رہائش قریب ہی ہے….لاہور پہنچ کر اگلے دن ٹائر شاپس گیا تو وہاں بھی جعلسازی عروج پر تھی کہ پرانے ٹائر پرنئی تاریخ ثبت کر کے بیچے جا رہے تھے ایک شاپ والے صاحب کو خود پر بیتی سنائی تو چھٹتے ہی انہوں نے کہا کیا آپ کے ساتھ یہ واقعہ بھیرہ پر پیش آیا تھا کیا ؟؟ مرے اثبات پر کہا ” میرے پاس تین ایسے لوگ اور آے تھے وہ بھی فمیلی کے ساتھ سفرکر رہے تھے ..سب کچھ ایسا ہی بھیرہ پر ہوا تھا انکے ساتھ بھی ”….

    ایک دن کے بعد واپسی کے سفر میں میں نے بھیرہ کے قریب پہنچ کر میجر صاحب کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں آنے کی لیکن آج میری چھٹی ہے تو میں گھر پر ہی موجود ہوں آپ انتظار کر لیجئے میرا اگر ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ سکتے ہیں جو کہ شاید انہیں بھی معلوم تھا کہ میں فیملی کے ساتھ ہوں اور ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ نہیں رکھوں پہلا سٹیٹمنٹ انکا یہ تھا کہ جب کہیں گے پندرہ منٹ میں آجاؤں گا …بہرحال ان سے معذرت کی اور آگے روانہ ہو گیا…واپسی کے سفر کے دوران ہیں میں نے کوشش کی کہ مور کمپنی کے آفس چلا جاؤں جو کہ شاید سیال سروس ایریا کے ساتھ ہے وہاں جا کے پتہ چلا کہ وہاں صرف ایک کلرک نما لڑکا بیٹھا ہے جو کہ مکمل طور پر ڈھٹای کے ساتھ سب کچھ سن کر بھی کچھ نہیں سنتا اور کچھ نہیں کہتا…

    یہاں سے مایوسی کے بعد میں آگے روانہ ہوا اور راستے میں آئی جی موٹروے آفس کا نمبر ڈائل کیا ایک صاحب نے وہاں سے فون پر ارشاد کیا کہ آپ اسلام آباد میں ہمارے آفس تشریف لے آئیے اور اپنی شکایت پورے طریقے کے ساتھ درج کرائیے آن لائن شکایت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے…یاد رہے کہ کمپلینٹ آن لائن نمبر پر میں پہلے ہی کر چکا تھا لیکن انہوں نے بھی مجھے مکمل طور پر ٹرخا دیا تھا کہ دیکھتے ہیں…اسلام آباد واپس پہنچ کر میں اپنے پرانے لگائے گئے دونوں ٹائر تبدیل کرانے جب اپنے ٹائر وینڈر کے پاس گیا جس کا کافی بڑا شوروم ہے اور میرا اچھا دوست بھی تھا اس نے پوری سٹوری سن کر کر کہا کہ اس طرح ہمارے دو اور کسٹمر کے ساتھ بھی ہوا ہے جو چند ماہ پہلے ہمارے پاس آئے تھے…اس کے علاوہ جو بھی دوڑ دھوپ تھی لیکن نتیجہ صفر ہی تھا کہ کوئی بات سننے کو تیار ہوتا تو ”دیکھتے ہیں کہہ کرکے آگے بڑھ جاتا تھا ”اندازہ تھا کہ یہاں کچھ بھی نہیں ہو سکتا بہرحال چار ماہ کے بعد تقریبا ایک دوست نے دنیا نیوز کی خبر کی ویڈیو ریکارڈ کر کے بھیجی کہ بھیرہ سے لوگوں کے ساتھ فراڈ کرنے والے میکینکس کو اریسٹ کر لیا گیا اور ورک شاپ بند کر دی گئی… کچھ اطمینان ہوا کہ چلو دیر سے سہی کچھ تو ایکشن ہوا….

    بہر حال اس کے بعد سے عادت بنالی کہ سفر میں خصوصا موٹروے پر گاڑی کو تنہا نہیں چھوڑنا کوئی نہ کوئی ایک اس کے ساتھ رہے گا…اتنے برس بعد اس تفصیل کو دوستوں کے ساتھ شئیر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج پھر وہی واقعہ ”مورخہ چھبیس جولائی دو ہزار بیس کو” میرے دوست کے ساتھ کراچی سے آتے ہوئے بھیرہ پرہوا..ویسے ہی پلائی سائیڈ وال پر پنکچر جسکی کے انکو گاڑی صاف کرنے والا واش روم سے واپسی پر خبر دیتا ہے..اور پھر ایک ٹائر انکو آٹھ ہزارمیں فروخت کردیا جاتا ہے…(کمبختو نے تین سال سے ٹائر کا ریٹ نہیں بدلہ کمال ہے ) یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ موٹروے کے بھاری اخراجات کی ادائیگی کرنے کے باوجود بھی ہم اس لٹیرے پن کا شکار رہتے ہیں اور وارداتیں ہمارے ساتھ ڈالی جاتی رہتی ہیں…کوئی حکومت آئے جائے لیکن ان فراڈیوں کو کوئی قابو نہیں کر سکتا بڑی مافیا ز تو بہت دور کی بات ہیں…ایک اور وجہ بھی یہ ہے اس تفصیل کو ا حباب کے ساتھ شئیر کرنے کی کہ جو بھی دوست موٹروے پر متواتر سفر کرتے ہیں وہ محتاط رہیں. کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ان لوگوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا کچھ وقفے کے بعد یہ دوبارہ ایکٹو ہو جائیں گے اس کام میں ان کے ساتھ تقریبا سبھی لوگ شامل ہیں.

    میرے اندازے کے مطابق یہ وارداتیں صرف انہی لوگوں کے ساتھ ہوتی ہیں جو کہ فیملی کے ساتھ ہوتے ہیں اور مڈ یوکر فیملی سے تعلق رکھتے ہیں… جہاں تین چار لڑکے ہوں یا مہنگی گاڑی والوں کے ساتھ یہ واقعات نہیں ہوتے..سروس ایریا کی صفائی کا کام کرنے والے ان کا ہر اول دستہ ہیں جو کہ کمال خوبی کے ساتھ باریک سوئی سے ٹائر کے سائیڈ وال میں سے ہوا نکال دیتے ہیں…اور یہی اپنے شکار کا انتخاب کرتے ہیں اس کے بعد باقی کام ورکشاپ والے میکینک کا ہوتا ہے…ان کو پکڑنا بالکل بھی ناممکن نہیں ہے جس جگہ آپ نے گاڑی پارک کی تھی وہاں پر لازمی سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوتے ہیں میں نے مکڈونلڈ کے مینیجر کو بھی خبردار کیا تھا کہ تمہاری پارکنگ میں یہ کارروائی ہو رہی ہے اس کے علاوہ کوئی بھی چاہے تو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ان کو پکڑ سکتا ہے لیکن کون پکڑے ہر وہ بندہ جو سفر میں ہوتا ہے اسے اپنی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے اور اس کا یہ لوگ سب مل کر فائدہ اٹھاتے ہیں.

  • ‏وجدان کلچرل نائٹ جس میں عارف لوہار کے تینوں بیٹوں نے پہلی بار پرفارم کیا اور کمال کر دیا

    ‏وجدان کلچرل نائٹ جس میں عارف لوہار کے تینوں بیٹوں نے پہلی بار پرفارم کیا اور کمال کر دیا

    عارف لوہا ر کے بیٹوں نے پہلی مرتبہ پرفارمنس دے کر سب کو حیران کر دیا-

    باغی ٹی وی : عارف لوہار کے بیٹوں محمد عامر لوہار ،محمد ارشد عامر لوہار ،محمد آفرین علی لوہار نے وجدان کلچر کلب میں اپنی اعلی پرفارمنس سے سب کو حیران کردیا-

    عارف لاہور کے تینوں بیٹوں نے کالے کلر کے سفید کڑھائی والے خوبصورت کُرتے اور دھوتی پہن رکھی ہے اور ،ست بسماللہ جی آیاں نوں، گاناگانے کے ساتھ ساتھ بھنگڑا بھی ڈال رہے ہیں جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے عالم لوہار نے والد عارف لوہار کی طرح چمٹا بجا کر ناچتے ہوئے پرفامنس دی-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر ڈاکٹر صغری صدف نے لکھا کہ وجدان کلچرل نائٹ جس میں عارف لوہار کے تینوں بیٹوں نے پہلی بار پرفارم کیا اور کمال کر دیا۔سب سے چھوٹے بیٹے کا نام عالم لوہار ہے اور اس کی شکل بھی اپنے دادا سے ملتی ہے ۔عارف لوہار کے بیٹےاپنی ثقافت اور قدروں سے گہری جڑت رکھتے ہیں-

  • ملتان منڈی میں جوس بیچنے والا حذیفہ خاندان کا واحد کفیل میٹرک میں ٹاپ کر گیا

    ملتان منڈی میں جوس بیچنے والا حذیفہ خاندان کا واحد کفیل میٹرک میں ٹاپ کر گیا

    ملتان منڈی میں جوس بیچنے والا خاندان کا واحد کفیل حذیفہ میٹرک میں ٹاپ کر گیا-

    باغی ٹی وی : ملتان کا حذیفہ جو پباپ کا سایہ سر سے چھن جانے کے بعد پانچ بہن بھائیوں پر مشتمل خاندان کا کفیل ہے ملتان منڈی میں جوس بیچ کر گھر کے اخراجات پورے کرتا ہے اور ساتھ ہی حذیفہ نے پڑھائی بھی جاری رکھی ہو ئی ہے-

    اگر انسان کی لگن سچی ہو کسی چیز کا شوق ہو، نیت صاف ہو اور محنت کرے تو اللہ بھی انسان کا ساتھ دیتا ہے کیونکہ محنت میں ہی عظمت ہے اور ہمیشہ اچھی نیت کو اور صبر کرنے والوں کو ہی اچھا پھل ملتا ہے-

    ایسے ہی حذیفہ کو بھی اسکی سچی لگن ،حوصلے،شوق اور محنت اور صبر کا اللہ نے انعام دیا اور مزدوری کرنے والا بچہ میٹرک میں ٹاپر بن گیا-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر حسن سید نامی صارف نے میٹرک میں ٹاپ کرنے والے غریب بچے کی فوٹو شئیر کی جس میں بچے نے جوس کا گلاس ہاتھ میں پکڑ رکھا ہے اور اپنی کامیابی پر مُسکرا رہا ہے-


    ٹویٹڑ صارف نے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ دنیا کی سب سے پیاری مسکراہٹ ،محمد حذیفہ نے میٹرک بورڈ ملتان سے 1050 نمبر کے امتیازی پوزیشن حاصل کی حذیفہ شربتِ والی ریڑھی پر ملازم ہے یہ امید ہے یہ محنت پر یقین ہے ، یہ بہار کی آمد کا اعلان ہے

    ٹویٹر صارف کے اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین بھی حذیفہنکی کامیابی پر خوش ہوتے ہوئے اس کی تعریف کر رہے ہیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں-

    دوسری جانب پی ٹی آئی کارکن عون عباس بپی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ پاکستان بیت المال نے شفقت پدری سے محروم پانچ بہن بھائیوں کے واحد کفیل ملتان کے رہائشی محمد حذیفہ سے رابطہ کیا ہے انشاءاللہ پاکستان بیت المال کی جانب سے محمد حذیفہ کے تعلیمی اخراجات کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو فوری مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی-

    علاوہ ازیں پاکستان بیت المال کے ٹویٹر ہینڈلر سے ایک ٹویٹ کی گیا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان بیت المال کی ٹیم نے کچھ دیر قبل حذیفہ سے ملاقات کی -پاکستان بیت المال کی جانب سے محمد حذیفہ کو تعلیم حاصل کرنے میں معاونت کے ساتھ فوری طور پر مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی

  • کراچی بارش کے بہتے پانی میں تیرتے جوتے پر چوہے کی پناہ لی ہوئی ویڈیو وائرل

    کراچی بارش کے بہتے پانی میں تیرتے جوتے پر چوہے کی پناہ لی ہوئی ویڈیو وائرل

    سوشل میڈیا پر ایک پرانی ویڈیو وائرل ہو رہی جس میں بارش کے بہتے پانی میں تیرتے جوتے پر چوہے کی پناہ لی ہوئی ہے چوہے کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر صارفین کی دلچسپی کا باعث بنی ہو ئی ہے-

    باغی ٹی وی : شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشوں کی وجہ سے کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا جبکہ بعض علاقوں میں تو بارش کی وجہ سے نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ گئے-

    عید الاضحیٰ کے لئے سپر ہائی وے لگائی گئی مویشی منڈی بھی بہہ گئی تھی لیاقت آباد گجر نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ نے سے مکینوں کی مشکلات بڑھ گئیں تھیں –

    بارش کی وجہ سے جہاں لوگوں کی مشکلات بڑھیں وہیں جانور اور کیڑے مکوڑے بھی اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے اور بارش کے پانی میں بہہ گئے-

    لوگ ان بارشوں کی وجہ سے جہاں سوشل میڈیا پر پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں کچھ دلچسپ پوسٹس بھی شئیر کر رہے ہیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک صارف نے ایک پرانی رواں ماہ کے پہلے مہینے 12 جنوری کی ویڈیو کراچی میں بارشوں کے لحاظ سے دوبارہ شئیر کی جس میں بارش کے پانی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے چوہے نے بارش کے پانی پر تیرتے ہوئے جوتے پر پناہ لے رکھی ہے-


    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بارش کی وجہ سے بھیگا ہوا اور بے گھر ہوا چوہا پریشان اور بے بس سہما ہوا جوتے پر بیٹھا نامعلوم منزل پر رواں دواں ہے-

    جبکہ ویڈیو میں ایک ہلکی سی جھلک گھروں اور دوکان کی بھی دیکھی جا سکتی ہے جو بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں-

    یہ ویڈیو رواں سال 12 جنوری کو ہجوم نامی ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی گئی تھی جسے صارف کی طرف سے ٹائی ٹینک کا نام دیا گیا تھا-


    واضح رہے کہ دو روز شدید بارشوں کی وجہ سے کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل، شارع فیصل، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور صدر میں صورتحال زیادہ خراب، لوگوں کو شدید مشکلات، فلائٹ آپریشن متاثر، کئی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا تھا

    جبکہ سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں ریکارڈ کی گئی۔ عید الاضحیٰ کے لئے سپر ہائی وے لگائی گئی مویشی منڈی بھی بہہ گئی تھی لیاقت آباد گجر نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ نے سے مکینوں کی مشکلات بڑھ گئیں تھیں –

    سندھ حکومت کا کراچی بھر کے شہریوں کیلئے چائے کا بڑا انتظام

  • رحمان ملک نے کس سے پوچھ کر آرمی چیف سے ملاقات کی، جواب دینا ہوگا ؟ بلاول بھٹو

    رحمان ملک نے کس سے پوچھ کر آرمی چیف سے ملاقات کی، جواب دینا ہوگا ؟ بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کے سینئیر رہنما سینیٹر رحمان ملک کی آرمی چیف کے ساتھ ملاقات کرنے پر بلاول بھٹو نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رحمان ملک سے وضاحت مانگ لی-

    باغی ٹی وی : ڈان نیو کے بیورو چیف محمد بالا نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ وہ آرمی چیف سے ان کی ملاقات کے بارے میں رحمان ملک سے وضاحت طلب کریں گے-


    واضح رہے کہ آ رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سینیٹر رحمان ملک کی ملاقات ہوئی تھی ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات میں دفاع اور داخلہ سلامتی سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی تھی سینٹر رحمان ملک نے امن کیلئے پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہا تھا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں رحمان ملک نے آرمی چیف جنرل قمر جاوہد باجوہ کو داخلی سلامتی کیلئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی-

    آرمی چیف سے سینیٹر رحمان ملک کی ملاقات،پاک فوج کی کامیابیوں کو سراہا

  • سندھ حکومت کا کراچی بھر کے شہریوں کیلئے چائے کا بڑا انتظام

    سندھ حکومت کا کراچی بھر کے شہریوں کیلئے چائے کا بڑا انتظام

    شہر قائد کراچی میں دو روز شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کرنٹ لگنے کے واقعات سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں،شہر قائد کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی

    باغی ٹی وی : حال ہی میں ہونے والی بارش سے کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا جبکہ بعض علاقوں میں تو بارش کی وجہ سے نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ گئے-

    سندھ حکومت کی اس صورتحال میں نا اہلی اور ناقص انتظام پر کراچی کے لوگ سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں –
    https://twitter.com/Amalqahay/status/1287995847096107011?s=08
    عمالقہ حیدار نامی ایک بلاگر نے کراچی میں بارش کے پانی سے بھرے ایک تالاب کی تصویر شئیر کرتے ہوئےلکھا کہ سندھ گورنمنٹ نے پورے کراچی کیلئے دودھ پتی چائے کا بندوبست کر کے گنیز بک میں اپنا نام لکھوا دیا-

    سید عثمان شاہ نامی صارف نے ایک ٹک ٹاک ویڈیو شئیر کی جس میں بارش کی وجہ ست ٹرین کی پٹریاں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں اور ٹرین پانی میں ڈوبی پٹریوں پر چل رہی ہے-


    ٹک ٹاک ویڈیو شئیر کرتے صارف نے لکھا کہ سندھ حکومت کا ایک اور کارنامہ ٹرین پانی پر چلادی –

    واضح رہے کہ دو روز شدید بارشوں کی وجہ سے کراچی تالاب کی مانند منظر پیش کرنے لگا ، شہر کی سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل، گاڑیاں بہہ گئیں، بارش کا پانی گھروں میں داخل، شارع فیصل، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور صدر میں صورتحال زیادہ خراب، لوگوں کو شدید مشکلات، فلائٹ آپریشن متاثر، کئی پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا تھا

    جبکہ سب سے زیادہ بارش گلشن حدید میں ریکارڈ کی گئی۔ عید الاضحیٰ کے لئے سپر ہائی وے لگائی گئی مویشی منڈی بھی بہہ گئی تھی لیاقت آباد گجر نالہ ابلنے سے نزدیک رہائشی مکانات زیر آب آ نے سے مکینوں کی مشکلات بڑھ گئیں تھیں –

    کراچی کی اس صورتحال پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں مون سون کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس ہوا.

    اجلاس میں صوبائی وزراء سعید غنی، ناصر شاہ، وقار مہدی، راشد ربانی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری، کمشنر کراچی ، سیکریٹری بلدیات، سیکریٹری فنانس، ایم ڈی ایس ایس ڈبلیو ایم اے، ایم ڈی واٹر بورڈ شریک ہوئے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ قدرتی آبی گزرگاہوں پر عمارتیں بن گئی ہیں، * نالوں کے ساتھ تجاوزات ہیں، جس کے باعث بارش کا پانی نہیں نکلتا، صرف نالوں کی صفائی مسئلے کا حل نہیں، لوکل باڈیز کے پاس ایک باقائدہ مکینزم ہونا چاہئے، جب 30 ایم ایم بارش ہو تو کیا ایس او پی ہوگی اگر 40 ایم ایم بارش ہوگی تو کیا ایس او پی ہوگی، اس بارش کی مختلف مراحل کا منصوبہ ہونا چاہے-

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہر میں جو سڑکیں نالوں کے ڈزائن ڈفیکٹ ہیں انکو ٹھیک کریں، ایریگیشن والے مل کے حساب سے بندوں کی کمزور اور مضبوط پوائنٹ کا حساب رکھتے ہیں، کراچی کیلئے تمام کمزور مقامات کے حل کا منصوبہ ہونا چاہئے، * مجھے ان علاقوں کا تفصیلی پلان چاہئے جہاں گھروں میں پانی گیا ہے، مجھے شہر کی تمام 28 سب ڈویژنز کا پلان دیں، میں ہر سب ڈویژن پر وزیر یا مشیر کی ڈیوٹی لگائوں گا، مجھے واٹر بورڈ، ایس ایس ڈبلیو ایم اے، کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے بہتریں انجنیئرز کی مشاورت سے بہتریں پلان چاہئے

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان خان نے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے کہنا تھا کہ وہ کراچی میں ہونے والے تیز بارش کا فوری طور پر نوٹس لیں پی ٹی آئی کارکن کا وزیراعظم عمران خان سے کہنا تھا کہ وہ کراچی میں ریسکیو کرنے کے لیے پاک فوج کو ہدایات دیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے نے پاک فوج سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ کراچی کے شہریوں کو بچانے کے لیے آگے آئے۔

    خرم شیر زمان نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر بلدیات صرف دو دن میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ افسوسناک امر ہے کہ کراچی بارش میں ڈوب چکا ہے لیکن سید ناصر حسین شاہ سب اچھا ہے، کا رٹا لگا رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سب اچھا ہے، کی رٹ لگانے والے حکمران کراچی دشمنی کا فرض ادا کررہے ہیں۔

    پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کا دعویٰ تھا کہ کراچی تین ماہ کیلئے میرے حوالے کر دیں، صاف ہو جائے گا،کراچی والے میری صلاحیتوں سے واقف ہیں‌

    کراچی ڈوبنے کے بعد وزیراعلیٰ سندھ کو ہوش آ گیا،اجلاس میں اہم حکم دے دیا

    بارش سے کراچی تالاب کامنظر پیش کرنے لگا، کئی ہلاکتیں

    کراچی میں بارش، وزیراعظم سے ریسکیو کے لئے فوج بھیجنے کا مطالبہ آ گیا

    کراچی تین ماہ کیلئےمیرے حوالےکردیں، صاف ہوجائےگا،کراچی والےمیری صلاحیتوں سے واقف ہیں‌:مصطفیٰ کمال کا دعویٰ