Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • تمام ایپس جو پاکستان سے اربوں کما رہی ہیں ان کو بھارت کی طرح پاکستان میں بھی ٹیکس دینا چاہئیے، وینا ملک

    تمام ایپس جو پاکستان سے اربوں کما رہی ہیں ان کو بھارت کی طرح پاکستان میں بھی ٹیکس دینا چاہئیے، وینا ملک

    پاکستان شوبز نڈسٹری کی معروف اداکارہ و میزبان وینا ملک کا کہنا ہے کہ تمام ایپس جو پاکستان سے اربوں کما رہی ہیں ان کو بھارت کی طرح پاکستان میں بھی ٹیکس دینا چاہئیے-

    باغی ٹی وی : اداکارہ و میزبان اورپی ٹی آئی کارکن وینا ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں تمام سوشل میڈیا ایپس کو بھارت کی طرح پاکستان میں بھی ٹیکس دینے کا مطالبہ کر دیا-
    https://twitter.com/iamAurangzaiib/status/1288014158584262657?s=20
    وینا ملک نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ میرا نام وینا ملک ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ تمام ایپس جو پاکستان سے اربوں کما رہی ہیں انکو بھارت کی طرح پاکستان میں بھی ٹیکس دینا چاہئیے-

    اداکارہ و میزبان نے صارفین کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ بھی میری اس بات سے متفق ہیں تو اپنے نام کے ساتھ اس بات کو ٹویٹ کریں-

    وینا ملک کی اس ٹویٹ پر صارفین کی جانب سے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    وینا ملک نےعالمی جنگ کی پیش گوئی کر کے سب کو حیران کر دیا

  • بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بیمار بیٹے کو ملنے کیلئے بہادر ماں کا مسلسل پانچ دن موٹر سائیکل پر سفر

    بھارتی عورت سونیا داس اور اس کی دوست نے سکوٹر پر پانچ دن سفر کرکے 1،800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی 26 سالہ خاتون ، کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران بے روزگار اور بے گھر ہوگئی ، اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے جس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ایک اسکوٹر پر مہاراشٹر سے جھارکھنڈ روانہ ہوئی-

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ٹائمز آف انڈیا نے بتایا کہ سونیا داس اور اس کی دوست صبیہ بانو نے سکوٹر پر 1،800 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لئے پانچ دن سڑک پر گزارے۔

    رپورٹ کے مطابق سونیا داس کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا اور وہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران اپنے کنبے اور اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ پریشان کُن حالات کا سمان کر رہی تھی۔ کرایہ کی ادائیگی میں ناکامی کی وجہ سے جب اسے ممبئی میں رہائش گاہ خالی کرنے پر مجبور کیا گیا تو ، وہ پونے میں اپنی دوست صبیہ بانو کے ساتھ چلی گئیں۔

    سونیا داس نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا ، "میرے پاس کھانے کے لئے پیسے نہیں تھے کیونکہ نوکری سے فارغ کر دیا گیا تھا اور گھر کا کریہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے گھر خالی کروالیا گیا تھا تو میں پونے میں اپنی دوست صبیہ کے پاس شفٹ ہوگئی تھی-

    سونیا داس نے بتایا کہ جب انہیں یہ خبر ملی کہ ان کا بیٹا بیمار ہوگیا ہے تو انہوں نے جھارکھنڈ حکومت سے ٹویٹر پر مدد کی کوشش کی لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ پونے اور جمشید پور کے مابین کوئی ٹرینیں نہیں ہیں ، اور وہ فلائٹ ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں اسی لئے سونیا داس نے اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے اسکوٹر پر سفر کرنے کا فیصلہ کیا-

    سونیا نے بتایا کہ "میں نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین کو ٹویٹ کیا ، مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ حکومتوں کی ہیلپ لائنوں پر مدد کی لیکن کوئی کام نہیں کررہا تھا۔ میں نے (اداکار) سونو سود سر کو بھی ٹویٹ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر میں ، میں نے اپنے طور پر جمشید پور واپس جانے کا فیصلہ کیا –

    دونوں دوستیں پیر کے روز پونے سے روانہ ہوئیں اور پانچ دن سکوٹرپر ممبئی کے راستے جمشید پور کا سفر کیا۔ اور جمعہ کی شام اسٹیل سٹی پہنچ گئیں۔

    جمشید پور پہنچنے کے بعد ، محترمہ داس اپنے خاندان کو کوویڈ 19 کی وجہ سے ایک فاصلے سے دیکھا اس سے پہلے سونیا اور اس کی دوست کو قرنطینہ مرکز منتقل کردیا گیا تھا۔

    ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اروند کمار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ دونوں کا COVID-19 ٹیسٹ منفی آیا ہے اور اب انہیں گھر میں ہی قرنطین کرنے کو کہا گیا ہے۔ لواحقین کو 30 دن تک ڈرائی راشن بھی مہیا کیا گیا ہے۔

    سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہراساں کئے جانے پر بھارتی معروف اداکارہ کی خودکشی کی کوشش

  • ڈرامہ سیریل پیار کے صدقے قسط نمبر 27 پر ایک نظر

    ڈرامہ سیریل پیار کے صدقے قسط نمبر 27 پر ایک نظر

    قسط نمبر 27 لگتا ہے کہ سرور واقعی میں بہت جلد مایوس ہوگا جبکہ مہہ جبین کے آج کے مناظر بہت زیادہ جذباتی تھے، عبد اللہ کا کنفیوژن پہلے کی طرح ہی جاری ہے ، اس وقت وشما کی توجہ مکمل طور پر مرکوز ہے ، منصورہ نے اپنے شوہر میں تبدیلی کو محسوس کرنا شروع کیا ہے اور سرور پہلی بار وہ ہے جو قابو میں نہیں ہے! قسط نمبر27 میں بہت سے جذباتی اور طاقتور مناظر تھے جو ڈرامے کی ساکھ کے لئے بہت متاثر کُن تھے-

    باغی ٹی وی: قسط نمبر 27 کے واقعہ میں دراصل بہت ساری اہم پیشرفت ہوئی تھیں پہلی بار ، شاید لالہ رخ اور وشما نے سرور کے بارے میں بات کی ،اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ ڈرامے کے نئے ناظرین کو بیک اسٹوری سننے کو ملی۔ لالہ رخ ایک بہت ہی ہمدرد فرد ہیں ، انہوں نے اس حقیقت میں تسلی لی کہ شاید سرور منصورہ کو وہ محبت دے گا جو اس کے بھائی نے نہیں دی تھی-ساتھ میں اس گفتگو کے بعد ناظرین کے لئے یہ سمجھنا بھی آسان ہے کہ منصورہ کو پیار اور توجہ کی ضرورت کیوں ہے۔ جب کبھی اس نے اپنے شوہر سے شادی کی تو اسے کبھی پیار نہیں ملا لہذا سرور کے لئے اسے اپنے جال میں پھنسانے میں آسانی تھی۔

    اس قسط میں وشما اور سرور کے درمیان تصادم ایک اور اہم منظر تھا۔ وشما نے سرور کی "گندی نظروں” کے بارے میں بات کی تھیاسی لئے اسے اس شخص سے بہت نفرت تھی۔ وہ ہمیشہ جانتی تھی کہ وہ لالچی ہے جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وشمانے ان کا مقابلہ کیا تو سرور کے دفاع میں ان کے پاس کچھ کہنے کو زیادہ نہیں تھا ۔ جب بھی وہ منصورہ اس کا سامنا کرتا ہے تو وہ پُرسکون ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے منصورہ کو قائل کر لیا ہے لیکن وشما کے ساتھ وہ مایوس اور ناراض ہوتا ہے پھر بھی وہ اسے کبھی بھی ڈرانے کی کوشش نہیں کرتا ہے۔ کیونکہ وشما کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ اسے بے وقوف نہیں بنا سکتا- جب وہ چلی گئی تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے کیونکہ یہ بیمار ذہنیت کا شخص لفظوں سے دوسروں کا شکار کرتا ہے-

    عبد اللہ ،باربی (شانزے) سے بیمار اور تھک گیا ہے کیونکہ وہ اس کی کالوں کا جواب نہیں دے رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ، وہ جانتا ہے کہ وہ اس شادی کے انتظامات سے وشما کی کسی سنجیدہ مدد کے بغیر نہیں نکل سکتا۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ دونوں اب ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کررہے ہیں۔

    اس قسط میں مہ جبین کے سارے مناظر انتہائی جذباتی تھے۔ وہ عبد اللہ سے پیار کرتی ہےسرور کے ساتھ اس کی گفتگو نے یہ ظاہر کیا کہ وہ کتنی معصوم ہے۔ سب سے زیادہ جذباتی منظر قبرستان کا تھا۔ کاش وہ اس وقت سرور کا نام لیتی۔ کسی طرح وہ اپنا نام لینے سے ڈر جاتی ہے۔


    قسط نمبر 28 پرومو

    اس ڈرامے کی کاسٹ میں یمنیٰ زیدی، بلال عباس ،عتیقہ اوڈھو، بلال رانا، یشمی گل، خالد انعم ، گل رانا اور دیگر اداکار شامل ہیں-

    اس ڈرانے کو تحریر زنجبیل عاصم شاہ نے کیا ہے جبکہ پروڈیوس فارق رند نے کیا ہے اور ہدایات مومل انٹرٹینمنٹ اور ایم ڈی پروڈکشن تلے دی گئی ہیں-

  • ڈرامہ سیریل دلرُبا قسط نمبر 18 پر ایک نظر

    ڈرامہ سیریل دلرُبا قسط نمبر 18 پر ایک نظر

    ہم ٹی وی پر نشر ہونے والی ڈرامہ سیریل دلربا ایک جرات مندانہ کہانی ہے یہ ایک خاتون کے نقطہ نظرسے پیش کی گئی چھیڑ چھاڑ پر مبنی کہانی ہے۔ صنم کا پُرانا فلرٹی انداز واپس آگیا ہے اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہونے میں مصروف ہے ، اور اپنے ہی بچے سے مجرمانہ غفلت برتی ہے۔ یہاں اس قسط میں ، ہم ہانیہ عامر کے مختلف تاثرات دیکھ سکتے ہیں ، ان کی کارکردگی ناقابل یقین ہے۔

    باغی ٹی وی : اس قسط میں یہ دکھایا گیا ہے صنم اپنے پرانے فلرٹی انداز کے ساتھ واپس آگئی ہےاور وہ اپنی جگہ کو بالکل ہی بھول چکی ہے اور وہ اپنی زندگی میں مصروف ہے ، اس کے علاوہ ، اس نے کسی نامعلوم لڑکے کے ساتھ دوستی شروع کر لی ہے اور وہ اس سے پھول اور تحفے وصول کررہی ہے ، ایسا لگتا ہے کہ جیسے صنم نے اپنے گذشتہ تجربات سے کچھ نہیں سیکھا۔ وہ پہلے جیسی ہے اس حقیقت کو نظرانداز کئے کہ اب وہ شادی شدہ عورت ہے۔

    اپنے پُرنے فلرٹی انداز کے علاوہ ، صنم اپنے ہی بچے کو بری طرح نظرانداز کررہی ہے۔ وہ اس حقیقت کا ادراک نہیں کررہی ہے کہ اس کے بیچارے چھوٹے بیٹے کو ماں کی ضرورت ہے۔ اپنے بچے کو قطرے پلانے کے لئے، وہ اسے نینی اور ڈرائیور کے ساتھ بھیجتی ہے اور خود شاپنگ کے لئے چلی جاتی ہے! وہ یقینی طور پر اس بچے کو رکھنے کی اہل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ، صنم ​​کا گھر کے نگران ملازم کے ساتھ لہجہ بھی بدل گیا ہے ، اس نے یہ احساس نہ کرتے ہوئے اسےبھی نظرانداز کرنا شروع کردیا ہے کہ اس نے اس کی بہت مدد کی ہے۔

    ارسلان کی منگنی سحرش کے ساتھ طے پاتی ہے۔ منگنی کی تقریب میں کچھ خواتین ارسلان کی والدہ کو بتاتی ہیں کہ سحرش کی پہلے بھی منگنی ہوئی تھی اور اس کی منگنی ٹوٹ گئی ہے۔ صنم کی والدہ یہ سن کر ہنگامہ کرتی ہے دوسری جانب صنم کے والد نے اپنی بیوی کو غیر ضروری ہنگامہ کھڑا کرنے پر سنائیں۔ صنم کے والد صنم کے گھر جاتے ہیں تاکہ اسے اس کے بھائی کی شادی میں مدعو کریں لیکن وہاں صنم اپنے والد سے سرد مہری سے ملتی ہے اور اس کا رویہ بالکل بھی خوش اخلاقی اور پیار والا نہیں ہوتا۔

    اب اگلی قسط نمبر 19 کے پرومو میں صنم اپنے نئے دوست کے ساتھ ملاقات کرتی ہیں جو صنم کی خوبصورتی کی تعریف کرنے کے ساتھ اسے پھول گفٹ کرتا ہے جسے صنم قبول کر لیتی ہے-

    دلربا پرومو قسط نمبر 19

    ڈرامے کی کاسٹ میں ہانیہ عامر ، محب مرزا، شہروز سبز واری، سید جبران،مرینہ خان،غناطاہر نبیل اعجاز زبیری،سعد اظہر،سائرہ واسطی،سجیرالدین، زین افضل،دُرفشاں سلیم، عنبر خان، ہما نواب ،خالد انعام، شہریارزیدی،جاوید اقبال ،ریحانہ اختر، مرزا رضوان نبی،اسد صدیقی و دیگر شامل ہیں –

    ڈرامہ قیصر حیات نے تحریر کیا ہے اس کے ڈائریکٹر علی حسن جبکہ مومنہ دُرید پروڈکشن نے ہدایات دی ہیں –

  • دلوں کو فتح  کرنے کا راز  تحریر: حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    دلوں کو فتح کرنے کا راز تحریر: حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    دلوں کو فتح کرنے کا راز
    حافظہ لاریب فاطمہ بنت نعیم

    حسن سلوک کیا ہے؟
    حسن سلوک ایک ایسی چیز ہے جس سے دشمن کوبھی اپنی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔
    آج کی دنیا میں 90 فیصد لوگ حسن سلوک کو بھول چکے ہیں،صرف 10 فیصد لوگ حسن سلوک کے معنی سے آشنا ہیں اور دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آتے ہیں ، وہ اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ کیا چیز ہے جو دوسروں کو تکلیف پہنچا سکتی ہے ،پھر وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    وہ جانتے ہیں کہ وہ کون سے الفاظ ہیں جو بولنے ہیں اور جو نہیں بولنے، وہ جانتے ہیں کہ وہ کیا سلوک ہے جس سے لوگ ان سے محبت کریں اور پیار اور خلوص سے پیش آئیں گے اور اچھے انداز سے بات چیت سمجھیں گے ۔
    جبکہ 90 فیصد لوگ دوسروں کے ساتھ اپنے ہوں یا پرائے ،بڑے یا چھوٹے ہوں سب کے ساتھ ایک ہی رویے سے پیش آتے ہیں۔ وہ نہیں خیال کرتے کہ ان کو کیا بات بری لگ سکتی ہے۔
    ان کی عادت ہوتی ہے طنز کرتے رہنا، بات بات پر ٹوکنا دوسروں پر ہنسنا۔
    حسن سلوک صرف اسی چیز کا نام ہی نہیں کہ کہ دوسروں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں ،خلوص سے،محبت سے۔ بلکہ حسن سلوک تو یہ ہے کہ آپ کے ساتھ جو کوئی بدسلوکی کرے، یا زیادتی کرے تو آپ اس کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں اسے معاف کریں اس کو سمجھائیں ، اس سے بدلہ نہ لیں۔
    آخرحسن سلوک سے پیش آنے سے کیا ہوتا ہے؟

    سب سے بڑی بات یہ کہ حسن سلوک سے پیش آنے پر اللہ تعالی ہم سے خوش ہوتے ہیں جو کہ کسی بھی مسلمان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ حسن سلوک میں معاف کرنا دوسروں کے ساتھ خلوص سے پیش آنا سب شامل ہے۔
    حسن سلوک تو ہو گیا ہے ہر ایک کے ساتھ اچھے انداز،اور خلوص سے پیش آنا اب بات آتی ہے معاف کرنے اور بدلہ لینے یا نہ لینے کی۔

    جب کسی سے کوئی غلطی ہو یا اس کے ہاتھ، زبان سے ہمیں تکلیف پہنچے تو ہم اسے معاف کر دیں تو اللہ تو خوش ہو گا ہی اس کے ساتھ اگلے بندے کے ذہن میں بھی خیال آئے گا کہ میں نے اس کو برا بھلا کہا اس کو تکلیف دی یا مارا پیٹا،لیکن اس نے تو مجھے معاف کر دیا۔
    ہو سکتا ہے وہ آپ کو ایک بار تکلیف پہنچائے ،دو بار، تین بار بالآخر وہ دیکھے گا کہ یہ ایک اچھا انسان ہے اور اگلی بار آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا اور برا سلوک چھوڑ دے گا۔
    ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ دوسروں کو معاف کرنا لوگوں کی نظر میں اچھا بننے کے لیے نہیں یا یہ سوچ کر دوسروں کو معاف کریں کہ لوگ واہ واہ کریں گے میرا نام ہوگا جب بھی معاف کریں ثواب کی نیت سے کریں اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں۔

    اگر ہر کوئی ایک دوسرے سے اچھے طریقے سے پیش آئے اور ہر کوئی ایک دوسرے کو معاف کردے تو معاشرہ کتنا اچھا ہو گا۔
    جب ایک انسان دوسرےانسان
    کو معاف کرے گا تو وہ اس سے متاثر ہوکر خود بھی دوسروں کے ساتھ ایسے ہی پیش آئے گا
    اس طرح سب ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں گے۔ اور یہ معاشرہ خوشیوں کا گہوارہ بن جائے گا اور اگر ہم کسی کے ساتھ برا سلوک کریں گے تو اس کے ذہن میں بھی شیطان بدلے کی آگ کو بھڑکائے گا اور وہ مسلسل ذہنی اذیت میں رہتے ہوئے آپ کے ساتھ برا سلوک کرنے کے ساتھ اسی غصے میں دوسروں سے بھی بد سلوکی سے پیش آئے گا۔
    یوں لا شعوری طور پر سب ایک دوسرے کے ساتھ برا کریں گے اور معاشرے میں برائی پھیل جائے گی۔ ویسے بھی جہاں ہم نے ایک نیکی کی تو ایک بدعت اپنے آپ ختم ہو جاتی ہے جیسے کہ اگر ایک دوسرے کے ساتھ اچھے سے پیش آئیں گے تو کوئی ایک دوسرے کے ساتھ برا نہیں کرے گا اور برائی اپنے آپ ختم ہو جائے۔
    (بدلہ لینا یا نہ لینا)
    بہت سے انسانوں کی فطرت ہوتی ہے ان کے ساتھ کوئی برا کرے یا زیادتی کرے تو وہ فورا بدلہ لینے پہ اتر جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اب کیسے بدلہ لیا جائے؟
    اور بعض اوقات تو وہ بدلہ لیتے وقت انسانیت سے ہی گر جاتے ہیں۔

    جبکہ اللہ سبحان و تعالی نے فرمایا: ‘کان کے بدلے کان،آنکھ کے بدلے آنکھ،اور ناک کے بدلے ناک۔
    یعنی کہ اگر ہم ناانصافی کیے بغیر زیادتی کیے بغیر جتنی اگلے بندے نے آپ کو اذیت دی ہے اتنی دے سکتے ہیں تو ٹھیک ہے تو آپ کو گناہ نہیں ہوگا اور نہ ہی ثواب۔لیکن معاف کرنا افضل عمل ہے اور ثواب بھی ملتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو بدلہ لینے کا حق دیا ہے۔مگر اللہ تعالی معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں۔
    اللہ تعالی نے فرمایا: تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
    اور ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے اللہ کےاسی فرمان کو ایک شعر کی صورت میں کچھ یوں بیان کیا ہے۔

    ‘کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
    خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر

    جو لوگ بدلہ نہیں لیتے،دوسروں کو معاف کردیتے ہیں۔
    اللہ سبحان و تعالی ان لوگوں سے بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کو معاف کرنا زیادہ پسند ہے۔ اور اللہ خود بھی تو بہت مہربان ہے،رحیم و کریم ہے۔
    اور ایک بات یہ بھی کہ جو انسان بدلہ نہیں لیتا تو دوسرا انسان یہ دیکھ کر کہ اس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا یا زیادتی کی اور آپ نے بدلہ نہیں لیا۔ تو وہ یہ دیکھ کر آپ سے معافی بھی مانگے گا۔کیونکہ اس کو احساس ہو گا کہ یہ ایک اچھا آدمی ہے اور میں نے اس کے ساتھ برا کیا۔
    سب سے بڑی مثال تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر تمام کافروں کو معاف کردیا۔ حالانکہ انہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کیا کیا اذیتیں نہیں دیں۔

    اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں معاف کرنے،بدلہ نہ لینے اور حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
    آمین!ثم آمین!

  • پیاری ماں  بقلم:جویریہ بتول

    پیاری ماں بقلم:جویریہ بتول

    پیاری ماں…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    تو عزم کا ہے کارواں…
    اے میری پیاری ماں…
    محبّت کا دریا تیرے…
    دل میں رواں دواں…
    عفو کے موتیوں سے…
    سجا ہوا کوہ گراں…
    برداشت کے قیمتی ہیرے…
    تری رہ کا ہے سامان…
    اضطراب کی موجیں…
    ترے اندر نغمہ خواں…
    بےکلی و چاہت میں…
    تو ہے ہر دم عیاں…
    ترے مرتبہ کو کیا ہے…
    رب نے کیا خوب بیاں…؟
    احادیث کے پھول کھلے…
    بزبانِ رحمت دو جہاں…
    ترے عصا کی ٹیک میں…
    نظر آئے مجھے عزم جواں…
    ترے آہستہ آہستہ قدم…
    اٹھتے رہتے ہیں جو ہر دَم…
    تری بے لوث جذبے کا رنگ…
    یقین بنائے مرا گماں…
    مری جوانی جہاں ہار جائے…
    رہ گزر بن خار جائے…
    ترے حوصلوں کا شکریہ…
    جو بن جاتے ہیں ٹھنڈی اماں…
    جِلا کر جو سوئے ولولے…
    جگا کر دل کے ارمان…
    جیت کر ہارے حوصلے…
    ہو جاتی ہیں مشکلیں آساں…
    دعاؤں کے برس کر پھول…
    مٹا ڈالیں سبھی دھول…
    ہر سو سبزہ سا اُگے…
    یہ زندگی بن جائے گلستاں…
    ماں اے ماں،میری پیاری ماں…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ایک بات دو خیال  تحریر:عمر یوسف

    ایک بات دو خیال تحریر:عمر یوسف

    ایک بات دو خیال

    عمر یوسف

    خیال اول ۔
    آپ اگر چشمے کے بغیر دیکھ سکتے ہیں اس کا مطلب آپ کی نظر بالکل ٹھیک ہے اور آنکھوں کے لحاظ سے صحت مند ہیں آپ قریب کی چیزوں کو تو دیکھ ہی سکتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ دور کی چیزوں کا نظارا بھی اچھے طریقے سے کر سکتے ہیں ۔۔۔۔

    ایک چیز جس کو آپ صاف طور پر دیکھ رہے ہیں اس کو آنکھوں کے قریب کرتے جائیں حتی کے ایک انچ تک کا فاصلہ رہ جائے کیا اب آپ کو اس کی سمجھ آرہی ہے یقینا نہیں ۔۔۔۔ جو چیز دور سے صحیح نظر آہی تھی اس کی خوبیاں اور خامیاں واضح تھیں اب قریب ہو کہ اس کی خوبیوں خامیوں کا تجزیہ کرنا محال ہے ۔۔۔۔
    اسی طرح آپ اگر کسی انسان کی خوبیاں خامیاں دیکھ رہے ہیں تو سمجھ لیں وہ کے دل کے قریب نہیں ۔۔۔۔ جو دل کے قریب ہوتا ہے وہ اتنا عزیز ہوجاتا ہے ہمیں وہ خوبیوں خامیوں سے ماورا ہوکے پیارا ہوجاتا ہے ۔۔۔۔
    جس کو اپنے قریب کرو اس کی خامیاں دیکھنا چھوڑ دو

    خیال ثانی ۔۔

    آپ درست نظر کے ساتھ اگر تمام چیزوں کو دیکھ رہے ہیں تو آپ نظر کے اعتبار سے صحت مند ہیں کوئی دور کی چیز جو آپ کو صاف دکھائی دے رہی ہے اسے آنکھوں سے ایک انچ کے فاصلے پر صاف طور پر نہیں دیکھ پائیں گے اسے دور کرنا ہوگا ۔۔۔۔

    اسی طرح دنیاوی مال ومتاع اور دھوکے کی دنیا سے پیار کرنے والے اس دنیا کی حقیقت اور دھوکہ پن پہچان ہی نہیں سکتے کیونکہ مادیت ان کے انتہائی قریب ہے ۔۔۔

    دنیا کی حقیقت کو پہچاننے کے لیے اس دنیا کی دلدل سے تھوڑا دور ہوکر ۔۔۔ مادیت پرستی ہٹ کر دیکھنا ہوگا پھر انسان کو سمجھ آجائے گی کہ جس کو وہ سب کچھ سمجھتا ہے وہ دراصل کچھ نہیں –

  • مہوش حیات نے تصویر پر تنقید بھرے تبصرے کرنے والوں کو کھڑی کھڑی سنا دیں

    مہوش حیات نے تصویر پر تنقید بھرے تبصرے کرنے والوں کو کھڑی کھڑی سنا دیں

    اداکارہ مہوش حیات نے دوروز قبل شئیر کی گئی تصویر پر تنقید کرنے والوں کو کھڑی کھڑی سُنا دیں

    باغی ٹی وی :دو روز قبل پاکستانی معروف اور تمغہ امتیاز اداکارہ مہوش حیات نے اپنی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شئیر کی تھی جس میں وہ نہایت خوبصورت لگ رہی تھیں مہوش سفید لباس میں ملبوس تھیں اور ساتھ میں اُنہوں نے لال رنگ کی لپ سٹک لگا رکھی تھی اور ہاتھ میں مگ پکڑ رکھاتھا-

    مہوش حیات نے اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ صبح ایسے جاگیں-

    اداکارہ کی اس تصویر پر مداحوں نے تنقید بھرے نامناسب تبصرے کئے تھے اداکارہ نے اس تصویر پر وضاحتی بیان شئیر کیا ہے-

    سماجی ربطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اداکارہ نے سفید ڈریس میں ملبوس لی گئی ایک اور تصویر شئیر کرتے ہوئے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں نے ایک تصویر شئیر کی تھی جس میں میری کاسیو کی گھڑی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے –


    اداکارہ نے لکھا کہ تصویر میں موجود تکیے پر چائے کا داغ نہیں تھا جس میں میری ٹانگیں دکھائی دے سکتی ہیں اور میری گردن تھوڑی نیچے ہے-

    انہوں نے لکھا کہ میری یہ وضاحت بیمار ذہنیت رکھنے والے لوگوں کے لئے ہے –

    انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کو یہاں بھی کچھ غلط مل جائے گا۔


    مہوش حیات کے اس ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اداکار شان نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کہ آپ کیوں وضاحت کر رہی ہیں?


    جبکہ کالم نگار جویریہ صدیقی نے ان کی اس تصویر کی تعریف کی-

    مہوش حیات کی حالیہ تصویر پر سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

  • ماورا حسین کا لڑکیوں کو ہراساں کرنا معمولی بات ہے بیان پر علی گُل پیر کی مزاحیہ پیروڈی سوشل میڈیا پر وائرل

    ماورا حسین کا لڑکیوں کو ہراساں کرنا معمولی بات ہے بیان پر علی گُل پیر کی مزاحیہ پیروڈی سوشل میڈیا پر وائرل

    حال ہی میں پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ماورا حسین کی ایک ویڈیو وائرل ہو ئی جس میں وہ روڈ پر لڑکیوں کو چھیڑنے کو معمولی بات ہے کہتی نظر آئیں جس پر انہیں صارفین کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا-

    باغی ٹی وی :ندایاسر کے مارننگ شو گڈ مارننگ پاکستان کی 2 سال پرانی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ اور ہمایوں سعید ندا یاسر کے شو میں اپنی فلم کی پروموشن کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

    ماورا حسین کی مذکورہ ویڈیو کلپ اگست 2018 کے گڈ مارننگ پاکستان کی ہے جب ان کی فلم جوانی پھر نہیں آنی 2 ریلیز ہونے والی تھی اور وہ فلم کی تشہیر کے سلسلے میں دیگر اداکاروں کے ساتھ مارننگ شو میں شریک ہوئی تھیں۔

    شو کے دوران ندا یاسرماورا سے پوچھتی ہیں کہ کیا کبھی تمہیں کسی نے چھیڑا؟

    اس پر ماورا حسین کہتی ہیں کہ لڑکیوں کو چھیڑنا تو لاہور کا فن ہے لڑکے گاڑیوں میں تیز میوزک لگاکرنکل جاتے ہیں روڈ پر اور لڑکیوں کو چھیڑ رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کے بغیر لاہوریوں کی عید نہیں لگتی۔ لہذا ہمیں اس کا برا نہیں ماننا چاہئے۔

    اسی پر ندا یاسر نے ان سے سوال کیا کہ اب بھی اگر ان کے ساتھ ایسا ہو تو وہ کیا کریں گی؟ جس پر ماورا حسین نے کہا کہ انہیں برا نہیں لگے گا کیوں کہ ان کی بھی تو عید ہے!

    ماورا حسین کے اسی جواب پر نہ صرف پروگرام میں موجود اداکار ہنس پڑے بلکہ پروگرام میں شریک شرکا نے بھی تالیاں بجائیں۔

    تاہم سوشل میڈیا صارفین نے ماورا کی اس بات کو بالکل بھی مذاق میں نہیں لیا اور انہیں مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے فنکاروں کو بولنے سے پہلے سوچنا چاہئے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

    تاہم اب پاکستانی گلوکار، اداکار اور پیروڈی ایکسپرٹ علی گُل پیر کی بھی ماورا کے اس بیان کا مذاق بناتے ہوئے پیروڈی سامنے آئی ہے-جس میں علی گُل پیر ندا یاسر اور ماورا کا کردار ادا کرتے ہوئے دلچسپ اور عجیب انداز میں دونو ں کی آوازوں پر پیروڈی کی ہے-
    https://www.instagram.com/p/CDD3JD7J8fX/?igshid=1bbzj05614cur
    علی گُل پیر کی اس پیروڈی کو ان کے مداحوں کی جانب سے خوب پسند کیا جا رہاہے-

    لڑکیوں کو ہراساں کرنا معمولی بات ہے کہنے پرماورا حسین کو تنقید کا سامنا

  • علی ظفر کا منڈیوں میں ایس او پیز اختیار نہ کرنے والوں اور رش لگانے والوں پر برہمی کا اظہار

    علی ظفر کا منڈیوں میں ایس او پیز اختیار نہ کرنے والوں اور رش لگانے والوں پر برہمی کا اظہار

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ گلوکاراور اداکار علی ظفر نے سوشل مٰڈیا پر لاہور میں منڈیوں میں ایس او پیز اختیار نہ کرنے والوں اور رش لگانے والوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی وین سائت ٹویٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں گلوکار نے لکھا کہ اتفاقیہ طور پر ان کا گزر مرکزی منڈی سے ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بغیر ماسک اوربغیر ایس او پیز اختیار کئے ایک جگہ جمع تھے۔


    اداکار نے لکھا کہ حکومتی عہدیدار لوگوں سے سختی سے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کی تاکید کریں تاکہ پچھلی عید کے بعد سے ہونے والے واقعات سے بچا جا سکے-

    علی ظفر نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے فوائد تو ہم نے دیکھے ہی ہیں کیونکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔


    انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہمیں زیادہ احتایطی تدابیر کرنے کی ضرورت ہے تا کہ کہیں یہ وائرس ہماری کوتاہیوں اور بد احتیاطی کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر نہ پھیل جائے۔

    انہوں نے حکومتی عہدیداروں کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ منڈیوں لگانے کی اجازت مخصوص علاقوں اور جگہوں پر دی جائے جہاں ایس اور پیز پر عملدرآمد کیلئے کڑی نگرانی بھی کی جائے-


    ایک اور ٹوئٹ میں اداکار و گلوکار نے لکھا کہ ہم عوامی خدمت کے پیغامات کے ذریعہ سکھائی جانے والی اخلاقی بنیادوں پر عید پر ایس او پیز پر بھروسہ نہیں کرسکتے ہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پرعملی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔


    علی ظفر نے مزید لکھا کہ وزیر اعظم کے ٹائیگرز کو عید کے موقع پر بھی اپنی خدمات بھرپور طریقے سے ادا کرنا ہوں گی ہم انہیں ابھی بھی مناسب کارروائی میں دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا جاسکے-

    کورونا وائرس:علی ظفر کی سوشل میڈیا صارفین سے مالی مشکلات کا شکار فنکاروں اور دیگر عملے کے لئے مدد کی اپیل