Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا کے پہلے گانے نے دھوم مچا دی ، یوٹیوب ٹرینڈنگ میں ٹاپ پر

    ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا کے پہلے گانے نے دھوم مچا دی ، یوٹیوب ٹرینڈنگ میں ٹاپ پر

    پاکستان کی مقبول و معروف ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا کے پہلے گانے نے دھوم مچا دی ، یوٹیوب ٹرینڈنگ میں ٹاپ پر رہا ہے-

    باغی ٹی وی : بلال سعید کے گانے شاعر میں ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا نے محمد علی جوش کے ساتھ ڈیبیو کیا تھا ان کا گانا رواں ماہ 10 جولائی کو ریلیز کیا گیا تھا جبکہ گلوکار سرمد قدیر نے اس گانے کو تحریر اور کمپوز کیا ہے۔

    یہ گانا 5 منٹ 8 سیکنڈز پر مشتمل ہے جس میں ایک ایسی کہانی دکھائی گئی ہے جہاں ایک نوجوان شاعر خوبصورت اداکارہ سے یک طرفہ محبت کرتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ محبت دو طرفہ محبت میں بدل جاتی ہے۔

    جنت مرزا کے گانے ’شاعر‘ کو مداحوں کی طرف سے خوب پسند کیا جا رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا جا سکتا ہے کہ یہ گانا یوٹیوب ٹرینڈنگ میں ٹاپ پر ہے-

    اس گانے کو یوٹیوب پر اب تک 45 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چُکا ہے-

    انسٹا گرام سکرین شاٹ
    مداحوں کی جانب سے گانے کو اس حد تک پذیرائی ملنے پر جنت مرزا نے اپنی انسٹا گرام سٹوری پر مداحوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے لکھا تھا کہ اتنا سارا پیار دینے پر آپ سب کا بہت زیادہ شکریہ-

    واضح رہے کہ اس سے قبل گلوکار عاصم اظہر کا گانا ’تُم تُم‘ ریلیز ہوا تھا اس گانے کی مرکزی کردار معروف ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق نے ادا کیا تھا جبکہ گانے میں عاصم اظہر، اُردو ریپ سانگ کے گلوکار رامس، طلحہ یونس، طلحہ انجم اور گلوکار و اداکار تیمور صلاح الدین عرف مورو نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے اور گانے کے آخر میں اداکارہ ہانیہ عامر بھی نظر آئیں تھیں۔

    اریکا حق کے بعد ٹک ٹاک سٹار جنت مرزا گلوکار بلال سعید کے نئے گانے کی ویڈیو میں شامل

    صبا قمر ٹک ٹاک اسٹار اریکا حق کی حمایت میں بول پڑیں

    لوگ پہلے ڈپریشن اور مینٹل ہیلتھ پر لیکچر دیتے ہیں اور کچھ دن بعد خود کسی کو اپنی نفرت سے ڈپریشن کا شکار بنا دیتے ہیں عاصم اظہر

    عاصم اظہر اور ٹک ٹاک اسٹار ارکا حق کے گانے کا ٹیزر جاری

  • اداکار اعجاز اسلم اور فیصل قریشی جلد ہی نئے ڈرامے میں ایک ساتھ نظر آئیں گے

    اداکار اعجاز اسلم اور فیصل قریشی جلد ہی نئے ڈرامے میں ایک ساتھ نظر آئیں گے

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیصل قریشی اور نامور اداکار اعجاز اسلم جلد ہی نئے ڈرامہ سیریل ’لوگ کیا کہیں گے‘ میں ایک ساتھ نظر آئیں گے۔

    باغی ٹی وی : لوگ کیا کہیں گے میں اعجاز اسلم اور فیصل قریشی کے ساتھ ماڈل و اداکارہ صحیفہ جبار بھی اداکاری کے جوہر دکھائیں گی یہ ڈرامہ ایک مالدار گھرانے کو درپیش مشکل حالات سے گزرنے پر مبنی ہے۔

    اعجاز اسلم ڈرامہ سیریل لوگ کیا کہیں گے میں حسیب کا کردار ادا کریں گے جو اپنے اہل خانہ کی ضروریات اور خواہشیں پوری کرنے کے لیے کسی بھی حد جاسکتا ہے اور جب مشکل وقت آتا ہے تو اس کا امتحان شروع ہوجاتا ہے۔

    ڈرامے کا پہلا ٹیزر جاری کیا گیا جس میں اعجاز اسلم کو صحیفہ جبار خٹک کا محبت کرنے والا شوہر اور ایک پیار کرنے والا باپ دکھایا گیا ہے جو اپنی بیٹی دانیہ کے عیش و آرام پر بے دریغ پیسہ خرچ کرتا ہے-

    تاہم مالی مشکلات کی وجہ سے ہر چیز نہ صرف اس کے لیے بلکہ اس کے گھر والوں کے پریشان کن صورت اختیار کرلیتی ہے۔

    جبکہ ڈرامے میں فیصل قریشی کو ایسے کردار میں دکھایا گیا ہے جس میں وہ ایک خوشحال اور کامیاب شخص اچھا باپ اور شوہر ہوتا ہے لیکن اس کو ہمیشہ سب عیش و آرام چھن جانے کا خوف ہوتا ہے کہ اگر یہ سب چھن گیا تو لوگ کیا کہں گے-

    ڈرامے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکار اعجاز اسلم کا کہنا ہے کہ میں اس پروجیکٹ کے لیے بہت پرجوش ہوں، کہانی، پروڈکشن، ہدایتکاری، اور بہترین کاسٹ میرے لیے ایک شاندار تجربہ ہے-

    فیصل قریشی کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے اعجاز اسلم کا کہنا تھا کہ مجھے فیصل کے ساتھ دوبارہ کام کر کے بہت اچھا لگا اور حسیب کا کردار ادا کر کے مزا آیا-

    ڈرامے کی دیگر کاسٹ میں کنزہ رزاق، سکینہ سموں، افشاں قریشی اور حمیرا ظہیر شامل ہیں۔

    اعجاز اسلم نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے ک ناظرین بھی اسے دیکھنا پسند کریں گے-

  • بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے   تحریر:جویریہ بتول

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے تحریر:جویریہ بتول

    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے…!!!
    [جویریہ بتول]۔
    یہ بات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہو چکی ہے کہ مسلمان ایک مہذب،فیاضی،اور خدا ترسی و دردِ انسانیت سے مالا مال امت ہیں…
    ان کی تعلیمات اس قدر ارفع ہیں کہ باقی اقوام بھی قوانین اور ضابطے یہاں سے مستعار لیتی رہی ہیں…
    جب جب بھی مسلمانوں نے غلبہ حاصل کیا تب تب مفتوحہ علاقوں کے مکینوں کے ساتھ مسلمان لیڈرز کا حسنِ سلوک،رواداری اور فیاضی تاریخ کی روشن اور تابندہ مثالیں بنتا چلا گیا…!!!
    لیکن ملتِ اسلامیہ پر ظلم و ستم کی خونچکاں داستاں اور خونِ مسلم کے ارزاں ہونے کی ایک الگ ہی کہانی ہے۔
    اپنے تئیں مہذب کہلانے والی اقوام نے جب بھی غلبہ پایا تو اخلاقی گراوٹ اور ذہنی پستی اور درندگی کی انمٹ تاریخ رقم کر دی…!!!
    ساٹھ کی دہائی میں عربوں کے سینے میں خنجر پیوست کرتے ہوئے اسرائیل اور یہودی آباد کاری کی بنیاد رکھی گئی اور فلسطین کے نہتے مظلوم مسلمانوں کی سر زمیں پر ناجائز قبضہ،مکانات کی مسماری،فصلوں کی تباہی اور بے در و گھر کر دینا اب ایک معمول کی بات بن چکی ہے…
    مسئلہ کا دو ریاستی حل ایک خواب بنتا جا رہا ہے اور اسرائیلی ستم ظریفی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے…
    گزشتہ روز گوگل اور ایپل ایپلیکیشن میپ سے فلسطین کا نام حذف کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ بہت پہلے کے آغاز کا ایک تسلسل ہے…
    وہ قبلہ اوّل جو غیر مسلموں کے ہاتھوں تاریخ میں بار بار تاخت وتاراج ہوا،
    پون صدی سے ایک بار پھر کسی عمررضی اللّٰہ یعنی اور صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کی راہ تک رہا ہے…
    کہ جب عمر اپنے غلام کو سواری پر بٹھائے اپنی چلنے کی باری پر سواری کی لگام تھامے پیوند زدہ لباس کے ساتھ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو عیسائی سربراہان ششدر رہ گئے تھے کہ یہ ہے مسلمانوں کا خلیفہ؟
    اور بیت المقدس کی چابیاں عمر کے حوالے کر دی گئیں۔
    اے تاریخ کےورقِ روشن…
    ہمیں تُجھ پر ناز ہے…!!!
    تاریخ نے ٹھہر کر وہ داستان بھی اپنے سینے میں محفوظ کر لی تھی جب 1176ء میں ایک صلیبی سردار کی حرکات جو یروشلم کے عیسائی بادشاہ اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے درمیان معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی تھی تو سلطان حرکت میں آیا…
    جو اس کی اخلاقی،سیاسی،ملی اور مذہبی نقطۂ نظر سے بہترین حکمتِ عملی تھی۔
    اور اس نے یروشلم کو عہد شکن قوم کے شکنجے سے آزاد کروا لیا تھا۔
    مگر فاتح بن کر ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی پامالی کی داستانیں رقم نہیں کی گئی تھیں،بلکہ محکوم عیسائیوں کے ساتھ سلطان کا حسنِ سلوک تاریخ کا جھومر بن گیا اور عیسائی مؤرخین اس بات کا اعتراف کیئے بغیر نہیں رہ سکے کہ:
    Even the Christian Europe,Saladin was justly celebrated and admired for his generous treatment of his defeated enemies…
    (Bernard Lewis).
    لیکن آج امت قحط الرجال کے دور سے گزر رہی ہے…
    کڑا اور عجب وقت درپیش ہے،بحرانوں کا تسلسل ہے…اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے اور زخم ہیں کہ بڑھے جا رہے ہیں…
    حالیہ سالوں میں لاکھوں بے گناہ مسلمان موت کے گھاٹ اتر گئے،
    اتنے بڑے انسانی المیے پر انسانی حقوق کے داعی بھی مہر بہ لب رہے…
    ہاں یقینًا کہ ان کا کام صرف مشاہدہ ہے،دخل اندازی نہیں…!!!
    کیا صرف مشاہدے کیئے جاتے رہیں گے اور مسلمان ممالک ایک ایک کر کے ظلم و تباہی کی نت نئی رنگینیوں میں رنگے جاتے رہیں گے…؟؟؟
    دنیا کے نقشہ پر موجود حل طلب دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے کیا نقشے سے ہی حذف کر دیا جائے گا…؟
    ہمیں سمجھنا پڑے گا کہ اپنے مسائل کا حل ہمیں خود تلاشنا ہو گا…
    انسانیت کے حقوق کا عَلم ہم نے خود تھامنا ہو گا…
    تاریخ کی نظر کسی عمر و ایوبی کے حقوقِ انسانی اور حسن و فیاضی سے لبالب بھرے کردار کو تلاش رہی ہے…!!!
    ہمیں آوازِ ضمیر کو شدت سے دبا دینے کی بجائے اسے دنیا میں بلند کرنا ہو گا تبھی ہم اپنا معیار،مقام اور وقار بچا اور بحال رکھ پائیں گے ورنہ سازشوں کا دیو ہیکل اژدھا آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا…!!!
    حکیم الامت نے اس درد کو کیا خوب بیان کیا تھا:
    بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے،
    یہ مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے۔
    اے لا الہ الا اللّٰہ کے وارث،باقی نہیں ہے تجھ میں…
    گفتارِ دلبرانہ…کردارِ قاہرانہ…!!!
    ===============================

  • مسئلہ فلسطین کے خلاف سازش   از قلم : حدیفہ رضا

    مسئلہ فلسطین کے خلاف سازش از قلم : حدیفہ رضا

    مسئلہ فلسطین کے خلاف سازش…!!!
    از قلم۔۔۔۔۔حدیفہ رضا
    ہے خاکِ فلسطین پر یہودی کا اگر حق۔۔!!
    ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اَہلِ عرب کا۔۔۔!!
    مقصد ہے ملوکیتِ افرنگ کا کچھ اور۔۔۔!!
    قصہ نہیں تاریخ کایا شہد ورطب کا۔۔۔!!
    فلسطین..
    یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان میں آتا ہے ۔اسکا دارالحکومت بیت المقدس ہے۔جو یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں کیلئے مقدس ہے۔یہ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔
    انبیاء کی اس سر زمین پر پچھلے ایک صدی سے صیہونیوں نے قبضہ جما رکھا ہے ۔اور اس پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے جانے لگے ہر روز کی قتل و غارت اور جنگیں، اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ فلسطین کے نام کو دنیا کے نقشے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ۔ایسی صورتحال میں القدس کو ہماری ضرورت ہے وہ منتظر ہے ہم اسکی آواز پر لبیک کہیں جیسے آج سے صدیوں پہلے صلاح الدین ایوبی نے کہتے ہوئے اسکو آزاد کروایا تھا ۔صلاح الدین ایوبی جیسی شمع بجھنے کے بعد تو مسلمانوں کی بہادری، غیرت اور جہادی جذبہ بھی دنیا سے رخصت ہو گیا ۔
    جس دن صلاح الدین ایوبی اس دنیا سے گئے اس دن القدس بھی اشکبار تھی اپنے فاتح کو رخصت ہوتا دیکھ کر۔اور وہ دن القدس کے آنسوؤں کا آخری دن نہ تھا بلکہ اب اس کیلئے آنے والا ہر دن غمگین تھا ۔اس کے بعد سے اب تک صدیاں بیت گئی لیکن القدس کے آنسو پونچھنے کوئی صلاح الدین ایوبی پیدا نا ہوا۔اور القدس کی آنکھیں راہ تکتی رہی اپنے فاتحین کا۔
    اے امت مسلمہ…!
    القدس کے بام و در تمہارے انتظار میں ہیں ۔کیا تمہیں اپنے قبلہ اول سے محبت نہیں؟ وہ سوال کر رہی ہیں آج کی مسلم ماؤں سے کیا انھوں نے عمرو بن العاصؓ اور صلاح الدین ایوبی جیسے بیٹے پیدا کرنے چھوڑ دییے ہیں؟ کیا آج کی ماؤں میں اب وہ خولہ اور صفیہ جیسا جذبہ باقی نہیں رہا؟ وہ جواب طلب کر رہی ہے آج کے ہر مسلمان سے جو اپنے بیت المقدس کو بھولے بیٹھا ہے۔
    وہ یاد کر رہی ہے اس وقت کو جب عمرو بن العاصؓ اور انکے ساتھیوں نے بیت المقدس کو کفار سے آزاد کروایا تھا۔بلالؓ صحابی آپؓ کے ساتھ تھے یہ وہ صحابی تھے جو نبی کریم ؐ کی وفات کے بعد ایسے چپ ہوئے کہ لوگ آپکی آواز کو ترس گئے تھے ۔بیت المقدس کی فتح پر جب آپکی آواز بیت المقدس کی دیواروں سے ٹکرائی تو ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔
    اے امت مسلمہ کے لوگو..!
    عمرو بن العاصؓ اور صلاح الدین ایوبی کے بعد مسجد اقصی آذان کو ترس گئی ہے ۔وہ آج تک کسی مؤذن کی راہ دیکھ رہی ہے ۔وہ عظیم مسجد جس کی آواز پوری دنیا سنتی تھی اس میں آج تک خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔صلیبوں نے ان آوازوں کا گلا گھونٹ رکھا ہے ۔اور جب ان سے بھی انکا دل نا بھرا تو اب ارض فلسطین کا نام دنیا سے ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔اے مسلم..! اب اور کتنا تماشا دیکھنا ہے؟ فلسطین پر قبضہ ہوا ہم خاموش رہے۔اس میں رہنے والوں پر ظلم ڈھائے گئے ہم خاموش رہے اور جب فلسطین کو دنیا کے نقشے سے ختم کیا جارہا ہے تو کیا اب بھی چپ رہو گے..؟
    بیت المقدس وہ عظیم جگہ ہے جہاں حضرت عیسی علیہ السلام نے بنی نوع انسان کو محبت کا سبق دیا ۔وہاں ان صلیب کے ماننے والوں نے اس حد تک درندگی کی کہ جب انہیں کسی محاذ پر فتح ہوتی تو وہ بیت المقدس میں جشن مناتے جس میں ہماری بہنوں بیٹیوں کو بے آبرو کیا گیا اور مسلمانوں کو ذبح کرکے انکا گوشت پکا کر کھاتے… اب تمہیں ہر ایک معصوم کا بدلہ لینا ہوگا جو بیت المقدس کی محبت میں شہید ہوا تمہیں بدلہ لینا ہیں ان معصوم بچوں کا جن کو بیت المقدس کی گلیوں میں بے دردی سے قتل کیا گیا ان بہنوں کا بدلہ لینا ہیں جن کی مسجد اقصی میں آبروریزی کی گئی ۔بیت المقدس کی دیواروں سے آج بھی ان بیٹیوں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں انکو جو دل میں بیت المقدس کا درد رکھے ہوئے ہے ۔
    یاد رکھو..!
    یہ کوئی ذاتی جنگ نہیں ہے ۔نہ ہی کسی حکمران کی حکمرانی کے تحفظ کیلئے لڑی جانے والی لڑائی ہے ۔یہ انفرادی لڑائی ہے ۔یہ اسلام کے تحفظ کی جنگ ہے یہ القدس کو آزاد کرانے کی جنگ ہے۔یہ جنگ کلیسا اور کعبہ کی جنگ ہے۔جو آخری وقت تک لڑی جائے گی جب تک مسلمان اپنی کھوئی ریاستیں واپس نہیں لے لیتے، جب تک وہ اللہ کے ان احکامات کی طرف واپس نہیں پلٹتے جسے وہ بھولے بیٹھے ہیں ۔یہ وہ جنگ ہے جو دنیا میں موجود ہر مسلمان پر فرض کردی گئی ہے ۔کیونکہ یہ دین اسلام کے لیے لڑی جانے والی جنگ ہے۔(ان شاءاللہ)

    اے میری مسجد اقصی…!
    دل تیرے حال پر ہے غمزدہ…!
    نبی کریم ؐجہاں سے گئے معراج پر…!
    تو ہے وہ عظمتوں والی جگہ…!
    گونجی تھی آذان تیرے اندر…!
    جو دی تھی صحابی بلال ؓ نے…!
    آج بھی تو ترس رہی ہے..!
    آذان کیلئے دے رہی ہے صدا..!
    تو پکار رہی ہے آج کے مسلمان کو..!
    جو ہے غفلت کی نید سو رہا.!

  • اللہ رب العزت کے ہر فیصلہ میں حکمت ہوتی ہے   تحریر:منہال زاہد سخی

    اللہ رب العزت کے ہر فیصلہ میں حکمت ہوتی ہے تحریر:منہال زاہد سخی

    منہال زاہد سخی

    زندگی میں کامیابی کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔ جن کے تحت زندگی گزار کر انسان اپنی منزل پر قدم رکھتا ہے ۔ ویسے تو کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں ایسے موضوعات پر ۔ اس کے برعکس قرآن کریم ایسے واقعات کا مجموعہ ہے ۔ جو ہمیں ہر زندگی کے ہر موڑ پر ہر مشکل وقت میں ہر رنج و الم کے موقع پر اس کائنات کا سب سے بہترین رہنما ثابت ہوتا ہے ۔ اگر شوق و ذوق اور غور و فکر سے اس کو ترجمہ بمع تفسیر پڑھا جائے تو ہمیں اپنی ہر مشکل کا حل مل جائے ۔ قرآن مجید میں 30 سپارے 114 سورتیں ہیں ۔ اور ان ہی سپاروں اور سورتوں میں کئی ایک واقعات ہیں ہماری رہنمائی کیلئے ۔ جن میں سے ایک سورت کہف ہے جس کی فضیلت بہت زیادہ ہے ۔ اس سورت کو جمعہ مبارک کے دن خصوصاً پڑھا جاتا ہے ۔ اس کو ہر جمعہ پڑھنے سے دنیا کے سب سے بڑے فتنے دجال سے محفوظ ہوا جاتا ہے ۔ اس سورت میں چار واقعات ہیں ۔ جن میں سے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ بھی ہے ۔ اس واقعہ میں چند ایک کامیابی کے بڑے اصول ہیں ۔

    حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جب آپس میں ملے تو حضرت خضر نے ایک بات کہی میرے ساتھ صبر سے رہنا ہوگا ۔ دونوں ایک کشتی میں سوار ہوئے ۔ منزل پر پہچنے پر حضرت خضر نے کشتی کے تختے توڑ دئے ۔ جس پر حضرت موسٰی کا صبر جواب دے گیا اور پوچھا یہ کہ کشتی کے تختے کیوں توڑے ۔ حضرت خضر نے جواب دیا ۔ میں نے کہا تھا تم نہیں رہ پاؤ گے ۔ حضرت موسیٰ نے کہا اب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے ۔ دونوں نبی پھر اکٹھے سفر کرنے لگے ۔ ایک جگہ ایک لڑکے کو حضرت خضر نے قتل کردیا ۔ حضرت موسیٰ نے پھر پوچھا یہ کیوں قتل کیا ۔ حضرت خضر نے کہا میں نے کہا تھا میرے ساتھ نہیں رہ پاؤ گے ۔ حضرت موسیٰ نے کہا انشاللہ اب مجھے صبر کرنے والوں سے پائیں گے ۔پھر سفر شروع ہوا آگے جاکر ایک بستی میں رکے تو بستی والوں نے مہمان نوازی سے انکار کردیا ۔ اسی بستی میں ایک دیوار تھی جو گرنا ہی چاہتی تھی ۔ حضرت خضر نے اس دیوار کی مرمت کرکے اس کو درست کردیا ۔ اس پر حضرت موسیٰ نے کہا ایک تو بستی والوں نے مہمان نوازی نہیں کی اور دیوار مرمت کردی ۔ آپ یہ اجرت پر بھی کر سکتے تھے ۔ اس پر حضرت خضر نے کہا اب سے ہمارے راہیں جدا ہیں ۔ آخر میں تمہیں بتا دیتا ہوں یہ سب کچھ کیوں کیا ۔ میں نے کشتی کے تختے اس لئے توڑے وہاں کا بادشاہ ظالم تھا جو صحیح کشتیوں پر قبضہ کرلیتا تھا ۔ اور وہ کشتی پانی میں کام کرنے والے کچھ نیک لوگوں کی تھی ۔ جس لڑکے کو قتل کیا اسکے والدین نیک تھے ۔ اور وہ بڑا ہوکر نافرمان بنتا اس لئے قتل کیا اور اللّٰہ انھیں پاکیزہ اولاد دے گا ۔ اور جو دیوار مرمت کی اسکے نیچے دو یتیم بچوں کا مال تھا ۔ اللّٰہ کی چاہت تھی کہ جب وہ بڑے ہوجائیں تو اپنا خزانہ نکال لیں ۔ اس کے بعد دونوں کے راستے جدا ہوگئے ۔ آئیے دیکھتے ہیں اس واقعہ میں ہمارے لئے کیا سبق ہے ۔

    1 سبق : اللہ رب العزت کے ہر فیصلہ میں حکمت ہوتی ہے ۔

    2 سبق : اللّٰہ رب العزت تقسیم پر خوش رہنا چاہیے کسی کو کم دے کر آزماتا ہے کسی کو زیادہ دے کر آزماتا ہے ۔ پھر چاہے وہ دولت ہو عزت ہو یاں پھر علم و دانائی ہو ہمیں اس پر شکر ادا کرنا چاہیے جتنا بھی ہمارے پاس ہو ۔

    3 سبق : اللّٰہ رب العزت ہر بندے کو اس کے مطابق عطا کرتا ہے ۔

    4 : اللّٰہ نیک اولاد کی خود حفاظت کرتا ہے ۔ جس طرح ان کے خزانے کی حفاظت فرمائی ۔

    5 سبق : سب سے اہم سبق صبر جب آپ زندگی کے ایسے موڑ پر آگئے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا میں ہر طرف سے مشکلات ہی مشکلات ہیں ۔ تو ایسے حالات سے آپ کو صرف ایک چیز باہر کرسکتی ہے ۔ اور وہ ہے صبر آپ اتنا صبر کریں کہ ان مشکلات میں خود کو ڈھال دیں یاں پھر ان مشکلات کی زنجیر کو توڑ دیں ۔ اگر حضرت موسیٰ صبر کرتے تو حضرت سے خضر کے ساتھ رہ کر بہت کچھ حاصل کرسکتے تھے ۔

    6 سبق : اللّٰہ ہر انسان کو رہنما عطا کرتا ہے اس کی زندگی میں اب وہ اس پر ہے کہ اس کو پہچان کر اس کا فائدہ اٹھائے یاں اس کو نظر انداز کرکے خود کو کامل سمجھنے لگے ۔

    7 سبق : اللّٰہ اپنے نیک بندوں کا کبھی برا نہیں چاہتا ۔

    8 سبق : اللہ اپنے بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے ۔ ان کے مال کی ان کی ہر چیز کی ۔

    9 سبق : ہم ایسا بہت کچھ نہیں جانتے جو ہمارا رب جانتا ہے ۔ دنیا میں ایسے بہت سے واقعات ہیں ۔ جو ہمیں الٹ نظر آتے ہوں لیکن ہوسکتا ہے اللّٰہ ان واقعات میں اپنے نیک بندوں کی حفاظت اور ان سے کام لے رہا ہو ۔

    10 سبق : اللّٰہ ہر برے کے بدلے اچھا عطا کرتا ہے

    (نوٹ : مجھے اتنا تو دین کا علم نہیں اگر کوئی غلطی ہو تو اصلاح فرمائیں نہ کہ فتویٰ جاری کریں ۔ شکریہ 🥰 )

    #قلم_سخی
    #اسلامی_پاکستان
    #افضل_اسلام
    #SAKHI
    #Pakistani🇵🇰
    #القرآن

  • رابی  پیرزادہ نے غریبوں کا برانڈ متعارف کرا دیا

    رابی پیرزادہ نے غریبوں کا برانڈ متعارف کرا دیا

    گذشتہ سال اسلام کی خاطر شوبز اکو خیر باد کہنے والی گلوکارہ رابی پیر زادہ نے کپڑوں کا نیا برانڈ متعارف کرا دیا-

    باغی ٹی وی : رابی پیر زادہ نے کہڑوں کا نیا برانڈ متعارف کرایا جس کا نام انہوں نے رابی سٹیچڈ غریبوں کا برانڈ رکھا ہے- رابی پیر زادہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی تصاویر شئیر کیں جس میں انہوں نے سفیر رنگ کا لانگ قمیض اور لال پاجامہ زیب تن کیا ہوا ہے جبکہ گہرے سبز رنگ کے دوپٹے سے حجاب کر رکھا ہے رابی کی قمیض پر یہ سب میری ساس کی دُعا ہے الفاظ دھاگے کی کڑھائی سے کُندہ کئے ہوئے ہیں –


    تصاویر شئیر کرتے ہوئے رابی نے پیغام دیا کہ یہ برانڈ غریب خواتین کا ہے-

    انہوں نے لکھا کہ محض 1500روپے میں کپڑا، سلائی، ہاتھ کی کڑھائی سب حاصل کریں۔

    رابی نے لکھا کہ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ سب خواتین اپنا رزق خود کما سکیں۔ اپنی پسند کے الفاظ اپنی شرٹ پر لکھوائیں۔ سلائی کڑھائی الگ سے بھی کروا سکتے ہیں۔

    رابی پیر زادہ نے لکھا کہ long shirt میں آپ لمبی اور سمارٹ لگتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کونٹیکٹ نمبر بھی دیا جس پر کونٹیکٹ کر کے آرڈر دیا جا سکتا ہے-‬

  • یونس ایمرے ڈرامہ کیا ہے؟

    یونس ایمرے ڈرامہ کیا ہے؟

    یونس ایمرے ڈرامہ کیا ہے؟

    اس میں اسلامی تصوف کو کافی بہتر انداز میں سمجھایا ہے جو حضرات تصوف کو اور پیری مریدی کو بالکل خاطر میں نہیں لاتے اور اسے جہالت سمجھتے ہیں انکے لئے بطور خاص ہے
    اس میں ایسے ہی یونس نامی ایک عالم دین کا ذکر ہے جو نالیحان میں قضا کے عہدے پر بیٹھتا ہے اور خانقاہی نظام کو ڈھکن سمجھتا ہے، بزرگی اور ولایت ہوائ باتیں سمجھتا ہے اور علمی شگوفے حل کرنے کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے

    یونس ایمرے عشق کا سفر: یہ چودہویں صدی کی بات ہے کہ اناطولیہ میں سلجوقوں کی باقیات سلاجقہ روم کے عنوان سے برسراقتدار تھی۔ انکی شمالی سرحد پر صلیبی بیٹھے تھے تو مشرق میں بغداد کو خلیفہ سمیت اکھاڑ پھینکے والے تاتاریوں نے طوفان کھڑا کر رکھا تھا۔ یوں مسلمانوں کی قوت و شوکت اور مسلم فرمان رواؤں کا وہ پہلے سا جاہ و جلال قصے کہانیوں تک محدود ہوچکا تھا۔

    پایہ تخت قونیا میں مولانا جلال الدین رومی کی خانقاہ تھی جہاں گرد و پیش کے حالات سے قطع نظر ہر روز معرفت کی محفل سجتی، مراقبے کی خاموشی چھاتی، زکر کی گونج سے در و دیوار لرزتے اور اور پھر رقص بے خودی میں آتش عشق بڑھک اٹھتا تھا۔ رومی ثانی کہلائے جانے والے یونس ایمرے تصوف سے بیزار تھے، انہوں نے قونیہ میں خود کو علم کی گھتیں سلجھانے اور شریعت کے مسئلے سمجھنے میں مصروف رکھا۔ مدرسے سے فارغ ہوئے تو قاضی کا منصب دیکر قونیا سے دور مضافاتی قصبے میں بھیج دئے گئے۔ شہر پناہ میں تصوف سے بھاگنے اور رومی سے متاثر نہ ہونے والا قاضی مگر پہاڑوں میں ایک صوفی چرواہے تاپتک ایمرے کو دل دے بیٹھا۔

    پہلے تاپک ایمرے یونس کے پیچھے بھاگتا تھا اور اب یونس تاپک ایمرے کے پیچھے ایسا بھاگنے لگا کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ یونس سے یونس ایمرے ہوگیا۔ پہلے مقام قضاء کو ٹھکرا کر صوفی ہوا اور پھر حکمت کی باتوں کو شعر کے روپ میں ڈھالنے لگا۔ کہتے ہیں کہ رومی اور یونس ایمرے ایک ہی کشتی کے دو سوار تھے مگر دونوں میں فرق صرف انداز تخاطم کا تھا۔ رومی نے ترک اشرافیہ میں رائج فارسی زبان کو اختیار کیا اور ایمرے چراگاہوں میں بولی جانے والی قدیم ترکی میں گویا ہوئے۔ یوں جہاں رومی کا فلسفہ جلد ہی قونیا کے دربار سے ہوتا ہوا ایران اور ہندوستان تک پھیل گیا وہیں ایمرے کے گیت خانہ بدوشوں کی خوشی غمی کا حصہ بن گئے۔ آج قریب نو سو سال گزرگئے ہیں اور بات ٹھیک وہی ہے۔

    ترکی کے سرکاری چینل پر چلنے والی مقبول سیریز "یونس ایمرے” ترکوں کے اسلامی تصوف، عارفانہ کلام اور لوک گیتوں سے دیرینہ اور توانا تعلق کا ایک مظہر ہے۔ جہاں یہ ڈرامہ یونس ایمرے کی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں وہیں جابجا اسکا موضوع شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے مابین قدیم بحث کے پیچھے بھی گھومتا نظر آتا ہے۔ آخر کس طرح ظاہر پر یقین رکھنے والا قاضی سرکاری عہدہ اور پرآسائش زندگی چھوڑ کر درگاہ کا رخ کرتا ہے، آخر وہ کیا بات ہوتی ہے کہ کتابوں کی کتابیں حفظ کرلینے والا بندہ ہر سوال پر ‘مجھے نہیں معلوم” کہتا سنا جاتا ہے۔ آخر وہ کونسے حالات ہوتے ہیں کہ شاعری کو گمراہی سمجھنے والا کتابی بندہ جنگ قوس دگ کا مرثیہ لکھتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اسلامی تصوف پر اس سے پہلے کبھی کوئی اتنا شاندار ڈرامہ بنایا گیا ہو۔

    وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

  • انوشے اشرف اوریاسر حسین کا لائیو ویڈیو کے دوران  تلخ جملوں کا تبادلہ

    انوشے اشرف اوریاسر حسین کا لائیو ویڈیو کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ

    پاکستان شوبز انڈسڑی کے معروف اداکار یاسر حسین اور نامور میزبان انوشے اشرف کے درمیان لائیو ویڈیو کے دوران غیر ملکی فنکاروں کو لے کر بحث و مباحثے کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا-

    باغی ٹی وی : اپنے ایک انٹر ویو میں اسرا بلجیک نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے تین مختلف برانڈز کے ساتھ کام کرنے والی ہیں اور وہ اس بات کا باقاعدہ اعلان کچھ دن میں ایک پریس ریلیز کے ذریعے کریں گی۔تاہم اب گذشتہ روزان میں سے ایک برانڈ کے لیے اداکارہ کے اشتراک کا اعلان ہوگیا ہے اور انہیں ایک موبائل کمپنی کا برانڈ ایمبسیڈر بنادیا گیا ہے۔

    اسمارٹ فون کمپنی کیو موبائل نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اعلان کیا تھا کہ ترک اداکارہ ان کی نئی ڈیوائس ویو میکس پرو کے لیے برانڈ ایمبیسڈر بن گئی ہیں کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ پہلا پاکستانی برانڈ ہے جس نے ارطغرل ڈرامے سے شہرت پانے والی اداکارہ کو اپنے نئے فون کی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

    کمپنی کے اس اعلان کے بعد اداکار یاسر حسین نے غیر ملکی برانڈ ایمبیسیڈر کے خلاف آواز بلند کی جس کی حمایت اداکارہ ایمن خان اور اداکارہ منال خان نے بھی کی-

    یاسر حسین نےاپنی انسٹاگرام سٹوری میں لوگوں سے سوال پوچھا تھا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر پاکستانی ہونی چاہئے؟ نہ بھارتی اور نہ ترک اداکارہ؟یاسر حسین نے کہا تھا کہ کیا ماہرہ خان، صباقمر، سونیاحسین، منال خان، ایمن خان، امر خان، زارا نور عباس، ہانیہ عامر ، ثنا جاوید، یمنی زیدی، ارمینہ خان، سارہ اور حرامانی کوئی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر بن سکے؟

    یاسر حسین نے لکھا تھا کہ پاکستانی اداکاراؤں کو سپورٹ کریں پاکستان زندہ باد۔ یاسر حسین نے اپنی اہلیہ اقرا عزیز کا نام نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اقرا کانام اس لیے نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی ایک موبائل برانڈ کی ایمبسیڈر ہے۔

    یاسر حسین کے ان بیانات کے بعد پاکستان شوبز انڈسٹری کے فنکار اس موضوع پر بٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں کچھ فنکاروں کا کہنا ہے کہ فنکاروں کے فن کی کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ ترکش ڈرامے کی کامیابی کے بعد ترک اداکار بھی پاکستان میں آئیں گے جس سے مقامی فنکاروں کا نقصان ہوگا ۔

    حال ہی میں اس حوالے سے میزبان انوشے نے یاسرحسین کا لائیو انسٹا سیشن کے ذریعے انٹرویو کیا انٹرویو کے دوران انوشے کی جانب سے یاسر حسین سے سوال کیا گیا کہ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ پاکستان میں بین الاقوامی اداکاروں کو نہیں آنا چایئے اور انہیں یہاں کام نہیں ملنا چاہیے ؟
    https://www.instagram.com/p/CCwH9-XFw8G/?igshid=1an7x92n3jevz
    اس پر جواب دیتے ہوئے یاسر حسین کا کہنا تھا کہ اگر کوئی باہر سے اداکارہ پاکستان آتی ہے تو اُسے پہلے یہاں آ کر ایک سال محنت کرنی چایئے جیسی ہماری اداکارائیں دن رات محنت کرتی ہیں یاسر حسین نے ترکش اداکارہ ایسرا بیلجک سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ پاکستان آئی بھی نہیں وہ تو اپنے شوٹ بھی اپنے ملک میں کرا رہی ہیں وہ پاکستان آتی کراچی یا پشا ور میں اُن کا اشتہار تیار ہوتا تو یہاں کی عوام کو بھی پیسہ ملتا ۔

    اس پر انوشے اشرف کا کہنا تھا کہ ایک یا دو کمرشل سے کیا ہو جاتا ہے انوشے نے بھارتی اداکارہ کرینہ کپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی پاکستانی برانڈ کی ایمبیسیڈر بن چکی ہیں ۔

    یاسر حسین کا انوشے کی اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنا تھا کہ اُنہیں اس بات پر حیرانی ہو رہی ہے کہ اگر آپ نہیں سمجھ رہی تو باقی عوام کیسے سمجھے گی-

    یاسر ھسین کی اس بات پر انوشے اشرف نے تیز لہجے میں بات کی جس پر یاسر حسین نے کہا کہ اپنا اپنا موقف ہوتا ہے میرا موقف ہے جکہ اسطرح نہیں ہونا چاہیئے جبکہ آپ کا موقف ہے کہ غیر ملکی اداکاروں کو ملک میں اتنا پروٹوکول دینے میں کوئی حرج نہیں تو میں تو نہیں آپ کی باتوں کا بُرا مان رہا آپ کیوں بُرا مان رہی ہیں-

    کیا پاکستانی اداکاراؤں میں کوئی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر بن سکے؟ یاسر حسین

    اسرا بلجیک پہلی پاکستانی کمپنی کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

    دوسرے ممالک کے فنکاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں اور اپنے لوگوں کو غیر محفوظ محسوس نہ کروائیں ، آغا علی کا اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

    پاکستانی فنکاروں کا اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

  • بھارتی گلوکارہ لتا کا ہیما منگیشکر سے لتا منگیشکر تک کا سفر

    بھارتی گلوکارہ لتا کا ہیما منگیشکر سے لتا منگیشکر تک کا سفر

    بالی وڈ لیجنڈری اور عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ لتا منگشیکر ایک ہندوستانی پلے بیک گلوکارہ اور میوزک ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے ایک ہزار سے زیادہ ہندی فلموں میں گانے ریکارڈ کروائے ہیں اور چھتیس سے زیادہ علاقائی ہندوستانی زبانوں اور غیر ملکی زبانوں میں گانے گائے ہیں ، بنیادی طور پر مراٹھی ، ہندی ، بنگالی اور آسامی زبان میں گانے ریکارڈ کروائے ہیں-

    لتا منگشیکر 28 ستمبر 1929 کو اندور میں پیدا ہوئیں اندور میں ایک مراٹھی اور کونکانی موسیقارپنڈت دیناناتھ منگیشکر اور ان کی اہلیہ شیونتی کی بڑی بیٹی ہیں- ان کے والد ، پنڈت دینا ناتھ منگیشکر ، کلاسیکی گلوکار اور تھیٹر اداکار تھے۔ ان کی والدہ ، شونتی بمبئی پریذیڈنسی شمال مغربی مہشٹرا، تھالنر کی ایک گجراتی خاتون تھیں ، اور پنڈت دینا ناتھ کی دوسری بیوی تھیں۔ ان کی پہلی بیوی نرمدا ،شیونتی کی بڑی بہن تھیں جو وفات پا گئیں تھیں-ان کی وفات کے بعد دیناناتھ نے شیونتی سے شادی کی تھی-

    لتا کے دادا ، گنیش بھٹ نواٹھے ہردیکر (ابھیشیک) ، کرہڈے برہمن پجاری تھے جنہوں نے گوا کے منگشیشی مندر میں شیوا لنگم کا ابھیشیکم کیا تھا ، اور ان کی پتنی ، لتا کی دادی یسوبائی رین کا تعلق گوا کے گومنتک مراٹھا سماج برادری سے تھا۔

    لتا کے ماموں گجراتی تاجر سیٹھ ہریداس رامداس لاڈ ، ایک خوشحال تاجر اور تھلنر کے جاگیردار تھے۔ اور منگیشکر نے گجراتی لوک گیتوں جیسے پاواگڑھ کے گرباس کو اپنی نانی سے سیکھا تھا-

    اس کنبے کا آخری نام ہردیکار تھا۔ دینا ناتھ نے گوا میں اپنے آبائی شہر منگیشی سے اپنے کنبے کو نئی شناخت دینے کے لئے اس کو منگیشکر میں تبدیل کردیا۔ لتا کی پیدائش کے وقت نام”ہیما” رکھا گیا تھا۔ بعد میں ان کے والد نے اپنے ایک ڈرامے بھاؤبندھن میں خاتون لاتیکا کے نام سے لتا کا نام تبدیل کردیا۔

    لتا منڈت دینا ناتھ کی سب سے بڑی اولاد ہیں ان کے بعد بالترتیب مینا ، آشا ، اوشا ، اور ہری ناتھ ہیں یہ تمام بہن بھائی کامیاب گلوکار اور موسیقار ہیں۔

    لتا نے موسیقی کا پہلا سبق اپنے والد سے حاصل کیا۔ پانچ سال کی عمر میں ، انہوں نے اپنے والد کے میوزیکل ڈراموں (مراٹھی میں سنگیت ناٹک) میں بطور اداکارہ کام کرنا شروع کیا۔ انہوں نے اسکول کی پڑھائی اس لئے چھوڑ دی تھی کیونکہ وہ انہیں ان کی چھوٹی بہن آشا کو اپنے ساتھ نہیں لانے دیتے تھے ، کیونکہ وہ اکثر اپنی چھوٹی بہن کو بھی ساتھ لاتی تھیں۔

    لتا نے اپنا ابتدائی فنی کرئیر 1942 سے شروع کیا- 1942 میں ، جب لتا 13 سال کی تھیں ، ان کے والد دل کی بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ماسٹر وینائک (ونایاک دامودر کرناٹاکاکی) ، نیویگ چِر پٹ فلم کمپنی کے مالک اور منگیشکر خاندان کے ایک قریبی دوست تھے انہوں نے ان کی دیکھ بھال کی۔ انہوں نے بطور گلوکارہ اور اداکارہ کیریئر کے آغاز میں لتا کی مدد کی۔

    لتا نے "ناچو یا گاڈے ، کھیلو ساری مانی ہوس بھری” کا گانا گایا ، اس گانے کو (1942) میں سداشیو راو نے وسانت جوگلیکر کی مراٹھی فلم کیٹی ہاسال کے لئے کمپوز کیا تھا ، لیکن یہ گانا آخری کٹ سے خارج کردیا گیا تھا۔

    بعد ازاں وینائک نے انہیں (1942) میں ہئ نویگ چیتراپاٹ کی مراٹھی فلم پہیلی منگالہ گاڑ میں ایک چھوٹا سا کردار دیا ، جس میں انہوں نے "ناتالی چیٹراچی نوالائی” گایا تھا ، جسے دادا چانڈیکر نے کمپوز دیا تھا- ان کا پہلا ہندی گانا (1943) میں بنی مراٹھی فلم گجاباؤ کے لئے "ماتا ایک سپوت کی دنیا بدل دے تو” تھا۔

    جب 1945 میں ماسٹر ونائیک کی کمپنی نے اپنا صدر دفتر ممبئی وہاں منتقل کیا تو لتا ممبئی منتقل ہوگئیں۔ انہوں نے بھنڈی بازار گھرانہ کے استاد امان علی خان سے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی سیکھی –

    1948 میں انائیک کی موت کے بعد ، میوزک ڈائریکٹر غلام حیدر نے بطور گلوکارہ ان کی رہنمائی کی۔ انہوں نے لتا کو پروڈیوسر سشادھر مکھرجی سے متعارف کرایا ، جو اس وقت (1948) میں بنائی گئی فلم شہید میں کام کر رہے تھے ، لیکن مکھرجی نے لتا کی آواز کو "انتہائی باریک” کے طور پر مسترد کردیا۔لیکن غلام حیدر مکھر جی کو جواب دیا کہ آنے والے برسوں میں پروڈیوسر اور ہدایتکار "لتا کے پاؤں پر گر پڑے” گے اور "ان سے التجا” کریں گے کہ وہ ان کی فلموں میں گانے گائیں۔ حیدر نے (1948) میں بنائی گئی فلم مجبور میں "دل میرا توڑاا ، مجھے کہیں کا نہ چھورا” کگانا گیا جس سے ان کو پہلی بڑی کامیابی ملی ، ستمبر 2013 میں خود اپنی 84 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک انٹرویو میں ، لتا نے خود اعلان کیا ، "غلام حیدر واقعی میں میرا گاڈ فادر ہے۔ وہ پہلے میوزک ڈائریکٹر تھے جنہوں نے میری صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کیا۔”

    ابتدائی طور پر ، کہا جاتا ہے کہ لتا نے مشہور گلوکارہ نور جہاں کی تقلید کی تھی ، لیکن بعد میں انہوں نے اپنے انداز میں گانے کا انداز تیار کیا۔ ہندی فلموں میں گانوں کی دھن بنیادی طور پر اردو شاعروں پر مشتمل ہیں اور اس میں مکالمے سمیت اردو الفاظ کا زیادہ تناسب ہے۔ اداکار دلیپ کمار نے ایک بار ہندی / اردو گانا گاتے ہوئے لتا کے مہاراشٹرین لہجے کے بارے میں ایک ہلکے سے ناگوار تبصرہ کیا۔ لہذا ایک مدت کے لئے ، لتا نے شفیع نامی اردو ٹیچر سے اردوسیکھنا شروع کی- اس کے بعد کے انٹرویوز میں ، لتا نے کہا ہے کہ نور جہاں نے انہیں بچپن میں ہی سنا تھا اور کہا تھا کہ بہت مشق کریں۔ وہ آنے والے کئی سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں

    ان کی پہلی بڑی کامیاب فلموں میں سے ایک "آئے گا آنے والا” تھی ، فلم محل کا ایک گانا (1949) ، جسے میوزک ڈائریکٹر کھیمچند پرکاش نے تشکیل دیا تھا اور اداکارہ مدھوبالا پر فلمایا گیا تھا-

    لتا منگیشکر فلموں مینا بازار ، آدھی رات، بڑی بہن افسانہ-عدل جہانگیر ، دیدار ، آنسو ،امر، اڑن کھٹولا، برسات ،شری 420 چوری چوری ہاؤس نمبر 44 آجا پردیسی ، عدالت ،جیلر پاکٹ مار، چاچا زندہ بادامر دیپ ، آشا ، پہلی جھلک انارکلی اور دیوداس،پیار کیا تو ڈرنا کیا، مغل اعظم ، مدھو بالا، دل اپنا اور پریت پرائی ،مینا کماری، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، ویر زارا ،پُکار ،بےوفا و دیگر فلموں میں اپنی آوز کے جادو جگایا-

    اپنے ہر دور کے مشہور گلوکاروں کو لیجنڈری اداکارہ کے ساتھ گانا گانے کا موقع ملا، انہوں نے محمد رفیع، مکیش، مہیندر کپور، سونو نگم ، ادت نارائن، کمارسانو، کشور کمار آشا بھوسلے، ثریا، شمشاد بیگم ،اشا منگیشکر، اے آر رحمان ، اور عدنان سمیع سمیت دیگر گلوکاروں کے ساتھ مل کر کام کیا-

    لتا منگیشکر متعدد ایوارڈز اور اعزازات جیت چکی ہیں ، جن میں ہندوستان کا اعلی ترین شہری ایوارڈ (بھارت رتنا) ایوارڈ ، 1969 پدما بھوشن ، 1999 میں پدما ویبھوشن ،1999 میں زی سینی ایوارڈ برائے لائف ٹائم اچیومنٹ اور1989 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ شامل ہیں

    علاوہ ازیں 1997 مین مہاراشٹر بھوشن ایوارڈ ، 1999 میں این ٹی آر نیشنل ایوارڈ ، 2001 میں بھارت رتن ایوارڈ، 2007 میں لیجن آف آنر ، 2009 میں اے این آر نیشنل ایوارڈ ، تین قومی فلم ایوارڈ اور 15 بنگال فلم جرنلسٹ ‘ایسوسی ایشن ایوارڈ جبکہ چار فلم فیئر بیسٹ فیملی پلے بیک ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہیں –

    لیجنڈری گلوکارہ نے 1969 میں ،جدید صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے فلم فیئر کا بہترین خواتین پلے بیک ایوارڈ دینے کا غیر معمولی عندیہ کیا۔ بعدازاں انہیں 1993 میں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور 1994 اور 2004 میں فلم فیئر خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

    1984 میں ، مدھیہ پردیش کی ریاستی حکومت نے لتا منگیشکر کے اعزاز میں لتا منگیشکر ایوارڈ کا آغاز کیا۔ ریاست مہاراشٹرا نے 1992 میں لتا منگیشکر ایوارڈ کا بھی آغاز کیا۔

    2009 میں ، منگیشکر کو فرانس کے اعلی ترین آرڈر ، فرانسیسی لیجن آف آنر کے آفیسر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

    2012 میں ، منگیشکر آؤٹ لک انڈیا کے عظیم ترین ہندوستانی سروے میں 10ویں نمبر پر تھیں-

    دلیپ کمار نے ایک بار کہا تھا ، "لتا منگیشکر کی آواز قدرت کی تکنیک کا ایک کرشمہ ہے ،” جس کا مطلب ہے "لتا منگیشکر کی آواز خدا کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔

    لتا 22 نومبر 1999 سے 21 نومبر 2005 تھ اجیا سبھا کی پارلیمنٹ ممبر بھی رہیں-
    لتا منگیشکر کے سُپر ہٹ اور سدا بہار گانے

  • فجر لقمان، لاہور میں کپڑوں کا نیا برینڈ متعارف

    فجر لقمان، لاہور میں کپڑوں کا نیا برینڈ متعارف

    لاہور:حالیہ برسوں میں پاکستان فیشن انڈسٹری میں بہت ترقی ہوئی ہے۔ عصر حاضر کے ساتھ ہمارا فیشن بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے-

    ہر ایک کو پسند ہے کہ وہ اپنے پہنے ہوئے لباس کا رجحان بنائے۔ پاکستان میں لباس کا ایک ابھرتا ہوا برانڈ ہے جو فیشن اسٹیٹمنٹ بنتا جارہا ہے۔

    ‘فجر لقمان’ لاہور کے جدید ترین لباس برانڈز میں سے ایک ہے جو فیشن انڈسٹری میں اپنی شناخت بنا رہا ہے۔ ایک پرجوش نوجوان لڑکی کے ذریعہ شروع کیا گیا ، یہ برانڈ طرح طرح کے جدید فیشن کے مطابق خوبصورت کپڑوں کی ورائٹی پیش کرتا ہے-

    ڈیزائنر کی اپنی ہی پریرتا ہوتی ہیں ، جو پوری دنیا میں سفر کرنا اور اپنے ملبوسات میں اپنے ڈیزائن تیار کرنا پسند کرتی ہے۔ فجر لقمان ، نوعمر ڈیزائنر uber-chic ڈیزائن کے ساتھ تجربہ کرنا پسند کرتی ہیں-

    مس لقمان جو اس وقت تعلیم حاصل کررہی ہیں ،انہوں نے اس برانڈ کو ایک سال قبل اپنے شوق کے طور پر شروع کیا تھا۔ اب وہ لاہور اور ملک بھر کے گاہکوں کے درمیان اپنی بڑی کامیابی کے ساتھ ، وہ جلد ہی مستقبل میں اس فیلڈ کو اپنائے رکھنے کی ہی خواہش مند ہیں۔

    فجر لقمان برانڈ کا ایک صفحہ انسٹاگرام اور فیس بک دونوں پر تشکیل دیا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل انسٹاگرام صفحہ میں خود ڈیزائنر کے ذریعہ پوری ر توجہ کے ساتھ ڈیزائن کردہ کپڑوں کی تصاویر آویزاں ہیں:
    https://www.instagram.com/p/CBOLNV-p44n/
    https://www.instagram.com/p/CBOLTviJAvZ/
    https://www.instagram.com/p/CBOLadyJ71k/
    مشہور اداکارہ نمرہ خان نے سفید رنگ کی پف آستین ٹاپ میں فجر لقمان برانڈ کے لئے ماڈلنگ کی ہے۔

    فیس بک پیج میں اپنے جدید ترین ڈیزائنوں کی نمائش بھی کی گئی ہے ، جن کو ہر لڑکی آزمانا پسند کرے گی۔

    ڈیزائنر اپنے جدید ڈیزائنوں کے لئے اچھے مواد کا انتخاب کرتے ہوئے منفرد اور اچھا کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ فجر عام طور پر ریشم ، آرگنزا اور کاٹن پر کام کرتی ہیں۔

    ہم ان کے برانڈ میں طرح طرح کے مغربی اور مشرقی امتزاج دیکھ سکتے ہیں جو پاکستان اور بیرون ملک بھی تمام طبقے کے لئے یکساں موزوں ہیں وہ آن لائن آرڈر لیتی ہیں اور خاص طور پر لباس کی سلائی سے لے کر اس کی ترسیل تک کی مینجمنٹ دیکھتی ہیں-

    یاد رہے کہ اکتوبر 2019 میں ، فجر لقمان نے لاہور میں اپنی پہلی نمائش منعقد کی تھی ، جو ایک مکمل کامیابی تھی۔ حال ہی میں انہوں نے عید پر اپنے نئے ڈیزائن لانچ کیے اور وہ آنے والی عیدالاضحی کی مزید تیاریوں میں مصروف ہیں۔

    باغی ٹی وی نے آئندہ کی کوششوں کی خواہشمند ڈیزائنر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وہ فیشن انڈسٹری میں ترقی اور خوشحالی اور پاکستان کو قابل فخر بنائے-