Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پاکستانی فنکاروں کا اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

    پاکستانی فنکاروں کا اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

    مشہور زمانہ سیریز دیریلیس ارطغرل میں ارطغرل کی اہلیہ کا کردار ادا کرنے والی تُرک اداکارہ اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسیڈڑ بنانے پر تنقید کرنے پر پاکستانی فنکاراداکارہ کی حمایت میں سامنے آ گئے-

    باغی ٹی وی : اپنے ایک انٹر ویو میں اسرا بلجیک نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے تین مختلف برانڈز کے ساتھ کام کرنے والی ہیں اور وہ اس بات کا باقاعدہ اعلان کچھ دن میں ایک پریس ریلیز کے ذریعے کریں گی۔تاہم اب گذشتہ روزان میں سے ایک برانڈ کے لیے اداکارہ کے اشتراک کا اعلان ہوگیا ہے اور انہیں ایک موبائل کمپنی کا برانڈ ایمبسیڈر بنادیا گیا ہے۔

    اسمارٹ فون کمپنی کیو موبائل نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اعلان کیا تھا کہ ترک اداکارہ ان کی نئی ڈیوائس ویو میکس پرو کے لیے برانڈ ایمبیسڈر بن گئی ہیں کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ پہلا پاکستانی برانڈ ہے جس نے ارطغرل ڈرامے سے شہرت پانے والی اداکارہ کو اپنے نئے فون کی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

    کمپنی کے اس اعلان کے بعد اداکار یاسر حسین نے غیر ملکی برانڈ ایمبیسیڈر کے خلاف آواز بلند کی جس کی حمایت اداکارہ ایمن خان اور اداکارہ منال خان نے بھی کی-

    یاسر حسین نےاپنی انسٹاگرام سٹوری میں لوگوں سے سوال پوچھا تھا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر پاکستانی ہونی چاہئے؟ نہ بھارتی اور نہ ترک اداکارہ؟یاسر حسین نے کہا تھا کہ کیا ماہرہ خان، صباقمر، سونیاحسین، منال خان، ایمن خان، امر خان، زارا نور عباس، ہانیہ عامر ، ثنا جاوید، یمنی زیدی، ارمینہ خان، سارہ اور حرامانی کوئی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر بن سکے؟

    یاسر حسین نے لکھا تھا کہ پاکستانی اداکاراؤں کو سپورٹ کریں پاکستان زندہ باد۔ یاسر حسین نے اپنی اہلیہ اقرا عزیز کا نام نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اقرا کانام اس لیے نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی ایک موبائل برانڈ کی ایمبسیڈر ہے۔

    یاسر حسین و دیگر فنکاروں کے احتجاج کے بعد کئی پاکستانی فنکار تُک اداکارہ کی حمایت میں سامنے آ گئے –

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراداکار اعجاز اسلم نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ بھائی جب پاکستان میں ترکش ڈرامہ آئے گا تولازماً سی بات ہے کہ ترکش فنکار بھی پاکستان آئیں گے اِس میں مسئلہ کیا ہے؟‘


    اعجاز اسلم نے لکھا کہ ہم بھی ترکش زبان سیکھ لیتے ہیں کیونکہ ایک طاقتور مقابلہ ہی ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، اسی لیے برہم ہونے کی بجائے اس بات کو ہلکا لیں۔

    اداکار و ماڈل بلال اشرف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہمیں پوری دُنیا کے فنکاروں کاپا کستان میں خیر مقدم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ فن کی کوئی زبان یا حدود نہیں ہوتیں۔


    بلال اشرف نے لکھا کہ ہر شعبے میں سیاست نہ کریں اور دل سے غیر ملکی فنکاروں کو خوشی آمدید کہیں کیونکہ پاکستان ایک زندہ دل قوم کا ملک ہے اور پاکستانی عوام کے دلوں میں پیار ہی پیار ہے۔

    اداکارہ عائشہ عُمر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ میں اس بات کی حمایت کروں گی کہ غیر ملکی فنکار پاکستانی برانڈز کی توثیق کریں کیونکہ یہ ہمارے برانڈز کو بین الاقوامی سطح پر مقبول بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔


    عائشہ عُمر نے لکھا کہ ہمارا ملک پاکستان غیر ملکی فنکاروں کا استقبال کرنے کا منتظر ہے آیئے ہم سب مل کر اچھے کام میں تعاون کریں اور خوشی سے غیر ملکی فنکاروں کا استقبال کریں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اداکار آغا علی نے اسرا بلجیک کی حمایت میں انسٹا گرام سٹوری شئیر کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ اداکار ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر کام کرنا پسند کرتا ہے اور جب کسی اداکار کو دوسرے ملک سے کسی پراجیکٹ کی آفر ہو تو یہ اس کیلئے قابل فخر لمحہ ہوتا ہے۔

    آغا علی کا کہنا تھا کہ ایسا ہی جب پاکستانی کمپنی کسی غیرملکی اسٹار کو برانڈ ایمبیسیڈر بنائے تو یہاں کے فنکار غیر محفوظ محسوس کرنا شروع کردیتے ہیں کہ جیسے غیر ملکی اسٹارز اُن کے پروجیکٹس اور کام پر ڈاکہ ڈالنے آئے ہیں۔اللہ نے جو آپ کے نصیب میں لکھا ہے اس سے نہ زیادہ ملے گا نہ ہی کم تو لہذا دوسرے ممالک کے فنکاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں اور اپنے لوگوں کو غیر محفوظ محسوس نہ کروائیں آنے دو جو آتا ہے خوش رہو اور محنت کرو۔

    آغا علی کا کہنا تھا کہ برائے مہربانی غیر ملکی اداکاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں اور انہیں اُن کے ملک کی طرح پیار اور عزت دیں پاکستان کی عزت بھی اسی میں ہے باقی جو آپ کو ٹھیک لگے۔

    کیا پاکستانی اداکاراؤں میں کوئی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر بن سکے؟ یاسر حسین

    اسرا بلجیک پہلی پاکستانی کمپنی کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

    دوسرے ممالک کے فنکاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں اور اپنے لوگوں کو غیر محفوظ محسوس نہ کروائیں ، آغا علی کا اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

  • سارہ خان اور فلک شیر کی منگنی اور مایوں کی خوبصورت تصا ویر سوشل میڈیا پر وائرل

    سارہ خان اور فلک شیر کی منگنی اور مایوں کی خوبصورت تصا ویر سوشل میڈیا پر وائرل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سارہ خان میوزک انڈسٹری کے نامورگلوکار فلک شبیر کو شادی کے لیے ہاں کر دی۔

    باغی ٹی وی :ایسا لگتا ہے جیسے بہت ساری پاکستانی شخصیات قرنطینہ کے دوران شادی کرنے کی طرف مائل ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران شادی کرنے والے فنکاروں کی فہرست میں سارہ علی اور گلوکار فلک شبیر بھی شامل ہو گئے ہیں گذشتہ روز سارہ خان اور فلک شبیر کی سارہ کی سالگرہ کے موقع پر منگنی ہوگئی۔سارہ خان اور فلک شبیر قریبی دوستوں اور اہل خانہ کے مابین شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ گزشتہ روز، جوڑی نے اپنا مایوں منایا –

    گزشتہ شب سارہ اور فلک کی منگنی اور مایوں کی تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکارہ سارہ خان نے اپنی منگنی کی تصاویر شئیر کیں تصاویر میں وہ لال لباس میں ملبوس منگنی کی انگوٹھی پہنے ہوئے ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CCqzF6aF6ni/?igshid=urlg9zja1a7x
    https://www.instagram.com/p/CCqakA6l4W6/?igshid=v5znqtnxndmr
    انہوں نے اپنی خوبصورت تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ میں نے ہاں کردی ہے۔


    انسٹا گرام سکرین شاٹس
    اداکارہ نے منگنی کی خوبصورت تقریب کی تصویر ہیش ٹیگ ’فلک کی دلہن‘ کے ساتھ شیئر کی جس میں فلک شبیر انہیں شادی کی پیشکش کررہے ہیں۔

    جبکہ سارہ نے انسٹا گرام سٹوری میں ویڈیو ز شئیر کیں جن میں وہ اور فلک شبیر ایک دوسرے کو ابٹن لگا رپے ہیں اور فلک شبیر سارہ کے لئے گانا گا رہے ہیں-


    انسٹا گرام سکرین شاٹس
    دوسری جانب فلک شبیر نے بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام اسٹوری پر منگنی کی تقریب کی بے شمار ویڈیوز اور تصویریں بھی شیئر کیں –


    ٹویٹ پر ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے فلک شبیر نے کہا کہ ’اور اُس نے ہاں کردی۔‘ منگنی کی تقریب میں سارہ خان نے لال جوڑا جبکہ فلک شبیر نے سفید پینٹ کوٹ زیب تن کیا۔
    https://www.instagram.com/p/CCqz77UFVZ4/?igshid=1038clpdano59
    https://www.instagram.com/p/CCrGiaBlCI_/?igshid=du639v7csley

    شوبز جوڑی کی جانب سے اپنی شادی کے اعلان کے بعد سے ہی سوشل میڈیا پر دونوں کیلئے نیک خواہشات اور مبارکباد کے پیغام بڑی تعداد میں شیئر کئے جارہے ہیں۔

    یاد رہے کہ سارہ خان اور اداکار آغا علی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے تاہم 2019 میں دونوں نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

    آغا علی نے جمعتہ الوداع کو اداکارہ حنا الطاف سے ایک سادہ سی تقریب میں شادی بھی کرلی تھی-

    واضح رہے کہ اس سے قبل لاک ڈاؤن میں مارچ میں احد رضا میر اور سجل علی شادی کے بندھن میں بندھے ، سینئیر اداکارہ ثمینہ احمد اور اداکار منظر صہبائی نے4 اپریل کو شادی کی مئی کے اختتام پر صدف کنول اور شہروز سبز واری نے شادی کی ،جمعتہ الوداع کے مبارک دن اداکارہ حنا الطاف اور آغا علی نکاح کے بندھن میں بندھے۔ اداکارہ نمرہ خان نے اپنے بچپن کے دوست افتحار احمد سے سادگی سے شادی کی اور 29 مئی کو اداکارہ فریال محمود اور دانیال محمود نے بھی سادگی سے نکاح کیا جبکہ گذشتہ ماہ جون کے آخر میں مقبول ترین گانے ’محبوبہ‘ سے شہرت پانے والے برطانوی نژاد پاکستانی گلوکار 47 سالہ ہارون نے بھی خاموشی سے نکاح کر لیا تھا-

    گلوکار ہارون نے لاک ڈاؤن میں خاموشی سے شادی کر لی

    لاک ڈاؤن کے دوران رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے فنکار

    شوبز انڈسٹری کی ایک اور جوڑی قرنطینہ میں شادی کے بندھن میں بندھ گئی

    سجل علی اور احد رضا میر رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے

  • گوہر رشید کی فلم لاک ڈاؤن کا پہلا آفیشل پوسٹر جاری

    گوہر رشید کی فلم لاک ڈاؤن کا پہلا آفیشل پوسٹر جاری

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار مرزا گوہر کی فلم لاک ڈاؤن کا پہلا آفیشل پوسٹر سامنے آ گیا-

    باغی ٹی وی :چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا کے باعث گزشتہ پانچ ماہ سے دنیا بھر کے تفریحی مقامات اور مذہبی تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں سمیت فلموں کی ریلیز اور شوٹنگنز رُکنے کے ساتھ سینما ہاؤسز بھی بند ہیں –

    دنیا بھر کورونا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور تمام قسم کی سرگرمیاں بند کر دیں گئیں جبکہ اب تک دنیا بھر میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔تاہم اسی عالمگیر وبا اور لاک ڈاؤن میں بہت ساری فلم سازوں، لکھاریوں، اداکاروں اور پروڈیوسرز اس وبا پر کام کرنے کا سوچا اور اب ہا لی وڈ اور بالی وڈ پروڈیوسرز کورونا پر فلمیں بنانے کے لئے تیار ہیں-

    دیگر فلم انڈسٹریز کی طرح پاکستانی فلم انڈسٹری بھی کورونا کی وبا کے پس منظر کی کہانی پر مشتمل فلم بنانے میں مصروف ہے۔ پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف گوہر رشید اور نامور اداکارہ سونیا حسین کی فلم لاک ڈاؤن کا پہلا آفیشل پوسٹر سامنے آ گیا-
    https://www.instagram.com/p/CCoextTDIbj/?igshid=fjibx0dn9kwz
    ٹریلر میں اوٹی ٹی پلیٹ فارم کیلئے بنائی جانے والی پہلی پاکستانی فلم لاک ڈاؤن کے پوسٹر میں ایک کھڑکی ہے جس کے پیچھے مرکزی کردار اداکار مرزا گوہر رشید کو منہ کھولے ہوئے بہت ہی دشواری سے سانس لیتے دکھایا گیا ہے۔

    فلم لاک ڈاؤن کے ڈائریکٹر ابو علیحہ نے سماجی رابطےئ کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر فلم کا پوسٹر شئیر کیا-

    فلم کی پوسٹر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ فلم لاک ڈاؤن میں عام آدمی کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرے گی فلم کی ممکنہ ریلیز کے حوالے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ابو علیحہ نے نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلم نیٹ فلکس، ایمیزون سمیت او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے مطلوبہ معیار کوسامنے رکھتے ہوئے انتہائی معیاری کیمروں سے بنائی گئی ہے اور وہی ہمارا پہلا ٹارگٹ ہیں، تاہم فلم کی پاکستانی سینما میں ریلیز کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔

    ابو علیحہ کے مطابق کورونا کے بعد پاکستانی سینماز کھلنے پر فلموں کی بہت ضرورت ہوگی اور ہم بحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔فلم کی پوسٹ پروڈکشن جاری ہے اور یہ اکتوبر کے وسط تک ریلیز کیلئے مکمل تیار ہوگی۔

    فلم کی کہانی سعودی عرب میں مقیم عابدہ احمد نے تحریرکی ہے جو اس سے قبل ٹی وی کیلئے کئی ڈرامہ سیریل تحریرکرچکی ہیں۔فلم کوپروڈکشن ہاؤس “ماؤنٹ بلینک انٹرٹینمٹ ” پروڈیوس کررہا ہے۔

    واضح رہے کہ فلم لاک ڈاؤن میں گو ہر رشید کے مقابل سونیا حسین کی جگہ پہلے فریال محمود مرکزی کردار اد کر رہیں تھیں تاہم بعد میں فریال محمود نے ذاتی مسائل کی وجہ سے فلم میں کام کرنے سے معذرت کرلی تھی-

    فریال محمود اور گوہر رشید جلد کورونا وائرس کے پس منظر پر بننے والی فلم ’لاک ڈاؤن ‘ میں نظر آئیں گے

    لاک ڈاؤن میں فریال محمود کی جگہ سونیا حسین نے لے لی

  • ایشل فیاض ہدایتکار فاروق مینگل کی نئی فلم میں جلوہ گر ہوں گی

    ایشل فیاض ہدایتکار فاروق مینگل کی نئی فلم میں جلوہ گر ہوں گی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو اداکارہ ایشل فیاض نے کاگ لنگنا کی کامیابی کے بعد ایک اور فلم سائن کرلی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق فلم کاف کنگنا میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی خوبرو اداکارہ ایشل فیاض کو معروف ہدایت کار فاروق مینگل نے اپنی نئی فلم کے لیے کاسٹ کرلیا فلم کی شوٹنگ اسی ماہ 25 جولائی سے کورونا سے حفاظت بچاؤ کی تدابیر کی ایس او پیز کے ساتھ شروع ہوگی۔

    فلم کی کاسٹ اور کہانی کے بارے میں ابھی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں ٹیم اس کے تمام تر اعلانات ختم ہونے کے بعد اس کااعلان کرے گی۔

    ایشل فیاض نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ہدایت کار فاروق مینگل کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملنے پر خوش ہیں –

    انہوں نے کہا کہ میں فلم کے حوالے زیادہ تفصیل نہیں بتاؤں گی تاہم اس فلم ان کا کردار اس سے پہلے سے کئے ہوئے کرداروں سے بالکل مختلف ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وہ خلیل الرحمان قمر کی ہدایت کاری میں کاف کنگنا میں سمیع خان کے ساتھ جلوہ گر ہوں چکی ہے۔

    علاوہ ازیں ایشل ڈرامہ سیریل ’آبرو‘، ’تعبیر‘ اور ’ہتھلیی‘ جیسے ڈراموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چُکی ہیں-

  • سارہ خاں کی انسٹا گرام پر بڑی کامیابی

    سارہ خاں کی انسٹا گرام پر بڑی کامیابی

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی پُرکشش اور خوبرو اداکارہ سارہ خان کے انسٹاگرام پر 5 ملین فالوورز ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سارہ خان کے انسٹاگرام پر 5 لاکھ فالوورز ہو گئے ہیں اداکارہ سارہ خان سوشل میڈیا پر کافی متحرک نظر آتی ہیں سارہ خان آئے دن اپنی خوبصورت تصاویراور کام سے متعلق تصویریں اپنے مداحوں سے شیئر کرتی رہتی ہیں۔

    سارہ کی جانب سے شیئر کی گئی ان کی خوبصورت تصاویر کو ان کے مداحوں کی جانب سے خوب سراہا جاتا ہے سارہ خان وہ خوش قسمت اداکارہ ہیں جن کی تصاویر پر بہت کم تنقید ہوتی ہے-

    واضح رہے کہ انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالو کی جانے والی پاکستانی معروف اداکارہ ایمن خان ہیں جن کے فالوورز کی تعداد 6 اعشاریہ 6 ملین یعنی 66 لاکھ فالوورز ہیں۔ ایمن خان سے پہلے پاکستان میں سب سے زیادہ فالوورز ماہرہ خان تھے انسٹاگرام پر شہرت کے تمام ریکارڈز توڑتے ہوئے ماہرہ خان کو بھی فالوورز کی دوڑ میں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

    ایمن کے بعد اداکارہ ماہرہ خان اور عائزہ خان ہیں جن کے انسٹاگرام پر 6 اعشاریہ 2 ملین یعنی 62 لاکھ فالوورز ہیں-

    جبکہ سجل علی کے انسٹاگرام پر 6 لاکھ فالوورز ہیں اداکارہ منال خان کے 5.6 ملین ہیں-

  • سفر کی تھکان سے منزل کی دہلیز تک    بقلم:جویریہ بتول

    سفر کی تھکان سے منزل کی دہلیز تک بقلم:جویریہ بتول

    منزل کی دہلیز تک…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اس سفر کی تھکان سے…
    ڈوبتی سی مسکان سے…
    کبھی تم جو ہار جاؤ…
    یہ نہ ہو سکے کہ تم مسکراؤ…
    قدم بھی یہ تھکے تھکے ہوں…
    لہجے بھی پھٹے پھٹے ہوں…
    زخموں پر چھید آ کر…
    بیٹھے ہوں ہمیں رُلا کر…
    ذہن کے بے صدا دریچے…
    سکوت ہوں گہرا خریدے…
    دل میں شور ہو انتقام کا…
    طوفان ہو ہر سو ابہام کا…
    شکوک کی سب زرد شاخیں…
    جو بنی ہوں سانسوں پر گہری شامیں…
    کانٹے ہر سو بدگمانیوں کے…
    خود رو بوٹیوں پر بڑھے ہوں…
    غلط فہمی کی راہوں پر…
    اپنے بھی گر کئی چلے ہوں…
    تو اندازِ حسن و جمال ہو…
    یہ ضبط بھی اپنا کمال ہو…
    زیرِ لب بس اک دعا رہے…
    ہونٹوں پر حسنِ ادا رہے…
    سجدہ کی حالت میں یہ جبین…
    کچھ اشک بہائے ایسے ثمین…
    انما اشکو بثی و حزنی الی اللہ…
    اسی کی مدد ہو،اسی کو صدا…
    یعقوب کے لبوں سے جملہ جب ہے نکلتا…
    عشروں کا کھویا یوسف پھر کیسے ہے ملتا؟
    دل کی بے قراری کو چین ہے آنے لگتا…
    دھیرے دھیرے قدم بھی طاقت ہے پانے لگتا…
    دل کی دنیا بھی ہے کھلکھلانے لگتی…
    پھیکے لبوں پہ ہے پھر مسکان آنے لگتی…
    آزمائش کے دریا میں ہم سدا…
    اُبھریں بن کر ماہر تیراک…
    شکوؤں سے دامن اپنا بچا رہے…
    دعاؤں سے دل یہ بھرا رہے…
    لبوں پہ مچلتی فریادیں رہیں…
    منزلوں کو جو دیتی صدائیں رہیں…
    انہی آداب کے مسافر کا پھر…
    رہتا کامیاب ہر سفر ہے…!!!
    اے اہلِ دل ذرا غور کرو…
    کسے نشیب و فراز سے مفر ہے…؟
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤

  • کرونا والنٹئرز    تحریر:محمد ثاقب، طلحہ سعید

    کرونا والنٹئرز تحریر:محمد ثاقب، طلحہ سعید

    کرونا والنٹئرز
    محمد ثاقب، طلحہ سعید

    خدمت خلق ایک عظیم کام ہے۔نجانے دنیا میں کتنے نام ہیں جو صرف اور صرف اللہ رب العزت کے بندوں کے کام آکر دنیا میں اپنا نام بھی بنا گئے اور لگے ہاتھوں آخرت کیلیے اپنا سامان بھی تیار کر گئے۔ میں نے کچھ لوگوں کی زبان سے ایک نعرہ کبھی سنا تھا "خدمت بھی عبادت ہے” ۔ آج سوچتا ہوں کہ صحیح سنا تھا ۔ وہ لوگ جو بھی تھے، صحیح ہی کہتے تھے۔ خدمت خلق بھی ایک قسم کا جہاد ہے جس میں خدام بے لوث ہوکر کام کرتے ہیں اور اکثر جان پر بھی کھیل جایا کرتے ہیں.

    کرونا کی وبا جب پاکستان آئی اور حکومتِ پاکستان نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو ایک عجیب فضا پیدا ہوئی۔عوام خود حیران کہ گھر بیٹھ کر کیا کریں کیا نہ کریں۔مطلب کہ عوام عمران خان کے بیان کے باوجود "گھبرائی” ہوئی تھی اور اس سب صورتحالات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ بنا کہ کسی مریض کو ہسپتال لے جانے سے لوگ ڈرنے لگے کہ بھئی کیا پتا ہسپتال میں کوئی کورونا کا مریض آیا ہوا ہو۔ لوگوں کی یہ بات بھی اگرچہ درست تھی مگر مریض کو گھر بیٹھا کر رکھنا بھی تو کوئی عقلمندی نہیں تھی ناں۔۔۔

    میں ایک دن اپنے ایک دوست سرجن ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے گیا۔ان سے کافی سارے معاملات پر گفتگو ہوئی۔ ان ہی دنوں کرونا وباء کی وجہ سے پنجاب میں پہلا 15 روزہ لاک ڈاؤن لگا ہوا تھا۔ کرونا اور اسکی وجہ سے درپیش مسائل پر بھی بات ہوئی۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب نے ایک مشورہ دیا کہ آپ واٹس ایپ پر عوام کو آن-لائن علاج کی سہولت مہیا کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کیلیے میں بھی حاضر ہوں آپ اس تجویز پر کام کریں اور اگلی ملاقات تک اس کو فائینل کرلیں۔ میں وہاں سے نکلا اور گھر چلا گیا۔ میں اس شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اس کا آغاز کس طرح کیا جائے اگلے روز میں نے فیس بک پر ایڈ دی کہ موجودہ کرونا کی وباء میں آپ گھر رہیں اور گھر رہ کر آن-لائن اپنا علاج معالجہ کروائیں۔لوگ جو کورونا کی وجہ سے اپنے مریض گھر رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے انہیں یہ بات تو پسند آنی ہی تھی…. خیر اس کو بہت لوگوں نے پسند کیا اور مجھ سے رابطہ کیا ۔ ضلع کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو گروپ میں ایڈ کیا اور اگلے دن ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب کو گروپ بنانے کی خوشخبری دی۔

    اب مسئلہ تھا دیگر ڈاکٹرز کو گروپ میں ایڈ کرنے کا سب سے پہلے ڈاکٹر احسان مہند جو سول ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ ہیں ،ان سے بات کی انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اپنی مسسز ڈاکٹر نگینہ احسان، جو حافظ آباد کی معروف گائناکالوجسٹ ہیں ان کو بھی گروپ میں ایڈ کرنے کا کہا۔ اس گروپ کے متعلق شہر کے معرف فزیشن ڈاکٹر ثاقب ظفر صاحب سے بات ہوئی انہوں نے بھی حوصلہ دیا اور ساتھ دینے کا کہا۔پروفیسر ڈاکٹر اسعد اللہ اعجاز جو لاہور میں ماہر امراضِ معدہ و جگر ہیں ، انہوں نے بھی خوب پزیرائی کی اور ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا۔اب بچوں کے مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر کی ضرورت تھی تو شہر کے معروف چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد امجد علی اور لاہور چلڈرن ہسپتال سے ڈاکٹر سعود صاحب سے بات ہوئی انہوں نے بھی اوکے کیا اس کے بعد ڈاکٹر عتیق الرحمن کنسلٹنٹ کرڈیالوجی اور ڈاکٹر فرخ الاسلام ماہر امراض ناک کان گلہ, ڈاکٹر مبشر سرفراز  آرتھوپیڈک سرجن, ڈاکٹر بلال رسول رامے نیفرالوجیسٹ لاہور, ڈاکٹر بشارت باورہ جنرل سرجن,  ڈاکٹر عنایت اللہ ماہر امراض جلد , گھرکی ٹرسٹ ہسپتال لاہور کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبداللہ شاہ صاحب ان سب سے رابطہ کیا انہوں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور ہم نے گروپ کا آغاز کر دیا۔ آب لوگ ٹیلی کلینک میں اپنے مریض کی بیماری کے متعلق لکھ میسج بھیج دیتے اور میں ان کے مسائل ڈاکٹرز کے گروپ( ڈاکٹر آن لائن) میں بھیج دیتا جہاں متلقہ ڈاکٹر مریض کو میڈیسن لکھ دیتے اور میں اس کا سکرین شاٹ لے کر ٹیلی کلینک جو عوام کا گروپ تھا میں بھیج دیتا یاد رہے (ٹیلی کلینک) عوام کے گروپ کا نام ہے اور (ڈاکٹر آن لائن) ڈاکٹرز کا گروپ ہے دو گروپ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ڈاکٹرز کو زیادہ تنگ نہ کریں
    پر آفرین ہے ہمارے ڈاکٹرز کے پینل پر انہوں نے اپنی مصروفیت  کے باوجود مریضوں کا فری آن-لائن چیک آپ کیا اور بہت اچھا کام کیا۔

    اس ساری صورتحال کو یاد کرتا ہوں تو دل میں خیال آتا ہے وہ لوگ جو کہتے تھے "خدمت بھی عبادت ہے” صحیح ہی کہتے تھے۔

  • مسجد صوفیہ خلافت عثمانی کی پہچان   تحریر:مسز ناصر ہاشمی

    مسجد صوفیہ خلافت عثمانی کی پہچان تحریر:مسز ناصر ہاشمی

    مسجد صوفیہ۔۔۔۔۔شاہکار حسیں

    خلافت عثمانی کی پہچان ہے
    توتابناک ماضی کانشان ہے
    تو ہماری روایات کی ہےامیں
    مسجد صوفیہ۔۔۔۔۔شاہکار حسیں

    ترک شہداء نے خوں سےتھا سینچا تجھے
    شاہ احمد نے غیروں سے کھینچا تجھے
    چار صدیاں رہی تو ان کے زیر نگیں
    مسجد صوفیہ ۔۔۔۔۔شاہکار حسین

    تلواروں کے ساےمیں ڈھا لا تجھے
    جری مسلم کی آغوش نے پالا تجھے
    تیری پرسکون گود میں ۔۔۔۔تیرےمکیں
    مسجد صوفیہ۔۔۔ شاہکارحسیں

    مسجد یں رب کا گھر اور دارالاماں
    بیوت ربی کہتا ہے ان کو قرآں
    ہے اسی پہ ہمارا ایمان اور یقیں
    مسجد صوفیہ۔۔۔۔۔ شاہکار حسیں

    تا قیامت رہیں تیری آبادیاں
    رہیں رونقیں بحال اورشادابیاں
    پارسا تجھ میں رکھیں اپنی جبیں
    مسجد صوفیہ ۔۔۔۔شاہکار حسیں

    ا وخدا! وہ تا بناک مناظر لوٹادے ہمیں
    معرکہ حق و باطل دکھائے ہمیں
    ہر جا روح بلالی کی باز گشت ہو
    اور پاتا رہے”نمو” رب کایہ دیں
    مسجد صوفیہ ۔۔۔شاہکار حسیں
    از قلم:مسز ناصر ہاشمی

  • "جدید دور کے جدید کاروباری مسائل ”   تحریر:نادیہ بٹ

    "جدید دور کے جدید کاروباری مسائل ” تحریر:نادیہ بٹ

    "جدید دور کے جدید کاروباری مسائل ”

    نادیہ بٹ

    موجودہ دور کی تجارت میں شیئرز کی تجارت ایک نیا اضافہ ہے اس لئے قدیم فقہ کی کتب میں اس کے بارے میں احکام اور تفصیل معدوم ہیں پہلے زمانے میں جو "شراکت” کی جاتی تھی وہ چند افراد کے مابین ہوتی تھی جن کو پارٹنر شپ کہا جاتا ہے مگر پچھلی دو تین صدیوں سے شراکت داری کا ایک نیا انداز سامنے آیا جو جائنٹ اسٹاک کمپنی کہلایا اس کے باعث کاروباری دنیا میں جدت آئی اور اس کے حصص میں شیئرز کے کاروبار کا نیا مسئلہ پیدا ہوا۔اس کی بنیاد پر دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹیں سر گرم عمل ہیں،جن میں کروڑوں بلکہ اربوں کا لین دین ہوتا ہے۔
    "آئیں ہم علماء کی آراء میں دیکھتے ہیں کہ کن اصولوں اور شرائط کے ساتھ شئیرز خریدنا جائز ہے۔۔۔۔۔۔!!”

    ?? حصص کے معنی۔۔۔
    کمپنی کے شئیرز کو اردو میں "حصص” عربی میں "سھم” کہتے ہیں

    اگر کسی شخص کو اسٹاک مارکیٹ سے شئیرز خریدنے ہو تو اسے مندرجہ ذیل چار شرائط کا لحاظ رکھنا ہوگا ۔۔۔۔۔؟

    پہلی شرط…….!!!

    یہ کہ وہ کمپنی حرام کاروبار مثلا سودی بینک،سود اور قمار پر مبنی انشورنس کمپنی،شراب کا کاروبار یا دیگر حرام کاموں کی کمپنی وغیرہ میں ملوث نہ ہو۔

    دوسری شرط…….!!

    یہ کہ اس کمپنی کے تمام اثاثہ جات اور املاک سیال اثاثہ جات(liquie asssets)یعنی نقد رقم کی صورت میں نہ ہوں’بلکہ اس کمپنی نے کچھ فکسڈ اثاثے (fixed Assets)حاصل کر لیے ہوں
    مثلا عمارت تعمیر کر لی ہو یا ارضی خرید لی ہو۔لہذا اگر اس کمپنی کا کوئی فکسڈ اثاثہ وجود میں نہیں آیا،بلکہ اسکے تمام اثاثے ابھی (Liquid )نقد رقم کی صورت میں ہیں۔تو اس صورت میں اس کمپنی کے شئیرز کو فیس ویلیو face value سے کم یا زیادہ میں فروحت کرنا جائز نہیں’بلکہ برابر برابر خریدنا ضروری ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں دس روپے کا حصہ ( شیئر) دس روپے کی کی نمائندگی کر رہا ہے’بلکل ویسے ہی جیسے دس روپے کا bond دس روپے ہی کی نمائندگی کرتا یے’لہذا جب دس روپے کا شیئر دس روپے کی ہی نمائندگی کر رہا ہے تو اس شیئر کو گیارہ یا نو روپے میں خریدو فروخت کرنا جائز نہیں،
    الغرض دوسری شرط کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک کمپنی کے منجمد اثاثے وجود میں نہ آئیں اسوقت تک اس کے شئیرز کو کمی بیشی پر فروحت کرنا ناجائز ہے

    تیسری شرط….!!

    اکثر کمپنیوں کی بنیادی کاروبار حرام تو نہیں ہیں مثلا ٹیکسٹائل آٹو موبائل کمپنیوں وغیرہ۔
    لیکن یہ کمپنیاں کسی نہ کسی طرح سودی کاروبار میں ملوث ہوتی ہیں یعنی یا تو یہ کمپنیاں فنڈز بڑھانے کے لیے بینک سے سود پر قرض لیتی ہیں اور اس قرض پر پھر اپنا کام چلاتی ہیں یا پھر وہ زائد اور فاضل رکھ ان سودی اکاؤنٹ میں رکھواتی ہیں اور اس پر وہ بینک سے سود حاصل کرتی ہیں ہیں وہ سود بھی ان کی آمدنی کا ایک حصہ ہوتا ہے لہذا ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنا سودی کاروبار میں ملوث ہونا ہے

    ایسی کمپنیوں کے بارے میں عصر حاضر کے علماء کرام کی آراء مختلف ہیں ایک گروہ کے نزدیک چونکہ یہ کمپنیاں حرام کاموں میں ملوث ہے لہٰذا ایک مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اس کمپنی کے ساتھ حرام کام میں حصہ دار بنے
    *دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کمپنیوں میں یہ نقص موجود ہے مگر اس کے باوجود اگر کسی کمپنی کا بنیادی کاروبار مجموعی طور پر حلال ہے تو پھر مشروط طور پر کمپنی کے شیئرز لینے کی گنجائش ہے

    یعنی وہ شیئر ہولڈر اس کمپنی کے اندر سودی کاروبار کے خلاف آواز ضرور اٹھائے ‘اگرچہ اس کی آواز مسترد ہو جائے گی آواز کمپنی کے سالانہ اجلاس عام میں اٹھانی چاہیے مولانا محمد تقی عثمانی، مفتی محمد شفیع اور مولانا اشرف علی تھانوی اس رائے پر متفق ہیں۔

    چوتھی شرط………!!

    یہ کہ جب منافع dividedتقسیم ہو’
    تو وہ شخص income statement کے ذریعے یہ معلوم کرے آمدنی کا کتنا حصہ سودی ڈیپازٹ سے حاصل ہوا ہے؟
    مثلا اس کو کل آمدنی کا پانچ فیصد حصہ سودی ڈیپازٹ میں رقم رکھوانے پر حاصل ہوا ہے تو اب وہ شخص (شیئر ہولڈر) اپنے نفع کا 5 فیصد حصہ صدقہ کر دے۔
    بعض لوگ شیئرز کی خرید و فروخت کیپیٹل گین( capital gain)کے لیئے کرتے ہیں مکان کے شیئر خرید لیتے ہیں اور پھر چند روز بعد شیئر کی قیمت بڑھنے پر انہیں فروخت کر کے نفع حاصل کرتے ہیں ہیں اور یا کسی کمپنی کے شیئرز کی قیمت کم ہو جاتی ہے تو اس کے شیئر خرید لیتے ہیں اور بعد میں فروخت کر دیتے ہیں
    اسی طرح خریدوفروخت کے ذریعے سے نفع حاصل کرنا ان کا مقصود ہوتا ہے اس کمپنی میں حصہ دار بننا اور اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ان کا مقصود نہیں ہوتا بلکہ خود شیئرز ہی کو ایک سامان تجارت بنا کر اس کا لین دین کرتے ہیں
    جس طرح شیئرز خریدنا جائز ہے اسی طرح ان کی فروخت کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ پیچھے اوپر مذکور چار شرائط کا لحاظ رکھا گیا ہو اور جس طرح یہ جائز ہے کہ ایک چیز آپ آج خرید کر کل فروخت کر دیں اور کل خرید کر پرسوں فروخت کردے بالکل اسی طرح شیئرز کی خرید و فروخت جائز ہے۔

    !!!شیئرز کی خرید و فروخت کو اس وقت درست کہنا دشوار ہے جب بعض اوقات اسٹاک مارکیٹ میں شیئرنگ کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا بلکہ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس طرح سٹہ بازی کرکے آپس میں فرق کو برابر کر لینا مقصود ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ۔۔۔

    !!!اسی طرح قیمت بڑھا کر واپس لینے کی شرط لگانا حرام ہے اور یہ شرط فاسد ہے

    اگر اسٹاک مارکیٹ سے شیئر خریدا جائے اور اس کی وصولیابی یا قبضہ سے پہلے ہی وہ کمپنی تباہ ہوکر بے اثاثہ ہو جائے تو
    اصول یہ ہے کہ رسک منتقل ہونے کی صورت میں شئیر آگے فروخت کرنا جائز ہے البتہ احتیاط کا تقاضہ بہر صورت یہی ہے کہ جب تک قبضہ (ڈلیوری) نہ مل جائے اس وقت تک شیئر آگے فروخت نہ کیا جائے

    اللہ رب العزت ہمیں حلال ذرائع سے رزق حاصل کرنے اور خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

  • سناٹے کی آغوش میں زندگی تحریر:مسز ناصر ہاشمی

    سناٹے کی آغوش میں زندگی تحریر:مسز ناصر ہاشمی

    سناٹے کی آغوش میں زندگی

    بہت صدیاں پہلے کی بات ہے میاں بیوی کا ایک جوڑا ۔۔۔بہت دورکسی سفر پر چلا جا رہا تھا
    عورت نے شیر خوار بچہ گود میں اٹھا رکھا تھا۔ کون جانتا تھاکہ چھوٹے سے خاندان کا یہ سفرایک تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔ بیوی بھی اس سوچ سے بےنیاز ۔۔۔اپنے شوہر کے قدم بقدم چلتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟
    ہاں البتہ اپنےشویر کی خاموشی اورمتغیر چہرہ دیکھ کروہ کچھ حیران ضرور تھی لیکن ہمت نہ پڑ رہی تھی۔
    و ہ سنسان ،بیابان ،کھنڈر اورویران علاقوں سے گزرتے چلےجا رہے تھے۔ ہر طرف سنا ٹا چھایا ہوا تھا۔کہیں سے کسی ذی روح کے آنے کا گمان تک نہ تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اونچے نیچے ٹیلوں سے گزرتے چلےجا رہے تھے ۔ غیر گنجان آباد ،کالے،خوفناک اور خشک پہاڑ ۔۔۔۔سبزے سے خالی۔۔۔۔اور پانی کا بھی نام و نشان تک نہ تھا۔ بیوی صاحبہ اپنے ہم سفر اور ننھےلخت جگر کے ہمراہ۔۔۔صبر اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔اس امید کے ساتھ۔۔۔۔۔کہ کوئی بستی آجائے گی اوریہ دشوار گزار سفر ختم ہو جائے گا۔ ۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ یہ ایک طویل اور نہ ختم ہونے والا سفر یے ۔ کافی دور پہنچ کر ایک ٹیلے کے پاس شوہر نے اپنے قدم روک دئے۔ اور اردو گرد کے افسردہ ماحول پر نگاہ دوڑائی ۔ بیوی کو ٹیلے پر بیٹھنے کا کہا ۔ وہ چھوٹے سے معصوم بچے کو لے کر نیچے زمیں پر بیٹھنے گئ۔ وہ سمجھی تھوڑا سستا کر آگے بڑھیں گے۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔یہ کیا؟؟؟شوہر نے ماں بیٹے کے پاس تھوڑی سی کجھوریں اور ایک مشکیزہ پانی کا رکھا اور منہ موڑ کر چلنا شروع کر دیا۔ بیوی نے آواز دی "ہمیں اس دہشت وحشت والے بیاباں میں یکہ وتنہا چھوڑ کر جہاں ہمارا کوئ مونس وہمدم نہیں آپ کہاں تشریف لے جا رہے ہیں لیکن شوہر نے نہ ہی مڑ کر دیکھا اور نہ ہی کوئ توجہ دی بار بار پوچھنے پر بھی کوئ التفات نہ کیا تو پوچھا،”آپ ہمیں کسے سونپ چلیں ہیں۔کیا اللہ تعالی نے آپ کو یہ حکم دیا ہے”۔جواب دیا”ہاں” یہ سن کر وہ بڑے حوصلے اور صبر سے بولی پھر تشریف لے جائیے۔وہ اللہ ہمیں ہر گز ضائع نہیں کرے گا۔ہمیں اسی کا بھروسہ اور اسی کا سہارا ہے۔وہ لوٹی اور اپنے کلیجے کی ٹھنڈک کو اس سنسان،بیابان میں اس ہو کے عالم میں لاچار اور مجبور ہو کر بیٹھ گئی۔
    قارئین کرام !!یہ کوئ عام خاندان کی قصہ کہانی نہیں بلکہ وہ شوہر…. انبیاء کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ ، ان کی بیوی اماں ہاجرہ اور نبی ابن نبی حضرت اسماعیل زبیح اللہ تھے۔
    اس خاندان نے حوصلے، صبر،استقامت کی وہ اعلی مثال قائم کی کہ قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے مشعل راہ بن گئی۔
    حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اپنے بچے اور بیوی کو وہاں جہاں اب بیت اللہ ہے۔اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہیں بیوی بچوں کی محبت غالب نہ آجائے۔جب حضرت ابراہیم علیہ سلام مقام ثنیہ پر پہنچے تو عجزو انکساری کے ساتھ ہاتھ پھیلا کر دعا کی
    ” اے ہمارے رب میں نے اپنے بال بچوں کو ایک غیر آباد جنگل میں تیرے برگزیدہ گھر کے پاس چھوڑا ہے تا کہ وہ نماز قائم کریں۔تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں دے شاید وہ شکر گزاری کریں ”
    آپ تو یہ دعا کر کے حکم الہی بجا لا کر اپنے اہل وعیال کو اللہ کے سپرد کر کے وہاں سے چلے گئے۔ادھر کیا ہوا؟ ایک بار تو رب تعالی کو آل رسول کی آزمائش مقصود تھی۔حضرت ہاجرہ صبر وشکر کے ساتھ بچے سے دل بہلانے لگیں۔جب تھوڑی سی کجھوریں اور پانی ختم ہو گیا۔اب اناج کا دانہ پاس ہے۔نہ پانی کا گھونٹ ۔خود بھی پیاسی ہیں۔بچہ بھی بھوک سے بے تاب ہے یہاں تک کہ اس معصوم نبی زادے کا چہرہ کملانے لگا اور وہ تڑپنے اور بلکنے لگا۔مامتا بھری ماں اپنی تنہائی اور بے کسی کا خیال کرتی،کبھی اپنے ننھے اکلوتے بچے کو دیکھ کر سہم جاتی۔معلوم ہے کسی انسان کا گزر اس بھیانک جنگل میں نہیں۔میلوں تک آبادی کا نام و نشان نہیں۔آخر اس ننھی سی جان کا یہ ابتر حال نہ دیکھا گیا تو اٹھی اور پاس ہی صفا پہاڑ پر چڑھ گئیں۔میدان کی طرف نظر دوڑاتی ہیں کوئی آتا جاتا نظر آئے۔لیکن نگاہیں مایوسی کے ساتھ چاروں طرف سے واپس آتی ہیں تو اتر کر وادی میں پہنچ کر دامن اٹھا کر دوڑتی ہوئی مروہ پہاڑ کی طرف جاتی ہیں۔اس طرح ساتھ مرتبہ کرتی ہیں۔بچے کی حالت ساعت بہ ساعت بگڑتی جا رہی ہے۔ساتویں مرتبہ کچھ آواز کان میں پڑتی ہے۔لپک کر آواز کی طرف جاتی ہیں تو وہاں حضرت جبرائیل علیہ سلام کو پاتی ہیں۔ انہیں غیبی آواز سنائی دیتی ہے جو ان سے پوچھ رہی ہوتی ہے کہ تم کون ہو؟؟حضرت جبرائیل علیہ سلام نے اپنی ایڑی زمین پر رگڑی۔وہیں ذمیں سے چشمہ ابلنے لگا۔
    اب حضرت حاجرہ نے خود بھی پانی پیا اور بچے کو بھی پلایا۔ اور اس کے آس پاس باڑ باندھنا شروع کردی فرشتے نے کہا تم بے فکر رہو۔اللہ تمہیں ضائع نہیں کرے گا۔جہاں تم بیٹھی ہو یہاں اللہ کا گھر بنے گا۔کچھ مدت کے بعد جرہم کا قبیلہ وہاں سے گزرا۔انہوں نے ایک آبی پرندہ دیکھا تو وہ اس خشک اور چٹیل میدان کی طرف بڑھے اور وہاں بہترین اور بہت سا پانی پایا۔اب وہ سب آئے اور کہنے لگے ” اگر مائی صاحبہ اجازت دیں تو ہم یہاں ٹھر جائیں” وہ تو چاہتی تھیں کہ کوئی ہم جنس ملے۔اور یوں سناٹے کی آغوش میں اللہ تعالی نے زندگی کی رمق پیدا کر دی۔ اور پھر اسی جگہ بحکم تعالی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم سلام نے بیت اللہ تعمیر کیا۔
    ہے نا کتنی دلچسپ اور حیران کن کہانی ۔کیسے اللہ تعالی نے ٹیکنیکل طریقے سے اپنے گھر کو آباد کیا۔
    اے عورت زات!!تجھے مبارک ہو کہ تیری ہم ذات سے اللہ تعالی نے یہ عظیم کام لیا۔اور بنی نوع انسان کی تمام آنے والی خواتین کی تربیت کا سامان پیدا کیا۔
    اماں ہاجرہ سے عورت بہت کچھ سیکھ سکتی ہے جیسا کہ
    1۔ اللہ پر توکل
    2۔ صبر و استقامت
    3۔ شوہر کی اطاعت
    4۔ اولاد کی محبت
    5۔ بہادری اور شجاعت
    6۔ عقلمندی اور معاملہ فہمی
    اور سب سے بڑھ کر مناسک حج ان کے نام سے منسوب ہو گئے۔جیسے:
    1۔ صفا مروہ کا طواف
    2۔ آب زمزم پینا
    3۔ مقام ابراہیمی پر دو نفل
    4۔ قربانی
    5۔ حجراسود کو بوسہ دینا
    6۔ رمی کرنا
    وغیرہ وغیرہ
    بغور دیکھئیے اگر اماں حاجرہ کی صفات کسی عورت میں آجائیں تو وہ دنیا کی کامیاب ترین ہستی بن سکتی ہے۔
    اللہ تعالی ہمیں اس عظیم ماں ہاجرہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    ( آمین)

    از قلم: مسز ناصر ہاشمی