Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • نادیہ جمیل بریسٹ کینسر کو شکست دینے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئیں

    نادیہ جمیل بریسٹ کینسر کو شکست دینے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئیں

    بریسٹ کینسر کو شکست دینے والی پاکستان کی معروف اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری کیا ہے

    باغی ٹی وی : سماجی رعابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر نادیہ جمیل نے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اداکارہ بریسٹ کینسر سے صحتیاب ہونے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر اپنے گھر واپس جار ہی ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CCrntkohFfp/
    ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے نادیہ جمیل نے لکھا کہ یہ وہ دن تھا کہ جب میں اسپتال سے ڈسچارج ہوئی اور میں اپنی زندگی کے اِس خاص موقع پر اُن تمام لوگوں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا اور میری نگہداشت کی اور میری صحتیابی کے لیے دُعا کی اور میری ہمت بندھائی-

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ مجھےاسپتال کا وہ تیسرا دن یاد ہے جب میں نے آخری الفاظ یہ سُنے تھے کہ ہم ان کو کھو رہے ہیں۔

    اداکارہ نےلکھا کہ میں علاج کے دوران یہ سوچ رہی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو میرے بچوں کو کون دیکھے گا اور میرے کُتے کا خیال کون رکھے گا اور پھر اُس کے بعد میں نے خود سے کہا کہ اس مشکل وقت میں کلمہ پڑھو۔

    نادیہ نے لکھا کہ مجھے دوران علاج کی اپنی تنہائی یاد ہے اور میں آج بھی وہ سب محسوس کرسکتی ہوں مجھے یاد ہے کہ جب مجھے سوئیاں یعنی انجیکشنز اور ڈرپس لگتی تھیں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی اور پھر میں اللہ تعالی سے دُعا کرتی تھی کہ مجھے یہ سب برداشت کرنے کے لیے مضبوط بنا دیں-

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ اس پورے عرصے کے دوران میں نے جب اپنا فون کھولتی تھی تو آپ سب کے محبت بھرے پیغامات دیکھ کر خوش ہوجاتی تھی اور مُسکرانے لگتی تھی۔

    اُنہوں نے لکھا کہمیں واقعی بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ سب کا پیار ملا میں بھی آپ سے اُتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنی آپ سب مجھ سے کرتے ہیں۔

    نادیہ جمیل کینسر کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں

  • اُشنا شاہ پاکستانی عوام پر برس پڑیں

    اُشنا شاہ پاکستانی عوام پر برس پڑیں

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اُشنا شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم کے دوہرے رویے پر برس پڑیں-

    باغی ٹی وی : مسلمانوں کی اسلمای فتوحات پر مبنی ترکش سیریز ارطغرل غازی کو وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی وی پر یکم رمضان المبارک سے نشر کیا جا رہا ہے اس ڈرامے کے پاکستان میں نشر ہوتے ہیاس کا ہر طرف چرچا ہوگیا- پاکستانی شائقین کی جانب سے ارطغرل غازی ڈرامے سمیت اس ڈرامے کے کرداروں کو بھی سوشل میڈیا پر کافی زیادہ پسند کیا جا رہا ہے کبھی پاکستانی عوام ارطغرل غازی کے اپنے پسندیدہ کردار کے لباس پر تنقید کر رہے ہیں تو کہیں تعریفیں کر رہے ہیں-

    پاکستانی اداکارہ اُشنا شاہ نے پاکستانی شائقین کے اس رویئے پر غصے کا اظہار پاکستانی اداکارہ عفت عُمر کے شو میں کیا-
    https://www.instagram.com/p/CCqK-MlFayE/?igshid=13kjjwccuues5
    عفت عمر کو انٹرویو کے دیتے ہوئے اُشنا شاہ نے کہا کہ ارمینہ کی جانب سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ماہرہ اور ایسرا بیلجک کی تصویر پوسٹ کی گئی جس میں دونوں اداکاؤں نے ایک ہی جیسے کپڑے پہنے ہوئے تھے دونوں کے بازو نظر آ رہے تھے۔

    اُشنا شاہ نےکہا کہ پاکستانی شائقین کے کمنٹ دونوں اداکاؤں کے تصویروں پر اگر دیکھے جائیں تو ماہرہ کو سب ہی نے ایسا لباس پہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور گالیاں دیں ا جبکہ ایسرا بلجیک کی تصویر کی سب نے تعریف کی ۔

    اُشنا کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی عوام کا کہنا ہےکہ پاکستانی ادکارائیں مسلم ہیں اور عوام کا حق ہے اداکاروں کے ایسے لباس پر تنقید کر نا تو ترکش اداکارائیں بھی مسلمان ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی اداکاروں اور معروف شخصیات کو اپنی عورتوں کو اتنا برا بھلا کہتے ہیں اور اُن کی توہین کرتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو باقی دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بالی وڈ اورگوروں کو بھی دیکھتے ہیں اور اُن کی تعریف کرتےہیں ۔جبکہ اپنی اداکاراؤں کے وقت یہ مذہبی بن جاتے ہیں انہیں مذہب یاد آ جاتا ہے-

  • سلامت رہے میرے گھر میں میری ماں کا وجود  تحریر:مریم وفا

    سلامت رہے میرے گھر میں میری ماں کا وجود تحریر:مریم وفا

    ماں….!!!
    (بقلم✍🏻:مریم وفا).
    کڑی دھوپ کی حدت سے سائباں کی طرح ہے،
    میری ماں تو پیار کے بحر بے کراں کی طرح ہے
    ہر درد کو جو اپنے دامن میں سما لے
    میری ماں تو میرے لیے اس مسکاں کی طرح ہے
    زرد شاخوں پہ جو پھیلی ہوئی خزاں کوسمیٹے…
    میری ماں میرے لیے موسم بہاراں کی طرح پے
    مکینوں کے لیےہو جو نہ کسی جنت سے کم
    میری ماں تو میرے لیے اس مکاں کی طرح ہے
    جس کی آغوش محبت میں پہنچ کر ملتا ہے سکوں
    میری ماں تو میرے لیے اس گوہر افشاں کی طرح ہے
    اس کے لبوں پہ کھلتے ہیں سدا دعا کے ہی پھول
    میری ماں تو میرے لیےخوش رنگ گلستاں کی طرح ہے
    سلامت رہے میرے گھر میں میری ماں کا وجود
    میری ماں تو میرے لیے کل زماں کی طرح ہے…!!!
    ____=======_____=======______

  • اسلام کا تصور جمہوریت تحریر: نادیہ بٹ

    اسلام کا تصور جمہوریت تحریر: نادیہ بٹ

    (Islamic concept of democracy)
    "اسلام کا تصور جمہوریت”

    نادیہ بٹ

    اسلام ایک عالمگیر دین ہے جس کی منفرد اور جامع اقدار ہیں۔یہ دین کسی ایک فرد قبیلے گاؤں شہر یا ریاست کے لئے نہیں ہے بلکہ تمام کائنات کے لئے ذریعہ نجات و رہنمائی ہے ۔

    اکثر مصنفین اسلامی سیاسی نظام کا مغربی تصور جمہوریت کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں یا پھر اسلامی طرز حکومت کا اصل جمہوری طرز حکومت کو قرار دیتے ہیں۔
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اسلامی نظام کے تمام تر اصول و ضوابط قرآن میں تحریری شکل میں ملتے ہیں جبکہ ان اصول و ضوابط کی عملی شکل حضور *ﷺ* کی حیات طیبہ ہے اس لئے اسلام نے جو طرز معاشرت متعارف کروایا ہے وہ دنیا کے تمام نظاموں سے منفرد مرد اور اپنی مثال آپ ہے اس لئے اسلامی طرز حکومت کا مغربی تصور جمہوریت سے تقابل کرنا یا اسلامی نظام حکومت کو جمہوری قرار دینا اتنا صحیح معلوم نہیں ہوتا، کیوں کہ نہ تو قرآن میں اسلامی طرز حکومت یا سیاسی نظام کو جمہوریت کا نام دیا گیا ہے نہ بادشاہت کا بلکہ صرف اور صرف اسلامی نظام حکومت یا اسلامی طرز معاشرت یا اسلامی تہذیب و تمدن کے نام ہی تاریخی طور پر سامنے آئے ہیں ویسے بھی اگر بغور دیکھا جائے تو اسلامی نظام حکومت کو اصلی جمہوریت کہنا زیادتی ہوگی۔۔۔۔۔۔
    کیونکہ اسلام نے خلیفہ یا امام کے چناؤ کے لیے نہ صرف امام کی خصوصیات بتائی ہیں بلکہ ووٹر یا سربراہ مملکت کا انتخاب کرنے والوں کی بھی خصوصیات بتائی ہیں۔۔۔۔۔

    اسی طرح جمہوریت اکثریت کی حکومت ہے جبکہ اسلام میں اکثریت کی حکومت کا کوئی تصور نہیں ملتا
    بلکہ صرف اللہ تعالی جو کہ واحد شریک ہے کے اقتدارِ اعلٰی کا تصور ملتا ہے اس لحاظ سے مغربی یا جدید جمہوریت میں عوام (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرتے ہیں۔
    اسلامی نظامِ حکومت میں اللّٰہ تعالٰی کے احکامات کے نفاذ کے لیئے سربراہان اپنی خصوصیات اور کردار کی بنیاد پر چنا جاتا ہے…
    اسی لئے اسلامی نظام حیات ایک منفرد نظام ہیں اس کو جمہوری نظام کہنا بالکل ٹھیک معلوم نہیں ہے

    *دوسری دلیل……!*
    جمہوریت میں پارلیمنٹ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا ہونا ضروری ہوتا ہے حزب اقتدار کا کام قوانین بنانا بھی اور انہیں نافذ کرنا ہے۔
    جبکہ حزب اختلاف کا کام حزب اقتدار پر ہر حال میں تنقید جبکہ اسلامی نظام میں نہ تو کوئی حزب اقتدار ہے نہ ہی حزب اختلاف
    بلکہ مجلس شوریٰ کا ہر رکن حزب اقتدار اور حزب اختلاف ہے۔

    اسلامی طرز حکومت میں سربراہ مملکت کو براہ راست پرکھنا ہر فرد کا فرض ہے اور اگر وہ راہ راست پر ہے تو اس کی اطاعت بھی ہر فرد پر فرض ہے۔اختلاف کا جواز ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جمہوریت نام کی چیز اسلامی طرز حکومت میں موجود نہیں بلکہ اسلامی طرز حکومت جمہوریت سے بھی بہتر اور اعلی نظام حکومت ہے

    *تیسری بڑی دلیل…!*
    جمہوریت میں عالم اور ان پڑھ کا ووٹ ایک ہی وزن کا حامل ہے جو کہ فطرت کے خلاف بات ہے۔ جبکہ صدر یا وزیراعظم امور سلطنت کے سلسلے میں چپڑاسی یا کلرک سے مشورہ نہیں لیتا بلکہ متعلقہ ماہرین سے ہی مشورہ لیتا ہے
    ظاہر ہے کہ ایک چپڑاسی قانون پر لیکچر نہیں سکتا ۔ مختصر یہ کہ اسلامی نظام میں سربراہِ مملکت کو منتخب کرتے وقت ہمیشہ دیانتدار، ایماندار
    اور دانشمند لوگ آپس میں مشورہ کرتے ہیں ہیں کیونکہ قرآن میں ارشاد ہے۔
    *”علم والے اور جاھل برابر نہیں ہیں”*
    جبکہ جدید جمہوریت میں معاشرتی تفاوت کے باوجود عالم اور جاہل کا ووٹ ایک ہی حیثیت کا حامل ہے..!

    *اسی پر اقبال رحمتہ اللہ نے کہا تھا*
    *”جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں*
    *بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے”*

    اگر اسلامی نظام کو جمہوریت قرار دیا جا سکتا ہے تو پھر اسلامی نظام کو اسلامی سوشلزم یا اسلام میں کمیونزم بھی کہہ دینا چاہیئے ۔
    کیوں کہ سوشلزم میں بھی بہت سی اقدار اسلامی اقدار سے ملتی جلتی ہیں اسی طرح کمیونزم کی بہت سی اقدار بھی اسلامی نظام سے ملتی ہیں یہاں صرف یہ واضح کرنا ہے کہ دراصل اسلامی نظام جمہوری نہیں ہے
    یہ صرف ایک اسلامی نظام ہے جس کی اپنی منفرد اقدار ہیں ۔
    مساوات، رواداری اور قانون کی حاکمیت اپنی اصل حالت میں صرف اور صرف اسلامی نظام میں ہی دیکھی جاسکتی ہے

    جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اقدار ایک جمہوری نظام کی خصوصیات ہیں تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں
    کیونکہ یہ سب کہنے کی باتیں ہیں عملی طور پر ریاست میں نام نہاد کامیاب ترین جمہوریت برطانیہ میں دیکھی جا سکتی ہے ۔کیا وہاں پر ان کی اقدار یا قانون کی حاکمیت اصلی حالت میں موجود نہیں ہے؟؟
    کیا وہاں پر کئی سالوں پر محیط گورے اور کالے کا فرق نہیں پایا جاتا ؟؟
    مساوات کے اصولوں کی دھجیاں سب سے زیادہ برطانیہ میں ہی اڑائی جاتی ہیں۔قصہ مختصر یہ ہے کہ اسلامی نظام اپنے اندر ایک جامعیت رکھتا ہے جس کا اپنا ایک علیحدہ اور منفرد مقام ہے اور اسے دوسرے نظاموں کی مشابہت ثابت کرنا بالکل بیکار ہے۔

    *اب کچھ مغربی مفکرین کی آراء پر بھی نظر ڈال لی جائے…….*

    ماہر سیاسیات Burkeکا کہنا ہے:

    *”اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کرنا کوئی فطرت یا قانون نہیں ہے کم تعداد بعض اوقات سے زیادہ مضبوط طاقت بھی ہو سکتی ہے اور اکثریت کی حرص کے مقابلے میں اس کے اندر زیادہ مقبولیت بھی ہو سکتی ہے۔”*
    جمہوریت کی شرائط اور خوبیوں پر بحث کرتے ہوئے ماہرین کہتے ہیں:

    *”جمہوریتوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ شرائط شاذ و نادر ہی پوری ہوتی ہیں’عملی اعتبار سے جمہوریت دراصل جہالت کی حکمرانی کا نام ہے۔اس کی ساری توجہ تعداد پر رہتی ہے ‘کیفیت پر نہیں.اس میں ووٹ گنے جاتے ہیں ‘انہیں تولا نہیں جاتا۔”*

    آخری بات:

    مذکورہ دلائل سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلام کا طرز حکومت نہ تو جمہوری ہے اور نہ ہی شخصی ‘وہ اپنی مثال آپ ہے اور لازوال ہے۔جدید نظام اس کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے بلکہ ان میں موجود چند ایک خوبیاں بھی اسی نظام سے مستعارلی گئی ہیں ۔جدید نظاموں سے قطع نظر اسلامی طرز حکومت ہر سقم اور کمزوری سے یکسر پاک قابل عمل نظام ہے۔۔۔!!!

  • کیمرہ مین سفیر احمد رکشہ چلانے پر کیوں مجبور ہو گئے؟

    کیمرہ مین سفیر احمد رکشہ چلانے پر کیوں مجبور ہو گئے؟

    ماضی کے کیمرا مین سفیر احمد جو کہ اب رکشہ چلاتے ہیں کا کہنا پے کہ زندگی نے دوراہے پر لا کر کھڑا کردیا ہے لائنوں میں کھڑے ہو کر راشن لینے کو ضمیر گوارا نہیں کرتا-

    باغی ٹی وی: ماضی کے کیمرہ مین سفیر احمد نوکری نہ ملنے کی وجہ سے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کی وجہ سے رکشہ ڈرائیور بننے پر مجبور ہو گئے اب وہ رکشہ چلا کر اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ بھرتے ہیں
    https://twitter.com/NKMalazai/status/1283376238682189826?s=08
    سفیر احمد کا کہنا تھا کہ جب وہ بڑے بڑے ہوٹلوں کے سامنے سے گزرتے ہیں تو ان کو اپنا ماضی یاد آ جاتا ہے کہ کبھی انہوں نے ان بڑے بڑے ہوٹلوں میں چائے پی تھی کھانا کھایا تھا پریس کانفرنس کی کوریج کرتا تھا تکلیف اور دُکھ ہوتا ہے وہ وقت یاد کر کے کہ وہ بڑے بڑے وزیروں مشیروں اور معروف شخصیات کے ساتھ ملاقات کرتے تھے اچھے اچھے لوگوں سے ملتے تھے

    سفیر احمد نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ اب روڈ پر ہیں یہاں کوئی گالی بکتا ہے ٹریفک والے دُھتکارتے ہیں-

    انہوں نے کہا تین چار سال فارغ بیٹھا رہا کسی چینل یا کسی بھی دفتر میں جاتے تو کہتے سی وی دیں جب اپنی سی وی دیتا تھا تو کہتے تھے کہ آپ تو میڈیا پرسن ہو یہاں تک کہ ہاسپٹل میں لیب میں 12000 کی جاب کے لئے اپلائی کیا وہاں ایچ آر والا کھڑا ہو گیا اور کہتا کہ آپ تو نیوز چینل کے کیمرہ مین ہو میں کہا جی ہاں اور انہیں ہیلتھ رپورٹرز کے نام بتائے اس نے کہا آپ اس جاب کے قابل نہیں ہو آپ کا گلیمر نہیں ہے-

    سفیر احمد نے کہا کہ گلیمبر کا کیا مطلب ہے میرے بچے بھوکے ہیں گھر میں کچھ کھانے کو نہیں انہیں سکول اور ٹیوشن سے نکال دیا گیا تھا ایسے گلیمبر کا کیا کرنا ہے-

    سفیر احمد نے جذباتی ہوتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی تو میں رات کو گھر ہی نہیں جاتا رکشے میں ہی روتا رہتا ہوں بچے سو جائیں تب گھر جاؤں گا- سفیر احمد نے کہا کہ پہلے جاب پر تھا تو کوئی قرض بھی دے دیتا تھا اب سڑک پر ہیں بے روزگار ہیں تو کوئی قرض بھی نہیں دیتا یہ واپس دے گا کیا-

    سفیر احمد نے کہا کہ مشکل ہے اب بہت آج زندگی نے اس دورارہے پر کھڑا کر دیا کہ جیب میں سیلانی کا کارڈٍ لے کر گھوم رہاہوں لائنوں میں کھڑے پو کر راشن لینے کو ضمیر گوارا نہیں کرتا-

  • لولیا ونتر نے بھی کھیتی باڑی شروع کر دی

    لولیا ونتر نے بھی کھیتی باڑی شروع کر دی

    بالی وڈ سُپر اسٹار سلمان خان کے بعد لولیا ونتر نے بھی کھیتی باڑی شروع کر دی-

    باغی ٹی وی :اداکار سلمان خان کے بعد ، اب ایسا لگتا ہے کہ لولیا ونتر بھی کھیتی باڑی کر رہی ہیں۔ رومانیہ کی ماڈل و گلوکار نے خان کے پنوال فارم ہاؤس میں ہرزہ سرائی کے درمیان اس کی ایک تصویر شائع کی۔ وہ سرسبز و شاداب کھیتوں میں چاول لگاتے نظر آرہی ہیں۔

    لولیا ونتر ان تاویر مین یقینی طور پر خان کے پنول فارم ہاؤس میں دن گزار رہی ہیں۔ گھوڑوں کی سواری سے لے کر درخت لگانے تک ، دھان کے کھیت تک لولیا ونتر نے اپنی خوبصورت تصاویر انسٹا گرام پر شئیر کی ہیں-

    اپنی تازہ ترین انسٹاگرام پوسٹ میں ، لولیا نے لکھا "میں نے گرمی کی بہت سی چھٹیاں بچپن میں دیہی علاقوں میں گزاریں اور میں اپنے دادا دادی کی مدد سے زمین پر کام کرنے ، بیج لگانے اور جانوروں کی دیکھ بھال کرنے میں لطف اندوز ہوتی تھی۔ یہ بہت فائدہ مند ہے۔ میں نے پہلے کبھی چاول نہیں لگائے تھے لہذا یہ میرے لئے نیا تجربہ تھا۔میں اپنے یوٹیوب چینل پر بہت جلد اپنے مداحوں کے ساتھ اپنا تجربہ شئیر کروں گی۔ ”
    https://www.instagram.com/p/CCqo7W0lnyE/?igshid=1tkn3qm8hd3j6
    https://www.instagram.com/p/CCWE0czlSys/?igshid=20o8rjaqec4w
    https://www.instagram.com/p/CCYl2bcFSUo/?igshid=9d26qb36u271
    https://www.instagram.com/p/CCavgFdFnj4/?igshid=1q8wrlz5wqn9r
    https://www.instagram.com/p/CCfveLNlE6s/?igshid=v6hyz1byagbf

  • سونو سود نے لاک ڈاؤن کے دوارن تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ اپنے کام پر ایک کتاب لکھ دی

    سونو سود نے لاک ڈاؤن کے دوارن تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ اپنے کام پر ایک کتاب لکھ دی

    باغی ٹی وی :لاک ڈاؤن کے دوران سونو سود نے تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ اپنے کام پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں اداکار نے جو لوگوں کی مدد کی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ جذباتی اور چیلنجنگ سفر کے بارے میں تحریر کیا ہے ۔ یہ کتاب ، ابھی تک بغیر عنوان کے ہے ، پینگوئن کے ذریعہ شائع کی جائے گی۔

    اداکار کو لگتا ہے کہ اب ان کا ایک حصہ اترپردیش ، بہار ، جھارکھنڈ ، آسام ، اوڈیشہ اور اتراکھنڈ اور دیگر کئی ریاستوں کے دور دراز دیہاتوں میں رہتا ہے جہاں انہوں نے مزدوروں کو بحفاظت ان کے گھروں تک پہنچنے اور اپنے کنبہ کے ساتھ ملنے میں مدد فراہم کی۔

    غیر منقولہ طور پر ، سونو سود ہزاروں تارکین وطن کے وطن واپس جانے کے لئے نقل مکانی کے انتظامات کررہے ہیں۔ اداکار نے کہا کہ وہ یہ کام مکمل طور پر پیار سے کررہے ہیں اور انھیں اپنے کنبہ کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ تارکین وطن کے لئے اپنے کام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ، "میرا ارادہ ہے جب تک کہ آخری مہاجر اپنے گھر نہیں پہنچتا تب تک کام کروں گا۔ سفر پوری قوت کے ساتھ جاری رکھنا ہے۔ کسی کو بے گھر نہیں کیا جانا چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بحفاظت گھر پہنچ جائیں۔

    اداکار نے مزید کہا ، "میں ان کے بارے میں سختی سے محسوس کرتا ہوں کیونکہ میں ایک مہاجر کی حیثیت سے ممبئی آیا ہوں۔ میں ایک دن ٹرین میں سوار ہوا اور یہاں اتر گیا۔ ہر ایک بہتر زندگی کا خواب دیکھنے والے شہر میں آتا ہے۔

  • قوال امجد صابری کی صاحبزادی حورین صابری کی ٹک ٹاک ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

    قوال امجد صابری کی صاحبزادی حورین صابری کی ٹک ٹاک ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

    پاکستان کے معروف لیجنڈری قوال غلام فرید صابری کے بیٹے قوال امجد صابری کی صاحبزادی حورین صابری کی ٹک ٹاک ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی :سماجی رابطے کی انسٹاگرام پر امجد صابری کی صاحبزادی حورین صابری نے اپنی نئی تصاویر اور ٹک ٹاک ویڈیوز شیئر کردی ہیں۔

    حورین ویڈیو اور تصاویر میں خوبصورت دکھائی دے رہی ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CCjBJvEBjkp/?igshid=1x7nmm9ogpax7
    https://www.instagram.com/p/CAlwljSg3tQ/?igshid=qhoi6neoi5it
    https://www.instagram.com/p/CAluea3A_r9/?igshid=4lzk00te99aa
    https://www.instagram.com/p/CAdvuXAgx4c/?igshid=8q66pj2mqoao
    https://www.instagram.com/p/CAC6zUNAcEQ/?igshid=6yy3rmnupon9
    حورین صابری کی ٹک ٹاک ویڈیوز اور تصاویر دیکھنے کے بعد صارفین نے سوال کیا کہ کیا آپ واقعی میں امجد صابری کی بیٹی ہیں؟

    صارفین کے اس سوال کے جواب میں حورین صابری نے اپنے والد کے ہمراہ اپنے بچپن کی کچھ یادگار تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ معروف اقوال امجد صابری کی صاحبزادی ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/B_2eu_ugTAk/?utm_source=ig_embed
    امجد صابری کی صاحبزادی کے میوزک اینڈ سوشل ایپ ٹک ٹاک پر51 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔جبکہ انسٹا گرام پر 54 ہزار فالوورز ہیں –

    واضح رہے کہ کراچی 22 جون 2016 کو قوال امجد صابری پرنامعلوم افرا د نے فائر نگ کی۔امجد صابری کے سر پر گولیاں لگنے سے ان کی موت واقع ہوگئی امجد صابری کے 5بچے، 3بیٹے اور 2بیٹیاں ہیں

  • سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا پر تا حیات پابندی لگانے کی درخواست دائر

    سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا پر تا حیات پابندی لگانے کی درخواست دائر

    پاکستانی فلمساز سرمد کھوسٹ کی فلم ‘زندگی تماشا’ پر تاحیات پابندی لگانے کے لیے لاہور کی مقامی عدالت میں درخواست دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا’ پر تاحیات پابندی کے لیے درخواست اُس وقت جمع کروائی گئی جب 2 دن قبل ہی سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے فلم کو کورونا بحران کے بعد ریلیز کرنے کی اجازت دی تھی۔

    سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے 14 جولائی کو کہا تھا کہ کمیٹی نے فلم کا جائزہ لیا، تاہم فلم میں کوئی بھی قابل اعتراض مواد نہیں پایا گیا۔

    کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے بتایا کہ سنسر بورڈ کو کمیٹی نے کورونا بحران کے بعد ’زندگی تماشا‘جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے کیونکہ فلم ’زندگی تماشا‘ میں کوئی قابل اعتراض چیز نہیں نظر آئی۔

    رپورٹس کے مطابق سینیٹ کمیٹی کی جانب سے فلم کو ریلیز کی اجازت دیئے جانےکے بعد انجمن ماہریہ نصیریہ نامی تنظیم نے فلم پر تاحیات پابندی کے لیے درخواست دائر کردی۔

    اطلاعات کے مطابق تنظیم نے لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں درخواست دائر کی، جس پر 16 جولائی کو مختصر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج وسیم احمد نے مختصر سماعت کی جس دوران فلم ساز سرمد کھوسٹ کے وکیل نے وکالت نامہ جمع کروادیا۔

    تنظیم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم میں مذہبی فرقے کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اگر فلم ریلیز ہوئی تو معاشرے میں ہنگامہ برپا ہوجائے گا۔

    درخواست میں عدالت سے زندگی تماشا پر تاحیال پابندی عائد کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہےعدالت نے فلم ساز سرمد کھوسٹ سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کو 27 جولائی تک ملتوی کردیا۔

    واضح رہے کہ معروف پاکستانی فلمساز اور اداکار سرمد کھوسٹ کی نئی آنے والی فلم زندگی تماشا‘ 24 جنوری کو پاکستان بھر میں نمائش کے لیے پیش کی جانی تھی اس فلم کو نمائش کی منظوری دئیے جانے کے باوجود ملک میں اس کی ریلیز اس لئے روک دی گئی تھی کیونکہ اس کے حوالے سے ایک مذہبی جماعت کی جانب سے فلم کے خلاف مظاہروں کی کال دی گئی تھی جس کے بعد فلم کی ریلیز روک دی گئی تھی۔

    سینٹ نے فلم ’زندگی تماشا‘ کو کورونا بحران کے بعد ریلیز کرنے کی اجازت دے دی

  • کے پی کے حکومت کا اداکارہ ڈاکٹر ثروت علی کا علاج کروانے کا اعلان

    کے پی کے حکومت کا اداکارہ ڈاکٹر ثروت علی کا علاج کروانے کا اعلان

    کے پی کے حکومت نے اداکارہ ڈاکٹرثروت علی کے علاج کے لیے اعلان کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی :کے پی کے حکومت نے سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہونے کے بعد معروف اداکارہ ڈاکٹر ثروت علی کے علاج کے حوالے سے مدد کا اعلان کیا ہے۔

    اس سلسلے معاون اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے لیڈی ریڈنگ اسپتال لاہور کے ڈائریکٹرڈاکٹر خالد مسعود کوفون کر کے ڈاکٹر ثروت کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور ہاسپٹل ڈائریکٹرکو اداکارہ کے علاج کے لیے بغیر معاوضہ تمام سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

    ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے اس سلسلے میں احکامات جاری کئے ہیں کہ اداکارہ ڈاکٹر ثروت علی کو اسپتال میں ہر قسم کے علاج کو یقینی بنایا جائے اداکارہ کے بہترین علاج و معالجہ میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔

    کامران بنگش کا کہنا تھا کہ فنکار ہمارا ثقافتی ورثہ ہے اور وزیراعلی کے پی کے ہدایت پر فنکار برادری کو تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔