Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • خا ن صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا سا گھبرا لیں؟     وینا ملک

    خا ن صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا سا گھبرا لیں؟ وینا ملک

    وزیر اعظم عمران خان کے یوں تو کئی سیاسی نعرے اور وعدے عوام کو بہت پسند ہیں اور ان کے ایسے نعروں اور باتوں پر سوشل میڈیا پر چرچے بھی ہوتے رہتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ چند ماہ سے وزیر اعظم عمران خان کا بیان ’آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘ خوب وائرل ہو رہا ہے اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے ’گھبرانا نہیں ہے‘ کا جملہ اپنے متعدد خطبات میں استعمال کیا تاہم ان کا یہ جملہ اس وقت عوام میں مقبول ہوا جب کورونا کی وبا کے حوالے سے انہوں نے قوم سے خطاب کیا تھا۔

    عمران خان نے ’گھبرانا نہیں ہے‘ کا جملہ بطور وزیر اعظم اپنے پہلے قوم سے خطاب میں بھی استعمال کیا تھا اور اس کے بعد وہ مختلف مواقع پر ملک کے مشکل حالات کے وقت مذکورہ جملہ بولتے دکھائی دیئے-

    تاہم ان کے اس جملے نے اس وقت سب سے زیادہ شہرت حاصل کی جب مارچ میں انہوں نے کورونا کی وبا سے متعلق قوم سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو کہا تھا کہ جب ان میں کورونا کی علامات ہوں تو وہ اس کا ضرور ٹیسٹ کروانے جائیں ساتھ ہی انہوں نے عوام کو ہدایت کی تھی کی ’انہیں سب سے پہلے گھبرانا نہیں ہے۔

    وزیر اعظم کے اسی جملے پر سوشل میڈیا اسٹارز اور خصوصی طور ٹک ٹاک اسٹارز نے متعدد ویڈیوز بھی بنائی-

    بعاد ازاں وفاقی حکومت کی جانب سے 12 جون کو 2020 -2021 کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر یاسر حسین نے بھی اہلیہ اقرا عزیز کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو کو انسٹاگرام پر شیئر کیا دونوں اداکاروں نے وزیر اعظم عمران خان کے اسی جملے ’آپ نے سب سے پہلے گھبرانا نہیں ہے‘ پر مزاحیہ ویڈیو بنائی۔
    https://www.instagram.com/p/CBTjUA9AiRJ/?igshid=1t8t7xlhevpor
    مزاحیہ ویڈیو میں اقرا عزیز وزیر اعظم کے جملے ’آپ نے سب سے پہلے گھبرانا نہیں ہے‘ پر اداکاری کرتی دکھائی دیں جبکہ یاسر حسین اہلیہ اقرا عزیز کی جانب سے وزیر اعظم کا معروف جملہ کہنے کے بعد پنجابی انداز میں بڑے بے بس ہوکر انہیں کہتے ہیں کہ اب انہیں گھبرانے کی اجازت دی جائے اب ہمارا گھبرانا بنتا ہے-

    تاہم اب پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر پی ٹی آئی کی سپورٹر اداکارہ و میزبان وینا ملک نے بھی وزیراعظم کو مذکورہ جملے طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خان صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا گھبرا لیں؟

    پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پرجہاں عوام کی جانب سے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں معروف شخصیات بھی وزیراعظم کو طنز کا نشانہ بنا رہی ہیں-


    اداکارہ وینا ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وزیراعظم کو محاطب کرتے ہوئے طنز کا نشانہ بنایا کہا کہ خان صاحب عوام پوچھ رہی ہے اب تھوڑا گھبرا لیں؟

    اس سے قبل نجی ٹی وی شو کے میزبان فہد مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ جناب عمران خان میں جانتا ہوں کہ ملک چلانا آسان کام نہیں ہے لیکن کیا ہوا (یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں) آپ ہمیں بتاتے رہے جب آپ حزب اختلاف میں تھے۔فہد مصطفی کا مزید کہنا تھا کہ مجھے بتائیں کہ کیا میں نے آپ کو ووٹ دے کر صحیح فیصلہ کیا ہے؟

    جبکہ اینکر پرسن جنید سلیم نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور وزیراعظم عمران خان کو استعفیٰ دینے کا کہہ دیا، جنید سلیم کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جا-

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جاؤ،جنید سلیم

  • کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟  تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟ تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    کامیاب زندگی کا حصول مگر کیسے؟؟؟
    تحریر:- محمد عبدالله اکبر

    اس دنیائے ہست و بود میں کامیاب انسان وہی سمجھا جاتا ھے جو کسی کام کے آغاز کے بعد اس پر دوام حاصل کرتا ھے، اور دنیا بھی ایسے ہی لوگوں کو فالو کرتی ھے۔ جبکہ کام کو پایہ تکمیل تک پہنچائے بغیر کسی کام کو ادھورا چھوڑ دینے والے کو یہ دنیا بہت پیچھے چھوڑ جاتی ھے۔ لہٰذا کسی بھی شخص کو اس دنیا میں اپنا لوہا منوانے کے لئے، خود کو کامیاب ترین شخص کہلوانے کے لئے مستقل مزاجی کی عادت کو اپنانا ھوتا ھے۔۔۔!!
    یہ دنیا جو فانی ہے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اتنا سخت اصول اپنانا ھوتا ھے تو ھم کیسے یہ تصور کر سکتے ھیں کہ جہاں ہمیشگی کی زندگی ھوگی اس کی تیاری میں ھم بغیر مستقل مزاجی اختیار کیے ہی کامیاب ھو جائیں گے۔
    لا شک کہ ھدایت جیسی عظیم نعمت جس کے حصے میں آ جائے اس جیسی خوش نصیبی اور کہاں حاصل ھو لیکن صرف ہدایت کا مل جانا ہی کافی نہیں ھے بلکہ شریعت اسلامی میں اصلاً مقصود ھدایت پر استقامت ھے۔۔
    ھدایت بہت سوں کو مل جاتی ھے لیکن ھدایت پر استقامت ہر ایک کے حصے میں نہیں آتی۔
    ھدایت حاصل ھوئی اور اس پر سختی سے ڈٹ جانا، شریعت اس چیز کی متقاضی ھے۔
    جیسا کہ الله سبحانه و تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
    ((فاستقم کما امرت و من تاب معک))
    ” اپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ھے اور وہ بھی جس نے آپکی معیت میں رجوع الی الله کو اختیار کیا”

    اسی طرح بار ہا رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی تاکید فرمایا کرتے تھے جیسا کہ شداد بن اوس رضی الله عنه کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونا و چاندی کو ذخیرہ کررہے ھوں تو تم ان کو کلمات کو ذخیرہ کرنا ((اللھم انی اسئلک الثبات فی الامر والعزیمۃ علی الرشد))
    "یا الله میں تجھ سے سوال کرتا ھوں دین پر ثابت قدمی کا اور بھلائی پر پختگی کا۔”
    اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آتا ھے کہ سیدنا سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ کے استفسار پر جناب محمد کریم صلی اللہ علیہ و سلّم نے انہیں ایک اللہ پر ایمان لانے اور اس پر ڈٹ جانے کا حکم دیا۔
    آیات اور احادیث سے یہ بات مترشح ھوتی ھے کہ دین پر سختی سے ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی کا ذریعہ ھے۔ جب دین پر استقامت اختیار کرنے کا ارادہ کرلیا تو پھر اس چیز کی قطعاً گنجائش نہیں کہ دن میں ایک آدھی نماز پڑھ لی یا آئے روز کوئی نا کوئی نماز چھوڑ دی جائے اور دلیل میں یہ پیش کیا جائے کہ الله بڑا معاف کرنے والا ھے، بڑا غفور رحیم ھے۔

    ھمارے ایمان ہی اتنے پختہ ھیں کہ برادری کو وجہ بنا کے ھم دین پر قائم نہیں رہ سکتے، ھمارے ذہنوں میں ایک بات رچ بس گئی ھے، بہت معذرت کے ساتھ ھم نے اسی بات کو خدا بنا لیا ھے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
    ھم دین کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی پر لاگو کرنا چاہتے ھیں لیکن برادری، معاشرہ ھماری راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ھے۔
    ایک طرف ھمارا ایمان ھے اور ایک طرف ان لوگوں کا ایمان ھے کہ جن کے بارے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:-
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے پہلے لوگوں کا حال یہ تھا کہ ایک آدمی کو پکڑا جاتا، زمین میں گاڑا جاتا، آرا چلایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر چیر دیا جاتا، لوھے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت اور ہڈیوں کو نوچا جاتا۔ لیکن یہ چیزیں بھی ان کے ایمان کو ڈگمگا نا سکیں۔
    اسلام ایسی ہی استقامت کا تقاضا کرتا ھے کہ کسی بھی تنگی، مصیبت کو دیکھ کر دین اسلام سے پیچھے نا ہٹا جائے بلکہ دوام اختیار کیا جائے۔
    استقامت حاصل کرنے میں اگرچہ بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ھے، یہ کوئی آسان فعل نہیں ھے اور یہ رب تعالیٰ کی اعانت و نصرت کے بغیر ممکن نہیں ھے لیکن ان میں ھمیں خود بھی آہستہ آہستہ کوشش کرنی چاہیے۔
    نفس امارہ کو نفس مطمئنہ میں بدلنے کے لئے بہت لمبا سفر کرنا پڑتا ھے، بہت محنتیں درکار ھوتی ھیں لیکن ھمیں گھبرانا نہیں ھے بلکہ جس چیز کو ایک دفعہ اختیار کر لیا اس پر ڈٹ جانا ھے اور پھر اللہ کریم ھمارے لئے رستے کھولتا جائے گا اور پھر نعیم سرمدی میں ان شاءاللہ کامیابی ھمارا مقدر ھوگی اور انعام میں ھمیں جنت الفردوس عطا کی جائے گی اور اس کامیابی کا اصل انعام دیدارِ الٰہی کی صورت میں دیا جائے گا۔ ان شاءالله

  • سوشانت سنگھ راجپوت کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی

    سوشانت سنگھ راجپوت کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی

    رواں ماہ 14 جون کو خود کشی کرنے والے 34 سالہ بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے-

    باغی ٹی وی : خود کشی کر کے موت کو گلے لگانے والے بھارتی اداکار سوشانت سنگھ کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے اداکار کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کچھ انکشافات کئے گئے ہیں، جس کے بعد مداحوں نے ایک بار پھر سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی پر سوشل میڈیا پر بحث شروع کردی۔

    بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق پولیس نے سوشانت سنگھ راجپوت کی فائنل پوسٹ مارٹم رپورٹ حاصل کرلی، جس پر 5 ڈاکٹرز کے دستخط ہیں۔

    اداکار کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر تین ڈاکٹرز کے دستخط تھے اور انہوں نے ابتدائی رپورٹ میں اداکار کی موت کا سبب دم گھٹنا قرار دیتے ہوئے عندیہ دیا تھاکہ انہوں نے خودکشی ہی کی ہوگی اور اب ان کی فائنل رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی اور ان کا دم پھندا لگنے کی وجہ سے گھٹا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اداکار کے ناخن بھی بلکل صاف تھے جب کہ ان کے جسم پر بھی تشدد کا کوئی نشان نہیں پایا گیا۔

    فائنل رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ڈاکٹرز کی ٹیم کو کوئی ایسے ثبوت نہیں ملے جن کی بنیاد پر ان کی موت پر قتل کا شک کیا جائے۔

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق فائنل پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹرز نے سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کے حوالے سے کسی طرح کے قتل کے شبے کے سوالات نہیں اٹھائے اور ان کی موت کو واضح طور پر خودکشی کا واقعہ قرار دیا۔

    فائنل پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کو خودکشی قرار دیے جانے پر بھی بھارتی سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی اور لوگوں نے ایک بار پھر فلم انڈسٹری کی معروف شخصیات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شوبز کےبا اثر افراد ہی ایسے حالات پیدا کرتے ہیں کہ نئے اداکار خودکشی پر مجبور ہوں۔

    انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی پر پولیس تفتیش کے حوالے سے بتایا کہ اب تک 23 افراد کا بیان ریکارڈ کیا جا چکا ہے اور پولیس کو یہ بات معلوم نہیں ہوسکی کہ اداکار ڈپریشن کا شکار کیسے بنے؟

    واضح رہے کہ اس حتمی رپورٹ سے قبل اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی سوشانت سنگھ کی موت کی وجہ دم گھٹنا بتائی گئی تھی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اداکار کا گلا پھانسی کی وجہ سے گھٹا جس کے بعد اُن کی موت واقع ہوئی میڈیا رپورٹ کے مطابق سوشانت سنگھ کا کورونا وائرس ٹیسٹ بھی کیا گیا تھا جس کے نتائج منفی آئے تھے۔

    کیا سوشانت سنگھ سچا پیار نہ مل پانے کی وجہ سے شدید ذہنی تناؤ کا شکار تھے؟

  • احسن خان اور اُشنا شاہ کے نئے ڈرامے کی پہلی قسط آج نشر کی جائے گی

    احسن خان اور اُشنا شاہ کے نئے ڈرامے کی پہلی قسط آج نشر کی جائے گی

    پاکستان کے معروف اداکار احسن خان اور نامور اداکارہ اُشنا شاہ کا نیا ڈرامہ سیریل ’بندھے اک ڈور سے‘ آج رات 8 بجے جیو ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے معروف اداکار احسن خان اور نامور اداکارہ اُشنا شاہ کا نیا ڈرامہ سیریل ’بندھے اک ڈور سے‘ آج رات 8 بجے جیو ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔ ڈرامے کا پرومو جاری ہونے کے بعد سے ناظرین کو اس ڈرامے کا بے چینی سے انتظار تھا احسن خان اور اُشنا شاہ کی جوڑی کو ڈرامے کے پرومو میں بے حد پسند کیا گیا۔

    احسن خان کا کہنا تھا کہ ہمارے نئے ڈرامے کے پرومو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی ہے، ناظرین مذکورہ ڈرامے کو فائزہ افتخار نے لکھا ہے جبکہ اس کی ڈائریکشن علی فیضان نے دی ہے سیونتھ اسکائی کے عبداللہ کادوانی پروڈیوسر ہیں

    احسن خان کا ڈرامے کے بارے میں کہنا تھا کہ ڈارمہ جمعرات پچیس جون کو جیو پر نشر کیا جائے گا انہوں نے کہا مہ بندھے ایک ڈور سے ویسے تو ہم سب جانتے ہیں ہم سب کی ڈور اوپر والے کے ہاتھ میں ہے اس نے ہمیں ایک ڈور میں باندھ کے بھیجا ہے کسی نہ کسی رشتے کے تحت کسی نہ کسی طریقے سے ہماری فیملیز ، آپس میں پیار محبت اور دوست احباب ، رشتے دار ،علاقے اور شہروں کے لوگ اور مُلک کے لوگ آپس میں ایم ہی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں تو اس ڈور کبھی ٹوٹنی نہیں دینا چاہیے کیونکہ محبت کی ڈ ور بہت نازک ہوتی ہے میرا نیا ڈرامہ ’بندھے اک ڈور سے‘ آج سے شروع ہو رہا ہے۔

    ڈرامے کے دیگر کاسٹ میں حنا الطاف، ثمینہ احمد نواز حسن، مدیحہ رضوی اور قوی خان بھی شامل ہیں، آج پہلی قسط جیو سے آن ایئر ہوگی۔
    https://www.instagram.com/tv/CBOIp_qFBam/?igshid=klun34drbofu

  • پاکستانی ڈرامہ ’دھوپ کنارے‘  سعودی عرب میں عربی ڈبنگ کے ساتھ نشر ہونے کے لئے تیار

    پاکستانی ڈرامہ ’دھوپ کنارے‘ سعودی عرب میں عربی ڈبنگ کے ساتھ نشر ہونے کے لئے تیار

    پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کا ماضی کا مقبول ترین ڈرامہ ’دھوپ کنارے‘ عربی زبان میں ڈب کرکے سعودی عرب میں نشر ہونے کے لئے تیار ہے-

    باغی ٹی وی :پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کا ماضی کا مقبول ترین ڈرامہ ’دھوپ کنارے‘ عربی زبان میں ڈب کرکے سعودی عرب میں نشر کیا جائے گا- بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 2019 میں وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے سعودی دارالحکومت کے دورے کے بعد سے کچھ خبریں زیر گردش تھیں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات مضبوط کرنے کے لیے پاکستانی ڈرامے عربی زبان میں ڈب کرکے سعودیہ عرب میں نشر کیے جائیں گے اور یہ فواد چوہدری کے دورے کے بعد اسلام آباد اور ریاض کے درمیان شروع کردہ ’کلچرل ایکسچینج پروگرام‘ کا ایک حصہ تھا۔

    اس منصوبے کے تحت پاکستان کے تین مقبول ترین ڈراموں کی لسٹ ترتیب دی گئی تھی جن میں دھوپ کنارے، تنہائیاں اور آہٹ شامل تھے لیکن سرکاری ٹی وی چینل کے پاس کم بجٹ ہونے کی وجہ سے دو ڈراموں ’تنہائیاں اور آہٹ ‘ کی عربی ڈبنگ تاخیر کا شکار ہوگئی تاہم اس منصوبے کی نگراں ڈاکٹر لبنی فرح کے مطابق ڈرامہ’دھوپ کنارے‘ کی عربی زبان میں ڈبنگ مکمل ہوگئی ہے اور اب یہ ڈرامہ سعودی عرب میں نشر ہونے کے لیے تیار ہے-

    وزیر اطلاعات شبلی فراز نے مزید تفصیلات سے انکار کرتے ہوئے عرب نیوز کو بتایا ، "اس منصوبے پر کام دوبارہ شروع ہوچکا ہے اور جلد ہی (تیار شدہ مصنوعات) کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اپنے ٹیلی ویژن چینلز کو (نشر کرنے) دیا جائے گا۔”

    تاہم ، پی ٹی وی کے کنٹرولر بین الاقوامی امور ، محمد ادریس نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان دونوں ڈراموں پر جب زیر التواء کام دوبارہ شروع ہوگا ، انہوں نے مزید کہا: "یہ مکمل طور پر ایک وزارت (انفارمیشن)کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ یہ ڈرامے کب اور کہاں بھیجتے ہیں۔”

    پی ٹی وی کی سابقہ ​​بین الاقوامی امور کی سابقہ ​​ڈائریکٹر شازیہ سکندر نے کہا ، "یہ منصوبہ تین سال پہلے شروع کیا گیا تھا۔ باقی دو (تنہائیاں اور آہٹ) باقی فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے مکمل نہیں ہوسکے۔”


    دوسری جانب وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں اس بات کا اعلان کیا کہ ڈرامہ ’دھوپ کنارے‘ عربی زبان میں ڈب کرکے سعودیہ عرب میں نشر ہونے کے لیے تیار ہے۔

    واضح رہے کہ یہ پہلا پروجیکٹ ہے جس میں پی ٹی وی نے مقامی ٹی وی پروڈکشن کو سعودی ناظرین کے لئے ڈب کیا ہے ، اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے عہد کو جدید بنانے اور اپنے لوگوں کے لئے تفریح ​​کے نئے مواقع پیدا کرنے کے وژن کا نتیجہ ہے۔

    جنسی زیادتی پر بننے والی پہلی پاکستانی فلم کب پیش کی جائے گی؟

  • فرحان سعید کا پاکستانی لیجنڈز کو خراج تحسین

    فرحان سعید کا پاکستانی لیجنڈز کو خراج تحسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و گلوکار فرحان سعید کا پاکستان کی لیجنڈ اور عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر اداکار نے اداکار قوی خان، صوفی گلوکارہ عابدہ پروین اور معروف کامیڈین عمر شریف کو ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CBvW-Z9FOTv/
    فرحان سعید نے انسٹا گرام پر ایک طویل کیپشن پر مشتمل پاسٹ شئیر کی لکھا کہ وہ پاکستان کے LivingLegends کی کاوشوں کو سراہنے کیلئے ایک عاجزانہ سی کوشش کررہے ہیں۔

    نہوں نے لکھا کہ وہ لوگ جنہوں نے بے غرض ہمارے ملک کی خدمت کی ہے، ان سب کی بے مثال لگن کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے میرا ساتھ دیں اور ان لیجنڈز کا شکریہ ادا کریں۔
    https://www.instagram.com/p/CBvaONhlw85/
    فرحان سعید نے قوی خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک یادگار تصویر شئیر کی اور لکھا کہ میں میں پہلا خراج تحسین قوی خان کو پیش کرتا ہوں جو 1952 کے بعد سے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

    گلوکار و اداکار نے لکھا کہ انہیں حال ہی میں ٹیلی ویژن اور فلم اسکرین دونوں پر ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے جس نے بھی قوی صاحب کے ساتھ کام کیا ہے ان کو معلوم ہو گا کہ ان کا سلوک دوسرے کو احترام کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔

    انہوں نے لکھا کہ قوی خان اپنی ذات میں ایک ادارہ ہیں اور اپنے مثالی کام کے لئے انہیں حال ہی میں حکومت پاکستان نے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا ہے۔

    انہوں نے کہا قوی‌ خان نوجوان اداکاروں کو ہر اداکاری کے ساتھ آگے بڑھانے کی ترغیب دے کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں-

    فرحان سعید نے لکھا کہ قوی خان کا کہنا ہے کہ نیت میں سچائی اور محبت میں خلوص ہی محبت کا صدقہ ہے-

    فرحان سعید نے عابدہ پروین کو بھی خراج تحسین پیش کیاعابدہ پروین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرحان سعید نے لکھا کہ عالمی شہرت یافتہ عابدہ پروین کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کا فن نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد پار بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے-
    https://www.instagram.com/p/CBx7OKRlHuL/
    انہوں نے لکھا کہ عابدہ پروین کوعالمی سطح پر صوفی نوع کی ایک غیر حقیقی نمائندگی کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔، ان کی ترتیب دی ہوئی روح پرور دھنیں سننے والوں کو ایک سحر میں مبتلا کر دیتی ہیں-

    اداکار و گلوکار نے لکھا کہ وہ اپنی زندگی میں بہت کم موقعوں پر عابدہ پروین سے ملے ہیں لیکن جب بھی ان کی ملاقات ہوئی انہوں نے عابدہ پروین کی آنکھوں میں دوسروں کیلئے عاجزی اور احترام دیکھا ہے۔

    فرحان نے لکھا کہ عابدہ جی بلاشبہ ہر پاکستانی کے لئے باعث فخر اور الہام ہیں دوسروں کو سیکھنے اور سکھانے کے لئے ان کی ہمیشہ کی خواہش ناقابل یقین ہے اور ہم سب کے لئے ایک سبق ہے۔ انہوں نے نسل در نسل آنے اور ان کے سفر کے لئے راہ ہموار کی۔ میں بھی ان کے بے مثال جذبے سے متاثر ہوں ان کا کام ہمیشہ ہی میرے لئے الہام اور ترغیب کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔

    فرحان سعید نے عابدہ پروین کے گائے ہوئے الفاظ لکھے کہ عابدہ جی نے یہ کہا کہ ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں،……ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ” اور وہ بلا شبہ اس کی طرح ہے –

    معروف کامیڈین عمر شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرحان سعید نے لکھا کہ وہ ہمیشہ سے ہی عمر شریف کے بہت بڑے پرستار رہے ہیں آن اور آف سکرین دونوں پر-

    فرحان سعید نے لکھا کہ ایک مطلق شو مین جس کے لئے کسی خاص جگہ یا سامعین ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے ہنر کی استعداد کو ظاہر کرے۔ وہ بلا شبہ آپ سے کہیں بھی اور ہر جگہ اس سے ملنے پر حیرت سے ہنستے ہیں۔ان کی شائستہ طبیعت اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے بھی بالاتر ہے۔
    https://www.instagram.com/p/CB0zrl2FA96/
    فرحان سعید نے لکھا کہ میں ان کے ایک مشورے کو نہیں بھول سکتا: انہوں نے اپنے مداحوں کے بارے میں کہا تھا کہ "یہ لوگ ہیں ،تو ہم ہیں – انکو کبھی انکار نہیں کرنا”۔ اس کے بعد سے ان کی باتوں کو میں نے اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیا۔

    فرحان نے لکھا کہ وہ متعدد بار بھارت کا دورہ کرچکے ہیں اوراور اگر سرحد پار پاکستانی ثقافت اور ہنر کا ایک سفیر ہے تو ، یہ کوئی اور نہیں بلکہ عمر صاحب ہیں۔ ان کا طنز بلاشبہ حدود سے تجاوز کرتا ہےسرحد پار سے ان گنت مداحوں نے مجھ سے ان سے محبت ، احترام اور تعریف کے پیغامات پہنچانے کو کہا۔

    گلوکار نے لکھا کہ پاکستان اور ان کی وراثت کے لئے ان کی خدمات بے مثال ہیں۔ اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک صرف شکریہ کافی نہیں ہوگا لیکن یہ ہم سب کی طرف سے ایک چھوٹی سی تعریف ہے۔

  • صنم ماروی کا گلوکاری میں واپسی کا اعلان

    صنم ماروی کا گلوکاری میں واپسی کا اعلان

    معروف صوفی گلوکارہ صنم ماروی نے رواں ماہ 23 جون کو گلوکاری چھوڑنے کا اعلان کیا تھا تاہم گذشتہ روز 24 جون کو انہوں نے گلوکاری میں واپسی کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : معروف صوفی گلوکارہ صنم ماروی نے رواں ماہ 23 جون کو گھریلو تنازعات کے بعد گلوکاری چھوڑنے کا اعلان کیا تھا صنم ماروی نے گلوکاری چھوڑنے کا اعلان اس وقت کیا تھا جب ان کی سوتیلی بہن گلوکارہ ریشماں پروین نے ان پر شدید الزامات لگاتے ہوئے ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی۔

    ریشماں پروین نے 22 جون کو سندھی زبان میں ایک مختصر ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ ان کی بہن صنم ماروی نے نجی گارڈز کے ساتھ ان کے گھر میں گھس کر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کی دھمکیاں دیں، کیوں کہ وہ ان کی تیسری شادی سے متعلق باتیں جانتی ہیں

    ریشماں پروین نے دعوی کیا کہ صنم ماروی نے حامد خان سے فروری میں خلع کے بعد کبیب نواز نامی لڑکے سے شادی کرلی ہے۔

    ریشماں پروین نے مزید بتایا تھا کہ بہن کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دیے جانے کے بعد انہوں نے لاہور کے پولیس تھانے میں شکایت بھی درج کروادی ہے-

    ریشما ں نے کہا تھا کہ وہ تین ماہ قبل ہی سندھ سے لاہور منتقل ہوئی ہیں اور صنم ماروی انہیں دھمکیاں دے رہی ہیں کہ وہ لاہور میں زندہ رہ کر دکھائیں

    سوتیلی بہن کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صنم ماروی نے سندھی نیوز چینل (ٹائمز نیوز) سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ 15 سے 20 دن میں گلوکاری کو چھوڑ دیں گی۔

    صنم ماروی نے جذباتی انداز میں کہا تھا کہ جب ان کے اہل خانہ ہی ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی ملکیت اور پیسہ ہی ان کے تنازعات کا سبب بنے تو وہ ایسے شعبے میں مزید کام کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔

    صنم ماروی نے اپنے خاندانی جھگڑے کو مداحوں کے تنازع سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ان کے گلوکاری چھوڑنے کی ایک وجہ سندھی مداحوں کی جانب سے ان کی کردارکشی کرنا بھی ہے اور سندھ کے مداح ان کی کردارکشی کرتے ہوئے ان کے لیے خلاف نامناسب زبان استعمال کر رہے ہیں اور وہ مزید گلوکاری نہیں کرنا چاہتیں۔

    صنم ماروی نے یہ بھی کہا تھا کہ سندھ کے مداحوں نے ہمیشہ ان کی کردارکشی کی جب کہ پاکستان بھر کے دیگر مداحوں نے انہیں عزت دی۔

    انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اب سندھ کی سرزمین کسی اچھے گلوکار کے لیے ترس جائے گی اور کوئی بھی شاہ، سچل اور سامی کو گانا والا گلوکار سندھ کو نہ ملے گا۔

    صنم ماروی کی جانب سے خاندانی تنازع کو سندھ کے مداحوں سے جوڑنے پر بعض مداحوں نے ان سے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ صنم ماروی کو پہلا پیار اور پہلی شہرت سندھ کے لوگوں نے ہی دی اور گلوکارہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    جس کے بعد گلوکارہ نے ایک ویڈیو جاری کرکے سندھ کے تمام مداحوں سے اپنے روئیے پر معافی بھی مانگی گلوکاری کرنے کا اعلان بھی کیا۔

    صنم ماروی نے سوشل میڈیا تقریبا 7 منٹ اور 42 سیکنڈ کی سندھی زبان میں جاری کی گئی ویڈیو میں گزشتہ روز موسیقی چھوڑنے کے اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کہنے کا مقصد تھا کہ سندھ کے عوام نے ان کا بیان سنے بغیر ہی ان انہیں جھوٹا کہہ کر ان کی کردارکشی کر نا شروع کر دی تھی جس وجہ سے انہوں نے غصے میں آکرگلوکاری چھوڑنے کا اعلان کیا۔

    صنم ماروی اپنے خاندانی معاملات پر بات کرتے ہوئے جذباتی بھی ہوگئیں اور کہا کہ شوہر سے خلع کے بعد انہوں نے ابھی تک اپنے بچوں کو نہیں دیکھا اور وہ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ہی یہ جنگ لڑ رہی ہیں۔

    صنم ماروی نے سندھ کے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے نام سے سرزمین سندھ کی ہیروئن ماروی کا نام نکال لیا جائے تو وہ کچھ بھی نہیں رہیں گی اور وہ سندھ کے مداحوں کو برا بھلا کہنے کی بات سوچ بھی نہیں سکتیں۔


    صنم ماروی نے اپنے فیس بک پر ایک پوسٹ بھی شئیر کی جس میں انہوں نے واپس گلوکاری کی جانب آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مداحوں کے سامنے شاہ عبد اللطیف بھائی کا گانا اور سندھ کے لئے ایک قومی ترانہ گائیں گی۔

    خیال رہے کہ صنم ماروی اور ریشماں پروین کی والدہ ایک ہی ہے، تاہم دونوں کے والد الگ ہیں صنم ماروی کے والد بھی سندھ کے معروف گلوکار تھے اور ان کے قتل کے بعد ان کی والدہ نے دوسری شادی کی۔

    معروف صوفی گلوکارہ صنم ماروی نے گلوکاری چھوڑنے کا اعلان کردیا

  • بت شکنی سے مندر کی تعمیرتک  تحریر: فاطمہ ہاشمی

    بت شکنی سے مندر کی تعمیرتک تحریر: فاطمہ ہاشمی

    بت شکنی سے مندر کی تعمیر تک
    تحریر فاطمہ ہاشمی

    خبر ہے کہ اسلام آباد کے شہر میں حکومت پاکستان نے مندر کی بنیاد رکھوا دی ہے
    اس پہ بہت سے لوگ اس پہ سوال اٹھا رہے ہیں لیکن برا ہو اس سیاسی فرقہ واریت کا جس نے حق کہنے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ہی سلب کر لی ہے اور بہت سے مذہبی لوگوں اس موقع پہ نیوٹرل ذہن دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور اس کو وہ مذہبی رواداری اقلیتوں کے حقوق سے جوڑتے پاے جاتے ہیں
    اب سوال یہ ہے کہ اقلیتوں کے حقوق ہیں کیا؟ اور یہ کون بتائے گا ؟ کیا اقلیتوں کے حقوق کے نام جو من مرضیاں چاہے کرتے جائیں یاں اس کا کوئی دائرہ کار ہے ہر مذہب و ملک نے اپنے اقلیتوں کے حقوق بیان کئیے لیکن اسلام نے اقلیتوں کے جائز حقوق کا بہت خیال رکھا ہے لیکن اسلام نے شرک کو بالکل حرام قرار دیا ہے اور اس کی تبلیغ پہ بھی پابندی عائد کی ہے اور اس کو ظلم عظیم بتایا ہے کہ اللہ سے شرک روا رکھا جائے جس اللہ نے کائنات کو پیدا کیا اس نے شرک کی اجاذت نہیں دی اگرچہ اسلام میں زبردستی نہیں لیکن شرک کا اڈا بنانا یا اسکا ساتھ دینا بھی جائز نہیں
    مختلف ممالک پہ اسلامی فوجوں کی یلغار کے بعد وہاں لوگوں کی عبادت گاہوں کو بلاجواز مسمار نہیں کیا گیا لیکن اس کےباجود تاریخ اسلام میں مکہ میں بتوں کی تباہی سے ایران کے آتشکدے کے بجھنے اور محمود غزنوی کے بت شکن بننے کے واقعات موجود ہیں اسکے برعکس عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ دیا گیا مگر تعمیر تو ان کی بھی نہیں کی گئی حالانکہ وہاں اللہ کی عبادت ہوتی تھی جبکہ مندر تعمیر کرنا تو بالکل محال ہے
    ہمارے جوشیلے لوگ تو انتہا درجے کے سوالات کرتے پائے گئے
    کہ جناب یہ بتائیں اگر ہم ان کی عبادت گاہ تعمیر نا کریں تو وہ بھی حق رکھتے ہیں ہم پھر بابری مسجد کو کیوں روتے ہیں ؟ اس کا مطلب ہے کہ کفار کے ممالک میں اسلامی عبادت گاہیں بھی نا ہوں وغیرہ جیسے سوالات کرتے پائے گئے
    بھائی اسلامی حکومت نے کسی ملک پہ ذور نہیں دیا کہ وہ مساجد تعمیر کروائے لہذا لوگ اپنی مدد کے تحت مساجد تعمیر کرتے ہیں
    اسی طرح اسلامی حکومت پہ بالکل فرض نہیں کہ ان کی عبادت گاہوں کو تعمیر کرے اور شرک کے اڈے بنائے اور اس کفار کی مدد کرے
    اب بتائیں اس کائنات کا سب بڑا ظلم جس کی تبلیغ کھلے عام کرنا اسلامی حکومت میں جائز نہیں ہے کجا کہ اسلامی حکومت خود اٹھ کر اس کے مراکز کھولنے لگے
    اب یہ بتائیں کیا حق و باطل سچ و جھوٹ برابر ہیں ہمارے لوگ لاشعوری طور پہ مذہبی رواداری کے سبق سن سن کر اس کو برابر سمجھ بیٹھے ہیں
    گر کفار مساجد بنائیں تو اس زمین پہ یہ اللہ کا حق ہے جس سے وہ دور جا چکے ہیں اور حق نہیں دے رہے تھے لیکن اگر ہم بت کدے بنائیں تو یہ ظلم عظیم جس کی ہماری شریعت قطعًا اجازت نہیں دیتی
    یعنی عجیب بات اک بندہ جھوٹ سے سچ پہ آجائے تو کیا اب سچے کو بھی جھوٹا بننا چاہیے کہ جی روداری ہے برابری ہونی چاہیے دیکھئے ناجی آج اس نے سچ کو مانا ہے لہذا ہم بھی آج جھوٹ کی مدح سرائی کریں کفار نے تو حید کے لیے مسجد بنوا دی ہے لہذا ہم بھی شرک کے لیے مندر بنادیں
    غلط و صحیح کیسے برابر ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسلام میں کفار کے لیے اعلانیہ اپنے مذہب کی تبلیغ اور مزید مذہبی ادارے بنانا منع ہے
    اب رہی حکومت پاکستان پاک لوگوں کا ملک اسلام آباد جہاں اسلام کو آباد ہونا تھا وہاں پہ مسجد و مدرسہ کو محض اس لیے حکومت گرا دیتی ہے کہ سرکاری ذمین ہے اور سرکار کی اجازت کے بنا کوئی مسجد نہیں بن سکتی اور بہت سے بزر جمہر اس بات کو اسلام سے ہی ثابت کرتے پائے گئے کہ مسجد نبویؐ کی ذمین خریدی گئی وغیرہ اس لیے یہ مسجد و مدرسہ ناجائز ہیں لہذتمام تر خطرات کو نظر انداذ کر کے فتنہ و فساد کا درواذہ کھولا گیا اور مسجد و مدرسہ جو آباد تھا اس کو شہید کیا گیا جس سے ملک میں انتشار پیدا ہوا اور خوارج کا فتنہ بھی بطور سزا ہم پہ مسلط ہوا
    اب اسی اسلام آباد کو کیا سوجھی کہ وہ مندر اللہ کی بغاوت و نافرمانی اور ظلم عظیم کا سہرہ اپنے سر سجانے لگا اور بزر جمہر لوگ اور بصیرت سے عاری علم سے نا آشناء اس کو مذہبی رواداری کا اک عظیم کارنامہ گرداننے گا
    اگرچہ اسلام آباد میں ہندووں کی اک بڑی تعداد بھی ہوتی تب بھی مندر تعمیر کرنا درست نا ہوتا کجا کہ جب وہاں محض چند لوگ ہوں اور سرکاری خزانے سے شرکے اڈوں کو کھولا جائے جبکہ مسجد میں بجلی کے بل میں ٹی وی کا ٹیکس لگا کر بھیجا جارہا ہو
    درحقیقت بات یہ ہے کہ کفار کو خوش کیا جا رہا ہے پیچھے خود کو نیوٹرل روادار اور کفار کے لیے نہایت نرم گوشہ رکھنے والا ظاہر کرتے یہ اسلام آبادیے تجارتی و دیگر مقاصد رکھتے ہیں وہ جی ایف اے ٹی ایف ہے معیشت کا مسلہ ہے اسلام پسندوں پہ پابندی لگانا اور اور کفار کو خوش کرنے تمام حربے نہایت ہی بودے ہیں کیوں کہ اللہ نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ یہ یہود نصاری تمہارے دوست نہیں ہو سکتے اور تم انکو خوش کرنا چاہو تو یہ خوش نا ہوں گے حتیٰ کہ تم ان کے مذہب کو اختیار کر لو
    نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن ، تم ہو
    بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن ، تم ہو
    بیچ کھاتے جو اسلاف کے مدفن ، تم ہو
    ہونکے نام جو قبروں کی تجارت کر کے !
    کیا نا بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے؟

    وہ اپنے مطالبات بڑھاتے ہی جائیں گے وہن نے اس امت کو تباہ کر دیا ہے نبی ؐ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ جب تم گائے کی دموں کو پکڑ لو گے کھیتی باڑی میں لگ جاو گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تم پہ ذلت مسلط کر دے گا اور تب تک نہیں اٹھائے گا جب جب تک تم اپنے دین (یعنی جہاد) کی طرف واپس نہیں پلٹتے عزتوں کا راستہ جہاد جبکہ ذلتوں کا راستہ معاش کے پیچھے لگ کر جہاد چھوڑنا حافظ سعید کو مجرم بنانا اور مندروں کو تعمیر کرنا ہے بت شکنوں کی اولاد آج بت فروش بنی درحقیقت اقبال نے خوب عکاسی کی
    ہاتھ بے ذور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیں
    امتی باعث، رسوائی، پیغمبر ہیں !
    بتائیں آج محمد عربیؐ جنہوں بتوں کو توڑا تھا اس مندر کی خبر سے خوش ہوتے
    حقیقت ہے کہ الحاد نے بصیرت چھین لی ہے اور ہاتھوں میں ذور نہیں اور دل میں خوف ہے کہ معیشت کے بنا کیسے جنگ لڑیں گے جبکہ مومن ہو توبے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
    بقول اقبال
    بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں
    تھا ابراہیم پدر، . اور . پسر آذر ہیں !
    اب دیکھیں ابراھیم علیہ اسلام بت شکن تھے لیکن آج ابراھیم کے روحانی فرذند پسر آذر ہیں یعنی معاملات الٹ چکے ہیں بت شکنوں کے وارث اب بت فروشی پہ آگئے
    بادہ آشام نیا، بادہ نیا ، بت بھی نئے
    حرم کعبہ نیا ، بت بھی نئے ، تم بھی نئے
    #فاطمہ_ہاشمی
    #ہاشمیات

  • خود پر صدقہ کریں ،اپنے شرسے دوسروں کو بچائیں تحریر:جویریہ بتول

    خود پر صدقہ کریں ،اپنے شرسے دوسروں کو بچائیں تحریر:جویریہ بتول

    خود پر صدقہ کریں…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    کسی کا بھلا نہ چاہ سکیں تو کم از کم برا بھی تو نہیں چاہنا چاہیئے ناں…؟
    کسی کو اچھا مشورہ دے دینا…
    اخلاص بھرا مشورہ جو اس کے لیئے فائدے کی راہیں ہموار کرنے کا باعث بن جائے…
    ایسا مشورہ جو آپ کے ذاتی مفاد یا بدلہ بازی کے گرد نہ گھُومتا ہے…
    کسی سے مسکرا دینا…
    کسی سے اللّٰہ کے لیئے ملاقات کرلینا…
    کسی کی کوئی ضرورت پوری کر دینا…
    کسی کے پاس بیٹھ کر دُکھ سُکھ شیئر کر لینا…
    کسی کو دوسروں کی نظروں میں حقیقت کے آئینہ میں پیش کرنا…
    کسی کی غیبت،برائی اور بدخواہی نہ کرنا…
    کسی کے بے غرض تعلق رکھنا…
    کسی کے خلاف سازش نہ بُننا…
    کسی کو تعلیمی،کاروباری،معاشی و معاشرتی طور پر کامیاب دیکھتے ہوئے رنجیدہ نہ ہونا…
    کسی کے بارے میں کوئی جاننا چاہے تو مثبت پہلوؤں پر روشنی ڈالنا…
    خامیوں پر اگر حد سے بڑھی ہوئی نہ ہوں تو پردہ ڈالنا…
    ہر چھوٹی چھوٹی بات چھُپانا کہ کوئی برابر کے لیول پر نہ آ جائے،چاہے وہ سوٹ یا جوتا ہی کیوں نہ ہو…یہ دل کی گھٹن کا باعث ہے،ایسی باتوں سے دل تنگ ہو جاتے ہیں،ظرف وسعت کی بجائے سکڑنے لگتے ہیں…
    کہیں پروفیشنل جیلسی کا شکار ہو جانا،کسی کو آگے بڑھتا دیکھ کڑھنا…
    کسی سے کُچھ سیکھ کر اسی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنا…
    یہ سب چیزیں خیر پھیلانے اور پہنچانے میں رکاوٹ بنتی ہیں…
    تب ہم من پسند کی کیٹیگری کے ساتھ چلتے ہیں…
    ہم نا پسند لوگوں تک خیر پہنچانے سے ہی رُک جاتے ہیں…
    جبکہ تعلیم کیا ملی تھی؟
    جو برے ہیں ان سے بھی بھلائی کرنی ہے…
    تلخی کو نرمی سے ٹالنا ہے…
    نفرتوں کو محبتوں سے مٹانا ہے…
    تب کیا صورتحال سامنے آتی ہے؟
    فاذالذی بینک و بینہ عداوۃٌ کَاَنَّہ ولی حمیم¤
    تبدیلی تب آتی ہے…
    معاشرے تب بدلتے ہیں…
    جب انا اور میں کی قربانی دے کر اخلاقیات اور برداشت کا پرچار کیا جائے…!!!
    جب بھلائیوں کے بانٹنے میں منہ ملاحظہ نہ کیا جائے…
    جب ججمنٹ کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہ لیا جائے…!!!
    بے لوث ہو کر…
    بے غرض بن کر…
    خیر خواہی کے جذبے سے…
    نیکی کی اُمنگ کے ساتھ…
    اپنی خیر کا لوگوں کو مستحق بنا کر…
    اپنے نفس کے شر سے لوگوں کو بچا کر…
    ہم ذہنی اور قلبی اطمینان پا سکتے ہیں…
    جب آپ کسی کا بُرا نہیں چاہیں گے…
    کسی کی رہ میں روڑے نہیں ڈالیں گے…
    تو کوئی لاکھ آپ کی راہ میں رکاوٹیں بنے…
    خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا…
    احسان و بھلائی کا بدلہ مل کر رہتا ہے،
    چاہے کُچھ دیر بعد سہی…خیر لَوٹ کر ضرور آتی ہے…!!!
    ناشتہ کے وقت ایک چڑیا روزانہ روٹی چگنے آتی ہے،
    ابھی میرا پراٹھا تیار نہیں تھا،تھوڑی دیر ادھر اُدھر پھدکنے کے بعد چڑیا نے ایک نظر مُجھ پر ڈالی…
    میں نے اُٹھ کر اندر سے دوسرے پراٹھے سے نوالہ توڑ کر اسے دینا ہی چاہا مگر وہ اُڑ گئی…
    غصہ بھی آیا،لیکن خاموشی سے وہیں بیٹھ گئی…
    دو منٹ بعد چڑیا پھر میرے پاس تھی اور وہی روٹی میں نے اُس کے سامنے ڈال دی…
    یہ بالکل چھوٹی سی بات یہ سمجھانے کے لیئے کافی تھی کہ چند لمحات کا صبر اپنے پیچھے وہ چیز لیئے ہوتا ہے جو ہمیں نظر نہیں آ رہی ہوتی اور اس کی رہ گزر صرف صبر سے گزرتی ہے…!!!
    ہم بسا اوقات صرف بے صبری سے اپنی خیر سے دوسروں کو محروم کر دیتے اور نیکی کی راہیں معدوم کر دیتے ہیں…
    ہم وہ وقت چیخ و واویلا سے بھی گزار سکتے ہیں…
    اور صبر و استقامت سے بھی…
    ہاں سچ ہے کہ خیر کا بدلہ مل کر رہتا ہے…
    دنیا میں بھی اور آخرت کی جزا تو محفوظ ہی ہے ناں ان شآ ءَ اللّٰہ…
    لیکن آغاز ہی بدلہ کی اُمید پر نہ کیجیئے…
    جو کیجیئے بس اپنا فرض سمجھتے ہوئے ادا کرتے جایئے…
    خود سے ممکن حد تک بھلائیوں کو تقسیم کیجیئے…
    اور اگر کسی کا بھلا نہ کر سکیں تو کم از کم برا بھی تو نہیں چاہنا چاہیئے ناں؟؟؟
    پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابی رضی اللّٰہ عنہ کو افضل اعمال کی وضاحت کے بعد فرمایا اگر یہ نہ کر سکے تو:
    "لوگوں کو اپنی برائی سے بچا،تو بے شک یہ صدقہ ہے جو تو اپنے نفس پر کرتا ہے…!!!”
    (صحیح بخاری)۔
    آیئے !!!
    اپنے شر سے دوسروں کو بچائیں۔
    چھوٹی چھوٹی سہی مگر بھلائیوں کو ہی پھیلائیں…
    کسی کے لیئے اذیت اور وبال نہیں بلکہ امن و محبّت ،اُمید و حوصلہ اور اخلاص و خیر خواہی کی ایک کِرن بننے کی کوشش کریں…!!!
    یہی اپنے پر صدقہ کے ساتھ دوسروں کا بھی بھلا ہے…!!!
    ==============================
    {جویریات ادبیات}۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • حرا مانی نے سوشل میڈیا پر بڑی کامیابی اپنے نام کر لی

    حرا مانی نے سوشل میڈیا پر بڑی کامیابی اپنے نام کر لی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ حرا مانی ڈراموں کی بعد اب انسٹا گرام پر بھی چھا گئیں-

    باغی ٹی وی : انتہائی کم عرصے میں پاکستان شوبز انڈسٹری میں متعدد ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری سے اپنی الگ پہچان اور نام بنانے والی اداکارہ حرا مانی ڈراموں کے بعد اب انسٹاگرام پر بھی چھا گئیں ہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر 4 ملین یعنی 40 لاکھ فالوورز ہوگئے ہیں اور انسٹا گرام پر اس کامیابی کے بعد حرا مانی بھی اُن پاکستانی فنکاروں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں جن کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد زیادہ ہے۔

    اس حوالے سے حرا مانی نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ایک ویڈیو شیئر کی جس میں اُن کے ساتھی اداکار انسٹاگرام پر اُن کے 4 ملین فالوورز ہونے پر مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ اداکارہ کو تحائف بھی دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔


    علاوہ ازیں حرا مانی نے انسٹاگرام پر اپنی کچھ تصاویر پوسٹ کیں جن میں اداکارہ سفید رنگ کے پرنٹڈ کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور کسی سوچ میں گم نظر آرہی ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CB1LAFmnm26/?igshid=i064cn0cniw3
    تصاویر شئیرکرتے ہوئے حرا مانی نے لکھا کہ سوچو تو ذرا، دیکھو تو ذرا، یہ ہے حرا-

    انہوں نے لکھا کہ کبھی کبھی کیپشن کی سمجھ نہیں آتی کچھ بھی کیا لکھوں-

    واضح رہے کہ انسٹاگرام پر سب سے زیادہ فالوورز کے ساتھ اداکارہ ایمن خان سر فہرست ہیں جن کے اس وقت 6 اعشاریہ 5 ملین یعنی 65 لاکھ فالوورز ہیں۔

    جبکہ دوسرے نمبر پر اداکارہ ماہرہ خان ہیں جن کے انسٹاگرام پر 6 اعشاریہ 2 ملین یعنی 62 لاکھ فالوورز ہیں اور تیسرے نمبر پر خبرو اور پُرکشش اداکارہ عائزہ خان ہیں جن کے انسٹاگرام پر 6 اعشاریہ ایک ملین یعنی 61 لاکھ فالوورز ہیں۔