Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • لاہور کی مقامی عدالت کی طرف سے عائشہ ثنا کے وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور کی مقامی عدالت کی طرف سے عائشہ ثنا کے وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور کی مقامی عدالت نے چیک ڈس آنر ہونے کے مقدمے میں پاکستان کی معروف اداکارہ اور میزبان عائشہ ثناء کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔

    باغی ٹی وی : لاہور کی مقامی عدالت نے چیک ڈس آنر ہونے کے مقدمے میں پاکستان کی معروف اداکارہ اور میزبان عائشہ ثناء کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔ پولیس کے مطابق اداکارہ عائشہ ثناء کے خلاف بزنس مین میاں علی معین کی جانب سے لاہور کے تھانہ ڈیفنس بی میں چیک ڈس آنر ہونے پر مقدمہ درج کرایا گیا تھا-

    اداکارہ عائشہ ثناء مقدمہ میں شامل تفتیش نہ ہوئیں جس پر لاہور کی مقامی عدالت نے عائشہ ثناء کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    واضح رہے کہ میاں محمد علی معین نے گذشتہ ماہ27 مئی کو اداکارہ اور میزبان عائشہ ثناء کے خلاف لاہور ڈیفنس بی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا تھا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اداکارہ نے ان سے 20 لاکھ روپے قرض لیا تھا جس کے بدلے میں اداکارہ نے انہیں جو چیک دیا وہ بوگس ہونے کی وجہ سے کیش نہیں ہوا تھا۔

    اداکارہ عائشہ ثناء پر بوگس چیک دینے پر مقدمہ درج

    معروف اداکارہ عائشہ ثنا گرفتار ہو سکتی ہیں؟ سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشافات

  • لیو ٹوئینز نے وائلن پر نصرت فتح علی خان کی قوالی نئے انداز میں پیش کر کے انہیں خراج تحسین پیش کیا

    لیو ٹوئینز نے وائلن پر نصرت فتح علی خان کی قوالی نئے انداز میں پیش کر کے انہیں خراج تحسین پیش کیا

    لیو ٹوئینز ( Leo Twins) کے نام سے کام کرنے والے بھائیوں نے وائلن اور گٹار پر نصرت فتح علی خان کی قوالی کی دھن نئے انداز میں پیش کر کے نصرت فتح علی خان کو خراج تحسین پیش کیا-

    باغی ٹی وی : لیو ٹوئنز کے نام سے کام کرنے والے جڑواں بھائیوں نے نصرت فتح علی خان کی آواز میں پڑھی گئی قوالی ‘’تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی ‘کی دھن کو نئے انداز سے پیش کردیا جس میں انہوں نے صرف وائلن،گٹار، تبلے، ہارمونیم کا استعمال کیا ہے۔

    لیو ٹوئینز نامی دونوں بھائی جڑواں بھائی ہارون لیو اور شارون لیو نے یہ قوالی کی دھن لاک ڈاؤن کے موقع پر پیش کر کے نصرت فتح علی خان اور راحت فتح علی خان کو خراج تحسین پیش کیا۔

    قوالی کو انہوں نے یو ٹیوب پر اپنے لیہو ٹوئینز نامی چینل پر رواں ماہ 19 جون 2020 کو اپ لوڈ کیا اور چھ منٹ انیس سیکنڈ کے دورانیے پر مشتمل اس قوالی کو اب تک 2 لاکھ 23 2 سو 37 بار دیکھا جا چُکا ہے-

    لیو ٹوئینز کے اس منفرد انداز کو نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا کے صارفین کی جانب سے بے حدپسند کیا جا رہا ہے۔

  • سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے، پنجاب آئی ٹی بورڈ

    سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے، پنجاب آئی ٹی بورڈ

    پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ( پی آئی ٹی بی) نے اساتذہ کی سہولت کیلئے سکول انفارمیشن سسٹم ایپ پلے سٹور پر انسٹال کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : پنجاب آئی ٹی بورڈ کا کہنا ہے کہ سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پنجاب کے تمام سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے اور لاکھوں اساتذہ کے موبائل فونز پر سکول انفارمیشن سسٹم پنجاب ایپ درست کام کر رہی ہے۔

    پنجاب آئی ٹی بورڈ نے مزید کہا کہ تبادلوں کے لیے ایپ سے موصول ہونیوالی اساتذہ کی 23 ہزار درخواستوں پر معمول کی کارروائی جاری یے جبکہ اساتذہ یا طلبا کا ڈیٹا ہیک یا چوری ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ ایپ مینٹیننس کیلئے پلے سٹور سے ہٹائی گئی جو کہ پلے سٹور پر دوبارہ بحال ہو چکی ہے۔

    پی آئی ٹی بی کے مطابق پنجاب کے تمام سرکاری اساتذہ کا ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہےلاکھوں اساتذہ کے موبائل فونز پر سکول انفارمیشن سسٹم پنجاب ایپ درست کام کر رہی ہے

    پی آئی ٹی بی کا کہنا ہے کہ تبادلوں کے لیے ایپ سے موصول ہونیوالی اساتذہ کی 23 ہزار درخواستوں پر معمول کی کارروائی بھی جاری ہے-

    پی آئی ٹی بی نے مزید کہا کہ اساتذہ کا ڈیٹا چوری ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے سنٹرل پولیس آفس راولپنڈی کے اشتراک سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ شہریوں کی سہولت کیلئے پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف کروایا ہےجس کے تحت شہری ون ونڈو سہولت سے لرنر ڈرائیونگ لائسنس اور ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔اب شہریوں کو اپنی تصویریں ‘پاسپورٹ یا فارم لانے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ اپنا اصل شناختی کارڈ اور فیس ساتھ لا کر لائسنس بنوا سکتے ہیں۔

    پی آئی ٹی بی کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین اظفر منظور نے کہا تھا کہ یہ جدید نظام شفافیت کو یقینی بنانے، جعلی لائسنس کی روک تھام اور ایجنٹ مافیا کے خاتمہ میں مددگار ثابت ہو گا اور جلد ہی پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کروا دیا جائے گا۔

    ملک میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ڈرائیونگ لائسنس ایشوئنگ سسٹم متعارف

  • کبھی سوچا نہیں تھا جس کے لئے لڑکیاں ڈھونڈتی تھی اسی سے شادی ہو گی   شائستہ لودھی

    کبھی سوچا نہیں تھا جس کے لئے لڑکیاں ڈھونڈتی تھی اسی سے شادی ہو گی شائستہ لودھی

    شائستہ لودھی نے کئی سال مارننگ شو کی دنیا پر راج کیا شوبز میں قسمت آزمانے کے بعد شائستہ اب اپنا کلینک چلارہی ہیں شائستہ لودھی شوبز کیرئیر کے دوران ہی شوہر سے علیحدہ ہوگئی اور طلاق کے کچھ سال بعد انہوں نے اپنے کزن سے شادی کرلی۔

    باغی ٹی وی: شائستہ لودھی نے ایک شو میں ثمینہ پیرزادہ کو دئیے گئے ایک انٹر ویو میں شائستہ لودھی نے اپنی پہلی شادی ، طلاق اور دوسری شادی کے بارے میں بات کی۔

    شائستہ نے بتایا کہ ان کا سابقہ ​​شوہر ایک بہت اچھا شخص اور بہت اچھا باپ تھا۔ زندگی میں بعض اوقات کچھ خاص مراحل آتے ہیں جب دو اچھے لوگ ایک دوسرے کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔

    اپنے موجودہ شوہر کے بارے میں بات کرتے ہوئے شائستہ نے بتایا کہ ان کے موجودہ شوہر کا نام عدنان ہے ، جو ان کا کزن بھی ہے ، ان کا شوہر بچپن سے ہی مختلف تھا۔

    شائستہ نے بتایا کہ انہوں نے کبھی بھی اس سے شادی کرنے کا نہیں سوچا ، حقیقت میں وہ ان کی شادی کے لئے لڑکیاں ڈھونڈتیں تھیں-

    شائستہ نے کہا کہ جب ان کے چچا اور والد نے یہ مشورہ دیا تو وہ عدنان سے شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں کے لئے بھی اسے قبول کرنا آسان تھا ،تاہم ایڈجسٹمنٹ زیادہ مشکل نہیں تھا۔

    شائستہ کا خیال ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کچھ اچھا کیا ہے جس کی واپسی انہیں اپنے شوہر کی شکل میں ملی یہ کسی نیکی کا صلہ ہیں۔ شائستہ ، اس کے شوہر اور بچوں میں بہت اچھی ہم آہنگی ہے۔
    https://www.youtube.com/watch?v=GX4fgZE89LM&feature=youtu.be

    پاکستانی اداکار جو ڈاکٹر بھی ہیں

  • بِن آپ کے اے بابا ملیں گے کیسے کنارے؟؟؟

    بِن آپ کے اے بابا ملیں گے کیسے کنارے؟؟؟

    باپ__!!!
    تری شفقتوں کے سہارے__
    گزرتے ہیں درد سارے__
    راتیں ہیں بھی ہیں سہانی__
    اور دن بھی کتنے پیارے__!!!
    تری چاہتوں کا سمندر__
    سدا رہے میرے سنگ__
    بِن آپ کے اے بابا__
    ملیں گے کیسے کنارے__؟؟؟
    تری رضا میں چھپی__
    مرے رب کی رضا ہے__
    ہوتا ہے وہ بھی ناراض__
    گر تو مجھ سے خفا ہے__!!!
    جنت میں داخلے کا__
    تو میرا دروازہ ہے__
    گر اس کی نہ ہو حفاظت__
    تو راہوں کا ضیاع ہے__!!!
    موسم کے گرم و سرد سے__
    تو مرے لیئے نبرد آزما ہے__
    بچوں کی خوشی کی خاطر__
    تو برسرپیکار ہر بلا ہے__!!!
    سفرِ زندگی میں چلتے__
    تپتی سی دھوپ میں جلتے__
    تو چھایا مثلِ سایہ ہے__!!!
    ترے مضبوط حصار میں__
    محبّت کی گفتار میں__
    مری سانسوں کا سفر__
    زیست کا یہ چکر__
    ہاں سکوں سے بھرا ہے__!!!
    مرے لبوں کی دعا ہے__
    دل سے نکلتی صدا ہے__
    تری خیر خواہی کے جذبوں__
    _کا ساتھ طویل تر ہو_
    یہ زندگی جمیل تر ہو__!!!!![آمین]۔
    ===============================

  • ملکی بحران اور ان کاحل…!!! تحریر:جویریہ بتول

    ملکی بحران اور ان کاحل…!!! تحریر:جویریہ بتول

    ملکی بحران اور ان کاحل…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    وطنِ عزیز اس وقت کئی بحرانوں کی زد میں ہے، کورونا وبا جہاں بے قابو ہو کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے وہیں وطنِ عزیز میں بھی متاثرین کی بڑھتی تعداد تشویشناک بات ہے۔
    لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی پرواہ نہ کرنے کا خمیازہ قوم اس تیزی سے پھیلتے ہوئے مرض کی صورت میں بھگت رہی ہے۔
    اور آئے دن متاثرین کی تعداد میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔
    کُچھ وقت کاروبار بند رہنے کی وجہ سے اربوں روپے کے نقصانات الگ ہیں جن کا حل کاروباری حضرات نے ضرورت کی تمام اشیاء بشمول ملبوسات وغیرہ کی ہوشربا قیمتیں بڑھا کر نکالا ہے۔
    پیٹرول مافیا نے الگ ایشو کھڑا کر کے پمپس پر شہریوں کی ذلت کو ہوا دی ہے کہ جہاں لمبی لمبی قطاریں ہوش بھلا دیتی ہیں،دیہاڑی دار ڈرائیور جو اپنے رکشوں اور گاڑیوں کا پہیہ رواں رکھ کر دن بھر کی روزی کماتے ہیں،پریشانی اور نفسیاتی مسائل کا شکار نظر آ رہے ہیں،
    جو اپنے گھر والوں اور بچوں کے اخراجات کی مد پوری کرنے سے قاصر نظر آ رہے ہیں۔
    قومی نوعیت کے مسائل قومی جذبہ سے ہی حل ہونے چاہئیں۔
    دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے مجبور مسافروں کو بھی بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    ٹڈی دل کے فصلوں پر حملے نے زرعی پیداوار کے شعبے میں بھی خدشات کو جنم دیا ہے۔
    اور ایک غذائی بحران کا بھی قوم کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    دوسری طرف آٹے اور چینی کے بحران وقتًا فوقتًا پیدا ہو کر شہریوں کے لیئے الگ پریشانی کا باعث بنتے رہتے ہیں۔
    گندم کی فصل اس بار ویسے بھی اکثر علاقوں میں بے موسمی بارش اور ژالہ باری سے نقصان سے دو چار ہوئی ہے۔
    پاکستان کسان اتحاد کے مطابق گندم کی کاشت کے اکثر علاقوں میں جو پیدوار فی ایکڑ پچاس سے ساٹھ من تھی،وہ ان بارشوں کی وجہ سے اس بار تیس سے پینتیس من رہ گئی ہے۔
    یعنی کورونا کی اس وبا کے پیچھے بحرانوں میں شدت آ گئی ہے اور ان کا تعلق بھی ضروریاتِ زندگی اور عام آدمی سے ہے،
    کیونکہ سکولز،کالجز بند ہونے کی وجہ سے پڑھائی تو آن لائن ممکن ہے لیکن غذائی قلت کی صورت میں غریب کے لیئے آن لائن خوراک کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔
    ٹڈی دل کے حملوں سے متاثرہ فصلوں میں گنا،کپاس اور سبزیوں کی فصل بھی شامل ہیں۔اور زراعت پاکستان کی جی ڈی پی کا بیس فیصد ہے،جہاں معاشی نمو میں کمی کا سامنا ہے۔
    نئے بجٹ میں تنخواہوں اور پنشنز میں بھی اضافہ نہ ہونے کی نوید سنائی دے رہی ہے تو یہ ساری کیفیات اور صورتِ حال ذہنی دباؤ اور اُلجھن کا باعث ضرور ہیں لیکن بحیثیت ایک قوم کے ہم سب کو ان مسائل پر ہی سر پکڑ کر بیٹھنے اور بحث کی بجائے ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ کا کردار ادا کرنا ہوگا۔
    اپنی ترجیحات کو کم کر کے فی الحال ضروریات پر فوکس کرنا ہوگا۔
    اپنے بجٹ اور اخراجات کا ازسر نو جائزہ لے کر اس میں ترمیم کرنا ہو گی تاکہ گھروں کے اندر گزرتا یہ وقت کسی تلخی کی بجائے حلاوت سے گزرے۔
    ہم صرف مہنگائی کا رونا روتے ہیں،لیکن اپنے گھر یا کھیت کی زمین پر موسمی سبزیاں اُگا کر اُن کی دیکھ بھال کر کے فائدہ اٹھانے سے کنی کتراتے ہیں۔
    ہم بجلی کے بلز پر نالاں دکھائی دیتے ہیں مگر بجلی کے بے دریغ اور غیر ضروری استعمال کی طرف توجہ نہیں کرتے…
    ہم پانی کے بحران سے آگاہ رہ کر چوبیس گھنٹے کسی نہ کسی طریقہ سے یہ وائٹ گولڈ ضائع کرنے سے باز نہیں آتے۔
    ہم فصلوں کی وسیع پیداوار کے باوجود چند روپوں کے منافع کی خاطر غریب کے لیئے مصنوعی بحران پیدا کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔
    حالانکہ ہنگامی حالات کے تقاضے ہنگامی ہوا کرتے ہیں،اپنے خاندان،اپنے ارد گرد، مستحقین کا خیال رکھنا ہم میں سے ہر ایک کا فرض ہے،
    جو لوگ بھی اس وبا کے پیشِ نظر معاشی مسائل میں ہیں ان کی اعانت بھی اخلاقی فریضہ ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللّٰہ اور توبہ و انابت سے تیر آنسوؤں کے ساتھ اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں پر صدقِ دل سے معافی بھی مانگیں کہ اللّٰہ تعالٰی ہمیں ان آفات اور وباؤں سے نجات دے،وہی ہمارا خالق،رازق اور مالک ہے۔
    ہم جتنی مرضی ترقی کے زینے طے کر لیں لیکن قانونِ قدرت کے آگے بے بس ہی دکھائی دیتے ہیں۔
    قومیں افراد سے بنتی ہیں،اور سبھی افراد کا اپنے اپنے شعبے اور میدان میں ادا کیا جانے والا کردار ہی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
    ورنہ سستی، کاہلی و بے عملی اور صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا رہنے سے معاملات نہیں سُلجھا کرتے…!!!
    خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،
    نہ ہو جس کو خیال،آپ اپنی حالت کے بدلنے کا…!!!
    بلکہ مسائل سے نکلنے کے لیئے ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے جہدِ مسلسل اور عزمِ پیہم کی ضرورت بہر حال موجود رہتی ہے۔
    اپنی دنیا آپ پیدا کر،اگر زندوں میں ہے…!!!
    ہمیں محض تنقید برائے تنقید کی سوچ سے آگے بڑھ کر بھی سوچنا چاہیئے،
    تعمیری،ترقی اور مملکت کی فلاح کی سوچ پیدا کر کے ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔
    الحمدللہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے،بس ہم نے وہ جذبہ بیدار کرنا اور رکھنا ہے جو سازشوں کے جال کاٹ کر رکھ دے،حقائق کا ساتھ دے،قومی مفادات ترجیح بنیں اور ہم ذاتی مفادات کے بھنور سے باہر نکل کر سوچنے والی متحد و مضبوط قوم بن کر سامنے آئیں۔
    اپنی اپنی سوچ مسلط رکھنے کی پالیسی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور جلد یا بدیر اُس کے نقصانات واضح ہو کر رہتے ہیں۔
    اگر ہم صرف وطنِ عزیز کے لیئے سوچنے والے بن جائیں تو کوئی مسئلہ ایسا نہیں رہے گا جو قابلِ حل نہ ہو،کیونکہ اس مملکت کے قیام کے مقصد کے اندر تمام مسائل کا حل چھپا ہوا ہے مگر بد قسمتی سے ہم اس سے پہلو تہی اختیار رکھے ہوئے ہیں۔
    جب قومیں مضبوط اور ایک پیج پر متفق ہو جاتی ہیں تو بڑے سے بڑے بحران سے بھی بآسانی نمٹ جایا کرتی ہیں،یہی تاریخ کے صفحے پر درج سبق ہے…
    اسباب کا قحط اتنا نقصان دہ نہیں ہوا کرتا،جتنا نقصان دہ قحط الرجال ہوا کرتا ہے…
    مشکل اور آسان ادوار آتے جاتے رہتے ہیں اور تربیت و کردار ہی ان سے نمٹنا بھی سکھاتے ہیں۔
    گفتار کی وضاحت بعد میں بھی کی جا سکتی ہے،مگر کردار ادا ہو کر ایک انمٹ باب بن جایا کرتا ہے۔
    ہمیں اس چیز کو ہر زاویہ نگاہ سے دیکھ کر آگے بڑھنے کا عزم کرنا ہے…اور اس وطن کے دفاع کے لیئے ہمہ وقت کمر بستہ رہنے کا عہد کرنا ہے وہ دفاع نظریاتی ہو یا دفاعی،
    منفی سازشوں کے خلاف تعمیری اور اصلاحی سوچ کا دفاع ہو یا اپنے وسائل کا دفاع،
    امانت و دیانت کا سبق پڑھ کر جب ہم عزم بالجزم سے لیڈ کرنے کی ٹھان لیں گے تو یقینِ کامل ہے ہم سے امامت کا کام لیا جا سکے…
    ورنہ محض باتوں اور بے عملی سے ہوائی قلعے تو تعمیر ہو ہی جاتے ہیں…
    مضبوط بنیاد کی حامل عمارت کبھی استوار نہیں کی جا سکتی کہ جس کی مضبوطی کا انحصار اس کی بنیاد میں ناقص اور خیالی نہیں بلکہ کامل اور مضبوط تعمیری میٹیریل کے استعمال پر ہوتا ہے…!!!!!
    ہم میں سے ہر فرد کو کردار ادا کرنا ہے اور ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ…!!!
    ================================

  • کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے  بقلم : سلطان سکندر

    کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے بقلم : سلطان سکندر

    کرونا وائرس تو بس ایک ٹریلر ہے، پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست

    فیکٹریوں کے دھوئیں سے گلوبل وارمنگ ڈسٹرب ہورہی ہے اور گلوبل وارمنگ کے بڑھنے سے ایٹماسفئیر کے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے(یعنی گرمی بڑھ رہی ہے)، جسکی بدولت گلیشیرز بہت تیزی سے پگھل کر سمندر بنتے جارہے ہیں۔

    لیکن سائنسدانوں کے مطابق انٹارٹکا اور سائیبریا میں موجود ہزاروں سال پرانے برف والے گلیشیرز کے نیچے ایسے وائرسز موجود ہیں جو سائز میں بڑے ہیں اور انکا سر پیر بھی انسان نہیں جانتے، اگر انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پگھلنا شروع ہوگئے تو یہ وائرسز وہاں سے تیزی سے پھیل جائیں گے،

    ہر جاندار میں اچھے وائرسز بھی موجود ہوتے ہیں۔
    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ہر طرح کے جانور میں کئی طرح کے وائرسز ہوتے ہیں جو کہ جسم کو انرجی دینے میں مدد کرتے ہیں جیسا کہ ایک چمکاڈر 137 وائرسز لیے گھوم رہا ہوتا ہے تو اسے کھانے سے انسان میں جانوروں کے وائرسز منتقل ہوتے ہیں جس سے بیماریاں جنم لیتی ہیں، اس لیے مسلمانوں کو حلال جانور کھانے کا حکم ہے،

    تو تحقیق کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز کے نیچے ہزاروں سال پہلے جو جانور ان وائرسز کا شکار تھے وہ برف تلے دب کر مرگئے لیکن ان کی لاشوں کے ساتھ ساتھ انکے وائرسز بھی محفوظ حالت میں اب بھی وہاں موجود ہیں۔
    اس لیے ہمیں فیکٹریوں کے دھوئیں کے متبادل کوئی راستہ نکالنا ہوگا جو گلوبل وارمنگ کو ڈیمیج نہ کرے اور جس سے انٹارٹکا اور سائیبیریا کے گلیشیرز پگھلنے سے محفوظ رہ سکیں۔
    ورنہ انسانوں کی نسلیں انہی وائرسز کا متبادل ڈھونڈنے اور لاشیں اٹھانے میں گزریں گی۔
    اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین

    بقلم سلطان سکندر!!!

  • ترک سیریز ارطغرل غازی کے بارے میں دلچسپ حقائق

    ترک سیریز ارطغرل غازی کے بارے میں دلچسپ حقائق

    ترک ڈرامہ انڈسٹری حیرت انگیز کہانیوں ، پلاٹوں ، اسکرین پلے ، اور مختلف کرداروں ااور اداکاروں کی چمک سے دنیا کو ہمیشہ متاثر کیا ہت ۔ان ڈراموں کے بارے میں خاص بات یہ ہے کہ وہ مختلف ممالک میں درآمد کی جارہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ صنعت انھیں بہت زیادہ آمدنی دے رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : تُرک شوبز انڈسٹری کا اس لیول پر پہنچنا ترک حکومت کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں تھا اب وہ اس سے اچھی آمدنی حاصل کررہے ہیں۔

    تُرک اداکار حیرت انگیز ہیں اور کہانیاں اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہیں کہ صرف ایک بار جب آپ کو ان کی سیریز کا کوئی بھی واقعہ دیکھنے کا موقع مل جاتا ہے ، تو یہ آپ کو آخری قسط تک لے جاتا ہے۔

    گزشتہ سال دسمبر 2019 میں پی ٹی وی نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد مسلمانوں کی فتوحات کی کہانی پر مبنی شہرہ آفاق ترکش ڈرامے دیریلیش ارطغرل کی اردو ڈبنگ کا آغاز کیا تھا۔

    دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن پریکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بتایا گیا تھا کہ پی ٹی وی نے معروف ڈرامے دیریلیش ارطغرل کے اردو ترجمے کے بعد ایک اعلی مہارتی ٹیم کے ساتھ اس کی ڈبنگ شروع کی اور اسے پی ٹی وی پر نشر کرنا شروع کر دیا جس کے نشر ہوتے ہی اس ترک ڈرامے نے کئی ریکارڈ بنا ڈالے۔

    ان سیریز میں تیرھویں صدی کے مسلمانوں کے اقدار کودکھایا گیا ہے اور اسلامی اقدار کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ ہر مسلمان اس سیریز کا دیوانہ ہےاس ڈرامے کو جو مقبولیت پاکستان میں حاصل ہوئی ہے وہ آج تک کسی بھی تُرک ڈرامے کو نہیں ملی اس ڈرامے نے پاکستانیوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے-

    ارطغرل غازی کے مندرجہ ذیل دلچسپ حقائق درج ذیل ہیں جن سے آپ شاید ناواقف ہیں اگر آپ نے ڈرامہ نہیں دیکھا تو ڈرامہ دیکھنے سے

    سلطنت عثمانیہ:
    دیرلیس ارطغرل کی کہانی کا سلسلہ سلطنت عثمانیہ کے عہد عثمانی سلطنت عہد سلطنت اور بالآخر خلافت کے قیام کے تاریخی بیانات پر مبنی ہے یہ ارطغرل کے کردار کے گرد گھومتا ہے ، جو عثمان کے والد ہیں ، خلافت عثمانیہ کے تخلیق کار اور یہ کہانی ارطغرل کی جدوجہد کا ثبوت دیتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سیزن ون میں اپنے والد سلیمان شاہ کی بااثر رہنمائی کے تحت ایک نوجوان سے اس سیزن میں نشر ہونے والے 5 سیزنز کے عظیم رہنما کی طرح ابھرتا ہے۔

    ترک آرکائیوز:
    انجین التان دزیان کے مطابق جو دراصل ارطغرل کا کردار ادا کرنے والے اداکار ہیں ، ارطغرل کے بولنے والے تاریخی نسخوں میں صرف 7 صفحات کے ذرائع شامل ہیں۔یہ ذرائع ترک آرکائیوز میں ، ابن عربی کی تاریخ میں ، ٹیمپلرس کے بارے میں مغربی دستاویزات میں ، بازنطین کی ٹائم لائنز میں محفوظ ہیں۔

    عثمان کی پیدائش:
    اس سیریز میں ارطغرل کے مقابل مرکزی کردار حلیمہ سلطان نے ، تاریخی جائزہ کے مطابق 67 سال کی عمر میں عثمان کو جنم دیا تھا جو ولادت کے لئے ایک معجزاتی دور ہے تاہم ، سیریز میں ، اس نے بہت پہلے اسے جنم دیا تھا جو تاریخی حقائق کے مطابق نہیں ہے۔

    لیکن اس سلسلے نے ناظرین کو دیرلیس ارطغرل کی تاریخ کا جائزہ لینے کے لئے تیار کیا ہے تاکہ وہ اصل حقائق اور سیریز میں پیش کی گئی حقیقت کے درمیان فرق کرسکیں۔

    فلم بندی:
    سیریز میں جہاں یہ سلسلہ بنایا گیا تھا اس میں دکھائے گئے مقامات دیکھنے والوں کو مسمرائڈ کر دیتے ہیں اس سلسلے میں جاننے والی دلچسپ بات یہ ہے کہ سیریز کے ابتدائی دو سیزن استنبول کے ریوا اور بیکوز علاقوں میں فلمائے گئے تھے جبکہ تیسرے سیزن کی شوٹنگ نیویسیر میں ایک نئی سیٹنگ میں ہوئی۔

    تخلیق کار:
    یہ سیریز مہمت بوزدا نے تشکیل اور پروڈیوس کی ہے اور اس کی ہدایتکاری میٹن گونے نے کی ہے۔ تھیم میوزک الپے گوکٹکن نے لکھا ہے۔ واقعی انہوں نے ایک حیرت انگیز کام کیا ہے کیونکہ یہ میوزک پوری دنیا کے سامعین کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے-

    ایک اور اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے اسلامی تاریخ کی عکاسی کرنے والی ایک سیریز پر اتنا عمدہ کام کیا ہے جو اسے دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے سدا بہار منصوبہ بنا رہا ہے۔

    کوریوگرافی:
    کوریوگرافی کمپنی ، نماد کوریوگراف کی خدمات حاصل کی گئیں خانہ بدوش بھی ایکسپینڈیبل 2 ، 47 رونن ، اور کانن دی باربیرین جیسی فلموں میں کوریوگرافی کے فرائض سر انجام دے چُکے ہیں دیرلیس میں اداکاروں ، گھوڑوں کے ساتھ ساتھ دیگر مناظر کے لئے بھی خصوصی طور پر کوریوگراف ترتیب دی گئی تھی۔

    چڑیا گھر:
    اس کہانی کی شوٹنگ میں اسلامی تاریخ کو پیش کرنا تھا اس لئے معلومات کے مطابق ، 25 گھوڑوں کو سیٹ کے لئے استعمال کیا گیا تھا ، اور ان گھوڑوں کی دیکھ بھال ایک ویٹرنریرین نے کیا تھا ایک چھوٹا چڑیا گھر کے مترادف ایک خاص علاقہ بھی تھا جو اس شو میں پیش آنے والے تمام جانوروں کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ ان میں بکرے ، بھیڑ ، نائٹنگیل ، پارٹریجز وغیرہ شامل تھے۔

    اداکار منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا

    ارطغرل کے اسلام پر سوال اٹھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کی تحقیق کا جواب ، شاہ رخ خان

    ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے ڈاکٹر شہباز گل

  • سلمان خان کا سوشل میڈیا پر سوشانت سنگھ کے لئے خصوصی پیغام جاری

    سلمان خان کا سوشل میڈیا پر سوشانت سنگھ کے لئے خصوصی پیغام جاری

    بالی وڈ سلطان سلمان خان نے عوام سے سوشانت سنگھ کے اہل خانہ کی اس مشکل گھڑی میں اُن کے ساتھ کھڑے رہنے کی درخواست کی ہے۔

    باغی ٹی وی:34 سالہ بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے 14 جون کی دوپہر 12 بجے کے قریب بھارتی شہر ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی کے بعد جہاں بھارت کی سیاسی، سماجی اور شخصیات صدمے میں ہیں، وہیں عوام میں بھی ان کی خودکشی کے حوالے سے غم و غصہ ہے اور کئی لوگ دعوی کر رہے ہیں کہ انہیں خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا ہے تاہم اُن کے چاہنے والوں اور دوستوں نے سوشانت کی موت کا ذمہ دار بھارتی فلم انڈسٹری کو قرا دیتے ہوئے بالی وڈ میں اقربا پروری کے خلاف اپنی آوازیں بلند کی ہیں

    بھارتی عوام کی جانب سے بالی وڈ کی ان اہم شخصیات میں سے ایک نام سلمان خان کا بھی ہے جو گزشتہ ایک ہفتے سے ٹویٹر پر تنقید کا سامنا کر رہے ہیں اور خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں-

    چنانچہ اب سلمان خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرسوشانت سنگھ کے لیے ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔


    سلمان خان نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ میرے تمام مداحوں سے گزارش ہے کہ وہ سوشانت سنگھ کے مداحوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور اُن کے جذبات کا احترام کریں اور اُن کے خلاف کوئی خراب زبان استعمال نہ کریں۔

    اداکار نے مزید کہا کہ براہ مہربانی اس مشکل گھڑی میں سوشانت سنگھ کے اہل خانہ اور اُن کے مداحوں کے ساتھ کھڑے رہیں کیونکہ کسی عزیز کا کھو جانا انتہائی تکلیف دہ ہے۔

    واضح رہے کہ بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے حوالے سے بدھ کو ایک وکیل سدھیر کمار اوجھا نے بھارتی ریاست بہار کی ایک مقامی عدالت میں سلمان خان، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کرن جوہر ،ادیتیا چوپڑا، ساجد ناڈیانوالہ، سنجے لیلا بھنسالی، بھوشن کمار، ایکتا کپور اور ڈائریکٹر دنیشن کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اس نے دعوی کیا تھا کہ یہ افراد سوشانت کی فلموں کو ایک سازش کے تحت ریلیز نہیں ہونے دیتے تھے اور ان افراد کی وجہ سے سوشانت کو فلمی فنکشنز میں بھی مدعو تک نہیں کیا جاتا تھا جس وجہ سے سوشانت نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی تھی-

    خود کُشی یا قتل؟ بھارتی فلمسازوں کا سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

    سوشانت سنگھ کی موت کے بعد عالیہ بھٹ اور کرن جوہر کو سوشل میڈیا پر بڑی ناکامی

  • ڈپریشن اور اداسی دو متعضاد چیزیں ہیں  دیپیکا پڈوکون

    ڈپریشن اور اداسی دو متعضاد چیزیں ہیں دیپیکا پڈوکون

    نامور بھارتی اداکار رنویر سنگھ کی اہلیہ معروف بالی وڈ اداکارہ دیپیکا پڈوکون کا ڈپریشن کے حوالے سے کہنا ہے کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ڈپریشن اور اداسی دو متعضاد چیزیں ہیں۔

    باغی ٹی وی : 34 سالہ بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے 14 جون کی دوپہر 12 بجے کے قریب بھارتی شہر ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی کے بعد جہاں بھارت کی سیاسی، سماجی اور شخصیات صدمے میں ہیں، وہیں عوام میں بھی ان کی خودکشی کے حوالے سے غم و غصہ ہے اور کئی لوگ دعوی کر رہے ہیں کہ انہیں خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا- اداکار کے قریبی دوستوں کا کہنا تھا کہ ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور وہ اینٹی ڈپریشن بھی استعمال کر رہے تھے پولیس کو سوشانت کے گھر سے کچھ رپورٹس بھی ملیں تھیں جن سے پتہ چلا کہ سوشانت واقعی ڈپریشن کا شکار تھے-

    تاہم سوشانت سنگھ کی خودکشی کے بعد سے ہی پاکستانی اور بھارتی فنکار سوشل میڈیا پر ڈپریشن پر اظہار خیال کررہے ہیں حال ہی میں سوشل میڈیا پر جاری اپنے سلسلہ وار پیغامات میں اداکارہ دیپیکا پڈو کون نے بھی ڈپریشن اور ذہنی صحت کے حوالے سے بات کی۔

    سوشل میڈیا پر اداسی اور افسردگی کیفرق کو واضح کرتے پیغام میں دپیکا نے لکھا کہ ڈپریش کا احساس اور اداسی کا احساس دو متضاد چیزیں ہیں۔
    https://twitter.com/deepikapadukone/status/1273850727429885953?s=20
    دیپیکا نے لکھا کہ ڈپریشن غم کی طرح نہیں ہے ،افسردہ ہونا غم کی طرح محسوس نہیں ہوتا ہے
    https://twitter.com/deepikapadukone/status/1272793710053359616?s=20
    اداکارہ نے لکھا کہ افسردگی ذہنی بیماری کی ایک قسم ہے-
    https://twitter.com/deepikapadukone/status/1273468783676411905?s=20
    دیپیکا کے مطابق ڈپریشن ذیابطس اور کینسر جیسی دوسری بیماریوں کی طرح ایک بیماری ہے۔
    https://twitter.com/deepikapadukone/status/1274598814767144961?s=20
    دیپیکا نے لکھا کہ ڈپریشن قابلِ علاج، قابلِ انسداد اور قابلِ شفا ہے۔

    واضح رہے کہ ڈپریشن کا شکار دیپیکا نے ذہنی صحت سے متعلق مسائل سے دوچار افراد کی مدد کیلئے ایک تنظیم کا آغاز کیا ہے۔

    فیصل قریشی کا سوشانت کی خودکشی پر معنی خیز پیغام

    ڈپریشن حقیقت ہے مذاق نہیں براہ کرم اسے سنجیدہ لیں عمران عباس

    جن کے دل میں رحم ہوتا ہے ان کے دل میں خدا ہوتا ہے حرامانی