Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • بھارتی ادکارہ سوناکشی سنہا نے ٹویٹر سے دوری اختیار کر لی

    بھارتی ادکارہ سوناکشی سنہا نے ٹویٹر سے دوری اختیار کر لی

    معروف بھارتی اداکارہ اور ماضی کے لیجنڈری اداکار شطرو گھن سنہا کی بیٹی سوناکشی سنہا نے ذہنی سکون اور خود کو فالتو تنقید سے محفوظ رکھنے کی خاطر ٹوئٹر سےدوری اختیار کرلی ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز ٹوئٹر سے دوری اختیار کرنے والی بالی وڈ اداکارہ سوناکشی سنہا نے ٹوئٹر سے اپنی علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے انسٹاگرام پر اپنے آخری ٹویٹ کا سکرین شاٹ شئیر کیا-
    https://www.instagram.com/p/CBp5HA5AcpP/
    سوناکشی سنہا نے اپنے آخری ٹویٹ میں لکھا کہ ذہنی سکون اور خود کو فالتو کی تنقید سے محفوظ رکھنے کے لیے سب سے پہلا قدم منفی سوچ اور منفی چیزوں سے دور رہنا ہے اور آج کل ٹوئٹر پر کچھ زیادہ ہی منفی چیزیں ہو رہی ہیں۔

    اداکارہ نے لکھا کہ چلو ! اب میں امن اور سکون کے لیے ٹویٹر سے دوری اختیار کر رہی ہوں۔

    سوناکشی سنہا نے اپنی انسٹا گرام پوسٹ کے کیپشن میں ٹویٹر کو الوداع کہتے ہوئے لکھا کہ آگ لگے بستی میں، میں اپنی مستی میں۔
    https://www.instagram.com/p/CBr9BqxA5Wm/
    اداکارہ نے اپنی ایک دوسری انسٹا گرام میں فادر ڈے کے موقع کی مناسبت سے اپنے والد شطرو گھن سنہا کے ساتھ لی گئیں تصاویر کا کولاج شئیر کرتے ہوئے اپنے والد کو خراج تحسین پیش کیا-

    واضح رہے کہ سوناکشی سنہا اکثر و بیشتر اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے اکثر سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اداکارہ نے ٹوئٹر سے دوری اختیار کرلی ہے۔

    اداکارہ نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 2010 میں سلمان کی فلم دبنگ 1 سے کیا تھا اُن کی مشہور فلموں میں دبنگ، جوکر، لُٹیرا، باس، ونس اپون آ ٹائم ان ممبئی، راؤڈی راتھوڑ و دیگر فلمیں شامل ہیں۔

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

  • بھارتی اداکار ابھے دیول نے بھی بالی وڈ میں اقربا پروری کے خلاف آواز بلند کر دی

    بھارتی اداکار ابھے دیول نے بھی بالی وڈ میں اقربا پروری کے خلاف آواز بلند کر دی

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی سے بالی وڈ میں اقربا پروری کی نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی سے بالی وڈ میں اقربا پروری کی نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے- ہر کوئی بالی وڈ میں خود کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کو سامنے لا رہا ہے حال ہی میں بالی وڈ اداکار 44 سالہ ابھے دیول نے اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں انکشاف کیا کہ وہ بھی بالی ووڈ میں اقرباپروری کا شکار ہوچکے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CBnOqrHJzZk/
    انہوں نے انسٹا گرام پرزندگی نہ ملے گی دوبارہ‘ کی تصویرشئیر کی اورپوسٹ میں لکھا کہ 2011 میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ کی مقبول ترین فلم ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘ پر ایوارڈ کیٹیگری درست نامزد نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    انہوں نے ایوارڈ کے دہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فلم کی کہانی دوستوں کے اسپین ٹوور پر مبنی تھی جبکہ اسے ایک رومانوی کہانی بنا کر ہریتھیک روشن اور ان کے ساتھ معاون کا کردار ادا کرنے والی کترینہ کیف کو بہترین اداکار اور اداکارہ کےلئے نامزد کیا گیا۔

    انہوں نے لکھا کہ ہریتھیک روشن کے ہمراہ لیڈنگ رول ادا کرنے والے مجھے اور فرحان اختر کو فلم فیئر ایوارڈز کی جانب سے ہمیں "معاون اداکار” کے طور پر نامزد کیا۔

    اداکار نے لکھا کہ انہوں نے اُس وقت بھی ایوارڈ کی نامزدگیوں کے خلاف بائیکاٹ کیا لیکن فرحان اختر خاموش رہے ۔

    ابھے نے لکھا کہ بالی ووڈ میں بہت سے ڈھکے چھپے اور واضح راستے ہیں جن کے تحت انڈسٹری کے لوگ آپ کے خلاف لابی بنا لیتے ہیں اور آپ کی صلاحیتوں کو پس پشت ڈال کر دوسرے سفارشی لوگوں کو سامنے لے آتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد سے سوشل میڈیا میں بھارتی شوبز انڈسٹری میں اقربا پروری کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے-

    یاد رہے کہ اس سے قبل اداکار ویویک ابرائے اور اداکارہ کنگنا رناوت نے بھی سوشنات سنگھ کی موت کی ذمہ دار بالی وڈ انڈسٹری کو قرار دیتے ہوئے بالی وڈ میں اقربا پروری کی حقیقت کو بے نقاب کیا تھا-

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

  • حمزہ علی عباسی نے معافی مانگ لی

    حمزہ علی عباسی نے معافی مانگ لی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنا پیغام جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنے مداحوں سے معافی مانگتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنا پیغام جاری کیا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹراپنے ٹویٹ میں حمزہ علی عباسی نے لکھا کہ میں اپنے پیغام کے لیے اس پلیٹ فارم کا استعمال اس لیے کر رہا ہوں تاکہ میرے آواز ہر ایک تک پہنچے۔


    حمزہ علی عباسی نے لکھا کہ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو استعمال کرنا چاہتا ہوں جہاں میری آواز بہت سے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے

    اداکار نے کہا کہ میں ہر اُس شخص سے معافی مانگنا چاہتا ہوں جس کو میں نے ماضی میں اپنے فعال یا الفاظ سے تکلیف دی ہوں۔

    اداکار نے لکھا کہ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ مجھے معاف کردیں مجھے بہت افسوس ہے کہ میری وجہ سے کسی کی دل آزاری ہوئی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل حمزہ علی عباسی نے اپنے ایک ٹویٹ میں پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دوسروں کے ساتھ، اپنے خاندان والوں کے ساتھ، کمزور اور غریبوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں۔

  • کورونا وائرس کو شکست دینے والے یاسر نواز نے پلازمہ عطیہ کر دیا

    کورونا وائرس کو شکست دینے والے یاسر نواز نے پلازمہ عطیہ کر دیا

    کورونا وائرس کو شکست دینے والے پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار و پروڈیوسر یاسر نواز نے اپنا پلازمہ عطیہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا وب سائٹ انسٹاگرام پر یاسر نے ایک ویڈیو شئیر کی جس میں یاسر نواز اسپتال میں موجود اپنا پلازمہ عطیہ کر تے نظر آرہے ہیں۔

    ویڈیو میں یاسر نواز نے کہا کہ ’سب کو ہی معلوم ہے کہ میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد میں نے خود قرنطینہ کردیا تھا اور احتیاطی تدابیر کی تھیں اور اب جب میں نے کورونا وائرس کو شکست دے دی ہے تو میں اپنا پلازمہ عطیہ کررہا ہوں۔‘
    https://www.instagram.com/p/CBp5pFwg6dk/
    یاسر نواز نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں پلازمہ عطیہ کرنا ثواب کا کام ہے لہذا کورونا سے صحتیاب ہونے والے جو بھی لوگ مجھے اس وقت دیکھ رہے ہیں میں اُن سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اپنا پلازمہ عطیہ کریں۔‘

    اداکار نے کہا کہ پلازمہ عطیہ کرتے وقت معمولی سی تکلیف برداشت کرنی ہوتی ہے اس کے بعد سب ٹھیک ہوجاتا ہے۔

    اُنہوں نے اہم معلومات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا سے صحتیاب ہونے والا شخص صرف 45 دن کے اندر اندر ہی اپنا پلازمہ عطیہ کر سکتا ہے کیونکہ اس کے بعد وہ پلازمہ نہ تو اس کے کام آئے گا اور نہ ہی کسی دوسرے مریض کے کام آئے گا۔

    ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں یاسر نے لکھا کہ پلازمہ عطیہ کریں اور زندگیاں بچائیں۔

    ندا یاسر کے لئےکوویڈ 19 کا سب سے تکلیف دہ لمحہ کونسا تھا؟

  • بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی   راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    بقیتہ السلف شیخ الحدیث استاذ العلماء مصنف کتب کثیرہ۔حضرت مولانا رحمت اللہ ربانی
    راقم : رانا محمد عثمان حقانی بن قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ

    دل بھر جاتا ہے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب ان کے نام کے آگے رحمتہ اللہ علیہ لکھنا پڑتا ہے۔
    جب میری شادی ہوئی تو وہ ہمارے گھر تشریف فرما تھے کھانا کھانے کے بعد انہوں نے قمیص کے سامنے کا بٹن کھولا اندر ہاتھ داخل کیا اور کچھ پیسے نکال کر مجھے تھما دئیے میں ضبط نہ کر پایا اور آنکھوں سے اشک رواں ہو گئے میرے والد بزرگوار محترم قاری احسان الحق حقانی رحمۃ اللہ علیہ بھی پاس ہی موجود تھے ان سے آہستہ سے پوچھنے لگے یہ کیوں روتا ہے انہیں بات کا علم تھا فرمانے لگے اس کی بڑی خواہش تھی کہ میں اپنی بارات کے ساتھ اپنے دادا محترم عنایت اللہ خادم رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر جاؤں گا آج وہ اس دنیا میں موجود نہیں یہ آپ کو اپنے دادا کے متبادل کے طور پر دیکھتا ہے ۔اس لئے رو دیا ۔
    پوری بات سن کر مولانا اٹھے مجھے تھپکی دی اور نم آنکھوں اور کانپتی آواز کے ساتھ فرمانے لگے
    پتر میں تیرا دادا ہی آں تے تیرا دادا تیری بارات نال صبح جائے گا۔ان شاءاللہ۔
    وقت گزرتا گیا اور پھر وہ کھڑی آن پہنچی جب ہمارے والد بزرگوار بھی اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے تب بہت سارے شفیق ہاتھوں کے درمیان وہ ہاتھ بھی میرے سر پر سایہ فگن ہوا جس ہاتھ کی شفقت سے ہم آج محروم ہو گئے ہیں۔جب بھی ملاقات کرتے بڑا حوصلہ بڑھاتے لمبی دعائیں دیا کرتے ۔ حال احوال پوچھتے نصیحتیں کرتے اور آخر میں اپنے لئے دعا کی درخواست ضرور کیا کرتے کم و بیش 12 سال مسلسل کمر کی تکلیف میں مبتلا رہے لیکن دعوت دین کا کام ہمیشہ اپنی زمہ داری سمجھتے تھے کوئی مسئلہ پوچھنے آتا تو جب تک اس کی تسلی نہ ہو جاتی اس کو حق بات سمجھاتے کبھی اکتاہٹ کا اظہار نہیں کرتے تھے ۔
    جمعہ کے دن میری خصوصی ڈیوٹی لگائی کہ جمعہ کی آذان تم نے کہنی ہے کبھی لیٹ ہوتا اور کوئی دوسرا جمعہ کی آذان کہ دیتا تو جمعہ کے بعد بلا کر کہا کرتے
    2منٹ پہلے آ جایا کر پتر ۔
    جب آنکھیں بند کرکے کوئی مسئلہ شروع کرتے منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھے ہوئے تو یوں محسوس ہوتا کہ ان کے اندر علم کا ٹھاٹھیں مارتا کوئی سمندر ہے جو ابلنے کو بے قرار ہے پھر وہ دنیا وما فیہا سے بے پرواہ ہو کر اس مسئلہ پر بڑی ضخیم علمی گفتگو فرمایا کرتے اور عالم یہ ہوتا تھا کہ میرے بزرگوار چچا محترم مشتاق احمد شیرانی حفظہ اللہ تعالیٰ مجھے اشارہ کرتے کہ جمعہ کا ٹائم اوپر ہو گیا ہے مولانا کو بتاؤ پھر میں بڑی ہمت جمع کرتے ہوئے جب ان کے پاؤں کو ہاتھ لگاتا تو وہ جیسے چونک کر کھڑی کی طرف دیکھتے اور سمجھ جاتے کہ ٹائم زیادہ ہو گیا ہے ۔اور نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے اندر ابلنے والے علم کے بحر بے قراں کو قابو کرتے ہوئے اپنی بات کا اختتام کر دیتے ۔
    ان کی زندگی جہد مسلسل تھی دین کیلئے ان کی کوششیں کاوشیں بے مثال تھیں ان کے زندگی کے جس بھی پہلو پر لکھنا شروع کروں تو اپنے آپ میں پوری کتاب ثابت ہو
    میں کسی کام سے لاہور سے باہر تھا جب چھوٹے بھائی حافظ ذیشان کا فون آیا
    مولانا رحمت اللہ ربانی
    فی ذمۃ اللہ۔
    سننے کے بعد میں بہت دکھی ہوا ۔
    جمعہ والے دن جمعہ سے پہلے ان کا جنازہ جب اٹھا تو ہر آنکھ اشک بار تھی ۔
    الشیخ مولانا امیر حمزہ حفظ اللہ نے انکا جنازہ پڑھایا میں نے ان کے ساتھ کھڑے ہو کر جنازہ پڑھا(جگہ کی کم یابی کی بنا پر)عجیب منظر تھا جنازگاہ باوجود لاک ڈاؤن کے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور دوران جنازہ مولانا امیر حمزہ صاحب سمیت سب کی ہچکی بندھی ہوئی تھی اشک رواں تھے اس عظیم انسان کے لیے رب تعالیٰ کی طرف ہاتھ باندھے دعائیں مانگتے جا رہے تھے اور روتے جا رہے تھے ۔
    انکو لحد میں انکے بڑے صاحبزادے اور میرے پھوپھا محترم طاہر ربانی صاحب ۔
    چھوٹے صاحبزادے مولانا طیب مسعود ربانی اور راقم نے خود اتارا ۔
    میں نے تب جی بھر کر اپنے بزرگ مولانا رحمت اللہ ربانی رحمۃ اللہ علیہ۔
    کی طرف دیکھا کہ یہ چہرہ اب دوبارہ نظر نہیں آئے گا اور ان کی لحد کو بند کر دیا ۔
    اللہ پاک مولانا رحمت اللہ ربانی کی مغفرت فرمائے ۔
    انکے درجات بلند فرمائے۔
    انکی قبر کو تاحد نگاہ وسیع فرمائے۔ انکی قبر کو جنت کے باغوں میں سے باغ بنائے۔
    انکی نیکیوں کو قبول فرمائے اور اس اضافہ فرمائے۔
    انکی غلطیوں کوتاہیوں کو درگزر فرمائے اور انہیں نیکیوں میں تبدیل فرمائے ۔
    انہیں اعلی علیین میں انبیاء اتقیاء شہداء صلحاء اولیاء کے درمیان جگہ عطاء فرمائے۔
    سارا دن وہ جنت سے اپنا رزق کھائیں اور رات کو عرش الٰہی تلے لٹکتی قندیلوں میں آرام کریں۔

    پیارے بابا جان، "شیخ الحدیث مولانا رحمت اللہ ربانی” کی حیات کے چند پہلو از قلم:مسز ناصر ہاشمی (بنت ربانی )

  • قرآن مجید میں زلزلے کا بیان   بقلم سلطان سکندر

    قرآن مجید میں زلزلے کا بیان بقلم سلطان سکندر

    قرآن مجید میں زلزلے کا بیان

    زمین کا اپنی موجودہ جگہ سے اچانک ہِل جانا، زلزلہ کہلاتا ہے۔

    زلزلے زمین کی تھرتھراہٹ کو کہتے ہیں جو زمین کی اپنی جگہ سے اچانک ہلنے کے سبب آتے ہیں. یہ بات حال ہی میں معلوم ہوئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے قرآن میں کہا گیا,

    Quran 67:16
    اَاَمِنْتُـمْ مَّنْ فِى السَّمَآءِ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِىَ تَمُوْرُ (الملک 16#)

    "کیا تم اس سے ڈرتے نہیں جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے پس جب اچانک وہ تھرتھراہنے لگے۔”

    یَخْسِفَ کا عربی مطلب زمین میں دھنسا دینا اور زمین کو اسکی اپنی جگہ یا مقام سے اچانک ہِلا دینا, جبکہ تَمُوْر کا مطلب تھرتھراہٹ ہے, یہاں پہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے.

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ زمین کا اپنی جگہ سے اچانک ہِلنا تھرتھراہٹ کا سبب بنتا ہے؟؟؟

    اصل میں زلزلے دو قسم کے ہوتے ہیں,
    1:- مین شاک
    2:- آفٹر شاک

    مین شاک وہ پہلا زلزلہ ہوتا ہے جو اپنی پوری طاقت سے آتا ہے اور سب کچھ تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے, زلزلے کی زیادہ تر انرجی اسی مین شاک میں ضائع ہو جاتی ہے,
    اور باقی ماندہ انرجی آفٹر شاکس کی صورت میں ضائع ہوتی ہے جنہیں ہم زلزلے کے جھٹکے بھی کہتے ہیں.
    قرآن نے ان دونوں کی وضاحت کی ہے.

    Quran 79: 6-7

    يَوْمَ تَـرْجُفُ الرَّاجِفَةُ (6)

    جس دن تھرتھراہنے والی(زمین) تھرتھراہے گی۔

    تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ (7)

    اس کے پیچھے آنے والی(تھرتھراہٹ جھٹکوں کی صورت میں) پیچھے آئے گی۔

    1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ آفٹر شاکس مین شاکس کے پیچھے پیچھے آتے ہیں؟؟؟؟


    بقلم سلطان سکندر!!!

  • پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان سے کیوں جلتی ہیں؟

    پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان سے کیوں جلتی ہیں؟

    ماہرہ خان کا شمارپاکستان انڈسٹری کی صف اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے انہیں پاکستان کی سپر اسٹار سمجھا جاتا ہے انہوں نے متعدد فلموں اور ڈرامہ سیریلز میں کام کیا جس کے لئے انہیں متعدد ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : شوبز انڈسٹری میں حسد بہت عام ہے اور اکثر یہ سنا جاتا ہے کہ بہت سی اداکارائیں ماہرہ سے حسد کرتی ہیں اور وہ ان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیتی ہیں۔ نیز ، ماہرہ دوسری عورتوں کو بغیر کسی ارادے کے انتہائی غیر محفوظ کرتی ہیں۔ اداکاراؤں کو ان کے بارے میں شکایت ہے اور یہاں تک کہ نامزدگیوں کے دوران بھی ، انہوں نے یہ کہا ہے کہ اگر ماہرہ کو نامزد کیا گیا ہے توان کے آنے کا کیا فائدہ ہے کیونکہ وہ جیت جائیں گی۔

    ایک حالیہ انٹرویو میں ، ماہرہ خان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ سب کیسے سنبھالتی ہیں؟

    ماہرہ خان نے کہا کہ “مجھے اس پر یقین نہیں ہے۔ میرے خیال میں ہر ایک کے پاس میرے بارے میں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ماہرہ کے بارے میں کچھ بھی کہتے ہیں اور وہ جواب نہیں دیں گی۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ اچھی بات ہے لیکن کبھی کبھی میں واقعتا ًجواب دینا چاہتی ہوں اور اس کی وجہ سے ہر شخص یہ مانتا ہے کہ میرے بارے میں باتیں کرنا ٹھیک ہے چاہے وہ مجھے ایوارڈ ملنے کے بارے میں ہو ،یا میری اداکاری وغیرہ کے بارے میں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے کسی کے لئے بھی ایسا ایکشن نہیں لیا کسی کی ذاتی صلاحیت میں بھی میں یہ نہیں کرتی ہوں ، میں نجی معاملوں میں بھی ایسا نہیں کرتی ، کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ اگر میں ایک دن ، کسی کے بھی بارے میں ہر سچ بولوں تو سب کچھ اچھا نہیں ہوگا ، ”

    ماہرہ خان نے ان ساری چیزوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ، “یہ سب کچھ بنی بنائی چیزیں ہیں۔ آپ مجھے اداکاری کے لئے ایوارڈ ملنا پسند نہیں کرتے جو ووٹنگ کا ایوارڈ ہے جہاں لوگ ووٹ دیتے ہیں۔ میں بہت خوش رہتی ہوں اور میں ہمیشہ خود کو سب کے سامنے خوش ہی محسوس کرواتی ہوں لیکن اس کا اثر مجھ پر پڑتا ہے۔

    ماہرہ خان نے مزید کہا کہ میری کامیابیوں کے پیچھے میرے مداحوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے میرے مداح میرے لئے ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیں “لیکن اس کے باوجود میں نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اپنا ایوارڈ کسی تصویر میں شائع نہیں کیا۔ میں نے اپنے مداحوں کا کبھی شکریہ ادا نہیں کیا جو میں نے ابھی چھپا رکھا تھا ، میں پیچھے ہٹ گئی۔ مجھے پاکستان سے باہر کچھ ایوارڈز کے لئے جانا پڑا اور میں نے کہا کہ معذرت کے ساتھ میں نہیں آسکتی ۔ کچھ مہینوں کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں کیا کر رہی ہوں؟ یہ مضحکہ خیز بات ہے-

    آخر میں ماہرہ خان نے کہا کہ یہ ساری تنقید میرے پس منظرکا شور ہے مجھے یقین ہے کہ مجھے ایک بڑا شخص بننا ہے۔ میں ماضی چند غلطیاں کر چُکی ہوں اور آگے بھی کر سکتی ہوں یہ زندگی کا حصہ ہے-

    بہترین پاکستانی اداکاروں کے مداحوں کو مایوس کر دینے والے بدترین ڈرامے

    پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی عائزہ سے شادی کی خواہش

  • کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟  تحریر:  سعدیه خورشید

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟ تحریر: سعدیه خورشید

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟
    سعدیه خورشید

    ھمارے معاشرے میں ایک بڑا معروف جملہ ھے کہ "جہیز ایک لعنت ھے”
    شریعت میں اسکی اجازت نہیں ھے لہذا جہیز نہیں دینا لینا چاہیے ۔۔
    لیکن اس بات کی دلیل کہ جہیز کی ممانعت کسی حدیث میں ائی ھے؟؟؟؟؟
    دوسری بات یہ ھے کہ اگر جہیز نہیں دیا جائے گا تو ظاھر سی بات ھے گھریلو زندگی میں بہت سی چیزیں بہت ضروری ھوتی ھیں جن کے بغیر اس جدید دور میں گزارہ نہیں ھے وہ کہاں سے آئیں گی۔۔۔۔؟؟ جواب یہی ھے کہ جو لڑکا بیاہ کے لے جارہا ھے پھر وہی سب کچھ بنائے گا ۔۔۔!!!
    اگر اس بات کو لیا جائے کہ لڑکا ہی جہیز میں سب کچھ بنائے گا تو سب سے پہلے وہ کہیں نوکری تلاش کرے اور پھر بینک بیلنس بنائے یا بہت سارا روپیہ پیسہ جوڑے شادی کے انتظامات کرے بری بنائے، لڑکی کے لئے سونا بنائے اور پھر اس کے بعد شادی کے بعد رہنے کے لئے فرنیچر ھو مشینری اور دیگر چیزیں۔۔۔۔
    لیکن اگر کوئی یہ نا بنا سکے یا شادی کرنے کے لئے ان سب اصولوں پہ پورا اترنے کی کوشش کرے تو اسکی عمر تو اسی کام میں گزر جائے گی۔۔۔ شادی کب ھوگی؟؟

    جہاں تک مسئلہ یہ ھے کہ لڑکی کے والدین کے لئے یہ بہت سنگین مسئلہ اختیار کر جاتا ھے کہ بعض لوگ اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ وہ اپنی بیٹی کو جہیز دے سکیں یا آپکی لسٹوں کے مطابق سب کچھ دے سکیں جس وجہ سے کئی لڑکیاں گھر بیٹھے بوڑھی ھو جاتی ھیں۔۔۔۔

    جہیز نا لینے دینے کے نعرے مارلینا ہی کافی نہیں ھے بلکہ اس کے لئے وہ سب رواج ختم کرنے کی ضرورت ھے جو کہ ایک بڑا مشہور ھے کہ لڑکے والے جہیز کے نام پہ لسٹیں دے کر بھیک مانگتے ھیں یا ہر فنکشن پہ سسسرال والوں کو طرح طرح کے جوڑے، شال، جرسیاں جیکٹس جو بھی ھوتا ھے اصل میں تو یہ رواج ختم کرنے کی ضرورت ھے لڑکے کی ماں کو، بہنوں کو سونا پہنایا جا رہا ھے۔۔۔ یہ سب کس وجہ سے ھے؟؟ غریب باپ کی تو یہ سب کرتے میں کمر ٹوٹ گئی اور آپ ھیں کہ خوش ھونے کا نام نہیں لے رہے۔۔
    جہیز ایک لعنت ھے
    کہے جا رہے ھیں، لئے جا رہے ھیں
    کوئی بھی نہیں چاھتا کہ اسکی بیٹی اسکے گھر سے خالی ہاتھ جائے، وہ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نا کچھ دے کے ہی بھیجنا چاھتا ھے لہٰذا جو وہ اپنی استطاعت کے مطابق، ساری عمر کی جمع پونچی کو لوٹا کے اپنی بیٹی کو دے دے اسی پہ راضی رہنا سیکھیے۔۔۔!!
    بات یہ ھے کہ دنیاوی کاموں میں اباحت ھے لہٰذا ایسے مسائل کو بلا سوچے سمجھے نا اچھالا کریں۔۔۔
    اگر آپ نے آواز اٹھانی ہی ھے تو لسٹس اور ایسے بڑے بڑے مطالبات کے خلاف اٹھائیے اور اس پہ سب سے پہلے خود عملدرآمد کیجئے ۔۔۔۔ صرف جہیز ایک لعنت ھے یہ نعرے مار لینا کافی نہیں ھے!!!

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟ تحریر: سعدیه خورشید

  • جبران کا ساتھ پانے پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزارہوں  منشا پاشا

    جبران کا ساتھ پانے پر اللہ تعالیٰ کی شکر گزارہوں منشا پاشا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ منشا پاشا کا کہنا ہے کہ وہ نامور سماجی کارکن جبران ناصر کو اُن کی زندگی میں شامل کرنے پر اللہ تعالیٰ کی شُکر گُزار ہیں-

    باغی ٹی وی : انسٹاگرام پر معروف اداکارہ منشا پاشا نے اپنی اور سماجی کارکن جبران ناصر کی منگنی کی ایک یادگار تصویر پوسٹ کی اور اُس کے ساتھ ہی اداکارہ نے اپنے منگیتر کے لیے ایک محبت بھرا پیغام بھی لکھا۔
    https://www.instagram.com/p/CBpeAull9L-/
    انسٹا گرام پر تصویر شئیر کرتے ہوئے منشا پاشا نے لکھا کہ یہ سچ ہے کہ میرا کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ہے کہ جب میں جبران کا ساتھ پانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کروں۔

    اداکارہ نے لکھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی شُکر گُزار ہوں کہ انہوں نے مجھے جبران کا ساتھ دیا-

    منشا پاشا نے لکھا کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے مجھے میرے سب سے بہترین دوست، ڈانس پارٹنر ،میرے کانفیڈنٹ اور میرے راز دار،میرے ہمزاد کے ساتھ ملایا۔

    اداکارہ کی اس پوسٹ پر صارفین نے جوڑی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا-

    واضح رہے کہ منشا پاشا نے گزشتہ سال 22 دسمبر کو پاکستان کے مشہور سماجی کارکن جبران ناصر سے منگنی کی تھی منگنی کی تقریب کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی جس میں شوبز فنکاروں سمیت دونوں کے قریبی رشتہ داروں نے شرکت کی تھی۔

    پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی عائزہ سے شادی کی خواہش

    لاک ڈاؤن میں فریال محمود کی جگہ سونیا حسین نے لے لی

  • ہواؤں نے رُخ موڑ لیا  از قلم :  ایمان کشمیری

    ہواؤں نے رُخ موڑ لیا از قلم : ایمان کشمیری

    ہواؤں نے رُخ موڑ لیا از قلم : ایمان کشمیری

    آج کل وادی ِ کشمیر کے علاقہ لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان کافی کشیدگی چل رہی ہے ، ایسی صورتِ حال سے بھارت بہت پریشان لگ رہا ہے ۔۔۔ یہی وہ بھارت ہے جو ہر وقت پاکستان سے جنگ کےلیے بے چین رہتا تھا ، کئی بار لائن آف کنڑول پر جنگ چھیڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔۔۔ دوسری طرف بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں قتل وغارت گری کا جو بازار گرم کیا ہوا ہے وہ بھی دُنیا کی نظروں سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔۔۔۔ امریکہ کے کہنے پر چل کر اب بھارت ایک بڑی مشکل میں پھنس چکا ہے ، جہاں سے واپسی کا کوئی رستہ نہیں نکلتا ۔۔۔ امریکہ تو چاہتا ہی یہی ہے کہ کسی طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھے اور نوبت جنگ تک پہنچ جائے ، ایٹمی ہتھیار چل جائیں ، اربوں لوگوں کی جانیں ضائع ہو جائیں ،اِن سب سے امریکہ کو کوئی سروکار نہیں وہ صرف دُنیا کی نظروں کا رُخ اپنی طرف سے ہٹا کر پاکستان اور بھارت کی جنگ کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہے تاکہ افغانستان سے اپنے اوپر شکست کا بدنما داغ لگے بغیر نکل جائے ۔۔۔ بھارت کو اسرائیل کی حمایت درکار ہے اِس لیے وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان کھلی جنگ کی طرف آ جائے اور وہ اسرائیل کی مدد سے پاکستان کا نام و نشان دُنیا کے نقشے سے مٹا دے (جو کہ ناممکن ہے، دُنیا کی کوئی بھی طاقت پاکستان کو نہیں مٹا سکتی اگر کسی نے ایسی احمقانہ کوشش کی تو وہ خود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا ۔۔۔۔ ان شاءاللہ ) اسرائیل تو ویسے ہی پاکستان کا کھلا دشمن ہے جو ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو ختم کر دے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پوری دُنیا میں اُس کےلیے اگر کوئی خطرے کا باعث ہے تو وہ ملکِ پاکستان ہے ۔۔۔ بھارت نے پچھلے ستر سالوں سے مقبوضہ کشمیر پر جبری تسلط قائم رکھا ہے مگر پچھلے چھ مہینوں سے جو سلسلے چل نکلے ہیں اُس کی کڑیاں اوپر بیان کی گئی امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں سے جا ملتی ہیں۔۔۔ پاکستان اپنے دشمنوں کی سب سازشوں کو بھانپ چکا ہے اور حکمت عملی کی راہ اختیار کیے ہوئے ہے ، وہ جانتا ہے کہ جنگ دونوں ملکوں کی بربادی ہے اِس لیے ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جس سے بھارت کو موقع ملتا ۔۔۔ امریکہ یہی سمجھتا رہا کہ اُس کی سازشوں سے متعلق پاکستان ، کشمیر ، چین اور نیپال بےخبر رہیں گے لیکن اب یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ جیسا بڑا شیطان کوئی دوسرا نہیں ہے ۔۔۔۔ اب آتے ہیں کشمیر اور بھارت کے معاملے کی طرف ۔۔۔۔ بھارت کشمیر میں جو گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے اُس کی بِنا پر دُنیا نے بھارت کا مکروہ چہرہ اچھی طرح پہچان لیا ہے ، کشمیری ظلم و ستم سہتے ہوئے بھی اپنے مقصد کی طرف رواں دواں ہیں ۔۔۔۔ بھارت اسی کشمیر کی وجہ سے ایک بند گلی میں داخل ہو چکا ہے ، جہاں سے نکلنا اُس کے لیے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے ۔۔۔ اب بھارت کسی کو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے پاکستان ، کشمیر ، چین اور نیپال سے بچاؤ ، بھارت ایک ساتھ کئی مصیبتوں سے دو چار ہے جو اُس کی خود کی کمائی ہوئی ہیں ۔۔۔

    بچا کوئی مکافاتِ عمل سے

    وہی کاٹے گا جو بوتا رہے گا

    بنگلہ دیش نے بھی مطالبہ کر دیا ہے کہ بھارت کے زیرِ تسلط ویسٹ بنگال اصل میں اُن کا حصہ ہے دوسری طرف بھارت کا اپنے بالکل ساتھ واقع نیپال کے ساتھ بھی اختلاف شروع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ بھارت کو ہمیشہ سے یہی خوش فہمی تھی کہ میری مدد کو امریکہ اور اسرائیل آئے گا مگر ایسا نہیں ہوا ۔۔۔ کشمیر جو کہ گھنے جنگلوں اور پہاڑوں پر مشتمل وادی ہے ، یہ گوریلا جنگ کےلیے بے حد موزوں ہے جس سے بھارت کو اُس کی سوچ سے بھی زیادہ نقصان ہو سکتا ہے ، اِسی لیے اب بھارت شدید غم و غصے کا شکار ہے ، جنگ اُس کی بربادی کا باعث ہے مگر کم عقل مودی پھر بھی جنگ چاہتا ہے حالانکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ، اِس سے صرف جانوں کا ضیاع ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

    مکافاتِ عمل خود راستہ تجویز کرتی ہے

    خدا قوموں پہ اپنا فیصلہ جاری نہیں کرتا