Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • جہیز ایک سماجی لعنت۔۔۔  از قلم : ساحل توصیف محمد پورہ کلگام

    جہیز ایک سماجی لعنت۔۔۔ از قلم : ساحل توصیف محمد پورہ کلگام

    ۔۔۔۔جہیز ایک سماجی لعنت۔۔۔

    از قلم : ساحل توصیف محمد پورہ کلگام

    جہیز ایک سماجی ناسور ہے جس نے ہزاروں کی تعداد میں زندگیاں ضائع کی ہوئی ہیں۔ یہ کینسر کی طرح ہمارے سماج میں سرایت کر گیا ہے۔یہ وہ بیماری ہے جس کا علاج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پہلے پہل یہ رسم ہندوؤں میں رائج تھی اور آج بھی ہے ہندوؤں کی زُبان میں جہیز دان کہتے ہیں مگر اب یہ لعنت مسلمانوں میں بھی پھیل چُکی ہے۔ جہیز کی وجہ سے لاکھوں لڑکیاں اپنی زندگی کے سنہرے دن کھو چُکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے شہر سرینگر میں پنتیس ہزار لڑکیاں ایسی ہیں۔ جن کی عمر تیس سے پینتیس سال کے درمیان بتائی جاتی ہے ابھی اپنے ہاتھوں میں مہندی لگنے کے انتظار میں ہیں مگر جہیز کی لعنت نے ان کی شادی پہ قدغن لگا دی ہے کیونکہ وہ غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ اتنا انتظام نہیں کر سکتے جتنا شادی پر اُن سے ڈیمانڈ کیا جاتا ہے۔نتیجتاً لڑکیاں اپنے والدین پر بوجھ بننے لگتی ہیں۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ لڑکیاں رحمت ہوتی ہیں مگر جب وہ ہی لڑکیاں شادی کی عمر کو پہنچ جاتی ہیں اس بدعت کی وجہ سے بچیاں ماں باپ پر اس قدر گراں گُزرتی ہیں جیسے وہ ان کی بیٹیاں نہیں۔رحمت نہیں ایک زحمت ہوں(اللہ بچائے)۔
    دور جہالت میں پہلے بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا ۔اسلام نے بیٹیوں کو وہ حقوق دیے جو آج تک کوئی بھی مذہب نہ دے سکا اسلام نے بیٹیوں کے لئے باضابطہ طور پہ باپ کی جائیداد میں بھی حصہ رکھا ہے مگر اس کے برعکس ہم جہیز کی لعنت پر عمل پیرا ہیں ۔ہندو مذہب میں ایسا کوئی تصور نہیں ہے کہ باپ کے جائیداد میں بیٹی کا کوئی حصہ ہے اس لئےوہ شادی کے موقعے پر اپنی بیٹی کے لئے جہیز کا انتخاب کرتے ہیں مگر اسلام میں ایسا کوئی تصور نہیں ملتا کہ جس کو ہم جہیز کی بدعت سے تعبیر کرتے۔مگر ہمارے مسلم سماج میں بھی اس لعنت نے پزیرائی حاصل کر لی ہے۔
    جہیز کی اس لعنت نے ہزاروں کی تعداد میں لڑکیوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا ہے۔ایک طرف شادی سے پہلے لاکھوں کی ڈیمانڈ تو دوسری طرف وازواں کا خرچہ غریب تو قرض لینے یا زمین بیچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔نتیجتاً عمر بھر کی کمائی ایک ہی جھٹکے میں ختم ہو جاتی ہے۔اور لڑکی کے گھر والے عُسرت کی زندگی گُزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کشمیر میں اس بدعت نے گہری جڑ پکڑ لی ہے یہاں پر شادی کے نام پر بہت سے غیر اخلاقی مراسم نے جنم لیا ہے۔ پہلے دن جب شادی طے ہو جاتی ہے تو ایک دو آدمی چائے پینے کے لئے جاتے ہیں اور پیالے میں گیارہ سو روپے ڈال دیتے ہیں یعنی رشتہ پکا اس کے بعد مہمان نوازی یعنی دس بیس مہمان لڑکی والوں کے گھر چلے جاتے ہیں اور لاکھوں روپیوں کا خرچہ کرواتے ہیں اور بعد میں لڑکی والے لڑکے والوں کے ہاں چلے جاتے ہیں جس سے بھی لاکھوں کا خرچہ ہوتا ہے اس کے بعد الوداعی تقریب ہوتی ہے جس میں بھی لاکھوں کا خرچہ آتا ہے اور پھر لڑکی والوں کو جہیز کا اہتمام کرنا ہوتا ہے ۔جس کی قیمت بھی لاکھوں میں ہوتی ہے۔ کئ جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ باراتیوں کی پلیٹوں میں بھی سونے کی کچھ چیزیں رکھی جاتی ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ یہاں پر ہزاروں لڑکیاں شادی کا خواب سجائے اپنی آرزوؤں کو اپنے سینے میں دفن کر چُکی ہیں اور شادی کے نام سے بھی ڈر جاتی ہیں ۔۔۔
    اور دوسری طرف کچھ جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ لڑکے والے لڑکی والوں کو بچانے کی کوشش میں خود مالی لحاظ سے کمزور ہو جاتے ہیں وہاں چاہیے کہ لڑکی والے بھی ان کے لئے آسانی کا سامان پیدا کریں مگر ایسے معاملے ہمارے سماج میں بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔۔۔
    غرض یہ کہ جہیز جیسی بدعت کی ہر جگہ ہر پلیٹ فارم پہ مذمت کرنی چاہیے تاکہ یہ ناسور ہمارے سماج سے قطعی طور پر ختم ہو جائے اور ہماری بیٹیاں سکون محسوس کریں اور اُجڑے ہوئے دل کے باغ سرسبز وشاداب ہو جائیں ۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔ آمین یا رب

    ساحل توصیف۔۔
    محمد پورہ کولگام۔۔

  • خود کُشی یا قتل؟ بھارتی  فلمسازوں کا سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان

    خود کُشی یا قتل؟ بھارتی فلمسازوں کا سوشانت سنگھ راجپوت کی زندگی پر فلم بنانے کا اعلان

    خود کشی کر کے موت کو گلے لگانے والے 34 سالہ بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ کی زندگی پر بھارتی فلمساز فلم بنائیں گے-

    باغی ٹی وی : 34 سالہ بالی وڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے 14 جون کی دوپہر 12 بجے کے قریب بھارتی شہر ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کرلی تھی۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی کے بعد جہاں بھارت کی سیاسی، سماجی اور شخصیات صدمے میں ہیں، وہیں عوام میں بھی ان کی خودکشی کے حوالے سے غم و غصہ ہے اور کئی لوگ دعوی کر رہے ہیں کہ انہیں خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا-جبکہ اداکار کے دو مداحوں نے صدمے میں خود کشی کر کے موت کو گلے لگا لیا-

    اگرچہ اب تک رپورٹس کے مطابق سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کی، تاہم پولیس نے ان کے ممکنہ قتل کی تفتیش بھی شروع کر رکھی ہے اور ابتدائی طور پر ممبئی پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایسی کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے اداکار نے خودکشی کی۔

    پولیس نے 19 جون تک کم از کم ایک درجن افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کرلئے تھے اور بیانات ریکارڈ کروانے والے افراد میں اداکار کے اہل خانہ بھی شامل ہیں جبکہ کچھ اداکاروں اور فلمسازوں کے بیانات بھی ریکارڈ کئے جائیں گے-18 جون کو سوشانت سنگھ کی گرل فرینڈ اداکار ریا چکربورتی نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

    پولیس کو بیان ریکارڈ کروانے کے دوران اداکار کے حالیہ منیجر نے بتایا تھا کہ اداکار مالی مشکلات کا بھی شکار تھے اور انہوں نے اپنے باورچیوں اور دھوبی کو خودکشی سے تین دن قبل ہی تنخواہیں ادا کی تھیں جبکہ اس بارے میں سوشانت اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی اچانک خودکشی پر ایڈووکیٹ سدھیر کمار اوجھا نامی شخص نے ریاست بہار کے شہر مظفر پور کی عدالت میں سوشانت سنگھ کی خودکشی کو قتل قرار دیکر سلمان خان اور کرن جوہر سمیت 8 بالی وڈ شخصیات کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

    سدھیر کمار کا دعوی کیا تھا کہ معروف بالی وڈ شخصیات نے ایسے حالات پیدا کیے کہ سوشانت سنگھ راجپوت خودکشی جیسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔

    اور ایسی ہی بہت ساری افواہیں پھیلنے کے بعد اب بھارتی فلم سازوں نے اس واقعے پر” خودکشی یا قتل؟ ایک ستارہ کھو گیا” کے عنوان سے فلم بھی بنانے کا اعلان کردیا ہے اور فلم کی شوٹنگ کا جلد ہی آغآز کیا جائے گا فلم وجے شیکھر گپتا کے ذریعہ بینکرول ہوگی اور اسے شامک ملک کی مدد سے بنائیں گے۔
    https://www.instagram.com/p/CBky6hTBjHB/
    مووی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ، گپتا نے indianexpress.com کو بتایا کہ ، "سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی سے موت ہم سب کے لئے صدمے کا باعث بنی ، لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بہت سارے اداکار جو یہاں انڈسٹری میں اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے آتے ہیں انہیں کام نہیں ملتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ راستہ اختیار کرتے ہیں ، اور کچھ ساری زندگی جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ لہذا ، ہم ایک قصہ سنانا چاہتے تھے کہ چھوٹے شہروں کے اداکار جن کے پاس با لی وڈ جدوجہد میں گاڈفادر نہیں ہیں۔ ”

    انہوں نے کہا کہ ہم اسکرپٹ لکھ رہے ہیں فلم سوشانت سنگھ راجپوت کی سوانح عمری نہیں ہوگی بلکہ ا یہ اسٹار کی زندگی کی مکمل تحقیق ، جدوجہد اور ان کی جانب سے خودکشی کرنے کے معاملے پر بنائی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوان اداکار کی خودکشی نے پوری قوم کو جنجھوڑ دیا ہے اور قوم حقائق جاننا چاہتی ہے اور ساتھ ہی فلم انڈسٹری میں آنے کے خواہاں نوجوان اور نئے چہرے شوبز انڈسٹری کا مکروہ چہر بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CBlXEcKFRw-/
    وجے شیکھر گپتا نے کہا کہ اس فلم کی تمام کاسٹ نئی ہوگی کوئی فلم اسٹار اس فلم کا حصہ نہیں ہوگا تمام چہرے نئے ہوں گے تاہم سوشانت سنگھ کا کردار کون کرے گا یہ بات فی الوقت سامنے نہیں آئی-
    https://www.instagram.com/p/CBpgrzYhXpp/
    وجے شیکھر گپتا نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ آج شام چھ بجے انسٹا گرام پر لائیو چیٹ کریں گےجس میں وہ سوشانت پر بنائی جانے والی فلم کے حوالے سے سوشانت کے مداحوں کے سوالوں کے جواب دیں گے-

    واضح رہے کہ سوشانت سنگھ نے 34 سال کی عمر میں 14 جون اتوار کو دوپہر 12 بجے کے قریب ممبئی کے علاقہ باندرا میں اپنی رہائش گاہ پر خود کُشی کر کے موت کو گلے لگا لیا تھا-

    خیال رہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت نے کیریئر کا آغاز 2008 میں ٹی وی سے کیا تھا جبکہ انہوں نے فلمی کیریئر کا آغاز 2013 میں کیا تھا، انہوں نے اب تک محض ایک درجن فلموں میں ہی کام کیا تھا۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کی فلموں میں کائی پو چے، شدھ دیسی رومانس، پی کے، ڈیٹیکٹو بایو مکیش بخشی، ایم ایس دھونی: دی یونائیٹڈ اسٹوری، رابطہ، ویلکم ٹو نیویارک، کیدرناتھ، سون چڑیا، چھچھورے اور ڈرائیو شامل ہیں۔

    سوشانت سنگھ راجپوت کو ان کے 12 سالہ کیریئر کے دوران 20 کے قریب ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا اور انہوں نے 9 ایوارڈز جیتے، انہوں نے بہترین ڈیبیو اداکار، بہترین پاپولر اداکار اور بہترین اداکار کے فلم فیئر، اسکرین ایوارڈ اور زی سائن ایوارڈز اہنے نام کئے-

    سوشانت سنگھ کی موت کے بعد عالیہ بھٹ اور کرن جوہر کو سوشل میڈیا پر بڑی ناکامی

    سوشانت سنگھ کی موت کی ذامہ دار بالی وڈ انڈسٹری ہے بھارتی عوام

    ویویک اوبرائے نے بھی سوشانت سنگھ کی موت کا ذمہ دار بالی وڈ کو قرار دیا

    اداکارہ کنگنا رناوت نے سوشانت سنگھ کی افسوسناک موت کے حوالے سے فلم انڈسٹری کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

  • آکسفورڈ یونیورسٹی میں ڈگری مکمل کر نے پرملالہ کو پاکستانی فنکاروں سمیت معروف شخصیات کی مبارکباد

    آکسفورڈ یونیورسٹی میں ڈگری مکمل کر نے پرملالہ کو پاکستانی فنکاروں سمیت معروف شخصیات کی مبارکباد

    پاکستانے فنکاروں سمیت بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا اور وزیراعظم عمران خان کی پہلی اہلیہ جمائمہ نے پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ڈگری کی تکمیل پر مبارکباد دی ہے۔

    باغی ٹی وی : بالی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا نے پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ڈگری کی تکمیل پر مبارکباد دی ہے ملالہ یوسف زئی نے فوٹو اینڈ ویڈیو شئیرنگ ایپ انسٹاگرام اور مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی تصاویر شیئر کیں جن میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ اس کامیابی کو سیلیبریٹ کر رہیں ہیں-
    https://www.instagram.com/p/CBmIrUCj9do/?igshid=1qp427m93nv67
    تصاویر شئیر کرتے ہوئے ملالہ نے لکھا کہ اپنی خوشی اور تشکر کا اظہار کرنا میرے لیے بہت مشکل ہورہا ہے کیونکہ میں نے فلسفہ، سیاسیات اور معاشیات میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنا ڈگری پروگرام مکمل کرلیا ہے۔

    ملالہ نے کہا کہ مجھےمعلوم نہیں کہ آئندہ کیا ہوگا، اب تو بس نیٹ فلیکس ہوگا اور پھر خوب سوؤں گی۔

    اس پوسٹ پر جہاں پاکستانی فنکاروں و دیگر معروف شخصیات نے ملالہ کو اس کامیابی پر مبارکیں دیں وہیں بالی وڈ سپراسٹار اور امریکی گلوکار نک جوناس کی اہلیہ پریانکا چوپڑا اور جمائمہ نے بھی ملالہ کو مبارکبادی
    پریانکا چوپڑا نے مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ’مبارک ہو ملالہ یہ بہت حیرت انگیز ہے۔

    دوسری جانب ملالہ نے ٹویٹر پر بھی تصاویر شئیر کیں –


    جمائمہ نے ملالہ مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ’ملالہ آپ ایک حیرت انگیز اور متاثر کُن نوجوان خاتون ہیں۔


    پاکستانی نژاد لندن کے مئیر صادق خان نے بھی ملالہ کو مبارکباد پیش کی-


    پاکستانی فنکاروں میں ثمینہ پیرزادہ، عدنان ملک، منیبہ مزاری،شفاعت علی،جاوید آفریدی،ماروی سرمد، اور جگن کاظمی و دیگر شامل ہیں۔


    https://twitter.com/indyfromspace/status/1273791916887420929?s=20

  • ماسک پہننا لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا ، لاہور ہائی کورٹ

    ماسک پہننا لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا ، لاہور ہائی کورٹ

    لاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ۔
    ہر ایک کو ماسک پہننے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت

    لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے قرار دیا ہے کہ ماسک پہننے پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
    شہری محمد حسنین کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ حکومت کورونا وائرس کے خلاف ٹھوس اقدامات کر رہی ہے ایسے میں ہر شہری کو ہاتھ سینیٹائزکرنے اور ماسک پہننے کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔
    درخواست گزار شہری نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران کے توسط سے دائر کردہ پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھاکہ ماسک نہ پہننے اور ہاتھوں کو سینیٹائز نہ کرنے والے شہری پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 269 اور سیکشن 270 کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں ہیں۔
    پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 269 کے مطابق جو کوئی شخص غفلت کے باعث ایسی بیماری کے پھیلاو کا باعث بنتا ہے جو متعدی اور جان لیوا ہو تو ایسے شخص کو 6 ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
    جبکہ کوئی شخص اگر دوبارہ ایسی بیماری پھیلاتا ہے تو اسے پی پی سی کے سیکشن 270 کے تحت 2 سال تک قید کی سزا دے سکتی ہے۔
    تاہم ملک میں ان قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔ اور شہری ماسک نہ پہن کر اور ہاتھوں کو سینیٹائز نہ کرکے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 269 اور سیکشن 270 کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی قانون پر عمل درآمد نہیں کر وارہے۔
    پٹیشن میں استدعا کی گئی کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 269 اور سیکشن 270 پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے ماسک نہ پہننے اور ہاتھوں کو سینیٹائز نہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں۔
    دوران سماعت پٹیشنرکے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بھارت میں انڈین پینل کوڈ کے تحت انہی دونوں سیکشنز 269 اور 270 کے تحت ماسک نہ پہننے اور سرعام تھوکنے والوں کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔
    لہذا معزز عدالت پاکستان میں بھی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بناتے کا حکم جاری کرے۔
    اس پر عدالتی معاونت کے لئے موجودسرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اگر ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا تو پورے ملک پر ایف آئی آر درج کرنا پڑے گی۔ایسا نہی کیا جا سکتا۔
    تاہم عدالت نے قرار دیا کہ کسی شہری نے ہاتھوں کو سینیٹائز کیا ہے یا نہیں اس کا پتا نہیں چلایا جاسکتا۔اور درخواست گزار کی استدعا مسترد کردی۔

    کورونا کے 90 فیصد مریضوں کا گھر پر علاج ممکن، ڈاکٹروں نے خوشخبری سنا دی

    کورونا کے 90 فیصد مریضوں کا گھر پر علاج ممکن، ڈاکٹروں نے خوشخبری سنا دی

    پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ بڑھنے لگا، 24 گھنٹوں میں ریکارڈ 153 اموات

  • ندا یاسر کے لئےکوویڈ 19 کا سب سے تکلیف دہ لمحہ کونسا تھا؟

    ندا یاسر کے لئےکوویڈ 19 کا سب سے تکلیف دہ لمحہ کونسا تھا؟

    معروف ٹی وی میزبان و اداکارہ ندا یاسر، ان کے شوہر اداکار یاسر نواز اور ان کی بیٹی صلہ میں گزشتہ ماہ 25 مئی کو کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا تھا۔

    باغی ٹی وی :میزبان و اداکارہ ندا یاسر، ان کے شوہر اداکار یاسر نواز اور ان کی بیٹی صلہ میں گزشتہ ماہ 25 مئی کو کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا تھا۔ قرنطینہ کے دوران خبریں وائرل ہوئیں کہ ندا یاسر کی طبیعت انتہائی خراب ہوگئی ہے اور انہیں انتہائی آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے۔

    تاہم ایسی خبریں وائرل ہونے کے بعد اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ ان کی طبیعت خراب نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ ہسپتال منتقل ہوئی ہیں۔

    ندا یاسر کے دوسرے ٹیسٹ میں 15 جون کو ان کا ٹیسٹ منفی آیا اور انہوں نے اسی دن ہی ٹی وی پر اپنا مارننگ شو شروع کردیا اور اپنے مارننگ شو میں تفصیلی طور پر بتایا کہ انہیں کس طرح کورونا لگا اور اس وقت ان کی حالت کیا تھی۔

    اداکارہ نے پروگرام کے آغاز میں ہی بتایا کہ سب سے پہلے ان کے شوہر یاسر نواز بیمار پڑے اور انہیں شدید بخار ہوا تو انہوں نے ڈاکٹر سے رجوع کیا مگر ڈاکٹر نے بھی ابتدائی طور پر بتایا کہ یاسر نواز کو سخت گرمی کی وجہ سے بخار ہوا ہوگا-

    ندا یاسر نے بتایا کہ جس دن ان کے شوہر کو بخار ہوا تھا، اس دن وہ اداکار نوید رضا اور علیزے شاہ سمیت دیگر اداکاروں کے ساتھ شوٹنگ کے لیے کوئی سائٹ دیکھنے گئے تھے۔

    ندا نے بتایا کہ سائٹ دیکھ کر آنے کے بعد یاسر نواز کو شدید بخار ہوا اور وہ ڈاکٹر کے پاس گئے مگر انہوں نے کہا کہ انہیں گرمی کی وجہ سے بخار ہوا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ اُن کی بیٹی صلہ کو بھی بخار ہونا شروع ہو گیا تھا-

    میزبان نے بتایا کہ سائٹ دیکھ کر آنے کے تین دن بعد نوید رضا نے فون کرکے بتایا کہ انہیں بھی بخار ہوا تھا اور انہوں نے ٹیسٹ کروایا تو ان میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ندا نے بتایا کہ کورونا کا سن کر یاسر نواز بہت پریشان ہوگئے اور پھر وہ تمام اہل خانہ سمیت ٹیسٹ کروانے چلے گئے اور بعد ازاں ٹیسٹ میں صرف میاں بیوی اور ایک بیٹی میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔

    انہوں نے بتایا کہ جس دن ان کا ٹیسٹ کا نتیجہ آیا، اس دن بھی انہوں نے اپنا مارننگ شو کیا اور جب انہیں یاسر نے بتایا کہ ان میں بھی کورونا کی تشخیص ہوئی ہے تو انہیں یقین ہی نہیں آیا، کیوں کہ ان میں ایسی کوئی علامات نہیں تھیں جبکہ ان کے شوہر میں کافی شدید علامات تھیں بیٹی میں معمولی علامات تھیں

    اداکارہ کے مطابق کورونا کی تشخیص کے بعد یاسر نواز پریشان ہوگئے اور کہتے رہے کہ اگر ہمیں کچھ ہوگیا تو ہمارے بچوں کا کیا ہوگا اور ان کی ایسی باتوں سے مجھے بھی ذہنی پریشانی ہونے لگی-

    ندا یاسر قرنطینہ کے دنوں کا احوال بتاتے ہوئے جذباتی ہوگئیں اور وہ اپنے 5 سالہ بیٹے سے دور رہنے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ ان پریشانیوں سے بچنے کے لئے ہی کہتے ہیں کہ غیر ضروری باہر نہ جائیں گھر میں رہیں-

    اداکارہ و میزبا نے بتایا کہ انہوں نے خود کو 14 دن تک گھر کے اوپر والے حصے میں قرنطینہ کردیا تھا جب کہ کورونا نیگیٹیو والوں کو گھر کے نچلے حصے مین رکھا گیا ان کا چھوٹا 5 سالہ بیٹا جو ان کے ساتھ سوتا تھا اور جب وہ کسی وجہ سے روتا تھا تو وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے بچے کو گلے نہیں لگا سکتی تھیں اور ان سے ملنے کے لیے روتی تھیں-

    ندا نے کہا کہ آپ پوری دنیا سے دور رہ سکتے ہیں لیکن پنی اولاد سے جن کو آپ کی ضرورت ہوتی ہے جن کو ماں کا لمس چاہیئے ہوتا ہے ان سے دور رہنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہوتا ہے جیسے کہ میرے ساتھ ہوا میں اپنے بچے کو کسی بھی صورت میں ہاتھ نہیں لگا سکتی تھی-

    ندا نے کہا یہ بہت مشکل وقت تھا لیکن اللہ کا شکر ہے گزر گیا- انہوں نے کہا کہ لوگوں نے دعائیں دیں لیکن کچھ نے بددعائیں بھی دیں کسی نے کہا کہ یہ ڈرامہ ہے پیسے لے کر یہ کہہ رہے ہیں ہاں شو میں آتے تھے کام کرنے آتے تھے اچھا ہوا تو کسی نے کچھ کہا یہ کہتے ہوئے ندا یاسر آبدیدہ ہو گئیں کہا کہ ان باتوں نے میرا بہت دل دکھایا- ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ بہت کوگوں نے دعائیں دیں اور ہمارا ساتھ دیا جس پر ہمیں لگا کہ ہم دنیا میں اکیلے نہیں ہیں ہمیں ڈھارس بندھی-اور شاید ان کی دعاؤں کی وجہ سے یہاں کھڑی ہوں-
    https://www.instagram.com/p/CBfyLenln1h/
    دوسری جانب ندا یاسر نے صحت یابی کے بعد مارننگ شو شروع کرنے کے بعد انسٹاگرام پر اپنے سیٹ کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی اور لوگوں کو دکھایا کہ کس طرح شوٹنگ کے دوران سب لوگ ایک دوسرے سے دوری پر ہیں اور کس طرح ان کی ٹیم نے تمام حفاظتی انتظامات کر رکھے ہیں

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کے کیمرا مین نہ صرف ایک دوسرے سے دور کھڑے ہیں بلکہ انہوں نے حفاظتی لباس بھی پہن رکھا ہے جب کہ اسٹوڈیو میں ایک شخص کو اینٹی انفیکشن اسپرے بھی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہےایک طرف جہاں ندا یاسر نے اپنے اسٹوڈیو میں حفاظتی انتظامات کی ویڈیو شیئر کی اور ان کے کیمرامین نے حفاظتی لباس سمیت ماسک بھی پہن رکھا ہے، وہیں دوسری جانب وہ خود پروگرام میں ماسک کے بغیر دکھائی دیں-

    ندا یاسر ،اپنے شوہر کے ہمرا کرونا کا شکار


    https://login.baaghitv.com/naveed-raza-ny-corona-ki-tasdeek-krty-hovey-khasoosi-pegham-jari-kr-diya/https://login.baaghitv.com/isolation-mai-manayi-gayi-shadi-ki-saalgirah-yadgaar-hai/

    میری صحت سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ندا یاسر

  • سیکھ لو یا کیڑے نکال لو-  بقلم:احمد جواد

    سیکھ لو یا کیڑے نکال لو- بقلم:احمد جواد

    سیکھ لو یا کیڑے نکال لو
    بقلم:احمد جواد

    دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگ کی شکست اور مکمل تباہی کے بعد کیسے زندہ رہنا اور واپس کامیابی کی طرف آنا ہے ، ہمیں جرمنی اور جاپان سے سیکھنا چاہئے۔

    تصادم سے کیسے بچیں اور صحیح لمحے کا انتظار کریں ، ہم چین سے سیکھ سکتے ہیں۔

    غیر دوستانہ یا دشمن اوراپنے سے کئی گنا بڑے پڑوسی سے کیسے بچنا ہے ، ہم اسرائیل اور سنگاپور سے سیکھ سکتے ہیں۔

    کسی صحرا کو نخلستان میں تبدیل کرنے کا طریقہ ، ہم دبئی سے سیکھ سکتے ہیں۔

    علیحدہ ہو کر اور ایک نئی شناخت کے ساتھ
    ترقی کرنا ، ہم بنگلہ دیش سے سیکھ سکتے ہیں۔

    ۲۰ سال میں دُنیا میں ۶۹ نمبر سے جی ۲۰ میں کیسے آتے ہیں، ترکی سے سیکھ سکتے ہیں۔

    پچاس سالوں میں ملک کو ایشین ٹائیگر سے انتہائی کمزور ملک بنانے کا طریقہ ، پاکستان کے پچھلے 50 سالوں سے سیکھا جاسکتا ہے۔

    مسلۂ یہ ہے کہ ہمیں سیکھنے کی مثالیں ہی پسند نہیں آتی۔ہر مثال میں کیڑے نکال لیتے ہیں – اس ملک کے نظام میں تبدیلی لانی ھو گی۔ طاقت ور کو عوام کے تابع لانا ھو گا۔

  • گلوکار عالمگیر نے اپنی موت کی افواہوں کی ترید کر دی

    گلوکار عالمگیر نے اپنی موت کی افواہوں کی ترید کر دی

    پاکستان میں پاپ گلوکاری کے بانی اور عالمی شہرت یافتہ گلوکارعالمگیر نے موت کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں-

    باغی ٹی وی : گلوکار عالمگیر کے انتقال کر جانے کی افواہیں سوشل میڈیا پر زیر گردش تھیں، گردش کرنے والی افواہوں میں دعوی کیا جا رہا تھا کہ امریکا میں مقیم گلوکار عالمگیر انتقال کرگئے ہیں۔

    عالمگیر کی موت کی افواہ کی خبر دیکھتے ہی وائرل ہو گئی اور ان کے مداحوں کو غمزدہ کر دیا تاہم اب گلوکار نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے ان تمام افواہوں کی تردید کردی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر عالمگیر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ سوشل میڈیا پر میرے بارے میں غلط خبریں پھیلنے کی وجہ سے دنیا بھر سے انہیں فون کالز موصول ہورہی ہیں۔

    انہوں نے لکھا ان خبروں پر یقین نہ کریں میں خیریت سے ہوں اور کراچی میں ہوں-

    دوسری جانب اداکارہ بشری انصاری کی عالمگیر سے ویڈیو کال پر گفتگو کا کلپ اداکارہ نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ پر شئیر کیا جس کے وائرل ہونے کے بعد گلوکار کی موت کی خبریں دم توڑ گئیں-
    https://www.instagram.com/p/CBn6XKup26F/
    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں فنکار خوش گوار موڈ میں گفتگو کرہے ہیں۔ بشری انصاری کا کہنا تھا کہ عالمگیر تو ہم سب کی جان ہے 100 سال اور زندہ رہے گا۔ بشری انصاری نے ایک سچے فنکار کی محبت کا حق ادا کردیا۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہم عالمگیر سے محبت کرتے ہیں اور شکر ہے کہ وہ ٹھیک ہے

    واضح رہے کہ عالمگیر نے پاکستان کی سب سے زیادہ سنیما گھروں میں نمائش ہونے والی ندیم اور شبنم کی سپر ہٹ فلم ’آئینہ‘ کے لیے گیت گائے تھے اور پاکستان میں پاپ گلوکاری کے بانی ہیں-

    حدیقہ کیانی نے تُرک عوام کے دل جیت لئے

    بہترین پاکستانی اداکاروں کے مداحوں کو مایوس کر دینے والے بدترین ڈرامے

  • حدیقہ کیانی نے تُرک عوام کے دل جیت لئے

    حدیقہ کیانی نے تُرک عوام کے دل جیت لئے

    پاکستانی معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی نے تُرک زبان میں اسلامی فتوحات پر مبنی تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کا ٹائیٹل سونگ گا کر تُرکوں کے دل جیت لئے-

    باغی ٹی وی : حدیقہ کیانی نے ترک زبان میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کا گانا گاکر نہ صرف پاکستانی عوام کو خوش کیا ہے بلکہ تُرکی کے لوگوں کے بھی دل جیت لیے ہیں انسٹا گرام پر حدیقہ کیانی نے اپنی خوبصورت آواز میں گائے گئے ’ارطغرل غازی‘ کے ٹائٹل سونگ کی ویڈیو پوسٹ کی جس کے ساتھ ہی اُنہوں نے ایک طویل کیپشن بھی لکھا۔
    https://www.instagram.com/p/CBn90-vF5_6/
    حدیقہ کیانی نے لکھا کہ پاکستان اور ترکی کے لیے میری محبت کسی دوسرے ملک کی محبت سے بالکل برعکس ہے کیونکہ میرے آباؤ اجداد کا تعلق ترکی کے شہر ازمیر سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں بچپن سے ہی ترکی سے وابستہ رہی ہوں اور میں نے بچپن میں ہمیشہ ترکی میں منعقدہ بچوں کے بین الاقوامی میلے میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔

    گلوکارہ نے لکھا کہ 2005 میں جب میں واپس ترکی گئی تھی تو میں نے ’اتاترک کلچرل سینٹر اینڈ اوپیرا ہاؤس‘ میں ایک بار پھر سے پاکستان کی نمائندگی کی تھی اور اس دوران سب سے خاص بات یہ تھی کہ میں نے ترکی کا مشہور گانا ’Sen Aglama‘ گایا تھا اور میں نے اپنی گلوکاری کے ذریعے اُس ملک کے لوگوں سے پاکستانی عوام کی محبت کا اظہار کیا تھا جو ہر اچھے برے وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے۔

    اُنہوں نے لکھا کہ ’اب 2020 میں پاکستان میں ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کی کامیابی کے بعد میں نے ایک بار پھر ترکی کے لیے اپنی محبت کا اظہار کرنے کا ارادہ کیا اور میں نے اس ضمن میں ترک زبان میں ’ارطغرل غازی‘ کا ٹائٹل سونگ گایا ہے۔

    حدیقہ کیانی نے لکھا کہ میں نے اپنی گلوکار ی کے ذریعے ترکی کے لوگوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے تاکہ اسی طرح پاکستان اور ترکی کے مابین ثقافت، فن اور محبت کے ذریعے دوستی پروان چڑھتی رہے۔

    گلوکارہ نے لکھا کہ اُمید کرتی ہوں کہ آپ کو میری آواز میں یہ گانا پسند آئے گا۔

    حدیقہ کیانی کے اس گانے کو پاکستانیوں سمیت تُرک بھی بہت پسند کر رہے ہیں-

    ہماری قوم نے ارطغرل سیریز سے محض ’ارطغرل پاپڑ‘ ارطغرل نسوار‘ ارطغرل سروس اسٹیشن جیسےنام رکھنا ہی سیکھے ہیں صبا قمر

  • کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟  تحریر:  سعدیه خورشید

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟ تحریر: سعدیه خورشید

    کیا جہیز ایک لعنت ھے۔۔۔۔؟؟؟
    سعدیه خورشید

    ھمارے معاشرے میں ایک بڑا معروف جملہ ھے کہ "جہیز ایک لعنت ھے”
    شریعت میں اسکی اجازت نہیں ھے لہذا جہیز نہیں دینا لینا چاہیے ۔۔
    لیکن اس بات کی دلیل کہ جہیز کی ممانعت کسی حدیث میں ائی ھے؟؟؟؟؟
    دوسری بات یہ ھے کہ اگر جہیز نہیں دیا جائے گا تو ظاھر سی بات ھے گھریلو زندگی میں بہت سی چیزیں بہت ضروری ھوتی ھیں جن کے بغیر اس جدید دور میں گزارہ نہیں ھے وہ کہاں سے آئیں گی۔۔۔۔؟؟ جواب یہی ھے کہ جو لڑکا بیاہ کے لے جارہا ھے پھر وہی سب کچھ بنائے گا ۔۔۔!!!
    اگر اس بات کو لیا جائے کہ لڑکا ہی جہیز میں سب کچھ بنائے گا تو سب سے پہلے وہ کہیں نوکری تلاش کرے اور پھر بینک بیلنس بنائے یا بہت سارا روپیہ پیسہ جوڑے شادی کے انتظامات کرے بری بنائے، لڑکی کے لئے سونا بنائے اور پھر اس کے بعد شادی کے بعد رہنے کے لئے فرنیچر ھو مشینری اور دیگر چیزیں۔۔۔۔
    لیکن اگر کوئی یہ نا بنا سکے یا شادی کرنے کے لئے ان سب اصولوں پہ پورا اترنے کی کوشش کرے تو اسکی عمر تو اسی کام میں گزر جائے گی۔۔۔ شادی کب ھوگی؟؟

    جہاں تک مسئلہ یہ ھے کہ لڑکی کے والدین کے لئے یہ بہت سنگین مسئلہ اختیار کر جاتا ھے کہ بعض لوگ اتنی استطاعت نہیں رکھتے کہ وہ اپنی بیٹی کو جہیز دے سکیں یا آپکی لسٹوں کے مطابق سب کچھ دے سکیں جس وجہ سے کئی لڑکیاں گھر بیٹھے بوڑھی ھو جاتی ھیں۔۔۔۔

    جہیز نا لینے دینے کے نعرے مارلینا ہی کافی نہیں ھے بلکہ اس کے لئے وہ سب رواج ختم کرنے کی ضرورت ھے جو کہ ایک بڑا مشہور ھے کہ لڑکے والے جہیز کے نام پہ لسٹیں دے کر بھیک مانگتے ھیں یا ہر فنکشن پہ سسسرال والوں کو طرح طرح کے جوڑے، شال، جرسیاں جیکٹس جو بھی ھوتا ھے اصل میں تو یہ رواج ختم کرنے کی ضرورت ھے لڑکے کی ماں کو، بہنوں کو سونا پہنایا جا رہا ھے۔۔۔ یہ سب کس وجہ سے ھے؟؟ غریب باپ کی تو یہ سب کرتے میں کمر ٹوٹ گئی اور آپ ھیں کہ خوش ھونے کا نام نہیں لے رہے۔۔
    جہیز ایک لعنت ھے
    کہے جا رہے ھیں، لئے جا رہے ھیں
    کوئی بھی نہیں چاھتا کہ اسکی بیٹی اسکے گھر سے خالی ہاتھ جائے، وہ اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نا کچھ دے کے ہی بھیجنا چاھتا ھے لہٰذا جو وہ اپنی استطاعت کے مطابق، ساری عمر کی جمع پونچی کو لوٹا کے اپنی بیٹی کو دے دے اسی پہ راضی رہنا سیکھیے۔۔۔!!
    بات یہ ھے کہ دنیاوی کاموں میں اباحت ھے لہٰذا ایسے مسائل کو بلا سوچے سمجھے نا اچھالا کریں۔۔۔
    اگر آپ نے آواز اٹھانی ہی ھے تو لسٹس اور ایسے بڑے بڑے مطالبات کے خلاف اٹھائیے اور اس پہ سب سے پہلے خود عملدرآمد کیجئے ۔۔۔۔ صرف جہیز ایک لعنت ھے یہ نعرے مار لینا کافی نہیں ھے!!!

  • کیوں رو رہے ہیں ہم  بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیوں رو رہے ہیں ہم بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیوں رو رہے ہیں ہم
    بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیا کھو رہا ہے جو رو رہا ہے۔۔!
    وہی کاٹے گا تو جو بو رہا ہے۔۔!

    کتنی تھی سلطنت سکندر کی۔۔!!
    جو دوگز زمیں میں سو رہا ہے۔۔!!

    بھول چکا ہے اپنے آنے کا مقصد۔۔!!
    تو خواب غفلت میں سو رہا ہے۔۔!!

    جو لکھا ہے نصیب میں وہ مل کہ ہی رہے گا۔۔!!
    کیوں تو اپنا ایمان کھو رہا ہے۔۔!!

    دکھا کر دل مخلوق خدا کا۔۔!!
    تو حرکت پہ اپنی اس خوش ہو رہا ہے۔۔!!

    جھٹلاتا رہا جس مکافات عمل کو۔۔!!
    تیرے سامنے آج وہ سچ ہو رہا ہے۔۔!!

    زمانے میں اب تو جو خوار ہو رہا ہے۔۔!!
    کوئی تیرا نام لے کہ رب کہ آگے رو رہا ہے۔۔!!