Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • خوشی, آسودگی, سکون اور خودکشی!!! سوشانت سنگھ کی خودکشی سے متعلق لکھا گیا بلاگ از قلم : بلال شوکت آزاد

    خوشی, آسودگی, سکون اور خودکشی!!!

    خبر ہے کہ بھارتی ابھنیتر سوشانت سنگھ راجپوت کی لاش چھت سے جھولتی پائی گئی جسے اولین تفتیشی نتیجے میں خودکشی کی موت بیان کیا گیا ہے۔

    خودکشی کی بابت تمام مذاہب, دنیاوی قوانین اور اخلاقی اصول بلکل واضح ہیں کہ یہ ایک قبیح اور غلط فعل ہے پر پھر بھی انسان اس کو سرذد کرنے سے باز نہیں آتے۔

    کیوں؟

    اگر غریب خودکشی کرتا ہے تو وجہ غربت بتائی جاتی ہے۔

    مفلس خودکشی کرتا ہے تو وجہ مفلسی بتائی جاتی ہے۔

    عاشق خودکشی کرتا ہے تو وجہ عاشقی بتائی جاتی ہے۔

    مقروض خودکشی کرتا ہے تو وجہ قرض بتائی جاتی ہے۔

    مجرم خودکشی کرتا ہے تو وجہ جرم بتائی جاتی ہے۔

    بھوکا خودکشی کرتا ہے تو وجہ بھوک بتائی جاتی ہے۔

    طالبعلم خودکشی کرتا ہے تو وجہ تعلیمی بتائی جاتی ہے۔

    بے عزت خودکشی کرتا ہے تو وجہ بے عزتی بتائی جاتی ہے۔

    پشیمان خودکشی کرتا ہے تو وجہ پچھتاوہ بتائی جاتی ہے۔

    امیر خودکشی کرتا ہے تو وجہ بے سکونی وغیرہ بتائی جاتی ہے۔

    الغرض خودکشی کے جتنے کیس اٹھالیں کوئی بھی کسی وجہ کے بغیر نہیں ملے گا لیکن کیا بتائی گئی وجوہات اتنی اہم اور خودکشی کے قابل ہوتی ہیں کہ انسان اللہ کی دی گئی تمام نعمتوں اور رحمتوں بشمول زندگی کو خود سے اللہ کی مرضی کے بغیر جدا کردے؟

    اگر آسودگی اور آسائش, دولت, شہرت اور عزت خوشی اور سکون کے لیے جزو لاینفک ہے تو سوشانت اور اس جیسے دیگر خودکشی کرنے والے افراد کو کیا مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ خودکشی کرگزرتے ہیں؟

    ویسے سکون اور آسودگی کیا ہے؟

    میرے خیال میں غریب کے لیے آسودگی اور سکون غربت سے چھٹکارہ ہے,

    مفلس کے لیے آسودگی اور سکون مفلسی سے چھٹکارہ ہے,

    عاشق کے لیے آسودگی اور سکون عشق کی تکمیل ہے,

    مقروض کے لیے آسودگی اور سکون قرض سے چھٹکارہ ہے,

    مجرم کے لیے آسودگی اور سکون جرم کی سزا سے چھٹکارہ ہے,

    بھوکے کے لیے آسودگی اور سکون بھوک سے چھٹکارہ ہے,

    طالبعلم کے لیے آسودگی اور سکون تعلیمی تکمیل ہے,

    بے عزت کے لیے آسودگی اور سکون بے عزتی سے چھٹکارہ ہے,

    پشیمان کے لیے آسودگی اور سکون پچھتاوے سے چھٹکارہ ہے,

    اور

    امیر کے لیے آسودگی اور سکون نا آسودگی اور بے سکونی سے چھٹکارہ ہے۔

    لیکن کیا یہ سب وجوہات اور ان کے ممکنہ حل خودکشی کی روک تھام کے لیے کافی ہیں؟

    نہیں, کیوں کہ میرے خیال میں ہماری آسودگی, سکون, دولت یا قیمتی متاع کی تعریفات سراسر غیر معنوی اور وجود حقیقی اور عارضی ہیں اس لیے لیکن انسان خودکشی پر آمادہ ان مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے جن کی تعریفات معنوی اور وجود غیر حقیقی ہے۔

    کیسے؟

    وہ ایسے کہ آپ مثال کے طور پر سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کو ہی لے لیں۔

    کیا وہ غریب, مفلس, عاشق, مقروض, مجرم, بھوکا, طالبعلم, بے عزت, پشیمان یا بے سکون تھا؟

    ہوسکتا ہے وہ ان میں سے کچھ بھی نہ ہو اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ وہ ان مذکورہ عنوانات میں سے ایک یا ایک سے زائد عنوانات کا حامل ہو پر اس کی خبر خود سوشانت اور سوائے اللہ کے کسی کو نہ ہو اور اسے ڈر ہو کہ اس کا راز کھل نہ جائے یا پھر اس کے نزدیک سکون اور آسودگی کی تعریف وہ نہ ہو جو عمومی طور پر دنیا میں رائج ہے جیسے کہ دولت, شہرت, عزت اور آزادی و خودمختاری۔ ۔ ۔

    پھر کیا وجہ ہوسکتی ہے؟

    پھر یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ جنت کے تمام مزے بھی کسی انسان کو اللہ اس فانی زندگی میں اسی دنیا میں مہیا کردے تب بھی اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھی تشنگی, ہوس اور حرص کو ایک وجہ بنادیا ہے کہ انسان کو جنت بھی فانی زندگی کے ساتھ زیادہ دن خوش اور مائل بہ زندگی اور آسودہ و پرسکون نہیں رکھ سکتی لہذا قیمتی اور اہم کسی انسان کے سکون اور آسودگی کے لیے دولت, شہرت اور عزت نہیں بلکہ وہ شہ, انسان یا عقیدہ و تظریہ ہے جس کی کسی انسان کو سب کچھ ہوکر بھی چاہ ہو لیکن وہ حاصل نہ کرپائے اپنی تمام تر کوششوں اور طاقت کے باوجود۔

    مجھے سوشانت سمیت کسی امیر غریب کی خودکشی پر رتی برابر افسوس نہیں ہوتا کہ میرے نزدیک خودکشی ویسے تو مذہبی و قانونی جواز کے ساتھ بھی قابل نفرت ہے پر ذاتی وجوہات میں مجھے خودکشی ایک چڑانے والا اور مایوسی والا فعل لگتا ہے۔

    چڑانے والا فعل اس لیے کہ جو انسان خودکشی کرتا ہے وہ دراصل اللہ کی طرف سے آئی مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنے کے بجائے اپنی جان لیکر اپنی جان چھڑاتا ہے اور اللہ و اللہ والوں کو چڑاتا ہے کہ لو مجھ سے نہیں ہوتا صبر اور شکر تو میں چلا جو بگاڑنا ہے بگاڑ لو مجھے کیا؟

    اور مایوسی والا اس لیے کہ جو انسان خودکشی کرتا ہے وہ اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں سے خود تو مایوس ہوکر چلتا بنتا ہے پر ساتھ ہی معاشرے کو بھی مایوس, بے چین اور بے سکون کرجاتا ہےکہ کوئی اللہ نہیں اور انسان کبھی صبر اور شکر کی منزل نہیں طے کرسکتا۔

    بہرحال خودکشی بھی ریپ اور دیگر مذہبی, قانونی اور اخلاقی جرائم کی طرح ایک گناہ کبیرہ اور جرم عظیم ہے جس کی تشہیر اور اس پر افسوس اور رنجیدگی قطعی ہمیں زیب نہیں دیتی بلکہ اس کو بھی تمام گناہوں اور جرائم کی طرح ڈیل کرنا چاہیے پر اب رواج الٹے پڑگئے ہیں کہ ہم مثبت باتوں پر پردہ ڈالتے اور شرمندہ ہوتے ہیں جبکہ منفی باتوں کی تشہیر اور ان پر من پسند ردعمل دینے میں سخی ہوگئے ہیں۔

    جو بھی ہو خواہ عین وقت قیامت ہو تب بھی خودکشی کا کوئی بھی مذہبی, قانونی اور اخلاقی جواز موجود نہیں لہذا جو ایسا کرتا ہے وہ جس طرح اللہ کا مجرم ہے بلکل اسی طرح ہمارا بھی مجرم ہے اس لیے مجرموں سے ہمدردی جتا کر خود بھی ایک جرم کا ارتکاب مت کریں کیونکہ اللہ کو یہ پسند نہیں کہ جو اسے ناپسند ہے وہ ہمیں پسند ہو۔

    خوشی, آسودگی اور سکون چاہتے ہو تو امیر ہو یا غریب بس اللہ کے صابر اور شاکربندے بن جاؤ تو سب مل جائے گا ورنہ خودکشی ہی تمہارا مقدر ٹھہرے گی۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی   بقلم : فردوس جمال !!!

    اور سرفراز دھوکہ دے گیا ، خود کشی کے خلاف فلم بنانے والے نے خودکشی کر لی بقلم : فردوس جمال !!!

    سرفراز دھوکہ دے گیا

    اپنے آپ کو
    اپنی ابھرتی جوانی کو
    اپنے والدین کو
    خود سے جڑے سب رشتوں کو
    تمام تعلقات کو
    سبھی توقعات کو
    مستقبل کے خوابوں کو
    شہرت اور مقبولیت کو

    سوشانت سنگھ راجپوت
    خودکشی کر گیا
    وہ کہ جس نے خودکشی کے خلاف
    فلم میں کام کیا تھا

    سرفراز نے دھوکہ دیا
    سوشانت نے خودکشی کر ڈالی

    یہ شہرت،یہ رنگینیاں،یہ دولت
    یہ ہالی وڈ یہ بالی وڈ یہ لالی وڈ
    سب فیک،تمام فراڈ ،سبھی دھوکہ

    حقیقی سکون،دائمی خوشی،ہمیشہ کی کامیابی اللہ تعالٰی کی بندگی اور رب رحمان کے ذکر میں ہے.

    بقلم فردوس جمال !!!

  • پاکستانی عالمگیر وبا کو کیا سمجھتے ہیں؟

    پاکستانی عالمگیر وبا کو کیا سمجھتے ہیں؟

    معروف ٹی وی اینکر اور باغی ٹی وی کی رمضان اسپیشل ٹرانسمیشن کے ہوسٹ زین علی نے حال ہی میں لانچ کئے گئے گُد گُدی چینل پر پہلی ویڈیو علامگیر وبا کورونا وائرس کے متعلق اپ لوڈ کی جس میں انہوں نے دکھایا کہ ایک عام پاکستانی شہری اس وبا کو کیا سمجھتا ہے

    باغی ٹی وی :زین علی نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ گذشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پوری دنیا میں پھیلنے والی عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا لوگوں کو سماجی دوری اختیار کرنے او ر غیر ضروری گھروں سئ باہر نہ نکلنے کی تاکید کی گئی جس پر امریکہ جرمنی اٹلی چین اور دیگر ممالک نے عمل کیا لہذا وہاں یہ وبا سُکڑ کر رہ گئی؛

    لیکن جب یہ وبا پاکستان میں آیہ لوگوں کو گھروں میں رہنے سماجی دوری اختیار کرنے اور رواں سال 31 مارچ کو لاک‌ ڈاؤن نافذ کیا گیا تو لوگوں نے کہا لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہیئے یہ وبا ہے ہی نہیں کورونا کچھ نہیں یہ افواہ ہے لوگوں نے کہا کہ پاکسےتانی گورنمنٹ امریکہ سے پیسے لے رہی ہے جتنے لوگ مریں گے ڈبلیو ایچ او اتنے پیسے دے گا-

    اینکر زین علی نے عید کے موقع پر لوگوں کی شاپنگ کے حوالے سے رش پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر بازاروں میں رش بے حد رش تھا اوراحتیاطی اقدامات اختیار نہ کرنے کی وجہ سے آج یہ وبا بہت زیادہ پھیل چُکی ہے-

    زین علی نے اپنی ویڈیو میں باغی ٹی وی میں کام کرنے والے احسن قاسم کو عوامی نمائندے کے طور پر بُلایا جنہوں نے زین علی کے کورونا کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے مزاحیہ اور کورونا کے بارے میں عوام کے خیالات کے مطابق جوابات دیئے-

    زین علی نے عوامی نمائندے سے پوچھا کورونا کیا ہے آپ کورونا کے بارے میں کیا جانتے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ کیا ہے کورونا آپ کو ہے کرونا مجھے ہے کرونا سوشل میڈیا لڑکیوں سے بھرا پڑا ہے جو کہےی ہیں کرونا کرونا اور گھر میں عورتیں کہہ رہیں ہیں لاک ڈاؤن کو بند بھی کرونا -اینکر زین علی نے کہا وہ کرونا نہیں وبا کرونا جو چین سے آیا اور تیزی سے وائرل ہو گیا جس نے ہزاروں جانیں لے لیں-

    احمد قاسم عوامی نمائندے نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ آپ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح سٹیٹمینٹس نہ دیں اکورونا چین سے آیا ادھر سے آیا اُدھر سے آیا جبکہ ابھی تک کورونا کو خود نہیں پتہ میں آیاور کہاں پہنچ گیا ہوں ا کہاں سے ہوں زین علی نے پوچھا کورونا ہے یا نہیں جس پر احمد قاسم نے کہا کہاں پر ہے آپکو پتہ ہے کونسا کا کورونا ہے آپ بتاؤ کونسا کورونا ہے جس پر میزبان نے کہا کورونا سے لوگ مر رہے ہیں ہسپتال بھرے پڑے ہیں لیکن لوگ کہتے ہیں کورونا کچھ نہیں ہے یہ حکومت کا ڈرامہ ہے-

    ماسک کے بارے میں بات کرتے ہوئے میزبان نے کہا ماسک لگائیں ورنہ حکومت جُرمانہ جر دے گی جس پر عوامی نمائندے نے کہا حکومت جۃرمانہ کب نہیں کرتی حکومت کو تو موقع چاہیئے جُرمانے کرنے کا ہم جیسی غریب عوام پرہیلمٹ پر موٹر سائیکل کے دھوئیں مارنے پر جُرمانہ اب ماسک پر بھی کردے اور ویسے بھی ہمرا وزیراعظم ماسک نہیں پہنتا تو ہم کیوں پہنیں-کیا پہلے ڈینگی سے اور پولیو سے لوگ نہیں مرتے تھے-

    ویڈیو میں میزبان زین علی نے کورونا سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا پیغام دیا جبکہ عوامی نمائندے نے کہا آپ نے کورونا کو وائرس وبا اور عالمی وبا کہنے کے بعد آکر مین بیماری کہا ہم عوام کو بیماری کی سمجھ لگتی ہے لہذا اللہ تعالی ہر کسی کو بیماری سے بچائے-

    کیا ڈاکٹر زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیتے ہیں؟تحریر: احمد ندیم اعوان

  • باغی ٹی وی کی طرف سے لائیو بروڈ کاسٹ روشنی کورونا سے آگاہی سے متعلق قابل تحسین کاوش ہے  ڈاکٹر وقاص نواز

    باغی ٹی وی کی طرف سے لائیو بروڈ کاسٹ روشنی کورونا سے آگاہی سے متعلق قابل تحسین کاوش ہے ڈاکٹر وقاص نواز

    گذشتہ روز باغی ٹی وی کی جانب سے روشنی : Roshni : (کرونا سے آگاہی سے متعلق لائیوو بروڈ کاسٹ)،اہم سوالات اہم جوابات سلسلہ جاری کیا گیا جس میں ماہر ڈاکٹرز نے کورونا کے متعلق مفید معلومات بہم پہنچائیں-

    باغی ٹی وی : گذشتہ روزمعروف سوشل میڈیا باغی ٹی وی چینل کی طرف سے کورونا وائرس کی تباہ کاریوں اوراس سے بچنے کے حوالے سے ایک لائیوبروڈکاسٹ پروگرام جاری کیا گیا جس میں لوگوں کی طرف سے کورونا کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات امریکہ سے ڈاکٹر وقاص نواز نے مدلل جوابات دیئے، ان کے ساتھ ایک اورماہر ڈاکٹراویس قریشی اور خاتون ڈاکٹرمیشا اقبال نے بھی صارفین کے سوالوں کے جوابات دیئے-


    باغی ٹی وی کی جانب سے شروع کئے جانے والے اس پروگرام کے حوالے سے سماجی رابطے کی وہب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں امریکہ میں مونٹی فور ہاسپٹل میں اپنی خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹر وقاص نواز کا کہنا ہے کہ باغی ٹی وی کا یہ قدم روشنی: کورونا کے بارے میں آگاہی مہم ایک اچھی کاوش ہے-

    واضح رہے کہ باغی ٹی ونے کورونا کے آگہی پیغام کو پھیلانے کے لئے روشنی عنوان کے نام سے پروگرام شروع کیا ہے جس کے میزبان انجینئراقبال خالد ہیں-

    باغی ٹی وی کیطرف سے روشنی : Roshni : (کرونا سے آگاہی سے متعلق لائیوو بروڈ کاسٹ)،اہم سوالات اہم جوابات سلسلہ جاری

  • فلم بنچ کا ٹریلر ریلیز

    فلم بنچ کا ٹریلر ریلیز

    تمباکو نوشی کے آگاہی پیغام کے موضوع پر بنائی گئی فلم بنچ کا پہلا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تمباکو نوشی کے صحت پر نقصانات کے موضوع پر بنائی گئی فلم بنچ کا پہلا ٹریلر چند روز قبل جاری کر دیا گیا ہے-ٹریلر میں اداکارہ ربعیہ ایک دوکان سے سگریٹ خریدنے جاتی ہیں تو دوکاندار ان سے مختلف سوالات شروع کر دیتا ہے جس پر بعد میں اداکارہ تمباکو نوشی کے نقصانات اور معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں آگاہی پیغام دیتی دکھائی دہتی ہیں-

    اس ٹریلر کو لوگوں کی طرف سے کافی پسند کیا جا رہا ہے اسے اب تک اور لوگوں کا اس موضوع پر فلم بننے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ وہ بے چینی سے اس فلم کی ریلیز کا انتظار کر رہے ہیں-

    فلم جلد ہی ڈیجیٹل میں سامنے آئے گی تاہم فلم کب ریلیز کی جائے گی اس کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئے-

    اس فلم کے ڈائریکٹر عثمان مختار اور مصنف علی مدثر ہیں-

  • معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری اور فواد خان کا نام جنوبی ایشیا کے5 بہترین اسٹائل آئکن کی فہرست میں شامل

    معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری اور فواد خان کا نام جنوبی ایشیا کے5 بہترین اسٹائل آئکن کی فہرست میں شامل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے پُرکشش اور خوبرواداکار فواد خان اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا نام جنوبی ایشیا کے 5 بہترین اسٹائل آئکن میں شامل کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : زلفی بخاری نے اپنے انسٹا گرم پر ایک پوسٹ میں زلفی بخاری ،فواد کان، رز احمد، ویرات کوہلی اور رنویر سنگھ کی تصاویر شئیر کیں جس میں انہیں ’ایشین اسٹائل میگزین‘ نے جنوبی ایشیا کے 5 بہترین ملبوسات زیب تن کرنے والے مرد (اسٹائل آئکن) کی فہرست میں نامزد کیا گیا ہے تصویر شئیر کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اوور سیز پاکستانی نے میگزین کا اس اعزاز کے لئے شکریہ ادا کیا-
    https://www.instagram.com/p/CBaVCYqhpTN/?igshid=qbuondv8sqxl
    حال ہی میں برطانیہ سے شائع ہونے والے ’ایشین اسٹائل میگزین‘ نے جنوبی ایشیا کے 5 بہترین ملبوسات زیب تن کرنے والے مرد (اسٹائل آئکن) کی فہرست جاری کی ہے جس میں اداکار فواد خان اور معاون خصوصی برائے اوور سیز زلفی بخاری اور فواد خان سمیت پاکستان کے تین اور بھارت کے دو نام شامل ہیں۔

    فواد خان نے اپنی پرکشش شخصیت سے نہ صرف پاکستانیوں کو بلکہ سرحد پار مداحوں کو بھی دیوانہ بنایا ہوا ہے۔ حال ہی میں ٹی سی کینڈلراور انڈیپینڈنٹ کرٹکس ویب سائٹس کی جانب سے فواد خان کا نام دنیا کے 100 پرکشش چہروں کے لیے نامزد ہوا ہے اور اب ان کا نام ایشین اسٹائل میگزین کی جانب سے جنوبی ایشیا کے 5 اسٹائل آئکن میں شامل کیا گیا ہے۔

    فہرست میں دوسرا نام پاکستانی سیاستدان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری کا ہے۔ انہیں ان کے بہترین اسٹائل کی وجہ سے فہرست میں جگہ دی گئی ہے۔ میگزین کے مطابق زلفی بخاری مشرقی اور مغربی لباس کو بہترین انداز میں زیب تن کرتے ہیں۔ زلفی بخاری کی بدولت پاکستانی سیاستدانوں کے لیے نیاٹرینڈ دیکھا گیا ہے-

    فہرست میں تیسرے نمبر پر پاکستانی نژاد برطانوی ہالی وڈ اداکار رضوان احمد جنہیں بین الاقوامی طور پر رزاحمد کے نام سے جانا جاتا ہے کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔

    اس کے بعد فہرست میں چوتھا اور پانچواں نام بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی اور اداکار رنویر سنگھ کا ہے-

    عمران عباس 2020 کے 100خوبصورت چہروں کے مقابلے کی فہرست میں شامل

    فواد خان 2020 کے 100خوبصورت چہروں کے مقابلے کی فہرست میں شامل

  • بھارتی اداکار سوشانت سنگھ  راجپوت نے خودکشی کر لی

    بھارتی اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی

    بھارتی معروف اداکار سوشانت سنگھ راجپوت نے ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کر کے موت کو گلے لگا لیا-

    باغی ٹی وی : بالی ووڈ نے ایک اور اداکار کو کھو دیا ہے کیونکہ بھارتی میڈیا رپورٹ دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سوشانت سنگھ راجپوت نے ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کی ہے۔ 34 سالہ سشانت سنگھ راجپوت کی پھندہ لگی لاش ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں ان کی رہائش گاہ سے ملی۔ اگرچہ انڈسٹری اپریل میں واجد خان ،عرفان خان اور رشی کپور کے انتقال کے صدمے سے دوچار ہے ، بالی ووڈ کو اب ایک اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب 34 سالہ اداکار سوشانت سنگھ نے موت کو گلے لگا لیا-

    سوشانت سنگھ راجپوت نے 2013 میں فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا، انہوں نے اب تک محض ایک درجن فلموں میں ہی کام کیا تھا

    اداکار کی آخری ریلیز ‘چھچھورے’ تھی ، جو 2019 میں ریلیز کی گئی تھی انہوں نے فلم میں شردھا کپور کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا تھا ، جو باکس آفس پر بڑے پیمانے پر بلاک بسٹر کے طور

    پر سامنے آئی تھی۔ اداکار کے بارے میں افواہیں گردش مین تھیں کہ وہ ریا کپور کے ساتھ تعلقات میں ہیں اور اس جوڑے کو اکثر شہر کے آس پاس کے پاپرازی میں کئی بار اکٹھے دیکھا گیا تھا۔

    سوشانت سنگھ راجپوت نے ایک ٹی وی شو سے شہرت حاصل کی اور فلموں میں کامیاب ڈیبیو کیا۔ انہوں نے بالی ووڈ میں پہلی بار ‘کائی پو چے!’ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ 2012 میں اور ‘پی کے’ اور ‘کیدارناتھ’ جیسی بڑی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ آج تک ان کی سب سے بڑی ہٹ ‘ایم ایس دھونی: دی انٹولڈ اسٹوری’ فلمیں ہیں ۔

    علاوہ ازیں ، سوشانت ہدایتکار مکیش چھبرا کی فلم ‘دل بیچارا’ میں سنجنا سنگھی کے ساتھ نظر آئے تھے۔ یہ فلم ہالی ووڈ کی کامیاب فلم ‘دی فالٹ ان ہمارے اسٹارز’ کا آفیشل ریمیک تھی۔
    https://www.instagram.com/p/CA-S3cIDWOx/?igshid=14bo1nzqnnijs
    سوشانت سنگھ راجپوت کی رواں ماہ 3 جون 2020 کی آخری انسٹاگرام پوسٹ ان کی والدہ کے لئے تھی۔ ، "انہوں نے اپنی والدہ کی ایک تصویر شیئر کی اور لکھا ،” دھندلا ہوا ماضی آنسووں سے پھوٹ رہا ہے مسکراہٹ کا ایک آرک کھڑے ہوئے خوابوں کا خاتمہ اور ایک زندہ زندگی ، دونوں کے درمیان بات چیت

    واضح رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں ا موسیقار و اداکار واجد علی 43 سال کی عمر میں کورونا کی وجہ سے انتقال کر گئے- جبکہ مئی کے آخر میں دو سینئیر اداکار رشی کپور اور عرفان خان بھی چل بسے تھے-

    بالی وڈ کے معروف میوزک ڈائریکٹر کرونا کی وجہ سے جاں بحق

    ایک اور بھارتی اداکار رشی کپور چل بسے

    عرفان خان کے انتقال پر پاکستانی فنکاروں کا افسوس کا اظہار

  • پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    پلازمہ پر کمیشن مانگنے والا اللہ کی رحمت پر دلالی کرتا ہے ، ڈاکٹر وقاص نواز

    ایک مریض کو جب منع کیا کہ کرونا سے ٹھیک ہونے کے بعد پلازما کیلئے کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پانچ پانچ لاکھ کی تجارت نہ کرے تو اس نے ” یہاں یہی دستور ہے ” کہہ کر بات سنی ان سنی کردی – پلازما دینے سے پہلے لازمی ہوتا ہے کہ ہیپاٹائٹس بی سی چیک کرایا جایے- سو جب اس نے ٹیسٹ کرایا تو ہیپاٹائٹس بی مثبت آیا – ایسا ہو تو اگلا قدم پیٹ کا الٹرا ساونڈ ہوتا ہے – جب وہ کروایا تو اس میں جگر کا سرطان (کینسر) بیٹھا انسان کی اس حسابی فطرت کا مذاق اڑا رہا تھا جس کا علاج کسی پلازمہ سے بھی ممکن نہی تھا ……..!

    الله کی رحمت سے کرونا سے ٹھیک ہونے والے لوگ جب اپنے پلازمہ پر وینٹیلیٹر پر پڑے مریضوں سے پانچ لاکھ مانگتے ہیں تو وہ کاروبار نہیں کرتے بلکہ الله کی رحمت پر کمیشن مانگ کراس کی خدائی پردلالی کرتے ہیں- یاد رکھیے ! کوئلوں کی دلالی میں بس منہ کالا ہوتا ہے لیکن اس دلالی میں روح کالی سیاہ اور دل جگر گل سڑ جاتے ہیں جس کی باس میں انسانیت کا دم گھٹتا ہے – خون میں شفا پیدا ہوئی ہے تو اس میں اس باس کی ملاوٹ نہ کیجیے – ایسا نہ ہو کہ اس کا تعفن آپ کے اپنوں کے پھیپھڑوں کا سرطان بن جایے جس کا علاج کسی پلازما سے بھی ممکن نہ ہو – کیوں کہ جس ذات نے اس خون میں شفا دی ہے وہ اس بات پر بھی قادر مطلق تھی کہ آپ آج "بروکر”کی کرسی پر نہیں بلکہ "وینٹیلیٹر” پر پڑے ہوتے اور آپ کے گھر والے اسی پلازمہ کیلئے جگہ جگہ رل رہے ہوتے –

    #قلم کی جسارت وقاص نواز 399

  • لداخ پینگانگ جھیل پر بھارت کا آخری بوسہ، اب اس پر چین کا قبضہ ہے

    لداخ پینگانگ جھیل پر بھارت کا آخری بوسہ، اب اس پر چین کا قبضہ ہے

    عامر خان اور کرینہ کپور کی بلاک بسٹر اور مشہور زمانہ بھارتی فلم "تھری ایڈیٹ” کے آخری کلائمکس سین لداخ میں پینگانگ جھیل پر فلمائے گئے تھے جہاں کرینہ کپور عامر خان سے ملتی ہے. اس جھیل پر انڈیا اور چین کا تنازعہ ہے. اب اس جھیل پر چین کا قبضہ ہے.

    باغی ٹی وی : عامر خان اور کرینہ کپور کی بلاک بسٹر اور مشہور زمانہ بھارتی فلم "تھری ایڈیٹ” کے آخری کلائمکس سین لداخ میں پینگانگ جھیل پر فلمائے گئے تھے جہاں کرینہ کپور عامر خان سے ملتی ہے.اور اس جھیل پر ان کے ملنے اور بوسہ دینے کو پاکستانی ٹویٹر صارفین نے بھارت کا آخری قرار دیا کیونکہ اس جھیل پر انڈیا اور چین کا تنازع ہے اور جھیل پر چین کا قبضہ ہے-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر محمد بلال خان نامی صارف نے عامر خان اور کرینہ کپور کی فلن تھری ایڈیٹ کے لداخ میں پیگانگ جھیل پر آخری کلائمکس سین کی تصویر شئیر کرتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا کہ تاریخ میں اس چومی کو یاد رکھا جائے گا یہ کرینہ کپور اور عامر خان کی اور انڈیا کی آخری چومی ہے کیوں کے جس جگہ پر یہ چومی لی گئی ہے اب وہ چائنہ کے قبضے میں ہے..

    بلال خان نامی صارف کی اس ٹویٹ پر صارفین نے دلچسپ اور مزاحیہ تبصرے کئے-


    ایک صارف نے بالی وڈ فنکاروں کو مزاح کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ اب تھری ایڈیت کا اگلا حصہ کہاں بنے گا یہ سوچنے والی بات ہے…؟انڈیا نے بد لہ لینے کے سلمان اجے سنجے جون کو ہائر تو کر لیا ہے….اب چین اور پا کستان بچ نہیں سکتے-
    https://twitter.com/KhattakAsjad/status/1272006535275851777?s=20
    خٹک نامی صارف نے لکھا کہ اصل میں ان کے ساتھ اصل مسئلہ یہی ہے۔ اب ان کے پاس اپنی فلموں میں دکھانے کے لئے یہ جھیل نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 5 اور 6 مئی کو ‏لداخ میں چین نے بھارت کو ناکوں چنے چبوا ئے تھے، متعدد فوجی گرفتار، اکثر نے بھاگ کر جان بچائیتھی ،اطلاعات کے مطابق لداخ اور سکم کی سرحد پر چینی فوج کی نقل و حرکت سے بھارت کے ہاتھ پاؤں اس وقت پھول گئے تھے جب چین نے لداخ پر قبضہ کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں کو گرفتار کیا تھا ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چینی فوج زیر زمین بنکرز بنانے مصروف ہے اس د وران کچھ بھارتی فوجیوں کو گرفتارکرلیا تھا جبکہ بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں نے بھاک کرجان بچائی تھی-

    چین‘ بھارت سرحدی جھڑپیں تحریر:عدنان عادل

  • واہیات ڈرامے ٹویٹر پر ٹرینڈنگ میں کیوں؟

    واہیات ڈرامے ٹویٹر پر ٹرینڈنگ میں کیوں؟

    تُرک ڈرامہ ارطغرل غازی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے منہ پر طمانچہ ہے :ٹویٹر صارفین

    باغی ٹی وی:مسلمانوں کی تیرھویں صدی کی اسلامی فتوحات پر مبنی تُرک ڈرامے ارطغرل غازی کو اردو میں ڈب کر کے پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر نشر یکم رمضان المبارک سے نشر کیا جا رہا ہے اس ڈرامے کو پاکستانیوں کے کونٹینٹ میوزک ڈائیلاگز اور کاسٹ نے اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے کچھ پاکستانی فنکاروں نے اس کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی وی کو تنقید کا نشانہ بنایا جس پرارطغرل ڈرامے کے پاکستانی مداحوں نے شدید رد عمل دیااور ان تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور پاکستانی ڈراموں اور ان کے کونٹینٹ پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور یہاں تک کہ پاکستان ٹویٹر پینل پر واہیات ڈرامے کے نام کا ٹرینڈ چلایا گیا-
    https://twitter.com/junaidsalim_/status/1270779229106511874?s=20
    پاکستان میں چلائے جانے والے ڈراموں کی کہانیوں پر نہ صرف عوام بلکہ معروف شخصیات بھی تنقید کر رہی ہیں -چند روز قبل نجی ٹی وی چینل کے مقبول ٹاک شو حسب حال کے معروف میزبان جنید سلیم نے ان اعتراضات کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ ابھی ایک ڈرامے کا ٹیزر دیکھا جس میں بہنوئی سے محبت جیسے قابلِ اعتراض موضوع پر ڈرامہ بنایا گیا اور انکو اعتراض ارطغرل ڈرامے پر ہے کہ ہم اپنا کلچر دکھائیں گے کیا یہ ہمارا کلچر ہے کہ سالی اپنے بہنوئی کے ساتھ عشق لڑائے؟

    https://twitter.com/tehreemmejaz/status/1271852649407811585?s=20
    تحریم خواجہ نامی صارف نے ہم ٹی وی پر نشر ہونے والے ہانیہ عامر کے ڈرامے کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ آج کل یہ ڈرامہ ہم ٹی وی پر چل رہا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک عورت اپنی شادی سے پہلے چار مردوں کے ساتھ تعلقات رکھتی ہے – جیسے سنجیدگی سے آپ اپنے چینلز پر کیا دکھا رہے ہیں؟ وہ سب اپنے سستے مواد سے خواتین کو بدنام کررہے ہیں !!


    سی عمار حسین نے مہوش حیات کی شو میں پرفارم کرنے کی تصاویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان (اسلام کے نام پر بنایا گیا) ڈرامے اور ایوارڈ شو میں کیا دکھا یا جا رہاہے -عصمت دری ، ایذا رسانی ، ذلت ، طلاق ، شادی کے دوران دوسرے مرد / عورت سے پیار کرنا ، مکانات برباد کرنا ، غداری کرنا۔ اور کیا؟


    سرتاج وزیر نامی صارف نے نئے آنے والے ڈرامے جلن کی تصویر شئیر کی جس میں بہن بہنوئی پر فدا ہے صارف نے لکھا کہ عشقیہ ڈرامے میں بہنوئی سالی پر فدا ہے اور دیوانگی ڈرامے میں باس اپنے آفس میں کام کرنے والے کی بیوی پر فدا ہے جبکہ ہیار کے صدقے ڈرامے میں سُسر بہو پر فدا ہے صارف نے ارطغرل پر تنقید کرنے والوں کو طنزیہ لکھا کہ واقعی ارطغرل پاکستان کا کلچر خراب نہیں کر رہا بلکہ تباہ برباد کررہا ہے

    سرتاج نامی‌ صارف نے ان ڈراموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ شریعت سے بالاتر ہوکر بات کریں کہ یہ بھی سب ڈرامے ہماری اخلاقیات ، ہمارے کلچر اور ہمارے اصولوں کو تباہ کررہے ہیں ….! پھر یہ سب پاکستان میں کیوں ہورہا ہے اور میڈیا ، پڑھے لکھے لوگوں اور حتی حکومت کے ذریعہ بھی ان کی حمایت کی جارہی ہے؟ان سب پر فوری پابندی لگائیں ….!#حرام


    ایک صارف نے پاکستانی ڈرامہ سیریل عہد وفا اور ارطغرل ڈرامے کا ایک کلپ شئیر کیا جس میں عہد وفا کے مرکزی کردار علماء پر مزاحیہ فقرے بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ارطغرل میں علماء کے خلاف بولنے کو مرکزی کردار ارطغرل سزا دے رہا ہے اور علامء کے لئے عزت و احترام کے الفاظ کہہ رہا ہے یہ ویڈیو کلپ شئیر کرتے ہوئے صارف نے لکھا کہ ہم ترک ڈرامہ کی حمایت کیوں کرتے ہیں۔
    بہت زیادہ فرق ہے ان کے اور ہمارے ڈراموں میں وہ فرق جاننے کے لئے یہ ویڈیو دیکھیں-
    https://twitter.com/shahfai69369961/status/1271851399190581248?s=20
    شاہ فیصل نامی صارف نے تُرک ڈرامے کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ترک ڈراموں ارطغرل غازی نے نوجوان نسل کے دل جیت لئے ہیں ، انہوں نے ثابت کردیا کہ ہمیں فحش ڈرامے نہیں بلکہ اسلامی ڈرامے پسند ہیں۔
    https://twitter.com/JKhaqsar/status/1271839296912269313?s=20
    جلال خان نامی صارف نے لکھا کہ کیونکہ پاکستان میں بکواس ڈرامہ بن رہا ہے اپنی بہن کے شوہر سے محبت کرتی ہے شادی شدہ عورت کا معاملہ ڈراموں میں بکواس تخلیق کی جارہی ہے جو معمولی لوگ دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم مسلمانوں اور غیر مسلموں میں کوئی فرق نہیں ہوگا


    ایم دلشاد آریا نامی صارف نے ارطغرل پر تنقید کرنے والے اداکاروں کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان اداکار اور دیسی لبرل کیوں ارطغرل غازی ڈرامے کے خلاف ہیں لیکن بالی ووڈ فلموں کی حمایت کرتے ہیں جاننے کے لئے ویڈیو دیکھئیے.


    عمیر گوندل نامی صارف نے لکھا کہ میں پاکستانی ڈراموں کے خلاف نہیں ہوں لیکن مسئلہ اس میں دکھائے جانے والے مواد کا ہے ، جسے روکنا ہوگا۔ ترکی سیریز دیریلیش ارطغرل نے ہمارے دل جیت لئے کہ اسلام کا ایک بہت بڑا پیغام ہے۔
    https://twitter.com/FatimaZahra1472/status/1272028986063892481?s=20
    فاطمہ زاہرہ نامی صارف نے پاکستان انڈسٹری کے موجودہ حالات کی منظر کشی کرتی ایک تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ حقیقت ..سچی لیکن تکلیف دہ حقیقت-
    https://twitter.com/mqa_ds/status/1271830824040660995?s=20
    مقدس نامی صارف نے میرے پاس تم ہو ڈرامے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس ڈرامے نے اتنی شہرت کیوں حاصل کی؟ یہ کہانی مکمل طور پر ایک دھونس ہے اور میں نے اس سے مثبت کا ایک لفظ بھی نہیں سیکھا کیا آپ اس سے کچھ سیکھتے ہیں جو حقیقت کی بنیاد ہے-
    https://twitter.com/Muneebyousaf/status/1271966104110411780?s=20
    منیب یوسف نامی صارف نے لکھا کہ ارطغرل ہمارے میڈیا انڈسٹری کے چہرے پر ایک طمانچہ ہے!
    https://twitter.com/JKhaqsar/status/1271838513529606145?s=20
    جلال خان نامی صارف نے پاکستانی ڈراموں کی فہرست کیایک تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ میڈیا ایک طاقتور ٹول ہے جس سے نوجوانوں کے ذہنوں پر مثبت اور منفی دونوں ہی اثرات پڑتے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جب نوجوان ہر چیز سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں ، وہ فورا ہی اس کی طرف راغب ہوجاتے ہیں جو ان کے ذہن میں ہوتا ہے ، اور وہ ہر چیز کو بہت جلد قبول کرتے ہیں۔


    عمیر نامی صارف نے جلن ڈرامے کی تصویر شئیر کرتے ہوئے پیمرا سے مطالبہ کیا کہ پیمرا کو اس قسم کے ڈراموں پر پابندی عائد کرنی چاہیئے-
    https://twitter.com/SaqibMuhammadH1/status/1271852190198575104?s=20
    ثاقب محمد حنیف نامی صارف نے ارطغرل اور حمزہ علی عباسی کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان میں بہت سے ہیرو ہیں جو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں لیکن ہمارے لیڈر رشوت خور ہیں-

    ابھی ایک ڈرامے کا ٹیزر دیکھا ، بہنوئی سے محبت جیسے قابلِ اعتراض موضوع پر بنایا گیا اور انکو اعتراض ارطغرل پر ہے، جنید سلیم

    ابھی ایک ڈرامے کا ٹیزر دیکھا ، بہنوئی سے محبت جیسے قابلِ اعتراض موضوع پر بنایا گیا اور انکو اعتراض ارطغرل پر ہے، جنید سلیم

    ہمیں اپنی تاریخ اور ہیروز کو تلاش کرنا چاہیئے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر شان شاہد کی تنقید

    حمزہ علی عباسی بھی ترک ڈرامے ارطغرل غازی کے مداحوں میں شامل

    ارطغرل لوگوں کی سوچ میں تبدیلی لانے کا سبب بنے گا ؛ شاہیر سیالوی