Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • لیجنڈری اداکارہ صبیحہ خانم  انتقال کر گئیں

    لیجنڈری اداکارہ صبیحہ خانم انتقال کر گئیں

    پاکستان فلم انڈسٹری کی سینئر اور لیجنڈری اداکارہ صبیحہ خانم امریکہ میں انتقال کرگئیں-

    باغی ٹی وی : پاکستان فلم انڈسٹری کی سینئر اور لیجنڈری اداکارہ صبیحہ خانم امریکہ میں انتقال کرگئیں-خاندانی ذرائع کے مطابق اداکارہ بلڈ پریشر، شوگر اور گردوں سمیت کئی بیماریوں میں مبتلا تھیں-

    اداکارہ صبیحہ خانم 16 اکتوبر 1935 کو گجرات میں پیدا ہوئیں، انہوں نے 50 اور 60 کی دہائی میں پاکستانی سینما پر اپنی جاندار اداکاری اور دلکش اداؤں کی بناء پر فلم انڈسٹری اور مداحوں کے دلوں پرراج کیا۔

    لیجنڈری اداکارہ نے کنیز، مکھڑا، انوکھا، تہذیب اور دیگر فلموں میں اداکاری کی انہیں بہترین اداکاری پر تمغہ حسن کارکردگی بھی دیا گیا۔

    اداکارہ صبیحہ خانم کی نواسی سحرش خان نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے سحرش خان کے مطابق صبیحہ خانم کا انتقال ہفتے کی صبح ورجینیا میں ہوا۔

  • رواں سال تاریخی سورج گرہن کب ہوگا اور پاکستان میں کن کن شہروں میں دیکھا جائے گا  از:ظفر مسعود انصاری

    رواں سال تاریخی سورج گرہن کب ہوگا اور پاکستان میں کن کن شہروں میں دیکھا جائے گا از:ظفر مسعود انصاری

    HISTORICAL SOLAR ECLIPSE IN PAKISTAN:
    #تاریخی سورج گرہن #دن میں رات کاسماء:
    🔴 آج سے ٹھیک 11 دن بعد 21 جون کو صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے کے درمیان پاکستان میں تاریخی سورج گرہن متوقع ہے۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں دن میں مغرب جیسا سماء ہو جائے گا۔ اس بار سورج گرہن 26 دسمبر 2019 والے کے مقابلے زیادہ گہرا ہوگا۔

    ◾سب سے زیادہ سورج گرہن بلوچستان کے ساحلی علاقوں، شمالی سندھ اور جنوبی پنجاب میں دیکھا جا سکے گا جہاں 95-100 فیصد تک سورج کا حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور مغرب/رات جیسا سماء ہوگا۔ پاکستان کے باقی تمام علاقوں میں اس دوران سورج 75-90 فیصد چاند کے پیچھے ڈھک جائے گا اور 1999 والے گہن کے بعد یہ سب سے تگڑا سورج گہن ہوگا۔

    #کراچی میں سورج_گرہن:
    🔴 کراچی میں سورج گرہن کی شروعات 21 جون کی صبح 9:29AM سے ہوگی جبکہ سب سے زیادہ گہن صبح 10:59AM پر لگے گا جب سورج کا %92 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن میں مغرب جیسا سماء بندھ جائے گا۔ اس والے سورج گرہن میں کراچی میں اندھیرا 26 دسمبر 2019 والے گہن کے مقابلے کافی زیادہ ہوگا۔ سورج گرہن کا کراچی میں اختتام دوپہر 12:36PM پر ہوگا۔

    #لاہورمیں سورج_گرہن:
    🔴 لاہور میں سورج گرہن کی ابتداء صبح 9:48AM پر ہوگی جبکہ صبح 11:26AM پر سب سے زیادہ گہن لگے گا، اس دوران سورج کا %91 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔ سورج گرہن کا اختتام دوپہر 1:10PM پر ہوگا۔

    #پاکستان کےباقی شہروں کی_تفصیلات:
    ♦️ پاکستان کے باقی بڑے شہروں میں کتنے فیصد سورج گرہن ہوگا اور کس وقت سب سے زیادہ گہن ہوگا اسکی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔

    🔷 Gawadar: 98.5% (Peak Time 10:48AM)
    🔷 Larkana: 98.7% (Peak Time 11:05AM)
    🔷 Sukkur: 98.7% (Peak Time 11:07AM)
    🔷 Bahawalpur: 96.6% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Rahimyarkhan: 98.6% (Peak Time 11:12AM)
    🔷 Khuzdar: 96.0% (Peak Time 11:02AM)
    🔷 Nawabshah: 94.5% (Peak Time 11:04AM)
    🔷 Multan: 93.4% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Hyderabad: 91.4% (Peak Time 11:03AM)
    🔷 Faisalabad: 90.6% (Peak Time 11:22AM)
    🔷 Quetta: 87.9% (Peak Time 11:06AM)
    🔷 Sialkot: 87.9% (Peak Time 11:27AM)
    🔷 DI Khan: 86.6% (Peak Time 11:17AM)
    🔷 Islamabad: 82% (Peak Time 11:25AM)
    🔷 Muzzafarabad: 79.9% ( Peak Time 11:26AM)
    🔷 Peshawar: 79.4% (Peak Time 11:21AM)
    🔷 Gilgit: 74.8% (Peak Time 11:32AM)

    #ضروری_احکامات:
    ◾مکمل سورج گرہن یا 70 فیصد سے اوپر سورج گرہن کی وجہ سے درجہِ حرارت ایک دم کم ہو جاتا ہے۔

    ◾سورج گرہن کے دوران سورج کی طرف بغیر کسی فلٹر والے چشمے کے بغیر دیکھنے سے انسان ہمیشہ کے لئے اندھا ہو سکتا ہے۔ اسلئے اس دوران سورج کی طرف نہ دیکھیں۔

    ◾عام سن گلاسز/Sun Glasses کا استمعال سورج گرہن کے دوران سورج سے نکلنے والی ریڈی ایشن/تابکاری/Radiation سے آپکی آنکھوں کو محفوظ نہیں رکھے گا! غلطی سے بھی ایسا نہیں کریئے گا کہ سن گلاسز پہن کر سورج گرہن دیکھنے لگ جائیں۔

    ◾سنت اور قرآن کے مطابق مسلمان سورج گرہن کے دوران اللہ پاک سے گناہوں کی توبہ کریں اور "نماز کسوف” ادا کریں، یہ وہ نماز ہوتی ہے جو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہِ وسلم سورج گرہن کے وقت پڑھتے تھے۔

    نماز کسوف پڑھنے کا طریقہ:
    سورج گہن کی نماز سنت موکدہ ہے-دو رکعت نماز باجماعت پڑھنا مستحب ہے بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو-الگ الگ بھی نماز پڑھ سکتے ہیں-بہرحال قرات آہستہ ہو گی-حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سےمروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں آفتاب میں گہن لگا تو آپ نے نما زپڑھی جس میں سورۃ بقرہ جتنا لمبا قیام کیااور اسی طرح رکوع و سجود لمبا کیاپھر فرمایا سورج یا چاند گہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا لہذا جب تم ایسا دیکھو تو خدا کا ذکر کرو اوع دعا و استغفا ر میں مشغول ہو جاؤ-
    منقول
    والسلام ظفر مسعود انصاری

  • راحت فتح علی خان کا دعائیہ  کلام’اے خدا ہمیں بخش دے‘ ریلیز

    راحت فتح علی خان کا دعائیہ کلام’اے خدا ہمیں بخش دے‘ ریلیز

    پاکستانی عالمی شہرت یافتہ معروف گلوکار و موسیقار راحت فتح علی خان نے دعائیہ کلام’اے خدا ہمیں بخش دے‘ ریلیز کردیا۔

    باغی ٹی وی : راحت فتح علی خان نے ’اے خدا ہمیں بخش دے‘ کلام کے عنوان سے جاری کیے گئے دعائیہ کلام میں کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کے بعد دنیا بھر میں ہونے والی اموات اور پریشانیوں کو تصاویر کی صورت میں دکھایا ہے۔

    دعائیہ کلام میں جہاں راحت فتح علی خان کو کلام پڑھتے دکھایا گیا ہے، وہیں خانہ کعبہ سمیت دیگر مذہبی مقامات کی تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں، ساتھ ہی کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر والی لوگوں کی تصاویر کو بھی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے۔

    ’اے خدا ہمیں بخش دے‘ کی شاعری قمر ناشاد نے لکھی ہے جب کہ نوید ناشاد نے کمپوز کیا ہے کلام کو سلمان احمد نے پروڈیوس کیا ہے اور ویڈیو کی ہدایات سلیم احمد خان نے دی ہیں، گانے کو گزشتہ روز راحت فتح علی خان کے یوٹیوب چینل سمیت دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر ریلیز کیا گیا۔
    https://www.youtube.com/watch?v=l9P3FcWtgJc&feature=youtu.be
    راحت فتح علی خان کا دعائیہ کلام سوشل میڈیا پر ریلیز ہوتے ہی وائرل ہوگیا اور لوگوں نے کلام کی تعریفیں کیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل گذشتہ ماہ مئی میں پاکستان سمیت دنیا کے 7 ممالک کے 40 فنکاروں و گلوکاروں نے’وی آر ون‘ اے خدا کے عنوان سے جاری کئے گئے گانے کو اپنی آواز کا جادو جگا کر لوگوں میں امید پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسے پاکستان کےمعروف موسیقار و گلوکار کاشان آدمانی نے کمپوز کیا تھا اور اسے پاکستان میں ڈریم اسٹیشن پروڈکشنز کے بینر تلے یوٹیوب پر جاری کیا گیا تھا۔’اے خدا‘ کی اردو شاعری صابر ظفر نے جبکہ انگریزی شاعری بابر شیخ نے لکھی تھی-

    اسکے علاوہ عالمی وبا میں عوام کا حوصلہ بلند رکھنے کیلئے پاکستان کی میوزک انڈٹسری کے متعددفنکاروں نے حکومت پاکستان کے تعاون سے گانا ریلیز کیا تھا-

    پاکستانی گلوکاروں نے کورونا وائرس پر خصوصی گانا جاری کر دیا

    کورونا وائرس: پاکستان سمیت 7 ممالک کے فنکاروں کا مشترکہ گانا ریلیز

  • فریال محمود اور گوہر رشید جلد کورونا وائرس کے پس منظر پر بننے والی فلم  ’لاک ڈاؤن ‘ میں نظر آئیں گے

    فریال محمود اور گوہر رشید جلد کورونا وائرس کے پس منظر پر بننے والی فلم ’لاک ڈاؤن ‘ میں نظر آئیں گے

    چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا کے باعث گزشتہ 4 ماہ سے دنیا بھر کے تفریحی مقامات اور مذہبی تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں سمیت فلموں کی ریلیز اور شوٹنگنز رُکنے کے ساتھ سینما ہاؤسز بھی بند ہیں –

    باغی ٹی وی: دنیا بھر کورونا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اور تمام قسم کی سرگرمیاں بند کر دیں گئیں جبکہ اب تک دنیا بھر میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔

    تاہم اسی عالمگیر وبا اور لاک ڈاؤن میں بہت ساری فلم سازوں، لکھاریوں، اداکاروں اور پروڈیوسرز اس وبا پر کام کرنے کا سوچا اور اب ہا لی وڈ اور بالی وڈ پروڈیوسرز کورونا پر فلمیں بنانے کے لئے تیار ہیں-

    دیگر فلم انڈسٹریز کی طرح پاکستانی فلم انڈسٹری بھی کورونا کی وبا کے پس منظر کی کہانی پر مشتمل فلم بنانے میں مصروف ہے۔ پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف گوہر رشید اور نامور اداکارہ فریال محمود اپنی نئی فلم ’لاک ڈاؤن ‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ فریال محمود اور اداکار گوہر کی آنے والی فلم ’لاک ڈاؤن ‘ کی کہانی کوویڈ 19 پر مبنی ہے۔

    گوہر رشید اور فریال محمود کی فلم ’لاک ڈاؤن ‘ کی کہانی ایک رومانوی جوڑے کے گرد گھومتی ہے جو عالمگیر وبا کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کی صورتحال کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق فلم ’لاک ڈاؤن‘ کی شوٹنگ کا آغاز کیا جا چکا ہے اور اس میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے جوڑے کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو دکھایا گیا ہے-

    فلم ’لاک ڈاؤن‘ کی کہانی عابدہ احمد اور ابو علیحہ نے تحریر کی ہے جبکہ فلم کے ہدایت کار ابو علیحہ ہیں۔

    اداکارہ فریال محمود نے بتایا کہ فلم ’لاک ڈاؤن‘ انٹرنیٹ پر تفریحی مواد اسٹریم کرنے والی بڑی کمپنی نیٹ فلکس یا ایمازون پرائم پر ریلیز کی جائے گی۔

    کوویڈ 19:مہوش حیات اپنی صحت کے حوالے سے افواہوں پر برہم

    حنا الطاف اور علی انصاری جلد ہی جیو کے نئے ڈرامے میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے

  • کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے  از قلم: عاقب شاہین

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے از قلم: عاقب شاہین

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تُو نے

    از قلم: عاقب شاہین

    نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ وہ دماغی و جسمانی لحاظ سے باقی عمر کے لوگوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں ، ہمت اور جذبہ اُن میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوتا ہے ، وہ ہر مشکل کا سامنا کرنے کےلیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہی قوم کے عروج اور زوال کی ڈور ہوتی ہے ۔۔۔ قوم کی ترقی کی ضمانت باحیا ،، با کردار اور با عمل شاہین صفت نوجوانوں میں ہی مضمر ہے ۔۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بھی اِسی عمر کو غنیمت سمجھنے کی تلقین فرمائی ہے ، کیونکہ بڑے بڑے معرکے اور کارنامے اسی عمر میں انجام دیے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔ حضرت عمر بن میمون رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

    پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو : جوانی کو بڑھاپے سے پہلے ، صحت کو بیماری سے پہلے ، خوش حالی کو ناداری سے پہلے ،فراغت کو مشغولیت سے پہلے ، زندگی کو موت سے پہلے ۔۔۔ ( ترمذی)
    اگر ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ نوجوان کسی قوم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نوجوانی میں ہی بُت توڑ کر اپنے آباؤاجداد کی غلط روایات کو ختم کیا ، حضرت یوسف علیہ السلام نے نوجوانی میں ہی گناہ کی دعوت کو ٹھکرا کر ایمان کے راستے کو ترجیح دی ، صلاح الدین ایوبی ،طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، شہاب الدین غوری یہ سب نوجوان ہی تھے جنھوں نے قرآن وسنت کی بالادستی اور معاشرے کی بقاء کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔۔
    قائداعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان کے دوران نوجوانوں سے ہی خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ :
    میں آپ کی طرح جوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جوش و جذبے نے مجھے بھی جوان کر رکھا ہے ، آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنا دیا ہے۔۔۔

    کسی بھی قوم کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروانے میں بھی انہی شاہین صفت نوجوانوں کا ہاتھ ہے۔۔۔ یہ نوجوان جب اپنا تازہ اور گرم لہو پیش کرتے ہیں تو ملت کے مقدر کا ستارہ جاگ اُٹھتا ہے اور آزادیاں اُن کا مقدر بن جاتی ہیں ۔۔۔

    اگر جواں ہوں میری قوم کے جسور و غیور

    قلندری میری کچھ کم ، سکندری سے نہیں

    اِس کے برعکس اگر یہی نوجوان اپنے فرض سے بےخبر ، کاہل ، سست ، غدار اور بدکردار ہوں گے تو قومیں خود بخود بربادی کی طرف رواں دواں ہو جائیں گی ۔۔۔ واضح ہوا کسی بھی قوم میں نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں چنانچہ اِن کی تربیت بھی اِس قدر ہی ضروری ہے ، اقوام کی تقدیر نوجوان نسل کی تربیت پر ہی منحصر ہے ۔۔ اگر قوم اپنے قیمتی سرمائے کی تربیت سے ذرا برابر بھی غفلت برتے گی تو یہی سرمایہ اُس کےلیے ناسور کی صورت اختیار کر جائے گا ، قوم تباہی کے دہانے پر جا کھڑی ہو گی ۔۔۔ تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم سے اپنے قیمتی سرمایہ کی تربیت اور حفاظت نہ ہو سکی، اُس کی نوجوان نسلیں لہوولعب ، کھیل کود اور منفی رجحان کی نذر ہو گئیں اور وہی قومیں پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گریں۔۔۔ اِس کے برعکس جن قوموں نے اپنے قیمتی سرمایہ کی حفاظت کی ، اُن کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی ، اُنہی قوموں کے نوجوان اقوامِ عالم پر شاہین بن کر اُبھرے اور اپنی بلند پروازوں سے دنیائے عالم کو تسخیر کر لیا۔۔۔
    آج ایک بار پھر سے اقوامِ مسلم کو نوجوان شاہینوں کے جوش ، جذبے اور اُن کی صلاحیتوں کی بے حد ضرورت ہے ، اور یہ نوجوان تب ہی قوم کے کام آ سکتے ہیں جب اِن کی تربیت صحیح اسلامی بنیادوں پر کی جائے ، آج کے نوجوان گفتار کے غازی تو بن گئے لیکن کردار کے غازی بننا بھول گئے ۔۔ اُنہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ اُن کی جوانی قوم کی امانت ہے ، قوم کی نظریں اُن پر لگی ہوئی ہیں ،اندھیروں میں ڈوبی قوم کےلیے وہی روشنی کی کرن ہیں ، اگر نوجوان اسلام کے راستے پر چلتے ہوئے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو رب کی نصرت بھی آسمان سے اُترے گی اور ظلمتوں کے گھپ اندھیرے چھٹ جائیں گے ، سحر کی روشنیاں نمودار ہوں گی بس ذرا ہمت ، حوصلے اور سچے جذبوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔۔۔

    اگر ہم اپنی روش بدل کر راہِ ہدایت پہ ہوں روانہ

    خُدائی نصرت بھی ساتھ ہو گی ،مٹے گا یہ دور جابرانہ

  • ہمسائیگی کے حقوق اور آداب قرآب سنت کی روشنی میں!!! تحریر:جویریہ بتول

    ہمسائیگی کے حقوق اور آداب قرآب سنت کی روشنی میں!!! تحریر:جویریہ بتول

    ہمسائیگی کے حقوق اور آداب__!!!
    (تحریر:جویریہ بتول)
    اچھی ہمسائیگی بہت بڑی نعمت ہے۔۔۔
    اور برے ہمسائے سے ہمیں پناہ مانگنے کی تعلیم ملی۔۔۔
    کسی کا بھی ہمسایہ اس کی خوشی،غمی میں ڈھارس کا ضامن ہوتا ہے،کیونکہ سگے رشتہ دار میلوں،شہروں بلکہ بعض اوقات ملکوں دور بھی ہوتے ہیں__!!!!
    یہی وجہ ہے کہ ہمسائے کی اسی افادیت اور اہمیت کے پیشِ نظر دینِ فطرت اسلام میں پڑوسی کے حقوق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے،ارشاد ربانی ہے:
    وَالجَارِذِی القربٰی وَالجارِ الجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ۔۔۔۔
    (النسآء:36)۔
    "اور پڑوسی رشتہ دار اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی سے(احسان کا معاملہ کرو)۔۔۔”

    یعنی اللّٰہ رب العزت خود مسلمانوں کو پڑوسی سے حسنِ سلوک کا حکم دے رہے ہیں تو کیا اللّٰہ کے حکم کے بعد پڑوسی کا حق کچھ پوشیدہ رہ جاتا ہے۔۔۔؟

    رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے احادیث مبارکہ میں بہت سے مقامات پر ہمسائے کے حقوق کی اہمیت بتلائی۔۔۔
    کچھ وقت پہلے تک واقعی پڑوس کی افادیت قائم تھی،
    خوشی،غمی کے مواقع مل کر ڈیل کیئے جاتے تھے۔
    جو کچھ میسر ہوتا،کھلے دل سےپیش کر دیا جاتا تھا۔
    دیہات میں تو یہ رواج زیادہ ہی مضبوط تھا۔
    کھلے گھر اور حویلیاں شادی بیاہ کے مواقع پر بہت کام دیتے تھے۔۔۔
    مگر آہستہ آہستہ کھلے گھروں کے مکینوں کے دل بھی تنگ ہونے لگے اور دیہاتیوں نے بھی چار و ناچار میرج ہالز کا رُخ کر لیا اور یوں چند لاکھ کے اخراجات بھاری بھرکم بکنگ کے ساتھ کئی گنا زیادہ اضافے کے ساتھ برداشت کیئے جاتے ہیں۔۔۔ !!!
    اور یہ سب حسنِ معاشرت کی نفی اور نفسا نفسی کے عالم والی بات ہے۔۔۔ !!!!
    پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کا حق یہ ہے کہ اس کے دکھ سکھ میں شریک ہوا جائے۔۔۔
    اس کا حال بانٹا جائے__
    اس کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔۔۔
    اس کے گھر جو کچھ پکے،بخوشی اور حق سمجھ کر بھیجا جائے__!!!!
    آج ہم دن میں کئی کئی ڈشز بناتے ہیں مگر پڑوس میں بسنے والے کا کچھ خیال نہیں آتا۔۔۔
    اب یہ ضروری نہیں ہوتا کہ آپ کا پڑوسی واقعی مستحق ہونا چاہیئے بلکہ یہ اس کا خصوصی حق ہے جو ہمارا دین اُسے دیتا ہے۔۔۔ !!!!
    اور کسی بھی سوسائٹی کے احساس اور مثبت پہلو کی خوب عکاسی بھی۔
    ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "اے مسلمان عورتو!!!!
    کوئی پڑوسن اپنی کسی پڑوسن کے لیئے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے،خواہ بکری کا پایہ ہی کیوں نہ ہو۔۔۔”
    (صحیح بخاری_کتاب الادب)۔
    کوکنگ کا زیادہ تر کام عورتیں ہی کرتی ہیں تو انہی کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اپنی پڑوسن کا خیال رکھنے میں کوتاہی نہ کریں۔۔۔
    بلکہ ثواب کی نیت سے،پڑوسی کا بھی حق ادا کریں۔۔۔ !!!!

    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھائے،اور اس کا ہمسایہ بھوکا ہو۔۔۔”
    {رواہ البخاری فی الادب المفرد}۔

    حضرت عائشہ راویہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے اس طرح بار بار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید اسے وراثت میں شریک نہ کر دیں۔”
    [صحیح بخاری_کتاب الادب]۔

    حضرت عائشہ رضی اللّٰہُ عنھا کے پوچھنے پر کہ کسے پہلے ہدیہ بھیجوں،آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جس کا دروازہ تم سے قریب ہے__!!!”

    خود بھی پڑوسیوں کے ساتھ اچھے معاملات رکھیں اور اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کریں کہ وہ اپنے پڑوسی کے لیئے کسی اذیت کا باعث نہ بنیں۔

    چھوٹے بچوں کے معمولی اور معصوم جھگڑوں کو طول نہ دیں اور طرفین کو پیار سے سمجھائیں۔۔۔
    کیونکہ بچے فوراً دل صاف کر کے اکھٹا کھیلنا کودنا چاہتے ہیں۔۔۔

    چھوٹے چھوٹے مسائل پر پڑوسی سے جھگڑنے سے گریز کریں۔۔۔
    کبھی اس کے حصے کا کام خود کر دیں۔۔۔
    جیسے صفائی کا مسئلہ ہو یا پودوں وغیرہ کو پانی دینا۔۔۔۔
    پڑوسی کی عدم موجودگی میں اس کے گھر کی حفاظت کریں اور اسے کسی نقصان کی پہنچ سے دور رکھنے کا خیال کریں۔
    بچوں کو سمجھائیں کہ پڑوسیوں کی کسی بھی چیز کو نقصان نہیں پہنچانا یا اٹھا کر گھر نہیں لے آنا۔۔۔

    پڑوسی کے حق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ٹیرس پر گھومتے ہوئے تاکاجھانکی سے بچا جائے۔۔۔
    بلاوجہ بار بار چھتوں پر نہ چڑھا جائے۔۔۔
    اگر ضرورت ہی ہو تو پہلے سے پڑوسی کو اطلاع کی جائے تاکہ خواتینِ خانہ اپنا خیال کر لیں__
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    "وہ شخص جنت میں نہ جائے گا،جس کا ہمسایہ اس کے مکر و فریب سے محفوظ نہ ہو۔”
    {صحیح مسلم)
    شہروں میں مختلف النوع لوگوں کا ساتھ رہتا ہے۔۔۔
    اور زیادہ تر لوگوں کو سالوں تک یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے پڑوس میں کون بس رہا ہے۔۔۔
    لیکن اس پڑوسی کا حق بھی ادا کرنا چاہیئے ،ہاں اگر کوئی شناسائی یا بول چال رکھنا ہی نہ چاہے تو زبردستی بھی جائز نہیں ہے۔۔۔
    لیکن ہر پڑوسی پر اندھا اعتماد بھی نہیں کر لینا چاہیئے۔۔۔
    بچوں کو ماموں،چاچو اور بھائی بنا کر ساتھ کبھی نہیں بھیجنا چاہیئے__
    اسی طرح عورتیں،پڑوس کے مردوں اور مرد،پڑوس کی عورتوں سے بے تکلفی سے گریز کریں۔۔۔
    کیونکہ یہ کھلم کھلا بات چیت بعض اوقات خطرناک افیئرز پر منتج ہوتی ہے__!!!!
    محرم،غیر محرم کے لیئے ہر میدان اور معاملہ میں کلیہ ایک ہی ہے۔۔۔

    گھر کی چیزیں زور زور سے پھنکنے اور گھسیٹنے سے اجتناب کرنا چاہیئے،کیونکہ پڑوس میں کوئی بزرگ یا بیمار ہماری اس حرکت سے تکلیف محسوس یا پریشان ہو سکتا ہے۔۔۔

    اونچی آواز میں ڈیک چلانے اور فُل آواز میں ٹیلی ویژن آن رکھنے سے بھی گریز کرنا چاہیئے۔۔۔

    چیخنے چلانے اور بچوں کو اونچی آواز میں ڈانٹ پلانا آپ کے پڑوسی کو ڈسٹرب اور ذہن کو منقسم کر سکتا ہے__!!!!

    اسی طرح پڑوس میں چلنے والے کسی مسئلہ یا جھگڑے کی تشہیر کی بجائے خاموشی سے صلح کی کوشش کرنی چاہئیے اور پھر اسے راز میں بھی رکھیں۔۔۔ !!!
    بیمار کی عیادت کریں__دوا کھِلا آئیں،کوئی اس کے پاس نہ ہو تو کچھ دیر دلجوئی کے لیئے اس کے پاس چلے جائیں۔۔۔
    پڑوسی اگر بے راہرو،بے نمازی اور غلط راہوں پر ہے تو اخلاص کے ساتھ نرمی سے نصیحت بھی کرتے رہیں۔۔۔ !!!
    غرض ان حقوق و آداب کا خیال رکھتے ہوئے ہم سب ایک بہتر پڑوسی کا حق ادا کر سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "پڑوسیوں میں بہتر پڑوسی وہ ہے،جو اپنے پڑوسی کے حق میں بہتر ہو۔”(رواہ الترمذی)۔
    اللّٰہ تعالٰی ہمارے احوال کی اصلاح فرما دے ،آمین ثم آمین۔

  • کیا پاکستانی ڈرامہ ’محبت تجھے الوداع‘ بالی وڈ فلم کی کاپی ہے؟

    کیا پاکستانی ڈرامہ ’محبت تجھے الوداع‘ بالی وڈ فلم کی کاپی ہے؟

    جلد ہی ہم ٹی وی پر نشر کئے جانے والے ڈرامے ’محبت تجھے الوداع‘ کے ٹیزر نے ہی مداحوں کے دل جیت لئے ہیں-

    باغی ٹی وی : ’محبت تجھے الوداع‘ سونیا حسین، منشا پاشا اور زاہد احمد کا جلد ریلیز ہونے والا ڈرامہ ہے اور اب تک ڈرامے کے ٹیزر نے ہی مداحوں کا دل جیت لیا ہے۔

    جہاں ڈرامے کے ٹیزرز نے مداحوں کے دل جیتے ہیں، وہیں کئی مداح ڈرامے کی کہانی سے ناخوش بھی دکھائی دیے اور ڈرامے پر الزام لگانا شروع کیا کہ اس کی کہانی دو دہائیاں قبل ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم جدائی کی کاپی ہے۔

    کئی مداحوں نے ’محبت تجھے الوداع‘ کی کہانی سے متعلق دعوی کیا کہ اس کی کہانی 1997 میں ریلیز ہونے والی با لی وڈ فلم ’جدائی‘ کی کاپی ہے-

    جدائی فلم انیل کپور، ارمیلا مٹونڈکر اور سری دیوی کی مرکزی کاسٹ پر مبنی تھی اور فلم کی مرکزی کہانی ایک غریب میاں بیوی سری دیوی اورانیل کپور کے گھرد گھومتی ہے اور بعد ازاں غریب بیوی پیسوں کی لالچ میں آکر اپنے شوہر کی امیر خاتون ارمیلا مٹونڈکر سے شادی کروادیتی ہیں۔

    اگرچہ ’محبت تجھے الوداع‘ کی پوری کہانی کو ٹریلرز اور ٹیزرز سے سمجھنا مشکل ہے، تاہم ان سے یہی اشارہ ملتا ہے کہ مذکورہ ڈرامے کی کہانی بھی بالی وڈ فلم سے ملتی جلتی ہے۔


    ڈرامے کے جاری کیے گئے ٹیزرز سے اندازہ ہوتا ہے کہ سونیا حسن اور زاہد احمد میاں اور بیوی کا کردار نبھاتے دکھائی دیں گے جب کہ منشا پاشا بھی اہم کردار میں دکھائی دیں گی۔

    ٹیزرز میں منشا پاشا اور زاہد احمد کی شادی بھی ہوتے ہوئے دکھائی گئی ہے اور ساتھ ہی دکھایا گیاہے کہ سونیا حسن اس فیصلے پر بہت خوش ہوتی ہیں۔

    ’محبت تجھے الوداع‘ کی کہانی عبدالخالق خان نے لکھی ہے جب کہ اس کی ہدایات برکت صدیقی نے دی ہیں۔

    اس کی دیگر کاسٹ میں جاوید شیخ ،ساجد سعید،انجلین ملک،مزنہ وقاص، مزائنہ ملک،سیدہ انوشہ،حماد صدیق، حسام خان ، سعدآفریدی، فلک شہزاد اور دیگر شامل ہیں-



  • لعنت بھیجتا ہوں ایسی ترجمانی پر، واسع چوہدری نے ترجمان حکومت پنجاب عثمان سعید بسرا کو کھری کھری سُنا دیں

    لعنت بھیجتا ہوں ایسی ترجمانی پر، واسع چوہدری نے ترجمان حکومت پنجاب عثمان سعید بسرا کو کھری کھری سُنا دیں

    کورونا وائرس کا شکار پاکستان کے معروف اداکار میزبان اور مصنف واسع چوہدری نے ترجمان حکومت پنجاب عثمان سعید بسرا کا معروف کامیڈین شفاعت علی کو طنزیہ ٹویٹ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا-

    باغی ٹی وی :11 جون کو مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف کے کورونا نتائج مثبت آنے کی خبریں وائرل ہونے کےبعد کامیڈین اداکار نے شہباز شریف کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعائیہ پیغام جاری کیا تھا-جس کے جواب میں ترجمان حکومت پنجاب عثمان سعید بسرا نے طنزکرتے ہوئے لکھا تھا کہ میراثی ہمیشہ میراثی رہے گا-

    عثمان سعید بسرا کی اس ٹویٹ کے بعد معروف شخصیات نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور اس ٹویٹ کی وضاحت کرنے کے ساتھ معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کی-

    عثمان سعید بسرا کی اس طنزیہ ٹویٹ کے جواب میں شفاعت علی نے کہا تھا کہ اس طرح کی باتیں کرکے بھی آپ حکومت کی تائید حاصل نہیں کر سکتے اورنہ ہی آپ اس طرح سے چوہدری بن سکتے ہیں –

    جس پر ترجمان پنجاب حکومت نے لکھا تھا کہ اگر میراثی تمہارے جیسا "اللہ بچائے ایسی چودھراہٹ سے”


    ترجمان پنجاب حکومت کے اس ٹویٹ کے جواب میں معروف اداکار میزبان اور مصنف واسع چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ اور اگر ترجمان آپ کے جیسا تو لعنت ایسی ترجمانی پر-

    یہ اس حکومت کے ریلو کٹے ترجمان ہیں ان کی واحد خاصیت بد تمیزی ہے منیب فاروق کا ترجمان پنجاب حکومت پر تنقید

    میراثی ہمیشہ میراثی ہی رہے گا ترجمان پنجاب حکومت عثمان سعید بسرا کا معروف کامیڈین اداکار پر طنز

    ترجمان پنجاب حکومت عثمان سعید بسرا کے طنزیہ ٹویٹ پر علی ظفر کا کرارا جواب

    ترجمان حکومت پنجاب کا کامیڈین اداکارکو میراثی کہنے پر جرنلسٹ مدیحہ عابد اور عمر قریشی کا شدید ردعمل

  • یہ اس حکومت کے ریلو کٹے ترجمان ہیں ان کی واحد خاصیت بد تمیزی ہے   منیب فاروق کا ترجمان پنجاب حکومت پر تنقید

    یہ اس حکومت کے ریلو کٹے ترجمان ہیں ان کی واحد خاصیت بد تمیزی ہے منیب فاروق کا ترجمان پنجاب حکومت پر تنقید

    نامور نیوز اینکر منیب فاروق نے ترجمان حکومت پنجاب عثمان سعید بسرا کے معروف کامیڈین شفاعت علی کو طنزیہ ٹویٹ کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بے شک۔ یہ اس حکومت کے ریلو کٹے ترجمان ہیں ان کی واحد خاصیت بد تمیذی ہے۔

    باغی ٹی وی :11 جون کو مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف کے کورونا نتائج مثبت آنے کی خبریں وائرل ہونے کےبعد کامیڈین اداکار نے شہباز شریف کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعائیہ پیغام جاری کیا تھا-جس کے جواب میں ترجمان حکومت پنجاب عثمان سعید بسرا نے طنزکرتے ہوئے لکھا تھا کہ میراثی ہمیشہ میراثی رہے گا-

    عثمان سعید بسرا کی اس ٹویٹ کے بعد معروف شخصیات نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور اس ٹویٹ کی وضاحت کرنے کے ساتھ معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کی-

    عثمان سعید بسرا کی اس ٹویٹ کے جواب میں شفاعت علی نے کہا تھا کہ اس طرح کی باتیں کرکے بھی آپ حکومت کی تائید حاصل نہیں کر سکتے اورنہ ہی آپ اس طرح سے چوہدری بن سکتے ہیں –


    شفاعت علی کی اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے منیب فاروق نے بھی اداکار کی تائید کی اور ترجمان پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ بے شک۔ یہ اس حکومت کے ریلو کٹے ترجمان ہیں جو انہیں لنگر میں تقسیم کی گئی ترجمانی دینے کے بعد منہ بھی نہیں لگاتی۔ انکی واحد خاصیت بد تمیذی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جرنلسٹ مدیحہ عابد علی اور عمیر قریشی نے بھی ترجمان پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا-

    ترجمان حکومت پنجاب کا کامیڈین اداکارکو میراثی کہنے پر جرنلسٹ مدیحہ عابد اور عمر قریشی کا شدید ردعمل

    ترجمان پنجاب حکومت عثمان سعید بسرا کے طنزیہ ٹویٹ پر علی ظفر کا کرارا جواب

    میراثی ہمیشہ میراثی ہی رہے گا ترجمان پنجاب حکومت عثمان سعید بسرا کا معروف کامیڈین اداکار پر طنز

  • ترجمان حکومت پنجاب کا  کامیڈین اداکارکو میراثی کہنے پر جرنلسٹ مدیحہ عابد اور عمر قریشی کا شدید ردعمل

    ترجمان حکومت پنجاب کا کامیڈین اداکارکو میراثی کہنے پر جرنلسٹ مدیحہ عابد اور عمر قریشی کا شدید ردعمل

    ٔپاکستانی معروف جرنلسٹ مدیحہ عابد اور عمر قریشی نے ترجمان حکومت پنجاب عثمان سعید بسرا کے معروف کامیڈین شفاعت علی کو طنزیہ ٹویٹ کرنے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ترجمان حکومت پنجاب ہونے کی حیثیت سے عثمان سعید بسرا کو یہ گھٹیا تبصرہ زیب نہیں دیتا-

    باغی ٹی وی :11 جون کو مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف کے کورونا نتائج مثبت آنے کی خبریں وائرل ہونے کےبعد کامیڈین اداکار نے شہباز شریف کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے دعائیہ پیغام جاری کیا تھا-جس کے جواب میں ترجمان حکومت پنجاب عثمان سعید بسرا نے طنزکرتے ہوئے لکھا تھا کہ میراثی ہمیشہ میراثی رہے گا-

    عثمان سعید بسرا کی اس ٹویٹ کے بعد معروف شخصیات نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا اور اس ٹویٹ کی وضاحت کرنے کے ساتھ معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کی-


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر معروف جرنلسٹ اور پی ایم سی کے سی ای او عمر قریشی نے بھی عثمان سعید بسرا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ملاحظہ کیجیئے ترجمان حکومت پنجاب کا گھٹیا تبصرہ

    انہوں نے لکھا کہ کسی کو اس سے پوچھنا چاہئے کہ وہ COVID-19 کا مقابلہ کرنے میں پنجاب حکومت کی قابل رحم کارکردگی پر بھی تبصرہ کرے-


    دوسری جانب نامور جرنلسٹ مدیحہ عابد نے بھی ترجمان پنجاب حکومت کے طنزیہ ٹویٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ عثمان سعید بسری ہم اسے آپ سے نہیں لیں گے۔

    انہوں نے لکھا کہ شفاعت علی ہمارا ساتھی ہے اور کامیڈی / اداکاری ایک قابل احترام پیشہ ہے۔ آپ کا تبصرہ پوری فنکار برادری کے لئے بدنامی کا مظاہرہ کررہا ہے۔

    مدیحہ عابد نے لکھا کہ اگر یہ جماعت اگلی بار پی ٹی آئی کو ووٹ دینے سے انکار کرے گی تو کیا ہوگا؟

    واضح رہے کہ اس سے قبل اداکار علی ظفر نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ترجمان حکومت پنجاب ہونے کی حیثیت سے عثمان سعید بسرا کو اس طرح کی باتیں کرنا زیب نہیں دیتا علی ظفر نے کہا تھا کہ میراثی لفظ میراث سے نکلا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنی وراثت میں فنی صلاحیتیں ملی ہوں اگرچہ یہ اصطلاح اکثر کسی کو جہالت کی وجہ سے تجاوز کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے-

    علاوہ ازیں اداکار، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر عمیر رانا نے بھی عثمان سعید بسرا کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ پر وضاحت دینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا-

    ترجمان پنجاب حکومت عثمان سعید بسرا کے طنزیہ ٹویٹ پر علی ظفر کا کرارا جواب

    میراثی ہمیشہ میراثی ہی رہے گا ترجمان پنجاب حکومت عثمان سعید بسرا کا معروف کامیڈین اداکار پر طنز