دن منانا جاری و ساری ہے…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
واں خون کی ہولی جاری ہے…
اور سو رہی دنیا ساری ہے…
زباں بھی گنگ ہے سب کی…
اور سماعت پہ پردہ بھاری ہے…
واں جوانیوں کی قربانی ہے…
اور آزادی جاں سے پیاری ہے…
اسی نعرے کی گونج ہے واں…
جو عدو پہ ضرب بہت کاری ہے…
واں سلسلہ ٹوٹا،تھما نہیں ہے…
صف بہ صف رزم سے یاری ہے…
واں نہتوں پہ لاکھوں کا پہرا…
عقل کی یوں مت ماری ہے…!!!
یوں حقوق کی گونج تو ہے ہر سُو…
مگر وہاں سننے سے دنیا عاری ہے…
واں انسانوں کے چہرے چھلنی ہیں…
اور انسانیت وہاں بے چاری ہے…
عورتیں اور بچے سہمے ہوئے ہیں…
اور دن منانا جاری و ساری ہے…
واں دیپ آزادی کا تو ہے جل رہا…
اور اسی خوشی سے سرشاری ہے…
واں ماؤں کے لعل کٹ رہے ہیں…
اور جنگ آزادی کی جاری ہے…!!!
===============================
Author: عائشہ ذوالفقار
-

دن منانا جاری و ساری ہے…!!! بقلم:جویریہ بتول
-

بھارتی فنکاروں کا شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئےحاملہ ہتھنی کے مجرموں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ
بھارتی ریاست کیرالا میں حاملہ ہتھنی کی موت کے افسوسناک واقعے پر بھارتی فنکار انتظامیہ کو بے زبان جانور کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا تے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا –
باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں بھارت میں ایک حاملہ ہتھنی نے دھوکے سے پٹاخے سے بھرا پھل کھا لیا تھا جس کے پھٹنے سے وہ تڑپ تڑپ کر مر گئی تھی جس پر بھارتی فنکاروں نے سوشل میڈیا پر انتظامیہ کو موت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا-
Ministry of Law and Justice, : Justice for our Voiceless friends – Sign the Petition! https://t.co/yokoyuRNlg via @ChangeOrg_India
— Shraddha (@ShraddhaKapoor) June 3, 2020
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بالی وڈ نامور اداکارہ شردھا کپور نے افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزارت قانون و انصاف سے بے آواز دوستوں کے لئے انصاف کی درخواست کی-اپنے ایک اور ٹویٹ میں غم کا اظہار کرتے ہوئے اداکارہ نے لکھا کہ کیسے؟؟؟؟؟؟ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟؟؟کیا لوگوں کے دل نہیں ہیں ؟؟؟
How??????
How can something like this happen???
Do people not have hearts???
My heart has shattered and broken…
The perpetrators need to be punished in the STRICTEST way. @PetaIndia @CMOKerala pic.twitter.com/697VQXYvmb— Shraddha (@ShraddhaKapoor) June 2, 2020
انہوں نے لکھا کہ میرا دل بکھر گیا ہے اور ٹوٹ گیا ہے …شردھا کپور نے لکھا کہ ایسا کرنے والے مجرموں کو سختی سے سزا دینے کی ضرورت ہے۔
Maybe animals are less wild and humans less human. What happened with that #elephant is heartbreaking, inhumane and unacceptable! Strict action should be taken against the culprits. #AllLivesMatter pic.twitter.com/sOmUsL3Ayc
— Akshay Kumar (@akshaykumar) June 3, 2020
اکشے کمار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ہوسکتا ہے کہ جانور کم جنگلی ہوں اور انسان کم انسان ہوں۔ اس بے زبان جانور کے ساتھ جو ہوا وہ دل دہلا دینے والا ، غیر انسانی اور ناقابل قبول رویہ ہے!اداکار نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
Couldn’t come out of this
She was pregnant https://t.co/Kiw5CAsV6z pic.twitter.com/kQl0KnAzVb— atlee (@Atlee_dir) June 3, 2020
بھارتی ڈائریکٹر اتل نے اپنے ٹویٹ میں ہتھنی کی تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ باہر نہیں آ سکی کیونکہ وہ حاملہ تھی-سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اشیش چوہدری نے لکھا کہ وہ حاملہ تھی۔ اسے دھماکہ خیز مواد کھلایا گیا تھا۔ اور اس نے کسی ایک فرد کو تکلیف نہیں دی۔ وہ اب مر چکی ہے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اس کے ساتھ یہ کیا وہ زندہ ہیں۔
She was pregnant. She was fed an explosive. And she didn’t even hurt a single person.
She’s dead now. And those people who did it to her are alive.
How in the bloody world is that fair!!
I feel frustrated. We need new laws. Punish the culprits please!! https://t.co/UvoK5R2opz— ASHISH CHOWDHRY (@AshishChowdhry) June 2, 2020
انہوں نے لکھا میں اس خونی دنیا میں ایسے انصاف کو دیکھ کر میں مایوسی کا شکار ہوں۔ ہمیں نئے قوانین کی ضرورت ہے۔اشیش نے مطالبہ کیا کہ براہ کرم مجرموں کو سزا دیں !!
دوسری جانب اداکارہ انشکا شرما نے بھی ہےھنی کی افسوسناک موت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا انسٹا گرام پر بالی وڈ اداکارہ انوشکا شرما نے لکھا کہ وزیراعلیٰ کیرالہ سے گذارش کرتے ہیں کہ مجرموں کو تلاش کریں اور انہیں اس بھیانک ظلم پرانصاف کے کٹہرے میں لائیں
https://www.instagram.com/p/CA98mSSp1b-/?igshid=43rix133heg3
انوشکا نے لکھا کہ کیرالہ میں نامعلوم افراد نے ایک حاملہ ہاتھی کو کریکر بھری انناس کھلایا جو اس کے منہ میں پھٹ گیا اور اس کے جبڑے کو نقصان پہنچا۔ وہ گاؤں کے آس پاس چلتی رہی اور آخر کار ایک ندی میں کھڑی ہو گئی-اداکارہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس امید پر راکشسوں کی تلاش کرتے رہتے ہیں کہ ان کے سروں پر شیطان کے سینگ لگے ہوں گے۔ لیکن اپنے آس پاس دیکھو ، راکشس آپ کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
انوشکا نے ہتھنی جے بچے کے بارے میں جو 18-20 ماہ بعد پیدا ہونے والا تھا پر افسوس کا اظہار کیا-
انوشکا نے لکھا کہ ہاتھی کے زخمی ہونے کے بعد بھی اس تکلیف میں بھی، اس نے کسی ایک گھر کو کچل نہیں دیا یا کسی ایک انسان کو تکلیف نہیں دی۔ وہ صرف دردناک درد کی وجہ سے ایک ندی میں کھڑی ہوئی اور کسی جان کو تکلیف پہنچائے بغیر ہی چل بسی۔
انہوں نے کہا کہ ان جانوروں میں سے بہت سے انسانوں پر بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ ماضی میں ان کی مدد کی جاتی رہی ہے یہ حد سے زیادہ ظالمانہ ہے۔ جب آپ میں ہمدردی اور شفقت کا فقدان ہے تو ، آپ کو انسان کہلانے کا اہل نہیں ہے۔ کسی کو تکلیف دینا انسان نہیں ہے۔
صرف سخت قوانین مدد نہیں کریں گے۔ ہمیں بھی قانون کی معقول حد تک عمل درآمد کی ضرورت ہے۔انوشکا شرما نے مجرموں کو ڈھونڈ کر سزا دینے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ جب تک کہ مجرموں کو بدترین طریقے سے سزا نہیں دی جاتی ، یہ شریر راکشس کبھی بھی قانون سے خوف نہیں کھائیں گےناگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے ، لیکن مجھے امید ہے کہ وہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کو تلاش کرنے کے اہل ہوں گے اور اسی کے مطابق انہیں سزا دیں گے۔



اداکارہ عالیہ بھٹ نے بھی اپنی انستا گرام سٹوری پر حاملہ ہتھنی کر کئے جانے والے ظلم پر افسوس کا اظہار کیا-علاوہ ازیں ٹویٹر پر ورون دھون اوت ٹائیگر شروف نے بھی ہتھنی کی موت پر شدید افسوس اور غم کا اظہار کیا-
بھارت میں حاملہ ہتھنی کے منہ میں کریکر ڈال کر اسے مار دیا گیا
جے شری رام نہ بولنے پر ہندو انتہا پسندوں کا 18 سالہ نوجوان پر تشدد
-

اداکارہ میرا نے اپنی زندگی پر کتاب لکھنے کا فیصلہ کر لیا
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور اسکینڈل گرلز کے نام سے مشہو اداکارہ ر میرا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی زندگی پرکتاب لکھیں گی-
باغی ٹی وی : پاسکتان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور اپنی انگلش اورمختلف بیانات کی وجہ سے اسکینڈلز گرکز کے نام سے مشہوراداکارہ میرا نے اپنی زندگی پرکتاب لکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس حوالے سے میرا کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی کی کہانی پرکتاب لکھنے کا ارادہ ہے کہ میں کون ہوں اورکیوں ہوں، جب میں نے اس متعلق ڈائریکٹرسے بات کی تو ان کا کہنا تھا یہ لاجواب خیال ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ میرا نے نیویارک سے اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس یں انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے انہیں وطن واپس لانے کی درخواست کی تھی میرا کا کہنا تھا کہ یہاں روزانہ ہزاروں لوگ مررہے ہیں، نیویارک قبرستان میں تبدیل ہورہا ہے وہ یہاں نہیں بلکہ أنے أنے ملک میں آ کر مرنا چاہتیں ہیں
میرا کی اس ویڈیو کے بعد وہ دیگر مسافروں کے ہمراہ غیرملکی ایئرلائن کے ذریعے واشنگٹن سے لاہور پہنچیں، جس کے بعد وہ ہوٹل میں قرنطینہ ہوگئیں تھیں وہاں ان کے کوویڈ19 کے ٹیسٹ کئے جن کی رپورٹ مثبت آئی تھی
کورونا وائرس : امریکا میں پھنسی اداکارہ میرا لاہور پہنچ گئیں
-

ارطغرل غازی بہترین ڈاراموں میں سے ایک ہے عمران عباس
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف عالمی شہرت یافتہ اداکار اور ماڈل عمران عباس کا کہنا ہے کہ سنا ہے ارطغرل غازی بہترین ڈاراموں میں سے ایک ہے
باغی ٹی وی :پاکستان کے معروف اداکارعمران عباس سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر مداحوں کی جانب سے کئی دلچسپ سوالات پوچھے گئے جن کے اداکار نے دلسچپ جواب دیئے جس میں سے معروف ترکش ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی سے متعلق سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ بھی یہ ڈرامہ دیکھ رہے ہیں ؟

مداح کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر عمران عباس نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں ارطغرل غازی نہیں دیکھتا بلکہ کتابیں پڑھنے کو ترجیح دیتا ہوں ان کتابوں میں مذہبی تاریخی کتابیں بھی شامل ہیں۔عمران عباس نے تُرک ڈرامے ارطغرل کے متعلق یہ بھی کہا کہ میں نے سنا ہے کہ ڈرامہ ارطغرل غازی بہترین ڈراموں میں سے ایک ہے۔

ایک اور مداح نے پو چھا کہ کیا آپ تُرکش ڈرامے دیکھتے ہیں اداکار نے کہا کہ میں ڈرامے نہیں دیکھتا وہ پاکستانی ہو یا ترکی-

ایک مداح نے پوچھا آپ کون سا فیس واش استعمال کرتے ہیں ہمیں بھی بتا دیں جس پر اداکار نے مزاحیہ جواب دیتے ہوئے کیا لاڈو مارکہ صابن-

دنیا میں سب سے زیادہ آپ کے نزدیک سب سے خوبصورت چیز کو نسی ہے جس پر اداکار نے کہا ماں اور ماں کا پیار-

ایک مداح کے سوال میں اداکار نے کہا یہ سندھی ،پنجابی،مہاجر،پٹھان ،بلوچی،سے نکل آؤ ہم سب پاکستانی ہیں اور یہ ہمارا سب سے بڑا فخر ہے-



-

قرنطینہ میں رہتے ہوئے ہم بہت سی نئی چیزیں بھی سیکھ رہے ہیں ہارون رشید
پاکستان کے معروف گلوکار ہارون رشید نے اپنے مداحوں سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران آپ نے کیا سیکھا؟ کیا آپ کی ترجیحات بدل گئی ہیں؟
باغی ٹی وی :پاکستان کے معروف گلوکار ہارون رشید نے اپنے مداحوں سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران آپ نے کیا سیکھا؟ کیا آپ کی ترجیحات بدل گئی ہیں؟ سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پرہارون رشید نے اپنی ایک تصویر شئیر کی جس میں وہ جھیل کے کنارے سبز جھاڑیوں میں بیٹھے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
https://www.instagram.com/p/CA9wGswpIVB/?igshid=1pwajblrx0s1i
تصویر شئیر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ اگر آپ معاشرتی فاصلہ برقرا ر رکھتے ہیں تو پھر بھی آپ قدرت کے حیر ت انگیز مناظر سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ قدرت کے حیرت انگیز اور خوبصورت ہیں –گلوکار نے لکھا کہ لیکن مجھے حیرت ہے کہ ، کرونا وائرس زمین پر چیزوں کو دوبارہ توازن دینے کا طریقہ ہے ، جہاں یہ ایک ہی نوع پر مکمل طور پر غلبہ پایا گیا ہے اور وہ قابو سے باہر ہوچکا ہے۔ اس کی وجہ سے فضائی اور زمینی آلودگی بھی ختم ہو رہی ہےاس وبا کے دوران قرنطینہ میں رہتے ہوئے بہت ساری چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔
گلوکار نے لکھا کہ میں نے اس لاک ڈاؤن میں یہ سیکھا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جن کاموں کو کرنے میں جلدی کرتے ہیں اُن کو کرنے سے پہلے اگر ہم ہر چیز نے کے بارے میں سوچ لیں تو یہ ہمارے لیے بہتر ثابت ہوسکتا ہے
ہارون رشید نے کہا کہ مجھے اب احساس ہوا ہے کہ میرے لیے میرا خاندان، دوست، تخلیقی صلاحیتیں، میرے جذبات اور معاشرتی ذمہ داری کا حصول سب سے اہم ہے۔
آخر میں گلوکار نے مداحوں سے بھی اُن کی رائے دریافت کرتے ہوئےسوال کیا کہ آپ سب نے لاک ڈاؤن کے دوران کیا سیکھا؟کیا آپ کی ترجیحات بدل گئی ہیں؟
لاک ڈاؤن کے دوران نئی چیزیں سیکھنے کا نتیجہ ہے کہ اب میں سچائی کا سامنا کرسکتا ہوں امیتابھ بچن
-

جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا عالمی دن…؟ تحریر:جویریہ بتول
جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا عالمی دن…؟
[تحریر:جویریہ بتول]۔
بچے کسی بھی باغ کی رونق،خوشبو اور زینت کی طرح اور کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔۔۔
ان کے حقوق کا دفاع،تربیت،فلاح و بہبود اور تعلیمی و فنی صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ہی ہم ایک صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کا خواب دیکھ سکتے ہیں…!!!
جنگیں ہوں یا قدرتی آفات،
معاشرتی بے راہ روی ہو یا گھریلو تنازعات ان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا فریق یہ معصوم بچے ہی ہوتے ہیں…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپیل پر 1982ء سے چار جون کو جارحیت کا شکار معصوم بچوں کے حوالے سے منانے کا اعلان کیا گیا۔
کسی بھی دن کو منانے کا مقصد محض اس مسئلہ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا تو ہو سکتا ہے۔۔۔ورنہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیئے ہر دن نئے عزم اور ولولے سے کام کرنے اور اپنے فرائض کا ادراک کرنے میں ہے…!!!
کیونکہ صرف دن منانے سے دنیا بھر کے حقوق کو ترستے لاکھوں بچے کوئی حقوق حاصل نہیں کر سکے…
بچوں کی صحت،تعلیم،موسمی ملبوسات،ذہنی بالیدگی،تفریح طبع کے اسباب مہیا کرنا ان کے بنیادی حقوق ہیں۔۔۔
مگر افسوس ہے کہ معاشرے سے عالمی سطح تک یہ پھول،جھلستے،مرجھاتے اور کملاتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔
اور اپنے حقوق کے لیئے انصاف کے منتظر ہیں۔
کسی معاشرے میں تو اس کی وجہ غربت،شعور کا فقدان اور وسائل کی عدم دستیابی ہوتی ہے۔۔۔بچوں کی خوراک کی کمی،اور بچپن کی بڑھتی اموات اس کی مثال کے طور پر سمجھی جا سکتی ہیں۔۔۔پھر آگے بڑھ کر سوسائٹی کا یہ طبقہ جو معاشی جھمیلوں کا شکار دکھائی دیتا ہے تو
اسی وجہ سے یہ ننھی جانیں اپنے سہانے بچپن کے خواب جلد ہی بکھیرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔۔۔اور زندگی کی سانسوں کو بحال رکھنے کے لیئے بھٹوں اور فیکٹریوں،ورکشاپوں اور کارخانوں میں ننھے مزدوروں کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔۔۔ !!!
ننھے ہاتھوں میں پکڑے بھاری آوازار اور میلے اور چکنے کپڑوں میں ملبوس یہ پھول کسی بھی معاشرے کی زندہ دلی پر سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟
بچوں کے حوالے سے صرف ایک دن منا کر پھر خاموشی کی چادر تان لینے سے اس استحصال کو روکا نہیں جا سکتا۔۔۔
ان ننھے پھولوں کو کام کی جگہوں پر مار پیٹ،تشدد سے بری طرح مسلا جاتا ہے۔۔۔
یہی صورت حال اکثر کم عمر گھریلو ملازمین کے حوالے سے بھی سامنے آتی ہے۔۔۔جو ایک معاشرتی المیہ ہے۔۔۔ !!!!
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت کی،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اف تک نہیں کہا اور نہ یہ کہا کہ فلاں کام کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا؟
(صحیح بخاری)۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنے ملازمین اور خدام کو اپنے جیسا کھِلانے،پلانے اور پہنانے کا حکم دیا ہے۔۔۔ !!!!
یعنی سوفٹ ٹارگٹ کی وجہ سے یہ معصوم بچے ہر جگہ متاثر دکھائی دیتے ہیں…
پھر اسی طرح جنسی زیادتی کی دہشت گردی کے واقعات کا سامنے آنا اور زیادہ ذلت کا عکاس ہوتا ہے۔۔۔ !!!
ان تمام صورتوں میں متاثر ہونے والا فریق یہ معصوم اور پھولوں کی مانند بچے ہی ہیں۔۔۔ !!!!
والدین کی طرف سے عدم توجہ،بے جا مار پیٹ اور حد سے زیادہ لاڈ پیار بھی معاشرے کے اس اہم ستون کو کھوکھلا کرنے کا باعث ہے۔۔۔۔شروع سے ہی بہترین تربیت،غربت ہو یا امارت مستقبل کی بہترین صلاحیتوں کے سامنے آنے کی نوید ہو سکتی ہے۔۔۔ !!!
پیار نرمی،اور محبّت سے ان پھولوں پر خوب صورت رنگ چڑھائے جا سکتے ہیں۔۔۔۔ !!!
عالمی سطح کی بات کی جائے تو دنیا کے کئی خطوں میں یہ پھول سخت گرم و سرد تھپیڑوں سے نبرد آزما ہیں۔۔۔جن کے گھر،درسگاہیں اُن سے چھین لی گئی ہیں۔۔۔
لاکھوں مہاجر بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔۔۔
شامی، فلسطینی اور کشمیری بچوں کے گھروں،سکولوں پر غاصبوں نے نا جائز قبضے کر رکھے ہیں۔۔۔
اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں اور ادویات و خوراک کے سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔۔۔
کشمیر میں طویل لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی قابلیت میں معاون سہولیات انٹر نیٹ وغیرہ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔۔۔
جہاں دس ماہ کے لاک ڈاؤن کی پابندیوں نے ان معصوم ذہنوں پر انتہائی غیر صحت مند اور منفی اثرات مرتب کیئے ہیں…
جن پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی بارہا تشویش کا اظہار کرتی ہیں،مگر دنیا میں امن کے حصول کے دعویدار صرف دعوؤں میں ہی کھوئے رہ جاتے ہیں۔۔۔اور انسانی حقوق کی پامالی مسلسل جاری ہے۔۔۔ !!!!
اسی طرح لیبیا،شام،عراق،یمن،افغانستان برما،میں بھی جنگی کاروائیوں(زمینی و فضائی) کے دوران ہزاروں،لاکھوں معصوم بچے لقمۂ اجل بن جانے کی خبریں عالمی میڈیا پر گردش تو کرتی رہتی ہیں مگر سوائے افسوس کے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا،تاکہ ایسی گھناؤنی مثالوں کو روکا جا سکے۔۔۔
جنگوں سے متاثر مہاجر کیمپوں میں بسیرا کیئے ہوئے بچوں کو ان کے مسائل سمیت ساری دنیا جانتی ہے۔
اسلام تو وہ دینِ فطرت ہے جو جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں،عورتوں اور بوڑھے لوگوں کے حقوق کی پاسداری کی تعلیم دیتا اور ان کے قتل سے سختی سے منع فرماتا ہے۔۔۔
پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بچوں کو پیار کرتے،سر پر ہاتھ پھیرتے،اوربوسہ دیتے تھے۔۔۔
نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سن کر اس ڈر سے کہ بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو،نماز مختصر کر دیتے۔۔۔(صحیح بخاری)۔
ایک بدوی نے آکر پوچھا کہ کیا آپ لوگ اپنے بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟
ہم تو بوسہ نہیں دیتے۔۔۔۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اگر اللّٰہ نے تمہارے دل سے رحم نکال دیا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟؟؟
(رواہ البخاری۔۔۔کتاب الادب۔
مگر آج اسلامی ممالک کے بچوں کے حقوق ہی ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہے ہیں۔۔۔؟؟؟
آج بھی بچوں کے حقوق کے حقیقی محافظ اسلام کی روشن تعلیمات پر عمل کی اشد ضرورت ہے۔۔۔
تاکہ ہر جگہ،ہر خطے میں مذہب،قوم اور نسل سے قطع نظر یہ پھول مسکراتے رہیں،
خوشبو سے گلشنوں کومہکاتے رہیں۔۔۔ !!!!
ایک محاورہ ہم اکثر استعمال کرتے ہیں کہ بچے تو سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔۔۔ !!!!
ان پر غلط نگاہیں پڑنے ہی نہ دیں۔۔۔ان کے محافظ بن جائیں تاکہ ان کے گُل رنگ چہروں پر یاسیت کی پرچھائیاں نہ پڑنے پائیں۔۔۔
ان کی تعلیم،صحت اور تحفظ کے لیئے کیئے جانے والے اقدامات کا حصہ بنیں۔
ان کے جنسی استحصال،اغواء اور تشدد جیسی کاروائیوں پر سخت سے سخت سزائیں جائیں۔
تاکہ ان کی روشن آنکھوں میں کہیں بھی کمتری کے آنسو نہ جھلملانے پائیں۔۔۔ !!!
کہ ان بچوں کے حقوق کی حفاظت اپنے روشن مستقبل کی حفاظت کی ضمانت ہے۔۔۔ !!!!
ان بچوں کے تمام بنیادی حقوق کی زمہ داری والدین،معاشرے،درسگاہوں کے معلموں،عہدیداروں،اور حکومتوں سبھی پر عائد ہوتی ہے۔۔۔تاکہ کوئی سی بھی تپش ان پھولوں اور کلیوں کے جھلسنے کا باعث نہ بنے۔۔۔۔ !!!
یہ بچے پھول ہیں گلشن کے، ان
پھولوں کو نہ کملاؤ سب__
ان پھولوں اور کلیوں کی اداؤں کو مہکاؤ سب۔۔۔ !!!
ان پھولوں پر جوبن سے ہی یہ گلشن مسکرائے گا۔۔۔
کوئی سماج تب ہی پھر کامیاب بھی کہلائے گا۔۔۔ !!!!
دنیا کو چار جون کا دن مناتے ہوئے اڑتیس برس بیت گئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ بچوں کے مسائل بجائے کم ہونے کے بڑھتے ہی جا رہے ہیں،وہ معاشرتی جرائم ہوں یا عالمی سطح کے جنگی جرائم…!!!
اور یہ پھول اس جارحیت کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں…
اس صورتحال میں سنجیدگی سے لائحہ عمل مرتب کرنے اور پھر اس پر تندہی سے عمل کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ اس انسانی المیے سے نکلا جا سکے…!!!
کیا محض دن منائے جاتے رہیں گے اور انسانیت بتدریج روبہ زوال رہے گی…؟
اور یہ معصوم بچے پیدائش سے ہی مختلف جارحیتوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیئے ترستے اور منتظر ہی رہیں گے…؟؟؟
============================= -

بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!! بقلم سلطان سکندر!!!
بحری ہوا کا قرآن مجید میں بیان!!!
Sea Breeze
(سمندر کی باد صباء یعنی ٹھنڈی ہوا جو سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور اسی وقت گرم ہوا جو زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
یعنی
ہوا کی سمت کا تبدیل(ریورس) ہونا,سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کے الٹنے یا تبدیل ہونے یا ریورس کرنے کا سبب بنتا ہے.
Reference:- Wikipedia, Sea Breeze, 2019 👇🏻
"ایک سی بریز(جو دن کے وقت ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف) یا سمندر کے کنارے کی ہوا وہ ہوا ہوتی ہے جو پانی کی بڑی مقدار پہ زمین کی طرف چلتی ہے, یہ پانی اور زمین کی مختلف حرارت کی صلاحتیوں کے ذریعے پیدا ہونے والی ہوا کے دباو میں تبدیلی کے نتیجے میں بنتی ہے, اسی طرح سمندری ہواوں کو باقی مروجہ ہواوں کی بہ نسبت زیادہ مقامی قرار دیا گیا ہے. کیونکہ زمین پانی سے کہی زیادہ اور جلدی سورج کی شعاعیں جذب کرتی ہے, سورج طلوع ہونے کے بعد ساحلوں پہ ایک سمندری ہوا کا چلنا عام سی بات ہے. اس کے برعکس لینڈ بریز (جو رات کے وقت ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے) کے اثرات الٹ ہیں, ایک خشک زمین سمندر سے بھی بہت پہلے ٹھنڈی ہوجاتی ہے یعنی سمندر سے پہلے گرم بھی زمین ہوتی اور ٹھنڈی بھی, سورج غروب ہونے کے بعد سمندر کی ہوا(Sea Breeze) ختم ہوجاتی ہے اور اسکے بجائے زمین کی ٹھنڈی ہوا (Land Breeze) زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے.”سورج ہوا کو الٹ(ریورس) کرنے کا سبب بنتا ہے
اصل میں بات یہ ہے کہ جب سورج طلوع ہوتا ہے تو گرم ہوائیں اوپر اونچائی پر چلی جاتی ہیں اور ویکیوم بننے کے باعث نیچے والی جگہ پُر کرنے کیلئے ٹھنڈی ہوائیں نیچے کو آجاتی ہیں جنہیں ہم محسوس کرتے ہیں(جیسا کہ درج ذیل دی گئی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے)
یہی معاملہ رات کے وقت کا ہے اور آندھی کا بھی.
یعنی سورج طلوع ہو تو سی بریز (ٹھنڈی ہوا سمندر سے زمین کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا زمین سے سمندر کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
اور سورج غروب ہو تو لینڈ بریز (ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف چلتی ہے اور گرم ہوا سمندر سے زمین کی طرف چل رہی ہوتی ہے)
یہ سارا عمل صبح اور رات کے سانس لینے کی طرف اشارہ کرتا ہے.
یہ بات حال ہی میں دریافت کی گئی جبکہ 1400 سال پہلے قرآن میں درج تھا کہ
Quran 81:18
وَالصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَ (التکویر 18#)
اور قسم ہے صبح(سورج نکلنے) کی جب وہ سانس لیتی ہے۔( ہوائیں بدل بدل کر)لفظ وَالصُّبْحِ کا مطلب صبح سورج کی روشنی ہے, جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہوا کی سمت پلٹ جاتی ہے(یعنی سانس کھینچنے سے ہوا اندر جاتی اور سانس چھوڑنے سے ہوا باہر جاتی), اسی طرح صبح کی روشنی(یعنی سورج) کا طلوع ہونا ہوا کی سمت پلٹنے کا سبب بنتی ہے.(یعنی صبح کو ٹھنڈی ہوا زمین کی طرف آتی ہے اور رات کو ٹھنڈی ہوا زمین سے سمندر کی طرف جاتی ہے)
اور آج ہم یہی جانتے ہیں کہ سورج زمین اور سمندر کے درمیان ہوا کی سمت بدلنے کا سبب بنتا ہے.
1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے سمندری ہواوں( سی بریز جو صبح کے وقت چلتی ہیں) کے بارے میں جان سکتا ہے؟؟؟؟؟؟
بقلم سلطان سکندر!!!
-

زہرہ شاہ کو انصاف دیا جائے مطالبہ ٹویٹر ٹرینڈ بن گیا
بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ کو مبینہ طور پر اس کے مالکوں نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیاتھا ۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کے وائرل ہونے پر پاکستان ٹویٹر پینل پر جسٹس فار زہرہ شاہ ٹرینڈ کر رہا ہے
باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق ، زہرہ شاہ نے کچھ ماہ قبل بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے فیز VIII میں مالک کے اپنے بچے کی دیکھ بھال کرتے ہوئے فیملی کے لئے کام کرنا شروع کیا تھا۔
اس وقت جسمانی زیادتی ہوئی جب زہرہ شاہ نے کچھ پنجروں سے طوطوں کو رہا کیا جس سے اس کے ملازمین مشتعل ہوگئےاور بچی کو پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا اور بعد ازاں عملہ نے پولیس کو فون کرنے پر اسے اسپتال منتقل کردیا۔
پولیس نے بچی کی موت کے بعد بحریہ ٹاؤن کے رہائشی حسن صدیقی اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں کو راوت پولیس اسٹیشن میں رکھا جارہا ہے۔
ابھی تفتیش جاری ہے۔ تاہم ، یہ وحشت لڑکی کے خلاف تشدد کی پہلی مثال نہیں تھی۔زہرہ شاہ کو اس سے پہلے بھی مارا پیٹا گیا تھا کیونکہ پرانے زخموں کا علاج ہورہا تھا اور پولیس یہاں تک کہ جنسی استحصال کا بھی شبہ کرتی ہے۔
پولیس نے حسن صدیقی اور اس کی اہلیہ کے خلاف قتل ، زیادتی اور قبل از قتل قتل کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔
دوسری جانب اس واقعہ کے بعد زہرہ کے انصاف کے لئے ٹویٹر صارفین نے مطالبہ کرنا شروع کر دیا-
Zahra was working in a house, at age of 7 which is voilation of child labour law and then she was abused & beaten to death…💔
But our Human Rights minister who should have implemented laws is enjoying a sleep 😑#JusticeForZohraShah pic.twitter.com/zMO4tINj0y
— Yã$îf یَاسِفْ (@IamYasif) June 3, 2020
یاسف نامی صارف نے لکھا کہ زہرہ 7 سال کی عمر میں ایک گھر میں کام کرتی تھی جو چائلڈ لیبر قانون کی خلاف ورزی ہے اور پھر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اسے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا لیکن ہمارے انسانی حقوق کے وزیر جن کو قوانین کو نافذ کرنا چاہئے تھا وہ نیند سے لطف اندوز ہو رہے ہیںWhen you employ little children, you are not doing them or their parents a favour. If you want to be kind: pay for their schooling, feed them, take care of them, don't employ them, don't control them, don't beat them, don't kill them. #JusticeForZohraShah #EndDomesticChildLabor
— Ali Khan Tareen (@aliktareen) June 3, 2020
سیاسی لیڈر علی خان ترین نے لکھا کہ جب آپ چھوٹے بچوں کو ملازمت دیتے ہیں تو ، آپ ان پر یا ان کے والدین پر احسان نہیں کر رہے ہوتے۔ اگر آپ مہربان بننا چاہتے ہیں: ان کی تعلیم کی ادائیگی کریں ، انہیں کھانا کھلائیں ، ان کی دیکھ بھال کریں ، ان کو ملازمت نہ دیں ، ان پر قابو نہ رکھیں ، انہیں نہ ماریں ، انہیں نہ قتل کریں۔A bird left the cage, A soul left the body. How do you make a 7 year old girl work for you in your house as an employee?
Birds are more worthy than a soul💔
Murderer must hang to death#JusticeForZohraShah pic.twitter.com/KfalD05G06— Jiya 🇵🇰 (@jiyya_says) June 3, 2020
زہرہ نامی صارف نے لکھا کہ ایک پرندے نے پنجرا چھوڑ دیا ، ایک روح نے جسم چھوڑا۔ آپ ملازمت کی حیثیت سے اپنے گھر میں 7 سالہ بچی کو آپ کے لئے کیسے کام کرتے ہیں؟پرندے روح سے زیادہ مستحق ہیں قاتل کو سزائے موت دیدنی ہوگی
https://twitter.com/PIP__official/status/1268129904580755457?s=20
پاکستان انقلابی پارٹی نے لکھا کہ ہمیں نہیں معلوم جب ہم انصاف مانگنا چھوڑ دیں گے ، ہمیں نہیں معلوم کہ انصاف کب پوچھنے سے پہلے دروازے پر آئے گا ، ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اس ہیش ٹیگ کا استعمال کب چھوڑیں گے انصاف کے لئے ہماری خواہشA young girl, 8 years old maid was killed by her employer for unknowingly releasing expensive parrots. Shireen Mazari can speak on every matter except what concerns her.#JusticeForZohraShah pic.twitter.com/iGDbWmIofo
— Rizwan (@Rizwow) June 3, 2020
رضوان نامی صارف نے لکھا کہ ایک نو عمر بچی ، 8 سال کی نوکرانی کو اس کے آجر نے جان بوجھ کر مہنگے طوطے آزاد کرنے پر ہلاک کردیا۔ شیریں مزاری ہر معاملے پر بات کر سکتی ہے سوائے اس کے کہ اسے کیا فکر ہےThis guy beaten up small child of 7yrs leading her to death..
We want him to be beaten up till death in same way.🤬#childabuse#JusticeForZohraShah @ImranKhanPTI pic.twitter.com/A7WCOcrno0— Junaid 🇵🇰 (@jk92684) June 3, 2020
اس آدمی نے 7 سال کے چھوٹی بچی کو مار پیٹ کر ہلاک کردیا۔ہم چاہتے ہیں کہ اسی طرح موت تک اسے پیٹا جائےA minor beaton to death bcoz she relesed parrots from the cage… ARE WE HUMAN…???#JusticeForZohraShah#StopChildDomesticLabor pic.twitter.com/jQpEiURwM5
— Fatima Khalil Butt 🇵🇰 (@FatimaButt_4) June 3, 2020
فاطمہ بٹ نے لکھا کہ ایک معمولی بات پر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا – اس نے طوطے کو پنجرے سے چھڑا یا… ہم انسان ہیں … ؟؟؟ -

احتجاج جمہوری حق، بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے
جرنلسٹ ناصر کہویہامی کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوری حق، بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے-
باغی ٹی وی : کشمیری جرنلسٹ اور سماجی کارکن ناصر کہویہامی کا کہنا ہے کہ احتجاج جمہوری حق، بھارت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ناصر کہویہامی نے بینر پکڑے ہوئے ایک اپنی ایک تصویر شئیر کی جس پر مطالبات ، قیدیوں کو رہا کرو؛ اختلاف رائے کا دفاع کرو، اینٹی سی اے اے مظاہرین کو رہا کرو،احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے ، طالبعلموں اور ایکٹیویسٹ کو فری کرو،اصل کرپٹ لوگوں کو گرفتار کرو درج تھے –
Democratic protests are not a crime! Dissent is fundamental to a democracy! Release All Political Prisoners! @Taahaa_ @BaaghiTV @salonayyy
— Nasir Khuehami (ناصر کہویہامی) (@NasirKhuehami) June 3, 2020
ناصر کہویہامی نے تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ تم زمین پر ظلم لکھو ،ہم آسمان میں انقلاب لائیں گے ،اختلاف رائے ہمارا جمہوری حق ہے ۔انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کشمیر سے یکجہتی کا اظہار کیا-
ناصر کہویہامی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں باغی ٹی وی کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ جمہوری احتجاج جرم نہیں! اختلاف رائے جمہوریت کے لئے بنیادی ہے! تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کریں!
مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلوں پر پابندی لگا دی
مقبوضہ کشمیر:پلوامہ کے متعدد علاقوں میں بھارتی فوج کی تلاشی مہم ، 3کشمیری شہید
-

مولانا پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی انتقال کرگئے
لاہور :ممتاز ماھر تعلیم ، بزرگ عالم دین ،مرکزی جمعیت اھل حدیث پنجاب کے سابق امیر ، سابق ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز ( کالجز)حکومت پنجاب ، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے کنٹرولر امتحانات ، مولانا پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی ، ایک مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال کرگئے ہیں.
پروفیسر عبدالرحمٰن لدھیانوی کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی جائیگی بعدازاں انہیں علاقہ ماچھی وال ضلع وہاڑی میں سپردخاک کیا جائے گا. پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی 30 مارچ 1945 میں ہندوستانی پنجاب کے علاقہ لدھیانہ کی تحصیل سمرالا میں پیدا ہوئے. تقسیم ہند کے وقت ان کی عمر دو سال ساڑھے چار ماہ تھی
, تقسیم ہند کے دوران ان کا خاندان بھی ہجرت کرکے ضلع وہاڑی کے علاقے بورے والا میں آبسا. پرائمری سے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بورے والا میں ہی حاصل کی. بعدازاں دینی تعلیم کے لئے جامعہ سلفیہ لائل پور (فیصل آباد) تشریف لے آئے ,اس کے بعد صرف و نحو کی تعلیم کے لئے رینالہ خورد اوکاڑہ چلے گئے.
اس کے بعد لاہور دارالعلوم تقویۃ الایمان میں چلے گئے یہیں سے انہوں نے درس نظامی کی تعلیم مکمل کی. اسی دوران پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی نے ایف اے بھی مکمل کرلیا اور بعدازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کرنے بعد اورنٹیئل کالج لاہور سے ایم اے عربی کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد لیکچرار تعینات ہوگئے. پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی تعلیمی شعبے میں مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے.
ریٹائرمنٹ کے بعد مرکزی جمعیت اہلحدیث صوبہ پنجاب کے امیر منتخب ہوئے بعد میں اس عہدے سے سبکدوش ہوکر وفاق المدارس سلفیہ سے منسلک ہوگئے اور اب تک وفاق المدارس سلفیہ سے بطور ناظم امتحانات ذمہ داری نبھا رہے تھے ,پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی کی وفات پر امیر مرکزی جمعیۃ اہلحدیث سینیٹر ساجد میر, سینیٹر حافظ عبدالکریم, مولانا مسعود عالم, ناظم اعلیٰ وفاق المدارس سلفیہ مولانا یاسین ظفر, علامہ ابتسام الٰہی ظہیر, علامہ ہشام الہی ظہیر, ابو یحییٰ نور پوری سمیت دیگر علماء و دینی شخصیات نے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا.