پاکستان کے لیے لیہہ کی اہمیت
بدھ 03 جون 2020ء
تین ہفتوں سے بھارت اور چین کی فوجیں لدّاخ کے علاقہ لیہہ میں چار مختلف مقامات پرآمنے سامنے کھڑی ہیں۔اگر کسی بھی ملک کی فوج نے اپنی پوزیشن سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو یہ کشیدگی ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ دونوں ملکوں نے فوجوں کی تعداد میں اضافہ کردیا ہے ‘بھاری ہتھیار سرحد پر پہنچا دیے ہیں۔ جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر فضا میں نگرانی کے لیے چکر لگا رہے ہیں۔ جنگ نہ سہی لیکن یہ سرحدی تناؤ طویل عرصہ تک جاری رہ سکتا ہے۔لیہہ پر بھارت اور چین کا جھگڑا پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بھارت کا مقبوضہ علاقہ لیہہ بہت اونچائی پر واقع ایک برفانی صحرا ہے جس میں ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ اس میں بہت بلند میدان اورگہری گہری گھاٹیاں ہیں۔ آبادی بہت کم ہے ‘ سوا لاکھ سے کچھ زیادہ جس میں ستّر فیصد بدھ مت کے ماننے والے ہیں‘ لدّاخی بولی بولتے ہیںجو تبتی زبان کا ایک لہجہ ہے۔سترہ فیصد آبادی مسلمان اور گیارہ فیصد ہندو ہیں۔ لوگ نسلی اعتبار سے تبتی ہیں‘انکا کلچر‘ رہن سہن بالکل تبت جیسا ہے جو لیہہ کے مشرق میں واقع ہے۔ چین لیہہ کو تبت کا ہی حصہ سمجھتا ہے اور اسے متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے۔تاہم بھارت نے اسے حال ہی میں اپنی ریاست قرار دیا ہے۔ انگریز دور میں یہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔قانونی طور پر اسکا تصفیہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے منسلک ہے۔لیہہ کے مغرب میں کشمیر کی وادی‘ شمال مغرب میں کارگل کا علاقہ ہے۔شمال میں مشرق کے جانب پاکستان کا علاقہ اسکردو(بلتستان) ہے۔سب سے اہم ‘اسکے شمال میں بالکل مشرق کی جانب چین میں واقع درّہ قراقرم ہے جہاں سے گزرنے والی سڑک چین کے صوبہ سنکیانگ کو تبت سے ملاتی ہے۔ اسی درّہ سے مزید آگے شمال کے جانب چین اور پاکستان کو ملانے والی شاہراہِ ریشم یاقراقرم ہائی وے گزرتی ہے۔جنوب میں بھارت کا صوبہ ہماچل پردیش ہے۔لیہہ شہر تک پہنچنے کے لیے سری نگر سے لیہہ تک ایک بڑی شاہراہ موجود ہے۔ دوسری دشوار گزارسڑک جنوب میں بھارت کے ہماچل پردیش کے شہر منالی سے شمال کی جانب چلتی ہو ئی لیہہ تک پہنچتی ہے۔ دلی اور چندی گڑھ سے مسافر طیارے لیہہ کے ائیر پورٹ پر آتے جاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے پینتالیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا لیہہ کا علاقہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ہماری زراعت اور پانی کا سب سے بڑا وسیلہ دریائے سندھ تبت کے جنوب میں ایک جھیل سے شروع ہوکر لیہہ کے علاقہ میں داخل ہوتا ہے اورشمال کے جانب سینکڑوں کلومیٹر سفر کرتا ہو ا بلتستان میں داخل ہوتا ہے۔لیہہ کا چھوٹا سا شہر بھی دریائے سندھ کے بالکل قریب واقع ہے۔ دریائے سندھ کے کئی معاون دریا اور ندیاںجیسے دریائے شیوک‘ گلوان‘ زاسکروغیرہ لیہہ میں بہتے ہیں۔ یہ دریا گلیشیروں کے پگھلنے اور بارشوں سے پانی حاصل کرتے ہیں۔ بھارت ان دریاؤں اور ندی نالوں پر ڈیم بناکر دریائے سندھ کا بہاؤ کم کرسکتا ہے جیسا کہ اس نے چناب اور جہلم پر کیا ہے۔ گزشتہ دس بیس برسوں میں بھارت نے اس علاقہ میں اپنی سرگرمیاں تیزی سے بڑھا دی ہیں۔ دشوار گزار پہاڑی جگہوں پر نئی نئی سڑکیں ‘ فوجی چوکیاں‘جنگی طیاروں کیلیے ائیر فیلڈ بنائے ہیں۔ بھارتی لیڈرز بار بار پاکستان کو دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس تناظر میں یہ خطرہ موجود ہے کہ بھارت جلد یا بدیر دریائے سندھ کے پانی سے چھیڑ چھاڑ کرسکتا ہے۔جب بھارت نے دریائے چناب پر منصوبے بنانے شروع کیے تو پاکستانی بے خبر سوتے رہے۔ جب پراجیکٹ مکمل ہوگئے تو پاکستان نے ان کے خلاف شور مچانا شروع کیا۔ اگرلیہہ میں دریائے سندھ اور اسکے معاون دریاؤںپر ہم نے کڑی نظر نہ رکھی تو یہاں بھی بھارت وہی کھیل دہرا سکتا ہے۔ بھارت نے لیہہ کے مشرقی کنارے کے قریب انجینئرنگ کا شاہکار سمجھے جانے والی بڑی بڑی نئی سڑکیں بنائی ہیں جو اسکے شمال مشرق میں واقع آخری فوجی اڈہ تک جاتی ہیں۔ اس فوجی پوسٹ کو دولت بیگ اولڈی (ڈی بی او)کہا جاتا ہے۔ یہ اڈ ہ چین میں واقع درّہ قراقرم سے صرف آٹھ کلومیٹر نیچے جنوب میں واقع ہے۔ مطلب ‘ بھارت اگر چاہے تو اس فوجی اڈہ سے کارروائی کرکے درہ قراقرم کو بند کرسکتا ہے جس سے تبت اور سنکیانگ کا رابطہ کٹ جائے گا۔ اسکا نقصان صرف چین کو نہیں بلکہ پاکستان کو بھی ہوگا کیونکہ ہماری شاہراہ قراقرم بھی غیر محفوظ ہوجائے گی۔یہ سڑک سی پیک منصوبہ کا اہم ترین حصہ ہے۔ لیہہ کے مشرقی کنارے پر تبت کی سرحد کے قریب بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاںاس کے خطرناک عزائم کا پتہ دیتی ہیں۔ خاص طور سے جب وہ یکطرفہ طور پر جموں کشمیر ریاست اور لدّاخ کو اپنا باقاعدہ حصہ قرار دے چکا ہے۔ یہ خدشات موجود ہیں کہ دِلّی سرکار لیہہ میں امریکی فوجوںکو بھی سہولیات مہیا کرنا چاہتا ہے جنہیں چین کے خلاف استعمال کیا جاسکے گا۔ انہی خدشات کے پیش نظر چین نے لیہہ کے شمال مشرق میں واقع دریائے گلوان کے وادی میں پیش قدمی کرکے تقریبا چالیس مربع کلومیٹر کے علاقہ پر اپنی فوجی چوکیاں بنادی ہیں۔ پاکستان کے لیے لیہہ دفاعی اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اسکے شمال میںقریب ہی اسکردو واقع ہے اور ذرا مغرب کی جانب سیاچن گلیشئیرکو بھی راستہ جاتا ہے۔لیہہ اور اسکردو شہر سوا دو سو کلومیٹر فاصلہ پر ہیں لیکن ان کے اضلاع کی سرحد متصل ہے۔ اس کے قریب ہی ہمارا دیا مربھاشا ڈیم تعمیر ہورہا ہے۔ بھارت نے گلگت بلتستان کو اپنا علاقہ قرار دیا ہوا ہے۔ اس کے وزیر داخلہ امیت شاہ اپنی پارلیمان میں کھڑے ہوکر یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ان کا ملک گلگت بلتستان پر قبضہ کرے گا۔ دلی سرکار دیامر بھاشا ڈیم کی بھی مخالف ہے۔ بھارتی دفاعی ماہرین اکثر یہ کہتے ہیں کہ اُنکی فوج اسکردو پرآسانی سے قبضہ کرسکتی ہے۔ اس پس منظر میں بھارت کی لیہہ میں سرگرمیوں کا ایک بڑا ہدف پاکستان میں واقع بلتستان کا علاقہ بھی ہے۔چین کی موجودہ بروقت فوجی کارروائی صرف اسکی اپنی سلامتی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دفاع کے لیے بھی اہم ہے۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کو بھی بلتستان میں اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانا پڑے گا۔
Author: عائشہ ذوالفقار
-

پاکستان کے لیے لیہہ کی اہمیت تحریر:عدنان عادل
-

شوبز شخصیات کے بعد سیاسی شخصیات بھی ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر منقسم
پاکستان ٹیلی وژن پر یکم رمضان المبارک سے مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی ترک ڈرامہ ارطغرل غازی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جا رہا ہے-
باغی ٹی وی : پاکستان ٹیلی وژن پر یکم رمضان المبارک سے مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی ترک ڈرامہ ارطغرل غازی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جا رہا ہے اس پر جہاں پاکستان میں شوبز شخصیات کی مختلف راےئے سامنے آئیں ہیں، وہیں اب حکومتی شخصیات بھی سوشل میڈیا پر ترکی کے ڈرامے پر بحث کرتی د کھائی دے رہی ہیں-
چند روز پہلے سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری نے ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ بیرون ممالک کے ڈرامے ہماری مقامی انڈسٹری کو تباہ کردیں گے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی کسی بھی غیر ملکی ڈرامے پر فخر نہیں کر سکتا انہوں نے کہا تھا کہ حیرت زدہ دوسرے ممالک کی پروڈکشن پر فخر کرتے ہوئے ، آپ لوگوں کو پاک پروڈکشن پر توجہ دینی ہوگی بصورت دیگر غیر ملکی ڈرامے پاک پروڈکشن کو برباد کردیں گے ، غیر ملکی ڈراموں کو درآمد کرنا ہمیشہ ہی سستا ہے لیکن اس کا ہمارے ہی پروگرامنگ پر طویل عرصے تک تباہ کن اثر پڑتا ہے۔
تاہم ان کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور سینیٹ کی انفارمیشن براڈکاسٹنگ اور ہیریٹیج کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین فیصل جاوید خان ارطغرل غازی کو پی ٹی وی پر نشر کرنے کے حامی ہیں۔
1/3 Such great productions like Ertugrul @DirilisDizisi
will help our industry. We shld show some amazing work that has already been produced – Presenting Islamic History, Culture, Faith. Also this should be bilateral – exporting our content abroad. It's a win win trade. Cont.. https://t.co/6sZf4vM2Hi— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) May 31, 2020
فیصل جاوید خان نے فواد چوہدری کی ٹوئٹ کو شیئر کرتے ہوئے پی ٹی وی کی حمایت کی اور کہا کہ ارطغرل غازی جیسے ڈرامے ہماری ڈرامہ انڈسٹری کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔فیصل جاوید خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسلامی اقدار کے حوالے سے مواد کو نہ صرف نشر کرنا چاہیے بلکہ ایسا مواد تیار کرکے بیرون ممالک کو بھی فراہم کرنا چاہیے، ایسے منصوبے مشترکہ ہونے چاہیئیں۔
فیصل جاوید خان نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اچھے مواد کی تیاری پر کام کرنا چاہیے جیسے کہ اسلامی تاریخ ، ثقافت ، عقیدہ پیش کرنا وغیرہ ہماری انڈسٹری میں یہ صلاحیت موجود بھی ہے
…2/2 Also we need to work on our substance / content. Our drama industry is one of the best in the world in terms of talent, productions, direction etc. With great substance we can penetrate major markets across the globe. Cont…..
— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) May 31, 2020
ہمارا ڈرامہ انڈسٹری ٹیلنٹ ، پروڈکشن ، سمت وغیرہ کے لحاظ سے دنیا میں ایک بہترین ہے۔ اور ہم اس کی مدد سے عالمی مارکیٹ میں داخل بھی ہوسکتے ہیں۔….3/3 Awwww wish we had reacted when rubbish Indian content (low standard dramas, films, songs) was aired across our tv channels, cinema & radio. Our own people promoted "Games of Thrones" here. Why shld we object Ertugrul type content. Even PTV used to air Good English film
— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) May 31, 2020
پی ٹی آئی کے سینیٹر نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ کاش ہم ایسا ہی رد عمل بھارتی ڈراموں، فلموں اور گانوں پر بھی دیں۔انہوں نے لکھا کہ ہمارے اپنے لوگوں نے یہاں "گیمزآف تھرون” کی تشہیر کی۔ ہم کیوں ارطغرل قسم کے مواد پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ پی ٹی وی اچھی انگلش فلم کو نشر کرتا تھا-1/1 Just for the record Faisal Sb, we protested against indian dramas always, since the last 10 years or more.Back then twitter or social media n all wasnt that influential but that doesnt mean that the Protest or reactions never happened.
— vasay chaudhry (@vasaych) May 31, 2020
فیصل جاوید کی اس ٹویٹ پر اداکار و میزبان واسع چوہدری نے لکھا کہ ، ہم نے پچھلے 10 سالوں یا اس سے زیادہ عرصے سے ، ہمیشہ ہی بھارتی ڈراموں کے خلاف احتجاج کیا۔ بیک ٹویٹر یا سوشل میڈیا پر اس کا اثر و رسوخ نہیں تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ احتجاج یا رد عمل کبھی نہیں ہوا۔1/2 Ertugrul is a very entertaining series, I myself have seen more then 200 eps, The issue is NOT with the play, the issue is with PTV & the laws related to the entertainment buisness. You know it,so let's try to resolve that rather then making it about just Ertugrul.
— vasay chaudhry (@vasaych) May 31, 2020
واسع چوہدری نے مزید ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ارطغرل ایک بہت ہی اچھی سیریز ہے ، میں نے خود 200 اقساط سے زیادہ دیکھا ہے ، مسئلہ ڈرامے کا نہیں ہے ، مسئلہ پی ٹی وی کا ہے اور تفریحی کاروبار سے متعلق قوانین کا ہے۔ آپ کو معلوم ہے ، تو آئیے اس کو حل کرنے کی کوشش کریں –Yes Dear Brother! First we need to being the audience back on PTV as people had forgotten this channel due to poor content & quality. Substance, Content, Quality get you audience. Like all other institutions Our predecessors ruined PTV as well. PTV must revive itself now.
— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) May 31, 2020
واسع چوہدری کی اس ٹویٹ پر جاوید فیصل نے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ ہاں پیارے بھائی! پہلے ہمیں پی ٹی وی پر دوبارہ ناظرین کی توجہ دلانے کی ضرورت ہے کیونکہ ناقص مواد اور معیار کی وجہ سے لوگ اس چینل کو بھول گئے ہیں۔ مادہ ، مواد ، کوالٹی آپ کو سامعین بنائے۔ دوسرے تمام اداروں کی طرح ہمارے لوگوں نے بھی پی ٹی وی کو برباد کردیا۔ اب پی ٹی وی کی طرف لوگوں کا پہلے جیسا تحجان خود دلانا ہو گا –ارطغرل زبردست ڈرامہ ہے میری Tweet میں ارطغرل کا معاملہ ہی نہیں، میری پوزیشن ہمیشہ یہ رہی ہے کہ آپ غیرملکی ڈرامہ چلائیں لیکن اس پر اتنا ٹیکس ضرور ہو کہ ہمارا مقامی ڈرامہ متاثر نہ ہو اگر تمام ٹیوی باہر سے سستے ڈرامے خرید لیں گے تو ہماری تو پوری انڈسٹری بیٹھ جائیگی https://t.co/mDJ1ldGoEA
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) May 31, 2020
دوسری جانب فواد چودھری کی اس ٹویٹ پر کہ پی ٹی وی کسی بھی غیر ملکی ڈرامے پر فخر نہیں کر سکتا پر ٹویٹر صارف نے ان کی ایک ارطغرل کی تعریف کمیں کی گئی ٹویٹ شئیر کرتے ہوئے وفاقی وزیر کو ان کی بات یاد دلائی جس پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ ارطغرل زبردست ڈرامہ ہے میری ٹویٹ میں ارطغرل کا معاملہ ہی نہیں، میری پوزیشن ہمیشہ یہ رہی ہے کہ آپ غیرملکی ڈرامہ چلائیں لیکن اس پر اتنا ٹیکس ضرور ہو کہ ہمارا مقامی ڈرامہ متاثر نہ ہو اگر تمام ٹیوی باہر سے سستے ڈرامے خرید لیں گے تو ہماری تو پوری انڈسٹری بیٹھ جائیگیواضح رہے کہ ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی ہے۔ ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے
اداکار منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا
ارطغرل غازی: لوگوں کو سرحدوں کی بجائے مواد پر فوکس کرنا چاہیئے نیلم منیر
ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے ڈاکٹر شہباز گل
-

بشری انصاری کو پاکستان کی یاد ستانے لگی
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور گلوکارہ بشری انصاری اس وقت ملک سے باہر ہیں ان کا اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہنا ہے کہ ان کو پاکستان کی بہت یاد آ رہی ہے لیکن وہ نہیں آسکتیں کیوں کہ پاکستانی عوام بازاروں میں پھر رہی ہیں احتیاط نہیں کر رہی-
ناغی ٹی وی: پاکستان کی معروف اور نامور اداکارہ اور گلوکارہ بشری انصاری نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں ادکاراہ کا کہنا تھا کہ وبائی مرض کورونا میں ماسک پہننے کی وجہ سے نہ تو کسی میک اپ کا مزہ ہے نہ کسی لپ اسٹک کا مزہ ہے لیکن بات یہ ہے کہ یہ سب بہت خوبصورت ہے لیکن پھر بھی پاکستان کی بہت یاد آتی ہے-
ماسک لگانے سے شکل کوے جیسی لگتی ہے لیکن کیا کریں وبائی مرض کورونا سے بچاو کے لیے ماسک لگانا ضروری ہے #covid19 @BushraAnsari10 https://t.co/F8yaCeOynr pic.twitter.com/cHsCZHxIBE
— Ayesha (@Ayesha701900053) June 2, 2020
بشری انصاری کا ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ پاکستان واپس اس لئے نہیں آ سکتیں کیونکہ آپ لوگ (پاکستانی عوام) بازاروں میں پھر رہے ہیں آپ لوگ کورونا کو نہیں سمجھ رہے اس کو سیریس نہیں لے رہےانہوں نے کہا کہ آپ لوگوں نے اس وبا کو وہم اور مذاق سمجھ رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ بہت پھیل گیا ہے اور اس کی وجہ سے ہم ادھر اٹک گئے ہیں کہ ہم واپس کیسے جائیں ہم ڈر رہے ہیں سوچ رہے ہیں کہ کب جائیں سب کہہ رہے ہیں کہ مت جاؤ-
اداکارہ نے پاکستانی عوام کو الزام دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی وجہ سے واپس نہیں آ رہی-
انہون نے عوام سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پلیز اس کو بچائیں اس کو پھیلنے سے روکیں گھر میں رہیں احتیاط کریں انہوں نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ہم تو ڈر کے مارے ماسک لگا کر بیٹھے ہیں اس میں اتنی بُری شکل لگتی ہے ایسے لگتا جیسے کوا بیٹھا لیکن کیا کریں لگانا پڑے گا مجبوری ہے-
لاک ڈاؤن کے دوران نئی چیزیں سیکھنے کا نتیجہ ہے کہ اب میں سچائی کا سامنا کرسکتا ہوں امیتابھ بچن
کورونا وائرس: پاکستان سمیت 7 ممالک کے فنکاروں کا مشترکہ گانا ریلیز
-

پشتو کے مشہور شاعر سید عابد علی شاہ عابد انتقال کر گئے
پشتو کے مشہور شاعر سید عابد علی شاہ عابد 83 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
باغی ٹی وی : نامور مصور اور پی این سی اے کے سابق ڈی جی جمال شاہ کے بڑے بھائی اور پشتو کے مشہور شاعر سید عابد علی شاہ عابد انتقال کر گئے- آج صبع چھ بجے حرکت قلب بند ھونے کے بعد83 سال کی عمر میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔
عابد علی شاہ عابد سید یار محمد شاہ اور نور جہان بی بی کے بڑے صاحبزادے تھے عابد علی شاہ عابد پشتو و اُردو کے شاعر اور ادیب ہونے ساتھ ساتھ وہ پشتو اکیڈمی بلوچستان کے سابق چئرمین بھی رہے
عابد علی شاہ عابد کے سوگواران میں مصور و مجسمہ ساز مُبارک شاہ اور چار بیٹیاں نواسیاں اور نواسوں کو چھوڑ گئے مرحوم کی تدفین کوئٹہ میں کردی گئی۔
-

رفیع خاور المعروف ننھا کو مداحوں سے بچھڑے34 برس بیت گئے
پاکستان شوبز انڈسٹری کے لیجنڈری اداکاررفیع خاور المعروف ننھا کو مداحوں سے بچھڑے34 برس بیت گئے۔
باغی ٹی وی :پاکستان شوبز انڈسٹری کے لیجنڈری اداکاررفیع خاور المعروف ننھا کو مداحوں سے بچھڑے34 برس بیت گئے۔ اداکارننھا نے اپنے فلمی کیرئیرکا آغاز 1966 میں فلم وطن کا سپاہی سے کیا –
اداکار ننھا کو 1975میں فلم نوکر نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا- فلم سالا صاحب میں ننھا کی اداکارعلی اعجاز کے ساتھ جوڑی کو بھی بہت پسند کیا گیا یہ فلم لاہور میں مسلسل 300 ہفتے تک زیر نمائش رہی –
رفیع خاور عرف ننھا کی مشہورفلموں میں سالا صاحب ،سونا چاندی،چوڑیاں ،سوہرا تے جوائی،دوستانہ ،مہندی اور متعدد فلمیں شامل ہیں اداکار نے اپنے دور کی تمام ہیروئنوں کے ساتھ کردار نبھائے لیکن انکی جوڑی نازلی کے ساتھ زیادہ پسند کی جاتی تھی۔
انہوں نے اپنے عروج میں 2 جون 1986 کو خود کشی کرلی تھی-
-

جو رشتہ خدا کو پسند ہے اس رشتے پر آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے آغا علی
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معراف اداکار اور گلوکار آغا علی نے صدف کنول اور شہروز سبزواری پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھنا چاہیئے۔
باغی ٹی وی : پاکستانی نامور اداکارہ حنا الطاف کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے اداکار آغا علی نے صدف کنول اور شہروز سبزواری پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سیکھنا چاہیئے۔ اداکار کا کہنا تھا کہ برائے مہربانی کسی کا مذاق اُڑانے اور کسی کے حساس مسئلے کو عوامی بنا کر بے عزت کرنے سے پہلے سوچیں کہ ایسا آ پ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
https://www.instagram.com/p/CA6KgzNByY4/?igshid=1lze82uhinwe6
اداکار نے اپنی انسٹا گرام سٹوری پر ایک طویل پیغام شئیر کیا انہوں نے لکھا کہ کسی کی ذاتی زندگی میں کیا چل رہا ہے، وہ کوئی فیصلہ کن وجوہات کی بناء پر لے رہا ہے، اس کا دل کس بات پر کتنا دُکھا ہے، یا وہ کسی فیصلے سے کتنا خوش ہے؟ یہ صرف وہ انسان خود، اس کے قریبی لوگ یا خدا کی ذات جانتا ہے۔آغا علی نے تنقید کرنے والوں نے درخواست کرتے ہوئے لکھا کہ برائے مہربانی کسی کا مذاق اُڑانے اور کسی کے حساس مسئلے کو عوامی بنا کر بے عزت کرنے سے پہلے سوچیں کہ ایسا آ پ کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ جو رشتہ خدا کو پسند ہے اس رشتے پر آپکو اعتراض ہے تو نہیں ہونا چاہئے کوئی انسان کوئی بھی رشتہ خوشی سے نہیں توڑتا ان کی خوشی میں خوش ہونا سیکھیں
اداکار و گلوکار نے صدف کنول اور شہروز سبزواری کی نئی زندگی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ آپ دونوں کیلئے آسانیاں پیدا کرے-
آغا علی نے اداکار نے شہروز کی سابقہ اہلیہ سائرہ یوسف اور ان کی بیٹی نور کے بہتر مستقبل کیلئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں سائرہ کے لئے بھی دعا گو ہوں کہ انہیں وہ ملے جس کی وہ مستحق ہیں اور اللہ ان کی بیٹی کو بہتر مستقبل سے نوازیں آمین-
واضح رہے کہ اداکار آغا علی خان اور ادکارہ حنا الطاف نے جمعۃالوداع کو نکاح کر کے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے

شوبز انڈسٹری کی ایک اور جوڑی قرنطینہ میں شادی کے بندھن میں بندھ گئی
-

شہروز کی شادی سے سائرہ کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے سائرہ کے پاس اب بھی اربوں آپشنز موجود ہیں فیروزخان
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان کا کہنا ہے کہ شہروز کی شادی سے سائرہ کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے کیونکہ سائرہ کے پاس اب بھی اربوں آپشنز موجود ہیں ۔
باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار فیروز خان کا صدف کنول اور شہروز کی شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا ہے کہ شہروز کی شادی سے سائرہ کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے کیونکہ سائرہ کے پاس اب بھی اربوں آپشنز موجود ہیں ۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکار نے مداحوں کیلئے سوال جواب کا ایک سیشن رکھا جس میں انہوں نے مداحوں کے سوالوں کے جواب دیئے۔
ایک مداح نے اداکار سے شہروز سبزواری اور صدف کنول کے نکاح کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے نئے جوڑے کے رشتے پر ان سے رائے پوچھی۔ فیروز کے مطابق لوگوں کو صدف، شہروز اور سائرہ تینوں کو تنہا چھوڑنا چاہیئے۔
فیروز خان نے انسٹا گرام سٹوری میں لکھا کہ بعض اوقات لوگ بہت مضحکہ خیز باتیں کرنے لگ جاتے ہیں، جو غلط ہے۔

انہوں نے لکھا کہ اگر سائرہ نے علیحدگی اختیار کر کے نئی زندگی شروع کی ہے تو مجھے یقین ہے کہ سائرہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اُن کے پاس بھی اربوں آپشنز موجود ہیں۔فیروز خان کا کہنا تھا کہ ہمیں خود کو اپنے تک ہی محدود رکھنا چاہئے ۔
واضح رہے کہ حال ہی میں صدف کنول اور شہروز سبز واری رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے تھے ، جس کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پرکیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا لوگوں کی تنقید کے جواب میں شہروز سبز وای نے ایک ویڈیو بھی پیغام بھی جاری کیا تھا جس میں انہوں واضح کیا تھا کہ ان کی اور سائرہ کی علیحدگی کی وجہ صدف کنول نہیں تھی بلکہ ان کے درمیان طلاق کی وجہ بہت ذاتی معاملہ تھا-
سائرہ یوسف کو طلاق، صدف کنول سے نکاح کرنے پر شہروز سبزواری دونوں پر تنقید جاری
-

میری اور سائرہ کی طلاق کی وجہ صدف کنول نہیں شہروز سبز واری
شہروز سبزواری اور صدف کنول دو روز قبل رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے تھے، جس کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پرکیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا-
باغی ٹی وی : شہروز سبزواری اور صدف کنول دو روز قبل رشتہ ازدواج سے منسلک ہوگئے تھے، جس کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پرکیا تھا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا- جس کے بعدشہروز سبزواری نے اس حوالے سے ایک انسٹاگرام ویڈیو پر اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ میری اور سائرہ یوسف کے درمیان ہونے والی علیحدگی کی وجہ صدف کنول نہیں تھیں۔
https://www.instagram.com/tv/CA5lik7Hh1O/?igshid=1bng92luo6aum
شہروز نے کہا میں اور سائرہ اگست 2019 میں الگ ہوگئے تھے اور اس کی وجہ کوئی خاتون یا صدف نہیں تھی۔شہروز سبزواری نے کا کہا کہ اس ویڈیو کو بنانے کے یچھے مقصد اپنا اور خاندان کا دفاع کرنا ہے اور مجھے اس کا حق حاصل ہے۔میرے خاندان اور میرے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے میں اس کا دفاع کروں گا کیونکہ میں ایک سچا آدمی ہوں ۔
اداکار نے تنقید کرنے والوں کو کہا کہ سائرہ کے ساتھ اس کی علیحدگی کی وجہ دھوکہ تھا تو میرے سامنے بیٹھیں اور دلیل سے ثابت کرکے دکھائیں۔ صدف کنول سے ان کی ملاقات سائرہ سے علیحدگی کے 3 یا 4 مہینوں کے بعد ہوئی تھی اور اس وقت بھی وہ بس ایک کولیگ تھیں۔
شہروز کے مطابق سائرہ اور ان کے درمیان طلاق کی وجہ بہت ذاتی معاملہ ہے میں اس کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا مگر اس معاملے پر ہمارے اختلافات ختم نہیں ہوسکے۔
انہوں نے ویڈیو میں مزید کہا کہ اس ویڈیو کو بنانے کا ایک مقصد ان کی بیٹی بھی ہے تاکہ اگر مستقبل میں اس طرح کی افواہیں سن کر کچھ اُن کی بیٹی نے تمام سوشل میڈیا پر کئے جانے والے رد عمل پر سوال اٹھایا کہ بابا یہ کیا ہے ؟ تو جواب میں اپنی بیٹی کو یہ ویڈیو دکھاؤں گا۔
واضح رہے کہ مارچ 2020 میں سائرہ یوسف اور شہروز سبزواری نے ایک ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی طلاق کی تصدیق کی تھی انسٹا گرام پر دونوں نے ایک جیسے ہی پیغام میں مداحوں کو بتایا تھا کہ اب وہ میاں اور بیوی نہیں رہے اور ان کے درمیان باقاعدہ طور پر طلاق ہوگئی۔
دونوں نے اپنی شادی ختم کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا اور مداحوں سے گزارش کی کہ ان کی ذاتی زندگی کا خیال رکھا جائے اور ان کی طلاق پر افواہیں یا غلط معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔دونوں نے کہا تھا کہ شادی کو ختم کرنا دونوں کے لیے مشکل فیصلہ اور مرحلہ تھا تاہم وہ امید کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے اثرات ان کی اکلوتی بیٹی پر نہیں پڑیں گے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر افوہیں گردش میں تھیں کہ شہروز سبزواری اور ماڈل صدف کنول کے درمیان تعلقات کی وجہ سے اداکار سے سائرہ یوسف نے علیحدگی اختیار کی تھی، جس کے بعد دونوں کے درمیان اختلاف مزید شدید ہوئے تو دونوں میں طلاق ہوگئی۔
سائرہ یوسف کو طلاق، صدف کنول سے نکاح کرنے پر شہروز سبزواری دونوں پر تنقید جاری
شہروز سبزواری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں صدف کنول نے افواہوں کی تردید کر دی
شہروز ، سائرہ اور صدف کے بیچ اصل کہانی کیا ہے، پڑھیے اس خبر میں
سائرہ اور شہروز سبزواری نے سوشل میڈیا پراپنی طلاق کی تصدیق کر دی
-

میں اب کبھی پی آئی اے پر سفر نہیں کروں گی کیونکہ اس کو سفارشی ٹولا چلا رہا ہے ماہین خان
پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر ماہین خان نے کہا ہے کہ اب میں دوبارہ پھر کبھی ان کے طیاروں پر سفر نہیں کریں گی کیونکہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو سفارشی ٹولا چلا رہا ہے-
باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر ماہین خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ گزشتہ 30 سال میں پی آئی اے میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور اپنے ہی رشتہ داروں کو ملازمتیں دی گئیں۔
For over 30 years jobs have been given in PIA to political favourites or their relatives .Shocking that a airline is run by "sifarashies." Shameful disregard for lives alive or not as seen in the way the bereaved families are being treated after the crash
— Maheen Khan (@Maheenkhanpk) June 1, 2020
انہوں نے لکھا کہ وہ حیران ہیں کہ کس طرح پی آئی اے کو سفارشی ٹولے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کراچی میں ہونے والے پی آئی اے کے طیارہ حادثے پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ یہ نہایت شرمناک بات ہے کہ حادثے میں چلے جانے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا ہے۔
I'm never flying @Official_PIA again .
— Maheen Khan (@Maheenkhanpk) June 1, 2020
فیشن ڈایزائنر نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں اعلان کیا کہ اب وہ دوبار پی آئی اے کے طیاروں میں کبھی بھی سفر نہیں کریں گی۔ماہین خان نے کراچی طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایک شخص کی بہن کی ویڈیو بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی ، جس میں وہ اپنے بھائی کی لاش وصول کرنے میں درپیش مشکلات پر بات ک رہی ہیں۔
Shame ! Shame @Official_PIA Shame @SindhCMHouse Shame Federal government https://t.co/i7lUTE503W
— Maheen Khan (@Maheenkhanpk) June 1, 2020
ویڈیو میں خاتون نے کہا کہ پی آئی اے طیارے میں ان کے بھائی مرزا وحید شاہ بیگ بھی سوار تھے اور انہیں حادثے کا علم خبروں کے ذریعے ہوا تھا۔خاتون نے کہا کہ پی آئی اے نے اس حوالے سے کوئی بھی ہیلپ ڈیسک قائم نہیں کیا اور نہ ہی اس بات کا خیال رکھا جا رہا ہے کہ جن کے پیارے حادثے میں چلے گئے ان کے غمزدہ لواحقین کے ساتھ کس طرح بات کی جانی چاہیے۔
خاتون کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے مدد تو دور کی بات بلکہ وہ لواحقین کے عزیزوں سے بدتمیزی سے پیش آ رہے ہیں اور رشتہ داروں کی جانب سے کوئی بھی سوال پوچھے جانے پر پی آئی اے انتظامیہ ان کے ساتھ نامناسب انداز میں بات کر رہے ہیں۔
یہ ویڈیو شئیر کرتے ہوئے ماہین خان نے بھرپور غصے کا مظاہر کیا اور پی آئی اے اور فیڈرل گورنمنٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا-
No magic wand can reform #PIA .it is so seriously termite infested one day it will crumble away by itself https://t.co/QSep5hOPd2
— Maheen Khan (@Maheenkhanpk) June 1, 2020
ماہین خان ایک اور ٹویٹ میں پی آئی اے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ کوئی جادوئی چھڑی پی آئی اے کی اصلاح نہیں کرسکتی ہے .یہ ایک دن اتنی سنجیدگی سے دیمک کی طرح خود ہی ٹوٹ جائے گیواضح رہے کہ 22 مئی 2020 کو جمعۃ الوداع کی دوپہر کو لاہور سے کراچی جانے والا پی آئی اے کا طیارہ اے 320 ایئربس کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوا تھا۔
طیارے میں 99 مسافرین اور عملے کے ارکان سوار تھے، جس میں سے 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ 2 مسافر معجزانہ طور پر بچ گئے تھے
طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والی ادکارہ و ماڈل زارا عابد کی پہلی شارٹ فلم ریلیز
-

میری صحت سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں ندا یاسر
عالمی وبا کورونا کا شکار ہونے والی پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف میزبان ندا یاسر نے خرابی صحت کے حوالے سے زیر گردش افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے شکر اور مداحوں کی دعا سے میں بلکل ٹھیک ہوں اور میری صحت سے متعلق غلط خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔
باغی ٹی وی : عالمی وبا کورونا کا شکار ہونے والی پاکستان کی معروف میزبان ندا یاسر کی صحت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ میزبان اور ان کے شوہر یاسر نواز میں کورونا کی علامات شدید ہونے پر طبیعت بگڑ گئی ہے۔
ان کی صحت کے حوالے سے گردش کرنے والی ویڈیوز میں دعوی کیا گیا تھا کہ یاسر نواز کے مقابلے ندا یاسر کی طبعیت زیادہ خراب ہوچکی ہے
اپنی صحت سے متعلق افواہیں پھیلنے کے بعد ندا یاسر نے انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ میں یہ کلئیر کرنا چاہتی ہوں ہوں کہ اللہ کا شکر ہے میں بالکل ٹھیک ہوں۔
https://www.instagram.com/p/CA4o4-jJVyg/?igshid=qvu80hesu2ic
ندا یاسر نے لکھا کہ آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں میں اور میرے تمام اہل خانہ کی صحت ٹھیک ہے لوگ میری صحت کے متعلق غلط خبریں پھیلا رہے ہیں ہم گھر پر ہی ہیں-واضح رہے کہ گزژتہ ماہ کے آخر میں اداکارہ نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی تھی کہ وہ اور ان کے شوہر یاسر نواز اور بیٹی کورونا کا شکار ہو گئے ہیں اور اب وہ گھر میں ہی آئسولیشن میں ہیں-
اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری