Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • یہ خوشیاں تم بن ادھوری  قلمکار: عاشق علی بخاری

    یہ خوشیاں تم بن ادھوری قلمکار: عاشق علی بخاری

    یہ خوشیاں تم بن ادھوری

    قلمکار: عاشق علی بخاری

    عید الفطر ہو یا بقرعید یا پھر خوشی کا کوئی تہوار والدین کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے. اکثر ان مواقع پر اولاد فرطِ جذبات سے نڈھال ہوکر افسردہ اور آنسو بہاتی نظر آتی ہے. والدین کی قربانیوں پر جس قدر بھی خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے. صرف انسان کا ان کے توسط سے دنیا میں آنا ہی اتنی بڑی نعمت ہے انسان خصوصاً مرد تو گمان بھی نہیں کرسکتا. ذرا سوچیں! ایک شخص گمنامی سے نکل کر اچانک پورے معاشرے میں مشہور ہوجائے اس کی خوشی کی کیا انتہاء ہوگی؟
    والدین بھی ہمیں عدم سے عالم دنیا میں لانے کا واحد ذریعہ ہیں اگر آج وہ نہ ہوتے تو ہماری کوئی پہچان بھی نہ ہوتی.
    ایک جوڑے کی شادی کے بعد سب سے پہلی تمنا اولاد ہوتی ہے، یعنی ہمارے بننے والے والدین سب سے پہلے ہمارے متعلق سوچتے ہیں. کلام مجید والدین کے تذکرے سے بھرپور ہے وہاں سے ہم سیکھ کر والدین کی قدر و منزلت کو پہچانیں اور ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اچھی اولاد ثابت ہوں. ان کے لئے نیک نامی اور آخرت میں درجات کی بلندی کا باعث بنیں. سال بسال ایصال ثواب نہیں بلکہ ہر روز فرائض و نوافل کے ذریعے اپنے والدین کے اکاؤنٹ میں نیکیاں منتقل کرنے کا سبب بنیں. اس کے ساتھ ساتھ قرآنی دعا رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا پڑھتے رہیں ایک تو اس دعا کو باترجمہ پڑھنے سے اپنے بچپن کے گزرے ایام یاد رہیں گے کہ کس طرح والدین نے محنت، مشکلات کے ساتھ ہمیں پالا دوسرا ان کے لئے اللہ رب العالمین سے رحم کی اپیل ہوگی. والدین کی مشکلات اگر دیکھنی ہوں تو ایک مثال سے سمجھیں، راستے میں کھڑا درخت ہر گزرنے والے کو ہرا بھرا، مضبوط اور لہراتا نظر آتا ہے لیکن پس منظر میں اس پر پڑنے والی دھوپ، بارش، تیز ہواؤں کے جھکڑ، بدلتے موسموں کے تغیرات کسی کو نظر نہیں آتے. والدین دن، رات سردی، گرمی اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے انتھک محنت کرتا ہے اور والدہ کی تمام مشکلات ایک طرف بچے کی پیدائش کا مرحلہ ایک طرف اور جب ہم اپنی والدہ کے ہاتھوں میں آتے ہیں تو کوئی شخص بھی نہیں کہہ سکتا کہ مکمل نو مہینے اور پھر پیدائش کے تکلیف دہ مراحل سے گزر کر ہمارے دنیا میں آنے کا باعث بنی ہے.
    ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے چند تہوار یا مخصوص ایام کیا حیثیت رکھتے ہیں؟

  • ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    ڈاکٹرز یا قصائی، کرونا کے نام پر لوٹ مار کی کہانی ، آپ بیتی از قلم انس عبدالمالک

    یہ الفاظ لکھتے ہوئے دل رو رہا ہے. ہاتھ کانپ رہے ہیں.
    ( ان الفاظ کا مقصد مایوسی پھیلانا یا متنفر کرنا نہیں ہے بلکہ اپنے آپ پہ جو بیتا ہے وہ سنا رہا ہوں)

    حضراتِ ذی وقار…….

    مرنا ہو تو گھر میں اپنے پیاروں کے پاس مر جائیں لیکن ہسپتال نا جائیں. کورونا موجود ہو گا اس سے انکاری نہیں ہوں لیکن ذیل میں چند ایک باتیں ہیں جو دل کو دہلا رہی ہیں. اور حقیقت بات ہے جب تک خود پہ نا گزرے کسی کو یقین نہیں آتا..

    پرسوں ہماری فیملی میں ایک فوتگی ہوئی…
    مرحوم کو کھانسی اور معمولی سا چھاتی کا انفیکشن تھا. ان کو ہسپتال لے جایا گیا. اور ان کے بھائی ملکی حالات کو بہت اچھے سے جانتے تھے. آپ یقین کیجیے پیسے دے کر زبردستی کر کے ہر لمحہ، ایک ایک پل مرحوم کے بھائی ان کے ساتھ سائے کی طرح چمٹے رہے.
    وہی حسب روایت ان کو بھی کورونا کا مریض بتلا دیا گیا. اب انکا ہسپتال میں علاج شروع ہوا. اور قابل ڈاکٹرز نے یہ تجویز کیا کہ کینسر اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو جو انجیکشن لگائے جاتے ہیں وہی انجیکشن ان کو بھی لگائے جائیں تا کہ یہ فوراً سے ٹھیک ہو جائیں. 15 کی تعداد میں وہ انجیکشن منگوائے گئے. اور یقین کیجئے صرف 2 انجیکشن لگانے سے ہی ان کی حالت اتنی غیر ہو گئی تھی کہ وہ باللہ نیم جان ہو گئے تھے. ان کے بھائی نے اپنے کسی عزیز (ڈاکٹر اور فارمیسی کے ماہر) کو میڈیکل رپورٹس اور انجیکشنز اور میڈیسن بتائے کہ یہ ادویات استعمال ہو رہی ہیں. یقین کیجئے وہ عزیز چیخ اٹھے کہ یہ کیا استعمال کر رہے ہو یہ تو بالکل غلط ادویات اور انجیکشنز ہیں . انہوں نے فوراً سے ہسپتال کے عملے کو بتلایا کہ یہ غلط ادویات اور انجیکشنز ہیں اور عملے کا جواب ملاحظہ کیجئے "اوہ واقعی آپ درست کہہ رہے ہیں. یہ تو غلط ہیں” اور یہ کہنے کے باوجود تیسرا انجیکشن بھی لگایا گیا. اس کے بعد ان کے کولیسٹرول، کیلشیم اور شوگر کے ٹیسٹ کئے گئے. اور آپ یقین کیجئے ان کا کولیسٹرول لیول 1000 سے اوپر تھا. (کولیسٹرول کا نارمل لیول 200 سے بھی کم ہوتا ہے) اور کیلشیم تو اس قدر زیادہ بڑھ گئی تھی کہ قابلِ بیان ہی نہیں ہے. آپ ذرا انصاف کیجئے گا کیا یہ ڈاکٹرز ہیں یا قصائی. اور ان کے عزیز ان کو بالکل بھی اکیلا نہیں چھوڑ رہے تھے ایک لمحے کیلئے بھی کہ. کہیں ہسپتال والے کوئی بیغرتی نا کر دیں. اندر موجود بھتیجے نے اپنے چچا کو بولا کہ چچا جان آپ اندر آئیں مجھے کسی کام سے جانا ہے. بھتیجے کے باہر آنے اور چچا کے اندر جانے تک انہوں نے مریض کے منہ پہ کپڑا ڈال کر انہیں مردہ قرار دے دیا تھا.

    آج سے پہلے مریض کا گلا دبا کر مارنے والی ویڈیو جھوٹ لگ رہی تھی. آج سے پہلے لوگوں کا چیخ چیخ کر چلانا کہ ہمیں کورونا نہیں ہے غلط لگ رہا تھا. لیکن آج…… آج وہ تمام باتیں وہ سب کچھ سو فیصد درست لگ رہا ہے.. واللہ گھر میں مر جائیے بجائے اس کے کہ آپ ان قصائیوں کے ہاتھوں اپنی جان کو ختم کروائیں…. اور پھر ڈیڈ باڈی کا حصول بھی ایک ایسا مسئلہ بن جاتا ہے کہ لواحقین تڑپتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارا پیارا کورونا سے پاک ہے. ہمارے پاس کورونا نیگیٹو کی رپورٹس بھی ہیں لیکن نہیں…… یہ جلاد اور دجال نما درندے کسی کی آہ و بکا پہ کان نہیں دھرتے ہیں.

    ایک اور فوتگی ہوئی….. مارکیٹ کا نوجوان لڑکا….. ہلکی سی کھانسی کی وجہ سے صرف احتیاط کی بنا پر کہ کورونا کو ٹیسٹ کروا لیا جائے… انہوں نے اسی وقت کورونا مریض بتلا کر زبردستی ہسپتال میں داخل کر لیا. وہ چیختا رہ گیا کہ میں خود موٹر-سائیکل چلا کر اپنے پاؤں پہ چل کر ہسپتال آیا ہوں وہ بھی صرف شک کی بنا پر. خدارا مجھے جانے دو….. اور آپ یقین کیجئے صرف اڑھائی گھنٹے میں صرف 150 منٹوں میں اس چلتے پھرتے نوجوان کو موت کی وادیوں میں اتار دیا………
    وہ. بیچارہ چیختا رہا، چلاتا رہا کہ میری جیب میں بائیک کی پارکنگ کا ٹوکن پڑا ہوا ہے. خدارا مجھے جا لینے دو لیکن مسیحائی کے نام پہ بیٹھے ان انسانیت دشمنوں اور سفاکیت کی انتہاؤں کو چھوتے ڈاکٹروں نے اس کی موت کا بندوبست کر کے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا…. (موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اس طرح کسی کو مار دینا اور سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے کہہ دینا کسی بھی طرح قابلِ برداشت نہیں ہے. اگر یہی بات ہے تو پھر پستول ہاتھ میں لے کر روڈ پہ نکل جاؤ اور گولیاں چلاتے جاؤ. اگر کوئی شکایت کرے تو یہی جواب دینا کہ موت تو اللہ کی طرف سے طے اور مقرر شدہ ہے )
    وہ کورونا کہ جس کا مریض 14 دن بعد کسی پیچیدہ صورتحال میں گرفتار ہوتا ہے وہ صرف 150 منٹوں میں لقمہ اجل بن گیا………
    آج کوئی حکومتی نگران یا حکومتی کارندہ کورونا پازیٹو ہو تو وہ خود کو گھر میں آئسولیٹ کرتا ہے لیکن عام عوام کو زبردستی ہسپتال میں ڈال کر موت کے حوالے کر دیا جاتا ہے……

    میری نہایت عزیز ترین اور قریب ترین شخصیت…. ان کو ہسپتال لے جایا گیا… کورونا پازیٹو بتایا گیا… لیکن ایک واقفیت کی بنا پر ہم انہیں گھر لے آئے… ایک واقفیت والے بندے کی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے تو وہ اسی لمحہ نیگٹو آئے…..
    فیصلہ آپکا ہے……
    اپنے پیاروں سے دور….
    ان جلادوں کے پاس تڑپتے بلکتے، تکلیف سے کرلاتے اور سسکتے سسکتے مرنا چاہتے ہیں یا اپنے پیاروں کے پاس ان کے پیار محسوس کرتے ہوئے ان کی گود میں مرنا چاہتے ہیں. جب مرنا ہے تو اپنے پیاروں کے پاس مرو.

    یہ وہ سب باتیں ہیں جو آنکھوں دیکھی اور خود بیتی ہیں. کم از کم میں ان سب باتوں کی تردید نہیں کر سکتا اور میں ان تمام سوشل میڈیا پہ چیخنے والوں کا درد محسوس کر سکتا ہوں اور انکی تمام باتوں کی تائید کرتا ہوں.
    باقی آپ کا فیصلہ اپنا ہے…

  • پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریک فیمنزم سے متعلق لوگوں کو غلط فہمی ہے ، عائشہ عمر

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریک فیمنزم سے متعلق لوگوں کو غلط فہمی ہے ، عائشہ عمر

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ عائشہ عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریک فیمنزم سے متعلق لوگوں کو غلط فہمی ہے

    باغی ٹی وی :معروف اداکارہ عائشہ عمر نے حال ہی میں ایک شو میںتابش ہاشمی کے ساتھ کے ساتھ گفتگو کی جس میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ شوبز انڈسٹری کے بارے میں بھی کچھ باتوں کو واضح کیا۔

    زندگی گلزار ہائے اداکار نے بھی ہلکے پھلکے لہجے میں کچھ سنجیدہ باتوں میں انٹر فئیر کیا ، اور اس بارے میں بات کی کہ کچھ پاکستانیوں میں نسوانی حقوق کے بارے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے۔

    انہوں نے کہا کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ "ان کے خیال میں حقوق نسواں انسانیت پسند ہیں مردوں سے نفرت کرنے یا ان کا خیال ہے کہ مردوں کو ختم کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق نسواں ایک تحریک ہے ، ایک عقیدہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہئیں ، ”

    عائشہ عمر نے اپنے ایک انٹر ویو میں دیئے گئے پہلے بیان پر بھی روشنی ڈالی ، جہاں انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں بھی انڈسٹری میں ہراساں کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کوئی نام نہیں لیا۔

    عائشہ عمر نے کہا "مجھے نہیں لگتا کہ میں ابھی کسی کا نام لینے کے لئے اتنی مضبوط ہوں… میں نہیں چاہتی کہ اس طرف میری طرف توجہ دی جائے ،” عائشہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب میشا شفیع اپنی کہانی کے ساتھ باہر آئیں تو انھوں نے اتنا کچھ کیا۔ .

    "مجھ سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ کیا میں اس کی کہانی پر یقین رکھتی ہوں ، اور میں صرف اتنا سوچتی ہوں کہ جب کوئی جنسی ہراسانی کا شکار ان کی طرح کہانی لے کر آئے گا ، تو میں اسے سننا چاہوں گی۔ میں فوراً. ایسا نہیں بنوں گی کہ کہوں ، ‘اوہ ، وہ جھوٹ بول رہی ہے!’

    اس کے بعد اس نے میشا شفیع نے یہ بات پوچھی کہ کیا انڈسٹری میں ایسی چیزیں رونما ہوتی ہیں؟ “میں نے کہا ، ہاں ، یقینا یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا یہ میرے ساتھ ہوا ہے ، اور میں نے کہا ، ہاں۔

    عائشہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انڈسٹری میں بہت سارے تجربہ کار اداکاراؤں کا رجحان مشکوک ریکارڈ رکھنے کا ہوتا ہے ، جب ان سے کسی ایسے شخص کا نام بتانے کو کہا جاتا ہے جو مستقبل میں نام لیا جاسکتا ہے۔ ا نہوں نے کسی کا نام لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ” بے شمار ہیں (ایسے بے شمار نام موجود ہیں! ″)

    عائشہ نے عمر نے ساتھ ہی ، اپنی اور ساتھی انڈسٹری کی دوست ماریہ واسطی کی لیک ہونے والی تصاویر کے گرد برسوں پرانے تنازعہ کو بھی دور کیا – دونوں کو تھائی لینڈ کے ساحلوں پر ایسے کپڑوں میں دیکھا گیا تھا جو پاکستانی معیار کے مطابق نا مناسب تھے ۔

    عائشہ عمر نے کہا کہ "یہ ایک انتہائی افسوسناک کہانی تھی ، کیونکہ وہ ہماری ذاتی تصاویر تھیں۔ ماریہ نے کچھ ایڈیٹر کی خدمات حاصل کی تھیں جن کے لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل تھی۔ ان کا مقابلہ ختم ہوگیا اور اس نے انتقام کے طور پر فوٹو لیک کردیئے۔

    عائشہ عمر نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایک ایسے وقت میں تھائی لینڈ میں تھے جب وہاں بہت زیادہ لوگ نہیں تھے۔ بارش کا موسم تھا اور ہم چھٹی لے کرصرف آرام کرنا چاہتے تھے ! یہ ذاتی تھا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنے گھر میں نہا رہے ہوں اور کوئی آپ کی تصاویر لیک کرے۔

    عظمیٰ خان کی ملک ریاض کی بیٹی کے خلاف پریس کانفرنس ، دیکھئے باغی ٹی وی پر

  • باپ ایک انمول ہستی بقلم :  شہباز غافل

    باپ ایک انمول ہستی بقلم : شہباز غافل

    باپ ایک انمول ہستی
    شہباز غافل

    "قوی قلب اور ماتھے پہ شکن کے نشاں
    وہ ہے اِک باپ مگر ہے عظیم انساں”

    باپ سہہ حرفی الفاظ کا مجموعہ ہے۔ یہ لفظ اپنے اندر پیار، محبت، خلوص، قربانی اور ناجانے کن کن بیش قیمتی نگینوں کو سموئے ہوئے ہے۔
    بلاشبہ ایک جوڑے کے لیے والدین بننے کا احساس بہت جدا اور ان کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔

    پھر اولاد کے گھٹنوں کے بل چلنے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے تک کا سفر، باپ کو تو کہیں سانس لینے کی بھی فرصت نہیں دیتا۔ وہ بچوں کی اچھی پرورش کو ہی اپنا فرضِ اوّلین سمجھتا ہے اور عمر کے اس حصے کو پہنچ جاتا ہے جہاں اسے خود سہارے کی ضرورت ہوتی ہے. ایسے میں اولاد اکثر اپنی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔
    حضور اکرمؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "والدین کو پیار بھری نظروں سے دیکھنا بھی عبادت ہے۔”
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس دنیا بالخصوص مغرب میں باپ کو ایک سیڑھی کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور کام ہو جانے پر ان کو پُرانے سامان کی طرح کسی کونے میں پھنک دیا جاتا ہے یا کسی اولڈ ہوم میں ڈال دیا جاتا ہے۔

    باپ وہ ہستی ہے جو اپنے بیٹے کے روزگار سے شادی تک اور بیٹی کو تعلیم دلوانے سے رخصتی کرنے تک بہت سارے جتن نہیں کرتا ؟
    حیرت ہے کہ نظریں دھندلا جانے کے بعد وہی اولاد باپ کو ذرا سی کرنیں دینا بھی بوجھ سمجھتی ہے۔
    ایک دفعہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا کہ ذلیل و خوار ہوا وہ شخص،ذلیل و خوار ہوا وہ شخص،ذلیل و خوار ہوا وہ شخص۔
    صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللّٰہؐ کون سا شخص ذلیل و خوار ہوا؟
    تو رسول خداؐ نے ارشاد فرمایا:”وہ شخص ذلیل و خوار ہوا جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے میں پایا اور ( ان کی خدمت نہ کر کے ) جنت کا حقدار نہ بن سکا۔”
    باپ کی محبت کا اندازہ ہم اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ وہ بسترِ مرگ پر بھی اپنی اولاد کی کامیابی و کامرانی کے لیے ہمہ وقت دعا گو رہتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا گلہ تو گھٹ دیتا ہے مگر اولاد کی خواہشات کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔
    بلاشبہ باپ سورج کی مانند ہوتا ہے، جس کی تپش تو ہوتی ہے، پر اندھیرا دور کرنے میں بھی یہی کام آتا ہے۔
    باپ امیر ہو یا غریب دونوں ہی اپنی اولاد کی پرورش بخوبی نبھاتے ہیں، لیکن یہ دونوں تصویر کے دو الگ الگ رُخ ہیں۔ ایک وہ ہے جو اولاد کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی طاقت رکھتا ہے اور ایک وہ جو اپنے آنکھوں کی نمی چُھپانے کی خاطر رات کے اندھیرے میں گھر لوٹ کر آتا ہے۔ باپ امیر ہو یا غریب،باپ تو باپ ہے۔
    بے شک باپ کی دولت نہیں سایہ ہی کافی ہوتا ہے۔
    مگر افسوس ہے کہ وہی اولاد گھنیرے شجر کے سایہ میں کیے ہوئے آرام کو بھول جاتا ہے۔ بے شک
    زندگی ایک پیڑ کی مانند ہے،جس کی جڑیں باپ ہے۔
    پس ثابت ہوا کہ باپ ایک انمول ہستی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ جو اولاد والدین کی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے وہ زندگی میں کبھی بھی سُکھی نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہونے کے لیے والدین سے حسن سلوک کریں۔
    اللّٰہ ہمیں والدین کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔۔۔۔۔۔آمین

  • عظمیٰ خان کی ملک ریاض کی بیٹی کے خلاف پریس کانفرنس ، دیکھئے باغی ٹی وی پر

    عظمیٰ خان کی ملک ریاض کی بیٹی کے خلاف پریس کانفرنس ، دیکھئے باغی ٹی وی پر

    گذشتہ روز سے پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ عظمی خان اور اس کی بہن پر چئیرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض کی بیٹی کے تشدد کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں

    باغی ٹی وی :گذشتہ رو ز پاکستانی سوشل میڈیا پر فلم ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ کی اداکارہ اور مشہور ماڈل عظمیٰ خان کا نام ٹرینڈ کررہا تھا جس کی وجہ وہ ویڈیو تھی جس میں چئیرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض کی بیٹی عظمی خان اور ان کی بہن پر چلارہی ہیں جس کے باعث دونوں بہنیں کافی ڈری سہمی نظر آرہی ہیں اور اپنے سامنے کھڑی ملک ریاض کی بیٹی سے کہہ رہی ہیں ’آنٹی بس آخری موقع دے دیں-جس پر ملک ریاض کی بیٹی آنٹی کہنے پر بھڑک جاتی ہیں اور کہتی ہیں آنٹی کس کو کہہ رہی ہو میں تم سے 6 سال بڑی ہوں۔

    جس کے بعداس خاتون نے ان دونوں بہنوں سے کسی عثمان نامی شخص کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے ان پر الزام لگاتی ہیں۔ تاہم یہ دونوں بہنیں اس پورے واقعے کے دوران کافی ڈری سہمی نظر آئیں اور عظمی خان کہہ رہی ہیں عثمان کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہوا اور ویڈیو یہیں ختم ہوجاتی ہے۔

    اس کے بعد چند اور ویڈیو منظر عام پر آئیں جن میں ملک ریاض کی بیٹی عظمی خان پر تشدد کرتی نظر آ ئیں اور گھٹیا اور نا زیبا الفاظ اور گالیاں بکتی سنائی دیں اس کے بعد اداکارہ نے ان کے خلاف ہراساں کرنے اور اپنے گارڈز اور اسلحہ سمیت گھر میں گُس کر تشدد کرنے کا مقدمہ درج کروایا-

    جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے تنقید اور غم و غصے کے اظہار کے بعد ملک عثمان کی بیوی آمنہ ملک کی طرف سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں آمنہ عثمان نے کہا کہ ان کا ملک ریاض سے کوئی رشتہ نہیں یہ لوگ ان سے پسے بٹورنے کے لئے ایسا کر رہی ہیں
    https://twitter.com/mona_qau/status/1265711622502461440?s=08
    آمنہ عثمان ملک نے کہا تھا کہ میں نے ان لڑکیوں کو کئی بار ااپنے شوہر سے دور رہنے کی واعننگ بھی دی تھی اور یہ سب میں نے اپنا گھر بچانے کے لئے کیا اس نے کہا ان پر کیروسین آئل نہیں ڈالا گیا بلکہ وہ شراب ڈالی گئی تھی جو اداکارہ اس وقت پی رہیں تھیں

    اس کے بعد ظلم اور تشدد کا شکار اداکارہ عظمی ملک نے پریس کانفرنس کا اعلان کیا اور لاہور پریس کلب میں اپنے وکیل کے ہمرای پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کی وجہ اور اس کے پیچھے کی تمام کہانی بتائی اور حکومت سے انصاف کی درخواست کی

    واضح رہے کہ اداکارہ عظمی خان نے 2013 میں ریلیز ہوئی فلم’’وار‘‘ سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا تھا بعد ازاں وہ ہمایوں سعید کے ساتھ سپر ہٹ فلم ’جوانی پھر نہیں آنی‘، ’جوانی پھر نہیں آنی2‘، ’تیری میری لو اسٹوری‘ اور ’یلغار‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھاچکی ہیں۔

    عظمیٰ خان کی پریس کانفرس چینلز نے کیوں نہ ‌دکھائی، طاقتور لوگ اثر انداز ہوگئے.

    عظمیٰ تشدد کیس، مجھے خریدنے کیلئے بڑی بڑی آفرز کی جا رہی ہیں ، نہیں بکوں گا، حسان نیازی

    ملک ریاض کی بیٹی کے تشدد کا شکار عظمی کا کل پریس کانفرنس کا اعلان

    عظمی تشدد کیس ، ملک ریاض کی بیٹی کے خلاف ایف آئی آر درج

    عظمیٰ سسٹرز تشدد کیس میں ملک ریاض کی بیٹی ملوث، ثبوت سامنے آ گئے

    ملک ریاض کی فیملی کے تشدد و دھمکیوں کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر

  • خونِ ناحق کا سوال ہے

    خونِ ناحق کا سوال ہے

    عید کے روز صبح فجر وقت ایک نوجواں حافظِ قرآن کو قصور میں اسکے باپ کے سامنے پولیس والا اسے کہتا ہے کہ میرے پاس آؤ مجھ سے تعلقات رکھو ورنہ میں تمہیں مار دونگا اور اس حافظِ قرآن کے انکار پر وہ اسکے باپ کے سامنے اسے گولی مار کر قتل کر دیتا ہے۔

    زرا تصور کیجیے کہ اس باپ کا کیا حال ہوگا کہ جو خود صبح اپنے بیٹے کو فجر کی نماز کیلئے بیدار کر کے لے کے جا رہا ہوگا۔ لیکن اسے علم نہیں ہوگا کہ اس کا بیٹا یہ نماز نہیں پڑھ سکے گا۔

    اس کی ماں کا کیا حال ہوگا کہ جس نے اس دفعہ اتنی چاہ سے اس کیلئے عید کے کپڑے تیار کیے ہونگے کہ اس دفعہ میرے لعل نے پہلی دفعہ تراویح میں قرآن مکمل سنایا ہے۔ وہ بلائیں لیتے لیتے نہیں تھکتی ہوگی۔ لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ ایک بھیڑیا اس کے خوبرو لعل کو اپنی ناجائز خواہشوں کے مکمل نہ ہونے پر موت کی گھاٹی میں دھکیل دے گا۔

    ہاں یہ الم تو بیٹوں والے والدین ہی جان سکتے ہیں۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ٹویٹر پر ٹرینڈ چلا #justiceFroSamiurRehman ہر ذی شعور نے اس میں بقدر حصہ ڈالا اور کافی دیر تک یہ ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔

    میں بہت دیر تک بغور دیکھتا رہا کہ ابھی شاید کسی نام نہاد انسانیت کے دعویداروں کی ایک ٹویٹ ایک پیغام سامنے آئے گا۔ شاید اسلام آباد کے کسی کونے میں موم بتیاں جلائی جائیں گیں۔ شاید کہ کسی سوشل ایکٹیویسٹ کی کوئی ایکٹیویٹی نظر آئے گی۔ شاید کہ کسی نیوز چینل پر خبر چلے گی کہ یہ ٹرینڈ اتنی دیر ٹاپ ٹرینڈ رہا اور سوشل میڈیا صارفین نے اتنی دفعہ اس بات کا ذکر کیا۔

    شاید کہ راجہ داہر پر چلنے والے ٹرینڈ کو اپنی سرخی کی زینت بنانے والی بی بی سی اس پر سٹوری چلائے گی اور اپنی روایت کے مطابق لکھے گی کہ فلاں صارف نے اپنے پیغام میں یہ کہا اور فلاں نے یہ کہا۔ شاید کہ وائس آف امریکہ اپنی سٹوری میں اس کا ذکر کرے گا۔ لیکن نہیں مجھے کہیں بھی ذکر نہیں ملا اس سمیع کے ناحق قتل کا۔

    میں نے پھر سے پورے کیس کو دیکھا بغور دیکھا کہ شاید کہیں کوئی اور وجہ تو نہیں قتل کی لیکن پنجاب پولیس کی ملزم کو بروقت گرفتار کرنے کی خبر میرے سامنے سے گزری۔ اے ایس پی کی مقتول کے گھر تشریف لانے اور ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی خبر میرے سامنے سے گزری۔ مجھے اس ناحق قتل کی کوئی اور وجہ بھی نہ ملی کہ کتے کے پلوں کے مرنے پر واویلہ کرنے والوں کو یہ خونِ ناحق کیوں نہیں نظر آیا؟؟؟

    بہت سوچا جب مجھے کوئی وجہ نظر نہ آئی تو نجانے کیسے میں نے اس نام پر غور کیا کہ کیا نام تھا اس معصوم کا ہاں حافظ سمیع اور اس کے والد کا پتا چلا وہ بھی حافظِ قرآن عالمِ دین اور امام مسجد ہیں پھر مجھے اس مجرمانہ خاموشی کی سمجھ آئی کہ زرا زرا سی بات پر ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دینے والے ان نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کی مجرمانہ خاموشی کی وجہ کیا ہے؟

    ہاں اس خاموشی کی وجہ ہے اس معصوم کا حافظ قرآں ہونا۔۔۔
    اس کے باپ کا عالمِ دین اور امام مسجد ہونا۔۔۔

    ہاں یہ طبقات تو انسانیت کے ضمرے میں نہیں آتے نا۔۔۔

    تو بس پھر میری سوچوں کا دھارا رک گیا اور میں ان انسانی ہمدردی کے کھوکھلے علمبرداروں کے دوہرے رویہ پر فقط ماتم کناں ہی ہو سکتا ہوں کہ ان کا گریباں نہیں پکڑ سکتا کہ ان کے گھروں کی فصیلیں بہت اونچی ہیں۔۔۔

    میں ان کے گریباں کو نہیں پکڑ سکتا کہ ان کے علاقہ میں مجھ جیسے پیدل چلنے والے کو شاید گلی کی نکر پر چوکیدار ہی روک لے کہ معاف کرو ان گھروں میں صاحبان موجود نہیں ہیں وہ سب عید کی چھٹیاں منانے پر فضاء مقامات کو گئے ہوئے ہیں اور ویسے بھی انہوں نے رمضان میں ساری خیرات تقسیم کر دی ہے گھر میں کوئی موجود ہوا بھی تو تمہیں کچھ ملنا نہیں۔۔۔

    آ جا کے میرے پاس ان کو جنجھوڑنے کیلئے ایک یہ سوشل میڈیا ہی میسر ہے سو میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا کہ شاید ان کے مردہ ضمیروں میں کوئی زندگی کی رمق جاگے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ میری آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز کی مانند ہی ہوگی لیکن میں نے اپنا حق ادا کر دیا۔ آپ کہیں ان تک پہنچ سکتے یا ان تک میری آواز پہنچا سکتے تو ضرور پہنچانے کی کوشش کیجیے گا کہ خونِ ناحق کا سوال ہے۔۔۔

    #باغیات

  • انوشے اشرف  تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کے مرکزی کردار ’ارطغرل‘ کی جانب سے کی جانے والی ویڈیو کال مس ہونے پر افسردہ ہو گئیں

    انوشے اشرف تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کے مرکزی کردار ’ارطغرل‘ کی جانب سے کی جانے والی ویڈیو کال مس ہونے پر افسردہ ہو گئیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و میزبان انوشے اشرف شہرہ آفاق تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کے مرکزی کردار ’ارطغرل‘ کی جانب سے کی جانے والی ویڈیو کال مس ہونے پر افسردہ ہو گئیں-

    باغی ٹی و :اداکارہ و میزبان انوشے اشرف نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی، انوشے اشرف کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں اداکارہ کے تُرک دوست مرات اور اُن کے ہمراہ انجن التان ہیں

    ویڈٰو شئیر کرتے ہوئے ادکارہ نے انکشاف کیا کہ اُنہوں نے غلطی سے انجن التان یعنی ارطغرل کی ویڈیو کال مس کردی تھی جس کے بعد اُن کے دوست مرات نے انجن التان کے ہمراہ اداکارہ کو عید مبارک کا خصوصی ویڈیو پیغام بھیجا۔

    ویڈیو میں انجن التان نے انوشے اشرف کو اور اپنے تمام پاکستانی مداحوں کو عید کی مبارکباد پیش کی اداکارہ نے انسٹاگرام پر یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنا ایک خصوصی پیغام بھی جاری کیا۔

    انوشے اشرف نے کہا کہ ’میرے دوست مرات کی جانب سے مجھے عید کا سب سے بہترین تحفہ موصول ہوا ہےمیرا موبائل سائلنٹ پر ہونے کی وجہ سے میں نے ہینڈ سم نہایت ٹیلنٹڈ انجن التان کی ویڈیو کال مس کردی اگلی بار ایسا نہیں ہو گا انشاءاللہ -جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔ اداکارہ نے مرات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے عید کا بہترین تحفہ دیا ہے
    https://www.instagram.com/p/CAnve4ZjbVW/?igshid=1np4nmm0526hf
    انوشے نے تُرک عوام کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’اگلی بار حلیمہ سلطان اور ’ارطغرل غازی‘ کے سیزن 2 میں ’ارطغرل‘ کے مرکزی دشمن’نویان‘ سے ویڈیو کال پر بات کروں گی۔

    انوشے اشرف کا شمار پاکستان شوبز انڈسٹری کے اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جو تُرک سیریزارطغرل غازی کو بےحد پسند کر رہے ہیں۔

  • اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    اداکار نوید رضا کا کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار نوید رضا نے کورونا کی تصدیق کرتے ہوئے کورونا کے حوالے سے خصوصی پیغام جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کا شکار اداکار نوید رضا نے سوشل میڈیا پر اپنے ساتھ اداکاروں کے لیے ایک خصوصی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ میری اس ویڈیو کا مقصد یہ ہے کہ میں اپنے ڈرامہ سیریل کے ساتھی اداکاروں کو خود میں ظاہر ہونے والی کورونا علامات سے آگاہ کر سکوں۔

    ڈرامہ سیریل میرا دل میرا دشمن کے اداکار نے کہا کہ پہلے دن مجھے سر اور جسمانی درد کے ساتھ پانی کی کمی محسوس ہوئی جبکہ اُس کے اگلے دن مجھے بخار کے ساتھ ہی کمزوری بھی محسوس ہونے لگی لیکن اس کے ساتھ نہ مجھے فلو ہوا اور نہ ہی گلا خراب ہوا۔

    نوید رضا نے بتایا کہ تیسرے دن بھی میرے یہ ہی حالت رہی اور اُس کے بعد میں نے اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا جو کہ مثبت آیا۔

    اداکار نے اپنے ویڈیو پیغام میں ہدایتکار، پوڈیوسرز اور دیگر اداکاروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ شوٹنگ کے لیے سیٹ پرجاتے ہیں تو براہ مہربانی احتیاطی تدابیر کا خیال رکھیں کیونکہ ہم ہی ایک دوسرے کو اس وائرس سے بچا سکتے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CAkyC6ZgMA4/?igshid=lj03nidv7ln
    انسٹا گرام پر شئیر کی گئی اپنی اور اہلیہ کی تصویر کے ساتھ کیپشن میں لکھا کہ وقت اچھا ہو یا بُرا گزر ہی جاتا ہے

    اداکار نے مداحوں سے ان کو اور انکی فیملی کو دعاؤں میں یاد رکھنے کی بھی درخواست کی-

    نادیہ جمیل کا بریسٹ کینسر کی کیمو تھراپی کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل

    دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ ممالک میں امریکہ پہلے اور برازیل دوسرے نمبرپر،بھارت دسویں اورپاکستان اٹھاروہویں نمبرپرآگیا

    پاکستان میں‌ کرونا کی سپیڈ جاری، 24 گھنٹوں میں‌2 ہزار سے زائد نئے مریض، اموات میں بھی اضافہ

    ندا یاسر ،اپنے شوہر کے ہمرا کرونا کا شکار

  • جو آپ کو سپورٹ کریں اُن کی ہمیشہ قدر کریں  نادیہ جمیل

    جو آپ کو سپورٹ کریں اُن کی ہمیشہ قدر کریں نادیہ جمیل

    پاکستان کی نامور اداکارہ اور سماجی کارکن نادیہ جمیل نے کہا کہ کینسر کے علاج کے دوران ان کے لیے دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے پیغامات کی وہ بہت قدر کرتی ہیں

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نادیہ جمیل نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کینسر کے علاج کے دوران ان کے لیے دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسے پیغامات کی وہ بہت قدر کرتی ہیں


    نادیہ جمیل نے لکھا کہ کہ اس بیماری کے دوران انہیں ایسی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑا جیسا زندگی میں پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

    اداکارہ نے مزید لکھا کہ اس بیماری سے انہوں نے دو باتیں سیکھی ہیں کہ جو آپ کو سپورٹ کریں اُن کی ہمیشہ قدر کریں اور جو آپ کو چھوٹا، بُرا اور غیر محفوظ محسوس کروائیں، ایسے لوگوں کو اپنی زندگی میں کوئی جگہ نہ دیں۔

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ یہی فیصلے کا وقت ہے۔

    واضح رہے کہ نادیہ جمیل نے 3 اپریل کو ایک ٹوئٹ کے ذریعے اپنے مداحوں کا اِس بات سے آگاہ کیا تھا کہ اُن کو بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے جس کا علاج انہوں نے شروع کروالیا ہے انہوں نے مداحوں سے خصوصی دعاؤں کی بھی درخواست کی تھی-

    نادیہ کی دوست نے پچیس سالہ دوستی کی لاج رکھ کر اپنے سر کے بال منڈوا دئیے

    نادیہ جمیل کا بریسٹ کینسر کی کیمو تھراپی کا دوسرا مرحلہ بھی مکمل

  • سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ عائزہ خان

    سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ عائزہ خان

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اداکارہ عائزہ خان نے دوسروں پر تنقید کرنے والوں پر سوال اُٹھایا کہ سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟‘

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سیلیبرٹیز کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے کیخلاف آواز بلند کرتے ہوئے عائزہ خان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟


    اداکارہ صارفین سے سوال کیا کہ کیا اب ہم دوسروں کو فیصلہ کرنے دیں کہ ہمیں اپنی زندگی کس طرح سے گُزارنی ہے اور ہمیں اپنی زندگی میں کیا کیا کرنا چاہیے؟

    عائزہ خان نے کہا کہ آپ کے تنقید بھرے تبصروں سے ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے جو ہمیں اندرونی طور پر توڑ دیتے ہیں۔


    اداکارہ نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ہم اپنے اردگرد موجود لاکھوں لوگوں کو اپنے کام سے تفریح فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم اپنے مداحوں کو خوش کرنے کے لیے اور اُن کی منفی سوچ کو ختم کرنے کے لیے اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرتے ہیں۔


    عائزہ خان نے اپنے یک اور ٹوئٹ میں صارفین کو عالمی وبا کی اس مشکل گھڑی میں مثبت رہنے کی ہدایت کی کہا کہ ’انشااللہ ہم سب مل کر اس مشکل دور سے گُزر جائیں گے ہم سب کو پُرسکون اور مثبت رہنے کی ضرورت ہے۔

    بہت دکھ کی بات ہے کہ قوم آج 100 جنازوں کے ساتھ عید منائے گی