Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پاکستانی گلوکاروں نے کورونا وائرس پر خصوصی گانا جاری کر دیا

    پاکستانی گلوکاروں نے کورونا وائرس پر خصوصی گانا جاری کر دیا

    پاکستانی گلوکاروں نے کورونا وائرس کی مشکل گھڑی میں عوام کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے خصوصی گانا جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی عالمی وبا کورونا وائرس کے پاکستان میں دن بہ دن بڑھتے کیسز کی وجہ سے عوام خوفزدہ اور پریشان ہے ہے ایسے میں پاکستانی عوام کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار وں نے خصوصی گانا جاری کرد یا ہے جو حکومت پاکستان کے تعاون سے کورونا کورونا کے لئے بنایا گیا ہے گانے کی ویڈیو گلوکار و اداکار علی ظفر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ٹویٹڑ اکاؤنٹ پر شئیر کی ہے

    ٹوئٹر پر 46 سیکنڈ پر مشتمل شیئر کردہ ویڈیو میں علی ظفر، حدیقہ کیانی، ساحر علی باگا ،عاصم اظہر،شفقت امانت علی، اور نبیل شوکت اپنی خوبصورت آوازوں میں کورونا کا خصوصی گانا گا رہے ہیں۔


    پاکستانی گلوکاروں کے گائے گئے گانے کی بول کچھ اس طرح ہیں:

    آزمائش میں سارا جہاں ہے
    یہ مصیبت تو اِک امتحاں ہے

    نکلو باہر، کرو پہلے وعدہ
    احتیاط ہوگی پہلے سے زیادہ

    ہاتھ دھونا ہے لازِم وبا میں
    فاصلہ رکھنا ہے درمیاں میں

    مل کے مشکل یہ پل گزاریں گے
    پاکستانی نہ ہارے، نہ ہاریں گے

    مل کے مشکل یہ پل گزاریں گے
    پاکستانی نہ ہارے، نہ ہاریں گے

    ویڈیو شیئر کرتے ہوئے علی ظفرنے کیپشن میں لکھا کہ ’ہمیں کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اگر ہمیں کورونا کو شکست دینی ہے تو درست اقدامات کرنے ہوں گے۔ انہوں نے لکھا کہ آپ کے لئے ہمارا پیغام- انہوں نے ہیش ٹیگ کوویڈ 19 بھی استعمال کیا

  • وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا… تحریر:جویریہ بتول

    وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا… تحریر:جویریہ بتول

    وہ دن جب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوا…
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    28 مئی 1998ء کے یادگار دن کا سورج ایک نئے عزم اور ولولے کا پیغام لے کر طلوع ہوا تھا۔
    جس نے وطنِ عزیز کو یہود و ہنود پر عسکری برتری دلا دی۔
    پاکستان کی دفاعی و سیاسی تاریخ میں یہ وہ تاریخ ساز دن ہے جس پر لکھتے ہوئے مؤرخ اسے سراہے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
    دشمنانِ وطن کے لیئے وہ دن عتاب تھا۔۔۔
    جو دن تاریخِ وطن میں اک نیا باب تھا۔
    جب بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے جو فیصلہ کیا گیا تھا وہ دفاعِ پاکستان اور اسلامی دنیا کے مورال کو بلند رکھنے کے لیئے ازحد ضروری تھا۔
    یہ دن اللّٰہ تعالٰی کی خاص نصرت اور ہمارے مایہ ناز سائنس دانوں کی شبانہ روز جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کی سلامتی کا ضامن بن گیا اور اُن تمام سازشی عناصر کے مذموم عزائم خاک میں مل گئے تھے جو کوّے کی طرح شور مچا رہے تھے اور وطنِ عزیز کے وجود کو مٹانے کے درپے تھے۔
    بھارت کے دھماکوں کے ٹھیک سترہ دن بعد پاکستان کی فضائیں اللّٰہ اکبر کے نعرہ سے گونج رہی تھیں۔
    چاغی کا پہاڑی سلسلہ تاریخ دفاعِ پاکستان کی انمٹ یاد ہے۔
    جب پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا تھا۔
    یہ دن جذبۂ ایمانی کو گرمانے کا دن تھا۔
    یہ دن دفاع کا ناقابل تسخیر دن تھا۔
    یہ دن ترقی کی منازل طے کرتے جانے کا نقطۂ آغاز تھا۔
    یہ غوری،غزنوی،بابر،ٹیپو،نصر،
    حتف،شاہین اور الخالد کی ایجادات کا سفر تھا۔
    یہ رعد اور ڈرون براق اور لیزر گائیڈڈ میزائل برق کی کامیابی کا سنگ بنیاد تھا۔
    یہ دن زمین سے فضا،زمین سے زمین اور زمین سے سطح سمندر تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی طرف اُمید کا قدم تھا۔
    اور الحمدللہ پاکستان نے وقت کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں کامیابی حاصل کی ہے اور آج بھی پاکستان کا دفاع مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
    دشمن کی چالیں گو کہ ہر محاذ پر جاری ہیں۔
    وہ سرحدیں جغرافیائی ہوں یا نظریاتی…
    وہ میڈیا کا میدان ہو یا پروپیگنڈہ کا،لیکن ہر سو،ہر رُخ پاکستان نے تمام سازشوں کا توڑ کیا ہے۔
    پاکستان کے دشمنوں بھی اگرچہ چین نہیں ہے،مگر اس کے محافظ بھی ہر دم تیار و بیدار ہیں۔
    اپنے دفاع کی صلاحیتوں میں روز افزوں ترقی کے مدارج طے کرتا پاکستان ہم سب کا عظیم فخر ہے۔
    اس کی سپاہ ہر محاذ پر ڈٹی اور جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں اور قوم کے دفاع میں بے مثال کردار ادا کر رہی ہیں۔
    یہ وطن لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا اور پھر اسے ایٹمی طاقت بنا کر پورے عالمِ اسلام کا سر فخر سے بلند کیا گیا۔
    پاکستان کی دفاعی صلاحیت واعدو لھم ماستطعتم من قوۃ کا عملی نمونہ ہے اور ان شآ ءَ اللّٰہ اس کا کوئی دشمن اسے تسخیر نہیں کر سکتا۔
    ہمیں چاہیئے کہ اس وطن کے دفاع کے لیئے ہر محاذ پر چوکس اور ذمہ دار سپاہی کا کردار ادا کرنے والے بن جائیں۔
    اس کی تمام سرحدوں،اور تمام محاذوں کے محافظ بن کر ابھریں،تاکہ کسی بھی دور اور وقت میں کہیں بھی اس کے دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہ ہو۔
    میرے وطن !!
    تری حفاظت کا عزم لے کر ہر ایک اپنے محاذ پر ہے…!!!
    بشرط اتحاد ،یقیں محکم،عمل پیہم بقول بانئ پاکستان:
    "There is no power on earth that can undo Pakistan…”
    ترا دفاع رہے ناقابلِ تسخیر…
    تو ہے وطن جرأتوں کی تصویر…
    ترا بلند رہے سدا پرچم…
    تیرا وقار نہ ہو کبھی خم…
    تیرے شاہینوں کی رہے اونچی اُڑان…
    پائندہ و تابندہ رہے اپنا پاکستان…
    تُجھ پر رحمت الٰہی کا رہے سایہ…
    اتحاد و دعا رہیں تیرا سرمایہ…
    ترے دُشمن کے عزائم رہیں تہہِ خاک…
    تو شہیدوں کی امانت ہے سرزمینِ پاک…!!!
    اس وقت بھی یہ خطہ جنگ کی چنگاریوں سے گھِرا دکھائی دیتا ہے۔
    ایک طرف افغان طالبان اور امریکہ کی مفاہمت کے آثار نظر آ رہے ہیں تو دوسری طرف ہندوستان کی طرف سے طالبان کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو ہی فضول قرار دینا اور امریکی یقین دہانیوں پر بھی توجہ نہ دینا اس کے سازشی ذہن کی عکاسی ہے۔
    اور اب چین انڈیا چپقلش ایک نیا رُخ دکھا رہی ہے۔
    دنیا کو اس بات کی طرف اب سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ صرف اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس خطے کو آگ کی طرف نہ دھکیلا جائے بلکہ تمام مسائل جن میں افغانستان،کشمیر اور دیگر سرحدی تنازعات کا قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے۔
    ترقی کے منصوبوں کو بروقت اور حالتِ امن میں تکمیل تک پہنچنے کے لیئے راہ ہموار کی جائے۔کیونکہ اس وسیع اور فلیش پوائنٹ خطے اور مستقبل کے معاشی ہب میں امن کی ضرورت دنیا کے امن سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے…!!!
    اور سوچنا ہوگا کہ دنیا کو جنگ اور پھر اپنے دفاع اور ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟؟؟
    =============================

  • آمنہ عثمان کا موقف سنا تو حق پر نظر آئیں لیکن ان کا طریقہ کار غلط تھا  مونا خان

    آمنہ عثمان کا موقف سنا تو حق پر نظر آئیں لیکن ان کا طریقہ کار غلط تھا مونا خان

    کرائم اور کورٹ جرنلسٹ مونا خان کا کہنا ہے کہ ایک بیان سنو تو ہمدریاں اُدھر جب دوسرا آمنہ عثمان کا موقف سنا تو وہ بھی حق پہ نظر آئی لیکن ان کا طریقہ کار بلکل غلط تھا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کرائم اینڈ کورٹ جرنلسٹ مونا خان نے عظمی خان اور ان کی بہن پر تشدد کرنے والی خاتون آمنہ عثمان کی ویڈیو شئیر کی جس میں وہ خاتون کہہ رہی ہیں کہ ان کا ملک ریاض کے ساتھ کوئی تعلق نہیں وہ ان کی کچھ نہیں لگتیں یہ سب ڈرامہ ان سے پیسے وصول کرنے کے لئے کیا گیا ہے

    آمنہ عثما ن نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ یہ سب انہوں نے اپنی تیرہ سالہ شادی شدہ زندگی بچانے کے لئے کیا ہے اور ان ایک گیارہ سالہ بیٹا بھی ہے

    خاتون نے کہا کہ میں نے ان لڑکیوں کو کافی مرتبہ وارننگ بھی دی تھی لیکن وہ باز نہیں آئی پھر میں ان کا پیچھا کرتے ہوئے گھر پہنچی جو کہ ان نہیں ہے بلکہ ان کے شوہر عثمان کا دوسرا گھر ہے

    آمنہ عثمان کے مطابق جب وہ وہاں پہنچیں تو کوکین کی لائن لگی ہوئی تھی اور شراب نوشی کی جا رہی تھی جبکہ عظمی خان اور اس کی بہب کے مطابق وہ اعتکاف 10:30 بجے اعتکاف سے اٹھیں لیکن وہ 3 دن سے میرے شوہر سے مل رہیں تھیں آمنی شیخ نے دعوی کیا کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت بھی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ان پر کوئی کیروسین آئل نہیں ڈالا گیا تھا بلکہ وہ شراب ڈالی گئی تو جو وہ وہاں استعمال کر رہیں تھیں
    https://twitter.com/mona_qau/status/1265711622502461440?s=08
    آمنہ عثمان کی اس ویڈیو کو شئیر کرتے ہوئے جرنلسٹ مونا خان نے لکھا کہ ایک بیان سنو تو ہمدریاں اُدھر جب دوسرا آمنہ عثمان کا موقف سنا تو وہ بھی حق پہ نظر آئی لیکن ان کا طریقہ کار بلکل غلط تھا۔

    مونا خان نے مزید لکھا کہ پولیس کو ساتھ لے جاتی فحاشی کا پرچہ کروا دیتی قانونی طریقے سے بھی چھاپہ مار سکتی تھی لیکن جسطرح لڑکیوں کو مارا پیٹا گیا وہ اب سب کے لیے مظلوم بن چکی ہیں

  • کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے  اقرار الحسن

    کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے اقرار الحسن

    پاکستان کے معروف اور نامور صحافی اقرارالحسن کا کہنا ہے کہ کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے-

    باغی ٹی وی : پاکستان میں کئی سالوں سے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے مگر جو مقبولیت ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔

    ڈرامہ سیریل کو وزیراعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پاکستان ٹیلی ویژن پر یکم رمضان المبارک سے نشر کیا گیا اس ڈرامے نے پاکستان میں ہر عمر کے افراد کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے اور اس کے اندر جہاد اور اسلام کے لئے مسلسل جدو جہد نے مسلمان نوجوانوں میں جہاد کے جذبے کو بلند کیا ہے اور ان میں اسلامی اقدار اور جذبے کے نئی روح بیدار کی ہے


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر یاسر شاہ نامی صارف نے صارفین نے سے سوال کرتے ہوئے لکھا کہ ارطغرل ڈرامہ دیکھ کر کس کس کو کشمیر میں جہاد کر کے آذاد کروانے یا شہید ہونے کا خیال آیا؟


    یاسر شاہ نامی صارف کے اس ٹویٹ کے جواب میں سید اقرا رالحسن نے لکھا کہ پہلے ہم خود سے جہاد کرنا تو سیکھ لیں شاہ جی۔ پاکستان کی عظمت کے سفر میں اپنی اناؤں، گلوں شکووں سےجہاد، جھوٹ سے جہاد، لوٹ کھسوٹ سے جہاد، بے ایمانی اور بدعنوانی سے جہاد۔۔۔ہمیں اپنی اناوؤں کو مارنا تھا، ہم نے اپنےضمیر مار دیئے۔ کشمیرتب آزاد ہو گا جب ہم اپنی جھوٹی اناؤں سےآزاد ہوں گے

    واضح رہے کہ اس ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیا م سے قبل کی ہے۔ ڈرامے کی مرکزی کہا نی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔

    ارطغرل غازی: لوگوں کو سرحدوں کی بجائے مواد پر فوکس کرنا چاہیئے نیلم منیر

    ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا

  • ارطغرل کے اسلام پر سوال اٹھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کی تحقیق کا جواب ، شاہ رخ خان

    ارطغرل کے اسلام پر سوال اٹھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کی تحقیق کا جواب ، شاہ رخ خان

    ارطغرل کے اسلام پر سوال اٹھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کی تحقیق کا جواب ، شاہ رخ خان

    جب کبھی اسلام پر حملہ مقصود ہو تو اسلامی شخصیات کو متنازع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب وہ روافض کے صحابہ پر الزامات ہو، یا کسی بھی اسلامی تاریخی شخصیت کے کردار پر اتھامات جیسے محمد بن قسم کا حال ہی کا واقعہ۔

    ہمیشہ اس شخص کو کہ جسکی اسلام کے بارے مین بہت سی خدمات رہی ہو اس پر مختلف اعتراضات کر کے مسلمانوں میں انتشار پھیلایا جاتا ہے۔

    حال ہی میں ترکی سے نشر ہونے والے ایک ڈرامے کی مرکزی کردار سلطان ارطغرل بن سلیمان شاہ کے اسلام کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور دراصل یہ کاروائی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی بلکہ اس سے پہلے بھی کچھ غیر مسلموں کی جانگ سے ایسی کوششیں کی گئی ہے۔

    اس میں سب سے زیادہ نام پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے ایک پروفیسر کا سامنے آرہا ہے جنکا ایک کالم اسوت انٹرنیٹ پر گردش کر رہا ہے، موصوف نے کچھ مسشرقین اور ایک برصغیری کے مورخ ڈاکٹر محمد عزیر کی دو جلدوں پر مشتمل ’دولتِ عثمانیہ‘کی کتاب کو اپنے مدعی کا مرجع و ماخذ بنایا ہے۔

    کیا ارطغرل مسلمان تھا ؟ پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم شعبہ تاریخ پنجاب یونیورسٹی کی تحقیق

    اب آئیے قدیم مسلمان مورخ کی جانب:

    دمشق کے ثقہ عالم ِدین، قاضی اور مورخ شیخ احمد بن یوسف قرمانی رحمہ اللہ، جنکی وفات: 1019 ھجری بمطابق 1610 عیسیوی میں ہوئی، چنانچہ وہ اپنی کتاب:
    اخبار الدول و آثار الاول فی التاریخ: ج 3، ص 6،7 پر سلیمان شاہ کا ذکر کرتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے سلطان علاء الدین سے مل کر تاتاری اور دیگر کفار کے خلاف لڑائی کی اور انکی وفات کے بعد انکے بیٹے ارطغرل نے اسی طرح سلطان علاء الدین کے ساتھ مل کر کفار کے خلاف جہاد کیا اور کئی علاقے فتح کیئے یہاں تک اللہ کے راستے میںلڑتے ہوئے ہی وفات پائی۔ جب سلطان کو انکی وفات کا علم ہوا تو سلطان علاء الدین نے افسوس کا اظھار کیا اور انکے بیٹے عثمان کو انکی جائے گا مقرر کیا۔

    عربی الفاظ نیچے دیئے گئے اسکرین شاٹ میں دیکھیں، یہاں احمد قربانی ارطغرل کو کفار کے خلاف جہاد کرنے والا، مال ِ غنیمت حاصل کرنے والا، اور اللہ کے راستے میں لڑتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونے والا کہہ رہے ہیں جو انکے نزدیک ارطغل کے نا صرگ مسلمان ہونے کی دلیل ہے بلکہ ایک نیک صالح مجاھد ہونے کی بھی دلیل ہے۔


    اسی طرح معروف مصری مورخ محمد بن محمد بن أبى السرور البكرى (المتوفی: 1650 ع) اپنی کتاب منح الرحامنیة فی الدولة العثمانیة میں لکھتے ہیں کہ سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جن میں سے دو نے عجم کا رخ کرلیا اور دو سلطان علاء الدین کے پاس آکر ان سے اجازت مانگ کر انکے علاقے مین رہنے گے، نیز انکی اجازت سے کفار کے خلاف جہاد کرنے میں مصروف ہوگئے یہاں تک کہ اسی مصروفیت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    انہوں نے بھی ارطغرل کے لیئے جہاد اور کفار کے خلاد جنگوں کے الفاظ استعمال کیئے ہیں انکی کتاب کے مخطوطے کا عکس نشانات کے ساتھ پوسٹ میں ملاحظہ کیجیئے۔

    اسی طرح ایک تونسی مورخ حسین خوجة اپنی کتاب بشائر اهل الايمان بفتوحات ال عثمان نے بھی اپنی کتاب میں ارطغرل کا ایسا ہی تذکرہ کیا ہے۔ انکی وفات: 1145 ھجری میں ہوئی۔

    جس سے ثابت ہوا کہ ارطغرل رحمہ اللہ کو مسلمان مورخین نے جنکا تعلق بھی مختلف علاقوں سے تھا، انہوں نے ارطغرل کو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا نیک مسلمان بتایا ہے۔ نیز کچھ قرائن جیسے:
    اپنے بیٹے کا نام عثمان رکھنا، مسلمانوں کے ساتھ مل کر مسلسل تاتاریوں سے اور صلیبی کفار سے لڑکر مختلف علاقہ جات آزاد کروانا، انلے بیٹے کا خلافت قائم کرنا اور اپنی باپ کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی سلطنت کے سکوں پر انکی تصویر نقش کروانا۔ آج تک غازی ارطغرل کے نام سے معروف ہیں اور انکا مقبرہ بھی معروف ہے۔

    یہ سب ثابت کرتا ہے ہے کہ ارطغرل ایک عظیم مجاھد تھے، جنکے بیٹے نے ان سے متاثر ہوکر باقاعدہ اسلامی سلطنت کا قیام کیا اور اپنے والد کو یاد رکھنے کے لیئے انکا ذکر تمام کرنسی پر عام کردیا۔ نیز تواتر سے مختلف اسلامی ادیب اور مورخین کے ہاں ارطغرل کو ایک نیک مرد مجاھد کے نام سے ہی یاد کیا جاتا را ہے۔ علامہ اقبال کے دور کے بعض اردو مضامین جن میں ارطغرل رحمہ اللہ کا تذکرہ ہے اس میں بھی انہیں ذکر ِ کیر سے ہی یاد کیا گیا ہے۔

    ارطغرل کے مسلمان نا ہونے کا شوشہ سب سے پہلے ایک امریکی جرنلسٹ
    Herbert Adams Gibbons نے اپنی کتاب foundation of the Ottoman empire میں چھوڑا پھر اسکو تقویت Cambridge History of Turkey نامی کتاب میں دی گئی جسکی طباعت غالبا 2006 میں ہوئی ہے۔

    اور برصغیر کے ایک مسلمان مورخ ڈاکٹر محمد عزیر صاحب رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دولت ِ عثمانیہ میں اس طرح کا خدشہ ظاھر کیا ہے۔ یہ کتاب تقریاب 1358 ھجری بمطابق 1939 عیسوی میں لکھی گئی اور افسوس کے ساتھ اس میں بھی امریکی جرنلسٹ Herbert Adams Gibbons کے پراپیگنڈے کو دہرایہ گیا اور تحقیق سے کام نا لیا گیا۔ یاد رہے Herbert Adams Gibbons ایک متعصب مصنف ثابت ہوا جس نے سلطنت عثامنیہ پر بہت سے الزامات بھی گائے ہے اور اپنی حسد کا اظھار کیا ہے جسکی مختلف اوقات میں اھل ترک کی جانب سی کی جاتی رہی ہیں۔ جبکہ قدیم مسلمان مورخین جنکی تاریخ ان سے تقریبا ڈیرھ دو صدیاں قبل کی لکھی گئی ہیں، انہوں نے ارطغرل کو مجاھد ِ اسلام کے طور سے درج کیا ہے۔

    اگر آپ لبرل نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ کی ارطغرل ڈرامے کی مقبلویت صرف اسا لیئے برداشت نہین ہورہی کہ آپ سعودیہ کی محبت میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو یاد رکھے کہ کسی بھی مسلمان کو کافر ثابت کرنا آپ کی عاقبت برباد کرسکا ہے نیز آپ کی طیب اردگان سے لڑائی میں دولت ِ عثمانیہ کا کوئی قصور نہیں بلکہ وہ تو مسلمانوں کی مشترکہ میراث اور اسلامی تاریخ کا ایک خوبصورت باب ہے۔

    ارطغرل غازی کی مقبولیت، وائس آف پاکستان نے آن لائن تقریری مقابلے کا اعلان کردیا

    ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا

    ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں یہ ہمارا دوست اور بھائی ملک ہے تُرک اداکار

  • جھوٹ اور مزاح  بقلم: فاطمہ ہاشمی

    جھوٹ اور مزاح بقلم: فاطمہ ہاشمی

    جھوٹ اور مزاح
    فاطمہ ہاشمی

    کل یہ پوسٹ کی تھی کہ سات دن کے اندر اندر سب انسان مر جائیں گے اور آٹھواں دن نہی آئے گااور میں نے کہا تھا کہ رات تک جواب دے دیا جائے گا لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ اک ایمرجنسی کی وجہ سے رات کو جواب نہیں دیا جاسکا ۔
    سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ جھوٹ مذاق میں بھی بولنا جائز نہیں اور اس کا گناہ لکھا جاتا ہے
    اللہ قرآن میں فرماتا ہے
    أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَى إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ [39-الزمر:3]
    ترجمہ : ”دیکھو خالص عبادت خدا ہی کے لئے (زیبا ہے) اور جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لئے پوجتے ہیں کہ ہم کو خدا کا مقرب بنا دیں۔ تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں خدا ان میں ان کا فیصلہ کردے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکرا ہے ہدایت نہیں دیتا
    معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے:” تباہی وبربادی ہے اس شخص کے لیے جو ایسی بات کہتاہے کہ لوگ سن کر ہنسیں حالانکہ وہ بات جھوٹی ہوتی ہے تو ایسے شخص کے لیے تباہی ہی تباہی ہے ” ۱؎ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱- یہ حدیث حسن ہے،۲

    عن ابي امامة قال : ‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ‏‏‏‏ انا زعيم ببيت فى ربض الجنة لمن ترك المراء وإن كان محقا وببيت فى وسط الجنة لمن ترك الكذب وإن كان مازحا وببيت فى اعلى الجنة لمن حسن خلقه“ . [ابوداؤد حديث 4800، و قال الشيخ الألباني حسن]
    ترجمہ : ”ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو۔“

    دوسری بات مذاق درست نہیں ہے جیسے فنی لطیفے آجکل چلتے ہیں جو جھوٹ پہ مبنی ہوتے ہیں یہ جائز نہیں اور حرام ہیں البتہ اسلام میں مزاح جائز ہے اس کی مثالیں اللہ کے نبیؐ سے ملتی ہیں

    اب دیکھنا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظرافت کس طرح کی تھی؟ اس تشریح کی یوں ضرورت ہے کہ بہت سے کاموں میں ہمارے غلط عمل سے ہمارے نظریات بدل چکے ہیں۔ ہر معاملہ میں اعتدال کھو بیٹھے ہیں۔اگر ہم سنجیدہ اور متین بنتے ہیں تو اس قدر کہ تہذیب ہم سے کوسوں دور رہتی ہےیعنی بے جا سنجیدگی اور ہمیشہ چہرہ متغیر رکھنا۔اور اگر خوش طبع بنتے ہیں تو اس قدر کہ تہذیب ہم سے کوسوں دور رہتی ہے۔یعنی بلاوجہ جھوٹی سچی باتوں پہ قہقہے لگاتے پھرنااسلئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں ایک خاص معیار اپنے سامنے رکھنا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش طبعی کی تعریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زبان مبارک سے سن لیجئے۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعجب سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مذاق کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں بے شک! میرا مزاح سراسر سچائی اور حق ہے۔ (شمائل۔ترمذی)

    اس کے مقابلہ میں ہمارا آج کل کا مزاق وہ ہے جس میں جھوٹ، غیبت، بہتان، تعن و تشنیع اور بے جا مبالغوں سے پورا پورا کام لیا گیا ہو۔

    اب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظرافت کے چند واقعات قلمبند کر رہے ہیں کہ جن کے تحت ہم ظرافت کا صحیح تخیل قائم کرسکے ۔
    چلیں آج ہم اپنے سوالوں کا جواب دینے سے پہلے نبیؐ کے مزاح مبارک پہ آپ کو بتاتے جاتے ہیں
    جنت میں بوڑھے نہیں جائیں گے ۔۔
    ___مزاح نبوی صلی اللہ علیہ وسلم _____

    ایک شخص نے خدمت اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر سواری کے لئے درخواست کی۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم کو سواری کے لئے اونٹنی کا بچہ دوں گا۔وہ شخص حیران ہوا کیونکہ اونٹنی کا بچہ سواری کا کام کب دے سکتا ہے؟ عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں اونٹی کے بچہ کا کیا کرونگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی اونٹ ایسا بھی ہوتا ہے جو اونٹنی کا بچہ نہ ہو۔(شمائل ترمذی)

    2:ایک مرتبہ ایک بڑھیا خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالٰی مجھ کو جنت نصیب کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ اور بڑھیا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سنتے ہی زاروقطار رونا شروع کردیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوکر تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب سے آپ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی تب سے یہ بڑھیا رورہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ بوڑھی عورتیں جنت میں جائیں گی مگر جوان ہوکر۔(شمائل۔ترمذی) (اسکی سند میں ضعف ہے)

    3: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دیہاتی زاہر نامی دوست تھے جو اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدئے بھیجا کرتے تھے۔ایک روز وہ بازار میں اپنی کوئی چیز بیچ رہے تھے۔اتفاق سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سے گذرے ان کو دیکھا تو بطور خوش طبعی چپکے سے پیچھے سے جاکر ان کو گود میں اٹھالیا اور بطور ظرافت آواز لگائی کہ اس غلام کو کون خریدتا ہے؟ زاہر نے کہا مجھے چھوڑ دو کون ہے؟ مڑ کر دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔حضرت زاہر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا:یارسول اللہ! مجھ جیسے غلام کو جو خریدے گا نقصان اٹھائے گا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم خدا کی نظر میں ناکارہ نہیں ہو ۔

    4: ایک موقع پر مجلس میں کھجوریں کھائی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزاح کے طور پر گھٹلیاں نکال نکال کر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے آگے ڈالتے رہے۔ آخر میں گھٹلیوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کرکے ان سے کہا کہ تم نے تو بہت کھجوریں کھائیں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے گھٹلیوں سمیت نہیں کھائیں۔
    (از:محسن انسانیت،اسوئہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم)
    دیکھئیے مزاح اسلام میں جائز مگر یہ کہ وہ بات میں جھوٹ اور کسی کی تحقیر نا ہو اوپر بیان کردہ واقعات اک بھرپور خوش طبعی اور سچائی سے لبریز ہیں
    باقی رہی سات دن کے اندر اندر سب انسان مر جائیں گے اور آٹھواں دن نہیں آئے گا تو اسکی وضاحت یوں ہے ہفتہ، اتوار ، پیر،منگل ، بدھ ، جمعرات ، جمعہ یہ کل ملا کر سات دن ہوئے جو بھی مرے گا انہی سات دنوں میں مرے گا آٹھواں دن نہیں آئے گا حتیٰ کہ قیامت بھی انہی سات دنوں کے اندر بعض احادیث کے مطابق جمعہ کے دن آئے گی
    باقی اگر ہم انسانی زندگی پہ غور کریں تو کیا ایسے نہیں لگتا کہ کل کی بات ہے ہم چھوٹے چھوٹے تھے آج دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے بچے بڑے ہو رہے ہیں
    اور قرآن میں دنیا کی اس زندگی کو بہت تھوڑی کہا گیا یہ صرف امتحان گاہ جس میں کوئی زیادہ جلدی چلا گیا اور کوئی دیر سے جائے گا مگر حساب سب کا ہوگا

    میں نے کہا کہ دنیا کے لوگ سات دن کے اندر مریں گے مگر قیامت کے دن لوگ کیا کہہ رہے ہوں گے قرآن کیا کہتا ہے آئیے دیکھتے ہیں

    وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّا عَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ۙ مَا لَبِثُوْا غَيْرَ سَا عَةٍ ۗ كَذٰلِكَ كَا نُوْا يُؤْفَكُوْنَ
    "اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے”
    (QS. Ar-Rum 30: Verse 55)

    یعنی انسان کو یہ دنیا کی زندگی اک گھڑی کی مانند لگے گی اللہ سے پناہ طلب کرتے ہیں کہ ہم مجرموں کے طور پہ پیش ہوں اک اور جگہ اللہ فرماتے ہیں
    Allah Subhanahu Wa Ta’ala said:

    اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَيْدِيَكُمْ وَاَ قِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَا لُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّا سَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَا لُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَا لَ ۚ لَوْلَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيْبٍ ۗ قُلْ مَتَا عُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ ۚ وَا لْاٰ خِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى ۗ وَلَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا
    "تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا”
    (QS. An-Nisa’ 4: Verse 77
    یعنی اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ دنیا کاسرمایہ زندگی تھوڑا ہے اور ہم انسان ہیں کے کہ لمبی لمبی امیدیں لگائے بیٹھے اور ساری توجہ دنیاوی ذندگی اور تن آسانی کے لیے ہے لیکن ہم آخرت کو بھول چکے ہیں ہماری ساری بھاگ دوڑ کوشش کاوش اس مختصر سی دنیا کے لیے ہے مگر آخرت کی حقیقی زندگی کو نظرانداز کئیے ہوے ہیں

    ایک فکر انگیز واقعہ :
    نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کرےگا ؟ تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرنے لگے : آقا صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔ اور فرمایا آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کس قدر پانی آتا ہے ۔ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسا کہ انگلی کے ساتھ لگے ہوئے پانی کے قطرے کی سمندر کے مقابلے میں

    اس لیے ہمیں اللہ آخرپہ نظر رکھنےکی توفیق دےاور ہماری غلطیوں کوتاہیوں سے درگزر کرے اور ہمیں معاف فرمائے اور یہ جھوٹے لطیفوں اور لغو باتوں سے محفوظ رکھے

  • بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!! بقلم:بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!! بقلم:بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات۔ ۔ ۔ اور یوم تکبیر مبارک!!!
    بلال شوکت آزاد

    بہت معذرت کے ساتھ جو تکبیر دشمن کے گھر میں ہمارے منہ سے نہ نکلے اس کا دن منانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بندہ منگنی شدہ ہو, خود لندن میں ہو اور منگیتر پاکستان میں اور وہ اچانک اعلان کرے کہ وہ باپ بن گیا ہے اور اوپر سے وہ بچے کی جنس لڑکا بتاکر اس کا نام اللہ دتہ رکھ کر ہر سال اس کی سالگرہ منائے۔

    یوم تکبیر غزوہ بدر کا دن تھا جب اللہ کی ناموس پر کٹنے مرنے والے تین سو تیرا نے اللہ اکبر کی گونج جزیرہ ہائے عرب میں بلند کی اور آج اس دن کے صدقے ہم خود کو مسلمان اور 56 الگ قومی شناختوں سے متعارف کرواتے ہیں امت مسلمہ کے عنوان سے۔

    بہرحال ایٹم بم ہی کیا میں ہر طرح کے آتشیں, دخانی, طبی, طبعیاتی, کیمیائی, ریاضیاتی, معاشرتی, معاشی, اقتصادی, سماجی, نظریاتی اور ہاں جوہری بھی غرض ہرطرح کے ہتھیار کے بنانے والے, اس کو دفاع کے لیے ناگزیر بتانے والے, اس کو بیچنے والے, اس کو خریدنے والے اور اس کو شوقیہ یا باامر مجبوری چلانے والوں کی کھل کر اور شدید مذمت کرتا ہوں کیونکہ ان جملہ ہتھیاروں سے انسانیت سسک رہی ہے, گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے اور بھوک و افلاس بڑھ رہی ہے۔

    کیا دور تھا جب تیر و تفنگ اور نیزہ و تلوار کے ساتھ بہادر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر دشمن کے گھر میں داخل ہوتے اور اسے مباذرت کی دعوت دیتے۔

    کیا وقت تھا وہ جب مسلمان تلوار اور قرآن لیکر کسی قلعے کا محاصرہ کرتے اور قلعہ دار کو پیغام بھیجتے کہ لو ہم آگئے۔ ۔ ۔ اب تم پر ہے کہ اللہ کے قرآن کی سن لو اور پلٹ آؤ یا پھر ہم پر ہے کہ ہم تمہیں سنائیں جب تک تم سن نہیں لیتے۔ ۔ ۔قصہ مختصر اگر تم توحید کو ٹھکراتے ہو تو ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ تلوار کرے گی۔

    دست بدست لڑائی میں مجاہد اور دشمن میں جو کانٹے کی ٹکر ہوتی اس کی نظیر آج کم بلکہ نا ہونے کے برابر ملتی ہے کہ اگر مجاہد نے دشمن کو مارا تو بھی مرنے والے اور مارنے والے کا نام دونوں افراد ہی کیا دونوں لشاکر کو بھی معلوم ہوتے اور مورخ کو بھی۔

    اور جو وہ سکون کی ایک لہر ہے نا کہ میں نے دشمن کے لشکر سے فلاں کماندار یا سپاہی کو بقلم خود ہلاک کیا اور اسکی ذردہ و تلوار پر قبضہ کیا۔ ۔ ۔ واللہ آج اس طرح کی خوشی ناپید ہوچکی ہے۔

    تیر اور تلوار سے آمنے سامنے کی ٹکر ہوتی تھی کھلے میدانوں میں جس سے معصوم لوگ تب تک محفوظ ہوتے جب تک ایک فریق (کافر) جیت نہ جاتا کیونکہ مسلمان تو جیت کر بھی املاک اور افراد کو نقصان نہ پہنچاتے تھے البتہ جب تک وہ شریعت سے سختی سے جڑے رہے تب تک لیکن آج ایک پستول سے لیکر ایٹم بم تک ہر ہتھیار معصوم اور بے گناہ افراد کی موت کا سبب بنتا ہے اور بنے گا جبکہ ایسے ہتھیار جو دشمن کی روح سے زیادہ انسانیت کی روح نچوڑنے کی قدرت رکھتے ہوں پر فخر چہ معنی دارد۔

    میں سچی پوچھیں تو ایسے ایٹم بم سے زیادہ خوش نہیں جو آپ کو بہادر کے بجائے بزدل یا سفاک بنادے۔

    بھارت سے دفاع کی خاطر ہم نے اپنے پیٹ کاٹ کر بچوں کی تعلیم اور صحت کو داؤ پر لگا کر ایٹم بم بنالیا لیکن دو براہ راست جنگیں تو ہم پر پھر بھی مسلط کی بھارت نے اور ہم نے بزم خویش شکست فاش بھی دی لیکن کیا یہ آنکھ مچولی کسی طرح جسیفائیڈ ہے دونوں پڑوسی ایٹمی ممالک کے ذمہ داران کی جانب سے ان کی عوام میں؟

    بلکہ یہی دو کیا باقی کے پانچ ممالک بھی اسی کٹہرے میں کھڑے ہیں کہ کیا امن ایٹم بم کے بنانے سے محفوظ ہوا ہے یا اور زیادہ غیر محفوظ ہوا ہے؟

    آج کے اس مخصوص دن پر ان تمام سائیسدانوں پر لعنت جن کی محنت سے دنیا میں پہلا ایٹم بم وجود میں آیا اور پھر اس سے بڑھ کر اس منحوس حکمران پر لعنت جس نے اس کا تجربہ بغیر اسکی ہلاکت خیزی جانے اور اندھی دشمنی میں غرق ہوکر معصوم لوگوں سے بھرے پرے شہروں پر گرا کر کیا۔

    جہاں تک بات ہے ہماری مطلب پاکستان کی تو پاکستان کبھی ایٹم بم نا بناتا واللہ اگر بھارت کو یہ خبط دماغ پر سوار نہ ہوتا اور پھر بھارت کی پشت پر سارا عالم کفر کھڑا نہ ہوتا تو پاکستان روایتی جنگ اور روایتی دفاع کو ہی ترجیح دیتا لیکن جیسے طلاق اللہ کو ناپسند ہے حلال کاموں میں لیکن بعضے مسلمان کر گزرتے ہیں ویسے ہی پاکستان کو طوہاً کراہاً ایک دشمن کش نہیں بلکہ انسانیت کش ہتھیار بنانا پڑا اور اس دوڑ میں آگے آنا پڑا لیکن دل مانے یا نہ مانے پر یہ خوشی سے زیادہ افسوس کا دن ہے پر دستور دنیا ہے کہ اپنی طاقت اور قدرت پر نالاں نہیں خوش ہوا جاتا ہے لہذا "یوم تکبیر مبارک”۔

    بے ربط خیالات ذہن میں تبھی جگہ بناتے ہیں جب آپ حساسیت اور انسانیت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کھیسے پر نظر ڈالیں جس میں آپ کے کھاتے پر ایسے کام درج ہوں جو برائی کی معراج ہوں تو آپ کا ذہن کے خلط ملط خیالات آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر بری طرح اثر انداز ہوتے جیسے کہ ابھی میں بلکل اسی کیفیت کا شکار ہوں جسے ایک طرف ایٹمی طاقت بننے سے زیادہ مبینہ ناقابل تسخیر دفاع کے حصول کی خوشی ہے اور دوسری طرف بھوک, افلاس اور غربت کے ساتھ ساتھ مہذب دہشتگردی سے سسکتی انسانیت کا درد بھی ہے۔

    بہرحال جب تک یہ "چائنہ کا یوم تکبیر” ہے اس سے کام چلاتے ہیں تاآنکہ اللہ کی رحمت سے ہم دشمن کے گھر میں اللہ کا نام بلند کرکے اسکی حاکمیت قائم کریں اور پھر منائیں "یوم تکبیر”۔

    #سنجیدہ_بات

    #آزادیات

    #بلال #شوکت #آزاد

  • عظمی تشدد کیس ، تعلق رشتہ داری ذاتی جبکہ قانون پبلک چیز ہے، زمہ داروں کو سزا دی جائے، اداکارہ ارمینا خان

    عظمی تشدد کیس ، تعلق رشتہ داری ذاتی جبکہ قانون پبلک چیز ہے، زمہ داروں کو سزا دی جائے، اداکارہ ارمینا خان

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ارمینہ خان نے اداکارہ و ماڈل عظمی خان اور اس کی بہن کو ہراساں کرنے پر افسوس کرتے ہوئے اس واقعے کی شدید مذمت کی-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اداکارہ ارمینہ خان نے اس اداکارہ و ماڈل عظمی خان اور اس کی بہن پر تشدد کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ تعلقات نجی ہیں لیکن قانون عوامی ہے۔ جہاں اس حد کو عبور کیا جاتا ہے جب قانونی رٹ کے بغیر مسلح افراد نے نجی رہائش گاہ پر حملہ کیا اور نہتے شہریوں پر تشدد کیا۔ یہ پورے افسوسناک واقعے کے سب سے زیادہ اہم پہلو سے ہے۔
    https://twitter.com/ArmeenaRK/status/1265669332895481856
    اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے اقرارالحسن کا کہنا تھا کہ پھر کہوں گا کہ #کرنل_کی_بیوی ہو یا # ٹھیکیدار _ کی_بیٹی، ائیر لائن کے اعلٰی افسر ہوں یا اسکولوں میں گدھے بندھے ہونے کے ذمے دار سیاستدان (چاہے سندھ ہو یاکے پی کے، بلوچستان اورپنجاب) جب تک سب کوقانون کےمطابق یا سخت قانون بنا کر نشانِ عبرت نہیں بنایا جاتا، قوم ٹرینڈ ہی بناتی رہےگی


    واضح رہے کہ ملک ریاض کی بیٹی کی جانب سے اداکاراؤں پر تشدد اور پٹرول چھڑکنے کے واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلایا گیا اس سے قبل کرنل کی بیوی کی جانب سے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بد تمیزی کی ویڈیو وائرل ہونے پر بھی کرنل کی بیوی کا ٹرینڈ چلایا گیا تھا

    جب تک قانون کے مطابق سخت سزا نہیں دی جائے گی، قوم کرنل کی بیوی اور ٹھیکیدار کی بیٹی جیسے ٹرینڈ بناتی رہے گی۔ اقرار

    عظمیٰ تشدد کیس میں عظمیٰ کے وکیل حسان نیازی گرفتار

    عظمی تشدد کیس ، ملک ریاض کی بیٹی کے خلاف ایف آئی آر درج

    مٹی کا تیل نہیں شراب تھی، عظمی تشدد کیس کہانی کا دوسرا رخ سامنے آ گیا

  • رمضان کے بعد…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رمضان کے بعد…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رمضان کے بعد…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    رمضان کے بعد اب اے بندۂ مسلماں…
    کہیں کھو نہ جائے تجھ سے فلاح کا ساماں…
    غفلتوں کے سائے تُجھے لپیٹ میں نہ لیں…
    نیکیوں کے دل میں ہی رہ نہ جائیں ارماں…
    آنکھوں اور کانوں کی حفاظت بھی ہے لازم…
    دل و زباں پہ بھی رہیں عمدہ پیماں…
    جھوٹ و برائی سے کر لیں سدا کی آڑ…
    تقویٰ کے حجرے کو کر لیں اپنا ایماں…
    نفرتوں کے عداوتوں کے کاٹنے نہ اُبھرنے پائیں…
    محبّت و وفا کے پھولوں کی رہے ہر سو مسکان…
    عبادات کے اوقات بھی کہیں چھوٹنے نہ پائیں…
    سجدہ و دعاؤں کے مہکتے رہیں گُلستاں…
    دل کی دنیا کے اندر بہاروں کا رہے ڈیرہ…
    باہر کی دنیا پہ چاہے بیت جائے خزاں…
    صبر و شکر کی تربیت جو رمضان کر گیا ہے…
    اسی رنگ میں گزریں یہ جو سانسیں ہیں رواں…
    اس کی عطا و روک پہ دل یہ رہے مطمئن…
    کسی راہ،کسی موڑ پر رہیں ہم نہ شکوہ کناں…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے  ڈاکٹر شہباز گل

    ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے ڈاکٹر شہباز گل

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر نشر ہونے والے ترکی کے معروف ڈرامے ‘ارطغرل غازی ‘ کو پیسوں سے نہیں خریدا گیا بلکہ ترکی نے بطور تحفہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی :وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل نے اپنی ایک ٹوئٹ میں انگریزی اخبار کو دیے گئے اداکارہ ثانیہ سعید کے انٹرویو کی تصویر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا کہ پی ٹی وی نے ترک ڈرامے کو خریدا نہیں بلکہ ترکی نے ڈرامے کو تحفے کے طور پر پاکستان کو دیا


    ڈاکٹر شہباز گل نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ثانیہ جی پی ٹی وی نے اسے خریدا نہیں۔ برادر ملک ترکی کی طرف سے یہ تحفہ پاکستان کے لئیے۔

    شہباز گل نے اداکارہ ثانیہ سعید کو کہا کہ آپ بھی پہلے کی طرح پھر اچھا کام کریں انشاللہ وہ بھی ائیر ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بات کرنے سے پہلے تحقیق ضروری ہے۔ آرٹ اور کلچر کے لوگوں کے دل کھلے ہونے چاہئیے۔ یہاں بھارت کے مواد کی بہتات تھی شکر ہے بہتر مواد آیا

    ارطغرل غازی کی مقبولیت، وائس آف پاکستان نے آن لائن تقریری مقابلے کا اعلان کردیا

    ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا