Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • عائشہ عمر کی شیخ رشید کے ساتھ شادی کی خواہش

    عائشہ عمر کی شیخ رشید کے ساتھ شادی کی خواہش

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ عائشہ عمرکا کہنا ہے کہ اگر دنیا سے سب مرد ختم ہوجائیں اورشادی کیلئے صرف رانا ثناء اللہ ، شیخ رشید ، قائم علی شاہ اور چوہدری شجاعت حسین بچیں تو میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کو ترجیح دوں گی۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں عائشہ عمر نے تابش ہاشمی کے ایک ویب شو میں بطور مہمان شرکت کی اور شو میں اداکارہ نے ذاتی زندگی سمیت دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کی۔ ، شو میں عائشہ عمر نے شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں مزاحیہ انداز میں کہا کہ یہ صرف ہمارے سماج کی سوچ ہے کہ شادی زندگی کو سنوارتی ہے لیکن درحقیقت شادی تو زندگی ختم کردیتی ہے۔

    میزبان نے سوال کیا کہ اگر کسی آفت کی وجہ سے دنیا سے سب مرد ختم ہوجائیں اور صرف قائم علی شاہ، چوہدی شجاعت حسین، رانا ثناء اللہ اور شیخ رشید بچیں تو وہ کس سے شادی کریں گی؟

    اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اداکارہ نے سوائے شیخ رشید کے سب کو جاننے سے ہی انکار کردیا تاہم بروقت گوگل پر پہچان کروائی گئی تو انہوں نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال ہوتی ہے تو وہ شیخ رشید کا انتخاب کریں گی کیوں کہ شیخ رشید کے پاس اچھی حسِ مزاح ہے اور وہ مزاحیہ شخصیت کے مالک ہیں۔

    عائشہ عمر نے کہا کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ "ان کے خیال میں حقوق نسواں انسانیت پسند ہیں مردوں سے نفرت کرنے یا ان کا خیال ہے کہ مردوں کو ختم کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق نسواں ایک تحریک ہے ، ایک عقیدہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق ملنے چاہئیں ، ”

    عائشہ عمر نے اپنے ایک انٹر ویو میں دیئے گئے پہلے بیان پر بھی روشنی ڈالی ، جہاں انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں بھی انڈسٹری میں ہراساں کیا گیا تھا لیکن انہوں نے کوئی نام نہیں لیا۔

    عائشہ عمر نے کہا "مجھے نہیں لگتا کہ میں ابھی کسی کا نام لینے کے لئے اتنی مضبوط ہوں… میں نہیں چاہتی کہ اس طرف میری طرف توجہ دی جائے ،” عائشہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب میشا شفیع اپنی کہانی کے ساتھ باہر آئیں تو انھوں نے اتنا کچھ کیا۔ .

    عائشہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انڈسٹری میں بہت ساری تجربہ کار اداکاراؤں کا رجحان مشکوک ریکارڈ رکھنے کا ہوتا ہے ، جب ان سے کسی ایسے شخص کا نام بتانے کو کہا جاتا ہے جو مستقبل میں نام لیا جاسکتا ہے۔ ا نہوں نے کسی کا نام لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ” بے شمار ہیں (ایسے بے شمار نام موجود ہیں! ″)

    عائشہ نے عمر نے ساتھ ہی ، اپنی اور ساتھی انڈسٹری کی دوست ماریہ واسطی کی لیک ہونے والی تصاویر کے گرد برسوں پرانے تنازعہ کو بھی دور کیا – دونوں کو تھائی لینڈ کے ساحلوں پر ایسے کپڑوں میں دیکھا گیا تھا جو پاکستانی معیار کے مطابق نا مناسب تھے ۔

    عائشہ عمر نے کہا کہ "یہ ایک انتہائی افسوسناک کہانی تھی ، کیونکہ وہ ہماری ذاتی تصاویر تھیں۔ ماریہ نے کچھ ایڈیٹر کی خدمات حاصل کی تھیں جن کے لیپ ٹاپ تک رسائی حاصل تھی۔ ان کا مقابلہ ختم ہوگیا اور اس نے انتقام کے طور پر فوٹو لیک کردیئے۔

    عائشہ عمر نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایک ایسے وقت میں تھائی لینڈ میں تھے جب وہاں بہت زیادہ لوگ نہیں تھے۔ بارش کا موسم تھا اور ہم چھٹی لے کرصرف آرام کرنا چاہتے تھے ! یہ ذاتی تھا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ اپنے گھر میں نہا رہے ہوں اور کوئی آپ کی تصاویر لیک کرے۔

    عظمیٰ خان کی ملک ریاض کی بیٹی کے خلاف پریس کانفرنس ، دیکھئے باغی ٹی وی پر

    سوشل میڈیا پر مشہور شخصیات کو کیوں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ عائزہ خان

  • کورونا وائرس: پاکستان سمیت 7 ممالک کے فنکاروں کا مشترکہ گانا ریلیز

    کورونا وائرس: پاکستان سمیت 7 ممالک کے فنکاروں کا مشترکہ گانا ریلیز

    دنیا بھر میں پھیلی کورونا وائرس کے خوف پر قابو پانے اور اپنی عوام کا حوصلہ بلند کرنے کے لئے حکومتیں کوشاں ہیں وہیں فنکار وں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا ایک اہم کردار ادا کرتے ہوئے لوگوں میں امید کی کرن پیدا کرنے کے لیے مشترکہ طور پر ایک گانا تیار کیا ہے

    باغی ٹی وی :پاکستان سمیت دنیا کے 7 ممالک کے 40 فنکاروں کی جانب سے تیار کیے گئے گانے کا عنوان ’وی آر ون‘ اے خدا ہے تیار کیا اس گانے کو کمپوز کرنے وا لے پاکستان میوزک انڈسٹری کے نامور گلوکار و موسیقار کاشان آدمانی ہیں جبکہ ا س گانے کی اردو تحریر صابر ظفر نے لکھی ہے اور انگریزی تحریر بابر شیخ نے لکھی ہے۔

    پاکستان میں’اے خدا‘ کو یوٹیوب پر ڈریم اسٹیشن پروڈکشن کے بینر تلے جاری کیا گیا ہے، اس گانے میں پاکستان سمیت دُنیا کے 7 ممالک 40 فنکاروں، گلوکاروں اور موسیقاروں نے اپنی آوازکا جادو جگا کر لوگوں کا خوف کم کر کے ان میں امید پیدا کرنے کی کوشش کی ہے

    گانے میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، برازیل اور روس سمیت پاکستان کے فنکاروں، موسیقاروں اور گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے5 منٹ 23 سیکنڈز پر مشتمل اس گانے کو اب تک یوٹیوب پر 19 ہزار 941 سے زائد افراد سُن چکے ہیں۔

    گانا سننے والوں کا کہنا ہے کہ گانے کی موسیقی اور شاعری کو سنتے ہی امید کی آس دل میں اٹھنے لگتی ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمیں جلد ہی اس آزمائشی وقت سے نکال دے گا جب کہ فنکاروں کی جذباتی پرفارمنس بھی قابل تعریف ہے۔ جبکہ مداحوں نے کاشان آدمانی کا اس گانے اور سب کے لئے مشترکہ دعا کرنے پر شکریہ ادا بھی کیا-

    پاکستانی گلوکاروں نے کورونا وائرس پر خصوصی گانا جاری کر دیا

  • پونجی سنبھالیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    پونجی سنبھالیئے…!!! تحریر:جویریہ بتول

    پونجی سنبھالیئے…!!!
    [تحریر:جویریہ بتول]۔
    ہم میں سے کسی کا بھاری بینک بیلنس موجود ہو…اور ہم اسے بنک کھاتے میں محفوظ تصور کر رہے ہوں…
    ایکدم کوئی آفت آ جائے…
    بیماری آ گھیرے…
    یا کوئی اشد مالی ضرورت پڑ جائے تو ہم اپنے اس اکاونٹ کی طرف متوجہ ہوں کہ وہاں سے کُچھ پیسہ نکلوا کر کام چلایا جائے…
    مگر جب ہمیں یہ بجلی نما خبر سنا دی جائے کہ آپ کا اکاؤنٹ خالی ہو چکا ہے…
    تو ایک دم سناٹا چھا جائے گا ناں ؟
    ہم گھبراہٹ کے عالم میں خود کو ساکت و جامد محسوس کرنے لگیں گے ناں؟
    جب سب کچھ لٹ چکا ہو اور آگے کی کوئی سبیل نظر نہ آئے تو ہم کس قدر مایوسی کی گہرائیوں میں اترنے لگتے ہیں…؟
    تو ہم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ ہم نمازیں ادا کرتے ہیں…
    صدقہ و خیرات کرتے ہیں…
    حج و عمرہ کرتے ہیں…
    تلاوتِ قرآن کرتے ہیں.
    فہمِ حدیث حاصل کرتے ہیں…
    لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی ان نیکیوں کو خود ہی مٹانے پر بھی کمر بستہ رہتے ہیں…!
    ہم کسی کی عزت پہ حرف گیری کر کے…
    کسی کی برائی کر کے…
    کسی کی چغلی کھا کر…
    کسی کمزور پر ظلم کر کے…
    کسی پر تہمت لگا دینا…
    کسی سے ناحق کُچھ لے لینا…
    کسی کو گالی دے کر…
    کسی کو مارپیٹ کر…
    کسی کا مال ہتھیا کر…
    کسی کو دُکھ پہنچا کر…
    کسی کے کام میں رکاوٹیں پیدا کر کے…
    کسی کے خلاف بدگمانیاں پھیلا کر…
    تو ایسا ہی شخص وہ ہے جو دنیا میں عبادات کی مشقت بھی برداشت کرے گا مگر روزِ قیامت تہی دست آئے گا…
    وہ سخت اور طویل مدت دن جب ایک ایک نیکی کی یاد ستائے گی…
    اور پھر کہیں وہ کسی اور کو بانٹ دی جائے…
    کسی کے اٹھائے ہوئے بوجھ کی ادائیگی کر دی جائے…
    کہیں ریا کے جرم میں اُڑتا ہوا غبار کر دی جائے…!!!
    اور انسان بتدریج خالی ہاتھ ہوتا چلا جائے تو کس قدر ندامت اور دُکھ کا مقام ہو گا؟
    بہت سی نیکیاں کمائی ہوں گی مگر خود ہی اُن کو ختم کرنے کی فاش غلطی بھی کر بیٹھے ہوں گے تب پیچھے کا یارا رہے گا،نہ آگے کا چارہ…!!!
    آج اُن اعمال کی تھکاوٹ سے استفادہ بھی نہ ہو…کیسا مقامِ حسرت ہو گا؟؟
    رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم سےفرمایا:
    "اتدرون من المفلس؟
    تم جانتے ہو مفلس آدمی کون ہے ؟
    قالو:المفلس فینا من لا درھم لہ ولا متاع…
    وہ کہنے لگے:
    جس کے پاس درہم و متاع نہ ہو،وہ مفلس ہے…!!!
    آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    میری امت میں مفلس اور کنگال آدمی وہ ہے قیامت کے دن نماز،روزے اور زکوٰۃ لے کر آئے گا،
    اور اس حال میں آئے گا کہ کسی کو گالی دی ہو گی،
    کسی پر تہمت لگائی ہو گی،
    کسی کا مال کھایا ہو گا،
    کسی کا خون بہایا ہو گا،
    کسی کو مارا ہو گا،
    اس کی نیکیاں اُن لوگوں میں تقسیم کر دی جائیں گی،
    اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی،قبل اس سے کہ اس کا قرض ادا ہو،تو ان کی برائیاں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا…”[صحیح مسلم]۔
    تو ذرا سوچیئے کہ معاملہ کتنا نازک ہے…
    حقوق العباد کی طرف کتنی توجہ درکار ہے؟؟؟
    اور نیکیوں پر مغرور ہونا بھلا کیا معنی رکھتا ہے؟
    ہمیں اپنے رب کی رحمتوں کا اُمید وار رہنا چاہیئے اور اس سے آسان حساب کا سوال کرتے رہنا چاہیئے…!!!
    ذرا سنبھلیئے کہ کہیں پونجی لُٹ نہ جائے…!
    ہم اپنے کھاتے میں نیکیاں بھیج کر بھی مفلس نہ بن جائیں؟
    ہم نے اپنی پونجی میں سے کُچھ لیا بھی نہ ہو اور وہ مفت میں تقسیم کر دی جائے…؟
    اپنا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ
    ہمارے خالی اکاؤنٹ کی دلدوز خبر کہیں میدانِ محشر میں ہماری سماعتوں سے نہ آ ٹکرائے…!!!
    اور ہم ندامتوں کے اتھاہ سمندر میں بس گرتے ہی چلے جائیں…؟
    اللّٰھُمَّ لا تجعلنا منھم واھدنا اِلٰی صراطِِ مستقیم،ولاتخزنا یوم القیمۃ•(آمین ثم آمین)۔
    ہمارے رب ہمارا شمار ان لوگوں میں کرنا جو:
    "جو انصاف کے دن پر یقین رکھتے ہیں اور جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں…”
    [المعارج]۔
    ==============================

  • مہوش حیات کی درخت پر چڑھ کر بیٹھنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    مہوش حیات کی درخت پر چڑھ کر بیٹھنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و تمغہ امتیاز مہوش حیات کی درخت پر چڑھ کر بیٹھنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و تمغہ امتیاز مہوش حیات کی درخت پر چڑھ کر بیٹھنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تمغہ امیتاز اداکارہ مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ایک تصویر شیئر کی جس میں اداکارہ اونچائی سے قدرت کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے درخت پر چڑھ کر بیٹھی ہوئی ہیں


    اس تصویر کے کیپشن میں مہوش حیات نے لکھا کہ اگر ہم قدرتی چیزوں کی اصل نوعیت پر غور کریں تو ایک سبز درخت سونے اور چاندی سے بنے ہوئے درخت سے کہیں زیادہ شاندار ہے۔ جو شخص ایک بار درخت کا عاشق ہوجائے پھر اُسے ہمیشہ درختوں سے ویسا ہی عشق رہتا ہے۔

    اداکارہ کی اس پوسٹ پر مداحوں نے دلچسپ کمنٹس کئے اور سوالات کئے

    دوسری جانب مہوش حیات نے انسٹا گرام پر بھی تصویر شئیر کی جس پر جہاں مداحوں نے دلچسپ تبصرے کئے وہیں اداکار یاسر حسین نے بھی کمنٹ کیا
    https://www.instagram.com/p/CAyGENtn0eH/?igshid=9dqkhm9u75q1


    اداکار یاسر حسین نے کمنٹ میں لکھا کہ آسمان سے گرے

    جس کے کمنٹ میں مہوش حیات نے لکھا کھجور میں اٹکے

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کی تحریک فیمنزم سے متعلق لوگوں کو غلط فہمی ہے ، عائشہ عمر

  • اداکار منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا

    اداکار منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار منیب بٹ نے مسلمانوں کی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار منیب بٹ نے مسلمانوں کی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا ہے- اداکار منیب بٹ نے اپنے یوٹیوب چینل پر اپنی ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں اداکار تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کی کہانی، پروڈکشن اور کرداروں کے حوالے سے اپنا اظہار خیال کر رہے ہیں۔

    اپنی ویڈیو میں منیب بٹ بے کہا کہ میں نے ارطغرل دیکھا ابھی میں 62 قسط پر ہوں لیکن میں ایک اداکار ہونے کی حیثیت سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ کمال ارطغرل غازی کی پروڈکشن بہت زبردست ہے اور جس طرح سے اُنہوں نے حلیمہ ، ارطغرل ،سلیمان اور سب کردار بنائے ہیں وہ سب بہت ہی اعلی ہے۔

    منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو اُردو زبان میں ڈب کرکے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جانے پر تنقید کرنے والے فنکاروں کے حوالے سے کہا کہ پرابلم یہاں پر آرہا ہے میرے کچھ ساتھی اداکار اور سینئر فنکار کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مواد کے بجائے اپنا مقامی مواد پاکستانی عوام کے لیے نشر کیا جائے جبکہ دوسرا طبقہ جو ارطغرل غازی کی حمایت کر رہاہے ۔اس طرح کے ترکش ڈرامے دکھائیں تاکہ ہمارے معاشرے کو پتہ چلے ہماری تاریخ کا کہ ہمارے تاریخی ہیروز نے کیا کارنامے سرانجام دیئے کیا زبردست زندگی گزاری ہے اور کیا جہاد لڑا ہے

    اداکار نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ہم ترکی کے مواد پر اس طرح پابندی عائد نہیں کرسکتے جیسے ہم نے بھارتی مواد پر لگائی ہے۔تُرکی سے ہم پاکستانیوں کی ایک الگ وابستگی ہے کیونکہ ترکی ایک اسلامی ملک ہے ہم ایک اسلامی ملک ہیں اور اگر وہ ایک ایسا کونٹینٹ بنا رہے ہیں جس سے ہم اسلام کا مثبت چہرہ لوگوں کو دکھا رہے ہیں کہ دیکھیں اسلام اس طرح پھیلا ہے اسلامی ہیروز اتنے اچھے تھے اور اتنے زبردست کردار کے مالک تھے اس میں کوئی بُرائی نہیں ہے یہ اسلامی تاریخ کے اوپر بنا ہوا ڈرامہ ہے

    منیب بٹ نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان کے فیصلے پر بہت خوش ہوں کہ اُنہوں نے ایک اسلامی تاریخ پر مبنی تُرک سیریز پاکستان میں نشر کروائی۔

    اداکار نے کہا کہ دوسری جانب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اب ہمیں صرف ترکش مواد ہی پاکستان میں نشر کرنا چاہیے تو میں اُن کے بھی خلاف ہوں کیونکہ اگر ایسا ہوا تو ہماری اپنی شوبز انڈسٹری تباہ ہوجائے گی، ہمارے پاس بہت ہی قابل لوگ ہیں اور ہمیں اُن کے کام اور صلاحیت کو سراہنا چاہیے۔

    منیب بٹ نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان سارا ہی ترکش مواد پاکستان میں نشر کرے گی تو یہ غلط ہوگا کیونکہ اس سے ہم جیسے تمام فنکاروں کو نقصان ہوگا۔

    ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے ڈاکٹر شہباز گل

    ارطغرل کے اسلام پر سوال اٹھانے والے پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر کی تحقیق کا جواب ، شاہ رخ خان

    ارطغرل غازی: لوگوں کو سرحدوں کی بجائے مواد پر فوکس کرنا چاہیئے نیلم منیر

  • شوبز انڈسٹری کی ایک اور جوڑی قرنطینہ میں شادی کے بندھن میں بندھ گئی

    شوبز انڈسٹری کی ایک اور جوڑی قرنطینہ میں شادی کے بندھن میں بندھ گئی

    پاکستانی اداکارہ فریال محمود اداکار دانیال راحیل کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستانی ی اداکارہ فریال محمود اداکار دانیال راحیل کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئی ہیں فریال محمود بھی ان فنکاروں میں شامل ہوگئی ہیں جنہوں نے قرنطینہ میں شادی کی۔

    اداکارہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی شادی کی تصویر شئیر کرتے ہوئے ایک طویل جذباتی پیغام لکھا فریال محمود نے لکھا کہ اللہ کا شکرہے کہ وہ رشتہ ازدواج میں بندھ گئی ہیں، راحیل میری ساری دعاؤں کا نتیجہ ہے
    https://www.instagram.com/p/CAxt_vJgbY8/?igshid=kt71hxo66g9f
    اداکارہ نے لکھا کہ راحیل کا خاندان میرے لئے خدا کا تحفہ ہے۔ میرے پاس اب ایک گھر ہے ، ایک خاندان ہے اور دنیا کی ہر پیاری چیز میرے پاس ہے جس کی میں نے خواہش کی تھی

    اداکارہ نے اپنی ساس سیمی راحیل اورنند مہرین راحیل، شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے جوڑے سمیت تمام تر تیاریوں کا بے حد شکریہ۔ دراصل شکریہ کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CAyJrdWgzmj/?igshid=10wh3byot9vw4
    اداکارہ نے ایک اور انسٹا گرام پوسٹ میں نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے ویڈیو شئیر کی اور لکھا کہ کیا جذباتی رولرکاسٹر ہے !!! میں اس شخص سے محبت کرتی ہوں!!! میرے لئے دانیال راحیل بنانے کے لئے اللہ تعالی کا شکریہ۔
    https://www.instagram.com/p/CAyKhlqgn3O/?igshid=1sl5cr3yod4iz
    علاوہ ازیں اداکارہ نے اپنے شوہر راحیل اور ان کی فیملی کے ساتھ شادی کے موقع پر لی گئی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ دی راحیلز

    واضح رہے کہ اس سے قبل قرنطینہ میں اداکارہ ثمینہ احمد اور اداکار منظر صہبائی ، اداکارہ نمرہ احمد اور اداکار آغا علی اور ادکارہ حنا الطاف نے شادی کر کے مداحوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا تھا-

    لاک ڈاؤن کے دوران رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے فنکار

  • ارطغرل غازی کی حلیمہ سلطان کا پاکستانیوں کے لئے خوبصورت پیغام

    ارطغرل غازی کی حلیمہ سلطان کا پاکستانیوں کے لئے خوبصورت پیغام

    مسلمانوں کی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق ترک سیریز’ارطغرل غازی‘ میں حلیمہ سلطان کا مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ اسراء بلجیک نے پاکستانیوں کے لئے ایک خوبصورت پیغام شیئر کیا اور فرنٹ لائن ورکرز کو خراج تحسین پیش کیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عید کے موقع پ فرنٹ لائن ورکرز کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایریل پاکستان کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے جاری پیغام میں اسراء نے لکھا کہ ترکی اور پاکستان میں رہنے والے میرے دوستوں اور فینز کے لیے ایک خوبصورت ملک کی طرف سے خوبصورت پیغام۔
    https://twitter.com/esbilgic/status/1266440323154292746?s=19
    تُرک اداکارہ نے فرنٹ لائن ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ آئیے ہم سب مل کر فرنٹ لائن ورکرز کا ساتھ دیں اور اس پیغام کو دنیا بھر میں عام کریں

    اسراء بلجیک نے اپنے ٹویٹ میں عندیہ دیا کہ امید ہے کہ وہ جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گی اداکارہ نے اپنا پیغام پاکستان گورنمنٹ کو بی ٹیگ کیا

    یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر سرکاری ٹی وی چینل پر یکم رمضان سے قومی زبان اردو میں نشر کی جانے والی ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ نے پاکستان میں سب کو ہی اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ اس ڈرامے کی کہانی 13ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیا م سے قبل کی ہے۔ ڈرامے کی مرکزی کہا نی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ ارطغرل ڈرامے کی ان خوبیوں نے جہاں پاکستانیوں کو اپنا گرویدہ بنایا ہوا ہے وہیں حلیمہ سلطان نے اپنی خوبصورتی اور شاندار کردار ادا کرنے کی وجہ سے پاکستانیوں کے دلوں میں گھر کیا ہوا ہے۔

    ارطغرل غازی: لوگوں کو سرحدوں کی بجائے مواد پر فوکس کرنا چاہیئے نیلم منیر

    ارطغرل اردو کی بڑی کامیابی، دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے چینلز میں تینتیسویں نمبر پر آگیا

    انوشے اشرف تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کے مرکزی کردار ’ارطغرل‘ کی جانب سے کی جانے والی ویڈیو کال مس ہونے پر افسردہ ہو گئیں

  • پاک آرمی اور آپ کا مہلک مرض   تحریر: فیصل ندیم

    پاک آرمی اور آپ کا مہلک مرض تحریر: فیصل ندیم

    آپ یقیناً مریض ہیں اور آپ کو پاک آرمی کی مخالفت جیسا موذی مرض لاحق ہے اس مرض میں بندے کو اپنا گھر ہمیشہ برا اور دوسروں کا ہمیشہ اچھا لگتا ہے
    آپ کے مریض ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ آپ کو چائنہ کی لداخ میں بھارت سے ایک چھو ٹی سی جھڑپ تو دکھائی دیتی ہے لیکن انیس سو اڑتالیس سے لیکر آج تک پاکستان کی بھارت کے ساتھ چار جنگیں نہیں دکھائی دیتی آپ مریض ہی تو ہیں کہ آپ اکہتر میں پاکستان آرمی کی شکست پر شادیانے بجاتے ہیں جبکہ اصل مجرم تو آپ تھے جو کلمہ والے پاکستان میں سندھی مہاجر پنجابی پٹھان بلوچ اور بنگالی بنے تھے اور آپ کی اسی ٹوٹ پھوٹ نے بھارت کو موقع دیا تھا کہ وہ پاکستان کو دو لخت کردے
    بھارتی جنرل جی ڈی بخشی کہتا ہے ہمیں جنگ پاکستان آرمی نے سکھائی ہے اس نے ہمیں مارا اور بار بار مارا اور اتنا مارا کہ ہمیں اس سے لڑنے پر مجبور ہونا پڑا ۔۔۔
    آپ کا مرض کتنا شدید ہے کہ آپ کو انیس سو اڑتالیس میں نوزائیدہ اور کمزور پاکستان کے بیٹوں کی وہ بے مثال شجاعت نہں دکھائی دیتی جس کے ذریعہ کشمیر کا چھتیس فیصد حصہ آزاد کروالیا گیا اور بری طرح پٹتے بھارت کو روتے دھوتے اقوام متحدہ میں اپنے دکھڑے سنا کر جنگ بندی کروانی پڑی ۔۔۔۔
    کتنا مہلک ہے آپ کا مرض کہ یہ آپ کو پینسٹھ کی وہ جنگ نہیں دیکھنے دیتا جس میں وہ بھارتی جرنیل جو لاہور میں ناشتہ کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے منہ کی کھانے کے بعد اپنے گھر واپس دوڑنے پر مجبور ہوئے ۔۔۔۔
    یہ آپ کا تعفن زدہ مرض ہی ہے کہ جو کارگل کی عظیم فتح دیکھنے سے بھی آپ کو محروم رکھتا ہے اور لداخ لداخ پکارتے آپ کو کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ آپ وہ منظر دیکھ سکیں کہ جس میں پاکستان آرمی نے بھارتی سورماؤں کو کارگل کی پہاڑیوں پر اس طرح جکڑا تھا کہ ان کی ٹوٹتی ہڈیوں کے کڑا کے ساری دنیا کو سنائی دے رہے تھے کیسے بدنصیب مرض میں مبتلا ہیں آپ کے کارگل کے فاتحین پر طعنے کسنا آپ کی عادت بن چکی ہے جبکہ وہ سیاسی قیادت جو واجپائی اور مودی کی یاری میں اتنی غرق تھی کہ اس نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کیلئے اس عظیم فتح کو امریکہ کے در پر جاکر بیچ ڈالا ہمیشہ آپ کو اپنے سر کا تاج محسوس ہوتی ہے
    خود دیکھئے آپ کے مرض نے آپ کو کتنا بدحال کردیا ہے کہ آپ ابھی پچھلے سال کا فروری بھول گئے جس میں پاکستانی شیروں نے بھارتی بزدل آرمی کی ٹھکائی لگائی تھی اور بھارتی سورمے سوائے بلبلا نے کے کچھ نہیں کرسکے

    ہاں مجھے فخر ہے اس پاکستان آرمی پر جو پہلے روس جیسی ہیبتناک سپرپاور کو اس طرح شکست دیتی ہے کہ وہ اپنا وجود کھوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے ہاں مجھے فخر ہے پاک آرمی کے ان بلند حوصلہ جوانوں پر جو روس کے بعد دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور امریکہ کو بھی شکست فاش سے دوچار کرچکے ہیں

    مجھے معلوم ہے پاک آرمی کی یہ فتوحات آپ جیسے بدبودار مریض کو کبھی بھی برداشت نہیں ہوگی لیکن کیا کیا جائے کہ روس اور امریکہ دونوں اپنے زخموں کو چاٹتے ہوئے ایک ہی بات کرتے ہیں کہ ہم ہارنے والے نہیں تھے یہ پاکستان آرمی ہے جس نے ہمیں ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا ۔۔۔۔

    لداخ لداخ کی رٹ لگانے والو کبھی رب کی دی ہوئی عقل استعمال کرتے ہوئے سوچ لیا کرو کہ یہ پاکستان ہے جس نے بھارت کی ستر فیصد آرمی کو پچھلے بہتر سال سے مصروف رکھا ہوا ہے یہ پاکستان ہے جس نے بھارتی سورماؤں کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ کسی دوسرے ملک سے جنگ لڑ سکیں ۔۔۔۔
    میں آپ کے مہلک مرض میں افاقہ کی دعا کرتا ہوں کہ آپ کو یہ سامنے کی بات سمجھ آئے کہ ایک پاکستان ہے جو پچھلے بہتر سال سے مسلسل حالت جنگ میں ہے جسے اپنی سرحد کے اکثر حصہ پر دشمن کی ریشہ دوانیوں کا مسلسل سامنا ہے وہ مسلسل لڑ رہا ہے اگر کبھی ہارا ہے تو اکثر جیتا بھی ہے اور الحمدللّٰہ وہ وقت قریب ہے کہ جب مکمل فتح پاکستان کا مقدر بنے گی ان شاءاللہ ۔۔۔۔
    آخری بات یہ بھی پاکستانی جوانوں کا اعزاز ہے کہ میدانوں میں ان کے قدموں کے نشانات بہت گہرے ہوتے ہیں لیکن دشمن کو بہت دیر سے دکھائی دیتے ہیں یہی کچھ روس امریکہ کے خلاف جنگ میں بھی ہوا تھا یہی چین بھارت جنگ میں بھی ہوگا نہیں یقین تو اپنی گم شدہ عقل کو اپنے ذہن کے نہاں خانوں سے نکالیں اور پھر اسے استعمال کرتے ہوئے روسی اور امریکی جرنیلوں کے وہ بیان تلاش کرلیں جس میں وہ دہائیاں دے رہے ہیں کہ پاکستان بہت چپکے چپکے ہماری بینڈ بجا گیا ۔۔۔۔
    اور ہاں ایک بات اور پاکستان میں رہتے ہیں تو پاکستان کا نمک حلال کریں دوسرے کی تھالی کے گھی کو دیکھ کر اپنی تھالی میں چھید کرنا بند کریں پاکستان کے محافظ پاکستان کی آن بان شان ہیں ان پر بکواس بند کریں اور بھارت بنگلہ دیش بھوٹان جہاں چاہے دفع ہوجائیں۔۔۔

    فیصل ندیم

  • آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ، ابوبکر قدوسی

    آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ، ابوبکر قدوسی

    آج عید تھی ، دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، جسے خلیفہ عمر ثانی کہتے تھے ،
    ابوبکر قدوسی

    فاطمہ بنت عبد الملک ، کے دادا خلیفہ ہووے پھر ابّا عبد الملک تو کمال کے ہی خلیفہ تھے ۔پھر فاطمہ کے بھائی ایک کے بعد ایک چار خلفاء ہو گئے ۔
    شادی مدینے کے گورنر سے ہوئی ۔۔گورنر ایسا بانکا سجیلا کہ ہر عورت ایسے خاوند کی خواہش کرے ۔۔۔جس راہ سے گزرتا جیسے راہ روشن ہو جاتی فضاء معطر ہو جاتی ۔۔۔۔
    فاطمہ کی خوش قسمتی کہ اب کی بار خود اپنا خاوند خلیفہ ہو گیا ۔۔۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔لاکھوں لاکھ مربع میل کا حاکم ۔۔۔
    لیکن خلیفہ کیا ہووے ۔۔سب عیش و عشرت رخصت ہوئے ۔۔۔فاطمہ بھی کچھ ایسی وفاء شعار کہ جب گھر میں پوری کی پوری مملکت داخل ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ غربت بھی تو اف تک نہ کی ۔۔۔خاوند نے ادھر عہدہ سنبھالا ادھر تن پر جیسے ٹاٹ پہنا ۔۔۔۔ریاست کے غم اور عوام کے پیسے کا اتنا فکر ، دیانت امانت کی ایسی چنتا کہ سب عیش رخصت ہوئے ۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔۔
    چند روز پہلے فاطمہ نے خاوند سے کہا کہ عید پر اب کے بچوں کو کپڑے لے دیجئے ۔۔۔۔۔عمر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ پیسے کہاں سے لاؤں ۔۔۔۔
    فاطمہ نے منہ ادھر کیا اور کمرے سے نکل گئی کہ آنکھیں برسات ہو رہی تھیں اور من نہ چاہا کہ بہترین انسان بیوی کی آنکھوں میں اترتی رم جھم بارش کو دیکھ لے اور بے چین ہو جائے ۔۔۔
    کچھ ہی دیر میں واپس آئ اور امید کی جوت جگائی کہ
    آج عید تھی ۔۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔۔لاکھوں مربع میل کا حاکم ۔۔۔
    ” سرتاج ، میرے حضور ! آپ یوں کیجئے کہ بیت المال کے نگران سے کہیے کہ اس بار تنخواہ پیشگی دے دے کہ بچوں کے کپڑے بن جائیں ۔۔مہینہ بھر سوت کات لوں گی ، جو ملے گا قرض اتر جائے گا ”
    عمر کا بجھا چہرہ کچھ روشن ہوا ۔۔آخر باپ بھی تو تھے بھلے جیسے بھی محتسب ہوں ۔۔۔۔دل تو دل ہوتا ہے ۔۔۔ابھی میں نے یہ لکھنے سے پہلے اپنی چھوٹی بیٹی کو ڈانٹ دیا اس کی آنکھیں بہہ نکلیں ۔۔۔۔میں دیر تک بے چین رہا جب تک وہ میری منتوں ترلوں کے بعد مسکرا نہ دی سکون نہ ملا ۔۔۔۔لیکن یہاں تو ۔۔۔۔۔
    آج عید تھی ۔۔۔خلیفہ کے گھر عید ۔۔۔عید غریباں ۔۔۔
    عمر بیت المال گئے ۔۔۔۔بیت المال کے نگران کے سامنے دست سوال دراز کیا ۔۔۔وہ بھی عمر کا اپنا ہی تو مقرر کردہ تھا ۔۔۔۔۔سوال سن کے بے تاثر ، رسان سے لہجے میں بولا :
    ” اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ آپ اگلی تنخواہ کے وقت تک زندہ رہیں گے ۔۔۔۔امت کا پیسہ ہے ، میں کیونکر اس میں اختیارسے تجاوز کروں ”
    عمر خاموشی سے واپس ہو لیے ۔۔۔۔۔۔عید آ گئی ۔۔۔
    آج عید ہے ۔۔دمشق کے سب سے غریب آدمی کے گھر عید ، غریب آدمی کہ جسے خلیفہ بھی کہا جاتا ہے ۔۔۔۔
    عمر بن عبدالعزیز گھر واپس لوٹ کر آتے ہیں۔
    "فاطمہ! بچوں کو کہہ دو میں انھیں عید کے کپڑے نہیں لے کر دے سکتا۔۔۔”
    عید کی نماز ہوئی ، سب ملنے والے ملنے آئے ۔۔۔ عمر عبدالعزیز کے بچے بھی انہی پرانے کپڑوں میں بیٹھے تھے۔۔۔عمر بن عبدالعزیز نے اپنے بچوں سے فرمایا
    "بچو ! آج تمہیں اپنے باپ سے گلہ تو ہو گا کہ عید کے کپڑے بھی نہ دلوا سکا۔۔۔۔”
    عمر کے ایک بیٹے کا نام عبدالملک تھا جو ان کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا اسی نے بڑھ کے جواب دیا :
    "نہیں ابا! آج ہمارا سر فخر سے بلند ہے۔۔۔ہمارے باپ نے خیانت نہیں کی۔۔۔۔”
    گھر میں تشریف لائے تو بچیاں منہ پر کپڑا رکھ کر بات کر رہی تھیں۔۔۔۔۔کچھ حیران سے ہووے پوچھا :
    ” کیا ماجرا ہے ، منہ پر کپڑا رکھ کر کیوں بات کر رہی ہو ”
    بیٹیوں نے جواب دیا :
    ” آج ہم نے کچے پیاز سے روٹی کھائی ہے ہم نہیں چاہتیں ہمارے منہ سے آنے والی پیاز کی بدبو سے آپ کو پریشانی ہو۔۔۔ ”
    عمر بن عبدالعزیز کی آنکھوں میں آنسو تھے :
    "میری بچیو! کوئی باپ اپنی اولاد کو دکھ نہیں دینا چاہتا۔۔۔میں چاہوں تو تمہیں شہنشاہی زندگی دے دوں لیکن میں تمہاری خاطر جہنم کی آگ نہیں خرید سکتا۔۔۔”
    ان کا جب انتقال ہوا انھیں قبر میں اتارا گیا۔۔رجاء قبر میں اترے ، کفن کی گرہ کھول کر دیکھی ۔ رجاء کہتے ہیں :
    "میں نے دیکھا۔۔۔۔ عمر بن عبدالعزیز کا چہرہ قبلہ رخ تھا اور چودہویں کے چاند کی طرح روشن تھا یوں کہ جیسے چودہویں کا چاند قبر میں اتر آیا ہو ”
    رحمہ الله ۔۔۔۔رحمہ الله ۔۔۔۔رحمہ الله

  • امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟  تحریر :سفیر اقبال

    امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟ تحریر :سفیر اقبال

    امت وسطہ شکستہ کیوں؟؟؟
    تحریر :سفیر اقبال

    یہ وہ وقت ہے جب ہاتھ ملنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا….

    امت مسلمہ کی تاریخ شاہد ہے کہ جو اصل دشمن ہے وہ ہمیشہ دوست بن کر آیا… آستین کا سانپ بن کر آپ کی صفوں میں شامل ہوا ….آپ کا بھروسہ جیتا اور آپ کے دشمنوں کے لیے آپ کے قلعوں کے دروازے اندر سے کھول کر آپ کو زخمِ کاری دے گیا. اور زخم بھی ایسا کہ جس کی ٹیس صدیوں تک محسوس ہو….!

    اگر کوئی ایک دو واقعات و حادثات ہوں تو بندہ کہے شاید کوئی نسلی تعصب ہو یا انفرادی و ذاتی غصہ جس کا بدلہ پورے مسلم لشکر سے یا پوری مسلم ریاست سے لیا گیا… لیکن مقام ِحیرت کہ ایک دو واقعات نہیں پوری تاریخ ہے کہ مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی اس کی کڑیاں کہیں نہ کہیں ان "سانپوں ” کے زہر سے جڑتی نظر آتی ہیں. مسلمانوں کے قلعے دشمن کے استقبال کے لئے ہمیشہ اندر سے کھولے گئے وہ بھی ان غداروں کے ہاتھوں سے.

    .
    اب پروبلم ہمیشہ یہ رہی کہ جو دوست بن کر آتا ہے اسے کبھی دشمن نہیں کہا جا سکتا… اسے آج تک پوری امت مسلمہ( بذریعہ اجماعِ امت) کافر نہیں کہہ سکی کیونکہ وہ اپنی "پیدائش” سے اب تک خود کو مسلمان کہتے آ رہے ہیں. اور اپنا جان و مال محفوظ کروا چکے ہیں. لیکن صحابہ کرام کی تاریخ سے لیکر آج تک کوئی ایسا موقع چھوڑتے بھی نہیں کہ جس کے ذریعے ایسی چوٹ اور ایسا زخم امت مسلمہ کو لگے کہ جو بھلایا نہ جا سکے.

    وہ ہماری پارلیمنٹ، ہمارے شہر، ہمارے محلے حتی کہ ہماری فرینڈ لسٹ میں موجود ہیں لیکن ہم انہیں اپنے آپ سے علیحدہ نہیں کر سکتے (قادیانیوں تک کو امت مسلمہ سے علیحدہ کرنے اور انہیں جڑ سے اکھاڑنے جیسا کام سوچنا بہت آسان ہے کرنا مشکل! اور یہ لوگ تو اور زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے درمیان سرایت کر چکے ہیں ). کسی کو ابھی بھی شک ہو تو اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود ایسے معروف ایکٹیویسٹس کی والز چیک کر لیں جو سالہا سال تک پاکستان کے دفاع کے لئے اپنے قلم کا زور لگاتے رہے لیکن آج ان کی نظر میں ریاست، آرمی، ادارے…. کسی کی بھی کوئی حیثیت باقی نہیں.

    ان کے ساتھ جنگ دو بدو دشمن والی نہیں بلکہ آستین میں پلنے والے یا جڑوں میں بیٹھے ہوئے سانپ کی ہے جس پر نظر رکھی جاتی ہے اور جب وہ شرارت کرتا ہے تب اسے کچلا جاتا ہے. لیکن اگر آپ پہلے اس پر کوئی وار یا کوئی فتویٰ لگاتے ہیں تو وہ کسی کام کا نہیں. کیونکہ وہ تو آپ کی جڑوں میں خموشی سے چھپ کر "معصوم” بن کر بیٹھا ہوا ہے. یہ دشمن جب آپ کی رینج میں ہوتا ہے تب اپ کا دوست ہوتا ہے اور زخم صرف اور صرف اسی صورت میں… اور تب لگاتا ہے جب اس کو یقین ہوتا ہے کہ میں وار کر کے نکل جاؤں گا اور یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے….! اگر میں اس کے اس روئیے میں کوئی مبالغہ کرتا نظر ا رہا ہوں تو بیشک تاریخ اٹھا کر خود دیکھ لیں.

    کبھی کبھی تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے چشم تصور سے سلطان ٹیپو کی شکست کو دیکھتا ہوں تو نہایت کرب اور حسرت سے سوچتا ہوں کتنا اچھا ہوتا سلطان ٹیپو ان غداروں کو پہلے ہی اپنی صفوں سے نکال لیتے. اور پھر اچانک مجھے پاکستان اور پاکستان کی پارلیمنٹ کا خیال آتا ہے اور وہ حسرت دعا بن جاتی ہے کہ یا اللہ جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن اب دوبارہ ہمارے قلعوں کے اندرونی دروازوں کی چابیاں ہمارے غداروں کے ہاتھوں میں مت دینا.

    اللہ تعالیٰ برباد کرے ان تمام لوگوں کو جو ازل سے لیکر آج تک دوہرا رویہ اپناتے ہوئے امت مسلمہ کے درمیان رہ کر اپنی "مسلمانیت” کا فائدہ اٹھاتے رہے اور بعد میں جب موقع دیکھا تو اسی امت کو ایک شدید نقصان سے دو چار کر گئے. آج بھی جن جن لوگوں نے خلیفۃ المسلمین امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی قبر مبارک کو اکھیڑا اور ان کے جسد مبارک کو بھی نہ چھوڑا … اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کے سہولت کاروں کو کبھی قبر میں سکون نہ دے اور دنیا و آخرت میں رسوا کرے. آمین ثم آمین