مسلمان بیٹی…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
ہے مسلمہ بیٹی۔۔۔۔
کی پہچان۔۔۔۔
حنیفہ و ضو افشاں
تعلیمِ اسلام ہے۔۔۔
جس کی شان۔۔۔۔
چراغِ رہ ہیں۔۔۔
نبی کے فرمان۔۔۔۔
حیا ہوتی ہے۔۔۔۔
جس کی چادر۔۔۔۔
حجاب بنتا اپنا ایمان۔۔۔۔
باپ کی وہ چشمِ نور
شوہر کی آنکھ۔۔۔
کا سرور۔۔۔۔۔
کردار اُس کا۔۔۔
ہوتا ہے ازکیٰ۔۔۔۔
چال رہتی ہے۔۔۔
جس کی ذکریٰ۔۔۔۔
آزمائش کی ۔۔۔۔
گھڑی میں بھی۔۔۔
آسودگی و۔۔۔
خوشی میں بھی۔۔۔
رب کی یاد میں۔۔۔
رطب اللسان۔۔۔۔
صوم و صلوۃ کی
روشنی سے۔۔۔
صدقہ و خیرات کی
چاشنی سے۔۔۔۔
ڈھونڈتی ہے وہ
اپنی امان۔۔۔۔
فحاشی کی سب
راہوں سے۔۔۔۔
بے حیائی کی
آماجگاہوں سے۔۔۔
خود کو بچاتی ہے
سدا۔۔۔
حیا کے حسنِ لازوال۔۔۔۔
سے وہ خود کو۔۔۔
بناتی ہے با وفا۔۔۔
ظلمت کی لہریں جب
سفیدی پر آ لگتی ہیں
میلاہٹ سی آ جاتی ہے۔۔۔؟
اکتاہٹ سی ستاتی ہے
اوصاف کو۔۔۔۔
دھندلاتی ہے۔۔۔؟؟؟
ان سب سے۔۔۔۔
بچ بچا کر وہ۔۔۔۔
حسن اپنا بڑھاتی ہے۔۔۔ !!!
بن کر جو رہ کی شمع…
اوروں کو رستہ دکھاتی ہے…
نہیں ہوتی ظلمتوں کی پیامبر…
نہ اوروں کو بھٹکاتی ہے…
اسلام کی ایسی بیٹی۔۔۔
ہی آگے۔۔۔۔
جب بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔ !!!
اور ماں جب یہ کہلاتی ہے۔۔۔
اس کی باوفا گود میں…
پھر ہیرے ایسے پلتے ہیں۔۔۔
کردار ایسےکھِلتے ہیں۔۔۔۔
کہ جن کے عمل کی
روشنی میں۔۔۔۔
اک دنیا سنورتی ہے۔۔۔
رنگ رفعت کا بھرتی ہے۔۔۔
ایسی ہی مسلمہ ۔۔۔۔
بیٹی پر۔۔۔۔
زمانہ ناز کرتا ہے۔۔۔۔
خود کو اک جہاں۔۔۔
اس کے ہم انداز۔۔۔
کرتا ہے۔۔۔ !!!!!
ایسی ہی بیٹیاں۔۔۔
بہت نادر ہوتی ہیں۔۔۔
بہت نایاب ہوتی ہیں۔۔۔
قوموں کی وہ آبرو۔۔۔۔
عزت مآب ہوتی ہیں۔۔۔ !!!
یہی ہوتی ہیں تابندہ۔۔۔
یہی تاباں ہوتی ہیں۔۔۔۔
یہی ہوتی ہیں تاجور۔۔۔۔
یہی دُر افشاں ہوتی ہیں۔۔۔۔ !!!!!
=========================
Author: عائشہ ذوالفقار
-

مسلمان بیٹی کی پہچان …!!! بقلم:جویریہ بتول
-

اسلام میں والدین کا مقام بقلم: ندا خان
اسلام میں والدین کا مقام
بقلم. ندا خان
دنیا کا ہر مذہب اور تہذیب اس پر متفق ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک رکھنا چاہیے قرآن پاک میں جہاں الله تعالٰی اپنی فرمانبرداری کی طرف توجہ دلائی ہے
اس کے بعد والدین سے حسن سلوک اور اطاعت کی تعلیم دی ہے
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت کا مفہوم ہے
” اے بندو تم میرا ( الله) کا شکر ادا کرو اور والدین کا شکر ادا کرو تم تمام کو میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے” سورة لقمان ١٤
یاد رکھے جس طرح الله کے حقوق ہم پر فرض ہے اسطرح انسانوں کے حقوق بھی ہم پر فرض ہے اور انسانوں میں سب سے بڑھ کر والدین کے حقوق اہم ہے
سورة الأحقاف ١٥ میں الله فرماتے ہیں
” اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ ایسے نیک عمل کرو جن سے تو خوش ہوجائے اور تو میری اولاد بھی صالح بنا میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمان میں سے ہوں ”
اور جو والدین کی نافرمانی کرتے دنیا اور آخرت کی زلت ان کا مقدر بنتی ہے
حدیث کا مفہوم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
” جس نے رمضان کو پایا اور الله سے اپنی بخشش نہ کروائی اس پر لعنت جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے اس پر لعنت اور جس نے اپنے ماں باپ کو
بڑھاپے کی حالت میں پایا ان کی خدمت نہ کی اس پر لعنت”
قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
اور جس نے اپنے ماں باپ سے کہا کہ تم سے میں تنگ آگیا تم مجھ سے یہی کہتے رہتے رہو گے کہ میں نے مرنے کے بعد زندہ کیا جاؤں گا مجھ سے پہلے بھی امتیں گزر چکی ہیں وہ دونوں جناب باری تعالیٰ میں فریادیں کرتے ہیں اور کہتے تجھے خرابی ہو ایمان لے آ بیشک الله کا وعدہ حق ہے وہ جواب دیتا ہے کہ یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں”
سورة الأحقاف ١٧
اسلام ہمیں اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور فرمانبرداری کی تعلیم دیتا ہے
لیکن دورہ حاضر میں آپ مسلم معاشرے کا مطالعہ کریں گے تو آپ پر یہ بات عیاں ہوگی کہ بہت کم لوگ ہے جو والدین کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور ان سے شفقت سے بیش آتے ہیں بلکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ والدین کی نافرمانی اور حکم عدولی
میں انہیں برائی محسوس نہیں ہوتی
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سے کسی نے سوال کیا مجھ پر سب سے زیادہ کس کا حق ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں کا یہ الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دوہرائے پھر سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا تیرے باپ کا ” والله اعلم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد پر فرض ہے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کریں اور
بیوی پر فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت کریں”
قرآن پاک میں بیشتر مقامات پر جہاں اللّٰه تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کا ذکر کیا ہے اس کے ساتھ ہی والدین سے حسن سلوک اور ان کے ساتھ خوش معاملہ کرنے کا ذکر ہے
سوة النساء ٣٦ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
” اور الله کہ عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک و احسان کرو”
قرآن پاک میں دوسرے مقام پر الله تعالٰی فرماتے ہیں
سورة البقرة ٨٣
، اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا کہ تم الله تعالٰی کے سوا دوسرے کی عبادت
نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تمہارے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق تمہارے والدین کا ہے اگر ان میں سے کوئی نہیں ہے تمہاری ماں کے بعد حسن سلوک کا حق تمہاری ماں کی بہن کا اور اس کی سہیلی کا اور باپ کے بعد حسن سلوک کا حق چچا کا اور باپ کے دوست ہے”
والله اعلم
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔ ( لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی ) ۔ Sahih Bukhari#527
الله رب العزت ہمیں والدین سے حسن سلوک اور اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا ارحم الراحمين -

دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو تحریر: ساجدہ بٹ
دُنیا میں عزت چاہتے ہو تو والدین کی خدمت کرو
تحریر: ساجدہ بٹآج ہم بات کریں گے عزت و وقار کے بارے میں چونکہ ہر۔ انسان دنیا میں اپنا ایک مقام و مرتبہ چاہتا ہے انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس سے پیار و محبت سے پیش آئیں اُسے اچھا جانیں مال و دولت سب کچھ ہمارے پاس ہو ہم سکون کی زندگی جیئیں ۔۔۔۔۔۔
آپ قارئین سوچیں گے یہ سب ایک ساتھ کیسے ممکن ہے ؟؟؟؟؟
جی ہاں قارئین کرام ۔۔۔۔۔۔۔۔
ذرا توجہ و دلچسپی سے اس تحریر کو پڑھیئے کہ ہمارے مذہب نے ہمیں ترقی کا راز کیا بتایا ہے جس پر چل کر ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔۔جی ہاں میرے عزیز ہم وطنو ترقی کا راز والدین کی خدمت میں ہے ۔۔۔
دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس نے اپنے پروکاروں کو والدین کی خدمت اور اطاعت گزاری کی تاکید نہ کی ہو۔۔
عیسائیت ہو یا یہودیت،ہندومت یا بدھ مت۔
ہر مذہب نے والدین کی تابعداری اور خدمت ضروری قرار دی ہے مگر اسلام کو دیگر مزاہب پر فوقیت حاصل ہے۔اس نے اپنی تعلیمات میں والدین کی صرف خدمت کی ہی تلقین نہیں کی۔بلکہ احسان کی تاکید کی ہے اور احسان کا درجہ خدمت سے بڑھ کر ہے
سورہ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔۔۔
وبلوالدین احساناً
یعنی والدین کی صرف اتنی خدمت نہیں کرنی جتنی انہوں نے کی بلکہ اتنی زائد ہو کہ وہ تمہارا احسان نظر آنے لگے۔۔۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے بڑے بڑے فرائض احسان احترام،شکرگزاری اور دعائے خیر بیان کیے۔۔۔
سورۃ الاسرا میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔۔۔۔۔۔اور تمہارے رب کا حکم ہے کہ تم صرف اس کی عبادت کرو اور ماں باپ سے احسان کرو ،
اور ان کے سامنے نرمی اور رحم سے انکساری کا پہلو جھکائے رکھو
اُنھیں اف تک نہ کہو اُنھیں نہ جھڑکو اور ان سے ادب سے گفتگو کرو
۲۳٫۲۴٫۲۶
دیکھیں کس قدر خوبصورتی سے اسلام نے والدین سے حسن سلوک کی تاکید کی ہے
*حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔
،،خدا کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟فرمایا،وقت پر نماز پڑھنا ،پوچھا پھر کون سا،،فرمایا والدین سے حسن سلوک،،
سوچیں جب ہم اس قدر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کریں گے تو کیونکر نہ ترقی کریں گے،
کہتے ہیں مثال سے بات سمجھ آتی ہے تو چلیے مثال ہی سے بات کرتے ہیں ہم اگر اپنے اِرد گِرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔۔۔
ہمارے ہمسایوں میں جو فیملی رہتی ہیں اُن کے 6 بیٹے ہیں جن میں چار شادی ہیں گھروں میں اکثر لڑائی وغیرہ تو ہو ہی جاتی ہے لیکن یہاں میں بات صرف والدین اور اولاد کے سلوک پر کروں گی ۔۔۔
اُن کے بڑے بیٹے کی شادی ہوئی گھر میں ماں باپ بیوی کے درمیاں تلخ کلامی ہو بھی جاتی تو اُن کے بیٹے نے ماں باپ کی خدمت میں کوئی فرق نہیں آنے دیا کبھی پلٹ کے کسی بات کا غصے میں جواب نہیں دیا مسکرا کے والدین سے ملتے رہے۔۔۔۔۔پھر اُن کے بچے ہوئے الحمدللہ وہ بھی والدین کے فرمانبردار ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار میں بہت بہت ترقی دی بہت جلد وہ ترقی کی کئی منازل تہ کرنے لگے گاؤں کے لوگ اُس لڑکے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں میرے والدین سمیت سب اُس کی بہت عزت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
آپ کے خیال میں اُس آدمی کو یہ سب کچھ کیوں ملا ؟؟؟
آپ ذرا یہ سوچئے۔۔۔
اور میں بات کرتی ہوں اب اُن کے دیگر بیٹوں کے بارے میں تو جی ہاں قارئین کرام اُن کے باقی بیٹوں کی شادیاں ہوئی والدین میں سے کسی سے بیوی سے لڑائی جھگڑا ہو جاتا تو وہ بھائی پورا پورا والدین سے مقابلہ کرتے اُن سے ناراض ہو جاتے کھانا الگ بنانے لگے ۔۔۔حلاں کے بڑے بھائی کی نسبت یہ سب ہنر مند تھے لیکن پھر بھی کاروبار میں کمزور ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ بس دو ٹائم روٹی کھانے کو با مشکل گزارا کرتے ہیں اُن میں سے کوئی گلی میں کبھی فضول کھڑا بھی ہو جائے تو محلے والے اچھا نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہی والدین کی اولاد ہونے کے باوجود اس طرح بچوں کے درمیان کیوں ہوا؟؟؟
یقینا والدین کی خدمت اور نافرمانی کی واضح مثال میرے عزیز قارئین کرام کی سمجھ میں ضرور آئی ہو گی۔۔۔۔
بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو نہ جانے کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے بھی اس عمر میں آنا ہے ہم نے بھی کمزور جسم میں ڈھل جانا ہے اگر ہماری اولاد نے ہمارے ساتھ یہ سب رویہ اختیار کیا تو یقینا ہمیں بہت افسوس ہو گا ۔۔۔شہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
"”””””””””””””””””””””””””””” -

اسلام میں والدین کی عظمت بقلم: ثناء صدیق
اسلام میں والدین کی عظمت
ثناء صدیقدنیا کے رشتوں میں سب سے اہم رشتہ والدین کا ہے بلکہ اس کو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم و ہدایت میں جزو ایمان کا درجہ دیا ہے اللہ پاک کی طرف اتارے گئے صحیفہ ہدایت میں اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ ساتھ ان کی عظمت اور شکر گزاری پر بھی زور دیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو اپنے اعمال میں اللہ کی عبادت کے علاوہ ماں باپ کی راحت رسانی کا درجہ ہے
جیسا کہ ارشاد ہے
وقضی ربک الا تعبدو الا ایاہ و بالوالدین احسانا (بنی اسرائیل 23)
تمہارے رب کا حکم ہے صرف اسی کی عبادت کرو اور اپنے والدین کی خدمت اور اچھا برتاو کرو
ایک حدیث میں ارشاد ہے
والد کی رضا مندی میں اللہ کی رضامندی ہے
جو اپنے مالک و مولا کو راضی رکھنا چاہتا ہے وہ اپنے ابو کو راضی رکھے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی اولین شرط والد کی رضا جوئی کی شرط ہے جو کوئی اپنے والد کو ناراض کرے کا وہ اپنے آپ کو رضا الہی سے محروم کر لے گا
والدین کی فرمابرداری کی برکات اللہ دنیا میں بھی اتارتا ہے
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں اللہ تعالی ماں باپ کی خدمت و فرمابرداری اور حسن سلوک کی وجہ سے اس کی عمر بڑھا دیتا ہے
والدین کی جو تکالیف محنتیں مشقتیں جو وہ اپنی اولاد کی پرورش میں برداشت کرتے ہیں وہ اب معلوم بھی ہے معروف بھی ہیں لیکن اس کے باوجود جو کوئی والدین کی خدمت نہیں کرتا ان کو تکلیف دیتا ہے وہ شقی شخص ایمان کی حقیقی دولت سے محروم ہے
اللہ تعالی کی شکر گزاری تو لازم ہے کیونکہ اس نے سب کو وجود بخشا ہے لیکن اللہ نے اپنے بعد والدین کی عظمت کو اجاگر کیا ہے کیونکہ انسان کو وجود بخشنے والے ان کے ماں باپ ہی ہیں اور والدین کو اولاد کی پرورش کا زریعہ بنایا ہے والدین کو بہت دکھ اٹھانے پڑتے ہیں
اسی لیے فرمایا (ان اشکرلی ولوالدیک)کہ تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کر
تفسیر ابن کثیر میں ہے ایک شخص اپنی والدہ کو اٹھائے طواف کر رہا تھا اس نے رسول پاک سے پوچھا میں نے اس طرح خدمت کر کے اپنی والدہ کا حق ادا کر دیا آپ نے فرمایا ایک سانس کا بھی حق ادا نہیں ہوا
حضرت ابو ہریرہ ایک گھر میں رہتے تھے ان کی والدہ دوسرے گھر میں جب وہ کہیں جاتے تھے تو اپنی والدہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر کہتے تھے السلام علیکم یا امتاہ ورحمتہ اللہ و برکاتہ وہ جواب میں فرماتی تھیں وعلیک یابنی اس کے بعد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے رحمک اللہ کما ربتنی صغیرا وہ اس کے جواب میں کہتی رحمک اللہ کما بررتنی کبیرا
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ایک آدمی نبی مکرم کے پاس آیا پوچھا میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے فرمایا تیری ماں سائل نے پوچھا پھر کون فرمایا تیری ماں پھر سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں پھر سائل نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا باپ
حضرت ابو الدردا رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانہ دروازہ ہے اب تو اس کی فرمابرداری کر کے اس دروازے کو قائم رکھ یا نافرمانی کر کے اس دروازے کو ضائع کر دے
نبی پاک کے فرمان کے مطابق اپنے باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ایسا کرنے سے تمہارے بیٹے تمہارے ساتھ حسن سلوک کریں گئے
ظاہری طور پر یہ بات بلکل واضح ہے تمہاری اولاد تمہارے ساتھ حسن سلوک سے پیش ائے گی کیونکہ جب اولاد دیکھے گی کہ ماں باپ کے ساتھ اکرام و احترام سے پیش اتے ہو اور جان و مال سے خدمت کرتے ہو تو تمہارے عمل سے بچے بھی سبق سیکھے گے اور سمجھیں گے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک معاشرے کا لازمی جزو ہے سعادت مند شخص اللہ تعالی کی عبادت کے ساتھ ساتھ والدین کی خدمت اور شکر گزاری بھی کرتا ہے وہ اس نعمت کا شکر ادا کرتا ہے جو اللہ کی طرف سے والدین کی صورت میں دی گی ہے اور والدین کی وجہ سے اللہ تعالی اس پر اور بھی نعمتیں نازل کرتا ہے اور بہت سی نعمتیں والدین کی طرف سے اولاد کو مل جاتی ہیں
جس طرح اللہ کا شکر زبان سے نکالے ادا نہیں ہو جاتا بلکہ پوری ذندگی تکمیل احکام کا نام شکر ہے اسی طرح ماں باپ کی شکر گزاری ان کے حق میں اچھے بول بول دینے سے ان کی تعریف کر دینے سے ان کی تکلیفوں کا اقرار کر لینے سے ادا نہیں ہوتی بلکہ ان کی فرمابرداری دل وجان سے خدمت گزاری اور نافرمانی سے بچنا ان کی شکر گزاری ہے۔ -

سکولز کی بندش کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں حکومت سکول کھولنے کا اعلان کرے
سکولز کی بندش کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں حکومت سکول کھولنے کا اعلان کرے اساتذہ، سکول مالکان اور عوام نے مطالبہ کر دیا
باغی ٹی وی کے مطابق اساتذہ، سکول مالکان اور عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سکولز کی بندش کے باعث ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں حکومت سکول کھولنے کا اعلان کرے اساتذہ ، سکول مالکان اور عوام نے احتجاج کیا اور نعرے بازی کی جس میں انہوں نے کہا کہ تعلیم کو عزت دو اور سکول کھول دو علم کو اہمیت دو-
احتجاج میں شریک پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن پاکستان کے مرکزی صدر خالد محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہیں یہ پرائیویٹ سکولوں کا مسئلہ ہے انہوں نے اپنا مطالبہ پیس کرتے ہوئے کہا کہ یکم جون کو سکول کھولے جائیں کیوںکہ سکول کھلیں گے تو بچے آگے بڑھیں گے
انہوں نے کہا کہ چھوٹے بچوں کو نہیں چھٹی سے لے کر دسویں کلاس تک بچوں کو اجازت دی جا ئے انہوں نے وزیر تعلیم سئ گذارش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچوں کو پڑھانے والے چھوٹے موٹے سکول ہیں کوئی اتنے بڑے نہیں ہماری غذارش ہے کہ سکول کھولنے کی اجازت دی جائے ہم بچوں کو پڑھانے کے لئے نکلے ہیں اور نکلتے رہیں گے یہ ہمارا مطالبہ حکومت تک ہے ہمارا مطالبہ وزیرااعظم عمران سے ہے اور جاوید قمر باجوہ صاحب سے ہے کہ وہ ہماری بات سنیںخالد محمود نے کہا کہ اس وقت میرے پاس گلہی محلوں میں بنے 4000 تک سکولز ہیں جنہیں میں چلا رہا ہوں انہوں نے کہا کئی مالکان نے سکول خالی کروا لئے ہیں اور اساتذہ سمیت چوکیدار اور آیا تک کا سٹاف بے روزگار ہو چکا ہے انہوں نے بجلی کا بل دکھاتے ہوئے کہا کہ سجکول بند ہی اور انہیں 22000 روپے کا بل ڈال دیا گیا ہے واپڈا جانے پر واپڈا والوں نے کہا یہ سکول کا بل ہے
احتجاج کرنے والوں نے کہا حکومت سے اپیل ہے کہ نجی سکولوں کے ٹیکسز اور چھوٹے چھوٹے بلز معاف کئے جائیں بلکہ آسان شرائط پر قرضے دیئے جائیں کیونکہ یہ جو صورتحال ہے کیونکہ چند سکولز ایسے ہیں جن کی عمارتیں کرائے پر ہیں اور وہ ابھی تک کرایہ نہیں ادا کر سکے بہت ہی پریشان کن صورتحال میں ہیں
انہوں نے کہا ہماری میڈیا کے توسط سے حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ آپ ایس او پیز جاری کریں ہم ان پر عمل کریں گے اور ہم سماجی فاصلے پر عمل کریں گے آپ سکولز کو سٹارٹ کروائیں اور اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ہمارے جو 20 لاکھ بے روزگار ہیں آیاز ہیں چوکیدار اور دوسرا سٹاف ہیں ان کے لئے تنخواہ کا انتظام کریں
-

بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں
بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں اور بھارتی فوج کی کشمیرویوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے پاکستان ٹویٹر پر #300DaysOfKashmirSiege ٹرینڈ کر رہا ہے
باغی ٹی وی : بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر محاصرہ کئے آج 300 دن ہو گئے ہیں بھارت نے کشمیریوں پہر کرفیو نافذ کر رکھا ہے مظلوم کشمیریوں کو ان کے گھروں میں قید کر رکھا ہے تمام مساجد سکولز کالجز تمام ثقافتی مذہبی کاروباری اور معاشی سرگرمیاں بند ہیں کشمیری قید و صعوبت کی زندگیاں گزار رہے ہیں اور بھارتی فوج کی کشمیرویوں پر ظلم و ستم اور تشدد اور بربریت ابھی بھی برقرار ہے بلکہ دن بدن شدت اختیار کر تا جا رہا ہے پاکستان ٹویٹر پر #300DaysOfKashmirSiege ٹرینڈ کر رہا ہے
https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266721535693402112?s=20
سید اویس علی نامی صارف نے لکھا کہ قائداعظم نے آزادی پاکستان سے قبل ہی کشمیر مقصد کی حمایت کی تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ کشمیریوں خصوصا ً مسلمانان کو معاشرتی معاشی حقوق اور انصاف ملنا چاہئے۔
https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720956900429825?s=20
سید اویس نامی صارف نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان تمام بین الاقوامی فورموں پر کشمیری عوام کا کیس لڑ رہا ہے۔
https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720578918023168?s=20
سید اویس نے مزید لکھا کہ حریت قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے ، انٹرنیٹ بند ہے اور میڈیا پرپابندی ہے کیونکہ کسی غیر ملکی صحافی کو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720669850615809?s=20
5 اگست کو بھارت کے یک طرفہ طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد محصور زندگی گزار رہے ہیں
https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720809118248961?s=20
پاکستان بھارت کے بدصورت چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کے لئے سفارتی محاذ پر اپنی کوششیں دوگنا کرے گا۔کشمیر بنےگا پاکستان!
https://twitter.com/IMarkhorI/status/1266720888864542720?s=20
کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ بن گیا ہے ، اور دنیا اس تنازعہ پر ہندوستان کے نظریہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔International community should create a Special Rapporteur with the mandate to investigate and report on crimes against humanity in Kashmir.
@SufyanFawad @Fawad161@Pak_Guardian
— Scorpion (@scorpi0200) May 30, 2020
فواد نامی صارف نے لکھا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کی تحقیقات اور رپورٹ کرنے کے مینڈیٹ کے ساتھ خصوصی نمائندہ تشکیل دیں-India itself has perceived that they can't withhold #Kashmir under brutal siege for a long time so they are making final attempt to mute voices of Kashmir by communication blockade, alteration of demography and accelerating assassination of citizens.#300DaysOfKashmirSiege pic.twitter.com/BGGbCozQ00
— Shepherd…⚠️🕷 (@Romeo_R3) May 30, 2020
رومیو نامی صارف نے لکگا خود ہندوستان نے یہ سمجھا ہے کہ وہ طویل عرصے تک کشمیریوں کو سفاک محاصرے میں نہیں روک سکتے ہیں لہذا وہ مواصلاتی ناکہ بندی ، آبادکاری میں ردوبدل اور شہریوں کے قتل کو تیز کرکے کشمیر کی آواز کو دبانے کی حتمی کوشش کر رہے ہیں۔
https://twitter.com/Mr_AK_1315/status/1266718017347518464?s=20
ایے کے نامی صارف نے لکھا کہ تاہم ، خط میں بھارتی رہنما جواہر لال نہرو نے قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہندوستانی پارلیمنٹ میں بیانات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری کے اپنے عہد کا اعادہ کرتے رہے
https://twitter.com/Javeria58/status/1266718006312394752?s=20
جویریہ عارف نامی صارف نے لکھا کہ ہندوستانی نظم و نسق کے خلاف علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی وجہ سے ہندوستان کے زیر انتظام – ریاست جموں و کشمیر – میں 60 سالوں سے تشدد رہا ہے۔
https://twitter.com/ishaqbaig181/status/1266717880592326657?s=20
اسحاق بیگ نامی صارف نے لکھا کہ دریں اثنا ء، وزیر اعظم عمران نے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کے عوام کو مقبوضہ کشمیر کے باشندوں کی جدوجہد کی حمایت کرنے کے لئے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے خلاف متنبہ کیا۔
https://twitter.com/ishaqbaig181/status/1266717794764275713?s=20
اسحاق بیگ نامی صارف نے لکھا کہ لندن میں کئی برطانوی کشمیری پارلیمنٹ چوک پر موم بتی کی روشنی کے لئے جمع ہوئے تھے جس دن سے ہندوستان کی حکومت نے آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا تھا۔واضح رہے کہ اگست 2019 کو بھارت نے ظلم و جبر کی داستان رقم کرتے ہوئے کشمیر میںن کرفیو نافذ کر دیا تھا اور آرٹیکل 370 کو کالعدم قرار دیا تھا-
کشمیری تنہا نہیں، ترک تمہارے ساتھ ہیں، طیب اردگان کا دبنگ اعلان
-

ماں باپ…!!! بقلم:جویریہ بتول
ماں باپ…!!!
[بقلم:جویریہ بتول]۔
کہو میں کیسے اظہار کروں…؟
کیا چند لفظوں میں بس پیار کروں…؟
تو حروف کا کاسہ بھی ہے خالی…
کہ ان کا رتبہ تو ہے بہت عالی…
میرے پاس وہ لفظ بھی نہیں…
نہ میرے اندر وہ فن ہے…
کہ اُن کی اہمیت بتا سکوں…
اور اُن کا جو بڑا پن ہے…
میرے عدم سے وجود تک…
جو اپنا آپ کھپا گئے…
مری دنیا میں آمد کے بعد…
یہ سکون اپنا بھلا گئے…
میری نیند کے سکوں کی خاطر…
جو شب بھر جھولا ہلاتے رہے…
میں بے سکون کہیں ہو نہ جاؤں…
ہر لمحہ مجھے جو بہلاتے رہے…
مرے نرم و نازک سے بدن پر…
جو حسین لباس پہناتے رہے…
خود پہن کر بوسیدہ پوشاک…
ہر آن مجھے ہی سجاتے رہے…
جو خود کھا لیتے تھے روکھا سوکھا…
مجھے نرم و تازہ غذا کھِلاتے رہے…
میں قدموں پہ جب سنبھلنے لگی…
تو انگلی تھام کر چلاتے رہے…
میری بات بات کی ضد پہ جو…
پیچھے پیچھے چکر لگاتے رہے…
میرے ہونٹوں پہ سلوٹ بھی نہ مچلے…
یوں بانہوں میں مجھ کو جھلاتے رہے…
مری ننھی سی آنکھوں میں چمک رہے…
ہر آن مجھے یوں ہنساتے رہے…
وقت کی رو کے ساتھ بہتے ہوئے…
مرے دل میں جو ارماں اُٹھتے رہے…
وہ ہر حال میں مقدور بھر نبھاتے رہے…
اپنی خواہشات کی دے کر قربانی…
میری خاطر جو خود کو جَلاتے رہے…
مجھے بٹھا کر سایہ شجر تلے…
جو خود دھوپ میں پسینہ بہاتے رہے…
مجھے گھر کی جنت کا سکون دے کر…
باہر کے گرم و سرد سے خود کو لڑاتے رہے…
میرا وجود وقت کے ساتھ بڑھتا گیا…
وہ دل کو اپنے دلاسہ دلاتے رہے…
ہمارے ناتواں کندھوں کا سہارا ہو کوئی…
یہ ارماں وہ سینوں میں سجاتے رہے…
بڑھاپے کی ناتوانی میں بھی جو…
ہنوز گرتے پڑتے بھی گھر کو بناتے رہے…
مرے پاس نہیں کُچھ چشمِ تر کے سوا…
یا دے دوں انہیں ذرا بس حوصلہ…
میرا عزم بھی بہت ہیچ ہے…
نہ ہی احساس میں وہ اونچ ہے…
جیسا عمر بھر وہ مجھ پر لنڈھاتے رہے…
میرے پاس کیا ہو،میں کیا دوں انہیں؟
جو بن کر حصار مجھ پر منڈلاتے رہے…!!
میں نے ستایا ہو گا،کبھی رُلایا بھی ہو گا…
کبھی ناراضگی و غصہ دکھایا بھی ہو گا…
میں کیسے خراجِ عقیدت پیش کروں…؟
جو میرے صرف ایک لفظ پر…
ہر ہر بار مسکراتے رہے…!!!
منتوں،مرادوں کی نوبت نہ آئی…
وہ اکثر خود ہی مجھ کو مناتے رہے…
ایسا احساس و رشتہ دائم ہے ناپید…
جو رکھے کسی کو دل کی محبّت سے قید…
میں نے لفظوں کے پھول تلاشے بہت ہیں…
کوشش کے باوجود بھی بہت کم ہیں…
اُن جذبوں کا لفظوں سے کیا تقابل…؟
جو وہ اخلاص سے مجھ پر لُٹاتے رہے…!!!
لفظوں کے سوا بھلا پاس میرے کیا ہے؟
ابھی تک اُن کے لیئے کیا بھی کیا ہے؟
ابھی تو قدموں پہ اپنے وہ چلتے ہیں بخیر…
ابھی تو جیتے ہیں وہ خدمت کے بغیر…
اُن کے حق کی ادائیگی ممکن نہیں…
چاہے کندھوں پر اُٹھا کر بھی ہم پھرتے رہے…
اُن کی جدوجہد کا تو سفر ہے طویل…
ہماری خدمت کے وہ طلبگار ہیں بہت قلیل…
وفاؤں کا بدلہ پھر وفا ہونا چاہیئے…
محبتوں کا صلہ نہ جفا ہونا چاہیئے…
وہ چاہتوں کی رہ کے رہے ہیں مسافر…
وہ محبتوں کے ہی جام بھرتے رہے…
وہ آسودگی کے سامان ہی کرتے رہے…
ہواؤں کی تلخیوں کی زد میں…
وہ جیتے رہے،کبھی مرتے رہے…
کہیں اولاد پر نہ آ جائے کوئی اُفتاد…
اسی خیال سے بس وہ ڈرتے رہے…!!!
کہو میں کیسے اظہار کروں…؟
کیا چند لفظوں میں بس پیار کروں…؟؟؟
(Global day of parents,appreciating their struggle with my pen).
============================= -

زائرہ وسیم کوٹڈیوں کے حملوں کے بارے میں ٹوئٹ کرنا مہنگا پڑگیا
اسلام کی خاطر بالی وڈ سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی سابقہ زائرہ وسیم کوٹڈیوں کے حملوں کے بارے میں ٹوئٹ کرنا مہنگا پڑگیا
باغی ٹی وی : اسلام کی خاطر بالی وڈ سے کنارہ کشی اختیار کرنے والی سابقہ زائرہ وسیم کوٹڈیوں کے حملوں کے بارے میں ٹوئٹ کرنا مہنگا پڑگیا سابقہ اداکارہ نے اپنا تصدیق شدہ ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا ہے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر زائرہ وسیم نے بھارت میں ٹڈیوں کے حملوں سے متعلق ایک ٹوئٹ کیا تھا جس میں انہوں نے سورۃ اعراف کی آیت نمبر 133 کا حوالہ دیا تھا۔


زائرہ وسیم کی اس ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے سخت رد عمل دیتے سامنے آیا اور انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد زائرہ وسیم نے اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی ڈیلیٹ کر دیا ہے۔واضح رہے کہ زائرہ وسیم کو بالی وڈ ادکار عامر خان کی فلم دنگل اور سیکیریٹ سُپر سٹار سے شہرت ملی تھی لیکن بعد میں انہوں نے اسلام کی خاطر شوبز کو خیر باد کہہ دیا تھا-
-

انور مقصود کی قومی کرکٹرز پر طنزو مزاح والے انداز میں شدید تنقید
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف ترین مزاح نگار، شاعر، مصنف، ٹی وی میزبان اور مصور انور مقصود نے اپنے مداحوں کی جانب سے کیے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی کرکٹرز کی ناقص پرفارمنس پر اُنہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
باغی ٹی وی : اسٹرنگز بینڈ کے رکن اور نامور کمپوزر و گلوکار بلال مقصود نے ایک بار پھر اپنے والد اور پاکستان مشہور ترین مزاح نگار، شاعر، مصنف، ٹی وی میزبان اور مصور انور مقصود کے ساتھ سوال و جوابات کا سیشن رکھا اور ا س سیشن میں بھی انور مقصود نے اپنے مداحوں کے 10 سوالات کے جواب دیئے۔
سوال اور جواب سیشن کے راؤنڈ 2 کی ویڈیو بلال مقصود نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر پوسٹ کی۔
https://www.instagram.com/tv/CAxxSQKnL56/?igshid=1sivybdfnqsni
بلال مقصود نے سوال و جواب کے راؤنڈ 2 کا آغاز کرتے ہوئے انور مقصود سے قومی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے حوالے سے سوال کیا کہ ہمارے کھلاڑی کس طرح کی پرفارمنس دیں گے؟اس سوال کے جواب میں انور مقصود نے قومی کرکٹرز کی پرفارمنس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہمارے کھلاڑی گھروں میں اتنا کرکٹ کھیل رہے ہیں اور میں اُن کی بیٹنگ دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں۔
انور مقصود نے کہا کہ پہلی بار میں نے ہمارے کھلاڑیوں کو اتنی اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اُنہوں نےکہا کہ میں کہتا ہوں کہ پی سی بی انگلش کرکٹرز سے بات کرے کہ میچ گراؤنڈ کے بجائے اپنے گھروں میں ہی رکھیں کیونکہ ہمارے قومی کرکٹرز گھروں میں بہت اچھا کھیلتے ہیں۔
انور مقصود نے کا کہ ہمارے کھلاڑی جس طرح گھر میں کھیلتے ہیں ان کو کوئی بھی نہیں ہرا سکتا، یہ انگلینڈ میں انگریزوں کے گھروں میں میچز رکھیں ڈرائینگ روم میں برآمدے میں بیڈ روم میں ہو انہیں کوئی ہرا نہیں سکتا یہ جس طرح گھرمیں کھیلتے ہیں یہ اپنی پرفارمنس سے تہلکہ مچا دیں گے۔
بلال مقصود کے دوسرے سوال وزیراعظم عمران خان کے بلین درختوں کی کیمپئین کے جواب میں انور مقصود نے طنز و مزاح والے انداز میں خیبر پختون خان کے سابق چیف منسٹر پرویز خٹک پر تنقید کی کہا پرویز خٹک نے 3 لاکھ پودے لگائے اور پچھلے ہفتے عمران خان صاحب کے پاس گئے اور کہنے لگے مبارک ہو سر جو پودے لگائے تھے ان میں سے ایک پر پپیتا نکل آیا ہے
گلوکار نے اپنے والد سے تیسرا سوال کیا کہ اب گرمیاں آگئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ جائے گا تو اس پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟
انور مقصود نے اس سوال کا دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا کریں لوڈشیڈنگ کا 12 ،12 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جہاں نقصان ہے وہاں فائدہ بھی ہے، جیسے ہی بجلی جاتی ہے میں ٹیلیوژن کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں اور پھر اپنا پسندیدہ پروگرام دیکھتا ہوں۔
اس کے بعد بلال مقصود نے اپنے والد سے ریپیڈ فائر سوالات کیے جس کا جواب صرف ایک لفظ میں دینا ہوتا ہے۔
بلال مقصود نے پوچھا غلام علی یا مہدی حسن؟ انور مقصود نے کہا کہ مہدی حسن۔
گلوکار نے پوچھا شیگی یا عالمگیر؟ اس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ اس کا جواب مشکل ہے دونوں گاتے تھے اچھا گاتے تھے
اِس کے بعد بلال مقصود جب ملکہ ترنم نور جہاں کے بارے میں پوچھنے لگے کہا ملکہ تو انور مقصود نے کہا کہ ’نور جہاں کے ساتھ یا نہیں لگے گا اُن کا مقابلہ کسی سے نہیں کیا جاسکتا۔
گلوکار نے پوچھا عزیز میاں یا صابری برادر؟ اس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ صابری برادر
گلوکار نے پوچھا اسٹرنگز یا وائیٹلز سونگز ؟ اس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ یہ کیسا سوال ہے میں نے کبھی کسی کی پیٹھ پیچھے اچھائی نہیں کی انہوں نے کہا یہ اس طرح کا سوال ہے کہ نواز شریف اچھا یا شہباز شریف جس پر گلوکار نے کہا مطلب دونوں بُرے ہیں؟جس پر انور مقصود نے کہا نہیں یہ فیصلہ عوام کرے گی-
گلوکار نے پانچواں سوال کیا کہ اگر بنگلادیش پاکستان سے الگ نہ ہوا ہوتا تو کیا ہوتا؟
اِس سوال پر انور مقصود نے کہا کہ ’عابدہ پروین بنگالی گانے گارہی ہوتیں اور ملک ریاض بنگال بحریہ بنا دیتے۔ بلال مقصود نے کہا سیریس جواب دیں جس پر انور مقصود نے کہا پاکستان جب بنا تو پانچ صوبے تھے تو فاصلہ تھا چاروں صوبوں کا مشرقی پاکستان سے فاصلہ تھا انہوں نے فاصلہ کم کرنے کی بجائے ختم دیا اس کے بارے میں کیا بتاؤں
انور مقصود نے پوچھا پاکستان ترقی کب کرے گا؟ جس پر اُن کے والد نے کہا کہ ’پاکستان کا نام جرمنی رکھ دیں 2 سیکنڈ میں ترقی یافتہ ممالک میں آجائے گا۔
گلوکار نے سوال کیا کہ آپ لکھائی میں کس سے متاثر ہوئے ہیں؟ جس پر انور مقصود نے کہا کہ پطرس بخاری سے
گلوکار نے سوال کیا کہ آپ مصوری میں کس سے متاثر ہوئے ہیں؟ شاکر علی صاحب اور سے
گلوکار نے سوال کیا کہ آپ پاکستان میں اچھا کمپوزر اور میوزیشن کسے مانتے ہیں؟ انہوں نے کہا خواجہ خورشید کو
کوکنگ کا شوق کہاں سے آیا کس سے سیکھا؟ والدہ سے
انور مقصود نے سیاست میں آنے کے حوالے سے سوال کیا تو انور مقصود نے کہا کہ ’ایک وقت تھا میری خواہش تھی کہ میں قائد اعظم کی مسلم لیگ دوبارہ بناؤں لیکن حالات دیکھ کر یہ خیال دل سے نکال دیا۔ سب سیستدانوں نے مسلم لیگ کے اپنی اپنی جماعتیں بنا لیں بس لفظ چ رہ گیا تھا میں نے سوچا میں مسلم لیگ چ بنالوں لیکن پھر سوچا چلے گا نہیں-
بلال مقصود نے پوچھا کہ آپ نے بڑا کچھ حاصل کیا زندگی میں کبھی کسی بات پر افسوس ہوا؟ انور مقصود نے کہا کہ مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنے ساتھی مصوروں کی پیٹنگز فروخت کی تھی کیونکہ اس وقت میرہ تنخواہ 270 تھی گھر کا خرچہ چلانا مشکل تھا کوئی تصویر 200 میں کوئی ڈیڑھ سو میں اور اسب سے مہنگی تصویر 400 روپنے میں بیچی تھی جس پر آج تک شرمندگی ہوتی ہے۔
آخری سوال کے جواب میں انور مقصود نے کہا کہ فلم بنانے کا بہت سالوں سے سوچ رہا ہوں اور ابھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر فلم بنانے کا سوچا ہے۔
کورونا وائرس: پاکستان سمیت 7 ممالک کے فنکاروں کا مشترکہ گانا ریلیز
انور مقصود نے موجودہ دور میں ٹی وی کے لئے ڈرامے نہ لکھنے کی بڑی وجہ بتا دی
-

وزیر اعظم کے چہیتے افراد ارطغرل ڈرامے کے نام پر پی ٹی وی کولوٹ رہے ، یوٹیوب چینل کی کروڑوں کی آمدنی پرائیویٹ کمپنی کو جارہی ہے
وزیر اعظم کے چہیتے افراد ارطغرل ڈرامے کے نام پر پی ٹی وی کولوٹ رہے ، یوٹیوب چینل کی کروڑوں کی آمدنی پرائیویٹ کمپنی کو جارہی ہے
اسلام آباد(ساوتھ ایشین وائر)گزشتہ سال دسمبر 2019 میں پی ٹی وی نے وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد مسلمانوں کی فتوحات کی کہانی پر مبنی شہرہ آفاق ترکش ڈرامے دیریلیش ارطغرل کی اردو ڈبنگ کا آغاز کیا تھا۔
دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن پریکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بتایا گیا تھا کہ پی ٹی وی نے معروف ڈرامے دیریلیش ارطغرل کے اردو ترجمے کے بعد ایک اعلی مہارتی ٹیم کے ساتھ اس کی ڈبنگ شروع کی اور اسے پی ٹی وی پر نشر کرنا شروع کر دیا جس کے نشر ہوتے ہی اس ترک ڈرامے نے کئی ریکارڈ بنا ڈالے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ارطغرل اردو بین الاقوامی طور پر رینکنگ میں 33 ویں نمبر پر آ گیا ہے، ایک ہفتے میں جس میں عید بھی گزری، ناظرین نے اسی ہفتے میں یوٹیوب پر اس ڈرامے کو دیکھا، اور اسی ڈرامے ارطغرل نے یوٹیوب پر ایک ہفتے میں دھوم مچا دی، پی ٹی وی نے اس کی قسطیں اردو میں چلانا شروع کر رکھی ہیں،یوٹیوب پر پہلی قسط کو اپ لوڈ ہونے کے ساتھ ہی 40 ملین ویوز ملے ۔
ایک ہفتے میں پی ٹی وی چینل کے ناظرین کی تعداد میں 17 فیصد اضافہ ہوا اور ایک ہفتے میں یہ ڈرامہ عالمی رینکنگ میں 49 سے 33 نمبر تک پہنچ گیا۔
لیکن اس کے باوجود پی ٹی وی ابھی تک پہلے سے زیادہ خسارے میں چلا گیا ہے۔ ایک غیر ملکی ڈرامہ جس کی ڈبنگ بھی پرائیویٹ کمپنی سے کروائی جا رہی ہے۔صرف پی ٹی وی کا نام لے کر پی ٹی وی پر چلایا جا رہا ہے۔ جس کا پی ٹی وی کو ایک پیسے کا فائدہ بھی نہیں ہو رہا ہے۔سب لوگ ڈرامہ یوٹیوب پر دیکھ رہے ہیں۔ اور جس یوٹیوب چینل پر یہ ڈرامہ اپ لوڈ کیا جارہا ہے وہ پی ٹی وی کا ہے نہیں ۔بلکہ ہیڈ آف کانٹینٹ پی ٹی وی خاور اظہر کی پرائیویٹ کمپنی کا ہے۔ ڈرامہ اگر پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ ہوتا تو پی ٹی وی کی آمدن کروڑوں میں ہوتی۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پی ٹی وی کی شازیہ سکندر نے یہ پراجیکٹ شروع کیا تھا۔ چند قسطوں کے بعد وہ ریٹائر ہو گئیں۔ اس دوران پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے قریبی ارشد خان کو پی ٹی وی کا چئیرمین لگایا گیا۔ ارشد خان اپنے دست راست خاور اظہر کو ہیڈ آف کانٹینٹ بنادیا جو کہ ایک نیا ڈیپارٹمنٹ ہے۔ خاور اظہر کا اپنا پروڈکشن ہاوس ہے۔ جنہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی شور مچایا کہ پی ٹی وی کا سٹاف نالائق ہے اور ہمیں ڈرامہ پرائیویٹ کمپنی سے ڈب کروانا چاہئے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ان کے دوست خرم جمشید کو اسی ہزار روپے فی قسط کے حساب سے ٹھیکہ دلوایا گیا۔ چنانچہ ایک نئے یوٹیوب چینل پر ڈرامہ نشر کرکے یوٹیوب سے حاصل کردہ تمام آمدنی پرائیویٹ اداروں کو جارہی ہے۔
پی ٹی وی فنانس سے چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ یوٹیوب چینل بھی پی ٹی وی کا نہیں اور نہ ہی اس چینل پر ملینز سبسکرائبر پی ٹی وی کو ملے۔ ملین ڈالر آمدن کے یوٹیوب چینل کا پیسہ بھی پی ٹی وی کے پاس نہیں آرہا ہے۔
چنانچہ یوٹیوب چینل جہاں پر ارطغرل دیکھا جارہا ہے، یوٹیوب کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی ہے۔ یہ بھی غیرقانونی فعل ہے کہ یوٹیوب پر پرائیویٹ کمپنی کا چینل اس ڈرامے پر کروڑوں کما رہا ہے جو کہ پی ٹی وی کا پیسہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کے دوست اور ساتھیوں نے مل کر جو پراجیکٹ شروع کیا تواتنے ہٹ ڈرامے کے بعد کیا پی ٹی وی کی آمدن میں آضافہ ہوا؟کیا پی ٹی وی کی ریٹنگ بہتر ہوئی؟کیا پی ٹی وی کے نقصانات کم ہوئے ؟وزیر اعظم کے قریبی فیصل جاوید خان اسے ہر پرائیویٹ چینل پر پروموٹ کر رہا ہے۔ ورلڈ ریکارڈ بنوانے اور ایسے یوٹیوب چینل کی سوشل میڈیا کمپین چلوائی جارہی ہیں۔جس پر اردو ڈرامہ ارطغرل اپلوڈ توہوتا ہے مگر پی ٹی وی کو ایک روپیہ نہیں ملتا ۔ اسکے علاوہ ارشد خان ، خاور اظہر اور درجنوں لوگ جو عمران خان سے دوستی کی وجہ سے ماہانہ پی ٹی وی سے پندرہ سے پچیس لاکھ تنخواہ کے علاوہ یوٹیوب سے کروڑوں روپے حاصل کر رہے ہیں ۔یہ صرف ایک سکینڈل ہے۔ پی ٹی وی فنانس کا کہنا ہے کہ جو ماہانہ بجلی کے بل میں سو روپے اضافے کے بعد پی ٹی وی کو ایک روپیہ نہیں مل رہا
اداکار منیب بٹ نے ارطغرل غازی کو ایک زبردست تُرک سیریز قرار دیا
ارطغرل غازی کی حلیمہ سلطان کا پاکستانیوں کے لئے خوبصورت پیغام
ارطغرل غازی تُرکی کی طرف سے پاکستان کے لئے تحفہ ہے ڈاکٹر شہباز گل