Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • کشمیریوں کا بھارت کو منہ توڑ جواب ، سپورٹس شاپ پر ویرات کی جگہ آفریدی کی تصویر لگا دی

    کشمیریوں کا بھارت کو منہ توڑ جواب ، سپورٹس شاپ پر ویرات کی جگہ آفریدی کی تصویر لگا دی

    کشمیریوں کا بھارت کو منہ توڑ جواب ، سپورٹس شاپ پر ویرات کی جگہ آفریدی کی تصویر لگا دی

    باغی ٹی وی : کشمیریوں کا بھارت کو منہ توڑ جواب ، سپورٹس شاپ پر ویرات کی جگہ آفریدی کی تصویر لگا دی کشمیریوں نے سپورٹس شاپس پر پاکستانی قومی کرکٹ کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی کی تصویر لگا کر پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا ایک اور ثبوت دے دیا اور بھارت کو کھلم کھلا باور کروا دیا کہ وہ جو مرضی ہتھکنڈے استعما ل کر لیں جتنا مرضی ظلم و ستم کر لیں لیکن کشمیریوں کے دلوں میں پھر بھی پاکستان کی محبت اور جوش ولولہ ہے وہ پاکستان کے ساتھ تھے ہیں اور رہیں گے

    کشمیریوں نے کھیلوں کی دوکان پر ویرات کوہلی سچن کی نہیں بلکہ شاہد آفریدی کی تصویر ہوتی ہے… کشمیریوں کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہیں… کیونکہ وہ کہتے ہیں ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے

    لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز

    وینا ملک نے بھارتی میڈیا اور فوج کو ان کی اوقات بتا دی

  • چائنیز پاکستان میں اپنے پراجیکٹس پر نماز نہیں پڑھنے دیتے

    چائنیز پاکستان میں اپنے پراجیکٹس پر نماز نہیں پڑھنے دیتے

    چائینیز اپنے پراجیکٹس پر مسلمانوں کو نماز پڑھنے نہیں دیتے۔ مفتی طارق مسعود

    باغی ٹی وی : چائینیز اپنے پراجیکٹس پر مسلمانوں کو نماز پڑھنے نہیں دیتے۔ مفتی طارق مسعود نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ حکام بالا کو ایک بات چائینیز کو بڑے واضح انداز میں بتانی چاہیے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے جو ظلم اور غنڈہ گردی مسلمانوں کیساتھ چائینہ میں جاری وہ یہاں نہیں چل سکتی۔


    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پارس جہانزین نامی صارف نے مفتی طارق مسعود کی ایک ویڈیو شئیر کی جس میں انہوں نے کہا کہ مجھے کسی نے بتایا یہاں پر چائنہ کی فیکٹری لگی ہے جس میں چائینیز ورکرز کو نماز نہیں پڑھنے نہیں دیتے

    مفتی طارق نے کہا کہ اس معاملے میں سستی نہ کرو ان کو بتاؤ یہ ملک ہمارا ہے آپ کے باپ کا ملک نہیں ہمارے ملک سے کمائی کر رہے ہیں اور ہم ان کے ملازمین بن کر ان کی خدمت کر رہے ہیں اگر اس میں آپ نے سستی کر لی تو ہماری آئندہ آنے والی نسل کے لئے مصیبت پیدا ہو جائے گی

    مفتی طارق مسعود نے مزید کہا کہ جو بھی چائینز کے ساتھ ملازمین کر رہے ہیں پہلے تو انہیں محبت سے بتائیں کہ ہمارے مذہب میں نماز چھوڑنے کی ہر گز گنجائش نہیں کوشش کریں انہوں نے کہا افسران بالا تک یہ بات پہنچائیں اس میں نمازیوں کو سستی کرنے کی اجازت نہیں اپنی عزت کروائیں ان کو باور کروائیں کہ آپ آئے ہو ہمارے ملک میں کام کرنے آپ ہو ملازم ہم اپنی نماز کے ٹائم پر نماز پڑھیں گے

  • شاہ رخ خان مادھوری ڈکشٹ کی آواز اور صلاحیتوں کے متعرف

    شاہ رخ خان مادھوری ڈکشٹ کی آواز اور صلاحیتوں کے متعرف

    بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان نامور اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کی سُریلی آواز کے دیوانے ہوگئے ،

    باغی ٹی وی :بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان نامور اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کی سُریلی آواز کے دیوانے ہوگئے ،اداکار نے ان کے گانے کینڈل کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شئیر کر دی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ویڈیو شئیر کرتے ہوئے شاہ رخ خان نے لکھا کہ میرے تمام کیرئیر میں میری بہترین دوست، ساتھی اور بھرپور صلاحیتوں کی مالک مادھوری ڈکشٹ سے میں نے ہمیشہ ہی بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہے۔


    اداکار نے شاہ رخ خان نے مادھوری کے گانے کو بہترین گانا قرار دیتے ہوئے لکھا کہ مادھوری جتنی خوبصورت خود ہیں اتنی ہی ان کی آواز بھی سُریلی ہے۔

    یاد رہے کہ مادھوری نے حال ہی میں گلوکاری کا آغاز کیا ہے اور اپنا پہلا گانا جاری کیا ہے۔

    ہارون رشید نے جنید جمشید کے ساتھ حسین ماضی کی یادیں مداحوں کے ساتھ شئیرکر دیں

    امید کرتی ہوں رمضان کے اختتام کے ساتھ ساتھ کورونا وبا کا بھی اختتام ہوجائے جوہی چاولہ

  • شہزاد رائے کی جنید جمشید کے ہمراہ یاد گار تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    شہزاد رائے کی جنید جمشید کے ہمراہ یاد گار تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

    پاکستانی معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کی جنید جمشید کے ہمراہ ایک یاد گار تصویرسوشل میڈیا پر وائرل-

    باغی ٹی وی : پاکستانی معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے کی جنید جمشید کے ہمراہ ایک یاد گار تصویرسوشل میڈیا پر وائرل- سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جرنلسٹ باسط سبحانی نامی ایک صارف نے شہزاد رائے کی جنید جمشید سےایوارڈ وصول کرتے ہوئے ایک تصویر شیئر کی اور صارفین سے پوچھا کہ کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ یہ کون سا ایوارڈ فنکشن ہے؟جس میں جنید جمشید سے شہزاد رائے کو بہترین پاپ گلوکار کا ایوارڈ مل رہا ہے؟


    باسط سبحانی کے اس ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے شہزاد رائے نے بتایا کہ یہ پی ٹی وی ایوارڈز کی تقریب ہے۔

    43 سالہ گلوکار کو پاک گلوکاری میں ان کے فن کی صلاحیتوں کے اعتراف میں پی ٹی وی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا 1999 میں پی ٹی وی ایوارڈز کی منعقدہ تقریب میں شہزاد رائے کو جنید جمشید نے ایوارڈ دیا تھا۔

    پاکستان انڈسٹری میں ٹی وی اور فلم کے بعد تھیٹر کا انتخاب کیرئیر کی خودکشی کہلاتا ہے گوہر رشید

    ہارون رشید نے جنید جمشید کے ساتھ حسین ماضی کی یادیں مداحوں کے ساتھ شئیرکر دیں

  • ارطغرل غازی کی مقبولیت، وائس آف پاکستان نے آن لائن تقریری مقابلے کا اعلان کردیا

    ارطغرل غازی کی مقبولیت، وائس آف پاکستان نے آن لائن تقریری مقابلے کا اعلان کردیا

    تُرک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کی مقبولیت، وائس آف پاکستان نے آن لائن تقریری مقابلے کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی : پاکستان میں کئی سالوں سے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے مگر جو مقبولیت ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔

    دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    پاکستان بھر میں جہاں ارطغرل غازی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے وہیں وائس آف پاکستان نے ارطغرل غازی کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے آن لائن تقریری مقابلے کا اعلان کردیا،

    مقابلے کا موضوع ’’یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے ‘‘ہے، جس میں کسی بھی اسلامی ہیرو کو خراج تحسین پیش کرسکتے ہیں، وائس آف پاکستان انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق 3 سے 5 منٹ کی تقریر ریکارڈ کرکے بھیجیں گے، نتائج کا فیصلہ جیوری کرے گی، جس میں معروف اینکرپرسن مخدوم شہاب الدین، جینئس آف پاکستان ایوارڈ ہولڈر حافظ محمد عثمان، چیئرمین وائس آف پاکستان سید عتیق الرحمن اور ڈائریکٹر امور خواتین وائس آف پاکستان وجیہہ کرن شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ’’ارطغرل غازی‘‘ اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔پہلے سیزن کی کہانی میں تیرھویں صدی کا زمانہ دکھایا گیا ہے اور قائی قبیلہ منگولوں کے حملوں سے بچنے کے لیے نئی منزل تلاش کرتا ہے

    دیریلیش ارطغرل‘ ڈرامے کی کہانی 13 ویں صدی میں ’سلطنت عثمانیہ‘ کے قیام سے قبل کی کہانی ہے اور اس ڈرامے کی مرکزی کہانی ’ارطغرل‘ نامی بہادر مسلمان سپہ سالار کے گرد گھومتی ہے جنہیں ’ارطغرل غازی‘ بھی کہا جاتا ہے ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح 13 ویں صدی میں ترک سپہ سالار ارطغرل نے منگولوں، صلیبیوں اور ظالموں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کس طرح اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا۔ڈرامے میں سلطنت عثمانیہ سے قبل کی ارطغرل کی حکمرانی، بہادری اور محبت کو دکھایا گیا ہے

    ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا

    ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں یہ ہمارا دوست اور بھائی ملک ہے تُرک اداکار

    ارطغرل غازی: لوگوں کو سرحدوں کی بجائے مواد پر فوکس کرنا چاہیئے نیلم منیر

  • ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا

    ارطغرل غازی سیریز میں یہ چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا

    چیئرمین وائس آف پاکستان سید عتیق الرحمن کا کہنا ہے کہ ارطغرل غازی سیریز میں چار چیزیں نہ سیکھیں تو کچھ نہیں سیکھا

    باغی ٹی وی : پاکستان میں کئی سالوں سے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے مگر جو مقبولیت ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔

    دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    پاکستان میں بچوں، نوجونوں ،بوڑھوں سیاسی و شوبز شخصیات سمیت سب کو اس ڈرامے نے اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے چیئرمین وائس آف پاکستان سید عتیق الرحمن نے اپنے ویڈیو پیغام میں نوجوانوں کو یہ سیریز دیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ارطغرل دیکھنے والوں کیلئے یہ چار پیغامات کو سمجھنا اور جاننا ضروری ہے،

    انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا پیغام اللہ پر یقین اور ادب رسول ﷺ ہے، جبکہ دوسرا سبق والدین کا ادب اور فرمانبرداری ہے، جس میں ساری عزتیں چھپی ہیں، تیسرا سبق جہد مسلسل ہے، مشکل حالات میں بھی اپنے مشن کی خاطر جدوجہد جاری رکھنا، جبکہ آخری پیغام اور سبق اپنی تہذیب کے ساتھ جڑے رہنا ہے۔


    گذشتہ روز وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ارطغرل غازی کے تیسرے سیزن سے نئ ترک ریاست کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے، ارطغرل نے پہلا اصول جو اپنے ساتھیوں کو بیان کیا وہ ابن العربی کی یہ نصیحت تھی کہ کامیاب ریاستوں کو سائنسدان، آرٹسٹ اور تاجر چاہئیں جو مضبوط ریاست کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

    عید کے دوسرے روز ارطغرل غازی پی ٹی وی نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    ارطغرل غازی: لوگوں کو سرحدوں کی بجائے مواد پر فوکس کرنا چاہیئے نیلم منیر

    حالات ٹھیک ہوتے ہی پاکستان آوں گا یہ میرا دوسرا گھر ہے، ارطغرل غازی کے دوآن الپ کا پیغام

  • کورونا وائرس : وینس فلم فیسٹیول کا آغاز اپنے شیڈول کے مطابق ہوگا

    کورونا وائرس : وینس فلم فیسٹیول کا آغاز اپنے شیڈول کے مطابق ہوگا

    دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس ی وجہ سے تمام ثقافتی و شوبز سرگرمیاں اجتماعات منسوخ کر دئئے گئے تھے تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ دنیا کے قدیم ترین وینس فلم فیسٹیول کا آغاز اپنے شیڈول کے مطابق رواں سال ستمبر کو ہوگا۔

    باغی ٹی وی :دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس ی وجہ سے تمام ثقافتی و شوبز سرگرمیاں اجتماعات منسوخ کر دئئے گئے تھے تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ دنیا کے قدیم ترین وینس فلم فیسٹیول کا آغاز اپنے شیڈول کے مطابق رواں سال ستمبر کو ہوگا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اٹلی میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے بعد یہ خبریں سامنے آئیں کہ وینس فیسٹیول بھی باقی اجتماعات کی طرح منسوخ یا ملتوی کردیا جائے گا

    ان خبروں کے بعد وینس کے گورنر لوکا زائیا نے ان خبروں کو بےبنیاد ٹھہراتے ہوئے واضح کیا کہ فیسٹیول اپنے شیڈول کے مطابق منعقد ہوگا۔

    خیال رہے کہ ’وینس‘ کو دنیا کے قدیم ترین فلم فیسٹیول ہونے کا اعزاز حاصل ہے جسے بینئیل دی وینیزیا کمپنی کی جانب سے منعقد کیا جاتا ہے۔

  • مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے  تحریر: صابر ابو مریم

    مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے تحریر: صابر ابو مریم

    سلام آپ کی خدمت میں عید مبارک

    ایک عدد بلاگ ارسال کر رہا ہوں گذارش ہے نشر کر کے لنک ارسال فرمائیں تا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جائے۔

    مسئلہ فلسطین کی حمایت ایک اہم فریضہ ہے
    تحریر: صابر ابو مریم
    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیا ت جامعہ کراچی
    مسئلہ فلسطین دنیا کی تاریخ میں ایک ایسا ہم ترین مسئلہ ہے کہ جو نہ صرف فلسطین سے متعلق ہے بلکہ خطے سمیت دنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ بھی بالواسطہ یا براہ راست کسی نہ کسی طرح منسلک ہے اور اثر انداز ہو رہاہے۔لہذای جب عالمی سیاست کے افق پر کوئی ذی شعور اور با بصیرت قیادت یہ کہتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل دنیا کے تمام مسائل کے حل کی جڑ ہے یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ دنیائے اسلام کا اہم ترین مسئلہ ہے یا انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو یہ بات بے جا نہیں ہے۔دیکھا جائے تو فلسطین پر ہونے والے اسرائیلی قبضہ، صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قیام اور پھر اسرائیل کے دعووں کی روشنی میں کہ گریٹر اسرائیل بنایا جائے گا وغیرہ وغیرہ، یہ سب باتیں اسی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ خطے سمیت دنیا کے بہت سے مسائل کی جڑ فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کا قیام اور پھر مسلسل اسرائیل کی جانب سے خطے میں جنگوں اور داخلی انتشار کا پھیلاؤ ہے۔
    حال ہی میں رمضان المبارک میں دنیا بھر میں آخری جمعہ کو فلسطین سے اظہار یکجہتی کا دن یعنی یوم القدس منایا گیا ہے۔یوں تو یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے لیکن اس سال کورونا جیسی خطر ناک وباء کی صورت میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ کر سامنے آئی ہے۔یہاں پر سب سے اہم بات جو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پہلی مرتبہ یوم القدس کی مناسبت سے تقریر کی ہے اس کے متن کے مندرجا ت نہ صرف فلسطین کے لئے بلکہ پوری مسلم دنیا کے لئے ایک مشعل راہ کی مانند نظر آ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں نے اس خطاب کو فلسطین کے اندر بے پناہ مقبولیت دی ہے۔
    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین سے متعلق سامراجی طاقتوں کی جانب سے کی جانے والی منفی کوششوں پر مفصل روشنی ڈالتے ہوئے مسلم دنیا کو خبر دار کیا ہے اور کہا ہے کہ سامراجی طاقتوں کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ مسئلہ فلسطین کو کم رنگ او ر کم اہمیت بنا کر پیش کیا جائے اور مسلمانوں کے اذہان سے مسئلہ فلسطین کے نقش کو مٹا دیا جائے۔لہذا یہاں پر سب مسلمانوں کی اہم ترین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سامراج کی اس سازش و کوشش کو ناکام بنانے میں اس خیانت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔آج سامراجی طاقتوں کے سیاسی اور ثقافتی میدان میں سرگرم آلہ کار اور ایجنٹ اسلامی ممالک میں اس خیانت کو رواج دے رہے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسطین جیسے عظیم اور باعظمت مسئلہ کو مسلمانوں کی غیرت، خود اعتمادی اور بیداری فراموش کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔حالانکہ اس مقصد کے حصول کے لئے امریکہ اور دیگر تسلط پسند طاقتیں اور ا ن کے مہرے اپنا پیسہ اور طاقت استعما ل کر رہے ہیں۔
    یقینا موجودہ صورتحال میں کہ جہاں ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے صدی کی ڈیل کا اعلان کر رکھا ہے اور فلسطین کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے وہاں مسلمان عرب حکمرانوں کی خیانت قابل ملامت ہے کہ غاصب اسرائیل کے ساتھ تعلقات روا رکھنے اور دوسرے اسلامی ممالک کو اس کی ترغیب دینے اور مجبور کرنے میں مصروف عمل ہیں۔
    ایرانی سپریم لیڈر نے فلسطین کی مقدس سرزمین پر اسرائیلی سرطانی پھوڑے کے وجود کو انسانی المیہ قرار دیاہے۔تاریخ میں اس طرح کے سفاک انسانی جرم میں اس پیمانہ کی شدت کا کوئی جرم نہیں ملتا ہے۔فلسطین پر باہر سے لاکر صہیونیوں کو آباد کرنا، فلسطینیوں کو گھروں سے نکال دینا، ان کے باغات، کھیتوں اور کھلیانوں اور تمام املاک پر قبضہ جما لینا، یہ سب ایسے جرائم ہیں کہ جس امریکہ اور دیگر تسلط پسند طاقتوں کی ایماء پر فلسطین میں انجام پائے ہیں۔فلسطین کے اس انسانی المیہ پر امریکہ سمیت تمام تسلط پسند شیطانی قوتیں ذمہ دار ہیں۔
    فلسطین کی مقدس سرزمین پر اسرائیل کے قیام کے حالات اور بعد کے حالات سے واضح طور پر علم ہوتا ہے کہ مغربی حکومتوں اور یہودی سرمایہ داروں کا صہیونی حکومت کی تشکیل کا اصلہ مقصد غرب ایشیاء میں اپنا دائمی اثر ورسوخ قائم کرنا تھا۔و ہ اس علاقہ میں اپنی موجودگی کیلئے ایک اڈا قائم کرنا چاہتے تھے تا کہ اس کی مدد سے علاقے کی دیگر حکومتوں اور ان کے داخلی مسائل میں دخل اندازی کر سکیں اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کریں۔اسی لئے غاصب صہیونی ریاست کو امریکہ سمیت دیگر تسلط پسند قوتوں نے گونا گوں اسلحہ سے لیس کیا یہاں تک کہ ایٹمی طاقت سے بھی لیس کر دیا گیا۔
    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی یوم القدس کی مناسبت سے اپنے خطاب میں دنیا بھر میں موجود فلسطین پسند قوتوں اور فلسطین کی آزادی کی حامی قوتوں اور ایسے افراد کے لئے کہ جو فلسطین کے ساتھ قلبی اور عقیدتی وابستگی رکھتے ہیں، سب کے لئے فلسطین کی حمایت کو واجب اور فرض قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ فلسطین کی آزادی کے لئے جنگ، جہاد فی سبیل اللہ، اسلامی مطالبہ اور فریضہ ہے۔ایسی جنگ میں فتح یقینی ہے۔ہر انسان کو چاہئیے کہ شجاعت کے ساتھ آج فلسطین کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہو۔انہوں نے تکرار کرتے ہوئے زور دیا کہ فلسطین کے مسئلہ کو جو بھی عربی یا فلسطینی مسئلہ بنانا چاہتے ہیں وہ بہت بڑی غلطی پر اور عالم اسلام سے خیانت پر مرتکب ہیں۔آج فلسطین کے لئے مقابلہ کا مقصد فلسطین کی مکمل آزادی ہے۔یعنی فلسطین جو نہر سے بحر تک ہے۔(یعنی بحیرہ روم سے دریاے اردن تک)۔فلسطین کے عوام مغربی قوتوں کی جانب سے فلسطین و قدس کی کسی قسم کی تقسیم کو قبول نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی آزادی سے تعلق رکھنے والوں نے بھی فلسطین کی غیور او ر شجاع ملت کے اس موقف کی تائید کی ہے۔فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے۔
    مسئلہ فلسطین کے حل سے متعلق اگر کوئی بھی شخص یا گروہ مغرب کی دھوکہ باز چالوں یعنی مذاکرات اور گفتگو کے عمل سے سمجھتا ہے کہ فلسطین کی آزادی ممکن ہے تو وہ تاریخ کی سب سے بڑی غلطی کا ارتکاب کر رہاہے۔عالمی سامراجی قوتیں عالم اسلام کے وجود کی دشمن ہیں۔وہ خود مسلم امہ کو پہنچنے والے زیادہ تر نقصانات کی ذمہ دار ہیں۔آج کون سی عالمی طاقت اور عالمی ادارہ ہے جو کئی اسلامی و عرب ممالک میں جاری دہشت گردی،قتل عام، بھڑکتی جنگوں،بمباری یا مصنوعی قحط کے بارے میں جوابدہ ہے؟آج دنیا عالمی سطح پر کورونا سے ہونے والی ایک ایک موت کو تو گنتی کر رہی ہے لیکن کسی نے بھی پوچھا او ر نہ پوچھے گا کہ جن ممالک میں امریکہ،یورپ اور اسرائیل نے جنگ بھڑکائی ہے وہاں لاکھوں افراد کی شہادت، قید، گمشدگی کا ذمہ دار کون ہے؟افغانستان،یمن، لیبیا،عراق، شام اور خود فلسطین میں بہائے جانے والے اس ناحق خون کا ذمہ دار کون ہے؟آج مسلمانوں کے قتل عام پر کوئی تعزیت کیوں نہیں کرتا؟کیوں دسیوں سال سے فلسطینی اپنے گھروں سے آج بھی جلا وطن ہے؟کیوں قدس شریف جو مسلمانوں کا قبلہ او ل ہے اس کی توہین کی جائے؟نام نہا د اقوام متحدہ اپنے فرائض پر عمل نہیں کر رہی ہے،انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مر چکی ہیں۔بچوں اور خواتین کے حقوق کے نعروں کا اطلاق فلسطین اور یمن میں بچوں اور خواتین پر نہیں ہوتا۔
    خلاصہ یہ ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو میں مسلم امہ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے اور بتا یا ہے کہ فلسطین کاز کی حمایت اور قدس شریف کی آزادی کی کوششوں کو روکنے کے لئے سامراجی قوتیں مسلم امہ کو داخلی انتشار میں الجھانے کی کوشش کرتی ہیں۔شام میں خانہ جنگی، یمن پر جنگ مسلط کرنا، عرا ق میں دہشت گردی یہ سب کچھ دشمن کی تخریب کاریوں میں شامل ہے۔بعض مسلم ممالک کے حکمران دانستہ او ر بعض نادانستہ طور پر دشمن کے ان حربوں میں شامل ہیں۔آج وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ جتنا غصہ ہو امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل پر نکالیں۔خطے کی عرب حکومتوں کو سمجھنا چاہئیے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا امریکہ کی جانب سے دنیا کے سامنے اسرائیل کے وجود کو ایک عام اور معمولی قرار دینے کی کوشش ہے۔مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیں۔ ہمارے فلسطین کے بھائی حماس، حزب اللہ، جہاد اسلامی جیسی مزاحمتی گروہوں کی شکل میں آج فلسطین کا دفاع کر رہے ہیں۔غاصب اسرائیل کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ہمیں ان کی کوششوں اور جہاد فی سبیل اللہ میں بہائے جانے والے مجاہدین کے لہو کی پاسداری کرنا ہو گی۔فلسطینی مجاہدین کے پاس دین، غیرت اور شجاعت موجود ہے۔ان کے وجود سے ہی آج صدی کی ڈیل ناکام ہو رہی ہے۔آج فلسطین میں طاقت کا تواز ن بدلنے میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں حماس، حزب اللہ اور جہاد اسلامی کا اہم ترین کردار ہے۔اسرائیل جو پہلے علاقوں پر قبضہ کر لیتا تھا آج فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں کے مقابلہ میں چند گھنٹوں میں جنگ بندی کی درخواست کرتا نظر آتا ہے۔آخری بات یہ ہے کہ فلسطین، فلسطینیوں کا وطن ہے۔اس کے امور انہی کے ارادے کے مطابق انجام پانے چاہئیں۔فلسطین کے تمام ادیان او ر اقوام کی شمولیت سے استصواب رائے کی جو تجویز دو عشروں قبل پیش کی گئی تھی فلسطین کے مستقبل کا واحد نتیجہ ہے۔یہ تجویز ثابت کرتی ہے کہ یہودی دشمنی کے جو بگل مغربی طاقتیں اپنے تشہیراتی ذرائع کی مدد سے بجاتی رہی ہیں، بالکل بے بنیاد ہیں۔اس تجویز کے مطابق فلسطینی یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کو ایک ساتھ استصواب رائے میں شریک ہونا اور فلسطین کے لئے سیاسی نظام کا تعین کرنا ہے۔آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے اختتام پر پوری مسلم دنیا کو جس امید کی طرف گامزن کیا ہے وہ یہ ہے کہ جسے جاناہے وہ صہیونی نظام اور صہیونیت ہے۔جو خود یہودی مذہب میں ایک بدعت اور اس سے بالکل بیگانہ ہے۔فلسطین کی آزادی حتمی اور عنقریب ہے۔

  • ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں یہ ہمارا دوست اور بھائی ملک ہے  تُرک اداکار

    ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں یہ ہمارا دوست اور بھائی ملک ہے تُرک اداکار

    اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق تُرک سیریز ارطغرل غازی میں بہادر سپاہی عبد الرحمن کا کردار ادا کرنے والے جلال نے پاک تُرک بھائی چارے کے فروغ کے پیش نظر معروف پاکستانی ملی نغمہ ’دل دل پاکستان ‘گنگنا دیا۔اداکار نے کہا کہ ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں یہ ہمارا دوست اور بھائی ملک ہے

    باغی ٹی وی : ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کے اداکار جلال نے دل دل پاکستان گنگناتے ہوئے اردو میں اپنا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام پاکستانیوں کو جلال عرف عبدالرحمٰن کی جانب سے عید مبارک ہو۔
    https://www.instagram.com/p/CAj-v2kDjJE/?igshid=19kg69el5u92k
    پاکستان میں سیریز ’ارطغرل غازی‘ کی مقبولیت کے بعد سے ہی ڈرامہ سیریل کے دوسرے فنکاروں کی طرح آئے روز جلال اپنے پیغامات میں پاکستان کا تذکرہ کرتے نظر آرہے ہیں-

    عید سے قبل کراچی میں پیش آنے والے المناک فضائی حادثے پر جلال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر پاکستانیوں سے اظہار تعزیت اور اظہار یکجہتی کے لئے اپنی انسٹا گرام پروفائل پر پاکستانی قومی پرچم لگا دیا تھا-
    https://www.instagram.com/p/CAfeNvaD6Ak/?igshid=khf5ygkfz9mv
    انسٹاگرام پر پقکستانی قومی پرچم کی تصویر شیئر کی اور اس تصویر کے ساتھ اُنہوں نے پی آئی اے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنے پاکستانی بھائیوں کے اس مشکل وقت میں اور اُن کے اس درد میں برابر کے شریک ہیں-خدا ان لوگوں پر رحم کرے جو طیارہ حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے.

    علاوہ ازیں اس سے قبل اپنی ایک انسٹا گرام پر پاک تُرک قومی پرچموں کی بھائی چارے کے فروغ کی تصویر شئیر کی اور اس کی پوسٹ میں ارطغرل غازی کی بھر پور پذیرائی پر پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا
    https://www.instagram.com/p/CAbH0fwpc_m/?igshid=k1brzfuaumcd
    جلال نے لکھا کہ السلام وعلیکم پاکستان سے میرے بھائیو اور بہنوں ڈرامے میں آپ کی دلچسپی اور اپنے پیغام کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ ہم پاکستانی عوام سے محبت کرتے ہیں ، یہ ہمارا دوست اور بھائی ملک ہے ، ہم آپ کی ریاست اور آپ کے صدر سے محبت کرتے ہیں۔

    تُرک اداکار نے لکھا کہ اگرچہ ہمارے سب سے مشکل وقت میں ، 105 سال پہلے ، آپ کو ہمارے ملک کے لئے متحرک کیا گیا تھا۔ آپ بحیثیت پاکستانی پاکستانی مسلمان ترک عوام کے ساتھ تھے۔ 1915 میں مانکلے کی لڑائی میں ، آپ کے بزرگوں نے سلطنت عثمانیہ کو لاہور سے ایک بہت بڑی مالی امداد بھیجی۔ ایک بیوہ عورت ایک دولت مند بزنس مین کو اپنا بچہ بیچتی ہے اور اناتولیا کو اپنا پیسہ بھیجتی ہے ،

    انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ کہانی معلوم ہے اور ہم اسے نہیں بھول سکتے ہیں ۔ ہم آپ کو اللہ کے لئے بہت پیار کرتے ہیں۔ انشاء اللہ جنت میں ہمارا مقام ہے۔ ہم آپ کے آباؤ اجداد کو رحمت اور احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ میں پاکستانی عوام کو گلے لگانے کا منتظر ہوں

    انہوں نے علامہ محمد اقبال کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تُرک عظیم انسان محمد اقبال کو بھی کبھی نہیں بھول سکتے، شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے تُرکوں سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا اور تُرکوں کا ساتھ دیا۔

    اپنی پوسٹ کے آخر میں دعاکی کہ اللہ. ترکی اور پاکستان کے بھائی چارے کو زندہ رکھے-

    واضح رہے کہ پاکستان میں کئی سالوں سے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے مگر جو مقبولیت ترک مسلمانوں کی تیرہویں صدی میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترکش ڈرامہ سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ جسے ترکی کا گیم آف تھرونز بھی کہا جاتا ہے ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔

    دنیا کے متعدد ممالک میں نشر ہونے کے بعد اب یہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی ) یکم رمضان سے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیا جارہا ہے اور اس کا سیزن 1 چل رہا ہے جبکہ اس کے مجموعی طور پر 5 سیزن ہیں۔

    ’’ارطغرل غازی‘‘ اپنی کہانی، تیاری اور اداکاری کے لحاظ سے ایک شاہکار ڈرامہ ہے اس کی پروڈکشن اس کا پلاٹ اداکاری ہر چیز بہت ہی شاندار ہے یہ ڈرامہ ایک ایسے خانہ بدوش قبیلے کی کہانی بیان کرتا ہے جو موسموں کی شدت کے ساتھ ساتھ منگولوں اور صلیبیوں کے نشانے پر ہوتا ہے۔

    عید کے دوسرے روز ارطغرل غازی پی ٹی وی نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    عید کے موقع پرارطغرل غازی کی جانب سے پاکستانیوں کو خوبصورت پیغام

  • لاک ڈاؤن کے دوران  رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے فنکار

    لاک ڈاؤن کے دوران رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے فنکار

    کوروناوائرس نے جہاں دنیا بھر میں تہلکہ مچایا ہے اور انسانی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں سماجی رابطی ختم ہو کر رہ گیا ہے لوگ اپنے گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں حکومت کی طرف سے تمام مذہبی اور معاشی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے وہیں کورونا کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن کے دوران چند ایک شوبز فنکاروں نے شادی کر کے اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا ہے-

    باغی ٹی وی : کورونا وبا کے باعث لوگوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا اور سماجی رابطہ ختم ہوکر رہ گیا ہے۔ کورونا کےخوف کے باعث شادی بیاہ جیسی تقریبات بھی ختم ہوکر رہ گئی ہیں۔ ایسے میں پاکستانی شوبز کے فنکاروں نے لاک ڈاؤن کے دوران کم لوگوں کی موجودگی میں شادی کرکے ایک مثال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی

    گزشتہ ماہ 4 اپریل کو پاکستان کی معروف اداکارہ ثمینہ احمد اور اداکار منظر صہبائی نے کورونا لاک ڈاؤن کے دوران اچانک شادی کرکے مداحوں کو سرپرائز دے کر خوشگوار حیرت میں ڈال دیا۔ دونوں اداکار 70 برس کی عمر میں خاموشی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ خاموشی سے ہوئی اس شادی کی خبر سامنے آنے کے بعد کئی گھنٹوں تک پاکستان ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ میں رہی۔

    مداحوں نے اس شادی کو خوب سراہا اور دونوں کو نئی زندگی کی ڈھیروں مبارکباد دی جب کہ کچھ لوگوں نے تومنظر اور ثمینہ کی شادی کی خبر کو کورونا کے ماحول میں ایک خوشگوارخبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت دنوں بعد ایک اچھی خبر سننے کو ملی۔

    نمرہ خان

    پاکستانی اداکارہ و ماڈل نمرہ خان بھی اپریل کے آخری ہفتے میں لاک ڈاؤن کے دوران سادگی کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئیں جس کی خبر انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے چاہنے والوں کے ساتھ شیئر کی اور لوگوں سے اپنی نئی زندگی کے لیے دعا کرنے کی درخواست کی۔ لوگوں نے نمرہ خآن کی شادی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ڈھیروں مبارکباد اور دعاؤں سے نوازا-

    آغا علی اور حنا الطاف


    کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران ایک اور پاکستانی جوڑی آغا علی اور حنا الطاف نے بھی کم لوگوں کی موجودگی میں رمضان المبارک کے آخری جمعے کو اپنے قریبی رشتہ داروں کی موجودگی میں شادی کرکے اپنے مداحوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا ان کی خوبصورت تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن کو مداحؤں نے بے حد پسند کیا اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے مبارکباد دی اور دعاؤں سے نوازا-

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی محبت اور نیک خواہشات پر مداحوں کے مشکور

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی شادی کے بندھن میں بندھ گئے

    اداکارہ نمرہ خان نے شادی کر کے نئی زندگی کا آغاز کر دیا