Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل  از: حافظہ قندیل تبسم

    دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل از: حافظہ قندیل تبسم

    دعا کی اہمیت اور فضائل و مسائل
    حافظہ قندیل تبسم

    اللہ تعالی کو یہ بات بہت پسند ہے کہ انسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی حاجات اس سے مانگے اور اسی سے امید لگائے چنانچہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
    ترجمہ: اور تمہارے رب نے کہہ دیا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرونگا۔[سورہ غافر :آیت 60]
    دعا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرما دیا:
    دعا ہی عبادت ہے۔
    ترمذی (3372) ، ابو داود (1479) ، ابن ماجہ (3828) البانی نے اسے "صحیح ترمذی” (2590) میں صحیح قرار دیا ہے۔

    دعا عبادت کی ایک اہم شکل ہے لہذا اس کا اہتمام بھی احسن انداز سے ہونا چاہیے۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسے امور ذکر کیے جائیں جو دعا کرنے کے لیے لازمی ملحوظ رکھنے چاہئیں۔

    1- دعا کرنے والا شخص توحید ربوبیت، توحید الوہیت، اور توحید اسماء و صفات میں وحدانیت الہی کا قائل ہو، اس کا دل عقیدہ توحید سے سرشار ہونا چاہیے؛ کیونکہ دعا کی قبولیت کیلئے شرط ہے کہ انسان اپنے رب کا مکمل فرمانبردار ہو اور نافرمانی سے دور ہو جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
    ترجمہ: اور جس وقت میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں، ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب بھی وہ دعا کرے، پس وہ میرے احکامات کی تعمیل کریں، اور مجھ پر اعتماد رکھیں، تا کہ وہ رہنمائی پائیں [البقرة : 186]

    2- دعا میں اخلاص ہونا ضروری ہے، صرف خدائے واحد کو پکارا جائے جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
    فَإِذَا رَكِبُوا۟ فِى ٱلْفُلْكِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ ﴿65﴾
    ترجمہ: پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے فوراً ہی شرک کرنے لگتے ہیں (سورۃ العنکبوت،آیت 65)
    وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌۭ كَٱلظُّلَلِ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ فَلَمَّا نَجَّىٰهُمْ إِلَى ٱلْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌۭ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِايَٰتِنَآ إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍۢ كَفُورٍۢ﴿32﴾
    ترجمہ: اور جب انہیں سائبانوں کی طرح موج ڈھانک لیتی ہے تو خالص اعتقاد سے الله ہی کو پکارتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لےآتا ہے تو بعض ان میں سے راہِ راست پر رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بد عہد نا شکر گزار ہیں (سورۃ لقمان،آیت 32)
    چنانچہ قبولیتِ دعا کیلئے اخلاص شرط ہے۔

    3- اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کا واسطہ دے کر اللہ سے مانگا جائے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِاور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، انہی کے واسطے سے اللہ کو پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں سے متعلق الحاد کا شکار ہیں۔ [الأعراف : 180]

    4- دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی شایانِ شان حمد و ثنا کی جائے۔ فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ بیٹھے ہوئے تھے، کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نماز پڑھی [پھر اسی دوران دعا کرتے ہوئے]کہا: "یا اللہ! مجھے معاف کر دے، اور مجھ پر رحم فرما” تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے نمازی! تم نے جلد بازی سے کام لیا، جب تم نماز میں [تشہد کیلئے ]بیٹھو، تو پہلے اللہ کی شان کے مطابق حمد و ثنا بیان کرو، پھر مجھ پر درود پڑھو، اور پھر اللہ سے مانگو)۔
    (ترمذی: 3476)
    ترمذی کی ہی ایک اور روایت میں ہے کہ: (جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو [تشہد میں] سب سے پہلے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، اور اس کے بعد جو دل میں آئے مانگ لے) راوی کہتے ہیں: "اس کے بعد ایک اور شخص نے نماز پڑھی، تو اس نے اللہ کی حمد بیان کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: (اے نمازی! اب دعا مانگ لو، تمہاری دعا قبول ہوگی)”
    ترمذی 3477 اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے "صحیح ترمذی” (2765 ، 2767) میں صحیح کہا ہے۔

    5- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (ہر دعا شرفِ قبولیت سے محروم رہتی ہے، جب تک اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے)
    طبرانی نے "الأوسط” (1/220) میں روایت کیا ہے، اور شیخ البانی نے اسے "صحیح الجامع” (4399) میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

    6- قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا
    چنانچہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی تعداد کو دیکھا کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے، اور آپ کے جانثار صحابہ کرام کی تعداد 319 ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا شروع کی آپ نے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے اور اپنے رب سے گڑگڑا کر مانگنے لگے: (اَللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِي ، اَللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الإِسْلامِ لا تُعْبَدْ فِي الأَرْضِ)[یعنی: یا اللہ! مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا فرما، یا اللہ! مجھے دیا ہوا عہد و پیمان مکمل فرما، یا اللہ اگر تو نے تھوڑے سے مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا تو زمین پر کوئی عبادت کرنے والا نہ ہوگا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل ہاتھوں کو اٹھائے اپنے رب سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے رہے، حتی کہ آپکی چادر کندھوں سے گر گئی۔۔۔ ( مسلم: 1763)

    نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں کہتے ہیں:
    "اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونا ، اور ہاتھوں کو اٹھانا مستحب ہے”

    7- ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرنا
    سلمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بیشک تمہارا پروردگار انتہائی باحیا اور سخی ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے والے اپنے بندے کے ہاتھوں کو خالی لوٹاتے ہوئے اسی حیا آتی ہے۔ (ابو داود: 1488)
    اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود”: (1320) میں صحیح کہا ہے۔

    دعا میں ہاتھ اٹھانے کیلئے ہتھیلی کی اندرونی جانب آسمان کی طرف ہوگی، جیسے کسی سے کچھ لینے کا منتظر فقیر اور لاچار شخص اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر رکھتا ہے
    مالک بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم اللہ تعالی سے مانگو تو اپنی ہتھیلی کے اندرونی حصے سے مانگو، ہتھیلی کی پشت سے مت مانگو)
    (ابو داود: 1486)
    اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ابو داود”: (1318) میں صحیح کہا ہے۔

    8- اللہ تعالی کے بارے میں قبولیت کا مکمل یقین ہو اور صدق دل سے دعا مانگے
    فرمان رسول ہے: (اللہ سے مانگو تو قبولیت کے یقین سے مانگو، یہ یاد رکھو! اللہ تعالی کسی غافل اور لا پرواہ دل کی دعا قبول نہیں فرماتا)
    (ترمذی: 3479) اس حدیث کو شیخ البانی نے "صحیح ترمذی”: (2766) میں حسن کہا ہے۔

    9- مایوس ہو کر دعا چھوڑنا درست نہیں،
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جب تک کوئی بندہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، بشرطیکہ کہ جلد بازی نہ کرے) کہا گیا: "جلد بازی سے کیا مراد ہے؟” تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انسان یہ کہے: دعائیں تو بہت کی ہیں، پر مجھے لگتا ہے کہ میری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گی، اوراس پر مایوس ہو کر دعا کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے)
    بخاری(6340) مسلم (2735)

    10- دعا پختہ عزم سے ہو،
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی یہ نہ کہے : "یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما” بلکہ دعا مانگتے ہوئے پورے عزم کیساتھ مانگے، کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی مجبور نہیں کر سکتا)
    بخاری(6339) مسلم (2679)

    11- عاجزی ، انکساری، اللہ کی رحمت کی امید اور اللہ سے ڈرتے ہوئے دعا مانگے، فرمانِ باری تعالی ہے:
    ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]

    اسی طرح فرمایا:
    إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ
    ترجمہ: بیشک وہ نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور ہمیں امید و خوف کیساتھ پکارتے تھے، اور وہ ہم سے ڈرتے بھی تھے۔[الأنبياء : 90]

    اسی طرح فرمایا:
    وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
    ترجمہ: اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی اور خوف سے صبح و شام یاد کریں اور بلند آواز کے بغیر بھی اور غافلوں سے نہ ہو جائیں۔ [الأعراف : 205]

    12- تین ، تین بار دعا کرنا، بخاری (240) مسلم (1794) میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : ” رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز ادا کر رہے تھے، وہیں پر ابو جہل اپنے ساتھیوں کیساتھ بیٹھا تھا، [قریب ہی ]گزشتہ شام اونٹ بھی نحر کیے گئے تھے، تو ابو جہل نے کہا: "کون ہے جو فلاں قبیلے والوں کے اونٹوں کی اوجھڑی اٹھا کر جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جائے تو اس کی کمر پر رکھ دے” یہ سن کر ایک بد بخت اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اوجھڑی کو دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا ، پھر سب اوباش ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگے، لیکن میں کھرا دیکھتا ہی رہ گیا، اگر میرے کنبے والے میرے ساتھ ہوتے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک سے اسے ہٹا دیتا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سجدے کی حالت میں پڑے رہے، یہاں تک کہ ایک شخص نے جا کر فاطمہ کو بتلایا، تو وہ دوڑتی ہوئی آئیں، حالانکہ آپ بالکل چھوٹی عمر کی تھیں، پھر بھی آپ نے اوجھڑی کو ہٹایا، اور پھر اوباشوں کو برا بھلا کہنے لگیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو بلند آواز سے ان کے خلاف بد دعا فرمائی، -آپ جب مانگتے تو تین ، تین بار مانگتے، اور جب دعا کرتے تو تین ، تین بار کرتے- آپ نے تین بار فرمایا:
    (یا اللہ! قریش پر اپنی پکڑ نازل فرما )، جب اوباشوں نے آپکی آواز سنی تو انکی ہنسی بند ہوگئی، اور آپکی بد دعا سے سہم گئے ، پھر آپ نے فرمایا: (یا اللہ! ابو جہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عقبہ، امیہ بن خلف، اور عقبہ بن ابی معیط پر اپنی پکڑ نازل فرما-آپ نے ساتویں کا نام بھی لیا لیکن مجھے اب یاد نہیں ہے- قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، جن لوگوں کے نام آپ نے لیے تھے وہ سب کے سب بدر کے دن قتل ہوئے، اور پھر ان سب کو بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا)”

    13- حلال کھانے پینے کا اہتمام کرنا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    (لوگو! اللہ تعالی پاکیزہ ہے، اور پاکیزہ ہی قبول فرماتا ہے، اور اللہ تعالی نے مؤمنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا، چنانچہ فرمایا: يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی عمل کرتے ہو میں اسے جانتا ہوں۔[المؤمنون : 51] اور مؤمنین کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْاے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں تمہیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ [البقرة : 172] پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا تذکرہ فرمایا، جو لمبے سفر میں پراگندہ حالت کیساتھ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے یا رب! یا رب! کی صدائیں بلند کرتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا، اسکی پرورش حرام پر ہوئی، تو اس کی دعائیں کیونکر قبول ہوں!؟)
    (مسلم 1015)
    ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اس سے معلوم ہوا کہ حلال کھانا پینا، پہننا، اور حلال پر نشو و نما پانا قبولیتِ دعا کا موجب ہے”

    14- اپنی دعاؤں کو مخفی رکھنا، جہری طور پر دعا نہ کرنا، فرمانِ باری تعالی ہے: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ترجمہ: اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے سے پکارو[الأعراف : 55]، نیز اللہ تعالی نے اپنے بندے زکریا علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: إِذْ نَادَى رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا جب انہوں نے اپنے رب کو مخفی انداز میں پکارا ۔
    [مريم : 3]
    ان امور کا لحاظ کر کے دعا کی جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ بارگاہ خداوندی میں ضرور قبول ہو گی اور ثمر بار ہو گی۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
    ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
    اللہ تعالیٰ کے کرم اور جود و سخا کی کو انتہا نہیں ہے، بس ہمیں مانگنا آنا چاہیے بیشک اللہ تعالیٰ عطا کے دریا بہا دیتا ہے۔

  • مکالمہ,,,,!  از:نساء بھٹی

    مکالمہ,,,,! از:نساء بھٹی

    نساء بھٹی
    مکالمہ,,,,!
    آدم تو ہے مٹی
    یہ ہے حقیر سمجھ لے
    ابلیس میرا نام ہے شعلوں سے بنا ہوں!
    میں اس سے ہوں بہتر کہ ہوں آگ کا پیکر
    یہ سر میرا اس کے کبھی آگے نہ جھکے گا
    ہوّں اس سے فروتر , تو میں افضل ہی رہوں گا.
    پھر رب نے کہا!
    "جا میری جنت سے نکل جا
    پھٹکار ہے تجھ پر
    یہاں تو اب نہ رہے گا”
    کہنے لگا تو رب ہے ذرا بات میری مان
    دے مجھ کو ذرا مہلت کے لے آدم مجھے پہچان.
    میں اس کی ذریت کو بہکا کہ رہوں گا,
    فی نار جہنم انہیں پہنچا کہ دم لوں گا.
    آسان ہدف میرا یہ تیرے بشر ہوں گے
    پھر ساتھ میرے حشر میں یک صف کھڑے ہوں گے
    یوں خوشنما کر دوں گا میں اپنا ہر ہرچنگل
    کہ کرتے رہیں گے یہ آپس ہی میں دنگل
    آئی یہ ندا!
    جا تجھے مہلت ہے حشر تک
    جو تیرا ارادہ ہے جا , پورا ذرا کر,
    مخلص میرے بندوں کو تو بہکا نہ سکے گا.جو تیرا ارادہ ہے کبھی کر نہ سکے گا.
    جو تیری سنے گا,وہ ہوگا میرا کافر
    جو کفر کرے گا وہی ہوگا تیرا ہم سر
    تم سب کے لئے ہوگا جہنم کا یہی گھر.
    روؤ گے وہاں چیخو گے فریاد کرو گے
    "پھر عمر رواں دے دے گناہ اب نہ کریں گے”
    شعلوں میں گھرو گے,پیو گے جام حمیم
    نہ پاؤ گے بلکل مجھے اس روز تم رحیم
    تو آج بھی لعین ہے اس روز بھی ہوگا
    مردود ہے مردود ہے مردود رہے گا…

  • کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے مبشر لقمان نے پردہ فاش کر دیا

    کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج کشمیریوں کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے مبشر لقمان نے پردہ فاش کر دیا

    بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے

    باغی ٹی وی : بھارتی فوج کے مظالم رمضان المبارک میں بھی نہ رک سکے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے ایک طرف کورونا کا خوف تو دوسری طرف بھارتی فوج کا کشمیریوں پر ظلم و ستم جا ری ہے بھارتی فوج کا ظلمو ستم اس قدر بڑھ چکا ہے کہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے بھارتی فوج نہتے اور مظلوم کشمیریوں کو ہلاک کر رہی ہے اور ہلاک ہونے والے کشمیریوں کی لاشیں ان کے ورثاء کے علم میں لائے بغیر دفن کر ہی ہے


    سئینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس بھارتی فوج کی اس ظلم اور بربریت پر آواز اٹھاتے ہوئے لکھا کہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے ، ہندوستانی فوج زیادہ سے زیادہ اضافی ہلاکتیں کر رہی ہے اور ہلاک ہونے والے لوگوں کوان کے اہل خانہ کو بتائے بغیر دفن کررہی ہے

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برس ماہ اگست سے کرفیو نافذ ہے جب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثت کا خاتمہ کیا تھا تاہم اب کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن مزید سخت کیا گیا ہے،بھارتی پولیس نے متعدد صحافیوں کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی اور کام کرنے سے روک دیا ہے جبکہ چند روز قبل بھارتی فوج نے خاتون صحافی سمیت 3 صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرکے انہیں گرفتار کیا تھا

  • جیتو پاکستان کا حصہ بن کر خوشی ہوئی  ہمایوں سعید

    جیتو پاکستان کا حصہ بن کر خوشی ہوئی ہمایوں سعید

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے خلاف بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کی وجہ سے رمضان المبارک میں ہونے والے تمام گیمز شو اورٹرانسمیشن کے بارے میں چینلز کو پیمرا نے ہدایات دیں تھیں کہ تمام چینلز رمضان کریم کی ٹرانسمیشنز اور گیم شوز بغیر ناظرین کے کریں

    باغی ٹی وی : پیمرا نے کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کے پیش نظر تمام ٹی وی چینلز کو ہدایات دیں تھیں کہ وہ تمام رمضان ٹرانسمیشنز بغیر عوام کے کریں گے لوگ گھر بیٹھ کر شوز دیکھیں گے اور پروگرام کا عملہ اور میزبان ہی سیٹ پر موجود ہوں گے پیمرا کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اور کورونا کے خلاف حفاظتی تدابیر کے تحت اے آر وائی کا معروف شو جیتو پاکستان بھی اس بار پروگرام کے میزبان فہد مصطفی سیٹ پر بغیر ناظرین کےاکیلے ہی کر رہے ہیں

    گذشتہ روز فہد مصطفی کے شو جیتو پاکستان میں پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ہمایوں سعید جلوہ گر ہوئے ہمایوں سعید نے ٹویٹر پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیتو پاکستان کا حصہ بن کر خوشی ہوئی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے تصدیق شدہ اکاؤنٹ پر اپنی فہد مصطفی کے ساتھ شو کے دوران لی گئی تصویر شئیر کی جس میں وہ کورونا کی حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ہاتھ ملانے کی بجائے پاؤں ملا رہے ہیں
    https://twitter.com/iamhumayunsaeed/status/1254147451688292353/photo/1
    تصویر کے کیپشن میں ہمایوں سعید نے لکھا کہ آج جیتو پاکستان میں بہت فن کیا براہ راست ناظرین کے بغیر بھی شو بہت زبردست تھا۔ فہد کی توانائی کی سطح واضح طور پر ہمیشہ کی طرح ناقابل میچ ہے!

    اداکار نے کہا ہم کل ہونے والے پشاور سے میچ کے منتظر ہیں اور بہت زیادہ تفریح ​​ کی امید کر رہے ہیں

    ہمایوں سعید نے کہا کہ جیتو پاکستان لیگ کا حصہ بننے پر خوشی ہوئی

    واضح رہے کہ پیمرا نے اپنے نوٹیفیکشن ممیں کہا تھا کہ تمام پیمرا لائسنس ہولڈر جانتے ہیں کہ پوری دنیا کو اس وقت تاریخ کے مشکل ترین حالات کا سامنا ہے جہاں ہر قوم مل کر اور انفرادی طور پر اس وبائی مرض کووڈ 19 سے مقابلہ کر رہی ہے پاکستان بھی اس میں شامل ہے چونکہ عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے ماہرین سماجی فاصلے کی تجویز دی ہے اس لیے پیمرا کے تمام لائسنس یافتگان کو گزشتہ برس کی رمضان نشریات کے طریقہ کار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے پیمرا نے کہا تھا کہ سحر اور افطار کے وقت حاظرین پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے بلکی گھروں میں بیٹھ کر لائیو پروگرام دیکھیں گے کیونکہ ہجوم اس وبا کے پھیلاؤ کی وجہ بن سکتا ہے لہذا پروگرام ٹائم بس میزبان اور چینل کی ٹیم کے چند ممبران ہی موجود ہوں

    گھر کی دہی کمال ہوتی ہے ؛ ہمایوں سعید

    کورونا وبا کے خطرات کے پیش نظر پیمرا کی تمام ٹی وی چینلز کو رمضان نشریات کے حوالے سے احکامات جاری

  • ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں : بقلم سلطان سکندر!!!!

    ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں : بقلم سلطان سکندر!!!!

    ہائیپوکسیاء بیماری کی قرآن مجید میں نشانیاں

    فضاء کی اونچائی پر آکسیجن کی موجودگی کم ہوتی ہے۔ جب آکسیجن کی سطح پھیپھڑوں میں خون کی نالیوں(بلڈ ویسلز) کو گراتی ہے تو:👇
    Hypoxic pulmonary vasoconstriction (HPV),
    جو
    Euler-Liljestrand mechanism
    کے طور پر بھی جانا جاتا ہے, ایک جسمانی رجحان ہے جس میں
    alveolar hypoxia (آکسیجن کی کمی)
    کی موجودگی کی وجہ سے پلمونری آرٹریز (پھیپھڑوں کی نَسّیں) سکڑ جاتی ہیں,

    یعنی جب آکسیجن کی سطح کم ہوتی ہے تو پھیپھڑوں میں موجود بلڈ ویسلز سکڑ جاتی ہیں.
    یہ تحقیق حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے ساڑھے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں اسکا انکشاف کر دیا گیا تھا.

    Quran: 6/125
    فَمَنْ يُّرِدِ اللّـٰهُ اَنْ يَّـهْدِيَهٝ يَشْرَحْ صَدْرَهٝ لِلْاِسْلَامِ ۖ وَمَنْ يُّرِدْ اَنْ يُّضِلَّـهٝ يَجْعَلْ صَدْرَهٝ ضَيِّـقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِى السَّمَآءِ ۚ كَذٰلِكَ يَجْعَلُ اللّـٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (الانعام 125)

    "سو جسے اللہ چاہتا ہے کہ ہدایت دے تو اس کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے گو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر پھٹکار ڈالتا ہے۔”

    یہاں پر "اور جس کے متعلق چاہتا ہے کہ گمراہ کرے اس کے سینہ کو بے حد تنگ کر دیتا ہے(سینہ سکڑ جاتا ہے) گو کہ وہ آسمان پر(کی طرف) چڑھتا ہے،”
    ‘آسمان پر چڑھتا ہے’ سے مراد آپ جیسے جیسے آسمان کی طرف جاتے جائیں گے یعنی اونچی سطح پر جاتے جائیں گے تو آکسیجن کی کمی ہوتی جائے گی.

    اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سکڑاؤ کیوں ہوتا ہے؟, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے, قرآن میں کوئی غلط بات نہیں لکھی ہوئی.

    آج سے ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص کیسے جان سکتا ہے کہ اونچائی پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کیا چیز سکڑ سکتی ہے؟(جیسا کہ پھیپھڑوں کی نسیں وغیرہ)
    آگے چلیں, اسے واضح کرتے ہیں,

    آکسیجن کی کمی کی ایک عام نشانی یہ ہے کہ آپکی جلد نیلی پڑ جاتی ہے.

    Cyanosis (سائنوسِس)
    جلد کی نیلی یا پرپل رنگ کی رنگت ہے یا میوکس ممبرینز ہیں,
    جب جلد کی سطح کے پاس والے ٹشوز میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو جلد یہ رنگ اختیار کر لیتی ہے,
    سائنوسِس کا لفظی معنی نیلی بیماری یا نیلی حالت ہے, یہ سیان رنگ سے اخذ کیا گیا ہے جو ایک یونانی لفظ سیانوس سے نکلا ہے.

    آکسیجن کی کمی آپکی جِلد کو نیلا کر دیتی ہے. یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی قرآن میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن نافرمانوں کی جلد نیلی پڑ جائے گی.

    Quran: 20/102
    يَوْمَ يُنْفَخُ فِى الصُّوْرِ ۚ وَنَحْشُـرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا (طہٰ 102)
    "اور جس دن صُور پھونکا جائے گا, اور ہم اس دن مجرموں کو نیلا کر کے جمع کر دیں گے.”

    مجرموں کا رنگ نیلا پڑ جائے گا, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ نیلا کیوں پڑتا ہے, آکسیجن کی کمی کی وجہ سے جو کہ ایک عام وجہ ہے.

    Hypoxia
    کی ایک اور کم معلوم وجہ موٹر (دماغ کے) فنکشنز(افعال) کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے.

    Brain hypoxia (دماغی ہائپوکسیا)
    بھی ہائپوکسیا کی ایک قسم ہے یا دماغ پر اثر انداز آکسیجن کی کمی ہے. یہ تب ہوتا ہے جب دماغ خون کے بہاؤ کے باوجود آکسیجن کی مطلوبہ مقدار وصول نہیں کر رہا ہوتا اور جب آکسیجن کی سپلائی مکمل بند ہوجاتی ہے تو اس حالت کو دماغی ہائپوکسیا کہتے ہیں.
    دماغی ہائپوکسیا ایک طبی ہنگامی حالت ہے جسکا علاج بروقت ہنگامی حالت میں کیا جاتا ہے کیونکہ دماغ کو اپنے فنکشنز صحیح طریقے سے چلانے کیلئے آکسیجن کی مسلسل سپلائی اور نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے.
    دماغی ہائپوکسیا کی کئی وجوہات ہوتی ہیں.
    ان میں ڈوبنا ، دم گھٹنا ، دل کی دھڑکن رکنا اور اسٹروک(دماغی سیلز کا مرنا) شامل ہیں۔
    ہلکی علامات میں سے حافظہ کھو بیٹھنا اور دماغی فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہے جیسا کہ نقل و حرکت میں رکاوٹ آجانا.
    سنگین حالات میں دوریں پڑنا اور دماغ کی موت ہونا شامل ہے.

    موٹر(دماغی) فنکشنز کے ساتھ مسئلہ ہونا ہائپوکسیا کی ہلکی علامات میں سے ایک ہے,
    یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی ہے جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے ہی یہ کتاب میں درج کر دیا گیا تھا کہ قیامت کے دن مجرموں کے دماغی افعال مسئلہ کرنا شروع کر دیں گے.

    Quran: 75/29
    وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ (القیامہ 29)
    "اور ایک پنڈلی دوسری پنڈلی سے لپٹ جائے گی”

    ٹانگ دوسری ٹانگ سے لپٹ جائے گی, آج ہم جانتے ہیں کہ یہ خرابی موٹر فنکشن کے صحیح کام نہ کرنے کی وجہ سے ہے, یہ ہائپوکسیا کی ایک علامت ہے.

    قرآن کی ایک اور آیت بتاتی ہے کہ مجرم لوگ اس دن چکرانے یا نشے کی حالت میں ہوں گے.

    Quran: 75/2
    يَوْمَ تَـرَوْنَـهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَـمْلٍ حَـمْلَـهَا وَتَـرَى النَّاسَ سُكَارٰى وَمَا هُـمْ بِسُكَارٰى وَلٰكِنَّ عَذَابَ اللّـٰهِ شَدِيْدٌ (الحج 2)
    "جس دن (تم) اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال(گرا) دے گی اور تجھے لوگ مدہوش(نشے میں) نظر آئیں گے اور وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی اتنا سخت ہوگا۔”

    مدہوش ہونا نشے کی ایک علامت ہے لیکن یہ ہائپوکسیا کی بھی ایک علامت ہے. تو وہ ایسے نظر آئیں گے جیسے نشے میں ہیں جبکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے. آج ہم جانتے ہیں کہ کیوں, کیونکہ یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے.
    Cortical blindness(کارٹیکل بلائنڈنیس)
    ایک دماغی بیماری کا نام ہے.
    دماغ کا ایک حصہ جسے
    Brain’s occipital cortex
    کہتے ہیں, اس میں خرابی کی صورت میں ایک عام نظر آنے والی آنکھ کی تھوڑی سی بینائی یا ساری بینائی چلی جاتی ہے جسے کارٹیکل بلائنڈنیس کہتے ہیں.
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی بیماری پیدائشی بھی ہوسکتی ہے اور بعد میں بھی اور بعض صورتوں میں یہ عارضی طور پر بھی ہوسکتی ہے
    کارٹیکل بلائنڈنیس کی ایک عام وجہ ischemia (آکسیجن کی کمی) ہے. جو کہ آکسیپیٹل لوبز میں دماغ کی بیرونی آرٹیریز میں بلاکیج کی وجہ سے ہوتی ہے.

    آکسیجن کی کمی عارضی طور پر اندھا پن کی بھی وجہ بنتی ہے, یہ تحقیق بھی حال ہی میں کی گئی جبکہ اسکی دریافت سے 1400 سال پہلے یہ کتاب میں موجود تھا کہ

    Quran: 20/124
    وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِىْ فَاِنَّ لَـهٝ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُـرُهٝ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَعْمٰى (124)

    اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

    قیات کے دن مجرم اندھے کر دیے جائیں گے, ہم جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے, یہ آکسیجن کی کمی کی ایک علامت ہے.

    ایک غیر معمولی شخص 1400 سال پہلے ہی ہائپوکسیا کی علامات کے بارے میں کیسے اتنا سب کچھ جان سکتا ہے؟؟؟؟

    قرآن میں آکسیجن کی کمی کی وجہ دم گھٹنا ہے.

    Quran: 14/16-17
    مِّنْ وَّرَآئِهٖ جَهَنَّـمُ وَيُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍ (ابراہیم 16)
    اور اس کے پیچھے دوزخ ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔

    يَتَجَرَّعُهٝ وَلَا يَكَادُ يُسِيْغُهٝ وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِنْ وَّرَآئِهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ (ابراہیم 17)
    جسے گھونٹ گھونٹ کر پیے گا اور اسے گلے سے نہ اتار سکے گا اور اس پر ہر طرف سے موت آئے گی اور وہ نہیں مرے گا، اور اس کے پیچھے سخت عذاب ہوگا۔

    "گھونٹ گھونٹ کر پیے گا” مطلب اسکے گلے کے ساتھ یہ مسئلہ ہوگا. اسکا مطلب اس ہائپوکسیا کی وجہ دم گھٹنا ہے یا گلے کا گھٹنا ہے.

    گلے کی یہ بیماری کانٹوں کی وجہ سے ہوتی ہے.
    Quran: 88/6
    لَّيْسَ لَـهُـمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْـعٍ (6)

    "ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا۔”

    وہ کانٹے دار جھاڑیوں کے ساتھ اپنا گلا گھونٹیں گے اور ہائیپوکسیا کی تمام علامات دکھائیں گے.

    سوال تو یہ بنتا ہے کہ
    ساڑھے 1400 سال پہلے ایک غیر معمولی شخص گلا گھٹنے کی علامات کیسے جان سکتا ہے؟؟؟

    یہ باتیں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا لکھا گیا نہیں بلکہ ایک ایسی طاقتور اور علم سے بھری ہوئی ذات کی طرف سے لکھا گیا ہے جو ہر چیز کی ہر باریکی سے مکمل طور پر واقف ہے.

    بقلم سلطان سکندر!!!!

  • مکتبہ شاملہ کی نئی ایپ استعمال کرنے کا طریقہ

    مکتبہ شاملہ کی نئی ایپ استعمال کرنے کا طریقہ

    الحمد للہ مکتبہ شاملہ نے موبائل کے لیے نئی ایپلیکیشن پلے سٹور پر اپ لوڈ کر دی۔ اس کے استعمال کرنے کا طریقہ کار جاننے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پہ کلک کریں

    باغی ٹی وی :مکتبہ شاملہ مدارس کے علماء یونیورسٹیز کے سکالرز اسلامک ریسرچرز اور جتنے بھی اہل علم ہیں سب بخوبی جانتے ہیں کہ مکتبہ شاملہ سوفٹ وئیرز کی دنیا میں اسلماک سوفٹ وئیرز اور ایپلیکیشنز کی دنیا میں سب سے نمایاں اور سب سے اعلی مقام رکھتا ہے

    علماء اس ایپ کو اس قدر استعمال کرتے ہیں اور اس قدر اس کے استعمال کی ترغیب دلاتے ہیں کہ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حافظ عبدالسلام بھٹوی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ یہاں تک کہا کرتے ہیں کہ اگر تمہیں بھینس بیچ کر لیپ ٹاپ لینا پڑے تا کہ تم اس میں مکتبہ شاملہ انسٹال کر سکو اور اسے استعمال کر سکو یہ نقصان کا سودا نہیں یہ بڑی اہمیت کا حامل ہے اس کے استعمال کا طریقہ ضرور آنا چاہیئے

    مکتبہ شاملہ موبائل ایپلیکیشن

    کیا آپ کے اسمارٹ فون میں ان میں سے کوئی پن ہے؟ اسے جلدی سے تبدیل کریں

  • مولانا طارق جمیل سے معافی منگوانے والے اینکر حامد میر سے معافی کا مطالبہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    مولانا طارق جمیل سے معافی منگوانے والے اینکر حامد میر سے معافی کا مطالبہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    پاکستان کے معروف مذہبی سکالر اور عالم دین مولانا طارق جمیل سے معافی منگوانے والے اینکر حامد میر سے معافی کا مطالبہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

    باغی ٹی وی : پاکستان کے معروف مذہبی سکالر اور عالم دین مولانا طارق جمیل سے معافی منگوانے والے اینکر حامد میر سے معافی کا مطالبہ ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی احساس ٹیلی تھون کی لائیو نشریات میں پاکستان سمیت پوری دنیا سے لوگ شریک ہوئے اور دل کھول کر عطیات دئیے جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس میں کورونا ریلیف فنڈ کے حوالہ سے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون میں وزیراعظم عمران خان بھی موجود تھے

    ملک کے مختلف چینلز سے وابستہ اینکرز بھی ٹیلی تھون میں شریک تھے۔ اس موقع پر اندرون و بیرون ملک سے بڑی تعداد میں مخیر حضرات نے وزیراعظم کے کورونا ریلیف فنڈ کیلئے کروڑوں روپے کے عطیات کا اعلان کیا۔نشریات کے اختتام پر معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے عوام سے اس وبا سے احتیاط برتنے اور خدا کے حضور توبہ کرنے کی تلقین کی

    مولانا طارق جمیل نے دعا سے قبل خطاب بھی کیا جس میں ایک بیان میں مولانا طارق جمیل نے اپنے بیان میں کہا کہ میڈیا پر جھوٹ بولا جاتا ہے ہم جھوٹی قوم ہیں ہم اس جھوٹ کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں کوئی مقام نہیں لے سکتے

    22 کروڑ عوام میں کتنے لوگ سچے ہیں.؟. مولانا طارق جمیل نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار مجھ سے ایک چینل کے مالک نے نصیحت مانگی۔ میں نے کہا اپنے چینل سے جھوٹ ختم کردو۔تو اس نے کہا کہ چینل ختم ہو سکتا ہے جھوٹ ختم نہیں ہو سکتا۔صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا کا میڈیا جھوٹا ہے۔سب سے زیادہ جھوٹ میڈیا پر بولا جاتا ہے مولانا کے اس بیان پر تمام اینکرز سیخ پا تھے دو تین دن سے سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث جاری تھی تو میڈیا کے اس سخت ری ایکشن پرمولاناطارق جمیل دودن قبل محمد مالک کے پروگرام میں آئے اور انہوں نے آتے ہی کہا میں میڈیا سے اپنی اس بات پر معافی مانگتا ہوں

    مولانا طارق جمیل کے معافی مانگنے کے بعد حامد میر نے ٹویٹر پر ٹویٹ بھی اینکر پرسن اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ٹیلی تھون کے دوران میڈیا پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا تھا جس پر ان سے ثبوت مانگے گئے تھے 24 گھنٹے کے بعد آج شام انہوں نے مجھ سمیت تمام میڈیا سے معافی مانگ لی ہے

    https://twitter.com/FakihaAlvi_/status/1254225090335703050?s=19
    حامد میر کی اس ٹویٹ کے سامنے آتے ہیں صارفین نے خوب تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ دوسری جانب مولانا صاحب کی عزت اور احترام میں مزید اضافہ ہوا کہ انہوں نے بغیر کسی بحث کے غلطی پر نہ ہرنے کے باوجود معافی مانگی ہے لیکن یہ ایشو مسلسل سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اور ٹویٹر صارفین نے حامد میر پر شدید تنقید اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مولا نا صاحب سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ آج ٹویٹر پرحامد میر معافی مانگوکا ٹرینڈ ٹاپ پر ہے


    ایک صارف میاں اسامہ نے ٹویٹر پر پنجاب کے سابق وزیر اعلی شہباز شریف مولانا فضل الرحمن اور حامد میر کی فوٹو شئیرکرتے ہوئے لکھا کہ تاریخ ایک ایسے ملک کو یاد رکھے گی جہاں سچ کے پاس پاس کوئی ثبوت نہیں اور جھوٹ خود ثبوت ہے
    https://twitter.com/GhilmanWazir/status/1254303836409401346?s=19
    محمد غلمن نامی صارف نے حامد میر اور محمد مالک کی تصاویر شئیر کیں جن کو سرخ رنگ میں کراس کیا گیا ہےاورلکھا شرم کرو
    https://twitter.com/JunaidKKhattak/status/1254308413720453120?s=19
    جنید خان نامی صارف مولانا طارق جمیل کی تصویر شئیر کی اور لکھا یہ آدمی سچی نعمت ہے نفرت کی بجائے محبت کو پھیلائیں


    نعیم قریشی نامی صارف نے ایک میم شئیر کرتے ہوئے حامد کو تنقید کا نشانہ بنایا
    https://twitter.com/saadk_09/status/1254293418056077312?s=19
    محمد سعد نامی صارف نے مولانا طارق جمیل کی تصویر اور ایک فرمان کا کولاج شئیر کیا جس پر لکھا تھا دلائل تو بہت تھے لیکن فرمان ہے جاہل سے بحث کرنے سے بہتر ہے معافی مانگ مانگ کر جان چھڑا لو–! اور کیپشن میں لکھا معاف کر دینا ہی بہترین جواب ہے


    حسن نامی صارف نے لکھا نواز شریف حامد میر سلیم صافی منصور علی اور دیگر اینکرز کی تصاویر کا ایک کولاج شئیر کیا اور لکھا کہ میرے ملک میں رہنے والے سانپ
    https://twitter.com/ali_zarwan/status/1254303397513170944
    زروان نامی صارف نے لکھا کہ ان کے الفاظ مکمل طور پر اسلامی تھے اورہیمیں ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیئے یہ آج کا دور یزید اور ابوجہل ہے جن کو اسلام سے غداری کے لئے معافی مانگنے یا جیل کی سزا کے مستحق ہیں یہ کفار اور غداروں کے کٹھ پتلیوں کے علاوہ کچھ نہیں ہیں


    ایک صارف نے لکھا کہ ایک مشہور عالم دین کو صرف لوگوں کو ان کے اصلی چہرے دکھانے کی کوشش کے بعد معذرت کرنے پر مجبور کیا گیا سن کر بہت دل بُرا ہوا لہذا ، یہ ثابت ہوا کہ ہیرو کون ہے اور اصلی کمینے کون ہے !!
    https://twitter.com/AmmarHashmi15/status/1254300439404777472
    عمار ہاشمی نامی صارف نے حامد میر اور محمد مالک کی تصاویر شئیر کیں جس پر کراس کا نشان لگایا گیا تھا اور حامد میر کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بدمعاشوں کو کوئی بات نہ کہو ہم مولانا طارق جمیل کے ساتھ ہیں


    ایک صارف نے مولانا اور عمران خان کی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ میڈیا کی آپ سے نفرت کی وجہ یہ ہے کہ آپ عمران خان کے ساتھ ہیں


    زوحل خٹک نامی صارف نے حامد میر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور لکھا کہ یہ وہ شخص ہے جو خود جھوٹ بولتا ہے ، رشوت لیتا ہے ، بدعنوانی کی فہرست میں سرفہرست ہے اور ملک سے غداری کرتا ہے۔ اس کمینے کا صرف بائیکاٹ کرنا چاہئے ، ہمیں اسے معاف نہیں کرنا چاہئے


    ایک صارف عبدالکریم نے لوگوں سے حامد میر کا ٹویٹر اکاؤنٹ اور فیس بک پیج ان فولو کرنے کا مطالبہ بھی کیا

    ایک صارف ماہ نور ضیاء نے لکھا کہ غالباً یہ وہی حامد میر ہیں جنہوں نے اجمل قصاب کو پاکستانی شہری ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن جب اس کا بھارتی ڈومیسائل منظر عام پر آیا تو ایک لفظ بھی عرض نہ کیا خیر چھوڑیئے میڈیا نے کہا ہو گا تو سچ ہی کہا ہو گا

    بابا جی ذرا بھی استقامت نہ دکھا سکے،مولانا تھوڑی ہمت تو دکھاتے یار، زید حامد کی مولانا پر تنقید

    مولانا طارق جمیل نے ’میڈیا‘ سے متعلق دئیے گئے بیان پر معافی مانگ لی

    مولانا طارق جمیل نے کوئی غلط بات نہیں کی، رحمت ہی رحمت رمضان ٹرانسمیشن میں مبشر لقمان نے مزید کیا کہا؟

  • کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں سُپر ہیروز بھی میدان میں آگئے

    کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں سُپر ہیروز بھی میدان میں آگئے

    دنیا بھر میں پھیلی خطرناک اور جان لیوا وبا کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں سُپر ہیر وز بھی میدان میں آگئے

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی خطرناک اور جان لیوا وبا کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی آگاہی مہم میں سپر ہیروز بھی سڑکوں پر نکل آئے انڈونیشیا میں سپر ہیرو کے مداحوں کے ایک گروپ نے سڑکوں پر سپر ہیروز کے ملبوسات پہن کر نکل آئے ان کا مقصد کورونا وائرس کے بارے میں عوام میں شعور اجاگر کرنا ہے

    سپر ہیروز نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ٹریفک سگنلز پر لوگوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر بتائیں

    سُپر ہیروز نے عوام سے سماجی دور اختیار کرنے اور گھروں میں محفوظ رہنے ہاتھ دھونے اور ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کی درخواست کی جب کہ عوام کی جانب سے آگاہی مہم کے اس اقدام کو بے حد سراہا گیا دوسری جانب بچے اپنے پسندیدہ سُپر ہیروز کو اپنے سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوئے

    فنکار ملک کی سلامتی اور عالمی وبا سے نجات حاصل کرنے کے لئے دعا گو

    نیو یارک کی صورتحال بدترین ہے سڑکیں سنسان اور ہسپتالوں میں ہر طرف لاشیں ہی لاشیں ہیں سلمان احمد

  • رمضان المبارک :علی ظفر کی آواز میں حمد سوشل میڈیا پر وائرل

    رمضان المبارک :علی ظفر کی آواز میں حمد سوشل میڈیا پر وائرل

    پاکستان کے نامور گلوکار علی ظفر نے اپنی خوبصورت آواز میں اللہ تعالی کی تعریف میں دل چُھو لینے والی حمد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کی جو دیکھتے ہی وائرل ہوگئی

    باغی ٹی وی : رحمتوں اور برکتوں والے مہینے رمضان المبارک کا آغاز ہوگیا ہے تمام فنکار اور گلوکار مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد دے رہے ہیں ایسے میں پاکستان کے معروف گلوکار علی ظفر نے اپنی خوبصورت آواز میں اس پوری کائنات کے خا لق و مالک کی تعریف میں حمد پڑھی

    گلوکار علی ظفر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رمضان المبارک کے موقع پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انگریزی میں رمضان کریم کے حوالے سےایک پیغام لکھا ہوا نظر آرہا ہے اور آڈیو میں علی ظفر کی خوبصورت آواز میں اللہ تعالی کی تعریف میں پڑھی جانے والی حمد بھی سنائی دے رہی ہے


    علی ظفر کی پڑھی گئی نظم کے اشعار کچھ اس طرح ہیں:

    تُو رحیم ہے تُو کریم ہے
    تیری ذات سب سے عظیم ہے

    تُو کرم بھی کر میرے حال پہ
    ہے جو مشکلیں سب ٹال دے

    تیرے در پہ ہوں اب میں کھڑا
    تو سُن لے تُو میری دُعا

    اَللھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی
    اَللھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی

    علی ظفر نے ٹوئٹر پر حمد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ آئیے ہم رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے کے اصل جوہر سے مربوط ہوں

    انہوں نے لکھا کہ اپنے خالق سے گہری سطح پر جڑیں اپنے قول اور فعل کے ذریعہ اپنی روح کو پاک کریں

    گلوکار نے لکھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس رحمتوں اور برکتوں والے مہینے میں اچھے اور نیک کام کریں اور دوسروں کی مدد کریں

    علی ظفر نے سولہ سال کی عمر میں لکھا گانا مداحوں لے لئے دوبارہ گا دیا

  • سلمان خان دولہا بننے کے قریب ہی تھے کہ شادی سے انکار کر دیا  اداکار کے قریبی دوست کا انکشاف

    سلمان خان دولہا بننے کے قریب ہی تھے کہ شادی سے انکار کر دیا اداکار کے قریبی دوست کا انکشاف

    ممبئی :معروف بالی وڈ سپر سٹار اداکار سلمان خان نے شادی سے چند دن قبل خود ہی اپنی شادی منسوخ کردی جبکہ ان کی شادی کے دعوت نامے بھی تقسیم کردیے گئے تھے اداکار کی قریبی دوست ساجد ناڈیووالا کا انکشاف

    بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سلمان خان کی شادی کا موضوع ہمیشہ سے ہی ان کے مداحوں کے لیے دلچسپ رہا ہےاُن کے مداحوں کو بے صبری سے انتظار ہے کہ وہ کب شادی کے بندھن میں بندھیں گے

    ویسے توفلمی دنیا میں سلمان خان متعدد بار شادی کر چکے ہیں لیکن کسی کو یہ نہیں معلوم کہ وہ حقیقی زندگی میں بھی ایک مرتبہ دولہا بننے کے انتہائی قریب تھے کہ اچانک انہوں نے خود ہی شادی سے چند دن قبل اپنی شادی سے انکار کردیا اس بات کا انکشاف ان کے بہترین دوست اور فلم پروڈیوسر ساجد ناڈیووالا نے ایک شو میں کیا

    ساجد ناڈیووالا نے بتایا کہ سلمان خان نےسن 1999 میں اپنے والد سلیم خان کی سالگرہ کی تاریخ پر نومبر میں شادی کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور صرف انہوں نے نہیں بلکہ میں نے بھی فیصلہ کیا تھا کہ ہم ایک ہی دن شادی کریں گے

    پروڈیوسر نے بتایا کہ سلمان اور میری شادی کے تمام دعوت نامے تقسیم ہوگئے تھے لیکن پھر اچانک شادی سے صرف5 دن پہلے انہوں نے اپنا ارادہ تبدیل کرلیا اور اپنی شادی منسوخ کردی جس کے بعد انہوں نے آج تک شادی نہیں کی

    واضح رہے کہ سلمان خان کے حوالے سے پچھلے کافی عرصے سے یہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ ان کے اور رومانیہ کی ٹی وی میزبان لولیا ونچر کے درمیان دوستی سے بڑھ کر تعلق ہے اور وہ جلد شادی کرنے والے ہیں 2018 میں لولیا نےان تمام افواہوں کی تردید کردی تھی لیکن کافی عرصے سے یہ دونوں پھر سے ایک ساتھ نظر آرہے ہیں

    سلمان خان نے کورونا پر پیار کرونا گانا ریلیز کر دیا

    بھارت میں چند جوکروں کی وجہ سے وبا پھیل رہی ہے سلمان خان