Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • لائکس و کمنٹس سمیٹنے کے لئے را بی پیرزادہ کا انتہائی سطحی اور سستا طریقہ :  بقلم ، فردوس جمال !!!

    لائکس و کمنٹس سمیٹنے کے لئے را بی پیرزادہ کا انتہائی سطحی اور سستا طریقہ : بقلم ، فردوس جمال !!!

    وہ پہلے بیڈ روم سے سانپوں اور مگرمچھوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتی رہی مگر بات نہ بنی پھر ایک رات اس نے اپنے سب ‘اثاثے’ ظاہر کرتے ہوئے اپنی ہی الف ننگی ویڈیو اسی بیڈ روم سے لیک کر دی ہر طرف اس کا چرچا ہوا،اقبال کے شاہین انبکس اور پرسنل پر ایک دوسرے سے اس ویڈیو کی ڈیمانڈ کرتے دکھائی دیے.

    پھر چند دن بعد موصوفہ نے اسلامی گیٹ اپ بنا کر اسی بیڈ روم سے ایک اور ویڈیو اپلوڈ کر دی اب کے موصوفہ خوش الحانی میں قرآن پڑھ رہی تھی اور توبہ کا اعلان کر رہی تھی اقبال کے شاہینوں میں اب کے سخت اختلاف ہوا کمنٹ بکس میں رش لگا ہوا تھا کچھ نے کہا اس کا توبہ نہیں ہے کچھ توبہ قبول ہے قبول کی سند بخش رہے تھے خیر موصوفہ کو بہت توجہ ملی،علماء کرام سے دین نہ سیکھنے والے ایک طبقے نے اب بقاعدہ دین سیکھنے کے لئےاس کے یوٹیوب کے دروازے کا رخ کیا.

    اب موصوفہ نے ایک نیا انکشاف کر ڈالا ہے کہ قرآن مجید کے 38 پارے ہیں،ایک بار پھر موصوفہ خبروں میں ہے،ایک بار پھر وہ معافی مانگے گی اور ایک بار پھر قبول ہے قبول کا پروانہ دینے والے ٹوپیاں سیدھی کرتے ہوئے اس کے یوٹیوب چینل کی نشستوں پر بیٹھے دکھائی دیں گے.

    بات یہ ہے کہ یہ سب لائم لائٹ میں رہنے اور حصول شہرت کے طریقے ہیں مومنین فی سبیل اللہ مارے جاتے ہیں،بھیا توبہ بحضور کیمرا اور یوٹیوب کیا جاتا ہے؟ ٹھیک ہے گناہ ہر انسان سے ہوتا ہے،اس کے لئے توبہ ہے،توبہ تمہارا اور تمہارے رب کے درمیان کا معاملہ ہے اپنے توبے کو سوشل میڈیا میں کیش کروانے اور لائکس و کمنٹس سمیٹنے کا ذریعہ بنانے کا یہ انتہائی سطحی اور سستا طریقہ کیوں؟

  • کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد ٹام ہینکس نے پہلا پروگرام ریکارڈ کروا دیا

    کورونا سے صحتیاب ہونے کے بعد ٹام ہینکس نے پہلا پروگرام ریکارڈ کروا دیا

    آسکر ایوارڈ یافتہ نامور ہالی وڈ اداکار و میزبان ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ ریٹا ولسن گزشتہ ماہ مارچ کے پہلے ہفتے میں آسٹریلوی دورے کے دوران کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے

    باغی ٹی وی : ہالی وڈ اداکار و میزبان ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ ریٹا ولسن گزشتہ ماہ مارچ کے پہلے ہفتے میں آسٹریلوی دورے کے دوران کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھےجس وجہ سے انہیں کچھ دن تک ہسپتال داخل ہونا پڑا تھا


    ٹام ہینکس وبائی مرض کا شکارہونے کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا تھا انہوں نے مداحوں کو بتایا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ آسٹریلوی دورے کے دوران کورونا کا شکار ہوگئے ہیں اور انہیں کچھ دن تک قرنطینہ میں رہنا پڑے گا

    بعد ازاں اداکار نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ہی مداحوں کو خوشخبری انئی تھی کہ انہیں اور ان کی اہلیہ کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے اور اب وہ گھر میں ہی قرنطینہ ہوجائیں گے

    امریکا اپنے گھر جانے کے بعد ٹام ہینکس صحت یاب ہوگئے تھے اور اب اس مرض کو شکست دینے کے بعد پہلی بار انہوں نے11 اپریل کو اپنے معروف ٹی وی پروگرام سیٹرڈے نائٹ لائیو کی میزبانی کی اور وہ پروگرام میں انتہائی خوش دکھائی دیئے اس پروگرام میں وبا کے شکار ہونے سے متعلق اپنے مداحوں کو بتایا یہ پروگرام انہوں نے اپنے گھر میں ہی کیا

    سیٹرڈے نائٹ لائیو کے ہینڈلر ٹویٹر اکاؤنٹ پرویڈیو شئیر کی گئی جس میں ٹام ہینکس کافی خوش دکھائی دے رہےہیں اور مداحوں کو وبائی مرض کے بارے میں بتا رہے ہیں ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ یہ شو اپنے گھر میں ہی کر رہے ہیں

    پروگرام کے دوران انہوں نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کورونا کی وبا کا شکار ہونا ان کے لیے اور ان کی اہلیہ کے لیے مشکل وقت تھا تاہم مداحوں کی نیک خواہشات دعاؤں اور ڈا کٹرز کی محنت سے انہوں نے اس مشکل وقت کو ہرا دیا ہے

    ٹام ہینکس نے کورونا میں شکار ہوتے وقت اپنے جسما نی حالات اور وبا کی علامات کے بارے میں بھی بتایا کہ ان میں اتنی زیادہ علامات نہیں تھیں بس جسم درد تھکاوٹ اور بخار محسوس ہوا تو انہوں نے چیک اپ کرایا جس کے بعد ان میں کورونا کی تشخیص ہوئی

    اداکار نے کہا کورونا کی تشخیص کے بعد انہوں نے ڈاکٹرز کی ہدایات پر مکمل عمل کیا اور ہسپتال میں اچھا وقت گزارنے کے بعد انہوں نے گھر میں بھی ماہرین صحت کی ہدایات پر عمل کیا اور وہ آج بلکل صحت مند ہیں

    واضح رہے کہ گذشتہ مارچ کے پہلے ہفتے میں آسٹریلیا کے دورے کے دوران ٹام ہینکس اور ان کی اہلیہ ریٹا ولسن میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد وہ ہسپتال میں داخل ہوگئے تھے

    کورونا وائرس کا شکارہالی وڈ اداکار ٹام ہینکس اوراہلیہ صحتیاب ہسپتال سے ڈسچارج گھر میں قرنطینہ میں رہیں گے

  • ماہرہ خان کا اپنی پھپھو کے لئے جذباتی پیغام

    ماہرہ خان کا اپنی پھپھو کے لئے جذباتی پیغام

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی عالمی شہرت یافتہ معروف اداکارہ ماہرہ خان نے اپنی دونوں پھپھوؤں کے لیے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام شئیر کیا

    باغی ٹی وی : پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اور عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان نےسوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی دونوں پھپھو ؤں کے ہمراہ اپنی ایک تصویر شیئر کی
    https://www.instagram.com/p/B-2EHCYhs2q/?igshid=ee1f8c1w9tn7
    تصویر شئیر کرتے ہوئے اداکارہ نے اپنی پھپھوؤں کے لئے ایک پیغام بھی تحریر کیا اداکارہ نے لکھا کہ میں ہمیشہ سے یہی سن کر بڑی ہوئی ہوں کہ پھوپھو اچھی نہیں ہوتی ہیں اور بچے اپنے والد کے گھر والوں کو اتنا پسند نہیں کرتے ہیں جتنا وہ اپنی والدہ کے گھر والوں کو پسند کرتے ہیں (یہ دیسی چیز ہو سکتی ہے) مجھے واقعی میں کبھی ایسا نہیں لگا

    ماہرہ خان نے لکھا کہ میں تو اپنے دادا کے گھر میں ایک جوائنٹ فیملی میں بڑی ہوئی ہوں ہم سب مل کر ایک ساتھ رہتے تھے اور یہاں تک کہ جو رشتے دار ہمارے گھر میں نہیں رہتے تھے وہ بھی ہمارے گھر کے آس پاس ہی رہائش پذیر تھے

    اداکارہ نے لکھا کہ میری دو پھپھو ہیں آپ سب تصور نہیں کرسکتے کہ وہ کیسی ہیں وہ خوبصورت ، ہنس مکھ ، مہربان اور مضبوط خواتین ہیں

    انہوں نے لکھا کہ میری بڑی پھپھو ثریا ہیں انہوں نے ہی میرے والد کے والد ین کے بعد ہی میرے والد کو اپنے بچوں کی طرح سنبھالا ہے اور ان کی اچھی پرورش کے لیے کام کیا ہے میں نے ا پنی پھپھو جیسی خاتون کہیں نہیں دیکھی

    ماہرہ خان نے لکھا کہ میری چھوٹی پھپھو کا نام سیما ہے جب وہ اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ چلی گئی تھیں تو میں اس کے بعد سے جب بھی امریکہ جاتی تھی تو اُن کے گھر میں ہی رہتی تھی کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ایک وہ ہی جگہ ہے جو میرے لیے محفوظ ہے

    ماہرہ خان نے لکھا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہم ان جیسے تعلقات کے ساتھ ہی بڑے ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ کردار دادا اور دادی کا ہوتا ہے

    ماہرہ خان نے لکھا کہ میرے دو چاچا ہیں اور میں اپنے تمام خاندان والوں کے لیے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں

    کوئی بھی طاقت دعا سے بڑی نہیں ماہرہ خان

  • اپنا وائے فائے پاسورڈ محفوظ رکھیں بصورت دیگر خطرناک مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے

    اپنا وائے فائے پاسورڈ محفوظ رکھیں بصورت دیگر خطرناک مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے

    سائبر کرائم ونگ فیڈرل انویسٹی گیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چودھری نے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ اپنےوائے فائے کو پاسورڈ لگا کر رکھیے جرائم پیشہ افراد آپکے انٹرنیٹ کو استعمال کر سکتے ہیں مگر جوابدہ آپکو ہونا پڑے گا

    باغی ٹی وی : سائبر کرائم ونگ فیڈرل انویسٹی گیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹ پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ لوگ وائے فائے کی سیکیورٹی کو بہت ہلکا لیتے ہیں حالانکہ کہ یہ بعض اوقات بہت زیادہ سیریس مسائل پیدا کر سکتا ہے ایسے بہت سارے اس طرح کے معاملات ہیں جن میں غیر قانونی سر گرمی کے لئے وائے فائے کا میس یوز ہو جانا وغیرہ جب اس وائے فائے تک ہمارے ادارے کی رسائی ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے وہ افراد گھر والے یا آفس والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا نہ ان کا کوئی کنسرن ہو تا ہے ان کا وائے فائے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث مجرم نے ان کا وائی فائے مس یوز کیا ہوتا ہے


    انہوں نے کہا کہ ان سارے مسائل سے بچنے اور خود کو محفوظ رکھنے کئ لئے ضروری ہے کہ اپنا وائے فائے کا کوڈ لگائیں اور پاسورڈ بھی محفوظ رکھیں اس کے علاوہ کسی کے مانگنے پر بھی پاسورڈ نہیں دینا چاہیئے جیسا کہ بعض اوقات محلے دار دوست ہمسائے وغیرہ پاسورڈ لے لیتے ہیں اس کے بعد باہر گلی وغیرہ میں کھڑے ہو کر نیٹ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں

    جبکہ آپ کو نہیں پتہ ہوتا کہ کون استعمال کر رہا ہے اور اس پر کیا سرگرمی کر رہا ہے اور وہ کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہے اگر اس میں غیر قانونی سرگرمیں ہوں گی تو ذمہ داری آپ پر ہی آئے گی آپکے وائی فائی کے غلط استعمال سے آپ پر کیس بھی ہو سکتا ہے

    سائبر کرائم ونگ فیڈرل انویسٹی گیشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ یہ بہت زیادہ ضروری ہے کہ آپ کچھ نہیں کر رہے لیکن اس کے باوجود آپ غیر ضروری سرگرمی میں شامل ہو جاتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ آپ اپنے وائے فائے کا پاسورڈ محفوظ کرکے رکھیں

    جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

  • یہ وقت انسانیت کی خدمت کرنے کا ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب نسل یا فرقہ سے ہو ، ہمایوں سعید

    یہ وقت انسانیت کی خدمت کرنے کا ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب نسل یا فرقہ سے ہو ، ہمایوں سعید

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکارہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ یہ وقت انسانیت کی خدمت کرنے کا وقت ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا فرقہ سے ہو

    باغی ٹی وی :پاکستان شوبزانڈسٹری کے معروف اداکارہمایوں سعید نے ثمینہ پیرزادہ کو ویڈیو لنک کے ذریعےانٹرویودیتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا سے پوری دنیا متاثر ہے ہمیں یومیہ اجرت والوں کے لئے پریشانی اور فکر ہوتی ہے ،انہوں نے کہا لوگ اچھے بُرے ہر جگہ ہوتے ہیں یہ وقت ایسا ہے جب ہم انسانوں کی مدد کریں خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا فرقہ سے ہو، یہ وقت بھوکے کو کھانا کھلانے کا ہے، یہ وقت انسانیت کا ہے بجائے یہ سوچنے کہ ہمیں اس کی نہیں بلکہ اُس کی مدد کریں

    اداکارنے کہا کہ وہ ہرفلاحی تنظیم کے ساتھ کام کرتے ہیں جہاں انہیں لگ رہا ہوں کہ پیسا اس فلاحی تنظیم کے زریعے صحیح جگہ جارہا ہو وہ بغیرکچھ جانے اس تنظیم کے ساتھ کام کرنے لگ جاتے ہیں چاہے وہ فلاحی تنظیم چھوٹی ہو یا بڑی

    ہمایوں سعید نے کہا میں اس وقت میں پہلے اپنے رشتہ داروں کا خیال کیا کیونکہ سب سے پہلے ان کا حق ہے پہلے ان کی مدد کریں پھر باہر نکلیں باہر پوچھیں

    ڈراموں سے متعلق ہمایوں سعید نے کہا کہ وہ اس وقت 10 سے 12 قسطوں پرمحیط مختلف کہانی کا ڈرامہ بنانے کا سوچ رہے ہیں چاہے وہ ہٹ ہو یا نہ ہو ٹیلی ویژن پر چلے یا نہ چلے وہ ڈرامہ تھرلر بھی ہوسکتا ہے رومانٹک بھی ہو سکتا ہے قرنطینہ کے دوران عدنان صدیقی آپ کے بہترین ساتھی ہیں ان کا کہنا تھا کہ عدنان صدیقی کے ساتھ ان کی پہلے سے اچھی دوستی ہے اور ہم نے اپنے ماضی کے قصے ایک دوسرے کو سنائے وہ بہت مزیدار آدمی ہیں ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھا ٹائم گزارتے ہیں

    ہمایوں سعید نے اپنی فلم لندن نہیں جاؤں گا بارے میں بتایا کہ وہ پنجاب نہیں جاؤں کا سیکوئل نہیں ہے بلکہ اس سے قدرے مختلف ہے اس کے کریکٹز وغیرہ سب مختلف ہیں

  • بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے:  الطاف حسین وانی

    بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی

    Press Release
    Sunday, April 12, 2020.

    بھارت کی قابض فوج نے کشمیر کو قتل و غارت گری کا میدان بنا دیا ہے: الطاف حسین وانی
    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا

    اسلام آباد: معروف حریت رہنما اور سینئر وائس چیئرمین جموں کشمیر نیشنل فرنٹ (جے کے این ایف) الطاف حسین وانی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی پامالیوں اور انکے بہیمانہ قتل عام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا فی الفور نوٹس لے۔

    اتوار کے روز یہاں جاری ایک بیان میں، جے کے این ایف رہنما نے کہا، ”وادی طول و عرض میں تعینات ہندوستانی قابض فورسز نے مقبوضہ خطے کو ایک قتل و غارت گری کے میدان میں تبدل کر دیا ہے جہاں صبح و شام بے گناہ شہریوں کوبے رحمی سے شہید کیا جاتا ہے۔
    ”.
    ہندوستانی ریاستی دہشت گردی کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے الطاف حسین وانی نے کہا، ”کشمیری نوجوانوں کا قتل قابض فوج کے لئے ایک نیا معمول بن گیا ہے جو متنازعہ علاقے میں نافذ مختلف کالے قوانین کے تحت استثنیٰ سے لطف اندوزہورہے ہیں۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ کالے قوانین کے تحت فوجی جوانوں کو قانونی چارہ جوئی سے چھٹکار ادر حقیقت جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں حقوق کی پامالی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    مسٹر وانی نے بھارتی قابض افواج کے ذریعہ تشدد اور عوامی املاک میں توڑ پھوڑ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”کشمیری عوام جنہوں نے سات ماہ سے طویل عرصے سے فوجی محاصرے اور معلومات کی ناکہ بندی برداشت کی ہے، اب انہیں بھارت کی طرف سے اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔” ایک ایسے وقت میں جب مہذب دنیا COVID-19 کے خلاف جنگ میں مصروف ہے،دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت (بھارت) کشمیریوں کو محکوم بنانے کی بے دریغ سازش کر رہی ہے جس نے ہندوستان کے سامراجی ایجنڈے کو مسترد کردیا ہے اور اس کی مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم اسکیم کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اتنہائی افسوسناک بات ہے کہ کورونا وائرس قابض حکام کے لئے کشمیریوں پر ظلم و ستم ڈالنے کے لئے ایک نیا آلہ گیا ہے۔

    وانی نے ایک نیوز رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی فوج وادی میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کو ان کے فون ریکارڈز، اے ٹی ایم ہسٹری اور دیگر معلومات کا استعمال کرکے پریشان کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سخت نگرانی کا عمل قابض حکام کے ذریعہ کرونا وبائی امراض کے تحت کیا جارہا ہے اس حقیقت کے باوجود کوئی قانون انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ کشمیریوں کی پریشانی جو وبائی امراض اور ایک عسکری ریاست کے مابین پھنس چکے ہیں، خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد جب ہندوستان نے آئینی دہشت گردی کا سہارا لے کر اس خطے کو اپنی خودمختار حیثیت سے الگ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور کبھی نہ ختم ہونے والی گھریلو تلاشی، فوجی کریک ڈاؤن اور بھارتی فوج کی رات کے چھاپوں نے کشمیریوں کی زندگی کو زندہ جہنم بنا دیا ہے۔

    مقبوضہ علاقے میں بگھڑتی ہوئی صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے جے کے این ایف رہنما نے کہا کہ بھارت نے کنٹرول لائن (ایل او سی) پر جان بوجھ کر تناؤ بڑھایا ہے۔ وانی نے بھارتی جارحانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ”مہلک وبا سے لڑنے کے لئے مہذب دنیا کیجانب سے کی جانی والی کوششوں میں شامل ہونے کے بجائے،بھارت نے کنٹرول لائن پر بے گناہ شہریوں کوقتل کرنے کے اپنے مذموم منصوبے پر عملدرآمد کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ ”۔ جے کے این ایف کے رہنما نے شہری آبادی کے خلاف بھارتی جارحیت کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

    وانی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں کشمیریوں کی حالت زار کو اجاگر کرنے پر بھی پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کو صورتحال کا موثر نوٹس لینا چاہئے اور اس تنازعہ کو پرامن طریقے سے حل کرنے میں مدد کرنا چاہئے۔

    مسٹر وانی نے کشمیری سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے بھی اظہار تشکر کیا جس نے ان قیدیوں کی رہائی کے لئے آواز اٹھائی ہے۔

    For more information, please contact Altaf Wani (+41 77 9876048 / saleeemwani@hotmail.com)

  • اپنے کردار کا جائزہ لیں… کہ ہم کس راہ پر ہیں…؟  از قلم: مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں… کہ ہم کس راہ پر ہیں…؟ از قلم: مشی حیات

    اپنے کردار کا جائزہ لیں…
    کہ ہم کس راہ پر ہیں…؟

    از قلم:
    مشی حیات
    ہماری روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان خود کو اعلی و برتر سمجھتا ہے اور دوسرے کو اپنے سے کمتر۔۔۔۔۔!
    مگر آج جو نفسا نفسی کا وقت اس عالم پر آ ٹھہرا ہے ہمیں اب یہ جاننا ہے کہ ہم اعلی ہیں یا جسے ہم کمتر سمجھ رہے ہیں وہ۔۔۔۔۔!
    قرآن وہ سچی کتاب ہے جس میں ہر انسان کے کردار اور عملی زندگی کے بارے پیشگوئی ہوئی ہے مگر بات یہ ہے کہ ہم نے سمجھا نہیں۔۔۔!
    ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں تو اللہ سے شیطان مردود سے پناہ چاہتے ہیں صرف اس لیے کہ وہ مجھے دنیاوی چیزوں میں نہ بٹھکائے تاکہ ہم اس کتاب کو سمجھ سکیں۔۔۔!
    پھر تسمیہ پڑھتے ہیں کہ الرحمن الرحیم مہربان ذات اور بار بار رحم کرنے والی کے نام سے۔۔!
    قرآن کی ابتدائی آیات میں ہم اللہ کے شکر گزار ہوتے ہیں تمام تعریفیں اسکی کرتے ہیں اسی کو مالک ماننے کا اقرار کرتے ہیں۔اسی کے بندے ہونے کا اقرار اور اسی سے مدد چاہتے ہیں
    مگر اہم بات یہ ہے
    اھدنا الصراط المسقیم
    بہت سی چیزیں مانگنے کی ہیں لیکن سب سے پہلے مانگنے کی ضرورت بہترین راستہ ہے
    وہ راستہ صرف اسلام ہے۔۔!
    ہم میں سے ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے ہمیں بہتر ہمسفر ملے جو ہمارا کبھی ساتھ نہ چھوڑے زندگی کے کسی مشکل سفر میں بھی مگر ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ بہترین ہمسفر بہترین رستہ ہم چھوڑ چکے ہیں وہ رستہ وہ ہمسفر اسلام ہے
    اور اسلام کا پتہ ہمیں صرف اللہ کی مقدس کتاب قرآن پاک سے مل سکتا ہے۔۔۔!
    دوسری بات ہم خود کو اعلی و برتر سمجھتے ہیں اللہ نے ہر انسان میں کوئی نہ کوئی ہنر رکھا ہوتا ہے مگر اس کو وہی جانچ سکتا ہے جو متقی ہو گا اسلام کو سمجھنے والا ہو گا۔۔۔!
    اب غور کرنا ہے ہم متقی ہیں یا ہم میں بھی نفاق کی قسمیں پائی جاتی ہیں؟
    ۔۔۔۔
    منافقین کی دو اقسام میں سے دو یہ ہیں
    (1)۔ اعتقادی منافق
    پکے اعتقادی منافق وہ تھے جن کے میں دل کفر تھا
    جیسے۔۔۔۔
    مثلھم کمثل الذی استو قد نارا
    اس کی تفسیر عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھما)نے کچھ ہو بیان فرمایا کہتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم )مدینہ تشریف لائے کچھ لوگ مسلمان ہو گئے لیکن جلد منافق ہو گئے ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اسلام سے پہلے مدینہ میں کفر کا اندھیرا تھا اس میں روشنی جلائی (کونسی روشنی؟اسلام کی )جس سے سارا ماحول روشن ہو گیا مفید اور نقصان دہ چیزیں ان پر ثابت ہو گئی اسلام کی روشنی میں نیک و بد اور حق و باطل کا پتہ چلنے لگا پھر روشنی بجھ گئی (کن کی جو مسلمان ہوئے تھے) وہ روشنی باہر کی نہیں ان کے اندر کی تھی اسلام اپنی جگہ موجود تھا مگر انکا اپنا دل بدل گیا۔۔۔!

    اب ہم دیکھیں گے دل کے بدلنے کی وجوہات کیا ہیں؟

    انکا اپنا دل فکر میں پڑ گیا کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ذھب اللہ بنورھم
    اللہ ان کا نور لے گیا
    یہ حدیث عبداللہ بن مسعود اور بعض دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کی ہے۔۔۔۔!
    پہلی مثال کس کی ہے؟
    پکے اعتقادی منافق ان کا حال یہ تھا وہ اسلام سے پہلے کفر کے اندھیرے میں تھے
    فلما اضاءت ماحول
    پھر جب ماحول روشن ہوا (اسلام سے) تو۔۔۔۔
    ذھب اللہ بنورھم
    اللہ نور لے گیا انکا اور انہیں
    وترکھم فی ظلمت
    اندھیروں میں چھوڑ دیا
    اور لا یبصرون نہیں وہ دیکھتے
    کس کو؟نبی کریم کو
    اس لیے اللہ تعالی نے فرمایا
    صم بکم عمی…
    انکا حال یہ ہے بہرے بھی ہیں گونگے بھی اور اندھے بھی ہیں۔۔۔۔۔!
    ایک بات ذہن میں رکھیں اعتقادی منافق یہود میں سے تھے
    رسول اللہ جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں یہود تھے انصار تھے اور مہاجر مسلمان۔۔!
    یہ تھے اعتقادی منافق پکے منافق جو اسلام کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھے

    (2 )۔ عملی منافق ۔۔۔۔
    جن کے دل میں ایسا کفر تو نہیں تھا مگر ڈانواں ڈول تھے جیسے
    اس کصیب من السماء
    آسمان سے زوردار بارش ہوئی
    یہ بارش اسلام کی بارش جس میں
    ظلمت و رعدو برق
    اندھیرے تھے گرج تھی بجلی تھی مشکلات تھی اب یہ کیا کرتے جب اسلام کی دعوت دی جاتی تو
    یجعلون اصابعھم فی اذانہم
    اپنے کاموں میں انگلیاں ڈال لیتے
    عملی منافق تھے جب اسلام کو فائدہ ہوتا ساتھ چل دیتے جیسے فتح مکہ ،بدر اور جب مشکل وقت آتا کھڑے ہو جاتے یعنی خندق اور تبوک کےمیدان
    جہاد کے لیے نہیں آتے تھے
    اس لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں
    ولو شآءاللہ
    اور اگر اللہ چاہتا ان کی سماعت اور بصارت کے جاتا مگر نہیں لے کر گیا کیونکہ ان کے اسلام کی طرف آنے سے چانسزتھے یہ واپس آ سکتے تھے اس لیے اللہ نے انہیں مہلت دی تھی۔۔۔۔۔۔!

    اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں اس جیسی کوئی برائی تو نہیں کیا ہم اعتقادی یا عملی منافق تو نہیں کہیں ہم بھی تو نہیں ایسے کرتے کہ جہاں قرآن کی دعوت مل رہی ہو جہاں اسلام دیا جارہا ہو اور ہم خاموش ہو جائے سنی ان سنی کر دیں۔۔۔،!
    یاد رکھیں دین کے رستے میں مشکلات ہیں پریشانیاں ہیں مگر اس کا اجرِ عظیم بھی ہے اللہ فرماتے ہیں جو متقی بن گیا وہ گھبراتانہیں اور جو متقی بن گیا اسلام کے رستے چلتے رہے
    ھم المفلحون وہ کامیاب ہوگئے
    اگر مشکلات آئی ہیں تو کامیابی بھی ملے گی لیکن ثابت قدم رہنا ہوگا
    جائزہ لینا ہو گا ہمیں کہ کوئی ایسی بات ہم میں تو نہیں کہ اللہ ہمیں بھی کہہ دیں کہ
    و مایشعرون

    لا یشعرون
    اور
    وما کانو مھتدین
    اور نہیں یہ ہدایت پاسکتے۔۔۔۔؟!
    ابھی وقت ہے مگر وقت بہت تھوڑا لوٹ آئیے واپس اللہ کے در پر کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔۔؟

  • لاک ڈاؤن  از قلم، عشاء نعیم

    لاک ڈاؤن از قلم، عشاء نعیم

    لاک ڈاؤن از قلم عشاء نعیم

    ہائے! وہ کشمیر میں قید تھے
    جنھیں لوگ سبھی تھے بھول گئے
    وہ رات دن تھے پکارتے
    ہم اپنی تجارت تاڑتے
    وہ لاشیں اٹھاتے جاتے تھے
    ہم آگے بڑھتے جاتے تھے
    ڈر تھا ذرا پل جو ٹھہرے
    شاید چھا جائیں اندھیرے
    خون دیکھا ، سی لیں زبانیں
    تم نے چمکانی تھیں دکانیں
    آواز ضمیر کی یوں دبا لی
    کوئی کر ڈالی ایک آدھ ریلی
    ضمیر کی ہر مار جھیلی
    ذرا نکلی جو سسکاری دبا لی

    پھر آہوں نے رستہ پایا
    خدا کو جا کر دکھڑا سنایا
    عرش بھی کانپ گیا ہوگا
    ہر فرشتہ رو دیا ہوگا
    پھر رب کی رحمت روٹھ گئی
    پھر قہر کی یوں بارش ہوئی
    پھر تجارت ساری بھول گئی
    پھر قید ہی سب کو قبول ہوئی
    اور تجارت کو یوں لاک لگا
    تجارت کا نام ہی خوف بنا
    کہتے تھے جنگ کے متحمل نہیں
    بن تجارت کے کچھ بھی نہیں
    اب ساری دنیا کو جاں کی پڑی
    یاد آئے برما، کشمیر و فلسطیں؟
    اب جاں ہی سب کو پیاری ہے
    یہ مال و دولت کچھ بھی نہیں

  • ریکھا بھردواج کا پاکستانی مداحوں کے لئے لائیو پرفارم کرنے کا اعلان

    ریکھا بھردواج کا پاکستانی مداحوں کے لئے لائیو پرفارم کرنے کا اعلان

    بھارتی معروف گلوکارہ ریکھا بھردواج اپنے بھارتی اور پاکستانی مداحوں کے لیے آج آن لائن لائیو پرفارم کریں گی

    باغی ٹی وی : بھارتی معروف گلوکارہ ریکھا بھردواج اپنے بھارتی اور پاکستانی مداحوں کے لیے آج آن لائن لائیو پرفارم کریں گی سلمان صوفی فاؤنڈیشن کی جانب سے لیٹس ٹاک نامی ایک مہم کا آغاز کیا گیا ہے

    لیٹس ٹاک کے ذریعے مداحوں کو موقع ملے گا کہ وہ اپنے پسندیدہ فنکاروں کو لائیو پرفارم کرتے دیکھ سکیں گے اس کے علاوہ وہ ان سے باتیں بھی کریں گے

    اس پروگرام کے لانچ کے بعد بھارتی گلوکارہ ریکھا بھردواج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کے ذریعے بتایا کہ وہ بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود اپنے مداحوں کے لیے بھی لائیو پرفارم کریں گے


    اپنی ٹوئٹ میں ریکھا بھر دواج نے بھارت اور پاکستان میں موجود مداحوں کو اپنی پرفارمنس کا وقت بھی بتاتے ہوئے کہا کہ میں آج 11 اپریل کی رات سلمان صوفی فاؤنڈیشن کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لائیو پرفارم کرنے جارہی ہوں ا نہوں نے لکھا کہ میں لاک ڈاؤن کے دوران ذہنی صحت کے مسائل سے لڑنے والوں کے لئے گاؤں گی

    یاد رہے ریکھا بھردواج نے 2015 میں پاکستانی فلم بن روئے کے لیے بھی ایک گانا چن چریا گایا تھا جو کافی مقبول ہوا

  • سائرہ پیٹر کا لعل شہباز قلندر کے عرس کے موقع پر دھمال ریلیز کرنے کا اعلان

    سائرہ پیٹر کا لعل شہباز قلندر کے عرس کے موقع پر دھمال ریلیز کرنے کا اعلان

    لاہور: پاکستان کی پہلی اوپیرا صوفی سنگر سائرہ پیٹرکا کہنا ہے کہ قلندری دھمال کا جادو صدیوں سر چڑھ کر بول رہا ہے صوفیانہ کلام میں وجد کی کیفیت ہوتی ہے جو سننے والوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ہے

    انہوں نے کہا کہ 12 اپریل کو حضرت لعل شہباز قلندر کا عرس مبارک شروع ہوگا لیکن ملک کے موجودہ حالات(کورونا وائرس) کی وجہ سے اس بار شاید دھمال نہ ہوسکے اس لیے میں نے سوشل میڈیا پر اپنی آواز میں دھمال ریلیز کر رہی ہوں اس دھما ل میں انٹرنیشنل فنکاروں نے بھی حصہ لیا ہے

    سائرہ پیٹر نے کہا ا مید ہے کہ دمادم مست قلندر کی ویڈیو موجودہ حالات میں پسند آئے گی

    سائرہ پیٹر نے مزید کہا کہ صوفیانہ کلام گا کر مجھے روحانی سکون ملتا ہے میری زندگی کا مقصد صوفیانہ کلام اور موسیقی کو عالمی سطح پر فروغ دینا ہے