معروف اداکارہ زارا نور عباس نے نامور اداکارہ سجل کے ساتھ بنائی گئیں ویڈیوز و تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں
باغی ٹی وی :معروف اداکارہ زارا نور عباس نے نامور اداکارہ سجل کے ساتھ بنائی گئیں ویڈیوز و تصاویر سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹا گرام ہر پر شیئر کیں اور ایک طویل کیپشن بھی لکھا زارا نور نےلکھا کہ ان کی اور سجل کی دوستی ایک دہائی کے طویل عرصے پر مشتمل ہے اور اس ایک دہائی کے عرصے میں انہوں نے خوشی و غم اورر افسردگی کے لمحات ایک ساتھ گزارے اور چھوٹی سے چھوٹی بات ایک دوسرے سے شئیر کی اور اب تم ایک نئی زندگی شروع کرنے جا رہی ہو
https://www.instagram.com/p/B9jYbmXBqUw/?igshid=7pqv3w7knxrj
اداکارہ زارا نے لکھا کہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ نوجوان و معصوم سی لڑکی ایک عمدہ خاتون میں تبدیل ہو کر اپنی زندگی کے بہترین فیصلے کرنے کے قابل ہوجائے گی اور یہ سب اتنی جلدی ہوگا
انہوں نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ میرے لئے تمہیں کسی کے ساتھ شیئر کرنا بہت مشکل ہے اپنے شوہر کو بتادینا کہ تم ہمیشہ میری بھی رہو گی انہوں نے اداکا رہ کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا
زارا نے نے شاہ رخ خان اور کاجول کی معروف بالی وڈ فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گے کا مشہور ڈائیلاگ لکھتے ہوئے کہ مگر آخری بار اس بہترین دوستی کی کچھ یادیں تازہ کرنی ہیں ساتھ ہی انہوں نے لکھا بہت جلد ملیں گے
واضح رہے کہ شوبز انڈسٹری کی معروف جوڑی احد اور سجل کی شادی جلد ہونے والی ہے شادی کے دعوت ناموں کی تقسیم بھی شروع کردی گئی ہے لیکن شادی کی تاریخ کو ابھی منظر عام پر نہیں لایا گیا گذشتہ روز قبل سجل کی خالہ اور احد کی والدہ کی طرف سے اجل احد کی ڈھولکی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تھیں
گذشتہ روز پی ایس ایل کا میچ لاہور قلندرز اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا گیا قلندر کی جیت کے بعد اداکار فہد مصطفی نے کہا کہ لاہور اب نہیں رکتا
باغی ٹی وی:پی ایس ایل میچ کے سیزن فائیو میں جہاں شائقین میچ کا جوش و خروش قابل دید ہے وہاں شوبز ستارے بھی سنسنی خیز میچز سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور ان کی دلچسپی پی ایس ایل میچز میں بڑھتی جا رہی ہے
اداکار فہد مصطفی نے بھی سما جی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لاہور قلندر اور پشاور کے میچ کے بعد ٹویٹ کی اور لکھا کہ لاہورنہیں رکتا اب انہوں نے اس میچ کو دلچسپ اور بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیا میچ تھا
واضح رہے کہ گذشتہ روز پی ایس ایل کے 24 ویں میچ میں لاہور قلندر اور پشاوی زلمی مد مقابل تھے سنسنی خیز میچ میں لاہور قلندرز نے پشاور زلمی کو 5 وکٹوں سے ہرایا تھا
معروف اداکار ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ میرے پاس تم ہو ڈرامئے میں عورت کی تضحیک نہیں کی گئی تی بلکہ اس ڈرامے میں ایک سبق تھا
باغی ٹی وی : ہمایوں سعید نجی ٹی وی چینل میں۔وسیم بادامی کے شو ہر لمحہ ہر جوش میں جلوہ گر ہوئے جہاں انہوں بلاک بسٹر ڈرامے میرے پاس تم ہو کے حوالے سے گفتگو کی
اداکار نے کہا کہ اس ڈرامے کی آخری قسط ٹی وی ناظرین سینما اور یو ٹیوب سمیت 12 سے 13 کروڑ لوگوں نے دیکا اداکار نے کہا لوگ مجھے فون کر کر کے ڈرامے کے آخر کے بارے میں پوچھ رہے تو میں اینڈ تو نہیں بتا سکتا تھا پھر میں نے مذاق میں کہا ہم نے ڈرامے کی تین اینڈنگ شوٹ کی ہیں اور ٹائم پر فیصلہ کریں گے کونسی چلانی ہے جس کے بعد مجھے اس بات کے لیے فون آنا بند ہو گئے تھے
ہمایوں سعید نے انکشاف کیا کہ خلیل الرحمن قمر نے بیس قسطوں کے بعد بتایا کہ وہ دانش کو نہیں مار رہے اس کے علاوہ ان کے ذہن میں دو تین اور آئیڈیاز چل رہے تھے جن میں انہوں نے کہا کہ دانش دونو۔ کو چھوڑ کر چلا جائے گا لیکن میں اور ندیم بھائی نے کہا نہیں ایسے تو اینڈ ٹھنڈا پڑ جائے گا دانش کو مارنا چاہیے
ڈرامے میں عورت کی تضحیک اور ڈائیلاگ دوٹکے کی عورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ اس میں عورت کی تضحیک بالکل نہیں تاہم دو ٹکے کی جو لائن تھی اس کی اہمیت اُس سچویشن کی وجہ سے تھی دو ٹکے کی عورت ڈائیلاگ کوئی بڑی بات نہیں ہے سو ڈرامے ایسے ہیں جس میں دو ٹکے کا شوہر دو ٹکے کی عورت ساس بہو عورتوں کے لڑائی میں دو ٹکے کی بہو بولا جاتا ہے یہ ایک عام بولا جانے والا لفظ ہے لیکن یہاں یہ بات اس لیے لگا کہ سچویشن ایسی تھی جسکو کعنک دانش کو 12 قسطوں تک لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ کچھ بولتا کیوں نہیں یہ کچھ کرتا کیوں نہیں اس کے ساتھ اتنا کچھ ہوا لہکن یہ چپ ہے
ہمایوں سعید نے مزید کہا کہ اگر آپ دیکھیں تو اس میں یہ سبق تھا کہ آپکی بیوی یا کوئی آپکا چاہنے والا جس کو آپ بہت پسند کرتے ہیں آپ کے ساتھ کچھ غلط کرتا ہے تو آپ نے اس کو مارنا نہیں ہاتھ نہیں اٹھانا تو اس میں ایک سبق دکھایا ہے بندے کو
ہمایوں سعید نے کہا بہت سے لوگوں نے مجھے فون کیا بتایا کہ میرہ بیوی نے مجھے اس ڈرامے پر لگایا تو وہ بیوی کیوں چاہتی تھی کہ شوہر وہ ڈرامہ دیکھے یہ سوال میں نے ان سے پوچھا بھی تو انہوں نے کہا وہ اس لیے چاہتیں تھیں کہ وہ دیکھیں ایسے ہوتے ہیں صبر والے شوہر تو اس میں ایک سبق تھا
میزبان نے پوچھا میرے پاس تم ہو کہانی سچی تھی؟
ہمایوں سعید نے کہا کہ یہ ڈرامہ سچی کہانی پر مبنی تھی انہوں نے کہا تین چار قسطوں تک کوئی نہیں مانا لیکن جیسے جیسے ڈرامہ۔اختتام۔تک پہنچا کافی لوگ بولے کہ میرے چچا میرے ماموں۔یا میرے فلاں جاننے والے کے ساتھ ایسا ہوا تھا تو سو لوگ نکل آئےتھے
شہوار یعنی عدنان صدیقی کو تھپڑ مارنے والے سین کے بارے میں اداکار نے بتایا کہ میں نے انہیں تھپڑ نہیں مارا تھا ایک طریقہ تھا جو صرف دکھا گیا تھا تھپڑ نہیں مارا تھا
ہمایوں سعید ڈرامے میں اپنے سب سے زیادہ پسندیدہ سین اور ڈائیلاگ کے بارے میں بھی بات کی انہوں نے بتایا کہ ان کا ڈرامے میں سب سح زیادہ پسندیدہ سین ایک آفس کا سین تھا جس میں عدنان صدیقی مجھے میری وائف کی تصویریں دکھاتے ہیں وہ فیورٹ اس لیے تھا کیونکہ اس میں ڈائیلاگ اچھے تھے اور چیلنجنگ سین تھا اداکار نے کہا ڈائیلاگز میں مجھے”یہ عورت بھی عجیب چیز ہے شہباز صاحب نظر بھر کر دیکھے تو خدا کر دیتی ہے نظر پھیرے تو خدا سے جدا کر دیتی ہے یہ لائن مجھے پسند تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا ویسے تو بہت سی لائینیں تھیں جو بہت اچھی تھیں
واضح رہے ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو پاکستان کہ تاریخ کا بلاک بسٹر ڈرامہ تھا جس کہ آخری قسط سینما میں دکھائی گئی اس میں ہمایوں سعید عائزہ خان عدنان صدیقی اور حرا مانی نے مرکزی کردار ادا کیے یہ ڈرامہ اپنے ڈائیلاگز کے حوالے سے کافی متنازع بھی رہا
تحریک خلافت پر مبنی نئی پاکستانی فلم گواہ رہنا کا آفیشل پوسٹر سامنے آگیا
باغی ٹی وی:تحریک خلافت پر مبنی نئی پاکستانی فلم ’گواہ رہنا‘ کا آفیشل پوسٹر سامنے آگیا فلم کی کہانی تحریک خلافت پر مبنی ہے یہ فلم خلافت موومنٹ کے گمنام ہیروز اور مصطفی کمال اتاترک اور بہادر ترک عوام سے اپنی محبت کے اظہار میں بنائی گئی ہے یہ فلم تقریباً 100 سال قبل برصغیر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل اور تحریک خلافت کی جدوجہد کی داستان پر مبنی ہے اس کے پوسٹر سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر شئیر کئے گئے
https://www.instagram.com/p/B9kndrFljjs/?igshid=1c730b1tfabpb
گواہ رہنا کی کہانی طاہر محمود نےتحریر کی اور ڈائریکشن بھی طاہر محمود نے ہی دی ہیں
ڈائریکٹر طاہر محمود کے مطابق اس فلم کو ترکی زبان میں ڈب کیا جائے گا اس فلم کو دیکھ کر یقیناً عوام کو اپنے تاریخی ہیروز پر فخر ہو گا
گواہ رہنا میں اداکارہ غناء علی اور عماد عرفانی مرکزی کرداد ادا کرتے دکھائے دیں گے جبکہ فلم کی دیگر کاسٹ میں ترک اداکار میرٹ سسمنلر رابعہ کلثوم، فیصل امتیاز، ریحان ناظم اور قوی خان و دیگر شامل ہیں
فلم آئندہ ہفتوں میں ترکی اور پاکستان سینما گھروں میں نمائش کے لئے پش کی جائے گی
معروف مذہبی سکالر اور عالم دین مفتی عبدالقوی نے کہا ہے کہ عورت موذن ہو سکتی ہے
باغی ٹی وی: گذشتہ روز معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کے ساتھ انٹر ویو کے دوران مفتی عبدالقوی نے اسلام کے مختلف پہلوؤں پر بات کی اور اس دوران انکشاف کیا کہ عورت اذان دے سکتی ہے
مبشر لقمان نے حال میں کئے جانے والی مفتی عبدالقوی کے نکاح کے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے نکاح کی وجہ سے ٹک ٹاک سے رنگینیاں ختم ہو گئیں لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہے اور مفتی عبدالقوی نے جس سے نکاح کیا اس کر ٹک ٹاک سے روک دیا
اس پر مفتی عبدالقوی تو خود ایک رنگینی کا نام ہے میں خواتین کی آزادی کا حمایتی ہوں مخالف نہیں ہر وہ محترمہ جس سے میں نے نکاح کیا ان کو صرف میں نے ایک بات کہی ہے کہ اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے میرے معاملات کو مخفی رکھتے ہوئے آپ جو کچھ کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں مفتی قوی نے کہا کہ ہمارا آزاد ملک ہے اور آزادی بہت بڑی نعمت ہے میں تو کہتا ہوں 8 مارچ خواتین 9 مارچ مردوں اور 10 مارچ خواجہ سراوں کا ہونا چاہیے اور مفتی عبدالقوی تینوں کے اندر شرکت کرے گا انہوں نے کہا مجھے پتہ ہے جس طرح مرد حضرات میرے ساتھ محبت کرتے ہیں خواتین محبت کرتی ہیں اسی طرح خواجہ سرا بھی محبت کرتے ہیں
مفتی عبدالقوی کے مطابق اگر کوئی میرا مختصر تعارف پوچھےتو یہ ہو سکتا ہے کہ مفتی عبدالقوی وہ ہے جو سیلفی کے بھی بانی ہیں اور خواجہ سراوں کو سٹیٹس اور اہمیت دینے والے بھی مفتی عبدالقوی ہیں جب سے آپ نے دیکھا ہے کہ میرے ساتھ الماس بوبی تشریف لائی ہیں الماس بوبی صاحبہ اس وقت اپنی قریبی مسجد میں روزانہ صبح فجر کی اذان دیتی ہیں
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا فقہہ طور پر عورت کو اذان دینے کی اجازت ہے؟
مفتی عبدالقوی نے کہا کہ بالکل اجازت ہے انہوں نے کہا کہ فقہہ اور اسلام کے اندر دو صورتیں ہیں عورت اور مرد اسلام یہ چاہتا ہے کہ خواجہ سرا جو فطری طور پر پیدائشی طور پر خواجہ سرا ہیں
مبشر لقمان نے کہا کہامریکہ میں کچھ خواتین کی تصویریں آئی ہیں جو کہتی تھیں انھیں امامت کرنے ہےلیکن اس کی اجازت تو نہیں ہے چاہے عورتوں کو جتنے مرضی حقوق دے لیں امام توخاتون نہیں بن سکتی
اس پر مفتی صاحب نے کہا کہ بخاری شریف کے اندر ایک حدیث موجود ہے اور بی بی صاحبہ کا نام بھی موجود ہے کہ وہ امامت کرتیں تھیں انہوں نے کہا نمازکی ایک امامت ہے خواتین کی خواتین کے لیے ایک ایسی محترمہ امام بنیں جس کے اندر مرد اور عورتیں بھی ہوں لیکن اس میں محرم اور غیر محرم کی بات آ جاتی ہے اسلام نے پورا یہ نظام دیا ہے
انہوں نے کہا کہ محرم اور غیر محرم کا اس لیے ہمارے ہاں تسلسل کے اندر تو یہ چیز کہیں ثابت نہیں سیدہ عائشہ سیدہ فاطمہ اور بی بی رابعہ حسن بصری کسی نے بھی امامت نہیں کروائی آج تک 1500 سال کی اسلامی تاریل میں کہیں یہ ثابت نہیں کسی فقہہ میں یہ ثابت نہیں ہے لیکن اگر وہ یہ کہہ رہی ہیں کہ ام فروا کی روایت کو سامنے رکھ کر ایک محترمہ امام بن رہی ہے اور باقی خواتین مقتدی تو اس کو میں. فقہی طور پر غلط نہیں کہہ سکتا عورت امامت صرف عورتوں کی کروا سکتی ہے تاہم اگر مردوں کی امامت آجائے گی تو اس سے زیادہ اہم مسئلہ قرآن نے بتایا ہے کہ محرم اور غیر محرم کی تقسیم جب یہ بات آ جاتی ہے تو عورت امام ہو گی اور اس کے پیچھے مرد مقتدی تو شرعی طور پر یہ اسلام کے دئیے ہوئے نظام کے منافی ہے
معورف انکر مبشر لقمان نے کہا فرض کریں اگر گھر میں جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اور اگر کوئی خاتون امامت کرواتی ہے اور پیچھے گھر کے مرد ہیں تو کیا ایسے ہو سکتا؟
مبشر لقمان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتی صاحب نے کہا کہ جو عورت امامت کروا رہی ہے ان کے پیچھے گھر کی اور اہل محلہ کی عورتیں اور بچے پڑھ لیں لیکن مرد اس کے پیچھے نماز نییں پڑھ سکتا کیونکہ عقل کا تقاضا نھی یہی ہے کہ اسلام نے مرد کوامامت کے حوالے سے بالا دستی عطا اس لیے فرمائی ہے چونکہ مرد گھر کے تمام نظام سنبھالتا ہے رزق حلال بھی کماتا ہے
مبشر لقمان نے کہا لیکن اگر کسی گھر کے اندر عورت کما رہی ہو تو؟
مفتی عبدالقوی نے کہا یہ جائز ہے کوئی حرج نہیں لیکن اس کا امامت سے کوئی تعلق نہیں امامت کے لیے مرد ہونا چاہیے اس کے پہچھے خواتین بھی پڑھے
مبشر لقمان نے سوال کیا کہ کیا موذن عورت ہو سکتی ہے اسلام میں ہمیں اس کی کوئی روایت ملتی ہے؟
اس پر مفتی قوی نے کہا کہ عورت موذن ہو سکتی ہے جب موذن کی بات ہوتی ہے تو اس کے اندر کوئی پابندی تو نہیں کہ کوئہ عورت موذن نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کی دلیل کہ عورت کی آواز عورت نہیں ہے بی بی عائشہ حضور کی حدیث سناتیں تھیں تو بہت سارے تابعین حضرات سنتے تھے اسی طرح کتب احادیث میں موجود ہے کہ بہت ساری خواتین اپنے زمانے کی بہت بڑی استاد حدیث تھیں وہ حدیثیں بیان کرتیں تھیں اور مرد حضرات بھی سنتے تھےعورت کی آواز عورت نہیں ہے تو مانا جائے تو جب موذن ہونے کے حوالے سے وہ اذان دے گی تو میں شرعی طور پر اس کے ساتھ ہوں
مبشر لقمان نے سوال کہا کہ میں نے احادیث پڑھی ہیں کہ عورت کی آواز گھر سے باہر نہیں جانی چاہیے جس گھر میں ایسا ہو اس میں بے برکتی ہوتی ہے؟
مفتی صاحب نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کہا جاتا ہے جہاں کتا ہوگا وہاں فرشتے نہیں آتے جبکہ پانچ طرح کے کتوں کی اجازت تو اسلام نے بھی دی ہے نبی رحمت نے بھی اجازت دی ہے اور ہر فقہہ کے اندر بھی موجود ہے اگر یہ خیر کح حوالے سے ہے تو کوئی اس کے اندر عورت ہونے کی بات نہیں عورت کی آواز عورت نہیں ہے بہت سی خواتین جب دین اسلام کے لیے درس دیتی ہیں تو لواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی سنتے ہیں انہوں نے کہا مختصر بات یہ کہ کہنے والا کیا کہہ رہا ہے لیکن عورت پردے میں رہے اس کی آواز مرد بھی سنے اور عورت بھی
پاکستانی معروف اداکارہ و تمغہ امتیاز مہوش حیات نے اپنے بہترین دوست بلوونی کی موت پر اس کے لئے سوشل میڈیا پر جذبات سے بھرا پیغام لکھ دیا ادااکارہ نے لکھا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن میں تمہیں کھو دوں گی
باغی ٹی وی :گذشتہ روز معروف اداکارہ و تمغہ امتیاز مہوش حیات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے کتے بلوونی کے ہمراہ کچھ تصاویر شیئر کیں اور ایک جذبات بھرا لکھا ہوا نوٹ بھی شئیر کیا
مہوش حیات نے نوٹ میں لکھا کہ میرے پیارے بلوونی تمہیں اس دنیا سے رخصت ہوئے3 دن ہوگئے اور میرا دل و دماغ ابھی بھی اس پر یقین نہیں کرنا چاہتا کہ تم مجھے چھوڑ کر چلے گئے ہو تمہارے بغیر گزرے دن میری زندگی کے بدترین دن ہیں
انہوں نے لکھا کہ میں جب بھی افسردہ مایوس یا پھر پریشان ہوتی تھی تو تمہاری طرف دیکھ کر یہ محسوس کرتی تھی کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا تم نے تو مجھے دوسروں سے پیار کرنے کا طریقہ اور زندگی کے بارے میں بہت کچھ سکھایا ہے
ادکارہ نے نے لکھا کہ میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں تمہیں کھو دوں گی ہمیشہ یہ ہی سوچا تھا کہ میں جب بھی گھر آیا کروں گی تم دروازے پر موجود ہوگے اور مجھے اپنی خوبصورت براؤن آنکھوں سے دیکھ کر مجھ سے لپٹ جایا کرو گے
اُنہوں نے لکھا کہ تم میرے سب سے بہترین دوست ہو تم نے مجھے بہت پیار دیا ہے تم نے مجھے الوداع کہنے کے درد سے بچایا اور چلے گئے کاش تم ایک اور دن میرا انتظار کرلیتے تو میں آخری بار تمہیں گلے سے لگا لیتی
مہوش حیات نے کہا کہ کسی بھی چیزکا جو تم میری زندگی میں چھوڑ گئے ہو کوئی متبادل نہیں ہے
معروف اداکارہ بشری انصاری کا کہنا ہے کہ اگر عورت مارچ کے لئے وہ سلوگن لکھتیں تو یہ لکھتیں میری زندگی کا ہر فیصلہ میری مرضی
باغی ٹی وی : پاکستام شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ بشری انصاری وسیم بادامی کے شو ہر لمحہ پر جوش میں جلوہ گر ہوئیں جس میں انہں نے عورت مارچ کے علاوہ مختلف موزوں میں گفتگو کی
میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر اداکارہ نے بتایا کہ بد قسمتی سے وہ عورت مارچ میں شریک نہیں ہو سکیں کیونکہ وہ اپنی ایک انیمینشن فلم کی ڈبنگ میں صروف تھیں اور چونکہ وہ ملک سے باہر جا رہیں تو انہیں اپنی یہ کمٹمنٹ پوری کرنا تھی
اداکارہ نے مزید کہا کہ وہ خواتین کے عالمی دن کو ہیمن ڈے کہنا چاہیں گی اگر ایسا ہوا کیونکہ انسانوں کے حقوق کی بات ہو رہی ہے اور عورت بھی انسان ہے اور مرد بھی انسان ہے زیداتی کسی بھی انسان کے ساتھ ہو آواز اٹھانی چاہیئے اور عورتیں چونکہ عمومی طور پر کمزور سمجھی جاتیں ہیں چاہے کسی بھی طبقے کی ہو مشکلات ہر کسی کو ہوتی ہیں تو اسی لئے اس کو نمایاں کرنے کی زیادہ ضرورت ہے
انہوں نے کہا کہ اگر میں عورت مارچ کے لئے پوسٹر لکھتی تو میرا سلوگن یہ ہوتا میری زندگی کا ہر فیصلہ میری مرضی ، انہوں نے کہا اس میں سب کچھ آ جتا ہے میرے فیصلے میری شادی کے فیصلے میرے بچوں کے حوالے سے فیصلے میں نے کتنا پڑھنا ہے کہاں نوکری کرنی ہے
عورت مارچ میں بولے جانے والے نعروں کے بارے بات کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ زندگی کا جو بھی راستہ ہے جو بھی پروفیشن ہے ہر کام کے دو انداز ہوتے ہیں مقصد وہی ہے میرا جو سب کا ہے لیکن لفظوں کو ہیر پھیر کر کے بدل دیا جائے تھوڑے نرم انداز میں اچھے انداز میں کہہ لیں اُن کی توجہ تو یہی تھی جو میں کہہ رہی ہوں یعنہ میرا ہر فیصلہ میری مرضی
ادکارہ نے مزید کہا شاید ہمارا معاشرہ اتنی ڈائریکٹ بات کو ہضم نہیں کرتا انہوں نے عورت مارچ کے حوالے سے کہا ایک دو چیزیں مجھے بھی دیکھنے میں اچھی نہیں لگیں جیسے ،میں ایسے بیٹھوں گی، وہ بات چادروں اور عبائے کے حوالے سے ہو رہی تھی کہ عورتیں موٹر سائکل یا سائیکل پر بیٹھتے وقت اپنے کپڑوں کو سمیٹ کر بیٹھیں یہ بات اچھے اور مبہم لفظوں میں بھی کہ جا سکتی تھی
عمران خان کے بارے میں سوال کے جواب میں اداکارہ نے کہا کہ وہ عمران خان سے ٹوٹلی مایوس نہیں ہیں لیکن 200 فیصد کہہ سکتی ہیں وہ کرپٹ آدمی نہیں ہیں ان کی ٹیم کے بارے میں اداکارہ نے کہا کہ ان میں مختلف لوگ نئے جن میں سے پیشتر کو وہ نہیں جانتےتاہم کچھ پُرانے سیاستدان ہیں اُن کے تجربے کئے ہوئے ہیں ان سے انہیں کچھ خاص امید نہیں تھی اور نہ ہے بلجہ بہت سے دوسرے لوگ بھی نا امید ہوں گے
اداکارہ نے کہا اگر یہ سیاستدان پچھلی حکومتوں میں اچھا پرفارم نہیں کر سکے تو اب کیسے وی امید ہم ان سے رکھ سکتے ہیں نشری انصاری نے کہا کہ میں قسم کھا کے کہہ سکتی ہوں کہ عمران خان ایک ایماندار انسان ہیں لیکن سیاسی طور پر ان کے اندر آہستہ آہستہ میچیورٹی آنی چاہیئے
انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کی بات ہے عوام کے بہت برے حالات ہیں لوگ مایوس ہیں اور انتہائی پریشان ہیں
روحی بانو کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ ان کے سائکالوجیکل مسائل تھے پھر ان کا کوئی خاص خیال بھی نہیں رکھا گیا فیملی نے بھی ان کا خیال نہیں رکھا حکومتی سطح پر ان کا خیال رکھا جانا چاہیئے تھا لیکن نہیں رکھا گیا تاہم کچھ لوگوں نے ان کا خایل رکھا تھا ان کے ساتھیوں میں آپ حیران ہوں گے کہ اسماء عباس نے دس سال ان کو سنبھالا صرف اپنی انسانیت اور محبت کی وجہ سے لیکن بعد میں وہ کراچی شفٹ ہوگئی مصروف ہو گئی نہیں کر پائی
واضح رہے کہ بشری انصاری اڈاری دیوار شب جھوٹ بلقیس کور تم میرے پاس رہو آنگن ٹیڑھا کے علاوہ دیگر ڈراموں میں لازوال اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں ان کا ایک مشہور کردار بجلی تھا جو لوگوں میں بہت مقبول ہوا اور ناظرین نے بہت پسند کیا
معروف جرنلسٹ اور اینکر امیر عباس کا کہنا ہے کہ اچھا ہوا اس بے ہودہ عورت مارچ کی لاش سے بہت جلد ہی بدبو اور تعفن اٹھنا شروع ہو گیا ہے
باغی ٹی وی: معروف جرنلسٹ اور اینکر امیر عباس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر عورت مارچ کے حوالے سے ایک گھٹیا اور نازیبا نعرے پر مشتمل بینرز اور پوسٹ کی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اچھا ہوا اس بے ہودہ عورت مارچ کی لاش سے بہت جلد ہی بدبو اور تعفن اٹھنا شروع ہو گیا ہے
اچھا ہوا کہ اس بیہودہ عورت مارچ کی لاش سے بہت جلد ہی بدبو اور تعفن اٹھنا شروع ہو گیا ہے۔ میں دو روز پہلے تک اس مارچ کا حامی اور اسکے نعروں کا مخالف تھا لیکن اب میں اس غلیظ مقاصد والے مارچ کا بھی مخالف ہوں۔ اگر اس غلیظ مارچ کے سامنے بند نہ باندھا گیا تو یہ ہمارے سماج کو نگل جائیگا https://t.co/C33eTE5fun
انہوں نے لکھا کہ میں دو روز پہلے تک اس مارچ کا حامی اور اس کے نعروں کا مخالف تھا لیکن اب میں اس غلیظ مقاصد والے مارچ کا بھی مخالف ہوں اگر اس غلیظ مارچ کے سامنے بندھ نہ باندھا گیا تو یہ ہمارے سماج کو نگل جائے گا
واضح رہے کہ گذشتہ چند روز سے عورت مارچ اور اس میں بولے جانے والے نعروں سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہے اور ہر کسی نے اس مسئلے پر اپنی رائے کا اظہار کیا یہ مسئلہ تب زیادہ صورتحال اختیار کر گیا جب ایک نجی ٹی وی چینل کے شو میں خلیل الرحمن قمر اور ماروی سرمد کی بحث کے دوران خلیل قمر نے فحش اور بے ہودہ نعرے پر ماروی سرمد کو نازیبا الفاظ اور گالیاں سنا دیں جس پر متعدد معروف شخصیات نے خلیل الرحمن قمر کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ پاکستانی عوام نے خلیل الرحمن قمر کو سپورٹ کیا
واضح رہے کہ 8 مارچ کو پاکستان میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا اس سلسلے میں عورت مارچ کا انعقاد کیا گیا ملک بھر کے بڑے شہروں میں عورت مارچ اور حیا مارچ کی ریلیاں نکالیں گئیں جس میں زندگی کے تما م شعبہ جات کے علاوہ متعدد معورف شخصیات نے بھی شرکت کی
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار ہمایوں سعید تعلیم ر سے محروم لڑکیوں کی حمایت میں سامنے آ گئے اداکار نے والدین سے گذارش کی ہے کہ اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجیں انہیں اس حق سے محروم نہ کریں
باغی ٹی وی :معروف اداکارہمایوں سعید نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم لڑکیوں کے بارے میں کہا کہ پاکستان میں آج بھی 2 کروڑ 80 لاکھ بچے تعلیم کی نعمت سے محروم ہیں جب کہ تعلیم سے محروم ان بچوں میں 1 کروڑ 30 لاکھ یعنی اکثریت لڑکیوں کی ہے
https://www.instagram.com/p/B9dkXuSp2v8/?igshid=1qsfx8fgite3l
ہمایوں سعید نے کہا کہ حکومتی ادارے اور سیاسی نمائندگان پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی فراہمی کو یقینی بنا کر اور والدین اپنی بچیوں کو سکول بھیج کر پاکستان کی ہر بیٹی کا مستقبل محفوظ کر سکتے ہیں اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجیں انہیں اس حق سے محروم نہ کریں
اداکار نے کہا کہ کم سے کم بارہ جماعتیں ہماری بیٹیوں کا حق ہے اور انہیں یہ حق دلانا ہمارا فرض ہے اس لیے میں پھر کہوں گا کہ والدین اپنی بیٹیوں کو اسکول ضرور بھیجیں انہوں نے مداحوں سے کہا پی وائے سی اے کے اس پیغام کو ضرورآ گے شئیر کرنے کا بھی کہا
ہمایوں سعید نے اس ویڈیو کے کیپشن میں لکھا پاکستان میں اس وقت 13 ملین بچے تعلیم سے محروم ہیں جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے انہوں نے کہا ہم مل کر اس کو بدل سکتے ہیں انہوں نے لکھا کم سے کم 12 جماعتیں ہماری بیٹیوں کا حق ہے
انہوں نے ہیش ٹیگ کم سے کم بارہ جماعتیں بھی استعمال کیے
پاکستانی میک اپ آرٹسٹ شعیب خان نےپاکستان کی لیجنڈری ایکٹریس رانی روپ دھارکر ان کو خراج تحسین پیش کیا تصاویر اور ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شئیر کر دیں جو دیکھتےہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں
باغی ٹی وی : پاکستانی میک اپ آرٹسٹ شعیب خان نےپاکستان کی لیجنڈری ایکٹریس رانی روپ دھارکر ان کو خراج تحسین پیش کیا تصاویر اور ویڈیوز اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شئیر کر دیں جو دیکھتےہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں گذشتہ روز پاکستانی میک اپ آرٹسٹ شعیب خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی تصاویر شیئر کیں جس میں اُنہوں نےخود کو لیجنڈری ایکٹریس رانی کے روپ میں ڈھال لیا
https://www.instagram.com/p/B9hWaLmF4V-/?igshid=1czfe020vjjis
شعیب خان نے اپنی تصاویر کے کیپشن میں لکھا کہ یہ میری عاجزانہ کوشش پاکستان کی لیجنڈری اکیٹریس رانی جی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہیں وہ 8 دسمبر 1946 کو پیدا پوئیں تھیں ان کا نام ناصرہ سرفراز تھا
شعیب نے لکھا وہ اپنے مںحنی انداز اور آنکھوں کے اداؤں اور ڈانس کی مہارت میں مشہور تھیں انہوں نے اپنی لازوال اداکاری سے 32 سال مداحوں کو محفوظ کیا
انہوں نے کہا ان کا انداز اور ان کا لُک اپنانے سے پہلے میں نے ان کے انداز ٹیلنٹ اور کام پر بہت گہرائی سے مطالعہ کیا پھر ان کا گیٹ اپ لیا شعیب خان کے مطابق رانی اپنے آپ میں ایک اکیڈمی تھیں وہ اپنے پیشہ میں لازوال تھیں وہ اپنی اداکاری ڈانس خوبصورتی اور لباس میں غیر معمولی تھی یہی وجہ ہے کہ میں ان کا ہمیشہ سے بہت بڑا فین ہوں
انہوں نے کہا کہ میں نے ان کی تمام فلمیں دیکھیں ہیں اور ان کی ہر ادا ڈائیلاگ بولنے اور ڈانس کرنے کے انداز کو سمجھنے کی کوشش کی یہ میرا ان سدا بہار لیجنڈری ایکٹریس کے پیار اور احترام کے اظہار کا ایک طریقہ ہے
انہوں نے مداحوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا امید ہے کہ آپ میری اس پیار بھری کوشش کو سراہیں گے
شعیب خان کی ان تصاویر اور پوسٹ کو فنکاروں سمیت مداحوں نے بھر پور سراہا
معروف اداکارہ عائزہ خان نے بھر پور تعریف کا اظہار کرتے ہوئے ہارٹ ایموجی بنا ئی اور شعیب لکھا ان کے کمنٹس میں شعیب خان نے بھی ہارٹ ایموجی بنائیں
جبکہ نامور اداکارہ ماہرہ خان نے بھی تعریف کی جن کی کنمٹس میں شعیب خان نے لکھا کہ وہ مورا سیا پر بھی کام کرنا چاہتے ہیں
واضح رہے کہ اس سے پہلے شعیب خان دیپیکا پڈوکون کی فلم چھپاک کے مرکزی کردار کا روپ بھی دھار چکے ہیں جس میں انہوں نے بھارتی اداکارہ کی تعریف کی تھی اور لکھا تھا آپ سب جانتے ہیں میں دپیکا پڈوکون کا بہت بڑا مداح ہوں اور اداکارہ کی فلم ’چھپاک‘ کے بعد میرے دل میں اُن کی عزت مزید بڑھ گئی ہے دپیکاپڈوکون نے اپنی فلم ’چھپاک‘ کے ذریعے ہم لوگوں میں تیزاب سے مُتاثرہ لوگوں کے بارے میں آگاہی اور شعور پیدا کیا ہے اور جن لوگوں کی زندگی تیزاب کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے ان کو ہمت، حوصلہ اور عزم بخشا ہے