Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • گلے کی مختلف بیماریوں کے گھریلو علاج

    گلے کی مختلف بیماریوں کے گھریلو علاج

    گلے کی مختلف بیماریوں کے گھریلو علاج
    موسم میں تبدیلی اور سردی کے آنے سے گلا خراب ہونے کی بیماری ایک عام بیماری ہے جو گلے میں سوزش پیدا کرتی ہے اور گلے میں تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ اس بیماری میں فوراً ڈاکٹر کے پاس جانا اور اینٹی بائیوٹک ادویات لیکر کھانا ہماری قوت مدافعت کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے لہذا گلا خراب ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر کے پاسجانے سے پہلے چند آسان گھریلو ٹوٹکے استعمال کرنے سے ایک سے تین دن میں آپ کا گلا خودبخود ٹھیک ہوجائے گا

    غرارے کرنا
    گلے میں سوزش کا سب سے بہترین علاج گرم پانی سے غرارے کرنا ہے، گرم پانی میں تھوڑا سا نمک ڈالیں اور دن میں کئی دفعہ غرارے کریں، تکلیف زیادہ ہو تو پانی میں لہسن کا رس شامل کر کے غرارے کریں اس کے علاوہ پانی میں لیموں کا رس ڈال کر غرارے کریں اورآدھا گرام ہینگ کا پاوڈر پانی میں ڈال کر غرارہ کرنا بھی انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے۔

    نمبر 2 ہلدی اور گُڑ
    گلے میں سوزش اور تکلیف کی صورت میں ہلدی اور گُڑ کو مکس کر لیں اور یہ مکسچر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کھا کر اوپر سے گرم پانی پی لیں اس سے بہت جلد افاقہ ہو گا۔

    نمبر 3 پارسلے اور گُڑ
    پارسلے یعنی اجوائن خراسانی کو گُڑ کے ساتھ پانی میں اُبال کر قہوہ بنا لیں اور وقفے وقفے سے اس قہوے کو چُسکیاں لیکر پی لیں یہ بند گلے کو کھول دے گا۔

    کالی مرچ اور چینی:
    گلے میں سوزش ہو جائے تو 3 سے 4 کالی مرچیں لیکر اسے چینی یا گُڑ کے ساتھ چبا چبا کر کھالینے سے تکلیف میں کمی واقع ہوتی ہے اور گلے کی سوزش ختم ہوجاتی ہے

    کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی پینے کے نقصانات


    ہربل چائے:
    گلے میں سوزش ہونے کی صورت میں ہر دو گھنٹے کے بعد گرم پانی پینا انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے مگر اگر آپ کا گرم پانی پینے کا دل نہ کرے تو ہربل چائے کے ٹی بیگز جو بازار میں عام ملتے ہیں لے آئیں اور ہر دو گھنٹے بعد ہربل چائے پی لیں ہربل چائے گلے کی سوزش کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے

    دیسی گھی اور کالی مرچ:
    کالی مرچ جراثیم کا خاتمہ کرتی ہے اور گلے کی سوزش میں انتہائی مفید ہے ہر کھانے کے بعد 4 سے 5 دانے کالی مرچ کو پیس کر چائے کی چمچ دیسی گھی گرم کرکے اس میں مکس کریں اور اسے پی لیں یہ گلے کی درد میں فوری راحت کا باعث بنے گا اور بیٹھی ہُوئی آواز درست ہو جائے گی

    ہلدی ملا دودھ:
    رات کو سونے سے پہلے ہلدی پاوڈر کو گرم دودھ میں مکس کر کے پی لیں ہلدی ایک قُدرتی اینٹی بائیوٹیک ہے یہ آپ کے گلے کی سوزش کو دُور کر دے گی

    مُرغ یخنی:
    مُرغ یخنی گلے میں سوزش کا بہترین علاج ہے اور یہ فوری طور پر تکلیف میں راحت کا سبب بنتی ہے اور قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے لہذا گلا خراب ہونے کی صورت میں دن میں کم از کم تین دفعہ ایک گرم پیالہ مُرغ یخنی پینے سے گلے کو آرام ملتا ہے

    پانی:
    سردیوں میں ہمارا امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور قوت مدافعت کمزور ہونے کا ایک بڑا سبب پانی کی کمی ہے لہذا گلے میں سوزش کی صورت میں نیم گرم پانی وقفے وقفے سے پیتے رہیں تاکہ جسم ہائیڈریٹ رہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے جراثیموں کو غالب آنے کا موقع نہ ملے اگر علامات تین دن سے زیادہ برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں
    نمک ملے پانی سے غرارے کرنا:
    گرم پانی میں نمک مکس کر کے غرارے کرنے سے بھی گلے کی درد اور سوزش سے آرام ملتا ہے

  • خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں

    خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں

    خواتین میں ہارٹ اٹیک سے پہلے ظاہر ہونے والی نشانیاں
    دل کا دورہ دُنیا بھر میں اچانک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے صرف پاکستان میں سالانہ دولاکھ پاکستانی اس بیماری سے موت کا شکار ہوتے ہیں میڈیکل سائنس کے مُطابق دل کی اس بیماری میں مُبتلا ہونے کی علامات مردوں اور عورتوں میں مختلف ہو سکتی ہیں مندرجہ ذیل سمٹمز جو ہارٹ اٹیک ہونے کی صورت میں صرف خواتین پر ظاہر ہوتی ہیں تاکہ خواتین اس بیماری کو ابتدائی مراحل میں ہی قابو کر سکیں
    کمر گردن جبڑا اور بازو میں درد:
    ہارٹ اٹیک کی بُنیادی علامات سینے میں درد اور بائیں بازو میں درد ہےمگر خواتین میں یہ درد دائیں بازو میں بھی ہو سکتا ہے اور گردن اور جبڑے کی درد آپ کو کنفیوز کر سکتی ہے یہ درد پروگریسیو بھی ہو سکتی ہے اور اچانک شدید بھی ہو سکتی ہے جو آپ کو رات میں سوتے سے جگا دے اور مسلسل دھیمی بھی ہو سکتی ہے اگر آپ ان علامات میں سے کوئی علامت محسوس کرتی ہیں تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں
    ٹھنڈا پسینہ:
    دل کے دورے سے پہلے ٹھنڈے پسینے آنا خواتین میں دل کے دورے کی بُنیادی علامت ہے جو ظاہر ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ اعصاب تناؤ سے بھی جُڑی ہو اس لیے ڈاکٹر سے مشورہ بہت ضروری ہے
    معدے پر درد:
    ہارٹ اٹیک ہونے والا ہے اس کے سگنل معدے میں تیزابیت اور نزلہ بُخار وغیرہ اور ہارٹ برن میں اکثر کنفیوز کر دیتے ہیں کبھی کبھی خواتین معدے پر بہت بھاری بوجھ محسوس کرتی ہیں کُچھ مریضوں کا کہنا تھا کہ اُن کے معدے پر بہت زیادہ وزن پڑ گیا ایسے موقع پر اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ صحیح تشخیص ہو سکے

    ہارٹ اٹیک سے پہلے جسم پر وصول ہونے والی نشانیاں


    سانس کا اُکھڑنا اور نیم بیہوشی:
    سانس چڑھنا یا سانس کا اُکھڑنا بغیر کسی دوسری وجہ کے دل کی شریانوں کے بند ہونے کی بُنیادی علامت ہے خواتین جنہوں نے اں علامات کے بعد سروائیو کیا اُنکا کہنا تھا کہ اُنہیں لگا کہ جیسے اُنہوں نے لمبی ریس میں دوڑ لگائی ہے
    شدید تھکاوٹ:
    ساری رات سو کر اُٹھنے کے بعد بھی اگر آپ تھکاوٹ محسوس کر رہی ہیں اور باتھ روم تک جانا مُشکل ہے تو یہ علامت ہے کہ دل خون کو صحیح طرح پمب نہیں کر رہا اس علامت کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے
    سینے میں درد اور گُھٹن:
    یہ علامات دونوں جنسوں میں ظاہر ہوتی ہیں مگر خواتین کی صورت میں سینے کا درد بائیں طرف ہونے کی بجائے دائیں طرف بھی ہو سکتا ہے اور سینے کے درمیان میں بھی ہو سکتا ہے اور سارے سینے میں بھی ہو سکتا ہے یہ بُنیادی علامت ہے کہ دل فیل ہو سکتا ہے اس لیے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا اشد ضروری ہے
    ضروری نہیں ہے کہ یہ علامات دل کے دورے سے ہی جُڑی ہوں مگر ان کا بار بار ظاہر ہونا اور ایک ہی علامت کا کئی دفعہ ظاہر ہونا دل کی بیماریوں سے جُڑا ہو سکتا ہے اس لیے مکمل تشخیص کے لیے ڈاکٹر سے مُلاقات کریں

  • ہڑڑ کے جادوئی طبی فوائد

    ہڑڑ کے جادوئی طبی فوائد

    ایلوپیتھی سائنس سے بنائی گئی ادویات یا ماڈرن ادویات اور سرجری وغیرہ کے طریقہ علاج کے لیے ایک ٹرم ہے جسے ایلوپیتھی کا نام سب سے پہلے 1810 میں ہومیو پیتھی ادویات کے موجد سیموئل نے دیا تاکہ اس طریقہ علاج کی ادویات اور ہومیو پیتھی ادویات کی علیحدہ علیحدہ پیچان قائم رہے ایلوپیتھی طریقہ علاج 19 ویں صدی کے شروع میں یورپ اور امریکہ میں مشہور ہونا شروع ہُوا اور پھر میڈیکل سائنس جیسے جیسے ترقی کرتی گئی یہ طریقہ علاج ساری دُنیا میں انتہائی کامیاب ہُوا اور آج اس طریقہ علاج کا ڈاکٹر بننے کے لیے طالبعلم کئی کئی سال تعلیم حاصل کر کے اس طریقہ علاج کی ادویات کے ڈاکٹر بنتے ہیں اور پھر ادویات کے ڈاکٹر بننے کے بعد وہ اس طریقہ علاج کی بہت سی شاخوں جیسے سرجری نیورو سرجری وغیرہ کے ماہر بننے کے لیے کئی کئی سال پڑھتے ہیں اوا سپیشلیسٹ ڈاکٹر بنتے ہیں
    اس حساب سے دیکھا جائے تو آج کا یہ مشہور طریقہ علاج تقریباً 200 سال پُرانا ہے مگر طبیب حضرات اس طریقہ علاج سے پہلے دوسرے اور بہت سے طریقہ علاج استعمال کرتے تھے جن میں یونانی ادویات اور ایوردیک طب جو کہ 3000 سال سے بھی پُرانا طریقہ علاج ہے اور آج بھی اس طریقہ علاج کا استعمال پاکستان، بھارت اور چین سمیت دُنیا کے بہت سے ممالک میں ہوتا ہے اور اس طریقہ علاج میں زیادہ تر ہربل ادویات جن کے سائیڈ ایفیکٹ نہ ہونے کے برابر ہیں مریضوں کو استعمال کروائی جاتی ہیں جن سے بہت سی بیماریوں کا علاج کامیاب علاج کیا جاتا ہے طب یونانی اور طب ایوردیک میں استعمال ہونے والی ہرب ہڑڑ سے کئی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے جن کے نسخے کئی صدیوں سے استعمال ہو رہے ہیں اور مریض ان سے شفا یاب ہوتے ہیں اور طبیب حضرات کا کہناہے کہ یہ نسخے صدیوں کی تحقیق کا نچوڑ ہیں اور سوائے موت کے ہر بیماری کے لیے ان کے اندر شفاء ہے

    کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی پینے کے نقصانات


    قبض دست اورآنتوں کی صفائی کے لیے:
    پیٹ کی بیماریوں میں طبیب حضرات ہڑڑ کا استعمال بہت مفید قرار دیتے ہیں خاص طور پر قبض کی شکایت کی صورت میں ہڑر کو پیپری اور نمک کے ساتھ ہم وزن ملا کر کھلایا جاتا ہے جو ہر قسم کی قبض کی شکایت کو دُور کر دیتا ہے اور دستوں کی بیماری کے علاج کے لیے ہڑڑ کو اُبال کر کھلایا جاتا ہے اور آنتوں کی صفائی کے لیے ہڑڑ کو مُرغ کی یخنی میں ڈال کر دینا کسی اکسیر سے کم کام نہیں کرتا

    ہاضمے کے لیے:
    راک نمک اور جریری کیساتھ ہم وزن ہڑڑ شامل کرلیں اور چُورن بنا لیں یہ بد ہضمی کو دُور کرنے کے لیے بہترین پھکی ہے جو بھوک کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے

    گلے کی تمام بیماریوں کے لیے آزمودہ شربت


    جگر کے لیے:
    ہڑڑ خُون کی صفائی کرتی ہے اور اگر اسے شہد کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ جگر کے لیے انتہائی مُفید ہے اور جگر کی گرمی اور سُستی کو دُور کرتی ہے

    تیزابیت کے لیے:
    معدے میں اگر تیزابیت پیدا ہو رہی ہے تو یہ اور بہت سی بیماریوں کو جنم دے سکتی ہے معدے کی تیزابیت کو دُور کرنے کے لیے ہڑڑ کو کشمش کیساتھ شامل کر کے کھایا جائے تو تیزابیت سے نجات ملتی ہے اور نظام انہضام کو تقویت ملتی ہے

    جراثیموں اور پیٹ کے کیڑوں کے لیے:
    طبیب حضرات بچوں کے پیٹ کے کیڑوں اور پیٹ سے دیگر جراثیم کے خاتمے کے لیے ہڑڑ کو نیم کی چھال کیساتھ باریک پیس کر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں اور نیم اور ہڑڑ میں شامل اینٹی بیکٹیریل خوبیاں ان بیماریوں کا خاتمہ کر دیتی ہیں

    کھانسی کے لیے:
    ہڑڑ کا یہ نسخہ طب ایوردیک اور طب یونانی میں کئی صدیوں سے کھانسی کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس میں ہڑڑ کالی مرچ اور پیپری ہم وزن لے کر باریک پیس لیں اور 3 سے 4 گرام روزانہ استعمال کریں کھانسی جڑ سے ختم ہوجائے گی
    منہ کے چھالوں کے لیے:
    منہ کے چھالے عام طور پر پیٹ کی بیماریوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور معدے میں گرمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس کے لیے ہڑڑ کو رات کو پانی میں بھگو دیں اور نہار مُنہ اس پانی سے کلی کریں اور ساتھ میں ہڑڑ کا چورن استعمال کریں تو اس سے منہ کے چھالوں کیساتھ ساتھ بہت سی بیماریوں سے شفاء ملتی ہے

    خُون کی صفائی کے لیے:
    ہڑڑ خون کو صاف کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور خُون صاف کرنے کے لیے وہ ہڑڑ کو گُڑ کیساتھ ملا کر کھانے سے دل اور دماغ کی طاقت کیساتھ خون کی صفائی کے لیے 10 گرام ہڑڑ کو 40 ملی لیٹر پانی میں حل کرکے روازنہ پینا کافی مفید ہے

    ہربل فیشل بنانے کا طریقہ


    دل و دماغ کی قوت کے لیے:
    ہڑڑ کو نمک شکر اور گھی کےساتھ ملا کر اگر استعمال کیا جائے تو اس میں تمام بیماریوں کی شفا ہے خاص طور پر اگر کھانے کے ساتھ کھائی جانے والی چٹنی میں ہڑڑ کو شامل کیا جائے تو یہ دل اور دماغ کو قوت بخشتی ہے اور عمر کو لمبا کرتی ہے یہ کھانے کو ہضم کرنے میں انتہائی مددگار ہے اور کھانے کے بعد قے اور متلی جیسی کفیت کو پیدا نہیں ہونے دیتی
    ہڑڑ تاثیر میں گرم ہوتی ہے اس لیے حاملہ خواتین اس کا استعمال طبیب سے مشورہ کیے بغیر نہ کریں

  • کیڑے مکوڑوں سے گھر کو صاف رکھنے کے آسان طریقے

    کیڑے مکوڑوں سے گھر کو صاف رکھنے کے آسان طریقے

    کیڑے مکوڑے اور چھپکلیاں جہاں کراہت پیدا کرتے ہیں وہاں گھر کی خوبصورتی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کو مارنے والے زہریلے سپرے گھر میں موجود ہمارے چھوٹے بچوں سمیت ہمارے لیے بھی نقصان دہ ہوتے ہیں اور ماحول دوست نہیں ہوتے منرجہ ذیل چند طریقے جو جہاں آپکی اور آپکے بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہیں وہاں حشرات کو آپ کے گھر سے دُور رہنے پر مجبور کر دیں گے
    پودینے کا تیل اور اس کی خوشبو حشرات کو انتہائی نا پسند ہے مگر یہ تیل کُچھ لوگوں میں جلد پر جلن پیدا کرتا ہے لہذا اس کو سپرے کرنے سے پہلے اس میں پانی شامل کر لیں اور اسے گھر کی اُن جگہوں پر سپرے کریں جہاں حشرات موجود ہوں خاص طور پر گھر کی کھڑکیوں روشن دانوں اور دروازوں کے اردگرد اس سپرے کو چھڑکیں تاکہ گھر کے اندر حشرات داخل نہ ہوں

    کیڑے مکوڑے مچھر وغیرہ عام طور پر وہیں ڈیرے ڈالتے ہیں جہاں گندگی ہو اور چھکلیاں بھی وہیں پروان چڑھتی ہیں جہاں اُسے کھانے کے لیے وافر مقدار میں کیڑے مکوڑے ملیں لہذا اپنے گھر کے اندر اور باہر صفائی رکھیں اور گھر کے فرش کو ہفتے میں کم از کم 3 سے 4 دفعہ فنائل سے صاف کریں
    https://login.baaghitv.com/khuli-fizza-mai-machron-sy-bachney-k-asaan-toatkey/
    حشرات اور چھپکلیوں کو بھگانے کے لیے سیب کا سرکہ کوئی بھی کوکنگ آئل، سُرخ مرچ اور برتن دھونے والا لیموں کی خوشبو والا لیکوڈ سوپ پانی میں اچھی طرح حل کر کے گھر میں روزانہ سپرے کریں خاص طور پر گھر کے داخلی راستوں اور دروازے کھڑکیوں پر یہ سپرے روزانہ کریں

    مچھروں کو مارنے والا پینٹ ملیریا اور ڈینگی کے خلاف ایک انتہائی زبردست ایجاد ہے مگر یہ ابھی پاکستان میں عام دستیاب نہیں ہے اور مہنگا بھی ہے مگر اگر ایک بار گھر کو اس پینٹ سے پینٹ کر لیا جائے تو پھر سکون ہی سکون ہے

    تازہ سٹرس فروٹس کے چھلکے کی خُوشبو حشرات کو انتہائی ناگوار گُزرتی ہے لہذا اپنے گھر کے اردگرد اس کے چھلکے رکھ دیں خاص طور پر گھر کے داخلی راستوں میں روشن دانوں اور کھڑکیوں کے پیچھے تاکہ حشرات ایسے مقامات پر اپنا بسیرا ختم کریں اور دُور بھاگیں

    پودینے کے پتے اور کالی مرچ کے پاوڈر کوبلینڈر میں ڈال کر بلینڈ کر کے بوتل میں ڈال کر گھر میں روزانہ سپرے کریں خاص طور پر پردوں کے پیچھے اور دروازے کھڑکیوں پر حشرات بھاگ جائیں گے اور اس سپرے کو وہاں بھی چھڑکیں جہاں چھکلیوں کا بسیرا ہو

  • زیادہ نمک کھانے کے انسانی جسم پر اثرات

    زیادہ نمک کھانے کے انسانی جسم پر اثرات

    زیادہ نمک کھانے کے انسانی جسم پر اثرات
    نمک کے بغیر کھانوں کا مزہ ادھورا ہے اسی لیے اسے ساری دُنیا ہی اپنے کھانوں میں استعمال کرتی ہے لیکن اگر اس کا استعمال زیادہ کیا جائے تو یہ صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے نمک کے اندر موجود سوڈیم بہت سی بیماریوں کو جنم دیتا ہے
    ہر وقت پیاس کا محسوس ہونا:
    اگر آپ بہت زیادہ پیاس محسوس کرتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ جسم کی ڈیمانڈ سے زیادہ نمک کھا رہے ہیں زیادہ نمک جسم کے سیلز سے پانی چُوس لیتا ہے اور دماغ میں پیاس کی شدت کو بڑھا دیتا ہے

    چاکلیٹ کھانے کے فوائد


    جسم پر سوزش:
    ٹخنوں اور پاؤں پر سوزش اور آنکھوں کا پھولنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ اپنی خوراک میں زیادہ نمک استعمال کر رہے ہیں اگر آپ کی انگلی کی انگوٹھی انگلی میں تنگ ہو گئی ہے تو آپ کو فوراً اپنی خوراک پر دھیان دینا چاہیے

    چیزوں پر توجہ دینا مُشکل ہوجاتا ہے:
    اگر آپ کا دماغ دُھندلاہٹ محسوس کرتا ہے یا چیزوں کو سمجھنے میں الجھن کا شکار ہونے لگ گیا ہے تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے فوراً رابطہ کرنا چاہیے اور اپنا سوڈیم لیول چیک کروانا چاہیے زیادہ نمک کھانا جہاں دماغ کو متاثر کرتا ہے وہاں آپ کے جسم کو وقت کے ساتھ کمزور بناتا جاتا ہے

    گُردوں میں پتھری:
    زیادہ نمک کھانے سے سب سے پہلے گُردے متاثر ہوتے ہیں ورلڈ ایکشن آن سالٹ اینڈ ہیلتھ کے مطابق زیادہ نمک پیشاب میں پروٹین کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے اور اگر یہ مقدار بڑھ رہی ہو تو یہ گُردوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہےجن کھانوں میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اُنہیں کھانے سے گُردوں میں پتھری بننے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے

    معدے کا السر:
    نمک معدے کی لائنینگ کو متاثر کرتا ہے اور اس کی زیادہ مقدار کھانے والوں کو معدے کے السر ہونے کا خطرہ عام لوگوں سے بہت زیادہ ہوتا ہے اگر کھانے کے بعد آپ معدے پر شدید درد محسوس کرتے ہیں تو آپ کو فوری طور پر اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے اور سوڈیم ٹیسٹ کروانا چاہیے

    آنکھوں کی تھکاوٹ دُور کرنے کے لئے آسان ورزش


    ہائی بلڈ پریشر:
    امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مُطابق انسان کو روزانہ 1500 ملی گرام سے زیادہ سوڈیم استعمال نہیں کرنا چاہیے بصورت دیگر ہائی بلڈ پریشر جیسی موضوی بیماریوں میں مُبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے

    اکثر سردرد رہنا:
    مستقل درمیانی سردرد اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ آپ کا جسم ڈی ہائیڈریشن یعنی پانی کی کمی کا شکار ہے اور اس کی بڑی وجہ نمک کا زیادہ استعمال ہو سکتا ہے اکثر اوقات ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے خون کو لیجانے والی رگیں بڑھ جاتی ہیں اور سر درد کا سبب بنتی ہیں

    واش روم کا استعمال بڑھ جانا:
    دن کے کسی بھی اوقات میں زیادہ پیشاب آنا زیادہ نمک کھانے کی ایک بڑی نشانی ہے نمک کو جسم سے نکالنے کے لیے گُردوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس سے آپ کو بار بار واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے

    مسلز میں کریمپ پڑنا:
    جسم میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی صحیح مقدار ذمہ دار ہوتی ہے کہ مسلز کو درست رکھے زیادہ نمک کھانے سے مسل ٹائٹنس درد اور کھلی پڑنے جیسی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں

    روزانہ کی خوراک میں لونگ کھانے کے بےشمارحیران کن فوائد


    پیٹ پھولا محسوس ہونا:
    اگر آپ کا وزن بڑھ رہا ہے اور آپکو اپنا پیٹ پھولا محسوس ہوتا ہے تو نشانی ہوسکتا ہے زیادہ نمک استمال کرنے کی ایسی صورتحال میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور اپنے سوڈیم لیول کا ٹیسٹ کروائیں تاکہ صورتحال کُھل کر سامنے آسکے بیماری کی بروقت نشاندہی اور فوری علاج سے کسی بڑی پریشانی میں مبتلا ہونے سے بچا سکتا ہے

  • امرود اور اُسکے پتوں کے کرشماتی فوائد

    امرود اور اُسکے پتوں کے کرشماتی فوائد

    انسان کاوجود مٹی سے بنایا گیا ہے اور اس وجود کی غذائی ضروریات اور وجود کو لگنے والی بیماریوں کا علاج بھی رب کائنات نے مٹی کے اندر ہی رکھا اور مٹی صدیوں سے جہاں ہماری غذائی ضروریات کو پُورا کر رہی ہے وہاں یہ ہماری بیماریوں کے لیے ہمیں ادویات بھی دے رہی ہےامرود اور اُس کے پتوں کے متعلق 1950 سے پہلے میڈیکل سائنس اتنی معلومات نہیں رکھتی تھی اور اسے ایک عام سا پھل مانا جاتا تھا مگر 1950 سے لیکر اب تک ماہرین ہر روز اس پھل اور اس کے پتوں پر اپنی تحقیق سے نئی معلومات حاصل کر رہے ہیں اور خاص طورپرامرود کے پتوں پر کی جانے والی بے شمار تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عام پتے نہیں ہیں بلکہ ایک اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں امرود اینٹی آکسیڈینٹ خوبیوں کا خزانہ ہے جس میں وٹامن سی پوٹاشیم اور فائبر کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو اسے غذایت میں دوسرے پھلوں سے ممتاز کرتی ہے
    https://login.baaghitv.com/benefits-of-jambolan/
    امرود اور اُسکے پتے دل کو طاقتور بنانے میں مدد دیتے ہیں:
    ماہرین کا کہنا ہے کہ امرود دل کے مریضوں کے لیے انتہائی مُفید غذا ہے کیونکہ اس کے اندر موجود بےشمار اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں اور امرود کے پتوں میں موجود وٹامنز دل کے لیے کسی اکسیر سے کم نہیں ہیں
    ماہرین کا کہنا ہے کے امرود میں شامل پوٹاشیم اور فوراً حل پذیر فائبر انسانی دل کے لیے انتہائی مفید ہے اور خاص طور پر امرود کے پتوں کا ماحاصل بلڈ پریشر کو قابو میں کرتے ہیں جو دل کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے اور پتوں کے یہ ماحصل خون میں شامل بُرے کولیسٹرول کو ختم کرکے اچھے کولیسٹرول کو پیدا کرتے ہیں اور بُرے کولیسٹرول کی زیادتی بھی دل کی بیماریوں کی ماں ہے ماہرین کی ایک ریسرچ جو اُنہوں نے 120 لوگوں کو 12 ہفتے ہر کھانے سے پہلے پکا امرود کھلا کر کی کے نتائج کے مُطابق ان 120 لوگوں میں بلڈ پریشر 8 سے 10 پوائنٹس کم ہُوا بُرا کولیسٹرول 9.9 فیصد کم ہُوا اور اچھے کولیسٹرول میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہُوا امرود کے پتوں کا ماحاصل یعنی ایکسٹریکٹ حاصل کرنے کے لیے پتوں کو اچھی طرح دھو کر جوسر میں ڈال کر اس میں اُبلا ہوئی پانی ڈال کر اچھی طرح شیک کرلیں اور بعد میں کسی ململ کے کپڑے سے چھان لیں اور استعمال کریں

    امرود قدرت کی ایک خاص نعمت امرود کے کرشماتی فوائد


    امرود نظام انہضام کو درست رکھتاہے:
    امرود ڈائٹری فائبر کا خزانہ ہے اور اسے کھانے سے پیٹ آسانی کیساتھ صاف ہوجاتا ہے اور یہ قبض جیسی بیماری کو پیدا نہیں ہونے دیتا صرف ایک امرود کھانے سے ہمیں جسم کی روزانہ ضرورت کی 12 فیصد فائبر حاصل ہوتی ہے اور امرود کے پتوں کا ماحاصل پیٹ کی اکڑن اور درد اور ڈائریا میں انتہائی مُفید چیز ہےسائنس کے مطابق امرود میں اینٹی مائیکروبل موجود ہوتے ہیں جو آنتوں میں سے نقصان دہ مائیکروبس کا خاتمہ کر کے ہمیں ڈائیریا سے بچاتے ہیں
    امرود موٹاپے کو ختم کرتا ہے:
    موٹاپا جسم میں دائمی بیماریوں کی ماں ہے اور امرود میں موجود صرف 37 کیلوریز اور فائبر جہاں ہمارے معدے کو بھرا رکھتی ہے اور بھوک مٹاتی ہے وہاں یہ چربی کو پیدا نہیں ہونے دیتاجو افراد وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے بازار سے کم کیلوریز والے سپلیمنٹ مہنگے داموں خریدتے ہیں اُنہیں چاہیے کہ ایک دفعہ اس کام کے لیے امرود کو موقع ضرور دیں
    امرود اینٹی کینسر ہے:
    ماہرین کا کہنا ہے کہ امرود کے پتوں کا ماحصل جسم میں کینسر کے سیلز کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی ایک وجہ ان پتوں میں موجود اینٹی آکسیڈینٹ خوبیا ں ہیں جو جسم کے اعضاء کو فری ریڈیکلز سے متاثر نہیں ہونے دیتی

    لونگ کے چند حیرت انگیز فوائد


    قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے:
    ہمارے جسم میں وٹامن سی کی کمی ہمارے جسم کی قوت مدافعت میں کمی کی بڑی وجہ ہے اور وٹامن سی کی کمی ہمیں بہت سی انفیکشنز کی صورت میں بیمار کر دیتی ہےصرف ایک امرود ہمیں روزانہ کی ضرورت سے کہیں بڑھ کر وٹامن سی مہیا کرتا ہے اور اگر امرود کا موازنہ کینو یا مالٹے سے کیا جائے تو یہ کینو مالٹے سے دُگنی وٹامن سی مہیا کرتا ہے اور وٹامن سی ہمارے جسم کی قوت مدافعت کو تندروست اور توانا رکھتی ہے سردیوں میں عام طور پر انسان کا نظام مدافعت کمزور ہوتا ہے لہذا سردیوں میں عام نزلہ زکام اور کھانسی جیسی بیماریوں سے بچنے کے لیے امرود کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے
    امرود ہماری جلد کے لیے مُفید ہے:
    امرود میں شامل وٹامنز اور منرلز ہماری جلد کے لیے انتہائی مُفید ہیں اور اسکی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں جلد کی حفاظت کرتی ہیں اور زخموں کو جلدی بھر دیتی ہیں اور جلد کو عمر کے بڑھنے کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہیں اور جلد کو توانا کر کے اُن کو جھریوں پڑنے سے بچاتی ہیں

    ملٹھی کے حیران کن فوائد


    امرود اور اُسکے پتےخون سے شوگر کی مقدار کم کرتے ہیں:
    امرود کے جہاں اور بیشمار فائدے ہیں وہاں یہ خُون میں بڑھی ہُوئی شوگر کو کنٹرول کرنے کی خوبی سے بھی نوازا گیا ہے اور بہت سی میڈیکل سائنس کی تحقیقات کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ امرود کے پتے بھی شوگر کو خون میں بڑھنے نہیں دیتے اور امرود کے پتے انسولین کے خلاف مزاحمت کی خوبیوں کے حامل ہیں اور یہ بات ذیابطیس کے مریضوں کےلیے ایک بڑی خوشخبری ہے ماہرین کی ایک ریسرچ کے مُطابق امرود کے پتوں کا قہوہ کھانے کے بعد پینے سے 2 گھنٹے تک خون میں بڑھنے والی شوگر کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور تحقیق کےمطابق کھانے کے فوراً بعد امرود کے پتوں کا قہوہ خون میں 10 فیصد تک شوگر لیول کم کرتا ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ امرود کے پتے انسولین کا مُتبادل ہیں
    امرود عورتوں میں حیض سے ہونے والی تکلیف کو ختم کرتا ہے:
    ہت سی خواتین ماہواری کے دوران درد محسوس کرتی ہیں اور ماہواری کے دوران اُنہیں معدے پر اکڑن کی شکایت ہوتی ہےمیڈیکل سائنس کی چند تحقیقات کے مُطابق امرود کے پتوں کا ماحصل خواتین میں ماہواری کے دوران معدے کی اکڑن کو شفا ءدیتا ہےایک تحقیق میں 200 ایسی خواتین جو ماہواری میں درد محسوس کرتیں تھیں کو روزانہ 6 ملی گرام امرود کے پتوں کا ماحصل کھلایا گیا اور اُن کی درد میں نمایاں کمی دیکھی گئی امرود کے پتوں کا ماحصل حمل کی درد میں بھی انتہائی مفید اوراکسیر کا درجہ رکھتا ہے

  • بھنی اور پسی ہوئی مونگ پھلی سے تیار کردہ پی نٹ بٹر کے حیرت انگیز فوائد

    بھنی اور پسی ہوئی مونگ پھلی سے تیار کردہ پی نٹ بٹر کے حیرت انگیز فوائد

    بھنی اور پسی ہوئی مونگ پھلی سے تیار کردہ پی نٹ بٹر کے حیرت انگیز فوائد
    مونگ پھلی میں قدرتی طور پر ایسے اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو غذائیت کے اعتبار سے سیب گاجر اور چقندر سے بھی زیادہ ہوتے ہیں جو کم وزن افراد سمیت باڈی بلڈنگ کرنے والوں کے لیے بھی نہایت مفید ثابت ہوتے ہیں اس کے طبی فوائد کئی امراض سے حفاظت کا بھی بہترین ذریعہ ہیں مونگ پھلی میں پایا جانے والا وٹامن ای کینسر کے خلاف لڑنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس میں موجود قدرتی فولا لون کے نئے خلیات بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے اسے غریبوں کا بادام بھی کہا جاتا ہے مزیدار ذائقے اور کریمی ذائقے کا حامل پی نٹ بٹر ایک فوڈ پیسٹ یا اسپریڈ ہے جسے بھنی اور پسی ہوئی مونگ پھلی سے تیار کیا جاتا ہے اس کے ذائقے میں مزید اضافہ کرنے کے لیے اس میں دیگر اجزاء جیسا کہ نمک سوئیٹر اور ایملزیفائر کی شمولیت کی جاتی ہے اگر آپ پی نٹ بٹر کو پسند کرتے ہیں تو آپ کےلیے خوشی کی بات ہے کہ پی نٹ بٹر اتنا بھی برا نہیں جتنا اس کے برا ہونے کے بارے میں ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے یہ اس سے کوسوں دور ہے آپ اپنی ویسٹ لائن سے لے کر اپنے دل کی صحت تک پی نٹ بٹر کے شمار فوائد شمار کر سکتے ہیں اور جی بھر کر اس کے مزیدار کریمی ذائقے کا لطف اٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں صحت کے بیش بہا فوائد پیش کرتا ہے جس میں چند درج ذیل ہیں

    کریمی فروٹ چاٹ بنانے کا طریقہ


    وزن کم کرنے اور مسلز بنانے میں معاون:
    اگر آپ خود کو توانائی سے عاری اور تکان زدہ محسوس کر رہے ہیں اور آپ کو اپنے ورک آوٹ کے لیے مزید توانائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے تو پی نٹ بٹر آپ کی اس ضرورت کو پورا کر سکتا ہے گو کہ پی نٹ بٹر میں موجود چکنائی کثیر مقدار وزن کم کرنے والوں کے لیے کوئی بہتر انتخاب نہیں لیکن یہ سوچ اس حقائق کے بر خلاف تازہ ترین تحقیق کے مطابق اس میں موجود مونو انسیچوریٹیڈ فیٹس یعنی غیر سیر شدہ چکنائی حقیقتاً وزن کم کرنے کے لیے موثر ہتھیار کے طور پر کام دکھا سکتی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر سیر شدہ چکنائی وزن کم کرنے کے لیے لوفیٹ ڈائٹ کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر کام دکھاتی ہے علاوہ ازیں پی نٹ بٹر میں موجود پروٹین آپ کو دیر تک سیر شدہ ہونے کا احساس دلاتا ہے جس کی وجہ سے آپ ضرورت سے زائد غذا کھانے سے خود کو بچا سکتے ہیں اس میں موجود پروٹین اور ہیلتھی آئل وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ ذیا بیطس سے محفوظ رکھنے میں بھی معاونت کرتے ہیں چھ سو گرام پی نٹ بٹر یا دو کھانے کے چمچ ہم روز ناشتے میں لیں تو اس سے ہم تقریباً دو گرام فائبر اور آٹھ گرام پروٹین حاصل کرتے ہیں

    شکر قندی کی کھیر بنانے کا طریقہ


    بہترین اینٹی آکسیڈنٹ:
    غذائیت کے اعتبار سے پی نٹ بٹر میں بہت سے اہم غذائی عناصر منرلز اور وٹامنز پوٹاشئیم میگنیشیم وٹامن ای اور بی سکس قلیل مقدار میں آئرن سیلینیم اور میگنیز وغیرہ شامل ہوتے ہیں تحقیق کے مطابق پوٹاشیم جسم کے سیال مادوں کو باقاعدہ رکھنے میں معاونے کرتا اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے پی نٹ میں موجود یہ تمام صحت بخش غذائی عناصر ہمارے جسم کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈینٹ فری ریڈیکلز سے پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے اور ان کے اثرات زائل کرنے کے لیے بے حد اہم ہیں جو کہ ہمارے جسم کے ہر حصے کو متاثر کرتے ہیں ہماری سماعت بصارت اور سب سے بڑھ کر یہ ہماری جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں اس پی نٹ بٹر کو مختلف سبزیوں اور پھلوں کے ساتھ ملا کر لے سکتے ہیں مثلاً کیلے کے گول سلائس کاٹ کر پلیٹ میں سجا لیں اب ہر سلائس کے اوپر پی نٹ بٹر اسپریڈ کریں اور کیلے اور بٹر کے منفرد ذائقے سے لطف اندوز ہوں

    مزے دار بادام کی کھیر ریسیپی


    دل کی بیماری کے لیے مفید:
    بلڈ پریشر کو نارمل سطح پر رکھنے میں معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ پی نٹ بٹر دل کے لیے بے حد مفید ہے ایک تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے پی نٹ بٹر کو اپنی غذا میں شامل کرنے سے آپ عارضہ قلب کے خطرے کو نصف کر دیتے ہیں خون کی شریانوں کی سوزش اور ان میں چکنائی کا جم جانا دونوں کا شمار عارضہ قلب کی بنیادی وجوہات میں خطرے کو نصف کر دیتے ہیں خون کی شریانوں کی سوزش اور ان میں چکنائی کا جم جانا دونوں کا شمار عارضہ قلب کی بیماریوں کے خطرے کو تقریباً ختم کر دیتے ہیں خون کی شریانوں کی سوزش اور ان میں چکنائی کا جم جانا دونوں کا شمار دل کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے اور پی نٹ بٹر ان دونوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے

    اخروٹ کی کھیر بنانے کا طریقہ


    دماغی صحت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتا ہے:
    سب کے لیے دماغ اور اس کی کارکردگی سب سے اہم ہے اسی لیے ہم سب کی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ ہم اپنی ڈائٹ میں ایسی غذائیں شامل رکھیں جو کہ ہمارے دماغ کی حفاظت کریں پی نٹ بٹر دماغ اور اس کی کارکردگی کو بہتر فعال بنائے رکھنے میں بھر پور طریقے سے معاونت کرتا ہے اس میں وہ تمام صحت بخش غذائی عناصر اور لازمی وٹامنزبھر پور طریقے سے موجود ہیں ہمارے دماغ کو صحت مند رہنے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں موجود غذائیت بخش عناصر عمر کے ساتھ جڑے دیگر عوارض سے ہمیں محفوظ بناتے ہیں اور دماغی کارکردگی کو تنزلی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں پی نٹ بٹر کو کئی طریقوں سے ہم اپنی غذا میں شامل کر سکتے ہیں آپ چاہیں تواسے اسپریڈ کے طور پر ٹوسٹ یا کریکرز پر لگائیں یا پھر اس کی مدد سے بے حد مزیدار کپ کیک کینڈی بارز تیار کر کے اس کے مزیدار کرنچی اور لذیذ ذائقے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں

  • بفلو ونگز بنانے کا طریقہ

    بفلو ونگز بنانے کا طریقہ

    بفلو ونگز
    اجزاء:
    چکن ونگز 12 عدد
    نمک ایک چائے کا چمچ
    کالی مرچ ایک چائے کا چمچ
    سیلف رائزنگ فلور حسب ضرورت
    بیٹر حسب ضرورت
    بفلو سوس کے اجزاء:
    تیل دو کھانے کے چمچ
    چلی گارلک سوس دو کھانے کے چمچ
    سرکہ دو کھانے کے چمچ
    کیچپ دو کھانے کے چمچ
    کٹا لہسن ایک کھانے کا چمچ
    ٹماٹر کا پیسٹ ایک کھانے کا چمچ
    چینی ایک چائے کا چمچ

    ترکیب:
    ونگز کو آدھا آدھا کر کے کسی باؤل میں ڈال کر نمک اور کالی مرچ میں میرینیٹ کر لیں پھر بیٹر میں ڈپ کر کے سیلف رائزنگ فلوعرا میں رول کر کے بارہ منٹ کے لئے فرائی کر کے باہر نکال لیں اب ایک پین میں تیل گرم کرکے لہسن ڈال کر فرائی کر کے لائٹ گولڈن کر لیں اس میں کیچپ چلی گارلک سوس سرکہ ٹماٹر کا پیسٹ اور چینی ڈال کر ایک منٹ ٹوس کریں اس سوس میں فرائی بفلو ونگز شامل کر کے ٹوس کریں اور گرم گرم سرو کریں

  • گھر میں بیٹر بنانے کی آسان ترکیب

    گھر میں بیٹر بنانے کی آسان ترکیب

    بیٹر
    اجزاء:
    میدہ ایک کپ
    دودھ آدھا کپ
    نمک آدھا چائے کا چمچ
    سفید مرچ آدھا چائے کا چمچ
    انڈے دو عدد
    تیل دو کھانے کے چمچ
    کارن فلور دو کھانے کے چمچ
    سیلف رائزنگ فلور پانچ کھانے کے چمچ
    پانی حسب ضرورت
    ترکیب:
    ایک باؤل میں میدہ کارن فلور نمک سفیدمرچ انڈے تیل اور سیلف رائزنگ فلور اور دودھ شامل کر کے حسب ضرورت پانی ملا کر اچھی طرح مکس کر کے آمیزہ تیار کر لیں مزیدار بیٹر تیار ہے

  • میڈیکل سائنس کے مطابق پانی کی کتنی مقدار اور کس ترتیب سے پینی چاہئے

    میڈیکل سائنس کے مطابق پانی کی کتنی مقدار اور کس ترتیب سے پینی چاہئے

    میڈیکل سائنس کے مُطابق ہمارے جسم کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ پانی پر مشتمل ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان خوراک کے بغیر 3 ہفتوں سے زیادہ زندہ رہ سکتا ہے مگر پانی کے بغیر وہ بمشکل ایک ہفتہ گُزارے گا کیونکہ پانی پینا کھانا کھانے سے زیادہ اہم ہے جو ہماری صحت کو قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہےہمارے ہاں عام طور پر کھانے کا تو ٹائم ٹیبل ہوتا ہے کہ صبح دُوپہر شام کھانا کھانا ہے لیکن پانی اُسی وقت پیا جاتا ہے جب پیاس لگتی مگر میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ اس کے اُلٹ ہونا چاہیے اور کھانا اُس وقت کھانا چاہیے جب بھوک لگے اور پانی پینے کا ٹائم ٹیبل بنانا چاہیے چاہے پیاس لگے نہ لگے ماہرین کے مُطابق سارے دن میں کتنا پانی لازمی پینا چاہیے اور کن اوقات میں پینا چاہیے اور یہ ٹائم ٹیبل اُن افراد کے اوقات کو ظاہر کرتا ہے جو صبح 8 بجے اُٹھتے ہیں اور اگر کوئی صبح 8 بجے سے پہلے یا بعد میں اُٹھتے ہیں تو اسی حساب سے اپنا ٹائم ٹیبل مقرر کر لیں یعنی ہر دو گھنٹے بعد

    دُودھ سے چہرےکی رنگت نکھارنے کے طریقے


    پہلا گلاس جب آپ اٹھتے ہیں یعنی 8 بجے کے مطابق:
    صبح سویرے اُٹھتے ہی پانی کا ایک گلاس پینا انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے کیونکہ نیند کے دوران جب کافی دیر تک آپ پانی نہیں پیتے تو آپ کا جسم ڈی ہائیڈریٹ ہو نا شروع کر دیتا ہے لہذا صبح اُٹھ کر پہلا کام یہی کریں کہ ایک گلاس پانی ضرور پی لیں
    دوسرا گلاس دس بجے:
    صبح پہلا گلاس پینے کے کم از کم ایک گھنٹے کے بعد ناشتہ کریں اور ناشتہ کرنے کے ایک گھنٹے کے بعد پانی کا دُوسرا گلاس پیئں چاہے پیاس لگی ہو یا نہ لگی ہواور پھر اپنے روزمرہ کے کاموں کی شروعات کریں
    تیسرا گلاس ساڑھے 12 بجے:
    ساڑھےبارہ بجے پانی کا تیسرا گلاس پی لیں اور کوشش کریں کہ اس کو پینے کے آدھے پونے گھنٹے کے بعد اپنا لنچ کھائیں

    کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی پینے کے نقصانات


    چوتھا گلاس ڈھائی بجے:
    دوپہر کا کھانا کھانے کے کم از کم ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد پانی کا یہ چوتھا گلاس پینا آپ کی خوراک کو ہضم کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہے اور خوراک سے توانائی کو پُوری طرح حاصل کرنے میں بھی آپ کی مدد کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ آپ کے دماغ کو توانا اور کام کرنے کے لیے دوبارہ تیار کرتا ہے
    پانچواں گلاس 4 بجے:
    دفتری اوقات میں عام طور پر اس وقت پر چائے کا وقفہ ہوتا ہے اور چائے کے اس وقفے میں بغیر چینی کی چائے پیئں اور چائے سے پہلے یا بعد میں چاہے پیاس محسوس ہو یا نہ لیکن پانی کا ایک گلاس لازمی پی لیں اور چائے دن میں جب بھی پینی ہو ساتھ میں ایک گلاس پانی ضروری پینا چاہیے
    چھٹا گلاس چھ بجے شام:
    شام کے اس اوقات میں پانی کا گلاس آپ کی توانائی کو بحال کرنے اور رات کے کھانے میں بسیار خوراکی سے بچنے میں آپ کی مدد کرتا ہے اور دماغ کی گرمی کو دُور کرنے کا باعث بنتا ہے
    ساتواں گلاس9 بجے:
    پانی کا یہ گلاس اپنے رات کے کھانے کے ایک گھنٹے بعد پینا انتہائی مفید اور زُد ہضم ثابت ہوتا ہے اور اس گلاس کے بعد نہانا جہاں آپ کے جسم کی تھکاوٹ اُتارنے کا باعث بنتا ہے وہاں آپ کو گہری اورفریش نیند دیتا ہے جو اگلا سارا دن کام کرنے میں آپ کی مدد کرتی ہے
    آٹھواں گلاس 11 بجے:
    پانی کا یہ گلاس رات کو سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے پی لیں یہ گلاس آپ کو ساری رات پُرسکون رہنے میں مدد گار ثابت ہو گا اور آپ کے جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچا کر رکھے گا عام طور پر ان اوقات پر پانی پی لینے سے باقی اوقات میں پیاس نہیں لگتی اور 8 گلاس یا 2 لیٹر پانی آپ کے جسم کی روزانہ کی ضرورت کے پانی کو پُورا کرتا ہے لیکن اگر آپ کو ان اوقات کے علاوہ بھی پیاس لگتی ہے تو ضرور پانی پیئں اور پانی پیتے وقت چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیکر پانی پیئں اور پانی پینے کے دوران کم از کم 3 دفعہ وقفہ دیں