Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اسپغول کے معجزاتی فائدے

    اسپغول کے معجزاتی فائدے

    موجودہ دور میں طرز زندگی کیا بدلا ہے انسان خوش خوراکی اور عدم ورزش کی وجہ سے بیمار ہونے لگا ہے یہ بیماری اضافی اور غیر مناسب غذاؤں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے خاص طور پر معدہ جا غذا کو ہضم نہیں کر پاتا اور آنتوں سے خارج کرنے میں اسے دشواری ہو جاتی ہے آنتقوں کا نظام سست ہو جاتا ہے تو قبض جیسا موذی مرض پیدا ہو جاتا ہے جس کے لئتے یا تو میڈیسن لینا پڑتی ہیں یا پھر اسپغول کا چھلکا کھانا پڑتا ہے اسپغول جلد حل ہوجانے والی ڈائٹری فائبر ہے جو پلانٹاگو اووٹا کے پودے کے بیجوں سے حاصل ہوتی ہے جو تقریباً ایک گز کے قریب اونچا ہوتا ہے اس کی ٹہنیاں باریک ہوتی ہیں اور پتے جامن کے پتوں کے مشابہہ ہوتے ہیں اس کا رنگ سرخی مائل سفید اور سیاہ ہوتا ہے یہ نے ذائقہ اور لعاب دار ہوتا ہے اس کا مزاج سرد اور تر ہوتا ہے اس کیمقدار خوراک تین ماشہ سے ایک تولہ ہوتی ہے اسپغول کے چھلکے کو سبوس اسپغول کہتے ہیں اور عام طور پر ان بیجوں کا چھلکا بطور ڈائٹری سپلیمنٹ کے استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ اس چھلکے کے کیپسول بھی بنائے جاتے ہیں اور اسے پوڈر فارم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے

    لڑائی کا گھر ہانسی اور بیماری کی جڑ کھانسی ہنسی کے ہماری صحت پر اثرات


    دائمی قبض کا خاتمہ کرتا ہے:
    اسپغول کا چھلکا صدیوں سے دافع قبض کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے یہ فضلے کا سائز بڑھاتا ہے اور نتیجتاً قبض کو ختم کر دیتا ہے اسپغول کا چھلکا کھانے کے فوراً بعد یہ معدے میں خوراک کے بچے ہُوئے ذرات کو بائنڈ کر کے چھوٹی آنت میں لیجاتا ہے جہاں یہ چھوٹی آنت سے پانی جذب کرتا ہے جس سے فضلے کا سائز بڑھتا ہے اور اُس میں موئسچرائزر پیدا ہوتا ہے جس سے جہاں قبض ختم ہوتی ہے وہاں یہ آنتوں کی صفائی بھی کر دیتا ہے جو ہماری صحت اور نظام انہضام پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتی ہے ایک تحقیق کے مُطابق روزانہ 5 سے 6 گرام اسپغول کا چھلکا مسلسل دو ہفتے کھانے سے فضلے کے سائز اور وزن میں نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا یہ تحقیق 170 ایسے افراد پر کی گئی جنہیں دائمی قبض کی بیماری لاحق تھی اور نوٹ کیاگیاکہ یہ چھلکا اُن کے لیے ایک اکسیر کی طرح فائدہ مند ثابت ہُوا
    ڈائریا پیچش ختم کرتا ہے:
    اسپغول چھوٹی آنت سے پانی اپنے اندر جذب کر لیتا ہے جس سے فضلے کی سختی بڑھتی ہے اور آنتوں میں اس کی نقل و حرکت سُست ہوتی ہے چنانچہ نتیجے کے طور پر یہ ڈائریا ختم کردیتا ہے ایک تحقیق کے نتائج کے مُطابق روزانہ 3.5 گرام اسپغول کا چھلکا ہر کھانے کے بعد کھانے سے ڈائریا کے مریضوں میں شفا نوٹ کی گئی اور اس چھلکے کے کھانے سے اُن کا معدہ 69 سے 87 منٹ تک بھرا رہا جس سے باؤل موومنٹ میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی

    معدے کی تیزابیت دور کرنے کے لئے لیمن گراس چائے


    خون میں شوگر لیول کم کرتا ہے:
    ایسے کھانے جن میں ڈائٹری فائبر شامل ہوتی ہے وہ معدے سے شوگر کا خون میں شامل ہونے کا عمل سُست کر دیتے ہیں اور انسولین کا لیول کنٹرول کرتے ہیں اور اسپغول کا چھلکا چونکہ حل پذ یر فائبر پر مشتمل ہوتا ہے چنانچہ یہ کسی بھی دوسری ڈائٹری فائبر سے زیادہ اچھا کام کرتا ہے اور ٹائپ 2 ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے میڈیکل سائنس کی ایک ریسرچ میں جو 56 ذیابطیس کے مریضوں پر کی گئی اور اُنہیں صبح شام 5 سے 6 گرام اسپغول کا چھلکا 8 ہفتے کھلایا گیا اور نوٹ کیا گیا کہ اُن کی بلڈ شوگر میں 11 فیصد کمی آئی
    بھوک مٹاتا ہے:
    اسپغول کا چھلکا معدے کو بھرا رکھتا ہے اور بار بار لگنے والی بھوک کو مٹاتا ہے جس سے جسم کو فاضل چربی پگھلانے کا وقت ملتا ہے اور موٹاپے میں کمی واقع ہوتی ہےایک تحقیق میں 11 گرام اسپغول کا چھلکا صحت مند لوگوں کو ہر کھانے سے پہلے کھلایا گیا جس سے جہاں کھانے کے 3 گھنٹے بعد بھی انہیں بھوک نہیں لگی وہاں اُن کے بڑھے ہُوئے وزن میں بھی کافی حد تک نمایاں کمی نوٹ کی گئی

    وزن کم کرنے کا آسان نسخہ


    وزن میں کمی لاتا ہے:
    اسپغول کا چھلکا معدے کو بھرا رکھتا ہے اور بار بار لگنے والی بھوک کو مٹاتا ہے جس سے جسم کو فاضل چربی پگھلانے کا وقت ملتا ہے اور موٹاپے میں کمی واقع ہوتی ہے ایک تحقیق میں 11 گرام اسپغول کا چھلکا صحت مند لوگوں کو ہر کھانے سے پہلے کھلایا گیا جس سے جہاں کھانے کے 3 گھنٹے بعد بھی انہیں بھوک نہیں لگی وہاں اُن کے بڑھے ہُوئے وزن میں بھی نمایاں کمی نوٹ کی گئی
    دل کے لیے مفید ہے:
    اسپغول کا چھلکا جہاں بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے وہاں یہ خون سے چکنائی کا خاتمہ کرتا ہے جس سے دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ کم ہوجاتا ہے یک تحقیق کے مطابق روانہ تین دفعہ 5 گرام اسپغول کا چھلکا مسلسل 6 ہفتے استعمال کرنے والوں میں خون کی چکنائی میں 26 فیصد کمی دیکھی گئی اور ایک دوسری تحقیق میں ذیابطیس کے مریضوں کو دن میں تین دفعہ 5 گرام اسپغول کھلایا گیا اور اُن کے خون کی نقصان دہ چکنائی میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی اور اُن کا خون پتلا ہُوا

    سردیوں میں صحت مند رہنے کے لیے کیا کھانا چاہیے


    اسپغول میں پری بائیوٹیک افیکٹس ہوتے ہیں:
    ری بائیوٹیک ہضم نہ ہونے والے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں جو آنتوں کے دوست اور مفید بیکٹریا کی تعداد کو بڑھاتے ہیں اسپغول کا چھلکا بہترین پری بائیوٹیک افیکٹس پیدا کرتا ہے جس سے نظام انہضام کو تقویت ملتی ہے اسپغول کا چھلکا اگر زیتون کے تیل کیساتھ استعمال کیا جائے تو اس کی افادیت میں بیشمار اضافہ ہوتا ہے اور جسم سے کئی طرح کی دائمی بیماریوں کا خاتمہ کردیتا ہے جس میں دل کی بیماریاں ہائی بلڈ پریشر شوگر وغیرہ سر فہرست ہیں
    کولیسٹرول لیول کم کرتا ہے:
    اسپغول کا چھلکا چکنائی اور بائل ایسڈ کو بائنڈ کر دیتا ہے اور جسم سے خارج کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتا ہے اور بائل ایسڈ کے جسم سے خارج ہونے کے بعد جگر بائل ایسڈ دوبارہ پیدا کرنے کے لیے کولیسٹرول کو استعمال کرتا ہے جس سے ہمارے جسم کے کولیسٹرال لیول میں کمی واقع ہوتی ہےایک تحقیق کے مُطابق مسلسل 6 ہفتے روزانہ 6 گرام اسپغول کھانے والوں کے کولیسٹرول لیول میں 6 فیصد کمی نوٹ کی گئی

  • گاجر کا استعمال اور اس کے فوائد

    گاجر کا استعمال اور اس کے فوائد

    اکثر ہمارے بزرگ کہتے ہیں “اگر اندھیرے میں دیکھنا چاہتے ہو تو گاجر کھایا کرو” ، یہ بات کتنی سچ ہے اور گاجر کیا صرف بینائی کو بہتر بناتی ہے یا اس کے اور بھی فائدے ہیں، گاجر کوئی عام سبزی نہیں ہے بلکہ خالق نے اس کے اندر بیشمار خُوبیاں رکھی ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سالوں پہلے گاجر کو موجودہ افغانستان میں اُگایا جاتا تھا مگر اُس وقت یہ سائز میں چھوٹی رنگ میں پیلی اور جامنی اور ذائقے میں انتہائی کڑوی اور لکڑی جیسی ہوتی تھی اور جس گاجر کو آج ہم جانتے ہیں اس سے بلکل مختلف ہوتی تھی پھر سولہویں صدی میں ڈچ کسانوں نے میٹھی گاجریں اُگانے کا فن سیکھا اور آج دُنیا میں مختلف رنگوں کی میٹھی گاجریں اُگائی جارہی ہیں جو ہماری صحت پر انتہائی اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں گاجر بیشمار وٹامنز، منرلز، اور غذائی فائبر کیساتھ ساتھ اینٹی آکسیڈنٹ خوبیوں کی حامل ہے اور اینٹی آکسیڈ نٹ خوبیاں ہمارے جسم کے سیلز کو خراب ہونے سے بچاتی ہیں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر میں وٹامن بی ،اے اور ای سمیت کئی قدرتی اجزاء پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے انتہائی اہم ہیں
    https://login.baaghitv.com/beetroot-give-protection-from-cancer-and-alzayemer/
    گاجر ہمیں کیسے فائدہ پہنچاتی ہے

    بینائی کو طاقتور بناتی ہے:
    گاجر ہماری آنکھوں کو اندھیرے میں دیکھنے کے قابل بناتی ہے کیونکہ گاجر میں وٹامن اے شامل ہوتا ہے اور جسم میں وٹامن اے کی کمی بینائی کو متاثر کرتی ہےاور اگر یہ کمی زیادہ ہوجائے تو رات کو دیکھائی دینا مُشکل اور بعض اوقات بند ہو جاتا ہے جسے نائٹ بلائینڈنس کہتے ہیں گاجر کا شُمار اُن سبزیوں میں ہوتا ہے جن میں بیٹا کیروٹین کی بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ کیمیاء ہماری آنکھوں کو توانا رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے خاص طور پر یہ آنکھوں کو سُورج کی تیز روشنی جذب کرنے صلاحیت عطا کرتا ہے اور تیز روشنی کے اثرات سے آنکھوں کو محفوظ رکھتا ہے

    گاجر کا زردہ بنانے کی عمدہ ترکیب


    گاجر ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے مُفید ہے:
    گاجر میٹھی ہوتی ہے مگر اس میں موجود فائبر اور کاربوہائیڈریٹس اس کی شوگر کو خون میں تیزی سے شامل نہیں ہونے دیتے اور یہی وجہ ہے کہ گاجر کا شُمار اُن سبزیوں میں ہوتا ہے جن کا گلیسمک انڈیکس کم ہے یعنی یہ خُون میں شوگر لیول کو تیزی سے نہیں بڑھاتی اور ایک میڈیم سائز کی گاجر میں صرف 25 کیلوریز ہوتی ہیں چنانچہ یہ ٹائپ 2 کی ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بہترین سبزی ہے

    گاجر کا زردہ بنانے کی عمدہ ترکیب


    بلڈ پریشر اور دل کے مریضوں کے لیے مفید ہے:
    گاجر میں پوٹاشئیم اور فائبر شامل ہوتی ہے جو بڑھے ہُوئے بلڈ پریشر کے لیے انتہائی مفید کیمیا ء ہیں اور ماہرین کے مُطابق دل کی بیماریوں میں مُبتلا افراد کے لیے کم سوڈیم والے کھانے اور زیادہ پوٹاشیم والے کھانے انتہائی مُفید ثابت ہوتے ہیں کیونکہ پوٹاشیم دل میں خون لیجانے والی رگوں کو آرام پہنچاتی ہےایک اور تحقیق کے مُطابق زیادہ ڈائٹری فائبر کھانے والے افراد میں دل کی بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ فائبر نہ کھانے والے افراد سے کم ہوتا ہے اور ڈائٹری فائبر خون سے بُرے کولیسٹرول کا خاتمہ بھی کرتی ہےماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آدمی کو اپنی روزانہ کی خوراک میں کم از کم 25 گرام فائبر ضرور کھانی چاہیے اور ایک درمیانے سائز کی گاجر میں تقریباً 1.7 گرام فائبر ہوتی ہے

    گاجر قوت مدافعت کو مضبوط بناتی ہے:
    گاجر میں اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں ہوتی ہیں خاص طور پر یہ اینٹی آکسیڈینٹ وٹامن سی سے بھرپور غذا ہے اور وٹامن سی جہاں ہمارے جسم کو اور بہت سے مہلک بیماریوں سے بچاتا ہے وہاں یہ ہماری قوت مدافعت کو طاقتور بناتا ہے اور ہمارے جسم میں بیماریوں سے لڑنے کی قوت پیدا کرتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر کا وٹامن سی کلوجن کی پیداوار بڑھاتا ہے جو ہماری جلد کے لیے انتہائی اہم اور مفید ہے خاص طور پر یہ زخموں کو جلد بھر دیتا ہے اور ہمارے جسم کو صحت مند رکھتا ہےبعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن سی کے سپلیمنٹ استعمال کرنا بھی ہمارے جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بناتا ہے اور یہ ہمیں سردی میں جب امیون سسٹم یعنی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے تو اُسے طاقتور کرنے کا باعث بنتا ہے

    لڑائی کا گھر ہانسی اور بیماری کی جڑ کھانسی ہنسی کے ہماری صحت پر اثرات


    ہڈیوں کو مضبوط کرتی ہے:
    گاجر میں جہاں وٹامن “کے” شامل ہوتا ہے وہاں محدود مقدار میں کیلشیم اور فاسفورس جیسے منرلز بھی شامل ہوتے ہیں اور یہ تمام ہڈیوں کو مضبوط اور صحت مند رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں

    نظام انہضام بہتر بناتی ہے:
    فائبر نظام انہضام کو بہتر بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور گاجر فائبر سے بھرپوُر ہوتی ہے جس کا فائبر خوراک کو ہضم کرنے اور فُضلے کو خارج کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور ایسے کھانے جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو ہمارے آنتوں کے لیے انتہائی مُفید ہیں اور یہ ہمیں کولن کینسر یعنی آنتوں کے سرطان سے محفوظ رکھتے ہیں

    گاجر کینسر سے بچاتی ہے:
    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ جسم میں فری ریڈیکلز ہوتے ہیں اور اگر ان کی مقدار بڑھ جائے تو یہ ہمارے جسم کے اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں اور مختلف طرح کی کینسر کا باعث بنتے ہیں اور گاجر کی اینٹی آکسیڈینٹ خوبیاں فری ریڈیکلز کی بڑھتی ہُوئی تعداد کو قابو میں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہمیں مختلف قسم کے کینسرز سے بچاتی ہے جن میں پروسٹیٹ کا کینسر، لکویمیا، پھیپھڑوں کا کینسر وغیرہ سر فہرست ہیں

    گاجر وزن کم کرتی ہے:
    موٹاپے جیسی بیماریوں میں مُبتلا افراد جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں اُن کے لیے گاجر ایک زبردست سبزی ہے جو جہاں بھوک کو مٹاتی ہے اور معدے کو بھرا رکھتی ہے وہاں انتہائی کم کیلوریز ہونے کے باعث وزن کو بڑھنے نہیں دیتی
    گاجر کیسے کھانی چاہیے:
    گاجر ایک ایسی سبزی ہے جسے آپ پکائے بغیر کھا سکتے ہیں آپ اسے باریک کاٹ کر سلاد میں شامل کر سکتے ہیں اور اسے چھیل کر ویسے بھی کھا سکتے ہیں اور اس کا جُوس بنا کر بھی پی سکتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر کو پکانے سے یا اُبالنے سے اس کے وٹامنز کم ہو جاتے ہیں اسی لیے مغربی معاشرے میں لوگ زیادہ تر گاجر کو کچا ہی کھاتے ہیں

    گاجر کا جوس طبی فوائد کا حامل:
    گاجر کے جوس کا باقاعدہ استعمال ناخن بال دانت اور ہڈیوں کے لئے انتہائی مفید ہے ماہرین کے مطابق روازنی گاجر کا جوس پینے سے نہ صرف جگر کا نظام فعال ہوتا ہے بلکہ یہ کینسر کی رسولیوں کی افزائش روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے

  • گارلک تکہ بنانے کی ترکیب

    گارلک تکہ بنانے کی ترکیب

    گارلک تکہ
    اجزاء:
    چکن تکہ پیس چار عدد
    کٹا لہسن دو کھانے کے چمچ
    بھنا زیرہ ایک چائے کا چمچ
    بھنی اجوائن ایک چائے کا چمچ
    پسی لال مرچ ایک چائے کا چمچ
    پسا گرم مصالحہ ایک چائے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    لیموں کا رس دو کھانے کے چمچ
    مکھن دو کھانے کے چمچ
    تیل چار کھانے کے چمچ
    ترکیب:
    چکن پیس پر بھنا زیرہ بھنی اجوائن پسی لال مرچ پسا گرم مصالہ نمک اور لیموں کا رس لگا کر آدھے گھنٹے کے لیے میرینیٹ کر لیں پھر ایک پین میں مکھن اور تیل ڈال کر گرم کر لیں اس میں لہسن ڈال کر گولڈن فرائی کر لیں اس کے بعد اس میں میرینٹ چکن ڈال کر پکائیں یہاں تک کہ گل جائے

  • فش کٹا کٹ بنانے کا طریقہ

    فش کٹا کٹ بنانے کا طریقہ

    فش کٹا کٹ
    اجزاء:
    فش آدھا کلو بون لیس
    دہی دو کھانے کے چمچ
    ٹماٹر ایک پاو
    گرم مصالحہ پاوڈر آدھا چائے کا چمچ
    نمک حسب ضرورت
    زیرہ آدھا چائے کا چمچ
    ثابت دھنیا آدھا چائے کا چمچ
    مکھن پچیس گرام
    قصوری میتھی آدھا چائے کا چمچ
    ادرک لہسن پیسٹ آدھا کھانے کا چمچ
    جولین کٹ ادرک آدھا کھانے کا چمچ
    کُٹی لال مرچ آدھا چائے کا چمچ
    ہلدی دو چٹکی
    تیل پاو کپ
    ہرا دھنیا مرچ حسب ضرورت
    ترکیب:
    توے ہر تیل۔ڈال کر گرم کریں پھر اس میں ادرک لہسن کا پیسٹ ٹماٹر کُٹی لال مرچ زیرہ ثابت دھنیا ہلدی نمک اور آدھا کپ پانی ڈال کر ڈھک دیں اور پکنے دیں جب ٹماٹر گل جائیں تو ان میں دہی شامل کر کے اچھی طرح بھون کر مچھلی شامل کر دیں اور پانچ منٹ پکائیں مچھلی گل جائے تو اچھی طرح کوٹ لیں آخر میں پسا گرم مصالہ مکھن ہرا دھنیا باریک کٹی ادرک اور ہری مرچ ڈال کر سرو کریں

  • دیسی مچھلی مصالحہ ریسیپی

    دیسی مچھلی مصالحہ ریسیپی

    دیسی مچھلی مصالحہ
    اجزاء:
    بون لیس فش آدھا پاو
    ہلدی دو چٹکی
    سوکھا دھنیا آدھا کھانے کا چمچ
    تارا گرم مصالحہ آدھا چائے کا چمچ
    تیل دو کھانے کے چمچ
    ہری مرچ دو عدد
    ہرا دھنیا چند پتے
    لیموں آدھا
    ہرا پیاز آدھا کپ
    سوکھا پیاز آدھا کپ
    لہسن ایک کھانے کا چمچ
    نمک آدھا چائے کا چمچ
    پسی سرخ مرچ آدھا چائے کا چمچ
    کُٹی لال مرچ آدھا چائے کا چمچ
    ترکیب:
    پین میں تیل گرم کر کے ہرا پیاز سوکھا پیاز اور لہسن فرائی کریں اور نرم کر لیں پھر نمک پسی لال مرچ کٹی لال مرچ ہلدی سوکھا دھنیا اور تارا گرم مصالحہ ڈال دیں اب اس میں پانی کا چھینٹا ڈال کر بھونتے جائیں جب مصالحہ تیل چھوڑ دے اور اچھی طرح بھن جائے تو فش ڈال کر دم لگا دیں جب فش پک جائے تو آخر میں ہری مرچیں ہرا دھنیا اور لیموں کابرس ڈال کت گرم گرم سرو کریں

  • قیمہ گھوٹالا بنانے کا طریقہ

    قیمہ گھوٹالا بنانے کا طریقہ

    قیمہ گھوٹالا
    اجزاء:
    قیمہ ایک پاو
    انڈے دو عدد
    ادرک لہسن کا پیسٹ آدھا کھانے کا چمچ
    نمک آدھا چائے کا چمچ
    لال شملہ مرچ آدھا چائے کا چمچ
    لال مرچ آدھا چائے کا چمچ
    دھنیا آدھا چائے کا چمچ
    زیرہ آدھا چائے کا چمچ
    گرم مصالحہ آدھا چائے کا چمچ
    دہی دو کھانے کے چمچ
    ٹماٹر دو عدد
    تیل دو کھانے کے چمچ
    تازہ دھنیا ایک چوتھائی گٹھی
    ہری مرچ دو عدد
    پیاز دو عدد
    ترکیب:
    کڑاہی میں تیل گرم اس میں دو عدد پیاز ڈال کر ہلکا گولڈن کر لیں اب اس میں ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کر کے فرائی کر لیں پھر اس میں قیمہ نمک لال شملہ مرچ دھنیا زیرہ ٹماٹر اور دہی ڈال کر فرائی کریں اس میں آدھا کپ پانی شامل کر کے پکائیں اور ڈھک دیں آلر میں۔انڈے اور گرم مصالہ ہری مرچ اور دھنیا ڈال کر دم پر رکھیں

  • سویوں کا مضافر بنانے کی ترکیب

    سویوں کا مضافر بنانے کی ترکیب

    سویوں کا مضافر
    سویاں ایک پیکٹ
    چینی آدھا پاو
    کھویا آدھا پاو
    دودھ ایک کپ
    گھی آدھا کپ
    لیموں کا رس آدھا کھانے کا چمچ
    کیوڑہ ایسنس تین سے چار قطرے
    زردہ رنگ ایک چٹکی
    بادم پستہ اور کشمش دو کھانے کے چمچ
    چھوٹی الائچی پانچ عدد
    چاندی کا ورق دو عدد
    ترکیب:
    گھی گرم کرکے چھوٹی الائچی ڈال کر فرائی کریں پھر اس میں سویاں فرائی کریں ساتھ ہی کھویا ڈال دیں دو کھانے کے چمچ گھی گرم کرکے الائچی فرائی کریں پھر اس میں چینی اور دودھ ڈالیں جب شیرہ بن جائے تو سویوں میں شامل کرکے تھوڑا ابال آنے پر لیموں کا رس ملائیں آخر میں پیلا رنگ اور کیوڑہ ایسنس ڈال کر دم پر رکھیں سرونگ ڈش میں نکال کر میوہ اور چاندی کے ورق سے گارنش کر کے سرو کریں

  • چنا بریانی بنانے کا طریقہ

    چنا بریانی بنانے کا طریقہ

    چنا بریانی
    اجزاء:
    اُبلے چنے آدھا پاو
    اُبلے چاول ایک پاو
    آلو ایک پاو
    دہی دو کھانے کے چمچ
    ٹماٹر ایک عدد
    پیاز ایک عدد
    ادرک لہسن پیسٹ ایک چائے کا چمچ
    لال مرچ ایک چائے کا چمچ
    نمک آدھا چائے کا چمچ
    ہلدی دو چٹکی
    کالی مرچ دو چٹکی
    آلو بخارے پچاس گرام
    کیوڑہ ایسنس دو سے تین قطرے
    چھوٹی الائچی دو عدد
    زردے کارنگ دو چٹکی
    تیل تین کھانے کے چمچ
    پسا دھنیا آدھا چائے کا چمچ
    زیرہ آدھا چائے کا چمچ
    ہری مرچ دو عدد
    ہرا دھنیا ایک کھانے کا چمچ
    پودینہ ایک کھانے کا چمچ
    ترکیب:
    پتیلی میں تیل گرم کرکے پیاز براون کریں اور آلو شامل کر کے تھوڑا فرائی کر لیں اب اس میں ابلے چنے ٹماٹر ادرک لہسن کا پیسٹ لال مرچ نمک ہلدی ہسا دھنیا کالی مرچ دہی آلو بخارے اعر الائچی ڈال کر دس منٹ دم پر رکھ دیں اب چاول دھنیا ہری مرچ زردے کا رنگ پودینہ اور کیوڑی ایسنس ڈال کر دم پر رکھ دیں

  • وری بتہ بنانے کی ترکیب

    وری بتہ بنانے کی ترکیب

    وری بتہ
    اجزاء:
    گائے کا قیمہ ایک پاو
    چنے کی دال آدھا پاو
    بریان آدھا پاو
    پیاز ایک عدد
    ٹماٹر ایک۔سلائس
    ادرک لہسن آدھا کھانےکا چمچ
    نمک آدھا چائے کا چمچ
    سرخ مرچ ایک چائے کا چمچ
    دھنیا ایک چائے کا چمچ
    ہلدی دو چٹکی
    بگھاڑ لگانے کے اجزاء:
    پیاز ایک عدد چھوٹی
    زیرہ آدھا چائے کا چمچ
    تیل آدھا کپ
    گارنش کے لیے:
    گرم مصالہ آدھا چائے کا چمچ
    ادرک جولین کٹ ایک ٹکڑا
    دھنیا چند پتے
    ابلے چاول ایک کپ
    ترکیب:
    پین میں آدھا کپ تیل ڈال کر گرم کریں پھر اس میں پیاز براون کریں اب اس میں قیمہ ڈال کر فرائی کرکے ادرک لہسن نمک لال مرچ ہلدی دھنیا پاوڈر اور ٹماٹر ڈال کر بھون لیں ایک۔اور برتن میں بریان ڈال کر فرائی کریان اور پلیٹ میں نکال لیں جب قیمہ گل جائےتو اس میں بریان اور دال ڈال کر پکنے دیں اور اچھی طرح گھوٹ لیں تیل گرم کر کے پیاز اور زیرہ فرائی کر کے اوپر بگھاڑ لگا دیں آخر میں ہرا دھنیا ادرک اور گرم مصالے کے ساتھ گارنش کر کےاُبلے چاولوں کے ساتھ سرو کریں

  • دار چینی ملا دودھ پینے کے حیرت انگیز فوائد

    دار چینی ملا دودھ پینے کے حیرت انگیز فوائد

    دار چینی ملا دودھ پینے کے حیرت انگیز فوائد
    دار چینی کو ونڈر مسالہ بھی کہتے ہیں یہ کھانےکا ذائقہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ صحت کے لحاظ سے بھی بہت مفید ہے کھانوں کے علاوہ صحت اور خوبصورتی دونوں ہی چیزوں کے لیے دارچینی کا استعمال کیا جاتا ہے دار چینی میں موجود کمپاونڈ بہت سی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات سے بھر پور ہوتے ہیں جو صحت اور خوبصورتی دونوں کے لیے ہی فائدہ مند ہے دارچینی یوں تو اپنے آپ میں ہی ایک اچھی دوا ہے لیکن اسے دودھ کے ساتھ ملا کر پینا اور بھی فائدہ مند ہے دار چینی والا دودھ کئی بیماریوں میں فائدہ مند ہے اور کئی بیماریوں سے محفوظ بھی رکھتا ہے دار چینی والا دودھ بنانے کے لیے ایک کپ دودھ میں ایک سے دو چمچ دار چینی پاوڈر ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں اس دودھ پینے کا کعئی نقصان نہیں لیکن پھر بھی پینے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں

    دارچینی مختلف خطرناک بیماریوں کا علاج


    دار چینی والا دودھ پینے کے فوائد:
    اچھے نظام انہضام کے لیے:
    اگر آپ کا نظام انہضام فعل اچھا نہیں تو اس کے لیے دار چینی والا دودھ پینا آپ کے لیے انتہائی مفید رہے گا اس کے علاوہ گیس کا مسئلہ حل کرنے کا کام کرتا ہے
    بلڈ شوگر لیول کنٹرول کرنےکے لیے:
    دار چینی میں کئی ایسے کمپاونڈ پائے جاتے ہیں جو بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتے ہیں دار چینی والا دودھ خاص طور پر ٹائپ ٹو ذیا بیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے
    اچھی اور بھرپور نیند کے لیے:
    اگر آپ کو بے خوابی کی پرابلم ہے یا پھر آپ کو اچھی نیند نہیں آتی ہے تو دار چینی والا دودھ پینا آپ کے لیے بہت فائدہ مند رہے گا سونےسے پہلے ایک گلاس دار چینی والا دودھ پی لیں اس سے آپ کو اچھی نیند آئے گی
    خوبصورت بالوں اور جلد کے لیے:
    خوبصورت بالوں اور جلد کے لیے دار چینی والا دودھ پینے سے بال اور جلد سے منسلک تقریباً ہر مسئلہ دور ہو جاتا ہے اس کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات اسکن اور بالوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھتا ہے
    مضبوط ہڈیوں کے لیے:
    ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے لوگ سالوں سے دار چینی دودھ کا استعمال کرتے آرہے ہیں اس دودھ کے باقاعدہ استعمال سے گنٹھیا کا مسئلہ دور ہو جائے گا
    دار چینی کا بد ہضمی اور زخموں کو مندمل کرنے کا روایتی استعمال جدید سائنس سے بھی ثابت ہوا ہے بہت سے کھانوں میں استعمال ہونے والا مصالہ جات کی طرح یہ بھی جسم کے لئے فائدہ مند بتایا جاتا ہےیہ مختلف اقسام کے بیکٹیریا کو ختم کر سکتا ہے