Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • جب امیتابھ بچن نے گووندا کو تھپڑ مارنے کی دھمکی دی تھی

    جب امیتابھ بچن نے گووندا کو تھپڑ مارنے کی دھمکی دی تھی

    ممبئی: بالی ووڈ اداکار گووندا نے ایک بار انکشاف کیا تھا کہ امیتابھ بچن نے انہیں ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران تھپڑ مارنے کی دھمکی دی تھی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ شہنشاہ امیتابھ بچن اور کامیڈی کنگ گووندا نے اپنے کیریئر میں بالی ووڈ کو کئی سپر ہٹ فلمیں دیں یہ دونوں اسٹارز فلم ’’بڑے میاں چھوٹے میاں‘‘ کے لیے بھی اکٹھے ہوئے تھے جس نے باکس آفس پر کافی مقبولیت حاصل کی تھی۔

    اس فلم کی کامیابی کے پیچھے کی وجہ بہترین اداکار، گانے، کامیڈی اور مادھوری ڈکشٹ کا سپر ہٹ گانا ’’مکھنا‘‘ وغیرہ تھا تاہم فلم کی کامیابی کے بارے میں ایک بات اور بھی ہے جس سے زیادہ تر لوگ واقف نہیں ہیں۔

    سچن ٹنڈولکرکی بیٹی بالی ووڈ میں ڈیبیو کیلئے تیار

    بھارتی میڈیا کے مطابق گووندا نے ایک بار ایک انٹرٹینمنٹ پورٹل کو دئیے گئے انٹرویو میں فلم کی شوٹنگ کے دوران بگ بی کے ساتھ ایک واقعے کے بارے میں بات کی تھی۔ اداکار نے انکشاف کیا تھا کہ ایک خاص گانے کی شوٹنگ سے قبل امیتابھ بچن ان کے پاس آئے تھے اور انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر یہ فلم باکس آفس پر نہیں چلی تو وہ انہیں تھپڑ ماریں گے۔

    انٹرٹینمنٹ پورٹل کی رپورٹ کے مطابق بظاہر گووندا امیتابھ بچن کی دھمکی سے ڈر گئے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے شوٹنگ بھی کینسل کردی تھی گووندا فلم میں کسی خاص گانے کے قائل نہیں تھے انہیں لگ رہا تھا کہ یہ گانا لوگوں کو پسند نہیں آئے گا جس کی وجہ سے شوٹنگ میں بھی تاخیر ہوئی۔

    گووندا نے انٹرویو کے دوران مزید بتایا کہ فلم کے ہدایت کار ڈیوڈ دھون ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ آپ کو اتنا یقین کیوں ہے کہ یہ گانا نہیں چلے گا اور اس وقت گووندا نے ڈیوڈ دھون کو بتایا کہ امیتابھ بچن نے انہیں تھپڑ مارنے کی دھمکی دی ہے جس کے بعد ان دونوں نے فیصلہ کیا کہ یہ گانا صحیح نہیں ہے بعد ازاں ان کی ٹیم نے فیصلہ کیا جب تک فلم کے لیے کوئی اچھا گانا نہیں مل جاتا وہ شوٹنگ نہیں کریں گے۔

    بعد ازاں نے فلم کے لیے خصوصی گانا ’’مکھنا‘‘ شوٹ کیا جس میں مادھوری ڈکشٹ نے امیتابھ بچن اور گووندا کے ساتھ پرفارم کیا تھا اور یہ گانا لوگوں کو بے حد پسند آیا تھا امیتابھ بچن اور گووندا کی اداکاری والی فلم بڑے میاں چھوٹے میاں دونوں ستاروں کی ایک ساتھ کامیاب ترین فلموں میں سے ایک ہے ہر نسل نے فلم اور کرداروں کے درمیان مزاحیہ مذاق کو پسند کیا-

    1998 کی کامیڈی فلم کو ڈیوڈ دھون نے ڈائریکٹ کیا تھا اور اس میں روینہ ٹنڈن، رامیا کرشنن، انوپم کھیر، پاریش راول، شرت سکسینا اور ستیش کوشک اور مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ معاون کرداروں میں ایک خاص کردار میں ہیں اطلاعات کے مطابق، شاہ رخ خان کی کچھ کچھ ہوتا ہے کے ساتھ ٹکراؤ کے باوجود یہ فلم باکس آفس پر کامیاب رہی۔

    کرینہ کپورایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر

  • بچپن میں 5 سال تک جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا،کنگنا رناوت

    بچپن میں 5 سال تک جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا،کنگنا رناوت

    ممبئی: بالی ووڈ کی متنازع اداکارہ کنگنا رناوت نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں بچپن میں 5 سال تک جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے شو "لوکس اپ” میں اداکارہ نے انکشاف کیا کہ جب وہ 6 یا 7 سال کی تھیں تو انہیں خاندان کا ایک لڑکا نامناسب طریقے سے تقریبا 4 سے 5 سال تک چھوتا رہا،لیکن تب انہیں ان سب چیزوں کا کچھ پتا نہیں تھا۔

    کرینہ کپورایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر

    کنگنارناوت کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ کئی بچوں کے ساتھ پیش آچکا ہے ہم میں سے بھی کئی لوگ اس نامناسب صورت حال سے گزرے ہوں گے، لیکن عوامی سطح پر گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں

    دھوکا دہی اور فراڈ کیس : شلپا شیٹھی کی والدہ کو ضمانت مل گئی

    اداکارہ نے مزید کہا کہ خاندان والے چاہے جتنی مرضی کوشش کرلیں لیکن لیکن پھر بھی بچوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ جنسی ہراسانی کا شکار ہونے کے باوجودلوگ آپ کو ہی مجرم سمجھتے ہیں،جو کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے۔

    سوشل میڈیا پرشدید تنقید،اکشے کمارنےگٹکےکےاشتہارمیں کام کرنے پرمعذرت کر لی

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اداکارہ ریئلٹی شو ’لوکس اپ‘ کی میزبانی کررہی ہیں، کنگنا اس شو کے دوران پہلے بھی اپنے ماضی کے کئی راز سے پردہ اٹھا چکی ہیں اور اب انہوں نے بچپن میں ہراساں کیے جانے کے واقعے سے آگاہ کیا۔

    عدالت نےمنشیات کیس میں رہا ہونیوالی غیر ملکی ماڈل کو بیرون ملک جانے سے روک دیا

  • سچن ٹنڈولکرکی بیٹی  بالی ووڈ میں ڈیبیو کیلئے تیار

    سچن ٹنڈولکرکی بیٹی بالی ووڈ میں ڈیبیو کیلئے تیار

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سچن ٹنڈولکر کی بیٹی سارا ٹنڈولکر بالی ووڈ میں ڈیبیو کیلئے تیار،جلد اپنی پہلی فلم میں دکھائی دیں گی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کےمطابق سارا ٹنڈولکرکو اداکاری میں خاصی دلچسپی ہےاور حال ہی میں انہوں نے اداکاری سیکھنے کے لیے ایک انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ بھی لیا ہے جس کے بعد سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ سارا اپنا بالی وڈ ڈیبیو کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق سارا کو والدین کی جانب سے کیرئیر کے انتخاب میں کسی قسم کی مخالفت کا سامنا نہیں ہے۔

    24 سالہ سارا نے لندن یونیورسٹی سے میڈیسن میں ڈگری حاصل کی ہے، سارا سوشل میڈیا انفلوئنسر بھی ہیں جنہیں لوگ بطور ماڈل بھی پہچانتے ہیں-

    سارا ٹنڈولکر کے انسٹاگرام پر فالوورز کی تعداد 1.9 ملین سے زائد ہے جس پر وہ اپنی تصویروں کے علاوہ مختلف جگہوں کی خوبصورت تصاویر شیئر کرتی ہیں انہوں نے 485 لوگوں کو فالو کیا ہے جبکہ اب تک 105 پوسٹس شئیر کر چکی ہیں-

    کہا جارہا ہے کہ اگر سارا بالی وڈ میں قدم رکھ دیتی ہیں تو وہ کنگ خان کی بیٹی سہانا خان اور آنجہانی اداکارہ سری دیوی کی چھوٹی بیٹی خوشی کپور کے سامنے ایک چیلنج ہوں گی۔

    سہانا خان اور خوشی کپور بھی جلد ہی بالی وڈ میں ڈیبیو کرنے جارہی ہیں۔

    کچھ سال پہلے یہ افواہیں تھیں کہ سارہ شاہد کپور کے ساتھ بالی ووڈ میں ڈیبیو کر رہی ہیں۔ تاہم، سچن نے خود ان خبروں کی تردید کی تھی اور مبینہ طور پر کہا تھا میری بیٹی سارہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مگن ہیں ان کی فلموں میں شمولیت کے بارے میں بے بنیاد قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں-

  • بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا

    بھارت کی معروف سماجی کارکن وموٹیویشنل اسپیکرسبری مالا نے اسلام قبول کرلیا

    مکہ المکرمہ: تامل ناڈو کی معروف سماجی کارکن و ہندو موٹی ویشنل اسپیکر سبری مالا نے اسلام قبول کرلیا جس کا اعلان انہوں نے مکۃ المکرمہ پہنچ کر کیا۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سبری مالا ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں مسجد الحرام میں کعبہ کے سامنے کھڑے دیکھا جاسکتا ہے اور ویڈیو میں انہوں نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔

    یشما گل نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی،غلاف کعبہ بھی تحفے میں مل گیا

    سبری مالا نے اپنا اسلامی نام فاطمہ سبری مالا رکھا ہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد اُنہوں نے عمرے کی سعادت حاصل کی مکہ مکرمہ میں فاطمہ سبری مالا کو غلاف کعبہ پر کڑھائی کا موقع بھی ملا۔

    فاطمہ سبری مالا کا کہنا ہےکہ میں نے خود سے سوال کیا کہ میں مسلمانوں سے اتنی دشمنی کیوں کرتی ہوں اور اس طرح میں نے غیر جانبدار ذہن کے ساتھ قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا تو حقیقت کا علم ہوا، اور اب میں اسلام سے بہت زیادہ پیار کرتی ہوں

    دائرہ اسلام میں داخل ہونے والےسابق جنوبی کورین پاپ گلوکار کی عمرے کی تصاویر سوشل…

    فاطمہ سبری مالا نے کہا کہ مسلمان ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ تمام مسلمان خود بھی قرآن سے جڑیں اور دوسروں تک بھی اس کا پیغام پہنچائیں آپ کے ہاتھ میں ایک حیرت انگیز کتاب ہے یہ گھر میں کیوں چھپی ہوی ہے؟ دنیا کو اسے پڑھنا چاہیے-

  • دعا زہرہ کا نکاح نامہ منظر عام پر آنے پر بختاور بھٹو زرداری کا شدید ردعمل

    دعا زہرہ کا نکاح نامہ منظر عام پر آنے پر بختاور بھٹو زرداری کا شدید ردعمل

    پاکپتن سے ملنے والی کراچی کی رہائشی دعا زہرہ کا نکاح نامہ سامنے آنے پر بختاور بھٹو زرداری نے رد عمل دیتے ہوئے لڑکے پر اغوا کا مقدمہ دائر کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بختاور بھٹو نے دعا زہرہ کا نکاح نامہ شیئر کرتے ہوئے جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ نکاح قانونی نہیں ہے کیونکہ دعا صرف 14 برس کی ہے لہٰذا ظاہر ہے کہ بچی کو نکاح پر مجبور کیا گیا۔


    انہوں نے مطالبہ کیا کہ لڑکے پر اغوا کا مقدمہ دائر کرنا چاہیے اور کم عُمری کی شادی کے نکاح نامے پر دستخط کرنے والے نکاح خواں کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔

    واضح رہے کہ پولیس نے دعا زہرہ کو پاکپتن سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے ، اس حوالے سے دعا کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے ویڈیو بیان میں دعا زہرہ نے کہا کہ میں اپنی مرضی سے اپنے گھر سے آئی ہوں، میرے گھر والے زبردستی میری شادی کسی اور سے کرانا چاہ رہے تھے، وہ مجھے مارتے تھے، جس پر میں راضی نہیں ہوئی، اپنی مرضی سے آئی ہوں کسی نے اغوا نہیں کیا جب کہ گھر سے کوئی قیمتی سامان نہیں لائی، گھر والے میری عمر غلط بتارہے ہیں، میری عمر 18 سال ہے، اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے کورٹ میرج کی ہے، کوئی زبردستی نہیں ہوئی لہٰذا مجھے تنگ نہ کیاجائے، اپنے گھر میں شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں-


    مذکورہ ویڈیو پیغام کے بعد دعا زہرہ کی شوہر کے ہمراہ دو مختلف ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں ایک ویڈیو میں دعا کو شوہر کے ہمراہ گاڑی میں جب کہ دوسری ویڈیو میں کمرے میں بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے ویڈیو ز میں دعا کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے شادی کی ہے میں ظہیر احمد کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں اور گھر واپس نہیں جانا چاہتی ۔

    دوسری جانب دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں اس کاکہنا ہےکہ وہ لاہور کا رہائشی ہے،ایف ایس سی کیا ہےاور یونیورسٹی میں داخلے کےلیے اپلائی کیا ہے دعا سے اس کا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور ان کا گزشتہ 3 سال سےرابطہ تھا دعا زہرہ کراچی سے خود آئی ہے، دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا، وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی۔

    ظہیر احمد کاکہنا تھا کہ میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے، میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئےمثبت جواب نہیں دیا ، اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی –

  • پاکستان میں عیدالفطر کس دن ہو گی؟ ماہرین فلکیات نے بتادیا

    پاکستان میں عیدالفطر کس دن ہو گی؟ ماہرین فلکیات نے بتادیا

    لاہور: ماہرین فلکیات نے کہا ہے کہ اتوار کی شام ملک کے کسی بھی علاقے میں چاند دکھائی دینے کا کوئی امکان نہیں تاہم پاکستان میں عیدالفطر منگل تین مئی کو ہوگی-

    باغی ٹی وی : رویت ہلال ریسرچ کونسل کے سیکریٹری جنرل خالد اعجاز مفتی کے مطابق نئے چاند کی رویت اس وقت ہوتی ہے جب اس کی عمر غروب آفتاب کے وقت 19 گھنٹے سے زائد اور غروب شمس و غروب قمر کا درمیانی فرق 40 منٹ سے زائد ہوجائے، چاند کا زمین سے زاویائی فاصلہ کم از کم 6 ڈگری اور چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ کم از کم 10 ڈگری ہونا چاہیے۔

    ناسا نے مریخ پر سورج گرہن کی ویڈیو جاری کردی

    انہوں نے کہا کہ نیا چاند 30 اپریل اور یکم مئی کی درمیانی رات پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق ایک بج کر 28 منٹ پر پیدا ہوگا، اتوار یکم مئی کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 18 گھنٹوں سے کم ہوگی، نیز غروب شمس اور غروب قمر کا درمیانی فرق جو کم از کم 40 منٹ ہونا چاہیے وہ چترال، دیر، ہزارہ، ہنزہ، غذر اور گلگت میں 37 منٹ جبکہ ان علاقوں کے علاوہ پاکستان کے تمام علاقوں میں 37 منٹ سے کم ہوگا جبکہ چاند کا سورج سے زاویائی فاصلہ جو 10 ڈگری ہونا چاہیے، پاکستان کے تمام علاقوں میں 8 ڈگری ہوگا لہٰذا پاکستان میں شوال کا چاند دوربین کی مدد سے بھی دکھائی نہیں دے سکتا۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق پیر دو مئی کی شام غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر پاکستان کے تمام علاقوں میں 41 گھنٹوں سے بھی زائد ہوچکی ہوگی۔ دوسری جانب غروب شمس و غروب قمر کا درمیانی فرق جو 40 منٹ ہونا چاہیے وہ پا کستان کے تمام علاقوں میں 89 منٹ سے زائد ہوگا لہٰذا اگر پیر کی شام بادل نہ ہوئے تو چاند پاکستان کے تمام علاقوں میں واضح اور تادیر دکھائی دے گا اِس طرح یکم شوال المکرم یعنی عید الفطر 30 روزے مکمل کرنے کے بعد منگل 03 مئی 2022 ء کو ہو گی۔

    پاکستان میں پہلا روزہ اتوار 3 اپریل جبکہ عیدالفطر 3 مئی 2022 کو ہوگی،رویت ہلال ریسرچ کونسل

    محکمہ موسمیات کی جانب سے وزارتِ مذہبی امور کو ہلال کی رویت بارے لکھے گئے خط کی کاپی اِسلامی ماہ کے آغاز کی ممکنہ تاریخ سے 15 روز قبل محکمہ موسمیات اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیتا ہے لیکن بوجوہ شوال کے ہلال کی رویت کے خط کو اِس بار 25 اپریل تک بھی اپ لوڈ نہیں کیا گیا۔

    خدشہ ہے کہ پاکستانی ماہرینِ فلکیات، محکمہ موسمیات، سپارکو اور وزارتِ سائنس کی تحقیقات کے برعکس اِس برس بھی عید الفطر سعودی عرب کے ساتھ منانے کے لیے یکم مئی 2022ء کی شام رویت ہلال کی جھوٹی شہادتوں کو قبول کر لیا جائے گا جس طرح گزشتہ برس کیا گیا تھا-

    13 سال کی عمر میں ’پی ایچ ڈی‘ کی تیاری کرنے والا ننھا آئن سٹائن

    دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات کی فیڈرل اتھارٹی کی جانب سے عید الفطر پر 30 اپریل 29 رمضان سے 4 مئی تین شوال تک چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ رواں برس عید الفطر دو مئی کو ہوگئی جبکہ چھٹیوں کا آغاز 29 رمضان سے ہوگا تاہم چاند نکلنے کے امکانات 30 رمضان کو ہےماہرین فلکیات کی پیش گوئی کے اعتبار سے اگر چاند 30 تاریخ کو نکلا تو اماراتی شہری عید الفطر پر پانچ روز کی تعطیلات سے لطف اٹھائیں گے ان تعطیلات کا اعلان متحدہ عرب امارات کے وفاقی سرکاری ملازمین کےلیے کیا گیا ہے۔

  • ہندو انتہاپسندوں کا خوف: دلت نوجوان پولیس حصار میں دلہن بیاہنے پہنچ گیا

    ہندو انتہاپسندوں کا خوف: دلت نوجوان پولیس حصار میں دلہن بیاہنے پہنچ گیا

    نئی دہلی: بھارت میں دلت نوجوان انتہاپسندوں کے تشدد سے بچنے کیلئے درجنوں پولیس اہلکاروں کے پروٹوکول میں دلہن لانے پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق پولیس اہلکاروں کے حصار میں بارات لے جانے کا واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش کے بلندشہر میں پیش آیا جہاں ایک دلت نوجوان نے ہندو انتہا پسندوں کے خوف سے پولیس تھانے میں بارات میں پروٹوکول دینے کی گزارش کی تھی۔

    بھارت میں اونچی ذات کے ہندوؤں نے دلت لڑکے کو پیرچاٹنے پرمجبورکردیا

    دلت نوجوان نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ آٹھ ماہ قبل علاقے ایک دلت نوجوان کو گھوڑے پر سوار ہوکر بارات لے جانے پر ٹھاکر برادری نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہ ہلاک ہوگیا تھا۔

    نوجوان نے پولیس کو بتایا کہ وہ شدید خوفزدہ ہے کہ اگر گھڑچڑھائی کی رسم کی تو اسے بھی مار دیا جائے گا لہذا پولیس مجھے پروٹوکول دے۔

    پولیس نے نوجوان کی خواہش پوری کی اور بارات لے جانے کےلیے بھاری نفری فراہم کی، جس کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہے۔

    بی جے پی نے دہلی کے 40 گاؤں کے مسلم نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا لیا

    دلت نوجوان کی درخواست پر پولیس کی بھاری نفری نے گھوڑے پر سوار دولہا اور باراتیوں کو اپنے حصار میں لے کر دلہن کے گھر تک پہنچایا-

    واضح رہے کہ قبل ازیں اترپردیش کے شہر رائے بریلی میں اونچی ذات کے ہندونے دلت لڑکے کواپنے پاؤں چاٹنے پرمجبورکردیا تھا سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دلت لڑکے کوکان پکڑ کرزمین پربیٹھے دیکھا گیا جبکہ موٹرسائیکل پربیٹھا انتہاپسند ہندودلت لڑکے کواپنے پاؤں چاٹنے کا حکم دیتا ہے جبکہ اس کے دیگرساتھی ہنستے رہے-

    پولیس نے دلت لڑکے کی شکایت پر7افراد کو گرفتار کرلیا تھا پولیس کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ 10 اپریل کو پیش آیا اور گرفتاریاں متاثرہ کی تحریری شکایت کے بعد کی گئیں۔ کیس کے کچھ ملزمان نام نہاد اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔

    ایک سینئر پولیس اہلکار اشوک سنگھ نے کہا تھا کہ مشتعل طالب علم نے پولیس سٹیشن میں شکایت کی تھی جس کے بعد اس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف یوپی پولیس نے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا-

    دہلی فسادات،14 افراد گرفتار،بے گناہ مسلمان پھنسا دیئے گئے

  • لاکھوں روپے کے ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والی عمران خان کی القادر یونیورسٹی میں صرف 37 طلبا زیر تعلیم

    لاکھوں روپے کے ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والی عمران خان کی القادر یونیورسٹی میں صرف 37 طلبا زیر تعلیم

    عمران خان کے خوابوں کا ادارہ القادر یونیورسٹی 2019 میں خان کے دور حکومت میں ایک رئیل اسٹیٹ کی طرف سے عطیہ کی گئی زمین سے تعمیر اور شروع کیا گیا اب تک 37 طلباء پر مشتمل ایک کالج ہے جبکہ اسے لاکھوں روپے کے عطیات مل رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان ریاست مدینہ کے تصور کی ترویج کیا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد ان سے کئی مرتبہ سوال کیا گیا کہ انہوں نے ریاست مدینہ کی تکمیل کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات اٹھائے۔

    اسی طرح اکثر انٹرویوز اور تقاریر میں عمران خان پاکستان کے تدریسی نظام اور اس سے جنم لینے والے مسائل کا ذکر بھی کرتے رہے ہیں اور اس کا تدارک ایک ایسے تعلیمی نظام کو قرار دیتے ہیں جہاں دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جائے۔

    اپنے اسی خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے علاقے سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا تھا ، جہاں دنیاوی تعلیمات کو صوفی ازم اور سیرت النبی کے ساتھ نہ صرف ملا کر پڑھا جائے گا بلکہ اس پر ریسرچ بھی کی جائے گی۔

    اس یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیم دی جائے گی بلکہ آکسفورڈ ریذیڈینشل کالج کی طرز پر طلبہ کو مینٹورز بھی اسائن کیے جائیں گے جو نہ صرف کلاس ختم ہونے کے بعد بھی طلبہ کے ساتھ ہوں گے بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کریں گے۔ اس جامعہ میں ایسا نظامِ تعلیم وضع کیا گیا ہے جس میں طلبہ و طالبات کو جدید علوم قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف سکھائے جائیں گے بلکہ اصل روح کے مطابق ان تعلیمات پر عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔

    یہ ایک پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹی ہے اور اس کے انتظامات ایک ٹرسٹ کے تحت کیے گئے ہیں تاکہ حکومتوں کی تبدیلی کا اس پر کوئی اثر نہ پڑے۔ اس پراجیکٹ کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی اس پراجیکٹ کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں۔

    تاہم اب دی نیوز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لاکھوں روپے کا ٹرسٹ حاصل کرنے والی اس یونیورسٹی میں صرف 37 طلباء زیر تعلیم ہیں-

    ” دی نیوز” کی رپورٹ کے مطابق کالج ایک ٹرسٹ کے ذریعے چلایا جاتا ہے، اس کے اصل معتمد عمران خان (اس وقت کے وزیراعظم)، بشریٰ خان (عمران کی اہلیہ)، ذوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری) اور ظہیر الدین بابر اعوان تھے۔ بعد ازاں زلفی بخاری اور بابر اعوان کو ٹرسٹ سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ ڈاکٹر عارف نذیر بٹ اور مسز فرحت شہزادی کو تعینات کیا گیا۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسز فرحت شہزادی جنہیں فرح خان / فرح بی بی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے مسز بشریٰ خان کی قریبی دوست ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ القادر انتظامیہ یونیورسٹی ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن ابھی تک محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے اسے تسلیم نہیں کیا ہےاسےاب تک صرف ایک مضمون Bs-MS (Management Sciences) پڑھانےکی اجازت دی گئی ہےاورگورنمنٹ کالج یونیورسٹی پنجاب کے ساتھ اس کے الحاق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 50 طلباء کو داخلہ دے سکتا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جہاں ہر قسم کے اخراجات عطیہ دینے والے اپنے معاہدے کے مطابق برداشت کر رہے تھے وہیں القادر انسٹی ٹیوٹ نے ان طلباء سے ٹیوشن فیس بھی وصول کی۔

    جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک، ٹرسٹ کو 180 ملین روپے کے عطیات ملے جولائی 2020 سے جون 2021 تک ٹرسٹ کی کل آمدنی 101 ملین روپے تھی۔جبکہ عملے اور کارکنوں کی تنخواہوں سمیت کل اخراجات صرف 8.58 ملین روپے کے لگ بھگ تھے۔

    رئیل اسٹیٹ ٹائیکون نے یونیورسٹی کو 458 کنال اراضی عطیہ کی جس کی سٹیمپ پیپر کے مطابق اس کی مالیت 244 ملین روپے تھی یہ زمین پہلے زلفی بخاری کو منتقل کی گئی جنہوں نے بعد میں جنوری 2021 میں ٹرسٹ کی تشکیل کے بعد اسے منتقل کر دیا یہ زمین موضع بکرالا، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم میں واقع ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ عطیہ کی گئی اراضی کے اعترافی معاہدے پر مسز بشریٰ خان (القادر یونیورسٹی کی جانب سے) اورٹرسٹ دینے والے ادارے کے درمیان اس وقت دستخط کیے گئے جب عمران خان (القادر یونیورسٹی کے چیئرمین) وزیر اعظم کے عہدے پر فائز تھے۔

    عطیہ دہندہ نے تصدیق کی کہ اس نے القادر یونیورسٹی پروجیکٹ ٹرسٹ کے مقصد کے لیے زمین خریدی تھی عطیہ دہندہ نے اعلان کیا کہ اس کی وجہ سے 22 جنوری 2021 کو یہ زمین زلفی بخاری کی القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کی واحد ملکیت کے نام سے ٹرسٹ کو منتقل ہوئی۔

    معاہدے میں عطیہ کنندہ نے القادر ٹرسٹ پراجیکٹ کے لیے عمارت کی سہولیات کی تعمیر پر اتفاق کیا۔ عطیہ دہندہ نے معاہدے میں تصدیق کی کہ اس نے عمارت کا ایک حصہ پہلے ہی تعمیر کر لیا ہے۔

    عطیہ کنندہ نے معاہدے میں مزید تصدیق کی کہ وہ مجوزہ القادر یونیورسٹی کے قیام اور اسے چلانے کے تمام اخراجات برداشت کرے گا۔ یہاں تک کہ وہ القادر پروجیکٹ کے قیام اور اسے چلانے کے لیے ٹرسٹ کو فنڈز فراہم کرے گا۔ ٹرسٹ نے اراضی، عمارت، سہولیات اور تعمیر شدہ یا تعمیر کیے جانے والے انفراسٹرکچر کی شکل میں عطیہ دہندگان کے تعاون کو قبول اور تسلیم کیا۔

    12 مارچ 2021 کو عمران خان نے القادر یونیورسٹی، سوہاوہ، جہلم میں شجر کاری مہم کا آغاز کیا۔ 29 نومبر 2021 کو عمران خان نے یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاکس کا افتتاح کیا۔

    مزید برآں، القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پروجیکٹ نے اپنے ویب پیج – alqadir.edu.pk میں خود کو ایک یونیورسٹی کے طور پر بتایا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک کالج ہے کیونکہ کمیشن (PHEC) 17 مارچ 2022 سے ڈگری دینے کے لیے چارٹر دینے کی درخواست پنجاب ہائر ایجوکیشن کے پاس زیر التوا ہے۔

    اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ ٹرسٹ نے ایک کالج قائم کیا جس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے اور ٹرسٹ القادر انسٹی ٹیوٹ کے نام سے ڈگری دینے کا درجہ دینا چاہتا ہے۔

    پی ایچ ای سی نے اس خط کے جواب میں کہا کہ درخواست کے ساتھ کچھ دستاویزات غائب ہیں مثال کے طور پر القادر انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران کے لیے ایچ ای سی کے مساوی سرٹیفکیٹ۔ پی ایچ ای سی نے درخواست دہندگان سے مالی اور غیر مالیاتی تفصیلات کے ساتھ ایک آڈٹ رپورٹ بھی جمع کرانے کو کہا کیونکہ پہلے سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو کمیشن نے ناکافی سمجھا۔

    رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عارف نذیر بٹ نے بتایا کہ ایک ٹرسٹیز ڈگری دینے کی حیثیت کے طور پر چارٹر حاصل کرنے کے لیے، پی ایچ ای سی کے قوانین کے تحت پہلے ایک سرکاری یونیورسٹی کے ساتھ الحاق شدہ کالج قائم کرنا ہوتا ہے 2021 میں مینجمنٹ سائنس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا الحاق شدہ کالج بن گیا تھا-

    ” ڈاکٹر عارف بٹ نے کہا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (GCU) کے الحاق شدہ کالج کے طور پر، ہمیں 2021 کے موسم خزاں میں 50 سیٹوں کے ساتھ BS مینجمنٹ سائنس پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔

    ڈاکٹر عارف نذیر بٹ نے کہا کہ ٹرسٹ نے مختصر وقت میں ڈگری دینے والا ادارہ بننے کے تقاضوں کو پورا کیا ہے اور پنجاب حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ مینجمنٹ سائنس اور اسلامک سٹڈیز دونوں شعبوں کی بنیاد پر ڈگری دینے کے لیے چارٹر کی اجازت دے۔ درخواست HEC پنجاب حکومت میں زیر عمل ہے۔ تنظیم کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہر سال مزید محکموں کا اضافہ کیا جائے گا-

    عارف نذیر بٹ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ 2020 کے آخر میں القادر ٹرسٹ کی انتظامی کمیٹی کے رکن اور مسز فرحت شہزادی کے ساتھ دسمبر 2021 میں ٹرسٹی بنے۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب تمام اخراجات رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ذریعے پورے کیے جاتے ہیں تو ٹرسٹ اضافی عطیات کیوں وصول کر رہا ہے، اور وہ طلباء سے ٹیوشن فیس کیوں وصول کر رہا ہے، ڈاکٹر عارف نے جواب دیا، "القادر ٹرسٹ کے پاس سرمایہ اور آپریشنل اخراجات ہیں جب سے یہ چل رہا ہے۔ الحاق کالج. ٹرسٹ کو مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایک ریزرو فنڈ بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، ٹرسٹ عطیات اور داخلی وسائل جیسے ٹیوشن فیس سے فنڈز کے ذرائع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ٹرسٹ میں داخل ہونے والے تمام طلباء کو مالی امداد میں ٹیوشن کی چھوٹ ملی تھی۔

    ڈاکٹر عارف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کیا گیا۔ تاہم، انہوں نےآڈٹ کی تفصیلات شئیر نہیں کیں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بات کرنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے-

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پروجیکٹ کے دیگر ٹرسٹیز سے بھی یہی سوال پوچھا گیا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔

    زلفی بخاری نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وزیر اعظم نے تعلیمی اداروں کی تعمیر اور ہمارے مذہب ‘اسلام’ کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے عطیات کو حقیقی طور پر استعمال کیا ان سے اس زمین (تقریباً 500 کنال) کے بارے میں بھی بار بار سوال کیا گیا جو کہ رئیل اسٹیٹ کمپنی نے ان کے نام منتقل کی تھی جسے بعد میں بشریٰ خان اور کمپنی کے درمیان ایک معاہدے میں تسلیم کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

    26 دسمبر 2019 کو ظہیر الدین بابر اعوان کے ذریعہ سب رجسٹرار اسلام آباد کے دفتر میں ایک ٹرسٹ ڈیڈ رجسٹر کی گئی ٹرسٹ کا نام ’’القادر یونیورسٹی پروجیکٹ‘‘ رکھا گیا اور ایف 8 اسلام آباد میں اعوان کے گھر کو اس کا دفتر قرار دیا گیا اس وقت اصل معتمد عمران خان، بشریٰ خان، ذوالفقار عباس بخاری (سابق ایس اے پی ایم برائے اوورسیز پاکستانی) اور بابر اعوان (اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے قانونی مشیر) تھے۔

    دی نیوز کی رہورٹ میں بتایا گیا کہ 22 اپریل 2020 کو، عمران خان نے القادر ٹرسٹ اسلام آباد کے چیئرمین کی حیثیت سے جوائنٹ سب رجسٹرار، اسلام آباد کو ایک خط لکھا، جس میں انہیں مطلع کیا گیا کہ ظہیر الدین بابر اعوان اور ذوالفقار عباس بخاری کو ٹرسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ترمیم شدہ ٹرسٹ ڈیڈ کے ساتھ ٹرسٹ کا دفتر عمران خان کے بنی گالہ ہاؤس میں منتقل کر دیا گیا۔ خط کے ساتھ ترمیم شدہ ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کرکے جوائنٹ سب رجسٹرار اسلام آباد کو بھیج دیا گیا جب عمران خان وزیراعظم کے عہدے پر فائز تھے۔ تمام دستاویزات اس کاتب کے پاس موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق عطیہ کے حصے کے طور پر، رئیل اسٹیٹ کمپنی نے 458 کنال کی زمین موضع بکراالہ، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم میں ذوالفقار عباس بخاری کے نام پر القادر ٹرسٹ پروجیکٹ کے کسٹوڈین کے طور پر خریدی اور 22 جنوری 2021 کو، 22 جنوری 2021 کو جناب ذوالفقار عباس بخاری نے یہ زمین ٹرسٹ کے نام منتقل کی۔ اسٹامپ ڈیوٹی کے مقصد کے لیے زمین کی قیمت 243,972,300 روپے مقرر کی گئی تھی۔ تمام دستاویزات اس نمائندے کے پاس موجود ہیں۔

    24 مارچ 2021 کو رئیل اسٹیٹ کمپنی اور بشریٰ خان (ٹرسٹ کی جانب سے) کے درمیان عطیہ کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔

    جنوری 2021 سے دسمبر 2021 تک، ٹرسٹ کو 180 ملین روپے کے عطیات موصول ہوئے۔ جولائی 2020 سے جون 2021 تک ٹرسٹ کی کل آمدنی 101 ملین روپے تھی۔ بیلنس شیٹ کے مطابق عملے اور کارکنوں کی تنخواہوں سمیت کل اخراجات تقریباً 8.58 ملین روپے تھے۔

    17 فروری 2022 کو چیریٹی کمیشن حکومت پنجاب نے القادر پروجیکٹ ٹرسٹ، جی ٹی روڈ سوہاوہ، بکرالا، ضلع جہلم کو بطور چیریٹی رجسٹر کیا۔

    چیریٹی پورٹل کے مطابق القادر ٹرسٹ پروجیکٹ کے ٹرسٹیز کے نام عمران خان، مسز بشریٰ خاور عمران احمد خان نیازی، ڈاکٹر عارف نذیر بٹ اور مسز فرحت شہزادی شامل ہیں۔

    2 مارچ 2022 کو سب رجسٹرار سوہاوہ کے دفتر میں ‘انڈومنٹ فنڈ برائے القادر انسٹی ٹیوٹ’ کے عنوان سے ایک ٹرسٹ دستاویز رجسٹر کی گئی۔ اس دستاویز کے ٹرسٹیز کے نام بشریٰ خان، فرحت شہزادی اور ڈاکٹر عارف نذیر بٹ ہیں جبکہ اس دستاویز کے مصنف عمران خان ہیں۔

  • دعا نے والد کیخلاف استغاثہ دائر کردیا، والد اور کزن پر اغوا کا الزام، شادی کو 18 سال نہیں ہوئے تو بیٹی کیسے 18 سال کی ہوگئی،والد دعا زہرہ

    دعا نے والد کیخلاف استغاثہ دائر کردیا، والد اور کزن پر اغوا کا الزام، شادی کو 18 سال نہیں ہوئے تو بیٹی کیسے 18 سال کی ہوگئی،والد دعا زہرہ

    دعا زہرہ نے نکاح کے بعد والد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور کی سیشن عدالت میں والد کے خلاف دائر درخواست میں دعا زہرہ نے شادی کے بعد والد پرلاہورمیں واقع گھر میں گھسنے اور کزن کے ساتھ مل کراغوا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔

    میں اپنے گھر میں اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں، دعا زہرہ کا ویڈیو پیغام جاری

    دعا زہرہ کا درخواست میں کہنا ہے کہ پسند سے شادی کی ہے اور اپنےشوہر کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی ہوں میرے والد زبردستی میری شادی میرے کزن زین العابدین سے کرانا چاہتے ہیں 18اپریل کو والد مہدی کاظمی اور کزن زین العابدین اچانک گھر میں گھس آٸےاورمجھے برا بھلا کہا ۔محلے والوں کی مداخلت کی وجہ سے ساتھ لے جانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

    دعا زہرہ نے عدالت سے استدعا کی کہ والد اورکزن کو مجھے ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے لاہورکی سیشن عدالت نے دعا زہرہ کوہراساں کرنے سے روک دیا۔

    دوسری جانب دعا زہرہ کے والدین کا کہنا ہےکہ ہوسکتا ہے ان کی بیٹی کی ویڈیوز بناکر اسے بلیک میل کیا گیا ہو کیونکہ دعا ویڈیو میں خوفزدہ نظر آرہی ہے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی نے بیٹی کو کراچی لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بچی کو اگر میرے پاس نہیں تو چائلڈ پروٹیکشن کےحوالے کیاجائے، مجھے ان پر پورا اعتماد ہے ہم غلط ہوتے تو میڈیا پرکیوں آتے۔

    کراچی سےلاپتہ تیسری لڑکی کا نکاح نامہ بھی سامنے آگیا

    انہوں نے کہا کہ میری شادی 2005 میں ہوئی، شادی کو 18 سال نہیں ہوئے تو بیٹی کیسے 18 سال کی ہوگئی؟ 27اپریل 2008 دعا کی تاریخِ پیدائش ہے مہدی کاظمی نے پریس کانفرنس کے دوران دعا زہرہ کا پیدائشی سرٹیفکیٹ بھی دکھایا۔

    انہوں نے کہا کہ مکمل تفتیش کی جائے تاکہ معلوم ہوکہ اصل معاملہ کیا ہے، میری بیٹی سے جوکہلوایا جارہا ہے وہ اسی طرح بول رہی ہے، گیم کےاندرمیسجنگ سسٹم سے لڑکے نے میری بیٹی کوٹریپ کیا۔

    دعا زہرہ کی والدہ نے کہا کہ دعا کا جس نے نکاح پڑھوایا ، نکاح نامے پر اس کی مہر نہیں، میں وکیل کی بیٹی ہوں اتنا قانون میں بھی جانتی ہوں، ہوسکتا ہےمیری بیٹی کی ویڈیوز بناکر اسے بلیک میل کیا گیا ہو، میری بیٹی ویڈیو میں خوف زدہ نظر آرہی ہے۔

    دعا زہرہ کیس:اہم پیش رفت: پولیس نے مبینہ نکاح خواں کو حراست میں:مگرمعاملہ پھرپچیدہ

  • سی او او پی آئی اے ائیر کموڈور جواد ظفر چوہدری 56 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

    سی او او پی آئی اے ائیر کموڈور جواد ظفر چوہدری 56 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

    ائیر کموڈور جواد ظفر چوہدری سی او او پی آئی اے 56 سال کی عمر میں انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سی او او پی آئی اے ائیر کموڈور جواد ظفر چوہدری آج صبح دل کی تکلیف کے باعث 56 سال کی عمر میں انتقال کر گئے-

    مرحوم نے اپنے پیچھے پسماندگان میں چار بچے اور بیوہ چھوڑی ہے۔

    واضح رہے کہ 5 اکتوبر 2020 کو ائیرکموڈور جواد ظفر کو قومی ائیرلائن (پی آئی اے) کا چیف آپریٹنگ افسر مقرر کیا گیا تھا اعجاز مظہر کے مستعفی ہونے سے چیف آپریٹنگ افسر کا عہدہ خالی ہوا تھا جس پر ائیر کموڈو جواد ظفر کی تقرری کی گئی تھی۔