Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ریاستی انتخابات :نریندرمودی کی جیت میں فیس بک کا کردار بے نقاب ہو گیا

    ریاستی انتخابات :نریندرمودی کی جیت میں فیس بک کا کردار بے نقاب ہو گیا

    نئی دہلی: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے بھارت میں ہونے والے حالیہ ریاستی انتخابات میں بھی مودی کی جماعت بی جے پی کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

    باغی ٹی وی : قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپوٹ کے مطابق مقامی کمپنی "دی رپورٹر کلیکٹو” اور ” ایڈ واچ ” نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 22 ماہ کے دوران بھارت میں ہونے والے 10 انتخابات کے دوران فیس بک پر اشتہارات کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا –

    جس میں 10 میں سے 9 الیکشن کے دوران دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سب سے سستے اشتہارات دیئےبشمول 2019 کے قومی پارلیمانی انتخابات جن میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی، پارٹی کو اپنے مخالفین کے مقابلے میں اشتہارات کے لیے کم شرح وصول کی گئی۔

    حجاب معاملہ پر بھارتی سپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار

    رپورٹرز کلیکٹو (TRC)، بھارت میں قائم ایک غیر منافع بخش میڈیا تنظیم، اور سوشل میڈیا پر سیاسی اشتہارات کا مطالعہ کرنے والے ایک تحقیقی پروجیکٹ ایڈ واچ (ad.watch) نے فروری 2019 اور نومبر 2020 کے درمیان فیس بک پر دیے گئے 5 لاکھ 36 ہزار 7 سیاسی اشتہارات کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔

    ایڈ لائبریری ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس (API) کے ذریعے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی،میٹا پلیٹ فارمز آئی این سی Meta Platformsc کے ‘شفافیت’ ٹول جو اس کے پلیٹ فارمز پر سیاسی اشتہارات کے ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق فیس بک نے بی جے پی کے امیدواروں کے اشتہارات دس لاکھ بار دکھانے کے 41 ہزار 844 روپے چارج کیے جب کہ کانگریس اور دیگر حزب مخالف کی جماعتوں سے اتنی ہی تعداد کے لیے 53 ہزار 7 سو 76 روپے چارج کئے-

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    آج اسمبلی میں بھی اپوزیشن لیڈر سونیا گاندھی نے اپنی تقریر میں فیس بک کے اس دہرے معیار کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کو سیاست رہنے دیا جائے اور حکومت دیگر ہتھیکنڈوں کے بجائے پرفارمنس سے الیکشن جیتیں۔

    جبکہ ان نتائج سے سپریم کورٹ آف انڈیا کے اندیشوں (پی ڈی ایف) کو تقویت ملتی ہے کہ فیس بک کی پالیسیاں اور الگورتھم انتخابی سیاست اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں۔

    سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جولائی میں فیس بک کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات اور ووٹنگ کے عمل، جو جمہوری حکومت کی بنیاد ہیں، سوشل میڈیا کی ہیرا پھیری سے خطرے میں ہیں یہ 240 ملین کے قریب صارفین کے ساتھ ایک غیر جانبدار اور اندھا پلیٹ فارم ہے۔

    اسرائیل سائبرحملے سے بہت متاثرہوگیا

    فیس بک نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ دہلی حکومت کی طرف سے شہر میں 2020 کے فسادات کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کے سامنے حاضر ہونے سے استثنیٰ دیا جائے اور یہ شکایت کہ فیس بک کو نفرت پھیلانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

    عدالت کا حکم دیگر ممالک میں ہونے والے تنازعات اور بحث و مباحثے پر مبنی تھا، خاص طور پر امریکہ، جو کہ 2016 کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے فیس بک کا استعمال کیے جانے والے انکشافات سے متاثر ہوا تھا۔

    گزشتہ برس اسرائیلی فوج نےفلسطینی صحافیوں پر260 سے زائد حملےکیے، رپورٹ

  • میک آرٹسٹ اور ماڈلز کے ساتھ بدسلوکی: معروف برانڈ نے ثنا جاوید کو تشہیری مہم سے الگ کردیا

    میک آرٹسٹ اور ماڈلز کے ساتھ بدسلوکی: معروف برانڈ نے ثنا جاوید کو تشہیری مہم سے الگ کردیا

    مختلف ماڈلز، میک اپ آرٹسٹس، اسٹائلسٹس اور نئی اداکاراؤں کی جانب سے اداکارہ ثنا جاوید پر نامناسب رویے کے الزامات لگائے جانے کے بعد معروف کلاتھنگ برانڈ ’رنگ رسیا‘ نے اداکارہ کو اپنی تشہیری مہم سے الگ کردیا۔

    باغی ٹی وی : ڈراما سیریل ’’خانی‘‘ سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ ثنا جاوید پر گزشتہ کچھ روز سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ متعدد میک اپ آرٹسٹس، اداکاروں اور ماڈلز نے سیٹ پر ثنا جاوید کی ان کے ساتھ بدسلوکی اور برے رویے کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے ہیں۔

    ماڈل منال ندیم، عمیر وقار، اکرام گوہر، ریان تھامس، انیلا مرتضیٰ، واجد خان، ہانش قریشی سمیت متعدد شوبز شخصیات نے ثنا جاوید کو بدتمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداکارہ کا رویہ سیٹ پر ان کے ساتھ بہت برا ہے۔

    شوبز شخصیات کی جانب سے مسلسل الزامات لگائے جانے پر اداکارہ ثنا جاوید نے ان تمام لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سائبر کرائم میں شکایت بھی درج کروائی ہے-

    تاہم اب پاکستان کے ایک معروف کلاتھنگ برانڈ ’رنگ رسیا‘ نے اس تمام تنازع کے پیش نظر ثنا جاوید سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے۔

    ’رنگ رسیا‘ نے 15 مارچ کو انسٹاگرام اسٹوری میں بتایا کہ ثنا جاوید پر حالیہ دنوں میں لگائے گئے نامناسب رویے کے الزامات پر برانڈ کو سخت تشویش ہے۔

    برانڈ کے مطابق مختلف افراد کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کے پیش نظر کمپنی نے ثنا جاوید کو اپنی تشہیری مہم سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے برانڈ نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ انہوں نے خود کو ثنا جاوید سے الگ کرلیا ہے جو کہ عید کی تشہیری مہم کے لیے ان کے برانڈ کا مرکزی چہرہ تھیں۔

    برانڈ نے بتایا کہ ’رنگ رسیا‘ کی عید کلیکشن کے لیے حال ہی میں منال سلیم اور ثنا جاوید کے ساتھ تشہیری مہم شروع کی گئی تھی اور متعدد فوٹوشوٹس بھی کروائے گئے تھے مگر اب وہ تشہیری مہم کا دوبارہ فوٹوشوٹ کروائیں گے۔

    کلاتھنگ برانڈ نے تصدیق کی کہ وہ اب نئے چہرے کے ساتھ عید کلیکشن کی تشہیری مہم شوٹ کرے گی کیونکہ ہم عوامی جذبات کا احترام کرتے ہیں۔

    ’رنگ رسیا‘ نے فیشن انڈسٹری سے وابستہ دیگر برانڈز کو بھی مذکورہ مسئلے جیسے دیگر معاملات سامنے آنے پر خبردار کیا اور کہا کہ برانڈز احتیاط کے ساتھ کام لیں بیان میں فیشن برادری سے گزارش کی گئی کہ براہ کرم ان برانڈز کا بھی خیال رکھیں جو اپنے وقت اور محنت کے علاوہ ایسے شوٹ پر لاکھوں خرچ کرتے ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CbIJj2BNr2m/
    ’رنگ رسیا‘ نے اپنے پیغام میں ثنا جاوید پر لگائے گئے الزامات کو درست یا غلط قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی بات کی، تاہم بتایا کہ اداکارہ پر لگائے گئے الزامات کے بعد انہیں تشہیری مہم سے ہٹایا جایا رہا ہے۔

    ’رنگ رسیا‘ کی مہم کے دوران ہی ثنا جاوید نے مبینہ طور پر منال سلیم کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا ماڈل منال سلیم نے ابتدائی طور پر 9 مارچ کو ثنا جاوید کا نام لیے بغیر ان کے خلاف ایک اسٹوری شیئر کی تھی۔

    اسرابلگیج نے پاکستانی اداکاراؤں میں صرف عائشہ عمرکو ہی انسٹاگرام پر کیوں فولو کیا؟

    منال سلیم نے انسٹاگرام اسٹوری میں ثنا جاوید کا نام لیے بغیر برانڈز کو التجا کی تھی کہ انہیں اب کسی اداکارہ کے ہمراہ کام کرنے پر مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ یہ اداکارائیں ہمیں ’’دو ٹکے کی ماڈلز‘‘ سمجھتی ہیں اداکاراؤں میں صرف خود کو ہی بہتر سمجھنے کی ضد ہوتی ہے، اس لیے وہ آئندہ کسی بھی اداکارہ کے ہمراہ کام نہیں کریں گی۔ منال سلیم کے بعد متعدد میک اپ آرٹسٹوں اور اداکاروں نے بھی ثنا جاوید کے رویے کو نامناسب قرار دیا تھا۔

    ان کی جانب سے اسٹوری شیئر کیے جانے کے بعد میک اپ آرٹسٹ عمیر وقار نے بھی ان کی اسٹوری کو شیئر کیا تھا، تاہم انہوں نے بھی اداکارہ کا نام نہیں لکھا تھا منال سلیم کی اسٹوری کو میک اپ آرٹسٹ اکرام گوہر نے بھی شیئر کیا تھا، جنہوں نے لکھا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ اداکارہ ثنا جاوید کی بات کر رہی ہیں۔

    اس کے بعد دیگر میک اپ آرٹسٹس، اسٹائلسٹس، ماڈلز اور نئی اداکاراؤں نے بھی ثنا جاوید کے خلاف الزامات لگاتے ہوئے ان پر نامناسب رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

    علی ظفرکی میشا شفیع کی درخواست جرمانے کیساتھ مسترد کرنے کی استدعا

    جہاں شخصیات نے ثنا جاوید پر الزامات لگائے تھے، وہیں متعدد افراد نے ثنا جاوید کی حمایت بھی کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اداکارہ کو کافی عرصے سے جانتے ہیں اور اداکارہ نے کبھی ان کے ساتھ برا رویہ اختیار نہیں کیا۔

    لوگوں کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد ہی ثنا جاوید نے الزامات لگانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عمیر وقار، ماڈل منال سلیم اور اسٹائلسٹ علینا مرتضیٰ کو قانونی نوٹسز بھجوائے تھے۔

    ثنا جاوید کے نوٹسز پر عمیر وقار اور علینا مرتضیٰ نے انہیں جوابات دیتے ہوئے ان کے الزامات کو مسترد کیا تھا کہ انہوں نے اداکارہ کا نام لے کر ان پر تنقید کی ہے۔

    قندیل بلوچ میرے خواب میں آکر کہتی تھی مجھے انصاف دلاؤ،صبا قمر

  • یکم رمضان المبارک 3 اپریل کو ہونے کا امکان

    یکم رمضان المبارک 3 اپریل کو ہونے کا امکان

    اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے یکم رمضان المبارک 3 اپریل کو ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کم رمضان المبارک 3 اپریل بروز اتوار کو ہونے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات نے 29 شعبان بروز ہفتہ 2 اپریل کو چاند نظر آنے کا امکان ظاہر کردیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کا قتل عام جاری:عالمی برادری پرخاموشی طاری

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کا چاند 29 شعبان کو نظر آنے کے واضح امکانات ہے، 2 اپریل کو مطلع صاف و کہیں کہیں بادل چھائے رہنے کا امکان ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی ماہرفلکیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پہلا روزہ 2 اپریل کو بروز ہفتہ کوہوگا، جبکہ عید الفطر 2 مئی 2022 کو متوقع ہے سعودی ماہرین فلکیات کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ فلکیاتی مطالعے کے مطابق رواں سال ماہ شعبان 29 دن جبکہ رمضان المبارک کا مہینہ 30 دن پرمشتمل ہوگا۔

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    شعبان کی 29 تاریخ یعنی یکم اپریل کی صبح 9 بج کر24 منٹ پرچاند کی پیدائش ہوگی، جبکہ اسی شام کومکہ مکرمہ کے مغربی افق پرہلال کی پیدائش ہوگی جو16 منٹ تک دیکھا جاسکے گا چاند کا دکھائی دینا موسم پرمشروط ہے، مطلع صاف ہونے کی صورت میں چاند نظر آنے کے امکانات ہوں گے۔

    اسی طرح فلکیات کے مطالعے کے مطابق رمضان المبارک 30 دن کا ہوگا، یوں شوال کا چاند یکم مئی کی شام کودکھائی دے گا اور عید الفطر2 مئی بروز پیر کو ہوگی –

    او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس،وفود 23 مارچ کی پریڈ میں شریک ہوں گے،طاہر اشرفی

    عریبیہ ویدر کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں رمضان المبارک 1443 ہجری کے چاند کی پیدائش یکم اپریل کی صبح 3 بج کر 24 منٹ پر ہو گی، یوں اسی روز مغرب کے وقت چاند کی عمر 15 گھنٹے سے زائد ہو چکی ہو گی، اسی باعث یکم اپریل کو ماہ مبارک کا چاند باآسانی نظر آ جائے گا –

    تاہم ان پیشن گوئیوں کی روشنی میں پاکستان میں بھی عید الفطر 2 مئی کو ہونے کا امکان ہے، تاہم حتمی اعلان 29 رمضان المبارک کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔ .

    ملک بھر میں کورونا سے 4 افراد جاں بحق ،مثبت کیسز کی شرح 1.42 فیصد

  • مسلمان سپرہیرولڑکی کےکردارپرمبنی ویب سیریز ’’مس مارول‘‘ کا ٹریلرجاری

    مسلمان سپرہیرولڑکی کےکردارپرمبنی ویب سیریز ’’مس مارول‘‘ کا ٹریلرجاری

    پہلی پاکستانی نژادمسلمان سپرہیرولڑکی کےکردارپربمنی ویب سیریز ’’مس مارول‘‘ کا ٹریلرجاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : ویب سیریز مس مارول کی کہانی سپر ہیرو کمالہ خان کے گرد گھومتی ہے یہ پہلا موقع ہے جب ہالی ووڈ کی کسی بھی ویب سیریز کی کہانی کا مرکزی کردارمسلمان اورپاکستانی نژاد لڑکی ہے ٹریلر میں پاکستانی اداکارہ نمرہ بچہ کی بھی ایک جھلک دکھائی گئی ہے ٹریلر میں مسلمانوں کونماز پڑھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

    ٹریلر میں کمالہ خان کی پاکستان سے نسبت کو بھی کئی طرح سے اجاگر کیا گیا، کئی جگہ وہ شلوار قمیض میں ملبوس نظر آئی جبکہ کچھ دیسی ڈانس موو بھی کیے ٹریلر میں اس پہلو کو واضح طور پر اجاگر کیا گیا کہ مس مارول اس کمپنی کی پہلی مسلم ویمن سپر ہیرو ہے۔

    مس مارول ویب سیریزکے ٹریلر میں پاکستانی نژاد امریکی اداکارہ ایمان ولانی کمالہ خان عرف مس مارول کے روپ میں جلوہ گرہوئی ہیں مس مارول 16 سال کی پاکستانی نژاد امریکی مسلم نوجوان لڑکی ہے جس کا نام کمالہ خان ہے۔ جو امریکی شہر نیو جرسی میں رہتی ہے۔ اس کردار کے پاس اپنی صورت اور روپ تبدیل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ یہ پہلا مسلم کردار ہے جس پر کامک بک سیریز بنائی گئی ہے۔

    مارول اسٹوڈیوز کی اس ٹی وی سیریز کی ہدایات پاکستانی ہدایت کارہ شرمین عبید چنائے اور ان کے ساتھ مزید تین نامور ہدایت کارعدیل العربی، بلال فلاح اور بھارتی نژاد امریکی خاتون میرا مینن نے دی ہیں مس مارول کے کردار کو مارول ایڈیٹر اور ڈائریکٹر ثنا امانت نے بطور شریک تخلیق کار 2014ء میں بنایا تھا یہ ٹی وی سیریز ڈرنی پلس پر پیش کی جائے گی اور اسے 8 جون 2022 سے پیش کیا جائے گا۔

  • لائیوٹی وی پریوکرین جنگ کےخلاف احتجاج کرنیوالی روسی صحافی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟

    لائیوٹی وی پریوکرین جنگ کےخلاف احتجاج کرنیوالی روسی صحافی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟

    روسی صحافی ایڈیٹر مرینا اوفسیانیکوفا، جنہوں نے براہ راست سرکاری ٹی وی پر جنگ مخالف مظاہرے کیے تھے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے-

    باغی ٹی وی : روسی حکومت کے زیر کنٹرول ایک نیوز چینل پر براہ راست خبریں نشر ہونے والے دوران ایک خاتون صحافی جنگ مخالف بینر لے کر اسکرین کے سامنے آگئیں تھیں جن کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے-

    ایڈیٹر مرینا اوفسیانیکوفا کو ماسکو کی ایک عدالت نے منگل کے روز ایک ویڈیو بیان کے لیے ایک انتظامی جرم کا مجرم قرار دیا تھا جس میں روسیوں سے احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    یوکرین پر حملہ: روسی چینل پر براہ راست خبروں کے دوران خاتون ملازمہ کا انوکھا…

    صحافی خاتون نے عدالتی سماعت کے بعد میڈیا کو بتایا کہ حکام نے ان سے 14 گھنٹے سے زائد عرصے تک پوچھ گچھ کی اور انہیں قانونی مشیر کی اجازت نہیں دی گئی۔


    صحافی نے بتایا کہ وہ واقعی میری زندگی کے بہت مشکل دن تھے میں نے دو دن بغیر نیند کے گزارے پوچھ گچھ 14 گھنٹے سے زیادہ جاری رہی، مجھے اپنے رشتہ داروں یا دوستوں سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، مجھے کوئی قانونی مدد فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے میں کافی مشکل میں ہوں-

    واضح رہے کہ روسی ٹی وی ’چینل ون‘ پر شام کی خبریں پڑھنے کے دوران چینل کی خاتون ایڈیٹر مرینا اوفسیانیکوفا جنگ مخالف بینر لے کر آگئیں تھیں اور ساتھ ہی روسی زبان میں جنگ مخالف نعرے بھی لگائے تاکہ دنیا بھر کے لوگ ان کے احتجاج کو بھی دیکھ سکیں۔

    خاتون ایڈیٹر کی جانب سے تھامے گئے بینر پر انگریزی میں ’جنگ نہیں‘ کا جملہ لکھا ہوا تھا جب کہ روسی زبان میں بھی جنگ مخالف نعرے درج تھے ’جنگ ختم کریں، پروپیگنڈہ پر یقین مت کریں، آپ سے جھوٹ بولا جا رہا ہے‘۔

    وائرل ہونے والی ویڈیو میں پروگرام کی نشریات کے دوراں احتجاج کرنے والی خاتون ’ جنگ بند کریں اور جنگ نہیں چاہیے‘ جیسے نعرے لگاتی سنائی دیں تھیں جبکہ احتجاج کرنے والی خاتون کی جانب سے نعرے لگائے جانے کے وقت نیوز کاسٹر بھی اپنی آواز کو تیز کردیا تھا تاکہ احجاج کرنے والی خاتون کی آواز سمجھ نہ آسکے۔

    یورپی یونین نے یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے دروازے کھول دئیے

    اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے "بی بی سی” نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بعد ازاں نشریات کے دوران جنگ مخالف بینر لے کر آنے اور نعرے لگانے والی خاتون صحافی کو گرفتار کرلیا گیا، جن پر اب فوج کی بدنامی کرنے جیسے قوانین کے تحت قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔

    بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ٹی وی چینل کی نشریات کے دوراں احتجاج کرنے سے قبل مذکورہ خاتون صحافی نے ایک وڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے یوکرین میں جاری جنگی حالات کو ’جرم‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک شرم کی بات ہے کہ وہ کریملن کے پروپیگنڈہ کا حصہ بن کر کام رہی ہیں۔

    انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا تھا کہ انہیں شرم آتی ہے کہ انہوں نے خود کو ٹیلی وژن اسکرین سے جھوٹ بولنے کی اجازت دی۔

    خاتون صحافی نے ویڈیو پیغام میں روسی شہریوں کو جنگ کے خلاف احتجاج کرنے کی دعوت دی تھی اور کہا کہ صرف وہ ہی اس ’پاگل پن‘ کو روک سکتے ہیں۔

    خاتون کی شناخت سامنے آنے کے بعد انہیں فیس بک پیج سے روسی اور انگریزی زبان میں لاتعداد کمینٹس وصول ہوئے جس میں لوگ ان کے عمل کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا تھا-

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    یاد رہے کہ عام طور پر روس میں میڈیا چینلز حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور بڑے چینلز پر آزادانہ تبصرے نہ ہونے کے برابر ہیں علاوہ ازیں روس کے یوکرین پر حملہ کے بعد نئے قوانین متعارف ہونے کے بعد ٹٰی وی چینلز کو مزید پابند کیا گیا ہے۔

    رواں ماہ نافذ کیے گئے نئے قوانین میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج کے عمل کو قبضہ کہنا اور اس متعلق غلط خبریں نشر کرنا غیر قانونی عمل ہوگا روسی میڈیا جنگ کو ایک ’اہم فوجی آپریشن‘ قرار دے رہا ہے جبکہ یوکرین کو حملہ آور کے طور پر دکھا رہا ہے۔

    روسی حکام کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قوانین کے بعد آزاد ٹی وی چینلز جن میں ’ایکو آف ماسکو‘ نامی ریڈیو چینل اور ’ٹی وی رین‘ نامی ایک آنلائن ٹی وی چینل شامل ہیں، انہوں نے بھی جنگ سے متعلق خبریں نشر کرنا بند کردی ہیں۔

    تاہم ’نووایا گزیٹا‘ کے نام سے شائع ہونے والا ایک اخبار نئے قوانین کی خلاف ورزی کیے بغیر جنگ سے متعلق خبریں شائع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

    اسی طرح روسی حکومت نے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز جن میں بی بی سی جیسے ادارے بھی شامل ہیں، انہیں بھی معلومات تک محدود رسائی دے رکھی ہے، علاوہ ازیں متعدد سوشل میڈیا سائٹس اور ایپلی کیشنز کو بھی بند کردیا گیا ہے۔

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

  • سعودی عرب کا مبینہ طور پر تیل کی فروخت  ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور

    سعودی عرب کا مبینہ طور پر تیل کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور

    سعودی حکومت مبینہ طور پر تیل کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے منگل کو اس حوالے سے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سعودی اور چینی حکام کے درمیان خلیجی ممالک کے تیل کی فروخت کی قیمت ڈالر یا یورو کے بجائے یوآن میں کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے-

    دونوں ممالک نے چھ سال تک اس معاملے پر وقفے وقفے سے بات چیت کی، لیکن مبینہ طور پر بات چیت 2022 میں بڑھ گئی، کیونکہ ریاض امریکہ کے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات اور پڑوسی ملک یمن میں سعودی عرب کی فوجی کارروائی کے لیے اس کی حمایت نہ کرنے پر ناراض تھا۔

    جریدے کے مطابق، تقریباً 80 فیصد عالمی تیل کی فروخت کی قیمت ڈالر میں ہے، اور 1970 کی دہائی کے وسط سے سعودیوں نے امریکی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کے تحت تیل کی تجارت کے لیے خصوصی طور پر ڈالر کا استعمال کیا ہے۔

    یہ بات چیت بیجنگ کی جانب سے بین الاقوامی تیل کی منڈیوں میں اپنی کرنسی کو قابل تجارت بنانے اور خاص طور پر سعودیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کےلئے کی جارہی ہے چین نے اس سے قبل ریاض کی بیلسٹک میزائلوں کی تعمیر اور جوہری توانائی پر مشاورت میں مدد کی تھی۔

    اس کے برعکس، سعودی-امریکہ حالیہ برسوں میں تعلقات تیزی سے خراب ہو گئے ہیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ابتدائی طور پر خواتین کے حقوق اور مجرمانہ انصاف سے متعلق ملک کی پالیسیوں کو آزاد کرتے ہوئے ایک مصلح کے طور پر عوامی امیج پیش کیا۔

    تاہم، 2018 میں منحرف صحافی جمال خاشقجی کا قتل ولی عہد کے تعلقات عامہ اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات دونوں کے لیے تباہ کن رہا ہے صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ دراڑ مزید شدت اختیار کر گئی-

    اسی عرصے کے دوران، چین کے سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات قریب تر ہوئے ہیں، جس میں مملکت نے 2021 میں ملک کو یومیہ 1.76 ملین بیرل تیل فراہم کیا، چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کا حوالہ دیتے ہوئے،وال سٹریٹ جنرل نے بتایا جب کہ ملک اپنی تیل کی تجارت کے لیے ڈالر کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، سعودیوں کی جانب سے تبدیلی چین کے دوسرے بڑے تیل فراہم کنندگان، جیسے روس، انگولا اور عراق کے لیے ڈومینو اثر پیدا کر سکتی ہے۔

    سعودی عرب نے پہلے 2019 میں تیل کو دیگر کرنسیوں میں فروخت کرنے کی دھمکی دی تھی کہ اگر کانگریس نے ایک ایسا بل منظور کیا جس سے اوپیک کے اراکین کے لیے عدم اعتماد کی ذمہ داری کی اجازت دی جائے گی۔ یہ بل، جو کئی سالوں میں متعدد بار پیش کیا جا چکا ہے، اس سال پھر ناکام ہو گیا۔

    منگل کو یہ رپورٹ بھی سامنے آئی ہے امریکہ نے سعودیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین پر روس کے حملے اور امریکہ کی طرف سے روس کے تیل کی درآمدات میں کٹوتی کی وجہ سے گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو پورا کرنے کے لیے مزید تیل فراہم کریں۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ کمی

  • روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں

    روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں

    ماسکو: یوکرین پرحملے کے بعد عالمی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روسی حکام نے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور امریکی صدر جوبائیڈن اور ان کے بیٹے سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر جوابی پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے سی این این کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ روس نے امریکی صدر جو بائیڈن، ان کے بیٹے، وزیر خارجہ انٹونی بلنکن، دیگر امریکی حکام اور "ان سے وابستہ افراد” کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماسکو حکومت نے جسٹن ٹروڈو، جوبائیڈن اور دیگر امریکی اعلیٰ حکومتی اہلکاروں پر روس میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ موجودہ اثاثے بھی منجمد کردیےروسی پابندی کے شکار ہونے والوں کی فہرست میں امریکی وزیر دفاع لیوڈ آسٹن، سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی(سی آئی اے) کے چیف ولیم برنس اور قومی سلامتی کے میشر جیک سولیون کے ساتھ ساتھ کئی محکموں کے سربراہان اور ممتاز امریکی شخصیات بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا سمیت دیگر ممالک نے ماسکو حکومت پر پابندیاں عائد کیں جس کے جواب میں روسی حکومت نے مذکورہ پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

    ماسکو حکومت کی جانب سئ جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے ساتھ ساتھ، اگر وہ ہمارے قومی مفادات کو پورا کرتے ہیں تو ہم سرکاری تعلقات برقرار رکھنے سے انکار نہیں کرتے، اور اگر ضروری ہو تو، ہم ‘بلیک لسٹ’ میں شامل افراد کی حیثیت سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کریں گے تاکہ اعلیٰ سطحی تنظیموں کو منظم کیا جا سکے-

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی نے منگل کے روز اعلیٰ امریکی حکام کے خلاف روس کی حالیہ پابندیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا ان کے مطلوبہ اہداف پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں جب ان سے پابندیوں کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو جین ساکی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "(میں) آپ میں سے کسی کو حیران نہیں کروں گی کہ ہم میں سے کوئی بھی روس کے سیاحتی سفر کا منصوبہ نہیں بنا رہا ہے، ہم میں سے کسی کے پاس ایسے بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں جن تک ہم رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے، اس لیے ہم آگے بڑھیں گے۔”

    روس کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں میں "ٹاپ لسٹ” میں شامل لوگوں کی فہرست یہ ہے:

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکی صدر جو بائیڈن،سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن، وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی، قومی سلامتی کے مشیر جیکب سلیوان، سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی،دلیپ سنگھ، بین الاقوامی اقتصادیات کے لیے بائیڈن کے قومی سلامتی کے نائب مشیر، ریاستہائے متحدہ کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کی منتظم سامنتھا پاور
    ،صدر بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، ڈپٹی ٹریژری سیکرٹری والی ایڈیمو،ریٹا جو لیوس، ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے صدر اور چیئرمین بھی شامل ہیں-

    روس کی جانب سے جاری کے گئے بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ "اعلیٰ امریکی حکام، فوجی حکام، قانون سازوں، تاجروں، ماہرین اور میڈیا کے لوگ جو روسو فوبک ہیں یا روس کے خلاف نفرت کو ہوا دینے اور پابندیوں کے اقدامات متعارف کرانے میں کردار ادا کرتے ہیں” کو شامل کر کے اس فہرست میں توسیع کے لیے مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔

    ماسکو حکومت نے مزید کہا کہ روسی حکومت اور اس کے بینکنگ اور دیگر ادارے ان پابندیوں کو اجتماعی طور پر نافذ کریں گے۔

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

  • امریکا میں نشہ آور ادویات کی فروخت میں ملوث 16 معالجین کو قید کی سزا

    امریکا میں نشہ آور ادویات کی فروخت میں ملوث 16 معالجین کو قید کی سزا

    امریکی ریاست مشی گن اور اوہائیو میں پاکستانی نژاد کم از کم نصف درجن طبی ماہرین سمیت 16 امریکی ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئر ورکرز کو ہیلتھ کیئر فراڈ اور نشہ آور ادویات کی ڈسٹری بیوشن اسکیموں کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر سے زیادہ اکٹھے کرنے پر قیدکی سزا سنائی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی ای پی کے مطابق 7 دیگر طبی ماہرین کو بھی مجرم قرار دیا جاچکا ہے لیکن وہ سزا کے منتظر ہیں، جن کو پہلے ہی سزا سنائی جاچکی ہے وہ 8 ماہ سے لے کر 15 سال تک قید اور لاکھوں ڈالر کے جرمانے بھی ادا کریں گے سزا کا یہ اعلان پین مینجمنٹ کلینکس کے ایک کثیر ریاستی نیٹ ورک کی دریافت کے نتیجے میں سامنے آیا تو جو 2007 سے 2018 تک چل رہا تھا۔

    ایرانی لڑکی نے قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کیلئے اپنے امریکی بوائے فرینڈ کو…

    امریکی محکمہ انصاف نے بدھ کو کہا کہ یہ کلینک گولیوں کی فیکٹری تھے جہاں نشے میں مبتلا مریضوں کے علاوہ منشیات فروش بھی آتے تھے، جو ’آکسی کوڈون‘ جیسی ہائی ڈوز ایج والے نسخے کی دوائیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔

    کلینک میں کام کرنے والے ڈاکٹروں نے ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) کے ریڈار سے بچنےکے لیے ہفتے میں صرف چند گھنٹے کام کرنے پر اتفاق کیا ہوا تھا، اس کے باوجود وہ ریاست مشی گن میں آکسی کوڈون سب سے زیادہ تجویز کرنے والوں میں شامل تھے۔

    سزا پانے والوں کی فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ تمام نسلی پس منظر کے ڈاکٹرز، بشمول کاکیشین، جنوبی ایشیائی (پاکستانی اور بھارتی دونوں)، عرب، ہسپانوی اور دیگر اس اسکیم میں ملوث تھے، ان میں سے 3کے علاوہ تمام ڈاکٹر مشی گن میں میڈیسن کی پریکٹس کر رہے تھے، جبکہ 3 اوہائیو میں مقیم تھے۔

    امریکی محکمہ انصاف نے کہا کہ جن لوگوں کو پہلے ہی سزا سنائی گئی ہے ان میں 12 معالجین شامل ہیں، جو مبینہ طور پر 25 کروڑ ڈالر کی ہیلتھ کیئر فراڈ اسکیم میں ملوث ہیں جس میں نشے میں مبتلا مریضوں کا استحصال اور طبی طور پر غیر ضروری نشہ آور ادویات کی 66 کروڑ سے زیادہ خوراکوں کی غیر قانونی تقسیم شامل ہے۔

    یوکرین پر حملہ: روسی چینل پر براہ راست خبروں کے دوران خاتون ملازمہ کا انوکھا…

    2 علیحدہ علیحدہ مقدمات میں 5 معالجین کو سزا سنائی گئی، جبکہ 18 دیگر مدعا علیہان نے اعتراف جرم کیا اور 7 ملزمان سزا سنائے جانے کے منتظر ہیں۔

    عدالتی دستاویزات اور مقدمے کی سماعت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق اس اسکیم میں شامل ڈاکٹرز مریضوں کو نشہ آور ادویات فراہم کرنے سے تب تک انکار کرتے تھے جب تک کہ وہ کمر میں غیر ضروری انجیکشن لگوانے پر راضی نہ ہوں۔

    نسخے حاصل کرنے کے لیے مریضوں کو مہنگے، غیر ضروری اور بعض اوقات کمر میں تکلیف دہ انجیکشن لگانے پڑتے تھے جنہیں فیسٹ جوائنٹ انجیکشنز کہا جاتا ہے ان انجیکشنز کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ طبی ضرورت کی بجائے ان کے ذریعے سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کیا جاسکتا تھا مریضوں نے اپنی لت اور منشیات فروشوں کے ذریعے سڑک پر فروخت کی جانے والی گولیاں حاصل کرنے کی خواہش کے سبب بڑی حد تک اس غیر ضروری طریقہ کار کو قبول کیا۔

    شواہد نے مزید ثابت کیا کہ مدعا علیہ معالجین نے کئی برسوں میں بار بار یہ غیر ضروری انجیکشن مریضوں پر لگائے اور انہیں امریکا میں کسی بھی دوسرے طبی کلینک کے مقابلے میں فیسٹ جوائنٹ انجیکشنز کے لیے زیادہ ادائیگی کی گئی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ فراڈ سے حاصل ہونے والی آمدنی شاہانہ طرز زندگی گزارنے کے لیے استعمال کی گئی۔

    بھارت خطےمیں چین اورپاکستان کےمقابلےکیلئےروسی ہتھیاروں کی فراہمی پربے یقینی کا…

    فرانسسکو پیٹینو نامی ایک ڈاکٹر اور کلینکس کے جزوی مالک نے زیورات اور کاریں خریدنے اور چھٹیاں منانے کے ساتھ ساتھ اپنے خصوصی غذا کے پروگرام کو فروغ دینے کے لیے ’الٹیمیٹ فائٹنگ چیمپئن شپ‘ اور دیگر مکسڈ مارشل آرٹ فائٹرز کو ادائیگی کی۔

    فرانسسکو پیٹینو کے کاروباری پارٹنر اور کلینک کے جزوی مالک مشیعت رشید نے نجی جیٹ پروازیں، این بی اے فائنلز کے کورٹسائیڈ ٹکٹس اور مہنگی جائیداد خریدی اسکیم میں شامل دیگر معالجین نے لگژری گاڑیاں، سونے کی اینٹیں اور انڈور باسکٹ بال کورٹس اور سوئمنگ پول خریدے دھوکہ دہی کی مد میں ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے زائد کی رقم امریکا نے مدعا علیہان سے ضبط کر لی۔

    اسرائیل سائبرحملے سے بہت متاثرہوگیا

    سزا پانے والوں میں سپیلیوس پاپاس (ایم ڈی/عمر 63 سال)، طارق عمر(ایم ڈی/ عمر 63 سال) جوزف بیٹرو (ڈی او/ عمر 60 سال) محمد ظہور (ایم ڈی/ عمر 53 سال)، زاہد شیخ (ایم ڈی/ عمر 62 سال)، عبدالحق (ایم ڈی/ عمر 76 سال)، سٹیون ایڈمزک (ایم ڈی/ عمر 47 سال)، ڈیوڈ ویور (ایم ڈی/ عمر 67 سال) گلین سیپرسٹین (ایم ڈی/ عمر 58سال) منیش بولینا (ایم ڈی/ عمر 43 سال)، حسین سعد (ایم ڈی/ عمر 42 سال) اور ڈیوڈ یانگوئیان (ایم ڈی/ عمر 58 سال) شامل ہیں۔

    عدالت کی جانب سے سزا پانے والے ہیلتھ کیئر ورکرز میں مشیعت راشد، یوسف المطرحی (عمر 34 سال) حنا قاضی (عمر 39 سال) اور جوشوا برنز (عمر 43 سال) شامل ہیں۔

    سزا سنائی جانے کے منتظر افراد میں فرانسسکو پیٹینو، یاسر موزیب (ایم ڈی /عمر 39 سال) کاشف رسول (ایم ڈی/عمر 46 سال) طارق صدیقی (عمر 44 سال)، تصدق علی احمد (عمر 54 سال) سٹیفنی بورگولا (عمر 41 سال) اور میوٹنن براؤن (ایم ڈی/عمر 51 سال) شامل ہیں۔

  • امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکہ نے یوکرین کے لیے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری دے دی.

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرین کے لیے امداد کے بل پر دستخط کردئیے۔امریکی امداد یوکرینی مہاجرین اور دفاعی ضروریات کے لیے استعمال ہوگی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے ہم یوکرینی عوام کے ساتھ ہیں،ہم یوکرین کی ہر طرح سے مدد جاری رکھیں گے۔

    اعداد و شمار کے حوالے سے عالمی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ شدید بمباری کی وجہ سے شہر کے تقریباً چار لاکھ افراد کے پاس نہ پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی حرارت کا مناسب بندوبست ہے۔ شہریوں کو خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شہری حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے بعد سے اب تک کل 21 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 2 امریکی صحافی بھی شامل ہیں-

    یوکرین کے دارالحکومت کیف کے میئر نے تسلسل کے ساتھ ہونے والی روسی بمباری کے باعث شہر میں 36 گھنٹے کے کرفیو کا اعلان کردیا ہے۔

    دوسری جانب روسی افواج کے محاصرے میں موجود یوکرینی شہر ماریوپول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہزار شہریوں کی گاڑیاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم روٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں جب کہ مزید دو ہزار گاڑیاں نکلنے کی منتظر ہیں روسی افواج کی جانب سے کیے جانے والے محاصرے کے بعد یہ پہلا کامیاب انسانی انخلا ہے۔

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

  • اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

    نیویارک: اقوام متحدہ کی جانب سے 15 مارچ کو منظور کی گئی اسلاموفوبیا کے عالمی دن کی قرارداد پر بھارت نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ بھارت امید کرتا ہے کہ یہ قرارداد مستقبل میں پیش کی جانے والی مخصوص مذاہب فوبیا قراردادوں کیلئے نظیر نہیں بنے گی جس سے اقوام متحدہ ایک مذہبی کیمپ کی صورت اختیار کرلے۔

    واجب الاحترام والاکرام میری قوم تمہیں مبارک:اسلامو فوبیا کیخلاف آٔپکی دعائیں رنگ…

    انہوں نے کہا کہ ہندومت کے 1.2 بلین سے زیادہ پیروکار ہیں، بدھ مت کے 535 ملین سے زیادہ اور سکھ مت کے 30 ملین سے زیادہ، صرف ایک مذہب کے ساتھ فوبیا مخصوص نہیں کریں۔

    انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ دنیا کے ساتھ ایک خاندان کی طرح برتاؤ کرے اور ایسے مذہبی معاملات سے بالاتر رہے جو ہمیں امن اور ہم آہنگی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے بجائے تقسیم کریں بھارت یہودی فوبیا، عیسائی فوبیا یا اسلاموفوبیا کی تمام کارروائی کی مذمت کرتا ہے لیکن ایسے فوبیا صرف ابراہیمی مذاہب تک محدود نہیں ہونے چاہیئں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے اس طرح کے مذہبی فوبیا نے غیر ابراہیمی مذاہب کے پیروکاروں کو بھی متاثر کیا ہے جس کی عصری شکلیں ہندو فوبیا، بدھ مت فوبیا اور سکھ فوبیا ہے۔

    حیرت ہے اپوزیشن کے مقابلے میں حکومت بھی جلسے کرنے لگ گئی،چودھری شجاعت

    انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے پاس 16 نومبر کو رواداری کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ محض ایک مذہب کے خلاف فوبیا کو عالمی دن کے طور پر منائے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کرلی ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسلاموفوبیا کے خلاف 15 مارچ کو دنیا بھر میں عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا او آئی سی میں مذکورہ قرارداد 2 سال قبل اُس وقت پیش کی گئی تھی جب ایک دائیں بازو کے انتہا پسند نے نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر دہشت گردانہ حملے میں 50 سے زائد نمازیوں کو شہید کردیا تھا۔

    قرارداد منگل کو او آئی سی کی جانب سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے پیش کیتھی جس کی منظوری کے بعد اب آئندہ 15 مارچ کو اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے دن کے طور پر عالمی سطح پر منانے کی منظوری دی گئی ہے-

    دنیا بھارتی میزائل فائرکرنےکےواقعہ کا نوٹس لے: عسکری قیادت