Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ریاست مدینہ میں کرکٹ، وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط

    ریاست مدینہ میں کرکٹ، وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط

    ریاست مدینہ میں کرکٹ، وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط

    باغی ٹی وی : خط میں لکھا گیا کہ محترم عمران خان صاحب آپ نے ہم سے اسلام کی سرزمین کا وعدہ کیا تھا۔ ایک پاک سرزمین جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا طریقہ اور جس کی ہمیں بطور مسلمان پابندی کرنی چاہیے۔ ہم نے آپ پر یقین کیا۔ لیکن جس طرح آپ کے ناکام اور جھوٹے احتساب کے دعووں میں پاک سرزمین کے وعدے پر بھی سمجھوتہ کیا گیا ہے۔

    آپ نے رمیز راجہ کو چیئرمین پی سی بی مقرر کیا تاہم اس سال پی ایس ایل میں ایک نہیں بلکہ دو بین الاقوامی جوا اور کھیلوں میں سٹے بازی کرنے والی کمپنیوں نے پراکسی ناموں سے ایک ٹیم اور پورے کرکٹ گراؤنڈ کو سپانسر کیا ہے۔ کیا اب ہم ریاست مدینہ میں اسی کو فروغ دے رہے ہیں؟ جناب دونوں جوا کھیلنے والی کمپنیوں نے اپنے مقامی ساتھیوں پی سی بی ،ٹرانس گروپ TRANSGROUP اور ملتان کی ٹیم کے ساتھ مل کر ان کی سپانسر شپ لی ہے اور میچوں کے دوران اپنے لوگو عبد نام دکھا رہے ہیں۔

    دورہ پاکستان:آسٹریلوی کرکٹرزنےسیکیورٹی کےحوالےسےپھرتشویش ظاہرکردی

    میرے بہنوئی نے خودکشی کر لی جو کہ اس طرح کے آن لائن کیسینو اور جوئے کی سائٹس کی وجہ سے بھاری قرض کی وجہ سے حرام ہے۔ جوا کھیلنا اسلام میں حرام ہے پھر بھی وزیراعظم صاحب آپ کی ناک کے نیچے، آپ کے پی سی بی کے چیئرمین ملتان کی ٹیم کی شرٹس پر Wolf777 ہے اور TRANSGROUP دونوں آن لائن جوا کھیلنے والی کمپنیاں DAFA(ڈی اے ایف اے) دکھا رہی ہیں لیکن سپورٹس نیوز پلیٹ فارم ہونے کا بہانہ کر کے اپنی پراکسیز کے تحت اشتہار دے رہی ہیں۔

    پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ پر عمل نہ کرنے پرمعذرت خواہ ہوں، ذیشان ملک

    خط میں مزید لکھا گیا کہ جناب اللہ آپ کو معاف نہیں کرے گا۔ آپ فوری طور پر پی سی بی کے چیئرمین اور سی ای او سے مستعفی ہونے اور اس بکواس کو بند کرنے کا مطالبہ کریں۔ جو قوم اسلام کے راستے پر نہیں چلتی اس پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔ اس میں ملوث ہر شخص کو کرکٹ سے نکال دینا چاہیے۔ اس طرح کے رویے کو سزا ملنی چاہیئے.تب تک پرائم منسٹر صاحب آپ کا اسلامی جمہوریہ کا دعویٰ اتنا ہی جھوٹا ہے جتنا آپ کا احتساب کا دعویٰ۔ اللہ آپ کو دیکھ رہا ہے۔

    کورونا ویکسین لگوانے سے انکار،نوواک جوکووچ دبئی ٹینس ٹورنامنٹ کھیلیں گے؟

    واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتویں ایڈیشن کے آغاز کے فوراً بعد، ایک بھارتی کمپنی اپنے مہمانوں کو پی ایس ایل کے میچوں میں جوا کھیلنے کی اجازت دیتے ہوئے پکڑی گئی ہے۔ یہ کمپنی پاکستان سپر لیگ میں Dafa News کے نام سے اسپانسر کے طور پر شامل ہے، اور یہ PSL 7 کے میچوں کے لیے آن لائن بیٹنگ کا اہتمام کر رہی ہے۔

    پی ایس ایل 7: ملتان سلطانز کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف بیٹنگ جاری

    پی ایس ایل 7 کے پانچویں میچ کے دوران اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے درمیان ڈفا نیوز کا اشتہار نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں آویزاں تھا کیونکہ کمپنی نے پی ایس ایل 7 کے اسپانسر کے طور پر سائن اپ کیا تھا اس کے ساتھ ہی کمپنی Dafa Bet نامی ویب سائٹ پر PSL 7 کے لائیو میچز کے لیے بال ٹو بال بیٹنگ بھی کر رہی تھی۔

    جیسے ہی بیٹنگ کے حوالے سے مسئلہ سامنے آیا، Dafa News نے اپنی آفیشل ویب سائٹ سے بیٹنگ پلیٹ فارم کا لنک ہٹا دیا۔ تاہم، شرط لگانے والی کمپنی، Dafa Bet اب بھی آن لائن بیٹنگ کر رہی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کرنے اور سٹے بازی کے حوالے سے پاکستان کے قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

    فی الحال کسی پلیئر نے پاکستان کے ٹور سے انکار نہیں کیا،جلد اسکواڈ کا اعلان کریں…

  • آرمی چیف سے یورپی یونین کی سفیر اندرولا کمنارا کی ملاقات

    آرمی چیف سے یورپی یونین کی سفیر اندرولا کمنارا کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سےآج جی ایچ کیو میں یورپی یونین (ای یو) کی سفیر محترمہ اندرولا کمنارا نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان کی موجودہ صورتحال سمیت علاقائی سلامتی کی صورتحال اور یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    حکومت اقتصادی ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے،وزیر خارجہ

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    آئی ایس پی آر کے مطابق محترمہ اندرولا کمنارا نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار، علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا۔

    مسجد نبوی میں 2 سال بعد رمضان المبارک میں اجتماعی افطاری ہو گی

    شہبازشریف بھی باہرجانے کی اجازت کی شرط پر استعفے کی پیشکش کرچکے ہیں،شہباز گل کا…

  • اداکارہ تیجسوی پرکاش نے بگ باس 15 کا ٹائٹل جیت لیا

    اداکارہ تیجسوی پرکاش نے بگ باس 15 کا ٹائٹل جیت لیا

    ممبئی: بھارتی ٹی وی اسٹارتیجسوی پرکاش نے رئیلٹی شوبگ باس کے سیزن15 کا ٹائٹل جیت لیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق تیجسوی پرکاش نے سب کوپیچھے چھوڑتے ہوئے4 ماہ تک جاری رہنے والے بگ باس سیزن15 کاٹائٹل اپنے نام کیا پراتک سہجپال اورکرن کندرا دوسرے اورتیسرے رنر اپ قرار پائے۔

    روینہ ٹنڈن سابق وزیراعظم نواز شریف کی پسندیدہ اداکارہ تھیں؟

    بگ باس 15 کے فائنل میں تیجوسی پرکاش اوربالی وڈ اداکارہ شلپا شیٹھی کی بہن شمیتا شیٹھی سمیت 5امیدوارپہنچے تھے ووٹوں کی گنتی میں ماڈل پراتیک سہجپال اور تیجسوی پرکاش باقی رہے۔ تیجوسی پرکاش سب سے زیادہ ووٹ لے کربگ باس سیزن 15 کی فاتح قرارپائیں۔

    ٹائیٹل جیتنے کے بعد ٹوئٹرپراپنے پیغام میں تیجسوی پرکاش نے سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 4ماہ کے سخت اورمشکل سفرکے بعد ٹرافی گھرآگئی۔ یہ خواب کی تعبیرہے۔

    بگ باس کے سابق فاتح گوتم گلاٹی، روبینہ دلائک، شویتا تیواری، اروشی ڈھولکیا اور گوہر خان نے سیزن 15 کے فائنل میں پرفارم کیا۔

    حریم شاہ نے اپنے ہونٹوں کی ادھوری سرجری کا ذمہ دار ایف آئی اے کو قرار دے دیا

    دوران شو سلمان خان اور اداکارہ شہناز گِل آنجہانی اداکار سدھارتھ شُکلا کی یاد میں گلے لگ کر رو پڑے سلمان خان کے بلانے پر ماڈل واداکارہ شہناز اسٹیج پر آئیں، سلمان خان کے سوال پر شہناز گل نے بتایا کہ وہ دبنگ خان کو دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہورہی ہیں بعد ازاں اسٹیج پر ہی سدھارتھ کی یاد میں شہناز گل کی آنکھوں میں آنسو آگئے جس پر سلمان خان نے دلاسے کے لیے انہیں گلے لگایا اور پھر وہ بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے شہناز گل بگ باس 13 کے فاتح آنجہانی اداکار سدھارتھ کو بگ باس 15 کے فائنل میں خراج تحسین پیش کیااس سبب انہیں گرینڈ فنالے میں خصوصی شرکت کی دعوت دی گئی گزشتہ سال دو ستمبر کو سدھارتھ شکلا 40 برس کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کے باعث چل بسے تھے۔

    ہانیہ عامر اورفرحان سعید بھی پشاور زلمی کے برانڈ ایمبیسیڈر بن گئے

    گرینڈ فینالے میں بگ باس کے اسٹیج پر شہناز گِل نے کہا میں پہلے پنجاب کی کترینہ ہوا کرتی تھی اور اب بھارت کی شہناز گل بن چکی ہوں جبکہ انڈیا کی کترینہ کیف اب پنجاب کی کترینہ بن چکی ہیں کیوں کہ ان کی شادی جو ہوگئی اس دوران سلمان خان کا کہنا تھا کہ اس کی شادی وکی کوشل سے ہوئی اور وہ خوش ہیں جس پر شہناز نے مذاق میں کہا ‘سر آپ خوش رہو بس’ یہ سن کر وہاں موجود تمام ہی لوگ ہنس پڑے۔
    https://twitter.com/ColorsTV/status/1487703623111163904?s=20&t=SbDqZs2ChfeWwEOT7A8ecA
    اداکارہ نے مزید کہا سر آپ ‘سِنگل’ زیادہ اچھے لگتے ہیں جس پر سلمان خان نے جواب دیا کہ جب سنگل ہوجاؤں گا تو زیادہ اچھا لگوں گا یہ سن کر شہناز گل چونک اٹھیں اور سوالیہ انداز میں کہا کیا آپ کامیٹڈ ہو؟۔ ان کا پوچھنے کا مطلب تھا کہ کیا کوئی گرل فرینڈ ہے-

    پی پی رہنما شرمیلا فاروقی نے اداکارہ نادیہ خان کو قانونی نوٹس بھجوادیا

  • حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    سندھ حکومت نے پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عام تعطیل کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے 5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کردیا جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ یوم یکجہتی کمشیر کی مناسبت سے سندھ میں عام تعطیل ہوگی اور تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور بازار بند رہیں گے۔

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت اس سے پہلے ہی پانچ فروری کو عام تعطیل کا اعلان کرچکی ہے، 5 فروری ہر سال وفاقی حکومت کے گزیٹڈ ہالیڈے کی فہرست میں شامل ہوتا ہے-

    خیال رہے کہ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ 30 سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا، تاہم کئی سالوں بعد یہ بدل کر 5 فروری ہو گیا بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ کیا حالات تھے جو 5 فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باعث بنے۔

    5 فروری یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد!!! تحریر: غنی محمود قصوری

    اس دن کو منانے کا آغاز تقسیم کشمیر سے قبل ہی 1932 میں متحدہ پنجاب سے ہو گیا تھا تاہم یہ سلسلہ ٹوٹتا اور جڑتا رہا پاکستان بننے کے بعد بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کیا جاتا رہا تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مقرر نہیں تھا اور یہ سلسلہ بھی مسلسل نہیں رہا۔

    شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیااس دور کی میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورا پاکستان بند ہو گیا اور لوگوں نے اپنے مویشیوں کو پانی تک نہیں پلایا۔ یہ دن منانے کی تجویز وزیر اعظم بھٹو کو دینے والوں میں جماعت اسلامی کی سربراہ قاضی حسین احمد کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اس وقت کے صدر سردار محمد ابراہیم خان پیش پیش تھے۔

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    شمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    یوم یکجہتی کشمیر، پاک فوج نے جاری کیا کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے ملی نغمہ "کشمیر ہوں میں”

    یوم یکجہتی کشمیر پر علی امین گنڈا پور نے کی قوم سے بڑی اپیل، کیا کہا؟

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    کشمیری اکیلے نہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی،آرمی چیف

    مسلح افواج کشمیریوں کے ساتھ ہیں، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا پیغام

    خون کے آخری قطرے تک کشمیریوں کے ساتھ، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    یوم یکجہتی کشمیر، سربراہ پاک فضائیہ نے دیا کشمیریوں کو پیغام

    تاہم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ایک دن مخصوص کرنے کا مطالبہ 1990 میں قاضی حسین نے میاں نواز شریف کی مشاورت سے کیا اور اس کی فوری تائید وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی کی 29 تا 31 دسمبر 1988 جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا اور ہندوستان کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔

    ملک میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم تھی۔ انہیں مشورہ دیا گیا کہ سارک اجلاس میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بات نہ کی جائے اور یہ مشورہ مان بھی لیا گیا۔ نتیجتاً نہ صرف سارک اجلاس کے ایجنڈے سے کشمیر غائب ہو گیا بلکہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے ساتھ ہی واقع پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکے ملکیتی ’آزاد جموں وکشمیر ہاوس‘کا سائن بورڈ بھی اتار لیا گیا۔ جب تک اجلاس کے شرکا اور ان کے ساتھ آنے والے وفود اسلام آباد میں موجود رہے، یہ سائن بورڈ بھی غائب رہا۔

    محترمہ بے نظیر بھٹو نے صرف یہ کہا کہ ’اس معاملے میں ہمارا اپنا موقف ہے۔‘ اس سے آگے نہ تو وزیر اعظم نے پاکستانی موقف کی وضاحت کی اور نہ ہی وزات خارجہ نے اس معاملے پر ایک لفظ بولا میاں نواز شریف اس وقت اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے جماعت اسلامی اس اتحاد کا حصہ تھی اور اس کے سربراہ قاضی حسین احمد تھے اسلامی جمہوری اتحاد قومی اسمبلی میں اپوزیشن میں تھا میاں نواز شریف اور قاضی حسین احمد نے اس معاملے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح تحریک اپنے عروج کی طرف رواں تھی اور بھارت کی افواج اس تحریک کو کچلنے کے لیے طاقت کا کھل کر استعمال کر رہی تھیں۔ نتیجتاً بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکتیں روز کا معمول بن گئیں۔ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان عسکری تنظیموں کاحصہ بن گئے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد میں لوگ اسلحہ اور عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر آنے لگے۔ ان میں ہزاروں کی تعداد میں وہ خاندان بھی شامل تھے جو لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں کے علاوہ کشمیر کے کئی شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کر رہے تھے۔

    عسکریت پسندوں کی بھارتی فوج کے ساتھ چھڑپوں کے نتیجے میں فوج کی جانب سے آبادیوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن میں خواتین اور بچوں سمیت ہر عمر کے لوگوں کی ہلاکت اور خواتین کے ریپ کی اطلاعات بین الاقومی میڈیا میں آنا شروع ہوئیں اور پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتوں میں بے چینی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی مشاورت سے کشمیر میں مسلح عسکری تحریک کی حمایت کا اعلان کیا اور 5 فروری 1990 کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کشمیر کے معاملے پر پہلے ہی اپوزیشن کے نشانے پر تھی لہٰذا وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے بغیر تاخیر اس اعلان کی تائید کی اور آنے والے سالوں میں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کے باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا۔

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    مودی پاگل،میرا ایمان ہے کشمیر آزاد ہو گا، وزیراعظم نے کیا مظفرآباد میں اہم اعلان

    تاہم اس دن کو سرکاری طور پر منانے کے آغاز 2004 میں ہوا جب اس وقت کے وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی اور وزیر امور کشمیر و گلگلت بلتستان آفتاب احمد خان شیرپاو نے یہ دن سرکاری طور پر منانے کے اعلان کیا۔ پانچ فروری 2004 کو وزیر اعظم جمالی نے مظفرآباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی اور جموں وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا-

  • مسجد نبوی میں 2 سال بعد رمضان المبارک میں اجتماعی افطاری ہو گی

    مسجد نبوی میں 2 سال بعد رمضان المبارک میں اجتماعی افطاری ہو گی

    ریاض: مسجد نبوی میں زائرین 2 سال بعد رمضان المبارک میں اجتماعی افطاری کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کی مسجد نبوی کے امورکی نگرانی کرنے والی ایجنسی نے مسجد نبوی میں رواں سال رمضان المبارک کے دوران اجتماعی افطاری دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے مسجد نبوی کے امورکی ایجنسی نے کورونا پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے رواں برس رمضان المبارک میں اجتماعی افطاری کی اجازت دے دی ہے۔ اجتماعی افطاری کے دوران کچھ ایس اوپیز کی پابندی کرنا ہوگی۔

    امریکہ نے اپنے شہریوں کو متحدہ عرب امارات کا سفرکرنے سے روک دیا

    ایجنسی کے مطابق اگرسماجی فاصلے کی پابندی برقراررہی تو ایک دسترخوان پرزیادہ سے زیادہ 5 افراد کوبیٹھ کرافطاری کرنے کی اجازت ہوگی۔ سماجی فاصلے کی پابندی ختم ہونے کی صورت میں ایک دسترخوان پر12 افراد افطاری کرسکیں گے ایجنسی نے مسجد نبوی میں اجتماعی افطاری کرانے کی خواہشمند کمپنیوں اورافراد کوپرمٹ حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    خیال رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اجتماعی افطاری پر2 سال سے پابندی عائد تھی۔

    ایران کی سعودی عرب کو تہران میں سفارتخانہ کھولنے کی پیشکش

    واضح رہے کہ سعودی وزارت صحت کے مطابق کورونا کے 4 ہزار 2 سو 11 مثبت کیسز رپورٹ ہوئےکل اتوار کے مقابلے میں آج پیر کو کورونا کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ’گزشتہ روز 5 ہزارایک سو 62 مریض شفایاب ہوئے ہیں’4 مریض جاں بحق جبکہ 967 مریضوں کی حالت نازک ہے اور وہ مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ’مریضوں کی کل تعداد 687264 ہوگئی ہے جبکہ شفایابی حاصل کرنے والوں کی تعداد 640353 ہےاب تک 967 مریض کورونا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں‘۔

    اسرائیل سعودی عرب سے سفارتی تعلقات کا خواہاں

    جبکہ سعودی عرب میں منگل یکم فروری 2022 سے پبلک ٹرانسپورٹ، سرکاری و نجی اداروں، تفریحاتی مراکز، سپورٹس سینٹرز، بازاروں اور مالز میں وہی کارکن، صارفین اور معاملات کی پیروی کرنے والے داخل ہوسکیں گے جو بوسٹر ڈوز لگواچکے ہوں گے اور توکلنا ایپ پر ان کی صحت کا ریکارڈ ’محصن‘ (امیون) درج ہوگا۔

    سعودی عرب: غیرملکیوں کے اقامے اور ویزوں میں مفت توسیع

    خبررساں ادارے ” اردو نیوز” کے مطابق سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے بیان میں کہا کہ یکم فروری سے بری، بحری اور ریلوے ٹرانسپورٹ وہی لوگ استعمال کرسکیں گے جن کا توکلنا ایپ پر سٹیٹں محصن ہوگا ٹیکسیوں، رینٹ اے کارز، ٹیکسی ایپس، اندرون و بیرون شہر مسافر بسوں، جازان اور جزیرہ فرسان آنے جانے والے جہازوں میں وہی لوگ داخل ہوسکیں گے جو محصن ہوں گے۔ توکلنا ایپ پر صحت حالت کے طور پر محصن کا ریکارڈ انہی لوگوں کا ہوگا جو بوسٹر ڈوز لگوا چکے ہوں گے۔

    سعودی عرب میں پاکستانی شہری فحاشی کا اڈہ چلانے کے الزام میں گرفتار

    اردو نیوز نے عاجل ویب سائٹ کے حوالے سے بتایا کہ وزارت بلدیات و دیہی و آبادکاری امور کے ترجمان سیف السویلم نے تجارتی مراکز اور دکانوں کے مالکان سے کہا ہے کہ یکم فروری 2022 سے توکلنا ایپ کے ذریعے ملازمین، صارفین اور ملاقاتیوں کی صحت حالت چیک کی جائے۔ ایسے کسی بھی شخص کو جس کی صحت حالت توکلنا ایپ پر محصن درج نہ ہو اسے مارکیٹ یا دکان یا مرکز میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ اس کی خلاف ورزی پر تجارتی مراکز اور اداروں کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

    امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

  • اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب،ازقلم :غنی محمود قصوری

    اس نظام کا حصہ تو آپ بھی ہیں صاحب

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ہمارے ہاں اکثر یہ بات عام ہے کہ جو کام ہم کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں اچھا لگتا ہے مگر وہی کام جب کوئی اور کرے تو وہ ہمارا نا پسندیدہ ہو جاتا ہے3 دہائیاں قبل پاکستان میں ایک مذہبی جماعت معرض وجود میں آئی جس نے دنیا بھر کے انسانوں بلخصوص مسلمانوں کے لئے ہر سماجی،خدمتی کام کیا ان کے اس کام کی بدولت ان پر پابندیاں لگیں اور ان کے کام بند ہوتے گئے اور وہ نئے ناموں سے پھر آتے گئے-

    یہ ایک کھیل سا بن گیا پابندیاں لگنا اور پھر ان کا نئے ناموں سے آنا خیر انہوں نے اپنے دعوتی،سماجی خدمتی کام نا بدلے اور کٹھن حالات کا مقابلہ کیا وقت گزرتا گیا اور ان کے کاموں میں جدت آتی گئی اور پوری دنیا میں ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے عالمی اداروں نے ان پر پابندیاں عائد کروا دیں-

    ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہ لوگ ٹیلی ویژن،تصویر کشی اور جمہوریت کے سخت خلاف تھے اور جمہوری نظام کو کفریہ نظام کہا کرتے تھے اور اپنے سٹیج سے اعلان کیا کرتے تھے کہ ہم کبھی اس نظام کا حصہ نہیں بنیں گے پھر رفتہ رفتہ ٹیلی ویژن کے نقصانات کے ساتھ افادیت کو دیکھتے ہوئے خود انہوں نے ٹیلی ویژن پر آنا شروع کر دیا جس سے دعوتی و خدماتی کاموں میں تیزی آئی اور لوگوں میں ایک جذبہ نمایاں ہوا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ تو ان رفاعی،فلاحی،دینی کاموں کی لگن میں ان سے جڑ گئے تو کچھ لوگوں نے اپنی جماعتیں بنا کر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام شروع کر دیا-

    اسی طرح بطور ایک مذہبی جماعت اپنے اوپر لگی پابندیوں کے باعث دعوتی،سماجی خدماتی کاموں کی رکاوٹ کے باعث ان کو احساس ہوا کہ اس دور نظام جمہوریت ( جو کہ دراصل غیر شرعی ہے) کا حصہ بنے بنا اپنا وجود رکھنا ناممکن ہےسو ماضی کے واضع اعلانات کے باوجود انہوں نے بھی الیکشن میں حصہ لیا جس پر انہی کے بعض اپنوں نے سخت اعتراض کیا کہ آپ نے کم و بیش 3 دہائیوں تک جمہوریت کو کفریہ نظام کہا اور اس سے دوری اپنائی اور اب خود ہی سیاست میں آکر اس نظام کا حصہ بن گئے ہیں اس صورتحال کا راقم نے خود عملی مشاہدہ کیا اور دونوں فریقین کیلئے کچھ اصلاح کرنے کی کوشش کی-

    اس جماعت کے قائدین و کارکنان کے نام یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اتنی جلدی فیصلہ کرنا اچھا نہیں ہوتا جیسا کہ آپ لوگوں نے لوگوں کے ٹی وی تڑوا دیئے اور پھر رفتہ رفتہ ٹی وی کے نقصانات کی طرح فوائد دیکھتے ہوئے خود ہی ٹی وی پر آکر دور حاضر کے ڈیجیٹل فوائد سے مثبت کام لیا اور اپنے دعوتی کاموں کو زیادہ لوگوں تک پہنچایا اس سے قبل جب آپ لوگ ٹی وی مخالف تھے تو بہت کم ہی لوگ آپ کے کاموں سے واقف تھے یہ مخالفت آپکی غلطی تھی-

    اسی طرح جب آپکو احساس ہوا کہ اس جمہوری نظام کا حصہ بنا بنے اس دور میں اپنا وجود قائم رکھنا ناممکن ہے تو آپ نے اپنی بقاء اور اپنے خدماتی کاموں کے تسلسل کیلئے اور خدمت انسانیت کیلئے جمہوریت کو اختیار کیا جو کہ دور حاضر کی ایک بہت بڑی ضرورت ہےخیر اس میں اللہ رب العزت کی بھی رضا مندی شامل ہے کیونکہ شاید آپ اسی وقت ٹی وی پر آتے اور فوری سیاست شروع کرتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے اور آپ بھی کچھ معاشرتی برائیوں کے مرتکب ہوئے ہوتےسو جو بھی کرتا ہے اللہ ہی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر ہی کرتا ہے-

    اب دوسری اصلاح ان لوگوں کیلئے جو اس جماعت کے سیاست میں آنے کے مخالف ہیں اور خود بھی اسی سیاسی جمہوری ( درحقیقت کفریہ) نظام کا حصہ ہیں وہ لوگ سب سے پہلے سیاست،جمہوریت کی تشریح سن لیں کہ اسلام میں جمہوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہو جاؤ بلکہ اسلام کا کمال یہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف ہو جائے لیکن مسلمان اللہ ہی کا رہتا ہے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا کی پہاڑی پر نبوت کا اعلان کیا تھا تو الیکشن اور ووٹوں کےاعتبار سے کوئی بھی نبی کریم کے ساتھ نہیں تھا-

    نبی کریم کے پاس صرف اپنا ووٹ تھا لیکن کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغام کے اعلان سے باز آ گئے کہ جمہوریت( لوگوں کی) چونکہ میرے خلاف ہے اور اکثریت کی ووٹنگ میرے خلاف ہے اس لیےمیں اعلانِ نبوت سے باز رہتا ہوں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ میرے نبی نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ایک نظام ترتیب دیا جو کہ اسلامی نظام کہلاتا ہے مگر افسوس کہ اس نظام میں وہ اسکامی نبوی نظام دب چکا ہے اور آج ہم اس نظام میں اس قدر دبے ہوئے ہیں کہ ہمیں زندہ رہنے کیلئے پل پل جمہوری نظام کو گلے سے لگانا پڑتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اس نظام کی کبھی نفی نہیں کی بلکہ آپ نے بھی بہت پہلے سے اس نظام کو گلے سے لگایا ہوا ہے حالانکہ چاہئیے تو یہ تھا کہ آپ اس نظام کا رد کرتے-

    آج ہم اس نظام کی طرف دیکھیں تو یہ ہم پر جبری مسلط ہے اور اپنی بقاء کی خاطر ایک عام مسلمان سے لے کر بڑے سے بڑا عالم دین بھی اسی جمہوری نظام کے تابع ہے نہیں یقین تو اس کے زیر استعمال ہر چیز پر ادا ہونے والا ٹیکس دیکھ لیجئےکوئی کرے ہمت کہ میں تو ٹیکس نہیں دیتا اور اپنی زندگی بغیر ٹیکس کے گزاروں گا کیونکہ ٹیکس حرام ہے مگر ہم ہر چیز پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں حتی کہ ہماری مساجد بھی ٹیکس دیئے بنا نہیں بنتیں نہیں یقین تو جس بھٹہ خشت سے آپ اپنی مسجد کیلئے اینٹیں خریدتے ہیں ان سے ذرا پوچھئے بھئی اینٹ کی اصل قیمت کیا ہے اور اس پر گورنمنٹ کا ٹیکس کتنا ہے ؟نیز سیمنٹ،ریت ،بجری وغیرہ-

    اسی طرح مسجد میں استعمال ہونے والی بجلی کی اصل قیمت بل میں دیکھئے اور ساتھ میں لگا ٹیکس بھی دیکھئے ہونا تو یہ چائیے تھا کہ دور ماضی کی طرح مساجد کو حاکم وقت چلاتا مگر یہاں تو حاکم وقت مساجد سے ٹیکس وصول کرتا ہے ٹیکس حرام ہونے بارے نبی کریم کا واضع فرمان ہے کہ

    إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَی الْیَھُودِ وَالنَّصَارَی وَلَیْسَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ عُشُورٌ
    ’دسواں حصہ(مال تجارت کا ٹیکس) صرف یہود و نصارٰی پر ہے مسلمانوں پر نہیں
    (سنن ابی داود،ج:۸،ص:۲۶۷)
    یہاں تو جناب عام مسلمان کی بجائے مساجد سے بھی ٹیکس لیا جاتا ہے اور ہم اپنی مساجد کا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہیں بصورت دیگر مسجد کا میٹر کٹ جائے گا اور ہماری مسجد کا اے سی،پنکھے،گیزر بند ہو جائے گا اور نمازی مسجد کا رخ نا کرینگے تو جناب جب ہم اپنی بنائی گئی مسجد پر ٹیکس دینے پر مجبور ہیں اور اسی ٹیکس دینے والی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تو جناب کیا اب ہم اس کفریہ نظام کے اندر چلنے والی مسجد اللہ کے گھر میں نماز پڑھنا چھوڑ دیں ؟نہیں ہرگز نہیں ہمیں مسجد کو آباد رکھنا ہے مگر جو جبر گورنمنٹ جمہوریت کے ذریعہ کر رہی ہے اس کی جوابدہ روز قیامت وہی ہو گی ناکہ ہم-

    اسی طرح اسلام میں ویزہ،پاسپورٹ،بارڈر سسٹم کا کوئی وجود نہیں کیونکہ ساری زمین اللہ کی ہے مگر اس نظام کے تحت ہمیں ٹیکس دے کر ویزہ لینا پڑتا ہے پھر اسی ویزے کے ذریعہ ہم حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا اب ہم اپنا مقدس فریضہ حج و عمرہ بھی چھوڑ دیں ؟اب سب جانتے ہیں کہ تصویر کشی حرام ہے مگر بالغ ہوتے ہی ہمارا شناختی بنوانا لازم ہے اور اس پر تصویر لگوانا بھی لازم تو کیا کوئی اس دور میں بغیر شناختی کارڈ کے رہ سکتا ہے ؟ تو حضور والا سیاست میں اپنی بقاء رکھنے والے ان مجبور لوگوں کا سیاست میں آنا ناجائز کیسے ہے بھلا؟یاں تو خود اس نظام سے نکل کر دکھلائیں یاں پھر غیبت اور طعن و تشنیع سے باز آجائیں کیونکہ کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع کی بہت بڑی ممانعت ہے اور اس بارے فرمان الہی ہے کہ :

    اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں ،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں ۔ ۔۔الحجرات 1

    اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے

    ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ہلاکت ہے ۔ الھمزہ 1

    تو جناب یاں تو اپنے گھر ،اپنے کاروبار اپنی آل اولاد کو اس کفریہ سیاسی ،جمہوری نظام سے دور لیجائیں یاں پھر اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے کسی کی غلطیوں پر طعن و تشنیع نا کریں اور اپنی آخرت سنواریں کچھ انہی کی جماعت کے افراد بھی سابقہ جماعتی بیانات پر بد دل ہو کر اس نظام کا حصہ بننے پر دل برداشتہ ہیں تو ان کی خدمت میں ایک حدیث نبوی کی مثال پیش خدمت ہے

    جس نے امیر کی خوش دلی سے اطاعت کا شرف حاصل کیا گویا کہ اس (خوش نصیب) نے میری(یعنی سید الاولین والآخرینﷺ) کی اطاعت کا شرف عظیم حاصل کیا اور جس (بدنصیب) نے (مدینۃ الرسول ﷺ) کی نسبت سے متعین امیر کی نافرمانی کے جرم عظیم کا ارتکاب کیا گویا اس نے براہ راست سید الاولین والآخرین ﷺ کی نافرمانی کے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ( صحیح بخاری ،کتاب الجہاد، 2957)

    اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے امیر نے تو اس نظام کو حصہ بننے کا اعلان کیا ہے جو کہ پہلے سے ہی چل رہا ہے جس نظام میں آپ اپنا شناختی کارڈ بنواتے ہیں اور ٹیکس دیتے ہیں اور کوئی آپ کو عشر و زکوٰۃ بارے پوچھنے والا نہیں اور یہی لوگ کچھ ہمت کرکے آپکو عشر و زکوٰۃ ،حج و جہاد ،نماز و صدقات کی تلقین کرتے ہیں تو پھر برات کیسی بھئی امیر نے کوئی نیا نظام تو متعارف کروا نہیں دیا اپنی طرف سے ؟سوچئے اگر اس پہلے سے اپنائے نظام کے ذریعہ سے آپ اپنے دعوتی،خدماتی کام جاری رکھ سکتے ہیں تو مضائقہ ہی کیا ہے ؟-

    ایک اور اہم مثال پیش خدمت ہے کہ نبی کریم کا فرمان ہے کہ دائیں جانب نا تھوکا جائے اور پھر دوسری حدیث ہے کہ قبلہ رخ نا تھوکا جائے ایک اور حدیث ہے کہ بائیں جانب تھوکا جائےاب میں اس پوزیشن میں کھڑا ہوں کہ میری بائیں جانب قبلہ رخ ہے تو حدیث تو مجھے بائیں جانب تھوکنے کی اجازت دے رہی ہے مگر جب دوسری حدیث دیکھوں تو قبلہ رخ بھی تھوکنا منع ہے اور دائیں جانب تھوکنے سے بھی حدیث نے منع فرمایا ہے تو کیا اب میں نا تھوکوں؟سوچنے کی بات ہے نا ؟-

    تو جناب اب مجھے تمام احادیث کا بھی احترام کرنا ہوگا اور اپنی تھوک کو بھی تھوکنا ہوگا تو اس لئے میرا حدیثوں کا رود و بدل تو جائز نہیں مگر میرا محض رخ کرنا بنتا ہے لہذہ ماضی کی باتوں کو رخ تصور کریں اور یہ ذہن نشیں کرلیں کہ اس نظام کے ذریعہ ہی اگر اسلامی نظام کی طرف جایا جا سکتا ہے تو کیا مضائقہ ہے ؟؟-

  • شہبازشریف بھی باہرجانے کی اجازت کی شرط پر استعفے کی پیشکش کرچکے ہیں،شہباز گل کا دعویٰ

    شہبازشریف بھی باہرجانے کی اجازت کی شرط پر استعفے کی پیشکش کرچکے ہیں،شہباز گل کا دعویٰ

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے دیے جانے والے استعفے پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل پاس کرانے میں آپ کے تعاون کا شکریہ، آپ کا استعفیٰ دینا بنتا ہے۔

    باغی ٹی وی : معاون خصوصی شہباز گل نے دعویٰ کیا کہ شہبازشریف بھی باہرجانے کی اجازت کی شرط پر استعفے کی پیشکش کرچکے ہیں استعفیٰ لینے کے لیے آنے والے اب استعفے دے رہے ہیں اب یہ لوگ لوٹ مار کا حساب بھی دیں گے ، بس دیکھتے جائیں۔

    بریکنگ،ایوان سے ایک اور بڑا استعفیٰ آ گیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے یوسف رضا گیلانی کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضاگیلانی شریف آدمی ہیں،استعفیٰ بلاول کا بنتاہے،زرداری کے کہنے پر پیپلزپارٹی کے سینیٹرز تشریف نہیں لائے،استعفیٰ ان کا بھی بنتا ہے ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے رہنما لیڈرشپ کے کرتوتوں سے پریشان ہیں،ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں تبدیلیوں کا سفر خوش آئند ہے،

    2024 تک آزاد کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا،مودی سرکار کے مرکزی وزیرکی ہرزہ سرائی

    واضح رہے کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی نے بطور اپویشن لیڈر اپنا استعفیٰ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کو جمع کرا دیا ہے انہوں ںے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نہیں رہنا چاہتا اس لیے اپنا استعفی پارٹی قیادت کو جمع کرا دیا ہے میں اپنے مخالفین کے سخت الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے ہمدردوں کی خاموشی سے پریشان ہوں۔

    پشاور میں پادری کا قتل،بلاول، مریم کی مذمت

    واضح رہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثریت ہونے کے باوجود ایوان بالا میں اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا حکومتی بل پاس ہونے پر سید یوسف رضا گیلانی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے سابق وزیراعظم جمعہ کے دن اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے اور حکومتی بل ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور ہو گیا تھا۔

    سینیٹ میں جب حکومتی بل پیش کیا گیا تھا تو چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اپنا ووٹ حکومتی بل کے حق میں استعمال کیا تھا کیونکہ گنتی میں دونوں جانب کے ووٹ برابر ہو گئے تھے۔

    کپتان سعودیہ کے بعد چین، روس،قازقستان سے قرض لینے کو تیار

    سید یوسف رضا گیلانی نے اجلاس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اسٹیٹ بینک کا بل پیش کیا جا رہا ہے بلکہ ان کی طرف سے اپنی پارٹی کے سینیٹرز کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ سینیٹ کا اجلاس 28 جنوری کو ہو رہا ہے آپ شریک ہوں۔ انہوں ںے کہا کہ اس میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ اس میں اسٹیٹ بینک کا بل پیش ہوگا اگر ساکھ والے وزرا ان پر تنقید کریں تو انہیں قبول ہے لیکن اگر ایسے لوگ جن کی ساکھ نہیں ہے اور جو پارٹی وفاداریاں تبدیل کرتے ہیں وہ کہیں کہ میں نے حکومت کی مدد کی ہے تو بات نہیں بنتی۔

    کالعدم ٹی ٹی پی کا انتہائی مطلوب دہشتگرد افغانستان میں جہنم واصل

    انہوں ںے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ چئیرمین صاحب! آپ کے ووٹ سے حکومت جیتی ہے کریڈٹ آپ کو ملنا چاہیےاور دھاندلی نہیں ہونی چاہیے میں جب وزیراعظم تھا تو آئین کے تحفظ کے لیے صدر کے خلاف خط نہیں لکھا کیونکہ وہ پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے قانون کے مطابق عمل کیا اور وزارت عظمیٰ چھوڑ دی تھی۔

    راوی اربن پراجیکٹ ، ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف پنجاب حکومت کی اپیل منظور

  • چینی سائنسدانوں نے کورونا کی سب سے جان لیوا قسم”نیو کوو”سے خبرادار کر دیا

    چینی سائنسدانوں نے کورونا کی سب سے جان لیوا قسم”نیو کوو”سے خبرادار کر دیا

    چین کے سائنسدانوں نے عالمی وبا کورونا وائرس کی ایک ایسی قسم سے خبردار کیا ہے جس کے پھیلنے سے شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کورونا کی اس قسم کو سائنسدانوں نے نیو کوو کا نام دیا ہے جو جنوبی افریقا میں موجود چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس وائرس کو انسانوں میں منتقل ہونے کے لیے صرف ایک میوٹیشن درکار ہے۔

    اومی کرون کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں،مزید نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی،اقوام…

    رپورٹ کے مطابق یہ وائرس کورونا سے انتہائی زیادہ مہلک ہے، یہ انسانی جسم میں موجود قوت مدافعت پر حملہ کرتا ہے اور اس کو ناکارہ بنا کر پھیپھڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے، اب تک کورونا سے بچاو کے لیے بنائی گئی ویکسین اس وائرس کے آگے ناکام نظر آتی ہیں اس وبا سے متاثرہ ہر تین میں سے ایک شخص ہلاک ہو سکتا ہے، اس لیے نیو کوو کو کورونا کی سب سے خطرناک قسم مانا جا رہا ہے۔

    کورونا اور نزلے پر قابو پانے کے لئے کیپسول تیار

    واضح رہےکہ اس سے قبل اقوام متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ اومی کرون کورونا کا آخری ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ ابھی مزید نئی نئی شکلیں سامنے آئیں گی اقوام متحدہ کے ہیلتھ ایمرجنسی پروگرام کی ٹیکنیکل ہیڈ ماریا وین کرخوف نے کہا تھا کہ وائرس اپنی شکل مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں کورونا کی بھی متعدد شکلیں سامنے آچکی ہے اور اس وقت دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے ویریئنٹ اومی کرون آخری ویریئنٹ نہیں ہے بلکہ مستقبل میں مزید ویریئنٹس سامنے آئیں گے۔

    ایکسرے سے چند منٹوں میں کورونا کی 98 فیصد درست تشخیص کرنے کا کامیاب تجربہ

    بی بی سی کو انٹرویو میں ماریا وین کرخوف نے کہا کہ کورونا وائرس اب بھی شکلیں تبدیل کرکے سامنے آرہا ہے اس لیے ہمیں اپنے معمولات زندگی کو بدلنے اور خود کو صورت حال کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہےکچھ لوگ اومی کرون کو زیادہ مہلک نہیں سمجھتے لیکن ایسا نہیں ہے کیوں کہ اس ویریئنٹ سے اسپتالوں میں مریضوں کی آمد بڑھ گئی ہے البتہ یہ ضرور ہے کہ اومی کرون ویریئنٹ ڈیلٹا ویریئنٹ کے مقابلے میں کم ہلاکت خیز ہے-

    ایکسپو ویکسینیشن سینٹر کے انتظامی معماملات شدید متاثر،ملازمین نو ماہ سے تنخواہوں…

  • روینہ ٹنڈن سابق وزیراعظم نواز شریف کی پسندیدہ اداکارہ تھیں؟

    روینہ ٹنڈن سابق وزیراعظم نواز شریف کی پسندیدہ اداکارہ تھیں؟

    اداکارہ روینہ ٹنڈن کے نام سے منسوب ایک بم کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق سبز رنگ کا یہ بم دراصل 1999 میں کارگل جنگ کے دوران منظرعام پر آیا تھا جس پر سفید رنگ سے تیر والا دل بنا ہوا تھا اور ساتھ ہی لکھا تھا ’روینہ ٹنڈن کی طرف سے نواز شریف کو۔‘

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ روینہ ٹنڈن غالباً سابق وزیراعظم نواز شریف کی پسندیدہ اداکارہ ہوا کرتی تھیں شاید یہی وجہ ہے کہ چند سپاہیوں نے کارگل جنگ کے دوران روینہ ٹنڈن کی جانب سے اتنے بڑے سائز کا یہ بم تحفے کے طور پر بھیجنا چاہا اس تصویر کو منظرعام پر آئے کئی سال گزرنے کے بعد روینہ ٹنڈن نے اس واقعے پر بات کی ہے۔

    نوے کی دہائی کی مقبول اداکارہ روینہ ٹنڈن نے بتایا کہ انہیں خود بھی بہت عرصے بعد ایسے کسی بم کے بارے میں علم ہوا تھا جو ان کی جانب سے نواز شریف کو بھیجا جانا تھا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’میں تمام دنیا کو یہ نصیحت کروں گی اگر پیار اور بات چیت سے معاملہ حل ہو سکتا ہے تو ضرور کیجیے خون کا رنگ لال ادھر بھی ہے اور ادھر بھی۔ کسی کو بھی ایک ماں کا بیٹا یا بیٹی کھو جانے پر فخر نہیں محسوس کرنا چاہیے-

    بھارتی امیگریشن نے گپی گریوال کو پاکستان آنے سےروک دیا

    روینہ ٹنڈن آخری مرتبہ نیٹ فلکس کی سیریز آران یاک میں نظر آئی تھیں اس میں انہوں نے پولیس افسر کستوری ڈوگرہ کا کردار ادا کیا تھا جس میں وہ ایک سیریل کلر کا پیچھا کرتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں روینہ ٹنڈن فلم کے جی ایف چیپٹر ٹو میں یاش اور سنجے دت کے ساتھ نظر آئیں گی۔ اس فلم میں سنجے دت نے ویلن جبکہ روینہ ٹنڈن نے وزیراعظم کا کردار ادا کیا ہے۔

    نیٹ فلیکس کو بھارت میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے:عالمی ذرائع ابلاغ

  • اداکارہ کاجول کورونا وائرس کا شکار ہوگئیں

    اداکارہ کاجول کورونا وائرس کا شکار ہوگئیں

    معروف بالی ووڈ اداکارہ کاجول کورونا وائرس کا شکار ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے اور مشہور شخصیات سمیت دیگر افراد کورونا وائرس کا شکار ہورہے ہیں۔ حال ہی میں اداکارہ کاجول کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    اداکارہ نے اپنا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی خبر سوشل میڈیا پر پرستاروں اور اپنے فالوورز کو بتائی۔ تاہم انہوں نے انسٹاگرام پر اپنی جگہ اپنی بیٹی نائسا دیوگن کی مسکراتی ہوئی تصویر شیئر کی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ کوئی روڈولف کی طرح ان کی سرخ ناک دیکھے۔ انہوں نے پوسٹ میں بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کو یاد کررہی ہیں۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں بالی ووڈ اداکارہ سوارا بھاسکر، کرینہ کپور، ایکتا کپور، نورا فتیحی، ارجن کپور، پریم چوپڑا، مہیش بابو، ایریکا فرنینڈس، درشتی دھامی سمیت متعدد فنکار کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

    کوویڈ ویکسین کی معیاد ختم ہونے سے متعلق تمام خبریں جھوٹی ہیں،جھوٹوں کے خلاف…

    بھارتی میڈیا کے مطابق ہندوستان اس وقت کورونا کی تیسری لہر کا سامنا کر رہا ہے اگرچہ حالات میں بتدریج بہتری آرہی ہے تاہم ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے24 گھنٹوں کے دوران وبا سے 893 مریضوں کی موت ہوئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 2 لاکھ 34 ہزار 281 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی کیسز کی مجموعی تعداد چار کروڑ 10 لاکھ 92 ہزار 522 ہو گئی ہے۔

    اس دوران 62 لاکھ 22 ہزار 682 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی گئی ہے جس سے اتوار کی صبح 7 بجے تک ایک ارب 65 کروڑ 70 لاکھ 60 ہزار 692 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی جاچکی ہیں ملک میں کورونا کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 18 لاکھ 84 ہزار 937 ہے-

    کورونا وبا:حکومتی اقدامات نہ ہونےکی وجہ سے متھن چکرورتی مودی سرکار پر برس پڑے