Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • اداکارہ پریتی زنٹا کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

    اداکارہ پریتی زنٹا کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش

    معروف بھارتی اداکارہ پریتی زنٹا کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی: بالی ووڈ اداکارہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اپنے شوہرکے ہمراہ ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو جڑواں بچوں کی پیدائش کی خوشخبری دی۔


    پریتی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ میں آج آپ سب کو ایک بہترین خبر کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں خبر یہ کہ میں اور جین گڈ انف نے جڑواں بچوں جے اور جیا کو خوش آمدید کہا ہے۔ بچوں کے نام جے زنٹا گڈ انف اور جین زنٹا گڈ انف رکھا گیا ہے۔

    ادکارہ نے لکھا کہ وہ اور اُن کے شوہر اپنے خاندان بچوں کی آمد پر بے حد خوش اور پر جوش ہیں۔ انہوں نے اس سفر میں ساتھ دینے والے ڈاکٹرز، نرسز اور سروگیٹ( بچوں کو جنم دینے والی ماں ) کا شکریہ بھی ادا کیا۔


    بالی وڈ اداکارہ پریٹی زنٹا کی شادی اپنے ایک امریکی دوست سے2016 میں ہوئی تھی۔ اس سے قبل پریتی زنٹا کی سابق بوائے فرینڈ نیس واڈیا سے تشدد کے الزامات کے بعد علیحدگی ہوگئی تھی انھوں نے واڈایا کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی تھی۔

    واضح رہے کہ پریتی زنٹا واحد اداکارہ نہیں ہیں جن کے گھر سروگیسی یعنی کرائے کی کوکھ کے ذریعے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے بلکہ اس سے قبل بالی ووڈ کے بڑے بڑے ستارے جیسے شاہ رخ خان، عامر خان، کرن جوہر، سنی لیونی، ایکتا کپور، تشار کپور بھی سروگیسی کے ذریعے والدین بن چکے ہیں۔

    سرو گیسی کیا ہے ؟

    حالیہ عرصے میں سروگیسی یا کسی دوسرے کی کوکھ سے بچے کی پیدائش ہونا عام ہوتا جا رہا ہے۔ جب بیوی کسی وجہ سے خود بچے کو جنم نہ دے سکے تو میاں کے نطفے اور بیوی کے بیضے سے لیبارٹری میں جنین (بارور بیضہ) تیار کرکے اسے کسی صحت مند عورت کے رحم میں منتقل کردیا جاتا ہے جہاں یہ قدرتی عمل سے گزر کر ایک بچہ بننے کے بعد مقررہ وقت پر پیدا ہوجاتا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جسے ’’سروگیسی‘‘ (surrogacy) کہا جاتا ہے۔ اس طرح بچے کو جنم دینے والی خاتون کو ’’سروگیٹ مدر‘‘ (surrogate mother) یا متبادل ماں کہا جاتا ہے۔ یہ عورت اگرچہ اس بچے کی حقیقی ماں نہیں ہوتی لیکن اس کے رحم میں جنین منتقل کردیا جاتا ہے جسے وہ نو مہینے اپنے رحم میں پالتی ہے اور جنم دیتی ہے۔

    سروگیسی دو طرح کی ہو سکتی ہے: جیسٹیشنل، جہاں سروگیٹ ماں کی کوکھ میں بیضہ (ایگ) اور نطفہ (سپرم) داخل کیے جاتے ہیں، اور روایتی، جہاں سروگیٹ ماں کا اپنا بیضہ استعمال ہوتا ہے۔

    سروگیسی خاص طور پر ان جوڑوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتی ہے جو قدرتی طور پر بچے پیدا نہیں کر سکتے۔ اس عمل کے ذریعے وہ گود لینے کے طویل اور مشکل عمل سے گزرے بغیر ’اپنے‘ بچوں کے والدین بن سکتے ہیں۔ زیادہ تر کیسز میں یہ تمام چیزیں آرام سے ہو جاتی ہیں۔ لیکن جیسے جیسے سروگیسی کی مقبولیت بڑھی ہے، اس کے ساتھ ہی سروگیٹس کے ساتھ برے سلوک اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کی کہانیاں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔اس کی وجوہات میں آئی وی ایف جیسی تکنیکوں میں ہونے والی پیش رفت، روایتی رویوں میں نرمی اور دیر سے بچے پیدا کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان شامل ہیں پچھلی دو دہائیوں میں عالمی سطح پر یہ رجحان بڑھا ہے۔

  • ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    ذیابیطس کا مرض اس وقت وبائی صورت اختیار کرچکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42کروڑ 22لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق چالیس سال قبل کے اعدادوشمار کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ مرض پہلے کے مقابلے میں چار گنا بڑھا ہے۔ صرف پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد اس مرض کے سبب معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    ایک سروے کے مطابق ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کا سبب بننے والی آٹھویں بڑی وجہ ہے اور 2005ء کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    16-2017 میں ہونے والے ایک قومی سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے۔ اس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔

    ذیابیطس ایسا متعدی مرض ہے جو کہ خون میں شکر کی مطلوبہ حد سے تجاوز کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے اور اثرات کے لحاظ سے نہ صرف مہلک ہے بلکہ کئی دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔ شوگرکے مریض جلد ہی دل، گردوں اور آنکھوں کے امرض میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔

    ذیابیطس کی بنیادی وجوہات میں جسمانی محنت کی کمی، موٹاپا اور غیر متوازن غذا شامل ہیں جن کے باعث ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر فوری طور پر اس مرض کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ 25برسوں میں یہ تعداد 14ملین تک بڑھنے کا امکان ہے۔ ذیابیطس پر مؤثر کنٹرول کے لیے متوازن غذا، منصوبہ بندی، باقاعدہ ورزش اور ادویات کا استعمال ضروری ہے۔

    ذیابیطس کی معروف علامات میں تھکاوٹ کا احساس،بھوک اور پیاس میں اضافہ ، پیشاب کی زیادتی، ہاتھوں یا پیروں کا سن ہونا یا جھنجھناہٹ، انفیکشن کا با ر بار ہونا، بینائی میں دھندلاپن، زخموں کا دیر سے ٹھیک ہونا، خشک کھردری جلد/خارش کا ہونا اور جنسی مسائل شامل ہیں۔ لہٰذا کسی ایک یا زائد علامات کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

    چونکہ ذیابیطس کے بارے میں شوگر ٹیسٹ / سکریننگ سے ہی معلوم ہوتا ہے، اس لیے ایسے افراد جن کی عمر چالیس برس سے زائد ہو، خاندان کے دیگر افراد میں ذیابیطس موجود ہو، خواتین جن کو دوران حمل ذیابیطس ہو چکی ہو، خواتین جنہوں نے 9پونڈ سے زیادہ وزن کے بچے کو جنم دیا ہو اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو احتیاطاًسکریننگ کرواتے رہنا چاہیے تاکہ بیماری کی صورت میں بروقت علم ہو سکے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

    ذیابیطس ٹائپ 1۔ بچپن یا اوائل عمری میں ہوتی ہے، اس میں انسولین قدرتی طور پر جسم میں کم پیدا ہوتی ہے ، اس کا علاج انسولین کے بغیر ممکن نہیں۔

    دوسری قسم کو ذیابیطس ٹائپ 2کہا جاتا ہے۔ذیابیطس کے مریضوں میں دس میں سے کم از کم نو ٹائپ 2میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ عموماً بڑی عمر کے افراد میں ہوتی ہے۔ ذیابیطس کی اس قسم میں جسم میں بنتے والی قدرتی انسولین موثر طور پر استعمال نہیں ہو سکتی، جس کی وجہ سے خون میں شوگر (گلوکوز) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

    لو بلڈ شوگر کی علامات میں کمزوری اور کپکپاہٹ محسوس ہونا، جلد زرد پڑ جانا اور ٹھنڈ سمیت چپچپاہٹ محسوس ہونا، چڑچڑاہٹ، الجھن اور خراب رویے کا مظاہرہ، دل کی دھڑکن کی رفتار اچانک بڑھ جانا اور مریض کا ہوش و حواس کھو دینا یا بے ہوش ہوجانا شامل ہے ۔اس کا امکان ان مریضوں میں زیادہ ہوتا ہے جن میں حال ہی میں ذیابیطس کی تشخیص ہوئی ہو۔ اگر مریض مکمل طور پر ہوش و حواس میں ہو تو اسے کوئی میٹھا مشروب یا کوئی گلوکوز ٹیبلیٹس دینی چاہیے۔

    ذیابیطس کے شکار افراد اکثر اپنے ساتھ گلوکوز کی ڈوز یا کوئی میٹھی چیز رکھتے ہیں، جس کا ڈاکٹر بھی انہیں مشورہ دیتے ہیں۔ اگر مریض کچھ کھانے یا پینے کے بعد فوری طور پر حالت میں بہتری محسوس کرنے لگے تو اسے ایسی غذا دیں جو آہستگی سے کاربوہائیڈریٹ ریلیز کرتی ہو جیسے سینڈوچ، پھل کا ایک ٹکڑا، بسکٹ اور دودھ وغیرہ۔ اس کے بعد مریض کا گلوکوز لیول چیک کریں۔ اگر حالت زیادہ خراب ہونے لگے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    بلڈ شوگر بڑھنے کی علامات میں بہت زیادہ پیاس، بہت زیادہ پیشاب آنا (خاص طور پر رات کو)، وزن میں کمی، جلد پر خارش، زخموں کا دیر سے بھرنا اور مریض پر ہر وقت غنودگی طاری رہنا جو بے ہوشی کا باعث بن جائے شامل ہیں۔ اگر مریض گر جائے اور آپ کو بلڈ شوگر میں اضافے کا شبہ ہو تو فوری طور پر اس کی سانس چیک کرنی چاہیے اور ایمرجنسی طبی امداد کے لیے کال کرنی چاہیے۔ اگر مریض صحیح سانس نہیں لے رہا ہو تو اسے پہلو کے بل لٹا دیں، اس پوزیشن میں اس کی سانس کی گزرگاہ کھل جائے گی۔ اگر وہ پہلو کے بل لیٹ نہیں پا رہا تو اس کے حواس، سانس اور دھڑکن کو چیک کریں۔ طبی امداد کے آنے تک بار بار مریض کو چیک کرتے رہیں۔

    ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ مناسب ادویات اور صحت کی دیکھ بھال ضروری ہے، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذیابیطس سے لڑنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ آپ جو کھاتے ہیں اس پر نظر رکھنا بلڈ شوگر کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے وہ پانچ پھل بتائے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ
    ذیابطیس کے مریضوں کیلئے کونسے پھل مفید ہیں؟
    ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول نہیں کر سکتا لیکن خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے کے طریقے موجود ہیں۔ اگرچہ مناسب ادویات اور صحت کی دیکھ بھال ضروری ہے، طرزِ زندگی میں تبدیلیاں ذیابیطس سے لڑنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں۔ آپ جو کھاتے ہیں اس پر نظر رکھنا بلڈ شوگر کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    یہاں ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے وہ پانچ پھل بتا رہے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    سبز سیب:
    سبز سیب ذیابیطس کے مریضوں کے لیے سُپر فوڈ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ پھل زنک، آئرن اور دیگر ٹریس میٹلز سے بھرپور ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ سبز سیب میں چینی کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔ سُرخ سیب کا انتخاب نہ کریں کیونکہ ان میں شوگر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

    موسمبی:
    سائٹرک پھل ذیابیطس پر حیرت انگیز کام کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر موسمبی میں گلیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے جو کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ موسمبی وٹامن سی، فلیوونائڈ اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے۔

    ناشپاتی:
    ناشپاتی کا گلائیسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، اس لیے یہ خون میں شوگر کی سطح کو جلدی نہیں بڑھا سکتا۔ یہ وٹامن اے، سی، ای، بی1، بی2، بی3 اور بی9 سے بھرپور ہے۔ ناشپاتی میں پوٹاشیم، کیلشیم اور زنک کی اعلیٰ مقدار ہوتی ہے۔ ناشپاتی کو ریشے دار ہونے کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور اس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور کیروٹینائڈز ہوتے ہیں۔

    جامن:
    جامن شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے اس میں وٹامن اے، سی، گروپ بی اور ڈی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو کہ ہائی بلڈ شوگر لیول کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    امرود:
    کم گلیسیمک انڈیکس ہونے کے علاوہ امرود میں سوڈیم کی مقدار کم اور پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ذیابیطس کے مریض کی صحت کے لیے ضروری ہے امرود میں بھی موسمبی کے مقابلے چار گنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے-

    ذیابیطس کی روک تھام کرنے والی 9 غذائی عادات

    ذیابیطس سے بچاﺅ یا لاحق ہونے پر اسے پھیلنے سے روکنا زیادہ مشکل نہیں اور طبی سائنس نے اس کے حوالے سے چند غذائی عادات پر زور دیا ہے۔

    گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دینا
    ہاورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ روزانہ گھر کے بنے کھانوں کو ترجیح دیتے ہیں (ہفتے میں کم از کم 11 بار) ان میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 13 فیصد کم ہوتا ہے۔ گھر میں بنے کھانے جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھتے ہیں جو ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والا عنصر ہے۔

    اینٹی آکسیڈینٹ،اینٹی بیکٹیریل پودا رات کی رانی کے فوائد

    اجناس کا زیادہ استعمال
    جو لوگ دلیہ، گندم اور دیگر اجناس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوتا ہے۔ یہ دعویٰ طبی جریدے جرنل ڈائیبٹولوجی میں شائع ایک تحقیق میں کیا گیا تھا۔

    اخروٹ کا روزانہ استعمال
    امریکا کی یالے یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق اگر کسی شخص میں ذیابیطس کی تشکیل کا خطرہ ہو تو وہ تین ماہ تک روزانہ کچھ مقدار میں اخروٹ کا استعمال کرے تو اس کی خون کی شریانوں کے افعال میں بہتری اور نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے، اور یہ دونوں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بننے والے عناصر ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اخروٹ کے استعمال سے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ نہیں ہوتا اور انہیں کسی بھی وقت کھایا جاسکتا ہے۔

    غذا میں ٹماٹر، آلو اور کیلوں کی شمولیت
    یہ سب پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں اور ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ منرل ذیابیطس کے شکار افراد کے دل اور گردوں کی صحت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پوٹاشیم سے بھرپور غذا کھانے سے گردے کے افعال میں خرابی آنا سست ہوجاتا ہے جبکہ خون کی شریانوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

    غذائی تجربات سے گریز
    امریکا کی ٹفٹس یونیورسٹی اور ٹیکساس یونیورسٹی کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ کھانوں میں بہت زیادہ تنوع پسند کرتے ہیں ان میں میٹابولک صحت خراب ہوتی ہے اور موٹاپے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ مخصوص غذاﺅں تک ہی محدود رہتے ہیں وہ عام طور پر صحت بخش کھانوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اس طرح ان میں ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

    دہی کا استعمال
    روزانہ دہی کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ اٹھارہ فیصد تک کم کردیتا ہے اور یہ بات ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تھقیق میں سامنے آئی۔ محققین کے مطابق دہی میں ایسے بیکٹریا ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت بہتر کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم اس حوالے سے محققین نے مزید تحقیق کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاہم پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ دہی کے استعمال سے نقصان کوئی نہیں ہوتا ذیابیطس کے شکار افراد کو اکثر کہا جاتا ہے کہ وہ دن بھر میں 6 بار کم مقدار میں کھانا کھائیں مگر زیادہ مقدار میں کم تعداد میں غذا زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہے۔ چیک ریپبلک کی ایک تحقیق کے مطابق کم مقدا رمیں زیادہ بار غذا کا استعمال کچھ اتنا فائدہ مند نہیں، اس کے برعکس تین بار میں پیٹ بھر کر کھالینا بلڈشوگر میں کمی لاتا ہے اور جسمانی وزن بھی متاثر نہیں ہوتا اور ہاں بھوک بھی محسوس نہیں ہوتی۔

    ڈینگی بخار سے بچاؤ کےچند موثر گھریلوعلاج

    پھلوں کا بہتر انتخاب
    جو لوگ جوسز کی بجائے پھل خاص طور پر بلیو بیریز، سیب اور انگور کھانے کو ترجیح دیتے ہیں وہ بھی ہفتے میں کم از کم دو بار تو ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ 23 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ طبی جریدے بی ایم جے میں شائع تحقیق کے مطابق پھلوں کے جوس جتنے بھی صحت بخش قرار دیئے جائیں مگر وہ میٹابولزم امراض بالخصوص ذیابیطس کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھا دیتے ہیں۔

    جبکہ کولڈ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات کا روزانہ استعمال ذیابیطس کا مریض بننے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق میٹھے مشروبات کا استعمال محدود کرنا جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے سمیت دل اور ذیابیطس جیسے امراض کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

  • سلمیٰ آغا کو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے لُوٹ لیا

    سلمیٰ آغا کو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے لُوٹ لیا

    اداکارہ و گلوکارہ سلمیٰ آغا کو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 65 سالہ اداکارہ سلمیٰ آغا نے پولیس کو بتایا کہ وہ ہفتے کے روز ممبئی کے مضافاتی علاقے ورسووا میں ایک کیمسٹ کی دوکان تک رکشے میں سفر کررہی تھیں جب ہی دو موٹر سائیکل سوار افراد نے ان کا بیگ چھین لیا ان کے بیگ میں دو موبائل فونز، نقدی، چابیاں اور دیگر قیمتی اشیا موجود تھیں واقعے کے فوراً بعد اداکارہ ورسووا پولیس اسٹیشن گئیں اور انہیں صورتحال سے آگاہ کیا لیکن اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی ایف آئی آر رجسٹر نہیں کی گئی۔

    آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ کے 5 رشتہ دار ٹریفک حادثہ میں جاں بحق

    رپورٹ کے مطابق سلمیٰ آغا نے بتایا کہ جب انہوں نے پولیس کو واقعے کے متعلق بتایا تو پولیس آفیسر نے انہیں کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے میں تین گھنٹے لگیں گے اور میرا کیس درج نہیں کیا گیا۔

    اداکارہ نے کہ انہوں نے آج ٹوئٹر کے ذریعے ممبئی پولیس کو واقعے کے بارے میں مطلع کیا اداکارہ نے بتایا کہ ان کے علاقے میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس طرح کے واقعات ہوچکے ہیں۔

    بھارتی سیاستدان کا تامل اداکار کو مارنے پر انعام کا اعلان

    بھارتی میڈیا کے مطابق جب پولیس سے ایف آئی درج کرنے میں تاخیر کے متعلق پوچھا گیا تو ورسووا پولیس اسٹیشن کے ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ ہم واقعے کے روز ہی ایف آئی آر درج کرتے ہیں لیکن اداکارہ نے کہا کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے اور وہ بعد میں آئیں گی ہم نے ان سے دوبارہ رابطہ کیا لیکن وہ دوبارہ نہیں آئیں ہم اسی وقت ایف آئی آر درج کریں گے جب اداکارہ پولیس اسٹیشن آئیں گی۔

    بھارتی فلم”جے بھیم” نے مقبولیت اور ریکارڈ میں ہالی ووڈ فلم کو پیچھے چھوڑ دیا

  • سابق ہیڈکوچ قومی کرکٹ مکی آرتھر سری لنکن ٹیم کی کوچنگ سے مستعفٰی

    سابق ہیڈکوچ قومی کرکٹ مکی آرتھر سری لنکن ٹیم کی کوچنگ سے مستعفٰی

    سابق ہیڈ کوچ قومی کرکٹ مکی آرتھر سری لنکن ٹیم کی کوچنگ سے مستعفی ہو گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مکی آرتھر کا بطور ہیڈ آف کرکٹ انگلش کاوئنٹی ڈربی شائر سے معاہدہ طے پا گیا مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے ساتھ اپنا سفر ختم کرنے پر دکھ ہورہا ہےمیں نے ہر لمحہ اس عظیم ملک کی کوچنگ کرنے کو پسند کیا-

    شعیب اختر کی حالیہ پوسٹ نےمداحوں میں ہلچل مچادی

    دسمبر 2019 میں سری لنکن کرکٹ بورڈ نے سابق پاکستانی ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو اپنی ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا سابق پاکستانی کوچ مکی آرتھر سری لنکن کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر کردئیے گئے، مکی آرتھر نے سری لنکن کرکٹ بورڈ سے دو سال کا معاہدہ کیاتھا۔

    واضح رہے کہ ورلڈ کپ میں ناکامی کے بعد پی سی بی نے مکی آرتھر کو قومی ٹیم کی کوچنگ سے ہٹا کر مصباح الحق کو چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا مکی آرتھر کی کوچنگ اور سرفراز احمد کی کپتانی میں قومی ٹیم نے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی تھی –

    میں ایک فائٹر ہوں، ہار نہیں مانوں گا،پی ٹی وی کی جانب سے لیگل نوٹس پر شعیب اختر کی وکیل کو ہدایات

  • چالاک لومڑی اور معصوم گدھے کی کہانی "دی ڈونکی کنگ” چین میں ریلیز ہونے کے لئے تیار

    چالاک لومڑی اور معصوم گدھے کی کہانی "دی ڈونکی کنگ” چین میں ریلیز ہونے کے لئے تیار

    پاکستان کی اینیمیٹڈ فلم ‘دی ڈونکی کنگ’ کو 19 نومبر کو چین کے سینماؤں میں ریلیز کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : سب سے زیادہ کمائی کرنے والی پاکستانی اینیمیٹڈ فلم قرار دی جانے والی ’دی ڈونکی کنگ‘ پہلے ہی اسپین، جنوبی کوریا، روس، یونان، ترکی، پیرو، کولمبیا، ایکواڈور، یوکرین، قازقستان اور تائیوان سمیت 10 سے زائد ممالک کے سینما گھروں میں ریلیز ہو چکی ہے اس فلم کو پہلے انگریزی زبان میں بھی ڈب کیا جا چکا ہے جبکہ امریکا اور برطانیہ میں ناظرین کے لیے ایمازون پرائم پر بھی ریلیز کیا جاچکا ہے تاہم اب یہ فلم چینی زبان میں ترجمے کے بعد سینماؤں میں ریلیز کی جائے گی۔

    خیال رہے کہ ‘ڈونکی کنگ’ کی کہانی ‘آزاد نگر’ نامی جانوروں کی ایک سلطنت پر مبنی ہے، جس کے بادشاہ یعنی شیر ریٹائر ہوکر اپنی سلطنت کسی نئے بادشاہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں فلم کی کہانی اس وقت دلچسپ بن جاتی ہے، جب ایک گدھے کو سلطنت کے راجا کے طور پر نامزد کیا جاتا ہے۔

    گدھے کو ایک چالاک لومڑی اس عہدے کے لیے تجویز کرتی ہیں، تاہم گدھا سلطنت کا نیا راجا بننے کو تیار نہیں ہوتا چالاک لومڑی کی جانب سے سمجھائے جانے کے بعد ہی گدھا راجا بننے کو تیار ہوجاتا ہے-

    تالسمان اسٹوڈیو کے بینر تلے ریلیز ہونے والی‘ڈونکی کنگ’ اکتوبر 2018 میں پاکستان بھر میں ریلیز ہوئی تھی اس فلم میں جانوروں کے کرداروں پر کئی نامور اداکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے گدھے کی آواز پر جان ریمبو (افضل خان) چالاک لومڑی پر حنا دلپزیر نے آواز کا جادو جگایا ہے، جب کہ دیگر کرداروں کی آوازوں پر جاوید شیخ، فیصل قریشی اور غلام محی الدین سمیت دیگر اداکاروں نے صداکاری کی ہے۔

  • "صنف آہن” :رمشا خان اور سائرہ یوسف کے کرداروں کے ٹیزر جاری

    "صنف آہن” :رمشا خان اور سائرہ یوسف کے کرداروں کے ٹیزر جاری

    ہدایت کار ندیم بیگ کے آنے والے میگا کاسٹ تھرلر ڈرامے ’صنف آہن‘ میں سجل علی، کبریٰ خان اور یمنیٰ زیدی کے بعد اداکارہ سائرہ یوسف اور رمشا خان کے کرداروں کے ٹیزر بھی جاری کردیئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی :اس سے قبل سجل علی کے کردار کا ٹیزر 13 نومبر کو جاری کیا گیا تھا، جس میں انہیں ایک عام لڑکی سے فوجی افسر بنتے دکھایا گیا تھا ان کے بعد کبریٰ خان اور یمنیٰ زیدی کے کرداروں کے ٹیزر 15 نومبر کو جاری کیے گئے تھے، جن میں انہیں پاک فوج کا حصہ بنتے دکھایا گیا تھا اب سائرہ یوسف اور رمشا خان کے کرداروں کے ٹیزر جاری کردیئے گئے، جن میں انہیں پاک میں شامل ہوکر روایات کو تبدیل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    رمشا خان ڈرامے میں پرویش جمال کے نام سے بلوچ لڑکی کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی ان کے جاری کیے گئے ٹیزر میں انہیں روایتی بلوچ قبائل کی لڑکی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو کہ کم عمری میں ہی ہتھیار چلاتی دکھائی دیتی ہیں، جس پر انہیں والدہ بھی ٹوکتی ہیں۔

    ’صنف آہن‘ میں اداکارہ سجل علی کبریٰ خان اور یمنیٰ زیدی کے کرداروں کے ٹیزر جاری

    ’صنف آہن‘ میں انہیں بلوچ قبائلی سردار کے زیر اثر خاندان کے فرد کے طور پر دکھایاگیا ہے جب کہ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ فوج میں ان کی شمولیت پر سردار بھی ناراض دکھائی دیتے ہیں انہیں قرض میں ڈوبے خاندان کے ایسے فرد کے طور پر دکھایا گیا ہے جو زائد العمری میں والدین کا سہارا بنتا ہے۔

    جبکہ سائرہ یوسف کے جاری کیے گئے ٹیزر میں انہیں ایک مسیحی لڑکی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو یوحنا آباد سے نکل کر پاک فوج کا حصہ بنتی ہیں ٹیزر میں انہیں رومانس کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا اور ان کے بوائے فرینڈ ان کی فوج میں شمولیت پر اعتراض بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    سائرہ یوسف ’صنف آہن‘ میں آرزو ڈینیئل کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی جو بچپن سے ہی بہادری کی زندگی گزارتی دکھائی دیں گی۔ٹیزر میں دکھایا گیا ہے کہ آرزو ڈینیئل یعنی سائرہ یوسف کو پاک فوج کا حصہ بننے کے لیے والد کی سپورٹ ہوتی ہےمختصر ٹیزر میں انہیں عام مسیحی لڑکی سے فوجی افسر بنتے دکھایا گیا ہے جب کہ انہیں سخت ٹریننگ کرتے اور ہتھیار چلاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ’صنف آہن‘ کی کہانی عام گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کے گرد گھومتی ہے جو بعد ازاں فوجی افسر بنتی ہیں سائرہ یوسف، سجل علی، کبریٰ خان، یمنٰی زیدی اور رمشا خان کے علاوہ ’صنف آہن‘ کی مزید کاسٹ میں عثمان مختار، میرب علی، عاصم اظہر، علی رحمٰن، عثمان پیرزادہ، صبا حمید اور سری لنکن اداکارہ یحالی تاشیا سمیت دیگر اداکار بھی شامل ہیں۔

    ڈرامے کی کہانی عمیرہ احمد نے لکھی ہے اور اسے ہمایوں سعید کی اہلیہ ثمینہ سعید ثنا شاہنواز نے پروڈیوس کیا ہے جب کہ ڈرامے کو بنانے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی تعاون کیا ہےڈرامے کو جلد اے آر وائے ڈیجیٹل پر نشر کیا جائے گا، تاہم اس کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    ڈراما سیریل’صنف آہن‘ کا ٹیزر جاری

  • برطانیہ میں خاتون کی جان بچانے والا 20 سالہ مسلم نوجوان ہیرو قرار

    برطانیہ میں خاتون کی جان بچانے والا 20 سالہ مسلم نوجوان ہیرو قرار

    برطانیہ میں عمر رسیدہ برطانوی خاتون کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان دینے والے مسلم نوجوان کو ہیرو قرار دے دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے "بی بی سی” کے مطابق 20 سالہ نوجوان علی ابوکار علی نے جمعہ کے روز مغربی لندن میں 82 سالہ خاتون بیٹی ویلش پر حملہ کرنے والے ملزم کو روکنے کی کوشش کی جو خاتون پر چھری کے وار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مکے بھی رسید کر رہا تھا مداخلت کرنے پر ملزم نے علی کو قتل کردیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق کنگسٹن یونیورسٹی میں زیر تعلیم صومالی نژاد علی چِس وِک گیٹورز باسکٹ بال ٹیم کا بہترین کھلاڑی بھی تھا۔ علی کی بہادری و شجاعت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گو فنڈ می ویب سائٹ پر عطیات جمع کرنے کی مہم بھی شروع کی گئی تھی جس میں محض دو دن میں 1 لاکھ 20 ہزار ڈالر سے زائد رقم جمع ہوچکی ہے۔


    گیٹورز کلب کے بانی اورباسکٹ بال جوینئر کے بین الاقوامی کھلاڑی مائیکل کینتھو کا اس بارے میں کہنا ہے کہ میری علی سے پہلی ملاقات اس ہوئی تھی جب وہ 13 سال کا تھا اور یہ بات میرے لیے باعث حیرت نہیں ہے کہ اس نے معمر خاتون کی مدد کرنے کی کوشش کی، کیوںکہ وہ حقیقی زندگی میں بھی ہمہ وقت سب کی مدد کے لیے تیار رہتا تھا، لیکن اس کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوا وہ بہت معصوم اور مخلص لڑکا تھا-

    سوشل میڈیا پر علی ابوکار کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے ایک صارف کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی جان دے کر ایک زندگی بچا لی جسے آپ دہشت گرد کہتے ہیں در حقیقت وہ آپ کا ہیرو ہے۔

  • آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ کے 5 رشتہ دار ٹریفک حادثہ میں جاں بحق

    آنجہانی اداکار سوشانت سنگھ کے 5 رشتہ دار ٹریفک حادثہ میں جاں بحق

    آنجہانی بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے 5 رشتے داروں سمیت 6 افراد بھارتی ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :ِ "انڈین ایکسپریس” کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والے افراد سوشانت سنگھ راجپوت کے بہنوئی او پی سنگھ جو کہ ہریانہ کے پولیس آفیسر ہیں کی بہن کی آخری رسومات میں شرکت کرکے منگل کی صبح تقریباً 6.30 بجے ان کی گاڑی کوریاست بہار کے ضلع لکھی سرائی کے نیشنل ہائی وے 333 میں حادثہ پیش آگیا۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور سوگیا تھا جس کی وجہ سے گاڑی ایل پی جی سلنڈرز سے بھرے ہوئے ایک ٹرک سے جا ٹکرائی اور حادثہ پیش آگیا۔
    لکھی سرائی ضلع کے سپرٹنڈنٹ سشیل کمار نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک خوفناک حادثہ قرار دیا۔

    حادثے میں گاڑی کے ڈرائیورسمیت 6 افراد ہلاک ہوئےجبکہ 4 افراد زخمی ہیں، جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد سوشانت سنگھ راجپوت کے دور کے رشتے دار تھے حادثے کی اطلاع ملتے ہی بہار کے وزیر اور سوشانت سنگھ راجپوت کے رشتے دار نیرج سنگھ ببلو حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے جموئی پہنچے۔

    واضح رہے کہ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت گزشتہ برس 14 جون کو ممبئی میں اپنے فلیٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ ممبئی پولیس نے تصدیق کی تھی کہ 34 سالہ اداکار نے پھانسی لگا کر خودکشی کی ہے۔

  • شعیب اختر کی حالیہ پوسٹ نےمداحوں میں ہلچل مچادی

    شعیب اختر کی حالیہ پوسٹ نےمداحوں میں ہلچل مچادی

    پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے پھر سے کرکٹ کھیلنے کا اشارہ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : شعیب اختر کی سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر تازہ پوسٹ میں کرکٹ کے میدان میں دوبارہ اترنے کا عندیہ دیا ہے راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے مشہور سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے انسٹاگرام پر اپنے اکاونٹ پر کرکٹ یونیفارم کی ایک تصویر شیئر کی ہے۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ : شعیب اختر کے بعد آسٹریلوی کپتان بھی پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کے ایوارڈ پر بول پڑے

    تصویر میں سبز اور کالے رنگ کی ایک شرٹ ہے جس پر اختر اور 14 نمبر لکھا ہو اہے اس تصویر کے ساتھ شعیب اختر نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایک بار پھر14 نمبر کی شرٹ پہننے کا وقت آگیا ہے شعیب اختر نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ کب اور کس ایونٹ میں یہ شرٹ پہننے والے ہیں۔

    پی ایس ایل 2022 کی تیاریاں: قذافی اسٹیڈیم کے باہر 20 فٹ لمبا بیٹ اور 12 فٹ چوڑی…

    تاہم شعیب اختر کی پوسٹ کے بعد ان کے فینز ان کو دوبارہ کرکٹ گراونڈ میں دیکھنے کے لیے بے چین ہو گئے ہیں ان کے مداحوں کی جانب سے اس پوسٹ میں مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں اور ان کی کرکٹ میں واپسی کی امید پر انہیں خوش آمدید کہا جا رہا ہے بہت سے مداحوں نے ان سے سوال کیا ہے کہ وہ یہ شرٹ کب اور کس ایونٹ میں پہننے والے ہیں۔

    یاد رہے کہ شعیب اختر قومی کرکٹ ٹیم کی طرف سے14 نمبر کی شرٹ پہن کر ہی کرکٹ کھیلتے تھے۔

    نعمان نیاز سے تلخ کلامی، شعیب اختر نے کس کے مشورے پر شو چھوڑا؟

  • قمار بازی،بربادی معاشرہ     ازقلم :غنی محمود قصوری

    قمار بازی،بربادی معاشرہ ازقلم :غنی محمود قصوری

    قمار بازی،بربادی معاشرہ

    ازقلم غنی محمود قصوری

    جوے کو عربی زبان میں قمار اور انگلش میں Gambling کہتے ہیں جوا ایک انتہائی غلط فعل ہے جس سے انسان کے اندر حرص و لالچ کو بڑھاوا ملتا ہے

    جوے کا عادی شحض لالچ میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتا ہے اور اس کی غیرت مانند پڑ جاتی ہے کئی مرتبہ ایسی باتیں سامنے آئیں جس میں جوا باز نے اپنی عزت (بیوی) تک کو جوے میں ہارا جوا باز شحض کبھی بھی حالت سکون میں نہیں رہتا اور اسی بے چینی کے باعث و دیگر جرائم کا سہارا لیتا ہے تاکہ اپنے ہوئے خسارے کو پورا کرے مگر خسارا کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جاتا ہے-

    حرص کے مارے جواری اپنے بیوی بچوں کے لئے وبال جان ہوتے ہیں اور معاشرے کیلئے ناسور جس سے معاشرے کا امن و سکون برباد ہوتا ہےاسلام کے ابتدائی ایام میں شراب کی طرح جوا بھی جائز تھا لیکن جوے کو شراب کی طرح حرام قرار دیے دیا گیا-
    اللہ تعالی جوے بارے مخاطب فرماتے ہیں

    یسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیسِرِ قُلْ فِیهِمَا إِثْمٌ كَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا [البقرة: 219]

    لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں
    آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں (مگر) ان کا گناہ ان کے منافع سے بڑھا ہوا ہے

    جوے کی ممانعت بارے اسلام میں بڑے سخت احکامات ہیں
    اللہ تعالی فرماتے ہیں

    یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡخَمۡرُ وَ الۡمَیۡسِرُ وَ الۡاَنۡصَابُ وَ الۡاَزۡلَامُ رِجۡسٌ مِّنۡ عَمَلِ الشَّیۡطٰنِ فَاجۡتَنِبُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
    (90) سورۃ المائدۃ:

    ‏ اے ایمان والو! شراب اور جُوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں
    سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ

    اِنَّمَا یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّوۡقِعَ بَیۡنَکُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ فِی الۡخَمۡرِ وَ الۡمَیۡسِرِ وَ یَصُدَّکُمۡ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّنۡتَہُوۡنَ
    (91)

    ‏ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہئے

    جدید طریقے میں جوے کی طریقے بھی جدید ہو گئے ہیں جیسے مرغ بازی میں جوا،تاش کے پتوں پر جوا،گھڑ سواری پر جوا اور دیگر کئی قسمیں موجود ہیں جوے کیں مگر اس وقت زیادہ تر لوگ پرچی جوا کھیلتے ہیں جس میں کرکٹ میچ میں کسی ایک ہندسے پر رقم لگائی جاتی ہے
    جیسا کہ دو ملکوں کے مابین میچ ہو رہا ہو تو جواری کہتا ہے أخری ہندسہ صفر ہو گا اب چاہے وہ کل رنز 420 ہو یا 310,90 جو بھی ان کو غرض آخری ہندسہ سے ہی ہے-

    اگر مطلوبہ ہندسہ آگیا تھا جواری کو ایک ہزار کا دس ہزار ملے گا اور اگر نا آیا تو اس کا لگایا ہوا ایک ہزار گیا یہ رقم کم یا زیادہ بھی ہوتی ہے یہ بہت تیزی سے پھیلنے والی جوے کی قسم ہے جس کیلئے محض ایک کاپی پنسل اور موبائل فون ہی کافی ہےاس کاروبار کرنے والے کو بکئیا کہتے ہیں جوے کا یہ طریقہ پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے اور بہت زیادہ تعداد میں چھوٹے کم عمر بچے بھی اس کے عادی ہو رہے ہیں –

    اس کاروبار میں ملوث لوگوں کا کوئی ٹھکانہ بھی زیادہ تر نہیں ہوتا اکثر بیشتر ہوٹلوں میں بکئیے موجود ہوتے ہیں یا پھر زیادہ تر گھر بیٹھے فون پر ہی جواری کی لگائی گئی رقم اور ہندسہ لکھ لیتے ہیں اور اختتام میچ پر جواری کے حق میں آنے والے ہندسہ پر منافع دیا جاتا ہے بصورت دیگر جواری کی رقم ضائع اس لئے جواری حضرات لالچ میں بیک وقت کئے ہندسوں پر رقم لگاتے ہیں تاہم ہر صورت زیادہ سے زیادہ نفع میں بکئیہ ہی رہتا ہے-

    پاکستان میں جوے کے خلاف کوئی خاص قانون موجود نہیں جس کے باعث یہ جرم باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہےجوے کی سزا پاکستانی قانون نا ہونے کے برابر ہے مثال کے طور پر عوامی مقامات پر جوا کھیلنے والوں کو 500 روپیہ تک جرمانہ یا پھر زیادہ سے زیادہ ایک سال قید، یا دونوں سزائیں بیک وقت جبکہ نجی اداروں جوے پر 1000 روپیہ جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا یا دونوں سزائیں بیک وقت ہو سکتی ہیں-

    اسی کمزور سزاؤں کی بدولت جوا باز دھرلے سے جوا کھیلتے ہیں اور بااثر افراد اس کو کاروبار بنا رہے ہیں جوے کو روکنے کیلئے سخت قانون سازی کی جانی چائیے تاکہ اس ناسور سے نجات حاصل کی جا سکے