Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • آزادکشمیرکے اسپتال میں آتشزدگی ، ایک ملازم  زخمی

    آزادکشمیرکے اسپتال میں آتشزدگی ، ایک ملازم زخمی

    آزاد کشمیر: میرپور کے اسپتال میں آتشزدگی کی وجہ سے ایک ملازم جھلس کر زخمی ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق میر پور کے ڈی ایچ کیو اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں آکسیجن سلنڈر کی تبدیلی کے دوران اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ لگنے کے باعث ایک ملازم جھلس کر زخمی ہوگیا، زخمی ملازم کو طبی امداد دی جارہی ہے۔

    ٹرانسفارمر پھٹنے کا کیس: حیسکو پر 2 کروڑ 60 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آگ سے دیگر عملہ، مریض اور ان کے لواحقین محفوظ رہے ہیں جبکہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ تحصیل شجاع آباد میں موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے ایک خاتون کرنٹ لگنے سے جھلس گئی تھی سعدیہ بی بی نامی خاتون اپنے گھر میں موبائل چارجنگ پر لگانے لگی تو اسے کرنٹ لگا جس کے فوری بعد اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی تھی-

    لبنان:آئل فیکٹری میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی

    آگ لگنے کے باعث خاتون بری طرح جھلس گئی متاثرہ خاتون کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال شجاع آباد منتقل کیا گیا تاہم حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کردیا گیا تھا-

    ساس بہو کے جھگڑے نے ایک شخص کی جان لے لی

    موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے خاتون کے کپڑوں کو آگ لگ گئی،حالت تشویشناک

  • صوفیہ مرزا کی دوستوں کے ساتھ انتاکشری کھیلنے کی ویڈیو وائرل

    صوفیہ مرزا کی دوستوں کے ساتھ انتاکشری کھیلنے کی ویڈیو وائرل

    اداکارہ ماڈل و میزبان صوفیہ مرزا کی انتاکشری کھیلنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائل ہو رہی ہے جسے مداحوں کی جانب سے خوب پسند کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : اداکارہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شئیر کی جس میں ان کے ساتھ ان کی بہن مریم مرزا اور چند دوستوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جب کہ انہوں نے کورونا ایس او پیز کا خیلا رکھتے ہوئے سماجی فاصلہ بھی رکھا ہوا ہے-


    ویڈیو میں اداکارہ کو دوستوں کے ساتھ نوے کی دہائی کا معروف گیم انتکاشری کھیلتے دیکھا جا سکتا ہے-

    ویڈیو شئیر کرتے ہوئے صوفیہ مرزا نے بتایا کہ کوویڈ کے دوران دوستوں کے ساتھ بغیر سُر اور تال کے انتاکشری کھیلتے ہوئے-

    صوفیہ مرزا بالوں کی حفاظت کس طرح کرتی ہیں ؟ انہوں نے ٹپس مداحوں کے ساتھ شئیر کر دیں

    واضح رہے کہ انتاکشری ایک معروف کھیل ہے جس میں کھلاڑیوں کو پچھلےگانے کے آخری لفظ سے شروع ہونے والا کوئی گانا گانا پڑتا ہے آپ اسے واٹس ایپ پر کسی ایک کھلاڑی یا ٹیم بنا کربذریعہ میسج یا گروپ کالز کی شکل میں کھیل سکتے ہیں۔

    نوے کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے اس کھیل سے بخوبی واقف ہوں گے، جب تک انٹرنیٹ، اسمارٹ فون نے گھریلو اقدار اور بچوں سے ان کا بچپن نہیں چھینا تھا، تب تک یہ کھیل ہر گھرمیں بچے بڑے مل کرکھیلا کرتے تھے، لیکن اسمارٹ فون نے بچپن کے اس خوب صورت کھیل کو بھی نئی نسل سے دور کردیا ہے، تاہم اب ٹیکنالوجی کے سائے میں بڑے ہونے والے نوجوان ماضی کے اس کھیل سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، اسے گروپ ویڈیو کال کی شکل میں کھیلا جاسکتا ہے۔

    صوفیہ مرزا کا اپنے یوٹیوب چینل پر نیا پروگرام "لیٹس ٹاک”

    آپ کو صرف کھیل کے شرکا کو ایک حروف تہجی (الفابیٹ) بتا کراس سے شروع ہونے والے نام، جگہ، جانور، اورچیز کو گروپ میں لکھنے کا کہیں، جو سب سے پہلے یہ کام کرلے وہ اس کھیل کا فاتح قرار پائے گا۔ اسی طرح اس کھیل کو ایک ایک کرکے کال پر بھی کھیلا جاسکتا ہے۔

    واضح رہے کہ اداکارہ صوفیہ مرزا سوشل میڈیا پر آج کل کافی متحرک ہیں اور آئے دن نئی ویڈیوز اور تساویر شئیر کرتی دکھائی دیتی ہیں جن میں وہ صحت سے متعلق اور بیٹی ٹپس مداحوں کے ساتھ شئیر کرتی ہیں جنہیں مداحوں کی جانب سے خوب پسند کیا جاتا ہے-

  • پنیرکا استعمال انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید

    پنیرکا استعمال انسانی صحت کے لئے انتہائی مفید

    غذائی ماہرین کی جانب سے پنیر یعنی کہ ’چیز‘ کو بہترین غذا قرار دیا جاتا ہے تقریباً 8 ہزار سال سے دودھ کے ذریعے مختلف قسم کا پنیر تیار کیا جا رہا ہے پنیر ہر عمر کے فرد کی من پسند غذا ہے جبکہ اسے بچوں کے استعمال کے لیے نہایت مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    دودھ سے پنیر تیار کرنے کے مرحلے کے دوران دودھ میں سے سارا پانی نکال لیا جاتا ہے، دودھ سے پنیر کی تیاری کا عمل پروٹین کی وافر مقدار فراہم کرنے کے ساتھ اس کو صحت کے لیے نہایت مفید بنانے کا باعث بھی بنتا ہے جس کے استعمال سے بے شمار طبی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق پنیر کا استعمال صحت کے لیے فائدہ مند اور اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں خون کی شریانوں، بلڈ پریشر، امراضِ قلب، فالج اور میٹابولک امراض مثلاً ذیابطیس وغیرہ سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے دودھ پینے کے بجائے پنیر کھانے کے نتیجے میں فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے۔

    میتھی دانے سے گرتے بالوں کا علاج

    پنیر کی زیادہ تر اقسام کو پروٹین حاصل کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا جاتا ہے، کم چکنائی پر مشتمل پنیر کو پروٹین کا بہترین ذریعہ جبکہ پنیر کی ایک اور قسم پرمیسن چیز(Parmesan cheese ) کو دیگر اقسام کے مقابلے میں سب سے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔

    پرمیسن چیز کے ایک اونس میں 10 گرام پروٹین پائے جاتے ہیں جبکہ اس کے برعکس پنیر کی دیگر اقسام جیسے کہ موزریلا، چیڈر، کوٹیج اور ریکوٹا میں پروٹین کی مقدار کم اور فیٹ کی مقدار زیادہ پائی جاتی ہے۔

    انسانی پٹھوں میں ورزش یا بھاری بھرکم کاموں کے نتیجے میں ہونے والی ٹوٹ پھوٹ، متاثرہ پٹھوں کی مرمت، اعضاء کی بناوٹ، نشوونما اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت فراہم کرنے کے لیے پروٹین اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    پروٹین کی کمی مسلز کی کمزوری، درد، جسمانی نشوونما میں کمی، جگر پر چربی، جِلد اور ناخنوں کے مسائل، بالوں کے ٹوٹ جانے یا گنج پن جیسے مسائل کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

    اسی لیے غذائی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ انسان کی روز مرہ خوراک میں پروٹین کی مناسب مقدار کا شامل ہونا ضروری ہے۔

    پروٹین کی مقدار سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ مردوں کو روزانہ 56 گرام، خواتین کو 40 گرام جبکہ بچوں کو 19 سے 34 گرام پروٹین کی مقدار کا استعمال کرنا چاہیئے۔

    وٹامن بی 12 دودھ یا پھر سپلیمنٹس سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پنیر کی کئی قسموں میں بھی وٹامن B12 قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے غذائی و طبی ماہرین کے مطابق پنیر کینسر یا سرطان سے محفوظ رکھتا ہے، جَلد والدین بننے کی خواہش مند افراد کے لیے پنیر کا استعمال لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

    پالک کا ستعمال آنتوں کے کینسر سے محفوظ رکھتا ہے تحقیق

    لو فیٹ یعنی کے کم چکنائی والا پنیر بلڈ پریشر کو اعتدال میں رکھتا ہے اور جگر کو مضبوط بناتا ہے بچوں کا قد بڑھانے کے لیے پنیر کا استعمال کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

    مضبوط ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے لو فیٹ پنیر ایک بہترین غذا ہے جبکہ کیلشیم، پروٹین، میگنیشیم کی وافر مقدار اعصاب اور اعضاء کو طاقت ور بناتی ہے پنیر پٹھوں کے درد، جوڑوں کی سوجن اور تکلیف میں مفید قرار دیا جاتا ہے۔

    پنیر کا استعمال جسمانی کمزوری کو دور کرتا ہے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرتا ہے پنیر چاہے کم چکنائی والا ہی کیوں نہ ہو اس کے استعمال سے وزن بڑھتا ہے، اسے کمزور بچوں کی غذا میں پنیر شامل کرنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    ’غذائیت سے بھرپور خوراک‘ مشروم کے فوائد

  • انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

    انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

    معرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی ویڈیو اورتصاویر شئیرنگ ایپ انسٹاگرام میں ایک نئے فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انسٹاگرام ڈاون ہونے کے بعد صارفین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس لیےیہ فیچر کسی بھی تکنیکی خرابی یا بندش کی صورت میں صارفین کو بروقت مطلع کر سکے گا جس کا اعلان انسٹاگرام کی جانب سے خود کیا گیا۔

    انسٹاگرام کی جانب سے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ایپلیکیشن کی سروس میں خرابی کی بروقت اطلاع دینے کے لئے ایک نیا فیچر آزمایا جارہا ہے یہ فیچر ابتدائی طور پر امریکا میں آزمایا جارہا ہے اور اس کو کچھ ماہ تک جاری رکھا جائے گا۔

    پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر، بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    یاد رہے اس نئے فیچر کو حالیہ دنوں میں دو بار انسٹاگرام کی سروس بند ہونے کے بعد متعارف کرایا جا رہا ہے 4 اکتوبر کو فیس بک میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کی وجہ سے انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی سروسزبھی چھ گھنٹے بند رہی تھی۔

    جس کے باعث ساڑھے 3 ارب صارفین ان ویب سائٹس کو استعمال نہیں کر سکے تھے جبکہ کمپنیز کو اربوں کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ اسپیڈ مکمل بحال نہ ہوسکی صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام استعمال کرنے والوں کو کئی روز مسائل کا سامنا ہو گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز 25 ہزارکلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک کمی آ گئی تھی ٹیلی کام ذرائع کے مطابق 40 ٹیرا بائیٹ کا اہم ترین کیبل فجیرا کے قریب خراب ہوگیا جس کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست ہے۔

    اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں دوروز سے انٹر نیٹ کی اسپیڈ کم ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

  • پاکستان سے اسمگل ہونیوالے نایاب کچھوے کتنے میں فروخت کئے جاتے ہیں؟ جان کر حیران رہ جائیں

    پاکستان سے اسمگل ہونیوالے نایاب کچھوے کتنے میں فروخت کئے جاتے ہیں؟ جان کر حیران رہ جائیں

    صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلی حیات نے کچھووں کی نایاب نسل” بلیک پونڈ” کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی-

    باغی ٹی وی : برطانوی ادارے "بی بی سی اردو” کے مطابق صوبہ سندھ کے محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ انھوں نے 42 قیمتی کچھوؤں کی سمگلنگ کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ان کچھوؤں کو اُن کے قدرتی مسکن میں واپس چھوڑ دیا ہے۔

    محکمہ وائلڈ لائف سندھ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بین الاقوامی سمگلر بلیک پونڈ نسل کے ایک کچھوے کی قیمت مقامی سمگلرز کو 80 ہزار پاکستانی روپے تک ادا کرتے ہیں ا ور 42 کچھوؤں کی مجموعی قیمت 33 لاکھ سے زیادہ ہو سکتی ہے-

    جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مختلف اقسام کے ایک کچھوے کی قیمت گیارہ سو ڈالر سے لے کر پندرہ سو ڈالر ہے مقامی طور پر کچھوے کی خرید و فروخت اور سمگل کرنے کے لیے رشوت تک کے مراحل ایک سو پچاس ڈالر سے لے کر ایک سو پچپن ڈالر میں طے ہوتے ہیں۔

    لڑکی نے اس طرح اپنے بوائے فرینڈ کی بے وفائی پکڑی کہ خفیہ ایجنسیاں حیران رہ گئیں

    انھوں نے بتایا کہ اس نسل کے کچھوؤں کا رنگ کالا ہوتا ہے اور جسامت بہت چھوٹی۔ اُن کے مطابق ان کچھوؤں کا سائز زیادہ سے زیادہ چار انچ اور کم سے کم ڈیڑھ انچ تک ہوتا ہے ہمارا خیال ہے کہ ان کو کچھ شوقین مزاج لوگ پالتو جانور کے طور پر رکھتے ہیں یہ شوق چین، یورپ اور امریکہ میں بہت زیادہ ہے۔

    ماہرین کے مطابق پاکستان میں کچھوے کی مجموعی طور پر 11 انواع پائی جاتی ہیں۔ جن میں آٹھ میٹھے یا تازہ پانی اور تین سمندری (نمکین پانی) میں پائی جاتی ہیں۔ میٹھے یا تازہ پانی کا کچھوا دریائے سندھ، پنجاب اس سے منسلک دریاؤں، ملحقہ ندی نالوں، چشموں، تالابوں میں پایا جاتا ہے۔

    وائلڈ لائف سندھ کے اہلکار کے مطابق بلیک پونڈ دیگر کچھووں کی طرح سندھ اور پنجاب کے تازہ پانیوں میں پایا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ عموماً جب بارشوں کے بعد دریاؤں یا نہروں میں پانی کم ہو جاتا ہے تو بننے والے چھوٹے تالابوں یا گڑھوں میں کچھوئے رہ جاتے ہیں، اسی لیے اس کا نام پونڈ اور رنگ کی وجہ سے بلیک پونڈ کہا جاتا ہے۔

    دلہن کی سہیلی کرائے پر دستیاب ، انوکھی آن لائن سروس

    اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کچھوؤں کی سمگلنگ میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے گرفتار ملزمان غیر قانونی طور پر پکڑے گے کچھووں کو اپنی شناخت چھپا کر سوشل میڈیا پر فروخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب ہمیں اس کی اطلاع ملی تو ہمارے سٹاف نے ان لوگوں کے ساتھ گاہگ بن کر رابطہ کیا اور ان سے نمونے دکھانے کا مطالبہ کیا جب وہ ہمیں ملے اور نمونے کے طور پر بلیک پونڈ دکھایا تو ٹیم نے ان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔

    سرکاری اور غیر سرکاری ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کچھوے کی غیر قانونی تجارت میں پاکستان کے علاوہ نیپال، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، سنگاپور، جنوبی کوریا اور ویتنام سر فہرست ہیں ماہرین کے مطابق پینگولین کے بعد سے سے زیادہ غیر قانونی خرید و فروخت کچھوے کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس کی تعداد میں ریکارڈ کمی پیدا ہوئی ہے۔

    دنیا میں کچھوؤں کی بڑی مارکیٹ چین ہے یہ انتہائی منافع بخش کاروبار ہے اہلکار کا کہنا تھا کہ چند ماہ قبل کراچی میں چین کے کچھ لوگوں کی رہائش گاہ پر سے بھی بڑی تعداد میں کچھوے اور ان کے خول بر آمد ہوئے تھے چین میں کچھوا کا خول سوپ کے لیے جب گوشت کھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    پارک میں گھومنے آئی خاتون ہیرے کی مالک بن گئی

    جبکہ چین میں کچھوے کو مقامی ادوایات کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں اس کے خول کو پاوڈر بنا کر جنسی طاقت کی دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

    چیف کنزویٹر وائلڈ لائف صوبہ سندھ کا کہنا ہے کہ ہماری ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ پانی میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی ایک بڑی وجہ کچھوؤں کی کمی بھی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کچھوے ماحولیاتی نظام میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، قدرت نے کچھوے کو آبی ماحولیاتی نظام کے خاکروب کا کردار سونپا ہے یہ اپنی خوراک مردہ اجسام، بیمار مچھلیوں و آبی جانور، انسانی صحت کے لیے خطرناک کیڑے مکوڑے اور جراثیم کھا کر حاصل کرتے ہیں اس طرح یہ پانی کے ذخائر کو آلودگی سے پاک رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

  • لاہور: نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے خاتون وکیل جاں بحق

    لاہور: نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے خاتون وکیل جاں بحق

    لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے خاتون وکیل جاں بحق ہو گئیں-

    باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خاتون وکیل جاں بحق ہوگئی ہیں۔

    گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں خاتون شدید زخمی ہوگئی تھیں خاتون وکیل کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جاںبر نہ ہو سکیں پولیس نے جائے وقوعہ کو سیل کر دیا ہے اور شواہد جمع کیے جا رہے ہیں-

    نرس کے اندھے قتل میں ملوث ملزم گرفتار، اسلحہ برآمد

    حکام کا کہنا ہے ملزمان کی تلاش کیلئے علاقے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی چیکنگ کی جائے گی۔

    قبل ازیں لاہور میں نرس کا قتل کیا گیا تھا پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا تھانہ شاہ پور پولیس نے شہر کے نواحی علاقہ میں نرس کے اندھے قتل میں ملوث ملزم کا سراغ لگا کر گرفتار کر لیا تھا گرفتار ملزم کا تعلق فتو عبدالرحیمہ سے ہے جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران رشتے سے انکار پر مسماۃ (ش) دختر شمشاد کو فائرنگ کر نے کا اعتراف کر لیا ہے جس کے قبضہ سے آلہ قتل بھی برآمد کر لی گئی ہے، مقتولہ اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال میں نرس تھیں جن کو یکم اکتوبر کو راہ چلتے قتل کیا گیا تھا-

    10 سالہ بچی کو ہراساں کرنیوالا اوباش ،قحبہ خانے سے مردوخواتین گرفتار

    مدعی داود خان ولد شمشاد خان سکنہ بدھنی نے مورخہ یکم اکتوبر کو تھانہ شاہ پور پولیس کو رپورٹ کی تھی کہ اس کی بہن مسماۃ (ش) جو کہ اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں نرس تھی کو کسی نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے جس پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ایس ایچ او تھانہ شاہ پور ملنگ جان نے دوران تفتیش متعدد جرائم پیشہ اور مشکوک افراد کی کڑی نگرانی شروع کرتے ہوئے مقتولہ کے قرب و جوار میں رہنے والے متعدد افراد کو بھی شامل تفتیش کیا، جس کے دوران مقتولہ کے اندھے قتل میں ملوث اصل ملزم کا سراغ لگاتے ہوئے گزشتہ روز ملزم اسلم ولد فرید سکنہ فتو عبدالرحیمہ کو گرفتار کر لیا گیا جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران مقتولہ کو رشتے سے انکار پر قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے، ملزم کے قبضہ سے آلہ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے-

    بد بخت باپ جوئے میں بیٹی ہار گیا

    خود کو وزیراعظم ہاؤس کا سکیشن آفیسر ظاہر کرکے لوگوں کو لوٹنے والا جعلساز گرفتار

  • 1500سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی فیکٹری

    1500سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی فیکٹری

    شراب کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ انسانی تہذیب و تمدن کے ابتدائی دور سے موجود ہے تاہم اسرائیل میں 1500 سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی ایک فیکٹری دریافت ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی نوادرات اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شراب کی مذکورہ فیکٹری بازنطینی دور سے اب تک دریافت ہونے والی سب سے بڑی وائنری ہے-

    آثار قدیمہ کے ماہرین نے اسرائیلی لینڈ اتھارٹی کی جانب سے یونے شہر کو ارد گرد کے علاقے میں وسعت دینے کے اقدام کے طور پر 75 ہزار مربع فٹ جگہ کی کھدائی میں دو سال کا وقت لیا۔

    ریسرچ کے مطابق پانی کے ناقص معیار کی وجہ سے 520 عیسوی کے لگ بھگ بازنطینی دور میں بالغوں اور بچوں کے لیے شراب پینا عام تھا۔

    ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جون سیلگ مین کے مطابق اس مشن کے دوران انہیں دوسری صنعتوں کی باقیات بھی ملی ہیں، جن میں شیشے اور دھات کی فیکٹریاں موجود ہیں پلانٹ میں کئی ہزار ٹکڑے اور مٹی کے جار بھی موجود ہیں جبکہ ان باقیات میں گھر اور دوسری عمارتیں بھی شامل ہیں جو بازنطینی اور اسلامی کے درمیان عبوری دور کی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق یونے میں دریافت کی گئی فیکٹری ہر سال 20 لاکھ لیٹر تک شراب پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ برطانیہ مجموعی طور پر سالانہ 8 ملین لیٹر سے کم شراب پیدا کرتا ہے-

    اس سے قبل 2017 میں سائنس دانوں کو مشرقی یورپ کے ملک جارجیا سے انہیں 8 ہزار سال قبل کے مٹی کے مرتبان اور ان میں انگور بنائے جانے کے نشانات ملے جن کے بارے میں محققین کی رائے تھی کہ یہ انگور سے شراب بنانے کے قدیم ترین شواہد ہو سکتے ہیں۔

    یہ آثار جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی کے جنوبی علاقوں میں دو مقامات پر ملےتھے ان مرتبانوں میں شراب کی باقیات بھی ملیں جبکہ بعض مرتبانوں پر انگور کے خوشے اور رقص کرتے ہوئے ایک شخص کی تصویر بھی پائی گئی تھی۔

    جارجیا میں ملنے والی ان چیزوں کے بارے میں پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی-

    اس سے قبل شراب کے قدیم ترین شواہد ایران سے ملے تھے اور وہاں ملنے والے شراب کے ظروف کی عمر سات ہزار سال بتائی گئی تھی۔

    سنہ 2011 میں آرمینیا کے غاروں میں چھ ہزار سال پرانی شراب کے آثار ملے تھے بغیر انگور کے تیار کی جانے والی دنیا کی قدیم ترین شراب کی باقیات چین سے ملے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چاول، شہد اور پھلوں سے تیار کی گئی تھی۔

  • حکومت وقت پر ایل این جی خریدنے میں ناکام،حماد اظہر کا اعتراف

    حکومت وقت پر ایل این جی خریدنے میں ناکام،حماد اظہر کا اعتراف

    ملک میں موسم سرما آنے سے پہلے ہی گیس نایاب ہو گئی عوام پریشانی میں مبتلا ہو گئی-

    باغی ٹی وی: ملک میں گیس کے شدید بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا، صنعتیں چلانے کے لئے گیس نایاب ہوگئی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کو ایل این جی سپلائی کے لیے عالمی کمپنیوں کی طرف سے کوئی رسپانس نہیں ملا۔

    حکومت وقت پر ایل این جی خریدنے میں ناکام، پچھلے سال سے زیادہ اس سال سردیوں میں گیس لوڈ شیڈنگ ہوگی،
    ایل این جی کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے 10کارگو ہی خریدے جاسکے، پچھلے سال 11خریدے گئے تھے
    عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے کارگو نہیں مل رہے، حکام
    وفاقی وزیر برائے توانائی محمد حماد اظہر کی زیر ِ صدارت سردیوں کے لوڈ مینجمنٹ کی تیاری کے حتمی جائزہ اجلاس میں انکشاف

    اسلام آباد(محمداویس)حکومت وقت پر ایل این جی خریدنے میں ناکام، پچھلے سال سے زیادہ اس سال سردیوں میں گیس لوڈ شیڈنگ ہوگی، ایل این جی کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے 10کارگو ہی خریدے جاسکے، پچھلے سال 11خریدے گئے تھےعالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے کارگو نہیں مل رہے۔وفاقی وزیر برائے توانائی محمد حماد اظہر نے سردیو ں کے لوڈ مینجمنٹ پلان کے حتمی جائز ہ کیلئے پاور ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کے ٹیکنیکل ٹیموں کیساتھ اجلاس کی صدارت کی اور لوڈ مینجمنٹ پلان کو حتمی شکل دیدی گئی۔اجلا س میں سیکریٹری پاورڈویژن، سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلا س میں پچھلے سال کی کارگوز کی تعداد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس سال کی طلب اور رسد کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں موجود پاکستان اسٹیٹ آئل اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے حکام نے بتایا کہ اس سال نومبر اور دسمبر میں 10، 10کارگوز دستیاب ہیں جبکہ گُزشتہ سال ان کارگوز کی تعد اد 11تھی، اس سال ایل این جی میں کئی سو فیصد اضافہ کی وجہ سے ایل این جی ٹریڈرز نے بولی دینے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا جس کی بڑی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل این جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔وفاقی وزیر برائے توانائی محمد حماد اظہرنے گیس لوڈ مینجمنٹ کے تحت اس سال پاور سیکٹر، ایکسپورٹ سیکٹر، فرٹیلازر اور گھریلو صارفین کو بلاتعطل گیس کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔دورانِ اجلاس بتایا گیا کہ سسٹم گیس جو کہ پاکستان کی سرزمین سے نکلنے والی گیس کو پہلے سے ہی ترجیحاََ گھریلو صارفین کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ ہمارے 70فیصد گیس سپلائی مقامی گیس پر مبنی ہے جس کی اوسط قیمت 4ڈالر فی MBTU ہے۔ طویل المیعادی معاہدوں کی بدولت ہمارے 9کارگوز طے شُدہ قیمت پر منگوائے جاتے ہیں جو کہ موجودہ قیمتوں سے کہیں زیادہ کم ہیں۔سپاٹ کار گوکی عدم دستیابی کو فرنس آئل کی درآمد سے پورا کیا جائے گا تاکہ صنعتی صارفین کو توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی نے متعلقہ محکموں کو اپنی تیا ری مستعد رکھنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں نئے ٹرمینل کے لیے راستہ ہموار کرنے اور موجودہ ٹرمینل کے غیر استعمال شُدہ صلاحیت کو قابلِ استعمال بنانے کے لئے درکار لائحہ ِ عمل پرعملدآمد کرنے پر زور دیا۔

    دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمٰن نے گیس کے بحران پر انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے سردیاں آنے سے پہلے ہی 15 گھنٹے کی گیس کی لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ کر لیا صارفین کو 24 گھنٹے کے دوران صرف 9 گھنٹے گیس دستیاب ہوگی۔

    شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے صنعتیں اور چولہے بند ہو رہے ہیں 3 برس میں گیس کی قیمتوں میں 350 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا وقت پر ایل این جی کارگو کی خریداری حکومت کو 3 سال میں سمجھ نہیں آئی۔

    دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپ میں قدرتی گیس کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور کچھ ممالک کی حکومتوں نے خبردار کیا ہے کہ اس سال موسم سرما میں صارفین کے گیس کے بلوں میں اضافہ ہوجائے گا جبکہ کئی صنعتوں کے بند ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

    نہ صرف یورپ بلکہ گیس کی کم ہوتی رسد اور بڑھتی طلب کے باعث یہ بحران یورپ سے نکل کر عالمی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے خاص طور پر اب جب معیشتیں کرونا وبا سے نکل رہی ہیں، موسم سرما قریب ہے اور سردی کے باعث طلب میں اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔

    عالمی کمپنی انٹرکانٹیننٹل ایکسچینج کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کے دوران یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں پانچ سو فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ برطانیہ میں توانائی کے ریگیولیٹر آفجیم نے تنبیہ کی ہے کہ اگلے سال تک صارفین کے بلوں میں 30 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • سائنسدانوں نے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا لیا

    سائنسدانوں نے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا لیا

    مریخ کا ماحول کیسا ہو گا معلوم کرنے کے لئے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا کر وہاں رہنے اور کام کرنے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس مقصد کے لیے اسرائیل کے صحرائی علاقے نگیف میں مریخ سیارے کا متوقع ماحول تیار کیا گیا ہے۔یہ تجربہ امریکا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریا اور اسرائیل کے ماہرین مل کر کر رہے ہیں اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر روور گاڑی بھی تیار کی گئی ہے جو ہر طرح کی سطح پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرے والی گاڑی بالکل ویسی ہی بنائی گئی ہے جیسی اس سے قبل مریخ مشن پر بھیجی گئی تھی 2035 کے مریخ مشن میں انسانوں کے ہمراہ تھری ڈی پرنٹر بھی بھیجا جائے گا جبکہ ایک تجربہ گاہ کو اسپیس سینٹر کی صورت میں تیار کیا گیا ہے-

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ

    تیار کئے ئے مذکورہ اسپیس سینٹر کے ماحول میں 6 ماہرین جن میں 5 مرد اور 1 خاتون اہلکار خلائی سوٹ پہنے 4 ہفتے گزاریں گے اور مختلف سائنسی تجربات کئے جائیں گے یہ تجربہ آسٹرین اسپیس فورم کے تحت کیا جا رہا ہے-

    رپورٹ کے مطابق مریخ کی سطح پر اب تک کوئی انسان لینڈ نہیں کر سکا تاہم ایسی امید کی جا رہی ہے کہ 2035 تک پہلا انسانی مشن مریخ کی سطح پر اتر کر تجربات کا آغاز کرے گا۔

    آسٹرین سائنس فورم کے مطابق خلابازوں اور خلائی انجنیئرز کی ایک ٹیم آسٹریا میں کنٹرول روم سے حالات پر مکمل نظر رکھے گی 6 خلابازوں کی آئسولیشن 31 اکتوبر کو ختم ہو گی۔

    4 ہفتے کے دوران یہ خلاباز تازہ خوراک استعمال کر پائیں گے نا ہی عام زندگی میں حاصل سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے تجربہ گاہ سے باہر آنے کی صورت میں خلائی سوٹ پہننا بھی لازم ہو گا صرف جسمانی ہی نہیں دماغی اور جذباتی صحت پر بھی اکیلے پن اور مشکل ترین حالات کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    اس سے قبل سا ئنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائسندانوں کا کہنا تھا کہ اب وہ نظام شمسی سے آگے ہیسیان کی دنیا میں پہنچ چکے ہیں جن میں زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں جن کا پتہ دو سے تین سال کے اندر لگایا جا سکتا ہے۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین فلکیات نے امکان کا اظہار کیا ہے کہ زمین سے دو گنا بڑا ’منی نیچیون‘ نامی سیارہ رہائش کے قابل ہو سکتا ہے ہائسیان نامی خلائی نظام میں ایسے سیارے موجود ہیں جن میں سمندر ہیں اور ان کے اندرونی حصوں میں ہائیڈروجن بھی موجود ہے جو انسانی زندگی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ہائسن ہمارے نظامی شمسی سے دور ایک ایسا نظام ہے جہاں دنیا کے موافق سیارے موجود ہیں ان میں پتھریلی چٹانے اور وسیع میدان ہے سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سیارے انسانی رہائش کے قابل ہیں یہ سیارے توانائی حاصل کرنے کے لیےسورج جیسے بڑے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • شا ہ رخ کے بیٹے کی گرفتاری کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے؟ مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    شا ہ رخ کے بیٹے کی گرفتاری کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے؟ مبشر لقمان کے تہلکہ خیز انکشافات

    پاکستان کے معروف صحافی اور سینئیر اینکر پرسن بھارتی میڈیا پر اس وقت ایک سٹوری کا بہت زیادہ چرچا ہوا رہا ہے اور وہ ہے بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی گرفتاری لیکن کیا آپ کو پتہ ہے اس خبر کو اتنا زیادہ بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟اس کی آڑ میں وہ کون سی اہم خبریں ہیں جن کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ کس طرح سے مودی سرکار اور بھارتی میڈیا اپنی ہی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مبشر لقمان نے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شئیر کی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ویڈیو میں آپ کو ان تمام سوالوں کے جوابات دیں گے اور مودی سرکار کو بے نقاب بھی کریں گے-

    انہوں نے بتایا کہ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کو 3 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا اس کے بعد آج اس کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور اب 7 اکتوبر تک کے لئے ریمانڈ پر نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے حوالے کر دیا گیا ہے آریان خان کو ممبئی کے ساحل سے دور ایک کروز شپ پر پارٹی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا اس پر الزام ہے کہ اس نے اس پارٹی میں منشیات کا استعمال کیا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ویسے سب سے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شدت پسند مودی کے بھارت میں جہاں شراب کی فروخت قانونی ہے وہاں چرس پینے کے الزام میں شاہ رخ خان کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا خیر آریان کی گرفتاری کی اطلاع جیسے ہی سامنے آئی تو سلمان خان بھی فورا شاہ رخ خان کو تسلی دینے کے لئے ان کے گھر پہنچ گئے۔

    اینکر پرسن نے کہا کہ جس کے بعد پاپا رازی کی ایک بڑی فوج شاہ رخ خان کی رہائش گاہ کے باہرنظریں جمائے بیٹھی ہے تاکہ ہر آنے جانے والے پر نظر رکھی جائے اور ان کی تصاویر بنائی جائیں جس کی وجہ سے شاہ رخ خان کی سیکیورٹی ٹیم نے بالی ووڈ کے ستاروں کو ہدایت جاری کردی کہ وہ وہاں آنے سے گریز کریں لیکن ٹیلی فون پر دپیکا پڈوکون ، کرن جوہر ، روہت شیٹی، سنیل شیٹی سمیت تقریبا تمام ہی اداکار اور اداکارائیں ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی بالی وڈ کے تمام لوگ آریان کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں آج امید تو یہ کی جا رہی تھی کہ آریان خان کو آج ضمانت مل جائیگی لیکن ایسا ہو نہیں سکا اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ شاہ رخ خان کا بیٹا اور اس کو ضمانت تک نہیں مل سکی۔

    مبشر لقمان نے کہا کہ ویسے تو اس حادثے کے بعد شاہ رخ خان کو بھی احساس ہوا ہو گا کہ انڈیا میں جب عام مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو وہ کیسا محسوس کرتے ہوں گے وہ ظلم جس پر شاہ رخ خان کبھی بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز نہیں اٹھاتے، خاموش رہتے ہیں بلکہ بعد میں جاکرمودی کے ساتھ دعوتوں میں شریک ہو کر سیلفیاں بناتے ہیں۔ لیکن آج وہ مودی سرکار ان کے کام نہیں آ رہی ان کے بیٹےکو ضمانت تک نہیں دی جا رہی۔ بلکہ اس خبر کو اور زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ صرف بھارتی میڈیا کے آج تک نیوز نے اس خبر پر سو سے زیادہ ٹوئیٹس کئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اب میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے آپ خود سوچیں کہ آریان خان خود کوئی سلیبرٹی تو تھا نہیں کہ اس کا اتنا چرچا ہو رہا ہے اور نہ ہی یہ کوئی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اس پہلے بھی کئی بالی وڈ شخصیات کے بچے یا خود کامیاب اداکاراور اداکارائیں ڈرگز کے استعمال پر یا دوستوں کے ساتھ ڈرگز پارٹیاں کرنے کے الزامات میں گرفتار ہوتے رہے ہیں۔

    سینئیر صحافی نے کہا کہ اب ہو سکتا ہے کہ آپ سوچ رہے ہوں کہ شاید یہ ڈرگز سے متعلق خبر تھی اس لئے اس کو اتنی اہمیت دی گئی تو ایسا بھی نہیں تھا کیونکہ کچھ ہی ہفتے پہلے بھارتی گجرات کی مندرا بندر گاہ پر تقریبا تین ہزار کلو ڈرگز پکڑی گئی تھی جس کی مالیت تقریبا 21 ہزار کروڑ ہندوستانی روپے بنتی تھی لیکن اس پر یہ پورا بھارتی میڈیا خاموش رہا تھا اس خبر پر اتنی ہزار ٹوئیٹس نہیں ہوئیں تھیں جتنی آریان خان پر خبریں بنا کر ٹوئیٹس کی جا رہی ہیں۔ آریان کے حوالے سے شاہ رخ خان کی پرانی پرانی ویڈیوز کو بھی نکال کر دوبارہ سے وائرل کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کے پیچھے مودی سرکار کی سازش کیا ہے جس میں بھارتی میڈیا بھی پارٹنر بنا ہوا ہے دراصل اس واقع کی آڑ میں دو بہت ہی اہم خبروں کو چھپایا جا رہا ہے ایک خبر تو یہ ہے کہ بی جے پی پارٹی کی حکومت والی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے روڑکی میں ایک چرچ پرتین اکتوبر کو 200 سے زائد شرپسندوں نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی اور یہ شر پسند آپ خود جانتے ہیں کہ کون ہو سکتے ہیں۔ یہ شر پسند ہندو انتہا پسند تنظیموں کے لوگ تھے جن کو مودی سرکار کی پوری سپورٹ حاصل ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ اس حملے میں کم از کم 5 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اور ان ہندو انتہا پسندوں نے فرنیچر، تصویریں اور موسیقی کے آلات وغیرہ بھی توڑ دیئے تھے وہ حملہ کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے کے نعرے بھی لگاتے جا رہے تھےاور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو روکنے کے لئے پولیس نہیں پہنچی چرچ انتظامیہ کی شکایت کے باوجود پولیس نے اب تک کسی حملہ آور کو گرفتار نہیں کیا بلکہ الٹا مسیحی برادری اور چرچ کے ہی 9 افراد کے خلاف کیس درج کر دیا اور ان پر ایک خاتون کو دھمکی دینے اور حملہ کرنے کے الزامات لگا دئیے گئے۔

    مبشر لقمان نے مزید بتایا کہ حالانکہ اب چرچ کے قریب ایک گھر کے پاس لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ لیکن سیاسی دباو کی وجہ سے اب تک متاثرین کے خلاف درج کرایا گیا کیس منسوخ نہیں کیا گیا اور نہ ہی حملے میں ملوث لوگوں کی شناخت کے باوجود ان کو گرفتار کیا گیااور اس طرح کی کاروائیوں کے پیچھے ہمیشہ مودی سرکار کے پاس ایک ہی گھسی پٹی وجہ ہوتی ہے جو کہ بی جے پی کے ریاستی صدر مدن کوشک نے اپنے بیان میں بتا بھی دی ہے کہ اس چرچ کا استعمال ہندووں کا مذہب تبدیل کرانے کے لیے ہو رہا تھا اس واقعے میں جو لوگ ملوث ہیں، وہ دراصل اسی کالونی کے رہنے والے تھے اور چرچ کو مذہب کی تبدیلی کے لیے استعمال کیے جانے کی وجہ سے ناراض تھے۔ اس لئے انہوں نے یہ حملہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ حالانکہ اس چرچ کو چلانے والی سادھنا لانس ایک ریٹائرڈ سرکاری اسکول ہیں جو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اب اس چرچ کو اپنی جمع کردہ رقم اور پینشن کے پیسوں سے چلاتی ہیں اور وہاں ایسی کوئی کاروائی نہیں ہوتی رہی جس کا الزام ان پر لگایا جا رہا ہے اس کے علاوہ دوسری خبر جس کو آریان خان کے کیس کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ کسانوں کو معاملہ ہے۔

    یہ ہنگامہ بھی 3 اکتوبر کو ہی شروع ہوا تھا۔ اتوار کے روز اتر پردیش کے نائب وزیراعلی کیشو پرساد موریہ لکھیم پور کھیری میں کچھ سرکاری منصوبوں کا افتتاح کرنے والے تھے جس کے بعد انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ اجے کمار مشرا کے آبائی گاؤں میں ایک پروگرام میں شرکت کرنا تھی مودی حکومت کی زراعت کے حوالے سے پالیسیوں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لئے کسان وہاں بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہو گئے جہاں یہ تقریب منعقد ہونا تھی۔

    مبشر لقمان کے مطابق کیشو پرساد موریہ پہلے اس پروگرام میں شرکت کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے آنے والے تھے، لیکن بعد میں ان کے پروٹوکول میں تبدیلی کی گئی اور وہ بذریعہ سڑک لکھیم پور پہنچےاتوار کو دوپہر ڈیڑھ بجے جب سنگ بنیاد کا پروگرام مکمل ہوا اس وقت تک وہاں کوئی ہنگامہ نہیں تھا۔ کسانوں کا احتجاج بھی پر سکون تھا۔ حالانکہ کچھ دن پہلے اجے مشرا نے اپنے بیانات میں کسانوں کو کافی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

    انھوں نے کالے جھنڈے دکھانے والے کسانوں کو خبردار کیا تھا کہ میں صرف وزیر یا رکن اسمبلی نہیں ہوں۔ جو لوگ مجھے ایم پی اور ایم ایل اے بنانے سے پہلے میرے بارے میں جانتے ہیں، وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں کسی بھی چیلنج سے بھاگنے والا نہیں اور جس دن میں نے اس چیلنج کو قبول کر کے کام شروع کیا اس دن پالیا ہی نہیں بلکہ لکھیم پور تک چھوڑنا پڑ جائے گا، یہ یاد رکھنا۔

    لیکن مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب اجے مشرا کی تین گاڑیوں کا قافلہ تیکونیا کے قریب پہنچا جہاں کسان سڑک روک کر احتجاج کر رہے تھے وہاں ان کی کسانوں کے ساتھ گرما گرمی ہوئی اجے مشرا کے ساتھ موجود لوگوں میں سے کسی نے گولی چلائی جو ایک کسان کے سر پر لگی اور اس کے بعد حالات بگڑ گئے۔ جس پر انہوں نے اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں بھی ان کی گاڑیوں نے کسانوں کے ہجوم کو تیزی سے روندنا شروع کر دیا جس میں چار کسان کچل کر مر گئے اور تقریبا ایک درجن افراد زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں کسانوں کی لاشیں سڑک کے کنارے پڑی دکھائی بھی دے رہی ہیں۔ اس کے بعد تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور دو گاڑیوں کو آگ بھی لگائی گئی۔ ایک صحافی بھی اس میں مارا گیا۔ اور کل آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

    جب اپوزیشن رہنماوں نے وہاں پہنچنے کی کوشش کی تو ان کو بھی زبردستی روکا گیا۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کو سیتا پور کے مقام پر حراست میں لے لیا گیا جس پر راہول گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا حکومت پرینکا کی ہمت سے خوفزدہ ہے؟ پرینکا میں جانتا ہوں کہ آپ پیچھے نہیں ہٹیں گی- وہ آپ کی ہمت سے ڈر گئے ہیں۔ ہم انصاف کی اس عدم تشدد والی لڑائی میں ملک کے کسان کو جیت دلا کر رہیں گے۔
    اس کے علاوہ پارٹی عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کو بھی لکھیم پور کے راستے میں ہی روک لیا گیا۔ تاکہ کوئی وہاں پہنچ کر اصل صورتحال نہ جان سکے اور نہ ہی کسانوں کے ساتھ کسی طرح کی حمایت کا اظہار کیا جائے اب آپ سوچیں کہ انڈیا میں وہ اتنے بڑے واقعات ہوئے جن میں اتنے لوگ مارے گئے-

    لیکن مودی سرکار اور ان کا چہیتا میڈیا صرف شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی خبر میں دلچسپی لے رہا تھا۔ انڈیا میں کسانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور اقلیتوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ دکھانے میں ان کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اسی لئے آریان کو ابھی ضمانت بھی نہیں دی گئی تاکہ ابھی مزید کچھ دن تک میڈیا اسی خبر پر لگا رہے پھر باقی دونوں معاملات دب جائیں گے تو آریان کو بھی چھوڑ دیا جائے گا۔ تو یہ ہے مودی سرکار اور ان کے جعلی میڈیا کا اصل چہرہ کہ کیسے سازشیں کرکے اصل واقعات کو عوام کے سامنے آنے سے روکا جاتا ہے۔