Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • طالبان کا خوف، عرشی خان  نے افغان کرکٹر سے شادی کا ارداہ ترک کر دیا

    طالبان کا خوف، عرشی خان نے افغان کرکٹر سے شادی کا ارداہ ترک کر دیا

    بھارتی اداکارہ عرشی خان نے طالبان کے خوف سے افغان کرکٹر سے شادی نہ کرنے کا عندیہ دے دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی شو ’بگ باس‘ سے شہرت حاصل کرنے والی بھارتی اداکارہ عرشی خان افغانستان میں بدلتی صورتحال پر حالیہ ویڈیوز میں انکشاف کیا کہ ان کا تعلق پاکستان سے نہیں بلکہ افغانستان سے ہے اور ان کے والد افغانستان سے ہجرت کرکے بھارت آئے اور اب ہم ہندوستانی ہیں۔

    اداکارہ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرے والد نے اپنے ایک دوست کے بیٹے سے میری منگنی کروائی تھی جو افغانستان کرکٹ ٹیم کا کھلاڑی ہے اور یہ رشتہ گھروالوں کی رضامندی سے ہوا تھا البتہ منگنی کے بعد ہم دونوں دوست بن چکے ہیں اور ہماری بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے تاہم اب یہ رشتہ مزید قائم نہیں رہے گا۔

    عرشی خان افغانستان میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے لئے پریشان

    عرشی خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے ٹیک اوور کے بعد میرا نہیں خیال کے میرے گھر والے بھی اب اس رشتے کو جاری رکھیں گے، وہ اس کے بجائے میرے لیے اب بھارت میں ہی کوئی رشتہ تلاش کریں گے۔

    واضح رہے اداکارہ عرشی خان کی گزشتہ ہفتے ’دی ڈیول انسائڈ‘ کے نام سے ویب سیریز بھی ریلیز ہوئی ہے جس میں ادکارہ نے مرکزی کردار ادا کیا ہے، وہ اس کے علاوہ ایک تامل فلم میں بھی اداکاری کے علاوہ متعدد ڈارمہ سیریلز اور میوزک ویڈیوز میں بھی جلوہ گر ہوچکی ہیں-

  • دنیا اگلے 60 سالوں میں کورونا سے بڑے وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے تیاررہے     ماہرین

    دنیا اگلے 60 سالوں میں کورونا سے بڑے وبائی مرض سے نمٹنے کے لیے تیاررہے ماہرین

    حالیہ تحقیق کے تناظر میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 60 سالوں میں دوبارہ کورونا جیسی وبائی بیماری پھیلنے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ماہرین نے 400 سالوں میں لاعلاج بیماریوں کے پھیلاؤ پر تحقیق کی ہے ان کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 ایک صدی سے زیادہ عرصے میں ہونے والی مہلک ترین وائرل وبا میں سے ایک ہے-

    پاکستان میں کورونا کے باعث مزید 91 اموات

    ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بدترین وبائی مرض پھیلنے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے اعدادوشمار کے مطابق ، انتہائی وبائی امراض اتنے نایاب نہیں ہیں جتنے پہلے فرض کیے جاتے تھے 2080 میں دوبارہ کورونا جیسی وبائی بیماری پھیلنے کا امکان ہے کوویڈ 19 اور اسی طرح کے عالمی پیمانے پر وبا کے امکانات کسی بھی سال دو فیصد ہوتے ہیں۔

    ماہرین نے ایک مفروضے میں کہا ہے کہ جو شخص سال 2000 میں پیدا ہوا ہے اس کے پاس ایک وبائی مرض کا تجربہ کرنے کا 38 فیصد موقع ہوگا ، اور وہ اپنی 60 ویں سالگرہ تک دوسرے مرض کا تجربہ کرے گا۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر آبادی میں اضافے ، خوراک کے نظام میں تبدیلیوں ، ماحول کی تباہی اور انسانوں اور بیماریوں سے محفوظ رہنے والے جانوروں کے درمیان زیادہ رابطے کی وجہ سے وبائی امراض کا خطرہ بڑھ رہا ہے دنیا کو کورونا سے بڑے وبائی مرض اور اس کے پھیلاو سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا کیونکہ ہم تیزی سے اس کے جانب بڑھ رہے ہیں۔

    نیوزی لینڈ: کورونا کے بڑھتے کیسز لاک ڈاؤن میں توسیع، پارلیمنٹ بند

  • فاطمہ بھٹو انجلینا جولی پر برس پڑیں

    فاطمہ بھٹو انجلینا جولی پر برس پڑیں

    فاطمہ بھٹو ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی کو آڑے ہاتھوں لے لیا-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا سے دور رہنے والی ہالی ووڈ اداکارہ اوراقوام متحدہ کی خصوصی سفیر انجلینا جولی نے چند روز قبل باقاعدہ طور پر انسٹاگرام میں شمولیت اختیار کی انجلینا جولی اپنےانسٹاگرام کو افغانستان میں بحران کا سامنا کرنے والے لوگوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں


    تاہم فاطمہ بھٹو نے انجلینا جولی کو اس پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا اور اداکارہ کے افغانستان پر بولنے پر مقبوضہ کشمیر اور فلسطین یاد کرا دیا۔

    انہوں نے بی بی سی کی انجلینا جولی کی لگائی گئی خبر کو ری ٹویٹ کیا اور کہا کہ کچھ معروف حقوق نسواں اور اداکاراؤں کے مطابق، افغانستان پچھلے ہفتے تک جنت تھا۔


    دوسری ٹویٹ میں فاطمہ بھٹو نے انجلینا جولی کو افغانستان پر بولنے پر شکریہ ادا کیا اور لکھا کہ اگلی بار فلسطین میں ہونے والے مظالم پر بھی آواز بلند کریں۔


    ایک اور ٹوئٹ میں فاطمہ بھٹو نے ایک بار پھر بی بی سی کی تصویر کے ساتھ تمام صارفین سے سوال کیا، کہ کیا انجلینا کو کسی نے مقبوضہ کشمیرکے بارے میں آگاہ کیا ہے؟

    امریکی ہونے پر شرمندگی محسوس کر رہی ہوں انجلینا جولی

  • سیلفی لیتے ہوئے دو نوجوان دریائے نیلم میں ڈوب گئے

    سیلفی لیتے ہوئے دو نوجوان دریائے نیلم میں ڈوب گئے

    مظفر آباد کے قریب دریائے نیلم میں سیلفی لیتے ہوئے دو نوجوان ڈوب گئے۔

    باغی ٹی وی : ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ مظفرآباد کے قریب تانگہ اسٹینڈ کے مقام پر گزشتہ رات پیش آیا ایک دوست سیلفی لیتے ہوئے پیر پھسلنے سے دریا میں گر گیا، دوسرے دوست نے اسے بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی اور دونوں تیز موجوں کی نظر ہوگئے۔

    ریسکیو اہلکاروں کے مطابق جاں بحق ہونے والے نوجواںوں کی شناخت عمر اسلم اورممتاز مرتضیٰ کے نام سے ہوئی دونوں نوجوان آزاد کشمیر کے علاقے موڑہ صادق کے رہائشی تھے۔ دونوں دوست سیر و تفریح کے لیے وادی نیلم گئے تھے۔

    خیال رہے کہ گرمیوں میں دریائے نیلم کا بہاﺅ انتہائی تیز ہے اور اس میں گرنے یا ڈوبنے کے بعد بچنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔

  • مصر کی دارالافتاء کونسل نےجز وقتی شادی  کو حرام قرار دیا

    مصر کی دارالافتاء کونسل نےجز وقتی شادی کو حرام قرار دیا

    مصر کی دارالافتاء کونسل نےجز وقتی شادی کو دینِ اسلام میں رائج شادی کے نظریات کے برخلاف اور حرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی ’جز وقتی‘ شادیوں کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تصور نہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مصر میں سوشل میڈیا پر جز وقتی یا پارٹ ٹائم شادی سے متعلق ہونے والی بحث پر ملک کی اسلامی افتاء کونسل نے بیان جاری کیا ہے “پارٹ ٹائم” شادی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ملک کی افتاء کونسل نے خبردار کیا کہ ایسی ’جز وقتی‘ شادیوں کا اسلامی تعلیمات میں کوئی تصور نہیں۔

    مصری دارالافتاء کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ ہمیں شادی کے لیے جدید اصطلاحات کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے .حالیہ دنوں میں شادی کے عمل کو جدید اصطلاحات سے منسوب کرنا، نمود ونمائش، شہرت ، دینی اقدار کو عدم استحکام اور منفی تاثر سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں الجھن پیدا کرنے کا سبب ہے لہٰذا اسلام ایسے قوانین کی اجازت نہیں دیتا۔

    دارالافتاء کونسل کا کہنا ہےکہ کچھ لوگ نکاح نامے کو نئے نام دے کر یا مخصوص وقت کے لیے مختص کرکے جو کچھ بھی کرتے ہیں ایسی کوششیں اس معاہدے کو باطل کرنے کا باعث بنتی ہیں، قانونی شادی ایک ایسا معاہدہ ہے جو مستقل اور تسلسل پر مبنی ہو ناکہ کسی مخصوص وقت تک محدود ہو، بصورت دیگر یہ شادی حرام ہے۔

    دارالافتاء کونسل کے اس بیان کے بعد جامعہ الازہر کے پروفیسر ڈاکٹر احمد کریمہ کی جانب سے جز وقتی (پارٹ ٹائم) شادی کو جائز قرار دینے کے بعد مصر میں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑ گئی اور اس نئے رحجان کی حمایت اور مخالفت میں آرا سامنے آنے لگیں۔

    نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے جامعہ الازہر کے فقہ کے پروفیسر کریمہ نے کہا کہ باہمی رضامندی، گواہ اور جہیز کی بنیادی شرائط مکمل ہونے پر جز وقتی شادی میں کوئی حرج نہیں ایک بار جب یہ شرائط پوری ہوجائیں تو شادی جائز ہو جاتی ہے اور اس میں مشترکہ وراثت، رہائش اور قانونی طریقے سے لطف اندوز ہونے کے حقوق شامل ہوتے ہیں۔

    پروفیسر کریمہ نے زور دے کر کہا جب تک شادی کا معاہدہ شرائط کو پورا کرتا ہے جزوقتی شادی میں کوئی حرج نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ “عارضی شادی” کے برعکس جو ایک یا دو ماہ تک محدود ہوتی ہے کو اسلام میں باطل ہے جبکہ پارٹ ٹائم شادی جائز ہے۔

  • وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے آسٹریلوی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے آسٹریلوی ہم منصب کا ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے انکی ‏آسٹریلین ہم منصب ماریس پین نے منگل کو ٹیلیفونک رابطہ کیا

    باغی ٹی وی : دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات ،افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ ء خیال ہوا۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے حوالے سے اجتماعیت کے حامل، جامع سیاسی تصفیے کا حامی ہے۔موجودہ حالات کے پیش نظر، ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانوں کی سکیورٹی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ افغان قیادت کی جانب سے منظر عام پر آنے والے حالیہ بیانات حوصلہ افزاء ہیں،عالمی برادری کو افغانستان کی تعمیر نو اور افغانوں کی معاشی بحالی کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    وزیر خارجہ نے آسٹریلوی ہم منصب کو کابل سے مختلف ممالک کے سفارتی عملے، بین الاقوامی اداروں کے اہلکاروں اور میڈیا نمائندگان کے جلد انخلاء کے سلسلے میں جاری پاکستانی معاونت سے آگاہ کیا۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، آسٹریلیا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے جبکہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سیاسی، اقتصادی، اور تہذیبی حوالے سے دو طرفہ تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی موجودہ نوعیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، انہیں مزید مستحکم بنانے کیلئے اعلیٰ سطحی روابط کے فروغ پر زور دیا۔

    آسٹریلوی وزیر خارجہ نے کابل سے انخلاء کے عمل میں معاونت کی فراہمی پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا-

  • یوکرین کا طیارہ افغانستان میں ہائی جیک کرلیا گیا

    یوکرین کا طیارہ افغانستان میں ہائی جیک کرلیا گیا

    یوکرائن کے مسافر طیارے کو کابل سے نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر ہائی جیک کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے اپنے باشندوں کو واپس لانے کیلئے طیارہ بھیجا تھا مگر اتوار کی صبح مسلح ہائی جیکر جہاز میں گھس گئے اور طیارے کو اغوا کر لیا –

    یوکرین کے نائب وزیر خارجہ کے مطابق طیارہ کابل میں یوکرائن کے پھنسے ہوئے شہریوں کو لینے کے لیے گیا تھا، لیکن طیارہ نامعلوم مسافروں کو لے کر و لے کر اڑان بھر گیا جہاز میں یوکرینی باشندوں کی بجائے دیگر افراد موجود ہیں ۔

    یوکرینی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے جہاز کو مبینہ طور پر ایران لے جایا گیا ہے خبر ایجنسی کے مطابق طیارہ اب کس حالت میں ہے اس سے متعلق کچھ نہیں بتایا جا سکا۔

    ڈپٹی وزیر خارجہ یوکرائن کے مطابق شہریوں کو نکالنے کی ہماری 3 کوششیں نا کام ہوئیں۔ ہمارے شہریوں کو کابل ایئر پورٹ کی طرف نہیں آنے دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ایران نے یوکرائن کے طیارے کی اپنی حدود میں داخل ہونے کی تردید کردی ایران کی سول ایوی ایشن کی جانب سے دعویٰ کی سختی سے تردید کی گئی ہے ۔

    ایرانی سول ایوی ایشن کے ترجمان محمد حسن زیبخش نے یوکرینی نائب وزیر خارجہ کے بیان کی تردید کرتے ہوئے بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہناتھا کہ” کل رات یوکرینی طیارہ ایرانی شہر مشہد مقدس میں ایندھن بھرنے کی غرض سے اترا اور ایندھن بھرنے کے بعد فوری طور پر کیف کیلئے روانہ ہوگیا-

  • نور مقدم کیس: عدالت نے تھراپی سینٹر کے مالک سمیت 6 ملازمین کی ضمانت منظور کرلی

    نور مقدم کیس: عدالت نے تھراپی سینٹر کے مالک سمیت 6 ملازمین کی ضمانت منظور کرلی

    اسلام آباد کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے پاکستان کے سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم قتل کیس میں تھراپی ورکس کے مالک اور6 ملازمین کی ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی :اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج عطاربانی نے اس سےقبل ہونے والی سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو 50،50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بادی النظر میں تھراپی ورکس کے مالک اور ملازمین کا نور مقدم کے قتل میں کوئی کردار نہیں، ملزمان کے ثبوت مٹانے کی کوشش کا معاملہ ٹرائل کے دوران طے ہو گا۔

    عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ نور مقدم کے قتل کے وقت تھراپی ورکس کے مالک یا ملازمین موقع پر موجود نہیں تھے،ریکارڈ کے مطابق مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے تھراپی ورکس کے ملازم امجد کو زخمی کیا۔یہ مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا کہ تھراپی ورکس کی ٹیم ثبوت مٹانے گئی تھی-

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موقع پر پہنچنے سے پہلے تھراپی ورکس کی ٹیم کو قتل کا علم تھا یا نہیں، ٹرائل میں طے ہو گا، ملزمان کی ضمانتیں 50،50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی جاتی ہیں۔

    اس سے قبل تھراپی سینٹر کے مالک اور دیگر 6 ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی تو ملزم کے وکیل شہزاد قریشی نے کہا کہ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں میرے مؤکل کا نام شامل نہیں ہے، پھر بھی انہیں گرفتا کیا گیامیرے مؤکل کا تھراپی کا کام ہے اور وہ لوگوں کا علاج کرتے ہیں۔

    نورمقدم کے وکیل شاہ خاور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان ظاہر کے گھر کے اندر دروازہ توڑ کر داخل ہوتے ہیں، ملزم ظاہر جعفر نے نور مقدم کو قتل کیا اور پھر اپنے والدین کو بتایا والدین نے تھراپی سینٹر والوں کو کال کی کہ وہاں جا کر میرے بیٹے کو دیکھیں-

    نور مقدم : ظاہر جعفر کے والدین کی شاطر چالیں بے نقاب. وحشی درندے نے ماں باپ بھی…

    جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ جو الزام ہمارے پر لگائے گئے ہیں سب جھوٹے ہیں اور تھراپی سینٹر کے ملزمان کی حد تک جو دفعات لگائی گئی ہیں وہ قابل ضمانت ہیں۔

    شہزاد قریشی نے بتایا کہ تھراپی سینٹر کے ملزمان کو جب بھی پولیس نے بلایا وہ پیش ہوئے اور تھراپی سینٹر کا مالک عمر رسیدہ شخص ہیں اور اس موقع پر انہوں نے مختلف عدالتوں کے حوالے بھی پیش کیے میرا مؤکل دل کا مریض ہے، گردہ متاثر اور ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہے، اسی دوران ملزم کی میڈیکل ہسٹری عدالت میں پیش کی گئی۔


    ملزمان کے وکیل نے کہا کہ جو لوگ ہم نے بھیجے تھے انہوں نے ہی ملزم کو گرفتار کیا اور ہمارے لوگ زخمی ہیں، اس کے باوجود ہمیں گرفتار کیا گیا لہٰذا میری استدعا ہے کہ تھراپی سینٹر کے مالک کی ضمانت منظور کی جائے۔

    شہزاد قریشی نے ملزمان کی ضمانت کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملازم امجد کو ملزم ظاہر ذاکر جعفر نے چھری کے وار کر کے زخمی کیا، ہم 5 لوگ موقع پر گئے تھے اور ہم نے کیسے ثبوت مٹائے، اگر ہم ثبوت مٹاتے تو امجد کیسے زخمی ہوتا۔

    شہزاد قریشی نے کہا کہ ہم نے ہی پولیس کو فون کر کے بلایا اور واقعے کے 18 دن بعد ہمیں ملزم بنایا گیا، ہمارا کردار دوران تفتیش سامنے آئے گا، اس لیے استدعا ہے ضمانت منظور کی جائے۔

    نور مقدم کیس. عصمت دری، بدترین تشدد، ڈی این اے، فنگر پرنٹ. ظاہر جعفر کو پھانسی کب…

    نورمقدم کے والد کے وکیل شاہ خاور نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تفتیش ہو رہی ہے، کال ڈیٹا ریکارڈ بھی سامنے آیا، سی سی ٹی وی فوٹیج اہم ثبوت ہے، جیسے جیسے لوگوں کے کردار نظر آتے رہے، ان کو نامزد کیا گیا۔

    وکیل شاہ خاور نے کہا کہ پہلا ضمنی بیان 24 جولائی کو مدعی نے دیا تو ملزم کےوالدین سمیت ان ملزمان کو نامزد کیا گیاملزم ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کی درخواست ضمانت کا فیصلہ بھی آچکا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک وہ فیصلہ چیلنج نہیں کیا۔

    نورمقدم کے والد کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ جب تھراپی ورکس کے ملازمین جائے وقوع پر پہنچے تو امجد زخمی ہوا تھا لیکن اس نے پولیس کو واقعے کی اطلاع نہیں دی امجد کو پہلے پرائیویٹ ہسپتال لے کر گئے، جس پر ہسپتال والوں نے کہا کہ یہ پولیس کیس ہے، پھر وہاں سے ان کو پمز منتقل کیا گیا۔

    شاہ خاور کا کہنا تھا کہ مقتولہ نور نے کھڑکی سے چھلانگ لگا کر بھاگنے کی کوشش کی مگر ملزم ظاہر جعفر کے والد نے پولیس کو بلوانے کی بجائے تھراپی سینٹر کے مالک کو فون کیا اور ان سے کہا کہ آپ جا کر چیزوں کو دیکھیں حالانکہ تھانہ جائے وقوع سے صرف 10 منٹ کی دوری پر ہے۔

    نور مقدم قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی

    شاہ خاور نے کہا کہ امجد کی سرجری ہوئی تھی اور ہسپتال سے ڈسچارج ہوا لیکن اس معاملے کو پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا، امجد کو غلط طور پر ملزم نہیں بنایا گیا۔

    ملزمان کے وکیل کے دلائل کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ خاور نے کہا کہ میرے دوست وکیل نے جن مقدمات کی مثال دی ہے، وہ اس کیس سے کہیں سے بھی نہیں ملتی، کیونکہ جیسے ہی تفتیش میں تیزی آئی تھراپی سینڑ کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

    جبکہ اس موقع پر سرکاری وکیل حسن عباس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم ظاہرجعفر کے والد ذاکر جعفر کو معلوم تھا کہ قتل ہو رہا ہے جبکہ پولیس ہمسائے کے کہنے پر جائے وقوع پر پہنچی۔

    انہوں نے کہا کہ ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت اسی لیے خارج ہوئی کیونکہ انہوں نے پولیس کو نہیں بتایا تھا اور اسی طرح زخمی امجد کے ساتھ ہسپتال جانے والے ملزم نے ایمرجنسی میں بتایا کہ روڈ حادثہ ہوا ہے۔

    نورمقدم کے قاتل کو بھاگنے نہیں دیں گے،دوٹوک جواب،مبشر لقمان کا دبنگ اعلان

    سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزمان کو7 بجے سے معلوم ہوگیا تھا کہ قتل ہورہا ہے لیکن انہوں نے پولیس کو نہیں بتایا بلکہ ثبوت مٹانے کی کوشش کی،ملزم کے والدین بھی 7 سے 9 بجے تک جائے وقوع پر پہنچ گئے تھے لیکن انہوں نے پولیس کو نہیں بتایا تاہم ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔

    عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو بعد ازاں سنا دیا گیا اور تھراپی سینٹر کے مالک سمیت 6 ملزمان کی درخواست منظور کرلی گئی۔

    نورمقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین سمیت دیگر 4 ملزمان کے عدالتی ریمانڈ میں مزید توسیع کی گئی ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ مقصود احمد انجم نے ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی اور 6 ستمبر تک توسیع کر دی پولیس نے ملزمان کو بخشی خانہ لایا اور بذریعہ روبکار حاضری لگا کر جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کی گئی۔

    مبشرلقمان آپ نےقوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی”نورمقدم” کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا…

  • سلمان خان کو ائیر پورٹ پر روکنے والا پولیس اہلکار مشکل میں پھنس گیا

    سلمان خان کو ائیر پورٹ پر روکنے والا پولیس اہلکار مشکل میں پھنس گیا

    بالی ووڈ کے سپر سٹار سلمان خان کو روس روانگی کے وقت ایئر پورٹ پر تلاشی کیلئے روکے جانے پر نوجوان سیکیورٹی اہلکار کیلئے مشکل کھڑی ہو گئی ہے ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق چند روز قبل بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان چند روز قبل اداکارہ کترینہ کیف کے ہمراہ اپنی فلم ’’ٹائیگر3‘‘ کی شوٹنگ کے لیے ممبئی ایئرپورٹ سے روس روانہ ہوئے تھے۔

    سلمان خان اپنی ٹائیگر فرنچائز کی تیسری فلم کی شوٹنگ کے لیے روس جانے کی غرض سے جیسے ہی ممبئی ایئرپورٹ پہنچے جہاں مداحوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے انہیں گھیر لیا اور ان سے تصویر کی فرمائش کرنے لگے۔ جب ہجوم زیادہ بڑھ گیا اور لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا توایئرپورٹ پر موجود سینٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے اہلکار اے ایس آئی سومناتھ موہانتے نے سلومیاں کو سیکیورٹی چیک کے لیے ایئرپورٹ پر روک لیا تھا-

    سلمان خان کو ایئر پورٹ پر روکنے والے اہلکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی اور لوگ اپنے فرض کی ادائیگی پر سیکیورٹی اہلکار کی تعریفیں کررہے تھے جب کہ کچھ لوگ تو انہیں ہیرو قرار دے رہے تھے، لیکن اب یہ اہلکار مشکل میں پڑگیا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی آئی ایس ایف نے اے ایس آئی سومناتھ موہانتے کا موبائل فون قبضے میں لے لیا ہے کیونکہ اس نے سلومیاں کو ایئرپورٹ پر روکنے کے بعد ایک میڈیا تنظیم سے فون پر بات کی تھی۔

    ٹام کروز کی فلم”مشن امپاسبل7″ کی شوٹنگ، ٹرین کھائی میں جا گری ،ویڈیو وائرل

    رپورٹس کے مطابق موہانتے کا موبائل فون ضبط کرلیا گیا ہے کیونکہ اس نے میڈیا سے بات چیت کی اور یہ پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے۔ میڈیارپورٹس میں مزید کہا جارہا ہے کہ اے ایس آئی موہانتے کا موبائل فون اس لیے ضبط کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ اس واقعے کے بارے میں میڈیا سے مزید بات چیت نہ کرسکے-

  • وزیر اعظم  کے معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود خان نے استعفیٰ دیدیا

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود خان نے استعفیٰ دیدیا

    وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے خزانہ و محصولات ڈاکٹر وقار مسعود خان اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وقار مسعود خان نے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم عمران خان کو بھجوا دیا ، وزیر اعظم نے اکتوبر 2020 میں ڈاکٹر وقار مسعود خان کو وزیر مملکت کا درجہ دے کر اپنا معاون خصوصی مقرر کیا تھا وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر وقار مسعود کا عہدہ وفاقی وزیر مملکت کے برابر ہو گا۔

    واضح رہے کہ ڈاکٹر مسعود نے معاشیات میں پی ایچ ڈی اور بوسٹن یونیورسٹی میساچوسٹس ، امریکہ سے پولیٹیکل اکانومی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے اور اکنامکس میں ماسٹر ڈگری کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ہے۔

    عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) پاکستان کا شُکر گزار

    ڈاکٹر وقار مسعود نے 2002 میں سیکرٹری کے طور پر پروموشن کے بعد اقتصادی امور ، خزانہ ، پٹرولیم اور ٹیکسٹائل جیسی اہم اقتصادی وزارتوں میں خدمات انجام دیں۔

    سابق وفاقی سیکریٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے دسمبر 2019 میں کہا تھا کہ مزدوروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سرمایہ داری ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ آج بزنس مین اور سرمایہ دار مکمل طور پر ملکی سیاست پر حاوی ہیں۔

    وی ٹرسٹ کے تحت این ایل ایف کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے منعقدہ دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وقار مسعود نے کہا تھا کہ اب سرمایہ دار خود سیاست دان بن گئے ہیں مزدوروں کو اپنے آپ کو نئے سرے سے منظم کرنا ہوگا اور اب پرانے طریقے کے بجائے نئی سوچ کو جنم دینا پڑے گا۔

    ڈاکٹر وقار مسعود کا کہنا تھا کہ آئندہ تین سال میں روایتی کام ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ اب مزدور کی نئی تعریف کرنے اور نئے لیبر قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹیکنالوجی وقت کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے۔